Bihar Board Class 12 Kahkashan Chapter 4 Solutions, Inshaiya Kya Hai, انشائیہ کیا ہے

وزیر آغا اردو ادب کی ایسی ہمہ جہت شخصیت ہیں جنھوں نے ایک ساتھ نقاد، شاعر اور انشائیہ نگار کی حیثیت سے اپنی پہچان قائم کی۔ وہ 1922 میں موجودہ پاکستان کے شہر سرگودھا کے علاقے وزیر کوٹ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور پھر پنجاب یونیورسٹی سے اردو ادب میں طنز و مزاح کے موضوع پر پی ایچ ڈی مکمل کی۔ تعلیم کے بعد وہ پوری طرح علمی اور ادبی سرگرمیوں میں مصروف ہوگئے۔

ادب کی دنیا میں وزیر آغا کو سب سے زیادہ شہرت نقاد کے طور پر ملی۔ 1947 کے بعد ابھرنے والے معتبر ناقدین میں ان کا نام نمایاں ہے۔ انہوں نے اردو ادب کے مختلف پہلوؤں پر گہری نظر رکھتے ہوئے کئی اہم کتابیں لکھیں جن میں اردو ادب میں طنز و مزاح، اردو شاعری کا مزاج، النظم جدید کی کروٹیں، تخلیقی عمل، تنقید اور مجلسی تنقید، اقبال تصوراتِ عقل و خردشاملہیں۔ ان کے تنقیدی مضامین کے مجموعے تنقید اور احتساب، نئے تناظر، معنی اور تناظر بھی ادبی دنیا میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ وزیر آغا کی تحریروں میں سادگی، روانی اور گہرا تجزیاتی شعور ملتا ہے یہی وجہ ہے کہ ان کا شمار اہم اردو ناقدین میں ہوتا ہے۔

شاعری کے میدان میں بھی وزیر آغا نے منفرد راستہ اختیار کیا۔ وہ بنیادی طور پر نظم کے شاعر تھے اور ان کی نظموں میں فکری گہرائی، مشاہدہ اور جدید حسیت نظر آتی ہے۔ ایک زمانے میں انہوں نے غیر مردّف غزلیں کہنے کا سلسلہ بھی شروع کیا جو ان کی تخلیقی جستجو کی علامت تھا۔ خود نوشت کے میدان میں بھی انہوں نے شاعرانہ اسلوب استعمال کیا اور طویل نظم آدھی صدی کے بعد لکھ کر داد پائی۔ ان کے کلیات کا نام لفظوں کی چھاگل ہے جو ان کے شعری سفر کا خوبصورت ثبوت ہے۔

انشائیہ نگاری میں بھی وزیر آغا کو اہم مقام حاصل ہے۔ اردو میں انشائیہ کی صنف پہلے ہی بحث کا موضوع رہی ہے کیونکہ اس کی حدود واضح نہیں تھیں۔ بعض لوگ ہر مزاحیہ مضمون کو انشائیہ سمجھنے لگے تھے مگر وزیر آغا نے اس صنف کی اصل روح دائرہ اور طرزِ بیان کو سادگی سے واضح کیا۔ انہوں نے خوبصورت انشائیے بھی لکھے جن کے مجموعے چوری سے یاری تک اور دوسرا کنارہ قارئین میں بہت مقبول ہوئے۔

مجموعی طور پر وزیر آغا کی شخصیت اردو ادب کے لیے ایک مکمل ادارے کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے تنقید، شاعری اور انشائیہ تینوں میدانوں میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ ان کی تحریروں میں گہرائی، سادگی اور تازگی ملتی ہے جو آج بھی قارئین اور محققین کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔ وزیر آغا کا نام اردو ادب کی تاریخ میں ہمیشہ احترام کے ساتھ یاد رکھا جائے گا۔

انشائیہ ادب کی ایک نہایت دلچسپ اور نازک صنف ہے مگر اس کی مکمل تعریف کرنا ہمیشہ مشکل رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تاریخ کے مختلف ادوار میں انشائیہ کے انداز، اسلوب اور مفہوم میں بہت تبدیلیاں آتی رہیں۔ ہر دور کے انشائیہ نگار نے اسے اپنی طبیعت، مزاج اور تجربے کے مطابق لکھا اسی لیے انشائیہ کو ایک دائرے میں قید کرنا آسان نہیں۔ لیکن غور سے دیکھا جائے تو اس صنف کی کچھ نمایاں خصوصیات سامنے آتی ہیں جو اسے ادب کی باقی اصناف سے الگ بناتی ہیں۔

سب سے پہلی اور اہم خصوصیت غیر رسمی انداز ہے۔ انشائیہ نہ مقالہ ہوتا ہے نہ تنقید اور نہ کہانی۔ اس کا مقصد قاری کو قائل کرنا دلیلیں دینا یا کسی نظریے کو ثابت کرنا نہیں ہوتا۔ انشائیہ نگار زندگی کی سنجیدگی کو کچھ دیر کے لیے ایک طرف رکھ کر ہلکے پھلکے انداز میں اپنے تاثرات، احساسات، تجربات اور مشاہدات بیان کرتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے مصنف پوری رسمی دنیا سے دور ہو کر اپنی کرسی پر آرام سے بیٹھا ہوا ہے اور اپنے قاری سے دوستانہ گفتگو کر رہا ہے۔ یہی بےتکلفی انشائیہ کو دلکش بناتی ہے۔ انشائیہ کی ایک بڑی خوبی شخصی رنگ ہے۔ انشائیہ میں مصنف کا اپنا زاویۂ نظر، اس کے جذبات، اس کی کیفیت، اس کی پسند اور ناپسند صاف دکھائی دیتی ہے۔ وہ غیر شخصی یا علمی انداز اختیار نہیں کرتا بلکہ اپنے دل کے کسی گوشے کو نرمی اور خوشگوار انداز میں قاری کے سامنے رکھ دیتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے قاری اور مصنف ایک ہی سطح پر بیٹھ کر سوچ رہے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ انشائیہ نہ طنز ہوتا ہے اور نہ محض مزاح اگرچہ طنز و مزاح انشائیہ میں شامل ہو سکتے ہیں لیکن یہ اس کا بنیادی مقصد نہیں۔ ان کا استعمال صرف اتنا ہوتا ہے کہ تحریر میں لطف باقی رہے اور قاری کے چہرے پر مسکراہٹ آ جائے۔

انشائیہ کی ایک خاص بات اس کی نامکملی ہے مگر یہ نامکملی اس کا عیب نہیں بلکہ حسن ہے۔ جس طرح غزل کا شعر کسی ایک نکتے کو مکمل طور پر نہیں کھولتا بلکہ اشارے میں چھوڑ دیتا ہےٓ اسی طرح انشائیہ بھی صرف خاص پہلوؤں کو اجاگر کرتا ہے اور باقی پہلو قاری کی سوچ پر چھوڑ دیتا ہے۔ انشائیہ مصنف کے تاثرات کا بیان ضرور کرتا ہے مگر کسی نتیجے پر اصرار نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ انشائیہ پڑھنے کے بعد قاری کچھ دیر رک کر خود بھی سوچتا رہتا ہے اور اس عمل میں اسے لطف اور تازگی محسوس ہوتی ہے۔

انشائیہ کا ایک اور وصف اختصار ہے۔ یہ طویل اور تفصیلی انداز میں نہیں لکھا جاتا۔ لکھنے والا صرف انہی باتوں کو بیان کرتا ہے جو اس کے احساسات اور تجربات سے وابستہ ہوں۔ وہ کم لفظوں میں زیادہ بات کرنے کا ہنر جانتا ہے۔ مگر یہ اختصار اسی وقت معتبر ہوتا ہے جب مصنف کے پاس کہنے کے لیے بہت کچھ ہو اور وہ جان بوجھ کر اپنی بات کو چستی اور سادگی کے ساتھ پیش کرے۔ انشائیہ کا سب سے نمایاں حسن تازگی ہے۔ زندگی میں بہت سی چیزیں ہماری روزمرہ نظر سے اوجھل رہ جاتی ہیں۔ ہم انہیں اتنا دیکھتے ہیں کہ وہ ہمیں عام سی لگنے لگتی ہیں۔ مگر انشائیہ نگار انہی عام چیزوں کو ایک نئے انداز سے دکھاتا ہےٓ یوں جیسے پہلے کبھی سوچا ہی نہ ہو۔ وہ اپنے مخصوص اندازِ فکر کے ذریعے قاری کو ایک نئی روشنی دیتا ہے۔ کبھی مختلف زاویے سے منظر دکھاتا ہےٓ کبھی مانوس حقیقت میں اجنبیت پیدا کرتا ہےٓ کبھی تسلیم شدہ باتوں پر سوال کھڑا کرتا ہے۔ یوں انشائیہ قاری کو نئی سوچ، نئی تازگی اور نئے تجربے کا احساس دلاتا ہے۔ ان سب خصوصیات کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ انشائیہ وہ صنف ہے جو زندگی کے عام مظاہر کو ایک نئے زاویے سے پیش کرتی ہے۔ اس میں نہ تحکم ہے، نہ حکم، نہ سبق اور نہ نتیجہ۔ یہ محض سوچنے کی دعوت ہے ایک ذہنی سیرایک تازہ ہوا کا جھونکا۔ انشائیہ قاری کو چند لمحوں کے لیے غیر معمولی دنیا میں لے جاتا ہے اور واپس اسی دنیا میں مگر تازہ ذہن کے ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔ یہی اس صنف کی اصل خوبصورتی ہے۔

آخر میں انشائیہ ادب کی ان نثر کی اصناف میں سے ہے جو سادگی، تازگی، بےتکلفی اور شخصی رنگ کے ساتھ قاری کو متاثر کرتی ہیں۔ یہ علم نہیں بلکہ احساس، دلیل نہیں بلکہ مشاہدہ اور نتیجہ نہیں بلکہ نیا زاویۂ نظر فراہم کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انشائیہ اردو ادب میں ہمیشہ ایک دلکش اور منفرد مقام رکھتا ہے۔

الف) 1918
ب) 1920
ج) 1922
د) 1925

الف) اقبالیات
ب) طنز و مزاح
ج) غزل
د) داستان

الف) تنقید
ب) شاعری
ج) انشائیہ
د) افسانہ

الف) رسمی انداز
ب) دلائل کا سخت نظام
ج) غیر رسمی اسلوب
د) داستانی انداز

الف) بنیادی مقصد
ب) جزوِ لاینفک
ج) بالکل استعمال نہیں ہوتی
د) اضافی خوبی

الف) فراز
ب) نشیب
ج) ہموار سطح
د) بہت بالائی سطح

الف) مکمل و منظم
ب) دلیل و تجزیے سے بھرپور
ج) قدرے پھیلی ہوئی اور غیر رسمی
د) سخت اصولوں پر مبنی

الف) طوالت
ب) تازگی
ج) رسمی اسلوب
د) نصیحت

الف) صرف طنز
ب) صرف قہقہہ
ج) سوچ و فکر اور نیا زاویہ
د) صرف معلومات

الف) قاری کو نصیحت کرنا
ب) مکمل نظریہ پیش کرنا
ج) قاری کو سوچنے پر مائل کرنا
د) دلائل کے ذریعے قائل کرنا

جواب ۔  انشائیہ نثری صنف ہے۔

جواب ۔  جی ہاں، انشائیہ اپنے غیر رسمی انداز کی وجہ سے دوسری اصناف سے الگ نظر آتا ہے۔

جواب ۔  وزیر آغا نقاد، شاعر اور انشائیہ نگار تھے۔

جواب ۔  جی ہاں، انشائیہ نگار کا مقصد نئے زاویے اور جدت کے ساتھ عام زندگی کے پہلو دکھانا ہوتا ہے۔

جواب ۔  انشائیے کی امتیازی صورت اس کی تازگی اور نیاپن کی رہینِ منت ہے۔

جواب ۔ وزیر آغا کی تین کتابوں کے نام مندرجہ ذیل ہیں

جواب ۔  جی ہاں، انشائیہ شگفتہ اور ہلکے پھلکے موڈ کی پیداوار ہے۔

جواب ۔  جی ہاں، انشائیہ اپنی اختصار اور جامعیت کی وجہ سے دوسری نثری اصناف سے الگ پہچانا جاتا ہے۔

انشائیہ اور مضمون دونوں نثری اصناف ہیں لیکن دونوں کا اسلوب، مقصد اور اندازِ بیان ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔
مضمون میں سنجیدگی، ترتیب، دلائل اور وضاحت بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ مضمون نگار کا مقصد کسی موضوع کو واضح، مکمل اور منطقی انداز میں پیش کرنا ہوتا ہے اس لیے اس کی تحریر منظم، مربوط اور مکمل ہوتی ہے۔

اس کے برعکس انشائیہ میں بات کرنے کا ڈھنگ زیادہ اہم ہوتا ہے۔ انشائیہ نگار خیال، احساس اور تجربے کو ہلکے پھلکےغیر رسمی اور ادبی انداز میں بیان کرتا ہے۔ اس میں آزادی، ذاتی رنگ اور موضوع سے ہٹ کر بھی بات کرنے کی گنجائش ہوتی ہے۔
یعنی مضمون سوچ کا بیان ہے اور انشائیہ احساس کا اظہار۔

انشائیہ نگار کو لکھتے وقت خیال اور زبان کی کھلی آزادی حاصل ہوتی ہے۔
وہ چاہے تو کسی بات کو سنجیدگی سے لکھے چاہے تو مزاح میں بدل دے۔ چاہے تو کسی واقعے سے بات شروع کر کے کسی خیال تک لے جائے یا کسی خیال سے چل کر کسی منظر تک پہنچ جائے۔
انشائیہ نگار پر موضوع کی پابندی سخت نہیں ہوتی۔ وہ اپنی پسند کے انداز، بہاؤ اور ربط کے ساتھ تحریر کو آگے بڑھا سکتا ہے۔ اسی لیے انشائیہ کو آزاد نثر بھی کہا جاتا ہے۔

انشائیہ نگار کو اکثر ایک آزاد مزاج سیّاح سے تشبیہ دی جاتی ہے۔
جیسے ایک سیّاح کبھی جنگل میں کبھی دریا کنارے کبھی پہاڑی راستوں پر چلتے ہوئے نئے مناظر دیکھتا ہے اور اپنی مرضی سے راستہ بدلتا رہتا ہے اسی طرح انشائیہ نگار بھی خیال کی دنیا میں آزادانہ گھومتا پھرتا ہے۔
وہ اپنی تحریر میں ایک خیال سے دوسرے خیال تک بے ساختہ مگر دلچسپ انداز میں سفر کرتا ہے۔
اس لیے انشائیہ نگار کو خیالات کا مسافر کہا جاتا ہے۔

انشائیہ میں عدم تکمیل عیب نہیں بلکہ ہنر سمجھا جاتا ہے۔
کیونکہ انشائیہ کا مقصد کسی بات کو مکمل طور پر ثابت کرنا نہیں ہوتا بلکہ صرف ایک خیال یا تاثر کو قارئین تک پہنچانا ہوتا ہے۔
وہ بات کو ادھورا چھوڑ دیتا ہے تاکہ قاری خود بھی سوچے اور اپنے طور پر نتیجہ نکالے۔ اس ادھورے پن میں لطافت، نزاکت اور فن کا حسن ہوتا ہے۔ یوں عدم تکمیل انشائیے کی خوب صورتی بن جاتی ہے۔

انشائیہ نگار کی تحریر کا مرکزی نقطہ اس کی ذات، اس کے تاثرات اور اس کا مشاہدہ ہوتا ہے۔
وہ دنیا کی چیزوں کو بھی اپنی آنکھ سے دیکھتا ہے اور انہیں اپنے ہی احساس اور تجربے کے رنگ میں پیش کرتا ہے۔ لہٰذا ہر انشائیہ میں آخرکار بات اپنے تجربے اور اپنے احساس پر آ جاتی ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ انشائیہ نگار خواہ کہیں بھی جائے، آخرکار اپنے اندر ضرور لوٹتا ہے۔

وزیر آغا کے نزدیک انشائیہ صرف بے تکلف نثر نہیں بلکہ ایک خاص فن ہے جس میں کچھ لازمی عناصر اور اصول شامل ہیں۔ ان کے مطالعے اور دلائل سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایک کامیاب انشائیہ کے لیے چند بنیادی باتیں ضروری ہیں۔ سب سے پہلے، انشائیہ کا انداز غیر رسمی ہونا چاہیے۔ یہ رسمی دلائل یا اکیڈمک منطق پر مبنی نہیں ہوتا بلکہ روزمرہ گفتگو کے لہجے جیسا ہوتا ہے جو قاری کو یوں محسوس کراتا ہے جیسے مصنف اس سے براہِ راست بات کر رہا ہو۔ اس غیر رسمی انداز کا مقصد قاری کے ساتھ ایک دوستانہ تعلق قائم کرنا اور تحریر کو دلنشین بنانا ہے۔

دوسرا اہم عنصر مصنف کی خودی اور شخصی ردِ عمل کا اظہار ہے۔ وزیر آغا کے مطابق انشائیے میں مصنف اپنے جذبات، خیالات اور مشاہدات کو سامنے لاتا ہے اور اس کی ذات اور تجربات تحریر کا اہم حصہ بن جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انشائیے کا ایک مرکزی مزاج یا نقطہ بھی ہونا ضروری ہے جس پر مصنف ہر بار واپس لوٹتا ہے۔ یہ مرکزی نقطہ تحریر کو منتشر ہونے سے بچاتا ہے اور قاری کے لیے ایک مستقل فریم ورک فراہم کرتا ہے۔

اختصار اور چستی بھی انشائیے کی پہچان ہیں۔ وزیر آغا کے نزدیک انشائیہ مختصر مگر معنی خیز ہونا چاہیے تاکہ قاری کے ذہن میں اثر باقی رہے۔ بہت زیادہ لمبا یا غیر مرتّب انشائیہ اپنی تاثیر کھو دیتا ہے۔ اس کے علاوہ تازگی اور نیا زاویہ بھی نہایت اہم ہے۔ عام اور روزمرہ کے مظاہر کو نئے انداز میں پیش کرنا قاری کے لیے دلچسپی اور سوچ کا سبب بنتا ہے۔ انشائیہ کا مقصد قائل کرنا یا ہدایت دینا نہیں بلکہ قاری کو سوچنے پر آمادہ کرنا ہے اس لیے کچھ باتیں اشاروں میں چھوڑ دی جاتی ہیں تاکہ قاری خود غور و فکر کرے۔

مزاح اور طنز کا استعمال بھی محدود اور معقول ہونا چاہیے۔ وزیر آغا کے مطابق یہ صرف ایک سہارا ہے نہ کہ مقصد بذاتِ خود۔ اگر طنز یا مزاح کا استعمال بنیادی مقصد بن جائے تو انشائیے کا مزاج بدل جاتا ہے۔ آخر میں موضوعاتی آزادی کے باوجود فنِ ترتیب اور مرکزی مزاج کی پابندی ضروری ہے تاکہ تحریر مربوط اور پر اثر رہے۔ موضوعات عام ہو سکتے ہیں مگر زاویہ نگاہ تازہ اور منفرد ہونا چاہیے تاکہ قاری کو نئے تجربات اور مشاہدات سے روشناس کرایا جا سکے۔ یوں وزیر آغا کے نزدیک انشائیہ ایک ایسا فن ہے جو غیر رسمی آواز، شخصی تاثر، تازگی، اختصار، مزاح کا مناسب استعمال اور قاری کو سوچنے پر آمادہ کرنے کے اصولوں پر مبنی ہوتا ہے۔ یہ تمام عناصر ایک مربوط مرکزی مزاج کے اندر ہوں تو انشائیہ کامیاب اور اثر انگیز قرار پاتا ہے۔

وزیر آغا کے نزدیک انشائیے میں تازگی ایک نہایت اہم عنصر ہے جو تحریر کو سطحی جملوں کے مجموعے سے بلند کرکے قاری کے لیے دلچسپی، حیرت اور فکری تحریک پیدا کرتی ہے۔ تازگی سے مراد یہ ہے کہ مصنف معمولی، روزمرہ یا مانوس حقائق کو ایسے زاویے بیان یا تذکرے کے ذریعے پیش کرے کہ قاری کے لیے وہ پہلی بار نیا محسوس ہوں۔ یہ صرف زبان کی نوآوری تک محدود نہیں بلکہ نقطہ نظر، مثال، تشبیہ یا تجربے میں نیاپن بھی شامل ہے جو قاری کے شعور میں تازہ خیالات کو جنم دیتا ہے۔

تازگی کے اہم پہلو یہ ہیں کہ یہ روٹیٹڈ نظریات کو نئے رنگ اور شکل دیتی ہے۔ عام مشاہدات جو روزانہ دہرائے جاتے ہیں، تازگی انہی کو ایک نئے رخ سے دیکھنے کا موقع فراہم کرتی ہے جیسے کسی سادہ چائے کی پیالی کو جدید سماجی یا نفسیاتی زاویے سے پیش کرنا۔ اس کے ساتھ ہی تازگی قاری کی توجہ برقرار رکھتی ہے۔ نیاپن قاری کو چونکاتا محظوظ کرتا اور آگے پڑھنے کی تحریک دیتا ہے۔ خام خیالی یا مکرر سطریں جلد بور کر دیتی ہیں مگر تازگی قاری کو زندہ رکھتی ہے اور اس کی دلچسپی قائم رکھتی ہے۔

مزید برآں تازگی قاری میں فکری تحریک پیدا کرتی ہے۔ جب چیزیں نئی محسوس ہوں تو قاری ان کے بارے میں دوبارہ غور کرتا ہے سوال اٹھاتا ہے اور نئی بصیرت حاصل کرتا ہے۔ یہ انشائیہ کا بنیادی مقصد ہے کہ قاری کو سوچنے اور غور و فکر کرنے پر آمادہ کیا جائے۔ تازگی مصنف کی بصیرت اور مشاہداتی تیزی کو بھی ظاہر کرتی ہے کیونکہ یہ اشارہ ہے کہ مصنف نے معمولات پر گہرا غور کیا اور ان میں پوشیدہ نکات دریافت کیے۔ اس کے علاوہ تازگی احساسیاتی اثر بھی بڑھاتی ہے۔ نئی تشبیہیں انوکھے مناظرات یا حیران کن جمالیاتی مشابہتیں قاری کے دل میں گہرا تاثر چھوڑتی ہیں اور ادبی معیار کو بلند کرتی ہیں۔

تازگی پیدا کرنے کے کئی عملی طریقے ہیں۔ مصنف عام واقعے کو نئے زاویے سے دیکھ سکتا ہے غیر معمولی موازنہ یا تشبیہ استعمال کر سکتا ہے ذاتی تجربات اور مخصوص تفصیلات شامل کر سکتا ہے معمولات کو سوالات کے دائرے میں لا سکتا ہے اور زبان میں چستی اور نئے الفاظ/عبارات کا موقوف استعمال کر سکتا ہے۔ تاہم یہ سب فطری اور بے ساختہ ہونا چاہیے تاکہ مصنوعیت یا بناوٹ محسوس نہ ہو۔

انشائیے میں مزاح کی اہمیت نہایت نمایاں ہے مگر یہ عنصر مکمل طور پر بنیادی مقصد نہیں بلکہ ایک معاون فنی ذریعہ کے طور پر کام کرتا ہے۔ وزیر آغا کے مطابق انشائیے کا اصل مقصد قاری کو سوچنے محسوس کرنے اور زندگی کے مختلف پہلوؤں پر غور کرنے کی دعوت دینا ہے اور مزاح اس مقصد کو خوشگوار اور دلکش انداز میں پیش کرنے کا وسیلہ ہے۔ مزاح تحریر میں چاشنی کی طرح ہے یہ قاری کی دلچسپی بڑھاتا، متن کو ہلکا اور پڑھنے میں آسان بناتا ہے مگر خود انشائیے کا مرکزی محور نہیں بنتا۔

مزاح قاری اور مصنف کے درمیان ایک دوستانہ تعلق قائم کرتا ہے۔ جب لکھنے والا اپنے خیالات اور مشاہدات کو ہلکے پھلکے انداز میں پیش کرتا ہے تو قاری محسوس کرتا ہے کہ وہ سخت رسمی پوزیشن اختیار کیے بغیر ہم سطح پر بات کر رہا ہے۔ یہ قاری کو قریبی اور شامل محسوس کرواتا اور انشائیے کی غیر رسمی فضا کو قائم رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ مزاح پیچیدہ یا سنجیدہ موضوعات کو بھی قابلِ برداشت بناتا ہے۔ ایک ہلکی مسکراہٹ یا دلچسپ مثال کے ذریعے قاری موضوع کے فکری اور جذباتی پہلوؤں سے بخوبی روشناس ہوتا ہے بغیر اس کے کہ اس پر بوجھ پڑے یا مضمون خشک محسوس ہو۔

تاہم وزیر آغا نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مزاح اور طنز کا استعمال محتاط ہونا چاہیے۔ اگر مزاح یا طنز تحریر کا بنیادی مقصد بن جائے تو انشائیہ کا مزاج تبدیل ہو کر طنزیہ مضمون یا ستیریا میں بدل سکتا ہے۔ طنز عموماً بلند مقام سے برتری کے احساس کے ساتھ آتا ہے اور انشائیے کی ہموار سطح سے متصادم ہو سکتا ہے جبکہ مزاح نرم، ہمدردانہ اور شامل کرنے والا ہوتا ہے۔ حساس موضوعات پر مزاح کا محتاط انتخاب ضروری ہے تاکہ یہ غیر موزوں یا زہریلا ثابت نہ ہو۔

مزاح کے مثبت اثرات ادبی اور فنی دونوں ہیں۔ یہ تحریر میں روانی لاتا ہے قاری کو خوش رکھتا ہے پیچیدہ موضوعات کو آسان اور اثر انگیز بناتا ہے اور قاری کو احتجاج یا سخت تنقید کے بجائے غور و فکر کی طرف مائل کرتا ہے۔ مثالی انشائیہ نگار مزاح کو بطور ذائقہ، آشنائی اور قاری کے ساتھ رابطے کے ذریعہ استعمال کرتا ہے کبھی بھی اسے مرکزی فکر یا مقصد کے متبادل نہیں بناتا۔ نتیجتاً مزاح انشائیے کو مزید دلچسپ پراثر اور قاری دوست بناتا ہے مگر ہمیشہ ایک معاون اور محتاط عنصر کے طور پر رہتا ہے۔

ایک چیز جو انشائیے کو دوسری اصناف ادب سے ممیّز کرتی ہے، اس کا غیر رسمی طریق کار ہے۔ دراصل انشائیے کے خالق کے پیش نظر کوئی ایسا مقصد نہیں ہوتا جس کی تشکیل کے لیے وہ دلائل و براہین سے کام لے اور ناظر کے ذہن میں رد و قبول کے میلانات کو تحریک دینے کی سعی کرے۔ اس کا کام محض یہ ہے کہ چندلمحوں کے لیے زندگی کی سنجیدگی اور گہما گہمی سے قطع نظر کر کے ایک غیر رسمی طریق کار اختیار کرے اور اپنے شخصی رد عمل کے اظہار سے ناظر کو اپنے حلقہ احباب میں شامل کرے۔

انشائیہ کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں موضوع کی مرکزیت تو قائم رہتی ہے لیکن اس مرکزیت کا سہارا لے کر بہت سی ایسی باتیں بھی کہہ دی جاتی ہیں جن کا موضوع سے کوئی گہرا تعلق نہیں ہوتا ۔

دیے گئے اقتباسات کو سمجھنے کے لیے ان کے سیاق و سباق پر غور کرنا ضروری ہے۔ وزیر آغا کے نزدیک انشائیہ ایک منفرد صنف ادب ہے اور اس کی خصوصیات دوسرے ادبی متون جیسے مقالہ یا تنقیدی مضمون سے واضح طور پر مختلف ہیں۔

پہلا اقتباس بتاتا ہے کہ انشائیہ کا غیر رسمی طریق کار اسے دیگر اصناف سے ممتاز کرتا ہے۔ یعنی انشائیہ لکھنے والا کسی موضوع پر قائل کرنے یا دلائل کے ذریعے قاری کو مطمئن کرنے کی کوشش نہیں کرتا جیسا کہ مقالہ یا تنقید میں ہوتا ہے۔ اس کے برعکس انشائیہ نگار اپنی ذاتی کیفیت، تجربات اور ردعمل کو پیش کرتا ہے۔ اس طرح قاری تحریر کے خالق کے ساتھ ایک دوستانہ تعلق محسوس کرتا ہے اور چند لمحوں کے لیے اس کے “حلقہ احباب” میں شامل ہو جاتا ہے۔ غیر رسمی طریقہ کار انشائیہ کی سب سے بڑی خوبی ہے کیونکہ یہ قاری اور مصنف کے درمیان قربت پیدا کرتا اور تحریر کو پراثر مگر خوشگوار بناتا ہے۔

دوسرا اقتباس انشائیہ کی عدم تکمیل اور موضوع کی مرکزیت کو واضح کرتا ہے۔ یہاں یہ کہا گیا ہے کہ اگرچہ انشائیہ کا ایک مرکزی موضوع یا خیال موجود ہوتا ہے مگر اس کے گرد ایسی باتیں بھی گردش کرتی ہیں جو براہِ راست موضوع سے تعلق نہیں رکھتیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ انشائیہ صرف معلومات یا دلائل تک محدود نہ رہے بلکہ قاری کو سوچنے غور و فکر کرنے اور زندگی کے مختلف پہلوؤں سے روشناس کروائے۔ یہ خصوصیت انشائیہ کو دیگر ادبی اصناف جیسے مقالہ یا تحقیق سے ممتاز کرتی ہے جہاں ہر جملہ اور ہر دلیل موضوع کے تابع ہوتی ہے۔

وزیر آغا کے مطابق انشائیہ کی پہچان اس کا غیر رسمی انداز اور موضوع سے آزادی کے باوجود ایک مرکزی خیال کے گرد گھومنا ہے۔ یہ اقتباسات انشائیہ کی بنیادی فنی خصوصیات قاری کے ساتھ دوستانہ تعلق، ذاتی ردعمل، اور موضوع کی مرکزیت کے باوجود آزادی کو واضح کرتے ہیں جو اسے دیگر صنفوں سے منفرد بناتی ہیں۔

سوال 1 ۔ مقالے کی بہ نسبت انشائیے کا ڈھانچا لچیلا ہوتا ہے۔

سوال 2 ۔ انشائیہ اور غزل کے ایک شعر میں گہری مماثلت کا احساس ہوتا ہے۔

سوال 3 ۔ انشائیہ غیر رسمی نگار طریق کار اختیار کرتا ہے۔

سوال 4 ۔ انشائیے کی صنف شگفتہ موڈ کی پیداوار ہے۔

ہیئت مؤنث
جملہ ۔  اس عمارت کی ہیئت بہت خوبصورت ہے۔

مضمون مذکر
جملہ ۔  استاد نے کلاس میں ایک نیا مضمون پڑھانے کا اعلان کیا۔

آزادی مؤنث
جملہ ۔  ہر انسان کو آزادی کا حق حاصل ہونا چاہیے۔

صنف مؤنث
جملہ ۔  شاعری اردو ادب کی سب سے اہم صنف ہے۔

لباس مذکر
جملہ ۔  سردیوں میں گرم لباس پہننا ضروری ہے۔

حقّہ مذکر
جملہ ۔  دادا روزانہ شام کو حقّہ پیتے ہیں۔

انشائیہ مذکر
جملہ ۔  استاد نے طلبہ سے کہا کہ وہ اپنا نیا انشائیہ جمع کرائیں۔

حد ۔ حدود

نقش ۔ نقوش

ضابطہ ۔ ضوابط

مظہر ۔ مظاہر

صورت ۔ صورتیں

تازہ ۔ بوسیدہ

روشن ۔ تاریک

حسن ۔ بدصورتی

کفر ۔ ایمان

ارض ۔ سماء

ترقی ۔ زوال

صورت ۔ شکل

ڈھانچا ۔ ساخت

تاریک ۔ اندھیرا

سیاح ۔ مسافر

علاحدہ ۔ ممتاز / مخصوص

Scroll to Top