بال جبریل تعارف،تعبیر اور تفھیم
اقبال نے اپنی شاعری کا آغاز غزل سے کیا اور غزل گوئی کا یہ سلسلہ آخر تک جاری رہا لیکن اقبال کی غزل کے روپ بدلتے رہے ۔ ان کی ابتدائی غزلوں پر داغ دامیر کا رنگ غالب ہے مگر رفتہ رفتہ وہ اس اثر سے آزاد ہوتے گئے اور ان کا اپنا مخصوص انداز نمایاں ہوتا گیا ۔ اقبال کی غزل میں اس صنف کا ایک طویل سفر، روایت سے واضح انحراف اور ایک نمایاں ارتقا نظر آتا ہے جس نے ہماری غزل کو وقار عطا کیا اور اس الزام سے بری کر دیا کہ اس میں معاملات حسن و عشق کے سوا کسی اور مضمون کی گنجایش نہیں۔ اقبال نے ثابت کر دیا کہ غزل میں ہر طرح کے مضامین ادا کیے جا سکتے ہیں اور پچیدہ سے پیچیدہ فلسفیان خیالات بھی تغزل کو قربان کیے بغیر غزل میں جگہ پا سکتے ہیں۔
اقبال نے شاعری کے میدان میں قدم رکھا تو ہر طرف امیرو داغ کی غزل کے چرچے تھے ۔ نو آموز شعرا انہی کا انداز اختیار کرنے کی کوشش کرتے تھے ۔ اقبال نے بھی اس روش عام کی پیروی کی۔ درج ذیل شعر سے اندازہ ہوتا ہے کہ انھیں امیر سے کتنی عقیدت تھی ۔
بال جبریل کا نام اور اس کی مناسبت
بال جبریل علامہ اقبال کی اردو شاعری کا دوسرا مجموعہ ہے جو ان کے پہلے مجموعہ بانگ درا کی اشاعت کے گیارہ سال بعد ان کی وفات سے تین سال قبل جنوری 1935 میں شائع ہوا۔ علامہ اقبال نے اسے بانگ درا کی مقبولیت کے بعد لوگوں کے اصرار پر شائع کیا۔ پہلے اس کا نام نشان منزل رکھا گیا لیکن بعد میں ”بال جبریل” کر دیا گیا۔ بال جبریل میں شاعری زیادہ ہے اور فلسفہ کم ہے۔ یوسف سلیم چشتی نے اسے گل سرسید کہا ہے۔ بال جبریل اقبال کی اردو نظموں اور غزلوں کا مجموعہ ہے۔
اس مجموعے میں شامل کئی نظمیں بین الاقوامی اسفار کے دوران لکھی گئیں۔ یہ بات وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ اگر اقبال نے اسپین کا سفر نہ کیا ہوتا تو وہ مسجد قرطبہ جیسا اثر انگیز اور لافانی کارنامہ انجام نہ دے پاتے۔ بال جبریل میں تغزل بھی ہے، تصوف بھی ہے اور فلسفیانہ نظمیں بھی شامل ہیں۔
بال جبریل جنوری 1935 ء میں شائع ہوئی ۔ اس میں وہ اردو کلام شامل ہے جو علامہ اقبال نے بانگ درا کی تکمیل سے بالِ جبریل کی اشاعت تک کہا تھا۔ اس اعتبار سے بھی یہ کتاب بہت اہم ہے کہ علامہ اقبال کے فارسی کلام میں جو کچھ صراحت سے بیان ہوا ہے وہی سب کچھ بال جبریل میں اشارتاً آگیا ہے۔
بانگ درا اور بال جبریل کی اشاعت کے درمیان تقریباً 12 سال کا وقفہ ہے۔ ان 12 برسوں میں علامہ اقبال کا کوئی اردو مجموعہ کلام شائع نہیں ہوا البتہ فارسی کے دو مجموعے چھپے۔ اقبال نے بانگ درا سے قبل اور بال جبریل کے بعد کئی کتابیں فارسی میں لکھیں، اس لیے انہوں نے جب اپنے خیالات کا اظہا ر اردو میں کیا تو فارسی سے محروم طبقے نے اس کی بڑی پذیرائی کی۔ اس میں اقبال نے خودی کے فلسفے کو بڑی خوبی کے ساتھ واضح کیا اور دوسرے بنیادی تصورات یعنی عشق، فقر، استغناء، علم، خرد، حیات اور مومن کو بھی آسانی کے ساتھ سمجھایا ہے۔ بال جبریل کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ اس کا انداز بیان اور اسلوب کی دلکشی ہے۔ اس مجموعے میں بہت سے اشعار ایسے بھی ملتے ہیں جن میں ان کا خود کا مقام آسانی سے معلوم ہو سکتا ہے۔ مثلاً
اسی کشمکش میں گزریں مری زندگی کی راتیں
کبھی سوز ساز رومی کبھی پیچ و تاب راوی
مری نوائے پریشاں کو شاعری نہ سمجھ
کہ میں ہوں محرم روز درون میخانہ
کتاب کی ترتیب اور ہیئت
کتاب کو دو بڑے حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے
بال جبریل کا پہلا حصہ غزلیات پر مشتمل ہے۔ دوسرے حصے میں نظمیں ہیں ۔ دونوں حصے علامہ اقبال کی شاعری کے فن کے اعتبار سے بے حدا ہم ہیں۔ جہاں تک افکار و خیالات کا تعلق ہے ان نظموں اور غزلوں میں وہی کچھ کہا گیا ہے جو ان کی فارسی کتابوں یا بانگ درا کے تیسرے دور کی بعض نظموں میں ہے، البتہ اس کتاب میں غزل گوئی اور منظر نگاری کے تجربات کیے گئے ہیں وہ فنِ شعر کے اعتبار سے معجزے کی حیثیت رکھتے ہیں ۔
پہلے حصے میں پہلی 16 غزلیں بقیہ غزلوں سے الگ درج کی گئی ہیں۔ اس کا سبب یہ بیان کیا جاتا ہے کہ یہ زیادہ تر مابعد الطبیعات موضوعات پر محیط ہیں ۔ یعنی خدا کا ئنات اور انسان کے تعلق کو واضح کرتی ہیں۔ ان کے بعض اشعار خاصے دقیق ہیں ۔ اس کے بعد حکیم سنائی (جو فارسی کے اہم شاعر ہیں اور جن کی پیروی مولانا روم نے کی ہے) کی زمین میں قصیدہ نما غزل ہے اور پھر غزلیات کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے ان غزلیات میں وہ تمام موضوعات اشارے کنائے ، علامت یا صراحت کے ساتھ آگئے ہیں جو ان سے پہلے بھی اقبال کے فارسی اور اردو کلام میں موجود ہیں مگر جن موضوعات کا ذکر کثرت سے آتا ہے وہ یہ ہیں
خودی، عشق، کشمکش حیات، فقر، وجدان اور عقل کا تقابل، اسلام کی طرف واپسی یا دوسرے لفظوں میں ان تمام عناصر کا اسلام سے اخراج جو مسلمانوں نے غیر مذاہب سے لے کر اسلام میں داخل کر لیے ہیں۔ ان کے علاوہ صوفی و ملا کی بے عملی، مغرب کے مشرق پر ہلاکت خیز اثرات، مغربی تعلیم کے نقصانات وغیرہ کو بھی بار بار بڑے زور دار انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
بال جبریل کی غزلیات خصوصیات و انفرادیت
بال جبریل کی غزلیات اردو غزل کی پوری تاریخ میں ایک نئی آواز ہیں۔ ان کے انداز بیان میں ایسی ایسی جدتیں ہیں جو ان سے پہلے کی غزلیہ شاعری میں نہیں ہے۔ ان کا ذخیرہ الفاظ نیا ہے ان کی تشبیہات، استعارات اور تصویریں نئی ہیں ان کی زمینیں نئی ہیں، ان میں سینکڑوں نئی تراکیب ہیں اور ظاہر ہے کہ جو خیالات پیش کئے گئے وہ بھی اس سے پہلے غزل میں بیان نہیں ہوئے تھے گویا علامہ اقبال نے غزل کا باطن بھی تبدیل کر دیا ہے اور ظاہر بھی یہ صنف غزل میں بہت بڑا تجربہ ہے اس تجربے نے جدید غزل گو شعرا کو بہت متاثر کیا جدید اردو غزل میں تجربات کی جو افراط نظر آتی ہے ان کا بالواسطہ یا بلا واسطہ سلسلہ بالِ جبریل کی غزلیات تک جاتا ہے یہ غزلیات اپنی نقطہ آفرینی اور انداز بیان کی دل کشی کی وجہ متاثر کرتی ہیں۔ غزل کا یہ انداز اردو غزل کی تاریخ میں یقیناً نیا لیکن جب قاری اس سے کسی قدر آشنائی حاصل کرتا ہے تو اس کی غرابت دور ہو جاتی ہے اور ایک نئی دنیا کا دروازہ اس پروا ہو جاتا ہے۔
بانگ درا کے مقابلے میں اس کتاب میں خیالات کی گہرائی اور سنجیدگی زیادہ ہے۔ اس کی فکر میں بلند پروازی ہے۔ اس لیے اس کا عنوان بال جبریل ہے۔ جبریل کی پرواز سدرۃ المنتہی تک ہے۔ وہ پروں کی قوت، تیز رفتاری اور بلند پروازی کی علامت ہیں۔ اس مجموعے میں بھی فکر کی اڑان اور زور بیان ہے جس کی مناسبت اس کا نام بال جبریل نہایت مناسب ہے۔ اس مجموعے کا آغاز ہی ایک ایسے شعر سے ہوتا ہے جو اس کتاب کی اہمیت و عظمت کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے۔
پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر
مرد ناداں پر کلام نرم و نازک بے اثر
اگر ہم اس کتاب کے سیاق میں دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ یہ کتاب ان لوگوں کے پڑھنے کے لیے ہے جو عقل سلیم رکھتے ہیں اور جن کی پرواز جبریل کی طرح بلند ہو سکتی ہے۔ اس کی زبان پر فارسی کا اثر ہونے کے باوجود یہ بانگ درا کی طرح بو جھل نہیں بلکہ نہایت شستہ اور شیریں اور شاعری فکر میں ڈوبی ہوئی ہے۔ زبان کی لطافت نے اس مجموعے کو مزید دلکش بنا دیا ہے۔ اس کا موضوع فلسفیانہ اور اسلوب شاعرانہ ہے۔
ترتیب کے لحاظ سے اس کے دو حصے ہیں۔ پہلے حصے میں غزلیں ہیں اور دوسرے حصے میں نظمیں ۔ درمیان میں کچھ رباعیات ہیں۔ غزلوں کو مزید دو حصوں میں منقسم کیا جائے تو پہلے حصے میں 16 اور دوسرے حصے میں 61 غزلیں شامل ہیں، اس طرح کل غزلوں کی تعداد 77 ہے جبکہ مجموعے میں مختصر اور طویل نظموں کی کل تعداد 60 سے تجاوز نہیں کرتی۔ بعض غزلوں کے بعد خالی حصے میں رباعیاں لکھی گئی ہیں ۔
پہلے حصے کی تمام 16 غزلوں میں خداوند تعالی سے ناز و نیاز کی باتیں کی گئی ہیں اور یہ کلام خدا کو مخاطب کر کے لکھا گیا ہے۔ دوسرے حصے کی پہلی غزل کافی طویل ہے اور قصیدے کی طرح کئی حصوں میں منقسم ہے۔ اس پر نوٹ میں اقبال نے لکھا ہے کہ یہ حکیم سنائی غزنوی کے مزار پر زیارت کے بعد ان کے قصیدے کی پیروی میں لکھی گئی ہے لہذا اس وجہ سے اس پر زیادہ قصیدہ ہونے کا گمان مزید بڑھ جاتا ہے۔ اس غزل میں اقبال نے حکیم سنائی کے جس مصرعے پر گرہ لگائی ہے وہ اس طرح ہے
ندا آئی کہ آشوب قیامت سے یہ کیا کم ہے
گرفتہ چینیاں احرام و مکی خفتہ در بطحا
حکیم سنائی کا اصل شعر اس طرح ہے
چو علمت ہست خدمت کن چو دانایاں کہ زشت آید
گرفتہ چینیاں احرام و مکی خفتہ در بطحا
معنوی اعتبار سے بال جبریل کی غزلوں میں خیالات کی بلندی موجود ہے۔ زیادہ تر غزلوں میں ایک مسلسل خیال پیش کیا گیا ہے اور حسب ضرورت قطعہ بندا شعار بھی لکھے گئے ہیں۔ زبان میں عالمانہ اور اعلیٰ پائے کے الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے۔ غزلوں میں ردیف کی پابندی سے گریز کیا گیا ہے اور بعض قافیے نہایت مشکل ہیں جن میں عام شعرا نے کم شعر لکھے ہیں۔ کچھ قوافی بطور مثال پیش کیے جا رہے ہیں
خیز، ریز، انگیز، آمیز، دستاویز، رستاخیز، چنگیز، خونریز، فراوانی، نگهبانی، برہانی، زندانی، پازند، مانند، نظربند، سمرقند، دماوند، اسپند، خورسند
سمرقند، جنوں، افلاطوں، گردوں، کن فیکوں، فسوں، درویشی، خویشی، میشی، بیشی، چمن، پیرهن، دھن، شکم، جم، یم، دمبدم، زندیق، تصدیق، توفیق، طریق، صدف، خذف، تلف، سربکف، مهجوری، رنجوری، تیموری، مستوری، حو، حضور، صبو، ظہور صبح گاہی، روسیاہی، کج کلاہی، خانقاہی، حکیمانہ، رندانہ، بیگانہ، ویرانہ، فرزانہ، مشتاقی، خلاقی، بو، رفو، غلاف، خلاف، کشاف، صاف وغیرہ۔
کچھ غزلیں ایسی بھی ہیں جن کے قوافی میں جبریل، اسرافیل خلیل، اسماعیل، فرہاد، رازی، شبیر، بسطامی، خسرو جیسے تلمیحی کرداروں کو نظم کیا ہے۔ بعض غزلوں میں عربی قوافی میں صهبا، کسری، زهرا، الا، طاها، لا تخف، لا اله الا، اسداللهی کا استعمال کرتے ہیں تو بعض غزلوں میں آدھا اور بعض میں عربی کا مکمل مصرع لگاتے ہیں ۔ مثلا الشهده ان لا اله، اشهده ان لا اله، لا اله الا هو، لا اله الا الله وغيره غزلوں میں مقطع نہیں ہونے کی وجہ سے تخلص کا استعمال بھی نہیں ملتا اور بعض غزلوں میں مطلع بھی نہیں ہے۔
حصہ اول کی غزلوں میں ذات، حیات اور کائنات کو موضوع بنایا گیا ہے۔ ذات سے مراد خالق کا ئنات کی ذات ، حیات سے مراد انسانی حیات اور کائنات سے مراد دنیا کی بے ثباتی مراد ہے۔
بال جبریل کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ اس میں بہت سے اشعار کے دونوں مصرعے ایک ہی لفظ سے شروع ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے ان اشعار میں ایک آہنگ پیدا ہو جاتا ہے۔
کیا عشق ایک زندگیِ مستعار کا
کیا عشق پایدار سے ناپایدار کا
میں ہوں صدف تو تیرے ہاتھ میرے گہر کی آبرو
میں ہوں حذف تو تو مجھے گوہر شاہوار کر
اقبال کی غزلوں میں صنعت تضاد کا استعمال بھی خوب ملتا ہے۔ یہ صنعت مصرعوں کے درمیان میں تو خوب ملتی ہے لیکن کچھ غزلیں ایسی بھی ہیں جن کے اشعار میں ایک مصرع دوسرے کی ضد ہوتا ہے ۔ یہ اشعار دیکھیں
عقل عیار ہے سو بھیس بنا لیتی ہے
عشق بیچارہ نہ ملا ہے، نہ زاہد، نہ حکیم
من کی دولت ہاتھ آتی ہے تو پھر جاتی نہیں
تن کی دولت چھاؤں ہے آتا ہے دھن جاتا ہے دھن
اگر شعر کے ایک مصرعے کو دو حصوں میں تقسیم کریں تو اس میں برابر الفاظ آتے ہیں یعنی انہیں الگ الگ کرنے سے صنعت ترجیح حاصل ہوتی ہے
یا عقل کی روباہی / یا مشق ید اللہی
یا حیلہ افرنگی / یا حملہ ترکانہ
عشق تری انتہا عشق مری انتہا
تو بھی ابھی نا تمام میں بھی ابھی ناتمام
یوں تو بال جبریل کی غزلیں فلسفہ اسلام سے پر ہیں اور ان میں پیغام الہی کو نت نئے طریقوں سے پیش کیا گیا ہے۔ کہیں تلمیحات تو کہیں علامتوں کے ذریعے فکر و فلسفے کو جگہ دی گئی ہے لیکن کچھ اشعار ا یسے بھی ہیں جن میں اللہ کے پیغام کو نصف یا مکمل مصرعے میں جوں کا توں لکھ دیا گیا ہے۔ یہ اشعار دیکھیے
مٹا دیا مرے ساقی نے عالم من و تو
پلا کے مجھ کو مے لا الہ الا ھو
علم کا موجود اور فقر کا موجود اور
اشھدُ ان لا الہ، اشھدُ ان لا الہ
اگر بال جبریل کے موضوعات کی بات کی جائے تو یہ فکر و فلسفے سے لبریز ہے۔ اس میں اسلامی تصوف کا رنگ بھی جھلکتا ہے۔ اس میں اقبال نے بے بسی کے بجائے ہمت اور سر بلندی کا پیغام دیتے ہوئے حریت کا درس دیا ہے۔ اس کے موضوعات ملک اور قوم کے محدود دائرے سے پرے ہیں اور ان میں کارفرما فکر آفاقی حیثیت کی حامل ہے۔ اپنے کلام کے ذریعے اقبال ہمیں مغرب کی ظاہر پرستی اور حسن و جمال پر فریفتہ ہونے سے بھی خبردار کرتے ہیں۔ خدا کی سلطنت میں انسان کی مجبوری اور لاچاری اور سرمایہ داروں کے عوام پر کیے جانے والے ظلم و ستم کا برملا اظہار بھی کرتے ہیں۔ اس مجموعے کی زبان غزل کی زبان ہے۔ اس کی نظمیں بھی تغزل کے رنگ میں دوبی ہوئی ہیں۔ انسان دوستی کی مثالیں بھی ملتی ہیں۔ آمریت، ملوکیت اور انسانی استحصال کے خلاف احتجاج کی صدائیں بھی ہیں۔
بال جبریل کی نظمیں
بال جبریل میں اکثر نظمیں مختصر ہے مگر تین طویل نظمیں بھی اس میں شامل ہیں جن میں سے ہر ایک کے بارے میں نقادوں کی رائے ہے کہ یہ علامہ اقبال کی بہترین نظمیں ہیں۔ ذوق و شوق، مسجد قرطبہ اور ساقی نامہ ایسے عظیم کارنامے ہیں جن پر کوئی بڑی سے بڑی ترقی یافتہ زبان بھی فخر کر سکتی ہے نقادوں کے درمیان یہ فیصلہ تو شاید کبھی نہ ہو سکے کہ ان میں سے بہترین نظم کون سی ہے لیکن اس پر بہت سے نقاد متفق ہو جائیں گے کہ ان سے بہتر نظمیں علامہ نے نہیں لکھیں ۔ ذوق و شوق ایک لاجواب نعتیہ نظم ہے۔ مسجد قرطبہ اور ساقی نامہ میں علامہ اقبال کے تمام نظریات کا خلاصہ موجود ہے تینوں نظموں کا خلوص انداز بیان اور موضوع کی ہم آہنگی اور زور بیان ایسا ہے کہ بہت کم یکجا ہو پاتا ہے پھر نظموں کا رابط وتسلسل دیدنی ہے۔
مختصر نظموں میں طارق کی دعا، الارض الله، لالہ صحرا، زمانہ ، شاہین وغیرہ بھی قابل ذکر ہیں۔ بالِ جبریل کے آخر میں چند نظمیں ایسی بھی ہیں جن میں خیالات کا اظہار براہ راست طریقے سے کیا گیا ہے مثلا آزادی افکار، یورپ، سینما فقر، وغیرہ اس انداز بیان کو اقبال نے ضرب کلیم میں اور بھی چم کا یا ہے۔
بال جبریل کی مکالماتی نظموں کے ذریعے اقبال نے قوم کی زندگی کے اہم مسائل کو حل کیا ہے۔ مرشد رومی کے اشعار سے انہوں نے بہت سے مسائل کو حل کیا ہے۔
خلاصہ
بال جبریل نہ صرف اقبال کی شاعری کا ایک عظیم الشان مجموعہ ہے بلکہ اردو غزل میں ایک انقلابی اضافہ بھی۔ اس کتاب نے غزل کے دائرے کو وسیع کیا، اسے نئے مضامین اور نئے اسلوب سے روشناس کرایا اور ثابت کیا کہ غزل میں ہر قسم کے خیالات کو فنکارانہ اور پراثر طریقے سے پیش کیا جا سکتا ہے۔ اس کی نظمیں اپنے زورِ بیان، گہرے خیالات اور شاعرانہ جمالیات کے باعث ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ بال جبریل کا یہ سفرِ فکر و فن آج بھی قاری کے ذہن و دل کو جگانے اور اسے بلندیوں پر پرواز کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔