Allama Iqbal Ki Adbi Khidmat, علامہ اقبال کی ادبی خدمات

علامہ اقبال ان عظیم اور محترم شخصیات میں سے ہیں جن کی یاد ہمیشہ لوگوں کے دلوں میں زندہ رہے گی۔ انہوں نے مشرق کے سوئے ہوئے لوگوں کو جگانے اور ان میں نئی جان ڈالنے کے لیے اپنی پوری زندگی لگا دی۔ برصغیر کی فکری، ادبی اور سیاسی تاریخ میں انہوں نے ایسے اثرات چھوڑے ہیں جو کبھی مٹ نہیں سکتے اور نئی راہیں بھی دکھائی ہیں۔ انہوں نے اردو زبان و ادب کو تخلیقات سے مالا مال کیا اور اسے اس قابل بنایا کہ وہ دنیا کی ترقی یافتہ زبانوں کے ساتھ کھڑی ہو سکے۔ اقبال ایک کامیاب شاعر بھی تھے اور بہت بڑے فلسفی اور مفکر بھی۔ انہوں نے شاعری کے ذریعے جو کارنامہ انجام دیا، وہ برصغیر کی تاریخ میں مثال نہیں رکھتا۔ اقبال کو اردو اور فارسی زبانوں پر مکمل عبور تھا اور انگریزی زبان پر بھی بہت مضبوط گرفت تھی۔ اقبال کے کلام میں خیالات کی دولت بے مثال ہے اور وہ مشرق و مغرب کے بہترین افکار کے وارث سمجھے جاتے ہیں۔ لیکن انہوں نے صرف ان خیالات کو آگے نہیں بڑھایا بلکہ ان میں بڑا اضافہ بھی کیا۔

ان کی خدمات کا واضح ثبوت ان کا عظیم سرمایہ ہے جو خطبات، مضامین، تقاریر، بیانات، خطوط اور شاعری کی لافانی کتابوں کی شکل میں موجود ہے۔ یہ سرمایہ پوری امت کے لیے ایک قیمتی امانت ہے۔ اقبال علم، فکر، عرفان اور عمل کا سمندر ہیں اور وقت اور امت کا ایسا قیمتی خزانہ ہیں جنہیں ہر دور اپنے ساتھ رکھ کر اپنی قدر بڑھاتا رہے گا۔ اسی لیے ان کی زندگی، شاعری اور نظریات پر دنیا بھر میں بے شمار کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔ اردو زبان و ادب میں مطالعہ اقبالیات اب ایک باقاعدہ الگ شعبے کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔

علامہ اقبال اردو اور فارسی کے ممتاز شاعر ہیں جنہیں دنیا کے عظیم شاعروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ فارسی، انگریزی، اردو اور عربی کے ساتھ ساتھ انہیں جرمن زبان بھی اچھی دسترس حصل تھی۔ ان کے مضمون اور سوچ کے موضوعات میں تاریخ، تصوف، فلسفہ، اسلامیات، سیاست، قانون اور معاشرتی علوم شامل تھے اور ان میں انہیں گہری دلچسپی تھی۔ اقبال اردو شاعری میں ایک ایسے دور کے بانی ہیں جس کی بڑی خوبی خیال کی بلندی اور فلسفیانہ انداز ہے۔ وہ اپنے زمانے کے سچے نمائندے بھی ہیں اور فکر و سخن کی تاریخ میں ایک نئے عصر کے معمار۔ اقبال اچھی طرح سمجھ چکے تھے کہ اپنے نظریات اور سوچ کو دوسروں تک پہنچانے کے لیے شاعری سے زیادہ دل کش اور پر اثر ذریعہ کوئی نہیں ہو سکتا، اس لیے انہوں نے شاعری کو اپنا ترجمان بنایا۔ اقبال کے کلام کی سب سے نمایاں خوبی یہ ہے کہ انہوں نے اپنی شاعری کی بنیاد قرآن و حدیث سے رکھی۔ بلاشبہ ان کی کچھ نظمیں دوسرے مفکرین کے خیالات سے ملتی ہیں لیکن مجموعی طور پر ان کی شاعری اسلامی فکر سے جنم لیتی ہے۔ اسلامی فکر میں ہمہ گیریت اور دورِ حاضر سے تعلق پایا جاتا ہے اسی لیے اقبال کی شاعری میں بھی یہ خصوصیات نمایاں نظر آتی ہیں۔

اقبال کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ ان کی زمانہ شناس اور سمجھ دار سوچ نے نہ صرف دنیا کے بڑے مفکرین کو اپنا موضوع بنایا بلکہ انہیں نئے راستوں کا شعور بھی دیا۔ اسی ہمہ گیریت کی وجہ سے فکرِ اقبال کی مضبوط اور بہادر آواز نے اردو اور فارسی کے قارئین ہی کو نہیں بلکہ پوری دنیا کے ادب کو متاثر کیا۔ انہوں نے ادب کے بڑے بڑے ماہرین کو سوچنے پر مجبور کیا کہ مروجہ موضوعات، پرانی کہانیوں اور استعمال شدہ راستوں سے ہٹ کر بھی ایک ایسا نیا نظام ادب اور فکر قائم ہو سکتا ہے جو انسانیت کے دکھ درد کا علاج بنے، جس کے اثر سے زندگی میں جذبہ اور حرارت پیدا ہو، اور جس کے ذریعے انسان اپنی حیثیت، اپنا مقام اور اپنا مقصد سمجھ سکے۔ انسان زمانے کے بے سمت اور بے ترتیب معاشرتی نظام پر قابو پا سکے اور ایک نئے، بہتر اور روشن جہان کی تعمیر کر سکے ایسا جہان جو ایک ایسے نظریۂ زندگی پر قائم ہو جو تخلیقِ کائنات کا اصل مقصد بھی ہو اور انبیاء کی تعلیماتِ خیر سے بھی جڑا ہو۔

ہم سب جانتے ہیں کہ اقبال کی زندگی میں یورپ کا سفر بہت اہم موڑ ثابت ہوا۔ اس سفر سے پہلے وہ صرف مشرقی علوم، ادب اور شخصیات سے واقف تھے، مگر یورپ سے لوٹنے کے بعد ان کی زندگی کا مقصد بدل گیا۔ اس دور نے ان کی سوچ اور ذہن میں ایک انقلاب پیدا کر دیا۔ ان کی فکر میں وسعت پیدا ہوئی اور دل میں پوری انسانیت کے لیے بھائی چارے اور محبت کا جذبہ پیدا ہو گیا۔ وہ خود بھی اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں:

یورپ میں قیام کے دوران اقبال نے مغربی سیاست اور مغربی تہذیب کا قریب سے مشاہدہ کیا اور اس کے نتیجے میں وہ وطنیت کے نظریے کو غیر اسلامی اور انسانیت کے لیے مضر سمجھنے لگے ۔ وہ ایک ایسی عالمگیر جمیعت کا تصور ڈھونڈنے لگے، جس میں سب کے لیے اخوت و ہمدردی اور عدل وانصاف ہو اور یہ تصور انہیں اسلامی تعلیمات میں نظر آیا۔ اپنے علمی وادبی تجربے سے اقبال نے مشرق کے فکری نظام کو جمود سے بچانے کے لیے فکری کوششیں کیں ۔ اپنے متحرک افکار و نظریات سے تمام زندہ دل انسانوں میں خود اعتمادی اور جذبۂ عمل بیدار کیا۔ ان کے کلام میں عشق کی روایتی داستان اور ہجر کے صدموں کا بیان نہیں بلکہ اس میں فلسفیانہ افکار اور قومی ہمدردی کے جذبات ملتے ہیں۔ انہوں نے مشرق و مغرب کے علم و دانش اور فلسفوں میں اعلیٰ قدروں کی تلاش اور جستجو جاری رکھی ۔ اقبال نے اپنے گردو پیش کی دنیا کا بغور جائزہ لے کر مشرق و مغرب کے نظریات پر تنقیدی نگاہ ڈالی اور اس کی خامیوں اور ناکامیوں کو اجاگر کیا۔ مشرقی اور مغربی فکر و دانش کی کمزوریوں کو واضح کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں

اقبال حیات انسانی اور اس کے ارتقائی عمل کے لیے ایک حرکی اور مکمل لائحہ عمل بنانے کا خواب دیکھتے رہے۔ اور انسان کو بلندی سے ہم کنار کرنے کی فکر کرتے رہے۔ اس کے لیے انہوں نے شاعری کو ذریعہ بنایا۔ ان کی شاعری روح کو تڑپانے والی اور قلب کو گرمانے والی شاعری ہے۔

اقبال کے فکری نظام میں خودی، بے خودی، عشق، عمل، مرد مومن وغیره تصورات کی بڑی اہمیت ہے۔ انہوں نے نثر میں بھی بیش بہا سرمایہ چھوڑا ہے جو اقبال کی مفکرانہ اور شاعرانہ عظمت سے صحیح طور پر آشنا ہونے کا ایک اہم وسیلہ اور اقبال کی عظیم شخصیت کا آئینہ ہے۔ علامہ اقبال نہ صرف ایک شاعر تھے بلکہ ایک مفکر، مصلح قوم، اخوت کے پیکر اور دانائے قوم بھی تھے، جس کے لیے انہیں سر، حکیم اور علامہ جیسے خطابات سے نوازا گیا ۔ علامہ اقبال کے اثر سے اردو و فارسی شاعری کی فکری دنیا میں ایک انقلاب آفرین تغیر رونما ہوا ۔ انہوں نے اردو شاعری سے حزن و قنوطیت کے عناصر ختم کر کے اس میں رجائیت، جوش اور نشاط آفرینی پیدا کی ۔ ان کی شاعرانہ عظمت سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا۔ انہوں نے اردو و فارسی شاعری کو فکر و فلسفہ کے فن کارانہ اظہار سے آشنا کیا۔ انسانی زندگی کے بنیادی مسائل کو شعر کے سانچے میں ڈھال کر اردو و فارسی شاعری کو اپنی فکر سے بلند کیا۔ تصور خودی، بے خودی، مرد مومن، عقل و عشق، زمان و مکاں عظمت انسانی اور قوم وملت کی سر بلندی جیسے تمام موضوعات ان کی شاعری میں شامل ہیں ۔ اقبال کی غزلوں نے روایتی موضوعات کو ایک نئے موڑ تک پہنچایا۔ انہوں نے غزل کے دور از کار اور فرسودہ مضامین کو ایک طرف رکھ کر ایک نئے جہاں کو دریافت کیا۔ انہوں نے اپنی غزلوں میں فلسفیانہ تصورات کو دلکش زبان میں پیش کر کے ایک نئی روایت کی بنیاد ڈالی ۔ موضوع، لہجہ اور زبان و بیان کے اعتبار سے ان کی غزلیں سب سے مختلف نظر آتی ہیں۔ خودی، عشق وعقل، زمان و مکاں، جہد، عمل، قوموں کے عروج وزوال، مشرق و مغرب میں قومی اور بین الاقوامی حالات پر تبصرہ، تاریخ انسانی پر تنقید اور فلسفہ و حکمت سے متعلق موضوعات اقبال کی غزلوں کو دوسرے شعرا سے الگ کرتے ہیں۔ انہوں نے غزل کی مرکزی فکر کو فطرت اور کائنات سے جوڑا۔ اقبال کے بعد غزل میں اتنی وسعت پیدا ہوگئی کہ اس نے حقائق کی عکاسی ہو یا عصری معنویت ہو ہر ایک میدان کو اپنے اندر سمو لیا ۔ انسان، خدا، کائنات اور فطرت یہ تمام کے تمام موضوعات آج غزل میں موجود ہیں۔ انہوں نے انسان کو آزادی، عزت اور خود داری کے ساتھ زندگی بسر کرنے کی تعلیم اپنی غزلوں کے ذریعے دی ہے۔ قرآن اور عشق رسول کا اقبال کی شاعری اور زندگی پر اثر ہوا۔ ان دونوں موضوعات کا اقبال کی شاعری میں جگہ جگہ ذکر ملتا ہے۔ ان کی شاعری پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ انسانی کلام نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق روح کی گہرائیوں اور وجدان والہام کی ان مخفی قوتوں سے ہے جو انسانی دسترس سے باہر ہیں ۔ اقبال کی انفرادیت یہ ہے کہ انہوں نے اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں شاعری کو نئے آہنگ اور نئے اسلوب سے ہم کنار کیا۔ یہ وصف ان کی فن کارانہ عظمت پر دلالت کرتا ہے۔ خودی کا مضمون جو ان کے خاص نظریہ حیات کی پیداوار ہے وہ اس سے پہلے کی شاعری میں بہت کم نظر آتا ہے اسی طرح وہ استعارات، تشبیہات، علامات و کنایات اور تلمیحات جوان کی شاعری میں خاص مفہوم میں استعمال ہوئے ہیں وہ اور اس مقصد کی تکمیل کا ذریعہ بنی ہیں جو ان کی شاعری کا بنیادی وصف اور جو ہر ہے۔ علامہ اقبال اردو شاعری کے وہ آبدار گوہر ہیں جس کی چمک نے کئی نسلوں کو متاثر کیا ہے۔ ان کی فکر ان کے موضوعات اور ان کے فن کی کوئی حد نہیں ۔ انہوں نے اردو شاعری کے رخ کو موڑ دیا اور زندگی کے حقائق کے اظہار کا ایک وسیلہ بنایا ، اقبال کی شاعری نے اردو شاعری کا مزاج بدل دیا۔ اس میں بے چارگی اداسی اور محرومی کا جو انداز تھا اس کی جگہ توانائی، امنگ اور ولولہ پیدا کیا۔ ان کا کلام حریت کا آئینہ دار ہے اور شاعری کی تاریخ میں شاید ہی کوئی دوسرا شاعر ہو جس نے شعوری طور پر اپنے زمانے کو متاثر کیا ہو ان کی شاعری بلا شبہ عہد آفریں شاعری ہے۔ غرض اقبال نے جس طرح علمی وادبی موضوعات پر قلم اٹھایا ہے وہ قابل قدر ہی نہیں بلکہ دستاویزی حیثیت رکھتے ہیں ۔ علامہ اقبال کے اردو کے چار شعری مجموعے ہیں ۔ بانگ درا، بال جبریل، ضرب کلیم، ارمغان حجاز

علامہ اقبال کا پہلا اردو شعری مجموعہ ہے جو ستمبر 1924 ء میں شائع ہوا۔ اس کا دیباچہ شیخ عبد القادر نے لکھا ہے۔ اس مجموعہ کی پہلی نظم کا نام ہمالہ ہے اور آخری نظم طلوع اسلام ہے۔ بانگ درا کی سب سے مختصر نظم ساقی ہے جو تین اشعار پر مشتمل ہے۔ بانگ درا تین حصوں میں تقسیم ہے۔ پہلے حصے میں آغاز سے 1905 تک کا کلام ہے، دوسرے حصے میں 1905 سے 1908 تک کا کلام درج ہے اور تیسرے حصے میں 1908 کے بعد کا کلام موجود ہے۔

بانگ درا میں شامل چند نظموں کے نام ہیں ہمالہ، شمع و پروانہ، عقل و دل، ایک پہاڑ اور گلہری، ماں کا خواب، ایک آرزو، سید کی لوح تربت، انسان اور بزم قدرت، شاعر، دل، ہندوستانی بچوں کا قومی گیت، نیا شوالہ، التجائے مسافر، طلبہ علی گڑھ کالج کے نام، پیام مشق، جلوہ حسن، حسن و عشق، بلاد اسلامیہ، ترانہ ملی، شمع و شاعر، شکوہ، جواب شکوہ شیکسپیر، خضرراہ، طلوع اسلام وغیرہ۔

یہ اقبال کا مقبول ترین دوسرا شعری مجموعہ ہے جو پہلی بار 1935 ء میں شائع ہوا۔ بال جبریل کا مطلب ہے جبریل کا پر۔ اس کی ابتدا بھرتری کے خیال پر مبنی اس شعر سے ہوتی ہے

اس مجموعے کے دو حصے ہیں۔ پہلے حصے کے آغاز میں غزلیں ہیں، دوسرے حصے میں نظمیں ہیں ۔ اقبال کی مشہور نظم ساقی نامہ جسے بال جبریل کا دل کہتے ہیں، اس مجموعہ میں شامل ہے۔ اس کے علاوہ کچھ قطعات بھی شامل ہیں۔ بال جبریل میں چند شامل نظموں کے نام ہیں۔ مسجد قرطبہ، طارق کی دعا، لینن خدا کے حضور میں، فرشتوں کا گیت، ذوق وشوق، لالہ صحرائی، ساقی نامہ، فرشتے آدم کو جنت سے رخصت کرتے ہیں، روح ارضی آدم کا استقبال کرتی ہے، جبریل و ابلیس، مسولینی وغیرہ۔

یہ علامہ اقبال کا تیسرا اُردو شعری مجموعہ ہے جو 1936 ء میں شائع ہوا۔ اس مجموعہ میں بہت سارے معاشرتی پہلوؤں پر بحث کی گئی ہے۔ خود اقبال اس کتاب کو دور حاضر کے خلاف اعلان جنگ کہتے ہیں۔ یہ چھ عنوانات پر مشتمل ہے۔ (1) مشرق و مغرب (2) ادبیات و فنون لطیفہ (3) اسلام اور مسلمان (4) عورت (5) تعلیم و تربیت (6) محراب گل افغان کے افکار ۔ اس میں شامل چند نظموں کے نام یہ ہیں۔ ایک فلسفہ زدہ سید زادے کے نام، اسلام، عقل و دل، قلندر کی پہچان، کافر و مومن، تقدیر، مکہ اور جنیوا، احکام الہی، زمانہ حاضر کا انسان، سلطان ٹیپو کی وصیت، طالب علم، حکیم نطشے، عورت، آزادی نسواں عورت اور تعلیم ، شعاع امید، فنون لطیفہ اشتراکیت ، کارل مارکس کی آواز، ابلیس کا فرمان اپنے سیاسی فرزندوں کے نام، مسولینی، لا دین سیاست، جمعیت اقوام مشرق، جمہوریت۔

یہ ایسا شعری مجموعہ کلام ہے جس کا تین چوتھائی حصہ فارسی زبان میں ہے اور باقی اردو زبان میں ہے۔ یہ شعری مجموعہ اقبال کی وفات کے سات ماہ بعد نومبر 1938 ء میں شائع ہوا۔ ارمغان کے لفظی معنی تحفہ یا سوغات کے ہے اور حجاز جزیرۃ العرب کا شمال مغربی حصہ جس میں مکہ معظمہ، مدینہ منورہ اور طائف وغیرہ واقع ہیں۔ دراصل علامہ اقبال نے ارمغان حجاز مدینہ منورہ کے شوق سفر میں ساتھ لے جانے کے لیے بطور ہد یہ تیار کی تھی۔ اس مجموعے میں شامل چند نظموں کے نام یہ ہیں ۔ ابلیس کی مجلس شوری ، بڑھے بلوچ کی نصیحت بیٹے کو، عالم برزخ ، حضرت انسان، دوزخی کی مناجات۔

علامہ اقبال فارسی میں شاعری کا با قاعدہ آغاز کرنے سے پہلے اردو شاعری میں نام پیدا کر چکے تھے ۔ اردو میں ان کی بعض مشہور نظمیں معرض وجود میں آچکی تھیں اور انہیں برصغیر کے طول و عرض میں شہرت و مقبولیت حاصل ہو چکی تھی ۔ اقبال کے اس دور کے اردو کلام پر غور کیا جائے تو یہاں پر فارسی کے آثار نمایاں نظر آتے ہیں۔ پھر دھیرے دھیرے ان کے یہاں فارسی میں شعر گوئی کا رجحان اس قدر ترقی کر گیا کہ ان کی وفات تک فارق کے سات مجموعے جمع ہو گئے جب کہ اردو میں صرف چار مجموعے مرتب ہوئے۔ ان کے کلام کے متعدد ترجمے کئی بین الاقوامی زبانوں میں کیے گئے ۔ علامہ اقبال کے فارسی شعری مجموعے (1) اسرار خودی (2) رموز بے خودی (3) پیام مشرق (4) زبور عجم (5) جاوید نامہ (6) پس چہ باید کرد اے اقوام شرق (7) ارمغان حجاز کا مختصر جائزہ لیں گے۔

یہ علامہ اقبال کی پہلی فارسی شعری تصنیف ہے اور سب سے پہلے شائع ہونے والا شعری کارنامہ بھی ۔ اسرار خودی ایک مثنوی ہے جو 1915 میں شائع ہوئی۔ اس کا انگریزی ترجمہ ڈاکٹر نکلسن نے ان کی حیات میں ہی کیا تھا۔ اس فارسی مثنوی کی وجہ سے اقبال کو عالمی شہرت ملی ۔ ڈاکٹر نکلسن کے ہی اس ترجمہ کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر ان کا تعارف ہوا۔ پہلی مرتبہ اقبال نے اپنے مرکزی تصور خودی کو با ضابطہ طور پر اسرار خودی کی صورت میں پیش کیا۔ انہوں نے اس مثنوی کے لیے وہی بحر چنی جوان کے مرشد مولانا رومی کی مثنوی کی ہے کیوں کہ اس بحر میں فکر کوسوز وساز کے ساتھ سمونے کی سہولت موجود ہے۔ اپنے افکار کی توضیح کے لیے اقبال نے اس مثنوی میں تمثیل کا سہارا بھی لیا ہے۔

یہ فارسی زبان میں علامہ اقبال کی دوسری شعری تخلیق ہے جو مثنوی کی ہیئت میں ہے۔ یہ 1917ء میں شائع ہوئی ۔ اس کو اقبال نے خودی پر کیے گئے اعتراضات کے جواب میں لکھا جس میں انہوں نے انسان کی انفرادی عظمت کی بہ نسبت ملت کے باہمی ربط اور حقوق کی بات کی ہے۔ یہ مثنوی خودی اور بے خودی کے درمیان مکمل ہم آہنگی ہے۔ رموز بے خودی کے پس منظر کی ترجمانی کرنے والے ایک مکتوب میں علامہ خود فرماتے ہیں کہ ہندوستان کے مسلمان کئی صدیوں سے ایرانی اثرات کے تحت ہیں۔ ان کو عربی اسلام اور ان کے نصب العین اور غرض و غایت سے آشنائی نہیں۔ ان کے لٹریری آئیڈیل بھی ایرانی ہیں اور سوشل نصب العین بھی ایرانی۔ میں چاہتا ہوں کہ اس مثنوی میں حقیقی اسلام کو بے نقاب کروں جس کی اشاعت رسول اللہ کے ذریعے ہوئی ۔ صوفی لوگوں نے اسے تصوف پر ایک حملہ تصور کیا اور ان خیالات پر تنقید کی ۔ رموز بے خودی در اصل معترضین کے اعتراضات کا جواب ہے۔

یہ علامہ اقبال کے فارسی کلام کا تیسرا مجموعہ ہے۔ یہ مجموعہ انہوں نے جرمنی کے عظیم شاعر گوئٹے کے مغربی دیوان کے جواب میں لکھا تھا۔ یہ پہلی بار 1923 ء میں شائع ہوا اور اس کا دیباچہ علامہ اقبال نے خود لکھا ہے۔ یہ شعری مجموعہ پانچ حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلے حصے کا نام لالہ طور ہے۔ اس میں قطعہ نمار باعیات ہیں، جن میں لطف زبان کے ساتھ ساتھ خودی کے وجد آفریں رموز بھی ملتے ہیں۔ دوسرے حصے کا نام افکار ہے جس میں دعا تبخیر فطرت، ہلال عید، بوئے گل، نوائے وقت فصل بہار، افکار انجم علم و عشق، سرود انجم، شاہین و ماہی، شبنم، ساقی نامہ، حکمت دو فرنگ، جوئے آب، ناد عالمگیر بہشت اور کشمیر کے علاوہ اور کئی چھوٹی چھوٹی نظمیں ہیں۔ ان میں سے اکثر نظموں میں اقبال کا رنگین تخیل فارسی، تغزل کے رنگوں کے پھول برساتا ہے۔ تیسرے حصے کا نام مئے باقی ہے ۔ خواجہ حافظ کے رنگ میں نہایت پر جوش اور مستانہ انداز میں غزلیں کہی ہیں۔ چوتھے حصے کا نام دانش فرنگ ہے۔ اس میں مغرب کے بعض حکماء اور مشاہیر مثلا نطشے برگساں، ہیگل، ٹالسٹائی اور بائرن وغیرہ پر شاعرانہ طرز میں پر لطف نظمیں ہیں ۔ اس حصے میں چند نظموں کے نام پیام، جمیعت اقوام ، فلسفہ و سیاست ، حکیم آئن سٹائن، بائرن، جلال و ہیگل، پیغام برگساں میخانہ فرنگ، خرافات فرنگ، خطاب بہ انگلستان ، آزادی بحر وغیرہ ہیں۔

علامہ اقبال کے چوتھے فارسی شعری مجموعے کا نام زبورِ عجم ہے۔ یہ شعری مجموعہ 1927ء میں شائع ہوا۔ یہ غزلیات کا مجموعہ ہے۔ اس کے چار حصے ہیں۔ پہلے حصے میں 66 غزلیں ہیں ۔ اس کے بارے میں یہ بھی لکھا جاتا ہے کہ یہ ایک طرح سے اقبال کے نغمے ہیں جس میں بظاہر رنگ تغزل بھی جھلکتا ہے اور یہ اقبال کے وجد آفریں اور پر جوش ترانے ہیں ۔ ان ترانوں کے ذریعہ گویا انہوں نے افسردہ دلانِ ہند کے قلب میں زندگی کی حرارت پیدا کرنی چاہی ہے۔ دوسرے حصے میں 75 نغمے یا غزلیں ہیں۔ اور پہلے حصے کی طرح جوش و مستی سے لبریز ہیں ۔ اس کے تیسرے حصے میں گلشن راز جدید جیسی مثنویاں ہے۔ گلشن راز جدید دراصل سید محمود شبستری کی مشہور مثنوی گلشن راز کا جدید طرز میں جواب ہے۔ جس میں اقبال نے نو سوالات قائم کر کے ان کا جواب دیا ہے اور ماورائیات کے بعض اہم مسائل کو علوم جدیدہ کی روشنی میں حل کر کے عملی دنیا پر اس کا اثر ظاہر کیا ہے۔ علامہ اقبال کی طرف سے نو سوالوں کے جوابات فلسفیانہ موشگافیوں سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ہی اس کا چوتھا حصہ ایک مثنوی بندگی نامہ ہے۔ یہ مثنوی نہایت مختصر ہے اور اس میں شاعر مشرق نے غلاموں کے فنون لطیفہ مثلا موسیقی، مصوری اور مذہب پر منظوم بحث کی ہیں۔ اور یہ تجزیہ پیش کیا ہے کہ غلاموں کے فنون لطیفہ میں زندگی کی روح نہیں پائی جاتی۔ بندگی نامہ ایک لحاظ سے غلامی اور محکومیت کے خلاف ایک موثر آواز ہے۔

یہ علامہ اقبال کا پانچواں فارسی شعری مجموعہ ہے جو 1933 ء میں شائع ہوا۔ یہ ان کی پسندیدہ کتاب ہے۔ یہ مجموعہ اٹلی کے مشہور و معروف شاعر دانتے کی کتاب ڈیوائن کامیڈی سے متاثر ہو کر لکھا گیا ہے۔ اس میں سیرافلاک کے ذریعہ اپنا فلسفہ حیات، ملت اسلامیہ کے مسائل اور اپنا نقطہ نظر ڈرامائی انداز میں بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ سیاحت چھ ستاروں پر مشتمل ہے۔ جاوید نامہ کی اشاعت پرسید سلیمان ندوی کے یہ الفاظ کافی اہمیت رکھتے ہیں انہوں نے لکھا ہے کہ اس وقت تک فارسی ادب کی چار کتابوں جس میں شاہنامہ فردوسی، دیوان حافظ مثنوی مولانا روم اور گلستان سعدی کو بقائے دوام حاصل تھی، اب ان کی تعداد پانچ ہوگئی ہے۔ اسی طرح مولانا عبدالسلام ندوی نے جاوید نامہ کے بارے میں کہا ہے کہ اسرار و حقائق معراج محمد یہ پر ایک کتاب لکھنے کا خیال ڈاکٹر صاحب کو ایک مدت سے تھا اور وہ گلشن راز جدید کی طرح علوم حاضرہ کی روشنی میں معراج کی شرح لکھ کر ایک قسم کا معراج نامہ جدید لکھنا چاہتے تھے۔ لیکن اس اثنا میں اٹلی کے مشہور شاعر دانتے کی کتاب ڈیوائن کا میڈی پر بعض نئی اور اہم تنقیدات یورپ میں شائع ہو چکی تھی جس میں اس حقیقت کو پایہ ثبوت تک پہنچایا گیا تھا کہ ڈیوائن کامیڈی کے آسمانی ڈرامہ کا پلاٹ بلکہ اس کے بیشتر تفصیلی مناظر ان واقعات پر مبنی ہیں جو اسلام میں معراج محمد یہ کے متعلق بعض احادیث وروایات میں مذکور ہوئے یا بعد میں بعض مشہور متصوفین وادباء کی کتابوں میں درج ہوئے اس کے علاوہ بعض متصوفین مثلا شیخ محی الدین ابن عربی نے اپنی مشہور کتاب فتوحات مکیہ میں اور بعض ادباء مثلا ابولعلا معری نے رسالہ الغفران میں خود اپنی سیاحت علوی اور مشاہدہ تجلیات کا ذکر کیا ہے ۔ جاوید نامہ کا طالعہ کیا جائے تو اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ علامہ اقبال نے ان تینوں کتابوں کو سامنے رکھ کر جاوید نامہ کا خاکہ تیار کیا ہے۔

اقبال کا یہ چھٹا فارسی مجموعہ 1930 ء میں شائع ہوا۔ اس مجموعہ کے دو حصے ہیں ۔ مسافر دوسرا پس چہ باید کرد اے اقوام مشرق مثنوی مسافر اقبال کے سفر افغانستان کے مشاہدات و تاثرات پر مشتمل ہے۔ اس مجموعہ کے بارے میں ایک دلچسپ واقعہ یہ ہے کہ علامہ اقبال علاج کے لیے بھو پال گئے ہوئے تھے۔ انہوں نے وہاں سرسید احمد خان کو خواب میں دیکھا۔ سرسید نے خواب میں انہیں فرمایا کہ اپنی علالت کا ذکر حضور رسالت تاب سے کیوں نہیں کرتے۔ صبح اٹھتے ہی اقبال نے چند اشعار حضور کی بارگاہ میں پیش کیے اس کے بعد برصغیر اور خارجی ممالک کے سیاسی اور اجتماعی حالات پر اپنے تاثرات بیان کرتے گئے۔

چوں کہ یہ مجموعہ اردو اور فارسی دونوں زبانوں پر مشتمل ہے اس لیے اس کا ذکر او پر آچکا ہے۔

علامہ اقبال نے گرچہ انسانی زندگی کے ہر پہلو کی ترجمانی اپنی تحریر میں کی ہے۔ انہوں نے اردو اور فارسی میں شاعری کے علاوہ نثر میں بھی با قاعدہ بیش بہا سر ما یہ چھوڑا ہے۔ اقبال نے نثر میں باقاعدہ تین کتابیں بھی لکھی ہیں جب کہ ان کی پہلی باقاعدہ نثری تصنیف علم الاقتصاد ہے، جو اردو میں اقتصادیات پر پہلی تصنیف تسلیم کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ مضامین و مقالات بھی تحریر کیے ہیں اور ان کے خطوط کا بھی ایک خاصہ بڑا سرمایہ موجود ہے۔ مجموعی طور پر یہ تمام تحریریں مطالعہ اقبال کے سلسلے میں بنیادی حیثیت کی حامل ہیں۔

ان کی نثر ہزاروں صفحات پر پھیلی ہوئی ہے۔ اس میں بھی وہی سب موجود ہے جو ان کی شاعری میں ہے۔ ان کے افکار و خیالات اور نظریات و تصورات ان کی نثر میں بھی پوری طرح واضح ہوتے ہیں۔ علامہ اقبال کے عہد میں عالم اسلام کئی مسائل سے دوچار ہوا اس کے علاوہ مسلمانان ہند بھی کئی مسائل سے دو چار ہوئے ۔ قومی زندگی میں ابتلاء و آزمائش کے مختلف مراحل آئے ۔ وہ ان تمام واقعات کو مشاہدات کی صورت میں اپنے ذہن ہی میں نہیں بلکہ قلم سے بھی صفحہ قرطاس پر محفوظ کرتے چلے گئے ۔ اس عرصے میں ان کی نثری تحریریں بالالتزام اور کہیں کہیں منتشر حالتوں میں ملاتی ہیں۔ ان تحریروں کو یکجا کیا جائے تو برصغیر کے مسلمانوں کی تاریخ مرتب ہو جاتی ہے، ان کی شاعری اور نثر دونوں کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہیں کہ ان کی نثر میں بھی وہی خلوص گہرائی و گیرائی فکر و خیال کی ہم آہنگی اور استدلال کا وہی زور اور احساس کی وہی دردمندی پائی جاتی ہے، جو ان کے اشعار کا طرہ امتیاز ہے۔ اقبال نے اپنی شاعری سے دلوں کو گرما دیا لیکن اپنی نثر کے ذریعہ انہوں نے قومی مسائل کو ٹھنڈے دل سے اور گہری نظر کے ساتھ سمجھنے اور متانت اور معقولیت کے ساتھ بیان کرنے کی ایک اعلیٰ روایت قائم کی ۔ ہمارے یہاں قومی مسائل سے حقیقت پسندی اور دردمندی کے ساتھ عہدہ برآ ہونے کی روایت کا آغاز سر سید احمد خان اور ان کے رفقا سے ہوتا ہے اس روایت کو جو بلندی اثر و نفوذ علامہ اقبال کے ہاتھوں نصیب ہوا اس کی مثال بر صغیر ہند و پاک میں نہیں ملتی۔

الغرض اقبال کے تمام افکار و نظریات اور ان کی تفصیل اور جزئیات ان کی نثر میں ہی ملتی ہے۔ چوں کہ نثر میں تحلیل و تجزیے کی نسبتا زیادہ گنجائش ہوتی ہے اس لیے اقبال کا مفکرانہ انداز اور تجزیاتی مزاج ان کی نثر میں ہی اپنے آپ کو پوری طرح رونمائی کراتا ہے۔ ان کی نثر شعر کی تفہیم میں بھی معاون ثابت ہوتی ہے اور ان کے افکار و شخصیت کے مخفی گوشوں کو جانچنے اور پر کھنے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔

علامہ اقبال کی نثر میں موضوعات کا جو تنوع ہے، فکر کی جو گہرائی ہے، خیال کی جو بلندی ہے اور اظہار کی جو جمال آفرینی ہے وہ اس کو خاصے کی حیثیت بنا دیتی ہے۔ لہذا اردو ادب کے طلبا کے لیے یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ اقبال کی نثری تصنیفات سے واقفیت حاصل کریں۔ اس لیے ہم ان کے تمام نثری سرمایے کا ایک ایک کر کے مختصر جائزہ لیں گے۔

علامہ اقبال کی پہلی باقاعدہ نثری کاوش علم الاقتصاد ہے۔ جو اردو میں اقتصادیات کی دنیا میں پہلی تصنیف تصور کی جاتی ہے جو 1905ء میں شائع ہوئی۔ اقبال ایم ۔اے کرنے کے بعد 13 مئی کو اورینٹل کالج لاہور میں عربک ریڈر مقرر ہوئے ۔ اس وقت اس کالج میں پروفیسر آرنلڈ پرنسپل تھے۔ علامہ اقبال علم الاقتصاد کے دیباچے میں اس بات کا ذکر کرتے ہیں کہ اس کتاب کے لکھنے کی تحریک مجھے پروفیسر آرنلڈ نے ہی دی ہے۔ ریڈر شپ کے فرائض منصبی میں تاریخ اور اقتصادیات کی تدریس کے علاوہ مختلف علوم وفنون کی بعض کتابوں کی تالیف اور ان کا ترجمہ بھی شامل تھا۔ بی۔ اے اور ایم ۔ اے کے طلبا کو اس کا درس دیا کرتے تھے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ شروع ہی سے اقتصادیات کے موضوع پر اقبال کی گہری نظر تھی۔ انہوں نے اپنی شاعری، خطوط اور مضامین میں معاشی و اقتصادی مسائل کا تذکرہ وقتاً فوقتاً کیا ہے۔ اس کتاب کا انتساب ڈبلیوبل اسکائر ڈائریکٹر محکمہ تعلیم پنجاب کے نام ہے۔ دیباچے میں اقبال نے جن شخصیات کا شکر یہ ادا کیا ہے ان میں سے پروفیسر آرنلڈ ، لالہ جی رام اور علامہ شبلی نعمانی شامل ہیں۔ کتاب کو علامہ شبلی جیسے عالم و فاضل شخص کی سند حاصل ہے۔

علم الاقتصاد پانچ حصوں اور بیس ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے حصے میں علم الاقتصاد کی ماہیت اور اس کے طریقہ تحقیق کی تعریف کی گئی ہے۔ باقی چار حصوں میں معاشیات کے چار بنیادی شعبوں سے تفصیلاً بحث کی گئی ہے۔ اقبال نے ان موضوعات پر نہ صرف افکار و نظریات کو پیش کیا ہے بلکہ ان پر تنقید بھی کی ہے اور اپنی رائے بھی دی ہے۔ یہ کتاب اقبال کے نظریہ اشتراکیت ، مارکسیت اور سوشلزم جیسے تصورات کو سمجھنے کا ایک ذریعہ ہے۔

علامہ اقبال کی تصانیف کے علاوہ متعدد دیگر نثر پارے، دیباچے، تقاریظ ، مضامین یہ تمام نثری سرمایہ بھی ان ۔ کے فن کو سمجھنے میں ممد و معاون ہیں، جس زمانے میں اقبال نے اپنی پہلی تصنیف علم الاقتصاد لکھنے کا آغاز کیا عین اسی زمانے میں ان کا پہلا مضمون بچوں کی تعلیم و تربیت مخزن کے شمارے جنوری 1902 ء میں شائع ہوا۔ اور یہ سلسلہ وقفہ وقفہ کے ساتھ ان کی آخری عمر تک جاری رہا۔ ان تمام مضامین کو تصدق حسین تاج نے مرتب کر کے 1966ء میں مضامین اقبال کے نام سے شائع کرایا۔ اس میں اقبال کے چودہ نثر پارے شامل ہیں ان میں سے نصف انگریزی مضامین کے اردو تراجم اور نصف اردو مضامین ہیں ۔ اس کتاب میں شامل چند مضامین کے عنوانات اس طرح ہیں ۔

علامہ اقبال کو تصوف کے موضوع سے ابتدا ہی سے دلچسپی تھی ۔ ان کے مکاتیب سے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے تقریبا 1916 ء میں تصوف پر ایک مبسوط تاریخ لکھنے کا ارادہ کیا تھا۔

نیاز الدین کو ایک خط میں لکھتے ہیں کہ

”تصوف کی تاریخ لکھ رہا ہوں ۔ دو باب لکھ چکا ہوں یعنی منصور بن حلاج تک پانچ چار باب اور ہوں گے”

1919ء میں اسلم جیراجپوری کے نام خط میں لکھتے ہیں کہ

میں نے ایک تاریخ تصوف کی لکھنی شروع کی تھی مگر افسوس کہ موقع نہ مل سکا اور ایک دو باب لکھ کر رہ گیا۔

اقبال نے 1963 ء میں سید عبد الواحد معینی کے مضامین کو مقالات اقبال کے نام سے مرتب کر کے شائع کیا۔ اس میں مذکورہ بالا مضامین کے علاوہ چند اور مضامین کا اضافہ کیا گیا ہے۔

جو لندن کے رسالے میں شائع ہوئے۔Political thought in Islam

پین الاسلام ازم 1911ء، ایک دلچسپ مکالمہ، اسرار خودی اور تصوف 1916ء، تصوف وجود یہ 1916ء، محفل میلادالنبی، اسلام اور علوم جدید 1911ء،علم ظاہر و باطن 1916ء، اسلام اور تصوف 1917ء، شریعت اسلام میں مرد اور عورت کا رتبہ 1928ء، حکمائے اسلام کے عمیق مطالعے کی دعوت، لسان العصر اکبر کے کلام میں ہیگل کا رنگ، اسلام کا مطالعہ زمانہ حال کی روشنی میں 1923ء

بشیر احمد ڈار نے 1967  میں انوار اقبال کے نام ان کے تقاریظ ، خطوط ، مضامین اور نادر کلام کا یہ نثری مجموعہ مرتب کیا اور اسے اقبال اکادمی نے شائع کیا۔ اس کا پیش لفظ ممتاز حسن نے لکھا ہے ۔ اس مجموعہ نثر میں مضامین اپنی نوعیت کے اعتبار سے خاصے اہم ہیں ۔ یا اقبالیات میں ایک گراں قدر اضافہ کی حیثیت رکھتا ہے۔

سودیشی تحریک اور مسلمان، مذہب اور سیاست کا تعلق، اس کے علاوہ کئی اور مضامین بھی شامل ہیں ۔

ماہرین اقبالیات کے مطابق علامہ اقبال کے مکاتیب کی تعداد ہزاروں پر مشتمل ہے۔ ایسے خطوط کی تعداد زیادہ ہے جن میں اقبال نے اپنی تخلیقی کاوشوں اور اپنے شعری نصب العین پر اظہار خیال کیا ہے۔ علامہ اقبال کے مکتوبات کے ذریعہ ان کے نظریہ فن کے متعلق بیش قیمت مواد فراہم کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح ان کی مربوط فکر بھی ان کے مختلف مکاتیب سے کافی حد تک کھل کر سامنے آتی ہے۔ انہوں نے نظریہ خودی، تصور زمان و مکان، عشق و عقل، تصوف، فقہ اسلامی وغیرہ جیسے موضوعات پر بیشتر مکتوبات، ہم عصر مشاہیر اور اعلام کے نام وقتاً فوقتا رقم کیے ہیں ۔ اقبال کی شاعری اور ان کے افکار و خیالات، نظریات و تصورات کے علاوہ ان کی شخصیت کا جو خاکہ ہمارے ذہنوں میں مرتب ہوتا ہے۔ اس میں ان کے مکتوبات کے مطالعہ سے رنگ بھرے جاسکتے ہیں۔ اقبال نے جن ہم عصر علماء و شعرا کو خطوط لکھے ہیں۔ ان میں سے کچھ مندرجہ ذیل ہیں۔

برصغیر کے معروف عالم دین مولانا سید سلیمان ندوی، مولانا شیخ قادر گرامی، خان نیاز الدین خان، سید نذیر نیازی اور اکبرالہ آبادی۔

اس وقت تک اقبال کے اردو خطوط کے کئی مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں ۔ پروفیسر شیخ عطاء اللہ کا مرتب کردہ اقبال نامہ دو حصوں میں 1944 اور 1951 میں چھپا، مکاتیب اقبال مرتبہ مظفر حسین برنی بزم اقبال لاہور نے شائع کیا مکتو بات اقبال بنام نذیر نیازی اقبال اکادمی کراچی نے 1957 میں شائع کیا شاد ا قبال مرتب کردہ محی الدین قادری زور حیدر آباد دکن سے شائع کیا گیا۔

تشکیل جدید الہیات اسلامیہ  The Reconstruction of Religious Thought in Islam

یہ کتاب علمی دنیا میں ایک شاہکار کی حیثیت رکھتی ہے۔ 1928ء میں مدراس کے ایک علم دوست شخصیت سیٹھ جمال محمد کی دعوت پر علامہ اقبال نے علی گڑھ ، حیدر آباد اور مدراس میں اسلام کے آفاقی نظام پر خطبات دیے تھے۔ یہ کتاب انہی کلیدی خطبات پر مشتمل ہے۔ یہ اصل میں انگریزی زبان میں آکسفورڈ پریس لندن 1934 ء میں شائع ہوئی ۔ سید نذیر نیازی نے علامہ اقبال ہی کے مشورے پر اس کتاب کا ترجمہ تشکیل جدید الہیات اسلامیہ کے نام سے کیا۔ مذکورہ کتاب کے سات خطبات مندرجہ ذیل ہیں۔ جب علامہ اقبال تیسری گول میز کانفرنس میں شرکت کرنے کی غرض سے لندن گئے تو وہاں ارسطاطلين سوسائٹی کی دعوت پر انہوں نے اس کتاب کا ساتواں خطبہ مذہب کی اہمیت وافادیت پر دیا۔

علامہ اقبال نے ان خطبات میں ان تمام جدید اسلامی فکر و مسائل پر بحث کی ہے، جو نہ صرف امت مسلمہ کی تہذیبی و سیاسی ضرورت ہے بلکہ تمام بنی نوع انسانیت کے درپیش مسائل کو حل کرنے کی کوشش بھی ہے۔

ان تمام خطبات کی نوعیت مکمل طور پر علمی اور فلسفیانہ ہے۔ مطالعہ اقبال میں کوئی بھی قاری ان خطبات کی اہمیت کو ہرگز نظر انداز نہیں کر سکتا ہے۔ آج یورپ، امریکہ، روس ، مشرقی وسطی اور بر عظیم ہندو پاک کا شاید ہی کوئی عالم ہو جس نے اسلام ، مذاہب عالم اور جدید مسائل حیات میں گہری اور ریچی دلچسپی کی خاطر ان سات خطبات کا مطالعہ نہ کیا ہو۔ علم اور روحانی تجربات ، روحانی تجربات کا فلسفیانہ معیار، ذات واجب کا تصور اور حقیقت عادت انائے انسانی اور جبر واختیار، تمدن اسلامی کی روحیت ، نظام اسلام میں روح حرکت اور اجتہاد جیسے موضوعات پر سیر حاصل بحث ہوئی ہے اور اقبال اس کتاب میں گویا ایک جدید اسلامی علم کلام کے بانی کی حیثیت سے پیش ہوئے ہیں اور عالم اسلام کے لیے اسلام پر غور وفکر کے دروازے کھول دیے ہیں ۔

اقبال کے پی ایچ۔ ڈی کا مقالہ جو انہوں نے میونخ یونیورسٹی 1908 میں لکھا تھا۔ اس کا اردو ترجمہ میر حسن الدین بی اے ایل ایل بی نے فلسفہ عجم کے نام سے کیا ہے۔ یہ حیدر آباد دکن کی عثمانیہ یونیورسٹی کی طرف سے شائع ہوا تھا اور ایران میں بھی اس کا ایک ترجمہ ہوا ہے۔

یہ اقبال کی اپنی خود کی ڈائری ہے، جو انگریزی زبان میں ہے، جس میں انہوں نے اپنی زندگی کے مختلف تاثرات پیش کیے ہیں ۔ اس ڈائری کے مختلف اردو تراجم بھی منظر عام پر آچکے ہیں ۔ جیسے شذرات فکر اقبال از افتخار احمد صدیقی، بکھرے خیالات از ڈاکٹر عبدالحق ۔ اقبال کے فلسفہ و شعر اور ان کے فکری اسالیب کی تفہیم کے لیے یہ ایک ناگزیر دستاویز ہے۔ اس میں بتیس سال کے نو جوان شاعر کے مختلف النوع فکر پارے موجود ہیں۔ اقبال کی زندگی کے مختلف مشاہدات و تجربات اس ڈائری میں جا بجا ملتے ہیں۔ ابتدائی فکری روایات کو آگے کی طرف رواں دواں بڑھنے کا فکر انگیز ثبوت اس یادداشت میں واضح طور پر موجود ہے۔ اس یادداشت میں اقبال کی نجی زندگی کے خدوخال بھی نمایاں ہوئے ہیں ۔ اس ڈا ڈائری کا ایک خاص موضوع فن شعر اور اس کی غرض وغایت ہے۔ یہ مضمون بوقلمونی ، کثرت آرائی اور تنوع کے اعتبار سے ڈائری کا سب سے زیادہ اہم عنوان ہے۔ اس سے مشرق و مغرب کے فن شعر، نقد و انتقاد اور فن کاروں کے بارے میں اقبال کی گہری تنقیدی بصیرت کا اندازہ ہوتا ہے۔ شاعری اور منطقی صداقت ، زندگی بہ حیثیت تنقید شاعری، علم کی مقبولیت ، عرب شاعری ، شاعر اور روح عالم ، شاعری اور سیاست دان ، ماہر نفسیات اور شاعر ، شاعر بہ حیثیت انسان ، فلسفہ اور شاعری کا اثر فن ہی غیر محدود ہے، ادبی تنقید ، وغیرہ موضوعات کی کثرت سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ فن کاروں میں رومی ، بیدل ، ولیم ورڈس ورتھ ، حافظ ، گوئٹے ، ہائے ، شیکسپئر ملٹن ، اوسکر وائلڈ ، ہور لیس، مانٹین ، غالب اور آزاد کے فنی حسن اور فکری رجحانات کا تجزیہ ملتا ہے۔ یہ ڈائری فن کے موضوع سے شروع ہوتی ہیں۔ اس موضوع سے متعلق اقبال کی پوری گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ فن انسانی تخلیق کا پاکیزہ ذریعہ اظہار ہے، اس کا درجہ مقدس و محترم ہے۔ اس کے اعلیٰ ترین مقاصد ہیں۔ یہ جز و پیغمبری ہے۔ صرف سامان تفریح یا ذریعہ انبساط نہیں۔ یہ زندگی کے گوناگوں حقائق کی ترجمانی اور مقاصد آفرینی سے عبارت ہے۔ اور معاشرہ کی فکری توانائی اس کے جذبہ و احساس اور تہذیبی اقدار کے لطیف ترین تصورات کو جمالیاتی پیکر میں ڈھالنا اس کا دوسرا مقصد ہے۔ فکر اقبال کے سیاق و سباق میں ان بکھرے خیالات کی گوناں گوں اہمیت کے پس منظر میں ہم ان کے فکری ارتقا ، اس دور کے تصورات اور ان کے ماخذ سے بخوبی متعارف ہوتے ہیں۔

This post explores Allama Iqbal’s literary and intellectual contributions, highlighting his Urdu and Persian poetry, philosophical thought, prose works, speeches, and letters. It details his major poetic collections, key ideas like Khudi and national revival, and his enduring impact on literature, philosophy, and Islamic thought.

Scroll to Top