Bihar Board Class 12 Kahkashan Chapter 3 Solutions, Baj Purane Lafzon Ki Nai Tahqeeq بعض پرانے لفظوں کی نئی تحقیق

انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں برصغیر میں کئی نامور شخصیات سامنے آئیں جنہوں نے علمی و ادبی دنیا پر گہرا اثر چھوڑا۔ انہی میں ایک بڑا نام سیّد سلیمان ندوی کا ہے جو اپنی علمی بصیرت، تحقیق، تصنیف اور درس و تدریس کے باعث ہمیشہ یاد رکھے جاتے ہیں۔ آپ کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے مدرسوں کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد عملی میدان میں قدم رکھا اور بہت جلد علمی حلقوں میں اپنی الگ پہچان بنا لی۔

سیّد سلیمان ندوی 22 نومبر 1884 کو بہار کی مردم خیز بستی دسنہ (ضلع نالندہ) میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام حکیم سیّد ابوالحسن تھا۔ ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں اور آس پاس کے علما سے حاصل کی۔ علم کی پیاس نے آپ کو آگے بڑھنے پر مجبور کیا چنانچہ آپ پھلواری شریف اور بعد میں مدرسہ امدادیہ دربھنگہ میں پڑھنے گئے۔ یہیں سے آپ کی علمی بنیاد مضبوط ہوئی اور اعلیٰ تعلیم کا شوق مزید بڑھ گیا۔

آپ1901ء میں دارالعلوم ندوۃ العلما پہنچے جہاں آپ کو شبلی نعمانی جیسی عظیم شخصیت کی صحبت میسر آئی۔ اس ماحول نے آپ کی فکری اور ادبی صلاحیتوں کو جِلا بخشی۔ آپ نے یہاں مولانا فاروق صاحب جڑیاکوئی سے بھی تعلیم حاصل کی۔ ندوہ میں رہتے ہوئے آپ کی دلچسپی ادب کی طرف بھی بڑھ گئی۔ آپ عبدالحلیم شرر کے ناول اور طلسمِ ہوش ربا جیسی کتابیں پہلے ہی پڑھ چکے تھے، اس لیے ادب کے ذوق کو مزید پھلنے پھولنے کا موقع ملا۔

آپ  نے1902 میں پہلا مضمون رسالہ ’الپنچ‘ (پٹنہ) میں “خاتونوں کی تعلیم” کے عنوان سے شائع ہوا۔ اسی سال مخزن، لاہور میں بھی آپ کا مضمون آیا۔ 1903 کے بعد آپ کی نظمیں اور غزلیں مختلف رسالوں میں چھپنے لگیں۔ آپ 1906 میں رسالہ ’الندوہ‘کی ادارت آپ کے حوالے کی گئی جو آپ کے قلمی سفر کا اہم مرحلہ تھا۔

الہلال سے وابستگی اور تدریسی زندگی
آپ1913 میں مولانا ابوالکلام آزاد کے اخبار ’الہلال‘ سے جڑ گئے۔ تاہم وہاں زیادہ عرصہ نہ رہ سکے۔ بعد میں آپ نے پونا کالج میں تدریس شروع کی اور علم پھیلانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ اسی دوران شبلی نعمانی کا انتقال ہوا، تو آپ نے تدریسی کام چھوڑ کر دارالمصنفین میں استاد کے ادھورے کاموں کو مکمل کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ ندوۃ العلما کی ترقی اور بہتری کے لیے بھی کوشش کرتے رہے۔

سیّد سلیمان ندوی کی علمی خدمات بہت وسیع ہیں۔ انہوں نے عربی ادب، تاریخ، اسلامیات، سوانح اور ادبیات میں گراں قدر کام کیا۔ اردو زبان و ادب سے متعلق ان کے اہم مضامین نقوشِ سلیمانی، ہماری زبان کا نام، مضامینِ سلیمان اور مقالاتِ سلیمان میں شامل ہیں۔

’حیاتِ شبلی ان کی مشہور اور اہم کتاب ہے، جس میں انہوں نے شبلی نعمانی کی زندگی اور کارناموں کو مفصل انداز میں پیش کیا۔ شبلی کے خطبات اور مقالات کو انہوں نے آٹھ جلدوں میں مرتب کیا، اور خطوط کو دو جلدوں میں شائع کیا۔ سیرۃ النبی کی پہلی جلد شبلی نعمانی نے لکھی تھی، دوسری جلد ادھوری رہ گئی تھی۔ سیّد سلیمان ندوی نے نہ صرف دوسری جلد مکمل کی بلکہ تیسری، چوتھی، پانچویں اور چھٹی جلد بھی خود تصنیف کیں۔ یہ ان کی اپنے استاد سے محبت اور علمی وفاداری کا روشن ثبوت ہے۔ ان کی مشہور کتابوں میں عرب و ہند کے تعلقات، عربوں کی جہاز رانی، سیرتِ عائشہ، خیام، رحمتِ عالم شامل ہیں۔ لسانیات میں بھی انہوں نے اہم کام کیا اور وہ اردو کے ابتدائی ماہرینِ لسانیات میں شمار ہوتے ہیں۔

سیّد سلیمان ندوی کی علمی زندگی مسلسل محنت، تحقیق اور خدمت سے بھرپور تھی۔ مختصر بیماری کے بعد 23 نومبر 1953 کو کراچی میں آپ کا انتقال ہوا۔ ان کی علمی خدمات آج بھی یاد کی جاتی ہیں اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔

زبان انسان کی تہذیب اور اس کی روزمرہ زندگی کا آئینہ ہوتی ہے۔ الفاظ نہ صرف معنی رکھتے ہیں بلکہ اپنے اندر تاریخ، حالات اور معاشرت کے رنگ بھی سمیٹے ہوتے ہیں۔ اسی لیے جب پرانے الفاظ کی تحقیق کی جاتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے معنی اور استعمال وقت کے ساتھ کس قدر بدل چکے ہیں۔ زیرِ نظر تحریر میں ایسے ہی چند عام الفاظ کی اصلیت، ان کے ابتدائی معنی اور موجودہ استعمال کی دلچسپ تبدیلیوں کو ظاہر کیا گیا ہے۔

سب سے پہلے ناشتہ کا ذکر آتا ہے جسے مصنف نے دن کا سب سے ضروری کھانا قرار دیا ہے۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ مختلف زبانوں میں ناشتہ کے لیے بھوک توڑنے کا تصور پایا جاتا ہے۔ عربی میں اسے فطور کہتے ہیں یعنی بھوک کا ٹوٹ جانا جس سے افطار اور افطاری جیسے الفاظ بھی نکلے۔ فارسی میں ناشتہ اس شخص کے لیے کہا جاتا تھا جس نے صبح سے کچھ نہ کھایا ہو، مگر وقت کے ساتھ یہ لفظ اس کھانے کا نام بن گیا جو صبح کو کھایا جاتا ہے۔ اس مثال سے معلوم ہوتا ہے کہ کبھی کبھی لفظ انسان کے لیے ہوتا ہے اور پھر بتدریج چیز کا نام بن جاتا ہے۔

اسی طرح نہار منہ کا لفظ ہے جو عام بول چال میں بہت استعمال ہوتا ہے۔ اس کی اصل فارسی کا لفظ ناہار ہے۔ نا کا مطلب نہیں اور ہار کے معنی غذا کے ہیں یعنی نہیں کھایا ہوا۔ اس سے وہ مشہور ڈش نہاری نکلی جو خاص طور پر دہلی اور لکھنو میں نہار منہ کھائی جاتی ہے۔ اسی بحث سے آہار کا لفظ سامنے آتا ہے جس کے معنی غذا کے بھی ہیں اور اس لئی کے بھی جو کاغذ یا کپڑے کو مضبوط کرنے کے لیے لگائی جاتی ہے۔ جیسے غذا جسم کو طاقت دیتی ہے ویسے ہی یہ لئی کاغذ کو مضبوط بناتی ہے۔

کھانوں میں استعمال ہونے والے الفاظ قلیہ اور قورمہ بھی دلچسپ تحقیق رکھتے ہیں۔ قلیہ کی شکل عربی سے ملتی ہے مگر معنی عربی نہیں۔ عربی میں قَلی بھوننے کو کہتے ہیں، اس سے قلیّہ بن سکتا ہے لیکن ہماری زبان میں قلیہ شوربے والے گوشت کو کہتے ہیں اور بعض جگہ سبزی کے ساتھ بننے والے سالن کو بھی قلیہ کہا جاتا ہے۔ قورمہ ترکی الاصل لفظ معلوم ہوتا ہے مگر ہماری زبان میں اس کا مفہوم اپنا خاص ظاہر اور ذائقہ رکھتا ہے۔

زبان کی تاریخی تبدیلی کا ایک روشن نمونہ لفظ سرخی ہے۔ آج ہم سرخی کو مضمون کے عنوان کے لیے استعمال کرتے ہیں حالانکہ اس کا تعلق اصل میں اس سرخ روشنائی سے ہے جس سے پرانی کتابوں میں باب اور عنوان لکھے جاتے تھے۔ جب چھاپہ خانے آئے اور کتابیں سیاہی سے چھپنے لگیں تو لفظ تو باقی رہا مگر رنگ بدل گیا، اور اب سرخی کسی بھی مضمون یا باب کے عنوان کو کہتے ہیں چاہے وہ سیاہی سے ہی کیوں نہ ہو۔

اسی طرح احدی کا لفظ ہے جو آج سست اور کاہل شخص کے لیے بولا جاتا ہے۔ اس کی اصل اَحَدی ہے جس کے معنی ایک کے ہیں۔ مغل دور میں اَحَدی وہ سپاہی ہوتا تھا جو فوج سے الگ صرف ڈیوڑھی پر پہرہ دیتا تھا۔ وہ زیادہ کام نہ کرتا تھا اکثر پڑا رہتا تھا چنانچہ عوام نے اس لفظ کو کاہل اور سست کے معنی میں استعمال کرنا شروع کر دیا۔ یہ تبدیلی بتاتی ہے کہ عوامی زبان میں الفاظ کس طرح نئے معنی اختیار کر لیتے ہیں۔

آخر میں قلعی کا لفظ آتا ہے جو چمک اور سفیدی کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کی اصل عربی لفظ قلع سے ہے جو ایک کان کا نام تھا جہاں سے بہترین رانگا نکلتا تھا۔ اسی رانگے سے برتنوں کو چمکایا جاتا تھا اسی لیے اسے قلعی کرنا کہا گیا۔ بعد میں مکانوں پر چونے سے سفیدی پھیرنا بھی قلعی کہلانے لگا۔ پھر محاورہ بنا کہ اگر کوئی شخص عیب چھپا دے تو قلعی پھیرتا ہے اور اگر عیب ظاہر کر دے تو اس کی قلعی کھول دیتا ہے۔

یہ تمام مثالیں اس حقیقت کو روشن کرتی ہیں کہ زبان مسلسل حرکت اور تبدیلی میں رہتی ہے۔ الفاظ کے معنی وقت، ماحول، ضرورت اور عوامی استعمال کے مطابق بدلتے رہتے ہیں۔ پرانے الفاظ کی نئی تحقیق نہ صرف زبان کی تہہ تک لے جاتی ہے بلکہ ہماری تہذیبی تاریخ کے کئی پہلو بھی سامنے لاتی ہے۔ یہی زبان کی خوبصورتی اور اس کی زندگی کا ثبوت ہے۔

الف) 21 نومبر 1885
ب) 22 نومبر 1884
ج) 23 نومبر 1883
د) 20 نومبر 1884

الف) مولانا ابوالکلام آزاد
ب) مولانا حالی
ج) شبلی نعمانی
د) عبدالحلیم شرر

الف) الندوہ
ب) الہلال
ج) مخزن
د (الپنچ
جواب ۔ د )الپنچ

الف) سیّد سلیمان ندوی
ب) شبلی نعمانی
ج) مولانا آزاد
د) مولانا فاروق جڑیا کوہی

الف) صبح کا کھانا
ب) بھوک توڑنا
ج) پیٹ بھرنا
د) جلدی کھانا

الف) غذا
ب) لئی
ج) نہیں
د) جلدی

الف) دوپہر
ب) رات
ج) شام
د) صبح نہار منہ

الف) بہادر سپاہی
ب) دانا شخص
ج) سست اور کاہل آدمی
د) تیز دوڑنے والا

الف) کپڑا رنگنے کے لیے
ب) بہترین رانگے کے لیے
ج) لوہے کو تیز کرنے کے لیے
د) لکڑی پالش کرنے کے لیے

الف) 22 نومبر 1953
ب) 23 نومبر 1954
ج) 23 نومبر 1953
د) 24 نومبر 1953

جواب ۔ عربی میں فطور بھوک توڑنے کی اصطلاح ہے یعنی وہ چیز جو بھوک توڑ دے۔

جواب ۔ سید سلیمان ندوی عربی، اردو اور فارسی زبان جانتے تھے۔

جواب ۔ عربی میں ناشتہ کو فطور کہتے ہیں۔

جواب ۔ فطور کے معنی ہیں توڑنا، یعنی بھوک کو توڑ دینا۔

جواب ۔ لفظ نہار کی اصل فارسی ہے لیکن اب یہ ہندستانی زبان میں بھی ایسے ہی استعمال ہوتا ہے۔

جواب ۔ قلعی کا لفظ عربی نعتوں میں ملتا ہے اور اس کے معنی ہیں رانگا (جس سے برتنوں پر سپیدی کی جاتی ہے)۔

جواب ۔ سرخی سے مراد مضمون یا باب کا عنوان ہے۔

جواب ۔

اَحَدی کے معنی ہیں ایک اور یہ اس سپاہی کا لقب تھا جو اکیلا ڈیوڑھی پر رہتا تھا۔

اَحدی عوام میں سست اور کاہل کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔

جواب ۔ ’’قلعی‘‘ اصل میں وہ سفید مادّہ ہے جو برتنوں یا مکانوں پر پھیرا جاتا ہے تاکہ وہ صاف اور مضبوط لگے۔ زبانِ عام میں اس سے محاوراتی معنی بھی پیدا ہوئے ہیں۔

قلعی پھیرنا کا مطلب ہے کسی داغ، عیب یا خامی کو چھپا دینا۔ جیسے دیوار کی سفید پاشی سے داغ چھپانا یا کسی رپورٹ میں غلطیوں کو چھپا دینا۔ یہ عمل پردہ ڈالنے کے مترادف ہے تاکہ چیز بہتر دکھے۔

اس کے برعکس قلعی کھولنا کا مطلب ہے چھپایا ہوا داغ یا عیب ظاہر کرنا۔ جیسے سفید کی ہوئی دیوار کے نیچے والا داغ دکھ جانا یا کسی شخص کے چھپائے ہوئے کام عوام کے سامنے آ جانا۔ یہ عمل پردہ ہٹانے کے مترادف ہے۔

عربی میں ۔ قلع ایک کان کا نام جس سے اچھا رانگا نکلتا تھا۔

فارسی میں ۔ رانگا۔

جواب ۔ مصنف پورب کی زبان سے عربی اور پچھم کی زبان سے انگریزی مراد لیتا ہے۔

سید سلیمان ندوی کے مطابق ناشتہ پیٹ کے لیے سب سے زیادہ ضروری کھانا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ صبح سویرے کچھ کھا لینے سے پورے دن کے لیے توانائی اور حوصلہ ملتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مختلف زبانوں میں ناشتہ کو بھوک توڑنے کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے، جیسے عربی میں اسے فطور کہتے ہیں جس کے معنی ہیں بھوک کو توڑنا۔

لفظ قلیہ کا تعلق اصل میں عربی زبان سے ہے۔ عربی میں اس کی شکل قَلیّہ ہوسکتی ہے، اور قَلی کا مطلب ہے بھوننا۔ اس حساب سے عربی میں قلیہ سے مراد بھونے ہوئے گوشت یا کھانے کی وہ چیز ہوتی تھی جسے بھون کر تیار کیا گیا ہو۔ ہندوستانی یا اردو زبان میں اس لفظ کا مطلب تھوڑا بدل گیا۔ یہاں قلیہ عام طور پر شوربہ دار گوشت کے لیے استعمال ہوتا ہے، جس میں سبزیاں یا دیگر ترکاری بھی شامل ہو سکتی ہیں۔ یوں عربی لفظ کے معنی بدل کر ہندستانی زبان میں ایک مخصوص کھانے کی شکل اختیار کر گئے۔ یہ تبدیلی زبان کے تاریخی ارتقاء اور کھانوں کے مقامی انداز کے اثرات کی وجہ سے ہوئی۔ اس طرح لفظ قلیہ عربی کے اصل معنی سے آیا لیکن اردو میں اس نے اپنا خاص استعمال اور مفہوم اختیار کر لیا۔

لفظ سرخی کا مطلب اصل میں کسی مضمون، باب یا عنوان کو امتیازی طور پر دکھانے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔

پرانا نقطہ نظر ۔ پہلے زمانے میں کتابیں قلم سے لکھی جاتی تھیں۔ اس میں باب یا عنوان کو نمایاں کرنے کے لیے سرخ رنگ میں لکھا جاتا تھا تاکہ قاری فوراً اسے پہچان سکے۔ یوں سرخی لفظ نے اصل میں رنگ کے لحاظ سے معنی اختیار کیے۔

نیا نقطہ نظر ۔ آج کے دور میں جب چھاپہ خانہ اور سیاہی استعمال ہونے لگی، تو لفظ سرخی اب صرف کسی باب یا مضمون کے عنوان کے لیے کہا جاتا ہے، چاہے وہ سیاہی سے چھپا ہوا ہو یا چھاپہ خانے کے ذریعے چھپا ہو۔ یعنی لفظ سرخی نے رنگ کی نسبت چھوڑ دی اور محض عنوان یا عنوانی حصہ کے معنی اختیار کر لیے۔

یہ تحقیق سید سلیمان ندوی کی کتاب بعض پرانے لفظوں کی نئی تحقیق سے ماخوذ ہے جس میں انہوں نے اردو کے بعض پرانے الفاظ کے معنی اور اصل زبان (عربی، فارسی وغیرہ) کے حوالے سے وضاحت دی ہے۔

سید سلیمان ندوی کے استاد گرامی کا نام شبلی نعمانی تھا۔

اردو میں شوربہ دار گوشت کو قلیہ کہتے ہیں جس میں سبزیاں یا دیگر ترکاری بھی شامل ہو سکتی ہیں۔

سید سلیمان ندوی کی جائے پیدائش دسنہ ہے جو موجودہ وقت میں نالندہ ضلع بہار میں واقع ہے۔

سید سلیمان ندوی کے پڑھنے لکھنے کے خاص میدان میں شامل تھے ۔

عربی ادب ،اسلامیات ،تاریخ اور سوانح ادبیات اور ترتیب و تدوین اردو زبان و ادب پر مضامین لکھنا، لسانیات پر کام کرنا یعنی وہ ایک جامع ادیب، مصنف اور محقق تھے۔

سید سلیمان ندوی کے مطابق ناشتہ کھانے میں سب سے زیادہ ضروری ہے۔ صبح سویرے کچھ کھا لینے سے پورے دن کے لیے توانائی اور حوصلہ ملتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ناشتہ انسان کے لیے دن کی ابتدا میں ڈھارس اور طاقت فراہم کرتا ہے۔ مختلف زبانوں میں ناشتہ کے لیے ایک اصطلاح ہے جو بھوک توڑنے کے معنی میں استعمال ہوتی ہے جیسے عربی میں اسے فطور کہتے ہیں۔

لفظ نہار منہ فارسی زبان سے آیا ہے۔ اس کی جڑ ناہار ہے جس میں نا کا مطلب ہے نفی یعنی نہیں اور ہار کے معنی ہیں خوراک یا غذا۔ اس طرح ناہار کا مطلب ہے وہ شخص جس نے صبح سے کچھ نہ کھایا ہو۔

ہندستانی زبان میں یہ لفظ اسی معنی سے آیا لیکن یہاں اس نے شکل بدل کر ناہاری یا نہاری کے معنی اختیار کیے جو خاص طور پر صبح کے کھانے کے لیے کہا جاتا ہے۔ یوں فارسی اور ہندستانی زبان میں لفظ ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے لیکن ہندستانی میں یہ لفظ کھانے کی چیز کے لیے استعمال ہوتا ہے نہ کہ شخص کے لیے۔

لفظ قلعی کا تعلق مختلف زبانوں سے ہے ۔

عربی ۔ اصل لفظ قلع ہے جو ایک کان کے نام سے آیا جس سے اچھا رانگا نکلتا تھا۔

فارسی ۔ رانگے کے لیے استعمال ہوتا ہے جس سے برتنوں یا مکانوں پر سپیدی یا سفید پاشی کی جاتی تھی۔

اردو/ہندستانی ۔ یہاں قلعی کے معنی عام استعمال میں سپیدی یا صفائی کے ہیں اور محاورے میں دو طرح استعمال ہوتا ہے ۔

قلعی پھیرنا ۔ عیب یا داغ چھپانا

قلعی کھولنا ۔ عیب یا داغ ظاہر کرنا

سید سلیمان ندوی کی کتاب بعض پرانے لفظوں کی نئی تحقیق اردو زبان کے مطالعہ اور تحقیق میں ایک اہم ذریعہ ہے۔ اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ پرانے اردو الفاظ کے اصل معنی اور ان کے تاریخی پس منظر کو واضح کرتی ہے۔ بہت سے الفاظ آج کے زمانے میں بدلتے ہوئے استعمال ہوتے ہیں، اور ان کے اصل مفہوم لوگوں کی سمجھ سے دور ہو جاتے ہیں۔ اس کتاب کے ذریعے قارئین کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہر لفظ کس زبان سے آیا اور اس کا پہلا استعمال کیسے ہوا۔

مثال کے طور پر کتاب میں لفظ نہار منہ کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہ فارسی کا لفظ ہے اور اس کا مطلب وہ شخص ہے جس نے صبح سے کچھ نہ کھایا ہو۔ اسی طرح لفظ قلعی کی مختلف زبانوں میں اہمیت اور اس کے محاوراتی استعمال کو بھی واضح کیا گیا ہے۔ اس طرح کتاب نہ صرف الفاظ کے اصل معنی بتاتی ہے بلکہ یہ بھی سمجھاتی ہے کہ زبان کس طرح وقت کے ساتھ بدلتی اور ارتقا پذیر ہوتی ہے۔ یہ کتاب زبان کے طالب علم، محقق اور ادب کے شائقین کے لیے بہت مفید ہے۔ اس سے نہ صرف لغوی معلومات حاصل ہوتی ہیں بلکہ اردو زبان کے تاریخی اور ثقافتی پہلو بھی سمجھ میں آتے ہیں۔ کتاب کی مدد سے ہم یہ جان سکتے ہیں کہ کس لفظ کا تعلق عربی یا فارسی سے ہے اور کس طرح یہ لفظ اردو میں اپنا مخصوص مفہوم اختیار کر گیا۔ مزید برآں کتاب اردو کی تحقیق اور مطالعہ میں آسانی پیدا کرتی ہے۔ محققین اور طلبہ نئے اور پرانے الفاظ کے تعلقات کو سمجھ کر اپنی علمی تحریروں میں درست استعمال کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، یہ کتاب زبان کی قدامت اور ادب کے فروغ کے لیے بھی ایک قیمتی کام ہے۔

یوں بعض پرانے لفظوں کی نئی تحقیق اردو زبان کے مطالعہ، تحقیق اور علمی ترقی میں ایک لازمی وسیلہ ہے جو ہمیں زبان کی اصل روح اور تاریخی ترقی سے روشناس کراتی ہے۔

الف) ۔ آنکھ کا تارا

ب) ۔ آنکھیں کھولنا

الف) ۔ پانی سر سے گزرنا

ب) ۔ پانی پھیرنا

الف) ۔ قلعی پھیرنا

ب) ۔ قلعی کھولنا

الف) ۔ جان پہ قربان

ب) ۔ جان نکلنا

الف) ۔ چھاتی تاننا

ب) ۔ چھاتی پھڑکنا

تعریف ۔ اسم صفت وہ لفظ ہے جو کسی اسم شخص، جانور یا چیز کی خصوصیت، حالت یا وصف بتاتا ہے۔

صفت تفضیلی ۔ کسی چیز کو دوسرے سے زیادہ ظاہر کرنے کے لیے مثال ۔ بڑا، چھوٹا

صفت ثبوتی ۔ کسی چیز کی موجودہ حالت بتانے کے لیے مثال ۔ اچھا، برا

صفت تشبیہی ۔ کسی چیز کو کسی دوسری چیز سے ملانے کے لیے مثال ۔ شیر جیسا بہادر

Scroll to Top