Umrao Jaan Ada Ka Jaiza, امراؤ جان ادا کا جائز

مرزا ہادی رسوا کا ناول ’’امراؤ جان ادا‘‘ 1899ء میں شائع ہوا۔ یہ ناول پچیس ابواب پر مشتمل ہے۔ کہانی کا آغاز ایک مشاعرے سے ہوتا ہے۔ اسی مشاعرے میں پہلی بار ہمیں امراؤ جان ادا نظر آتی ہے۔ ان کا تعارف خود رسوا کے ذریعے ہوتا ہے جو اسی محفل میں موجود ہوتے ہیں۔ رسوا کی درخواست پر امراؤ جان اپنی زندگی کی پوری کہانی سناتی ہے اور ناول آگے بڑھتا ہے۔ آخری باب میں امراؤ جان اپنی گزری زندگی اور دنیا والوں کے رویوں پر لمبی گفتگو کرتی ہے۔ ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ رسوا نے ہر باب کی ابتدا ایک شعر سے کی ہے۔ ناول کا اختتام بھی اسی شعر پر ہوتا ہے:

کہانی اس طرح آگے بڑھتی ہے کہ رسوا کا ایک دوست دہلی سے لکھنؤ آتا ہے۔ وہ ایک مکان کرائے پر لیتا ہے جہاں روزانہ دوست جمع ہو کر شاعری اور مذاق کرتے ہیں۔ اسی مکان کے پاس ایک طوائف رہتی ہے۔ ایک دن محفل لگی ہوتی ہے کہ طوائف پردے کے پیچھے سے رسوا کے شعر کی تعریف کرتی ہے۔ دوست کہتے ہیں کہ وہ سامنے آ کر محفل میں شامل ہو۔ وہ رسوا کو پردے کے پیچھے بلا لیتی ہے اور رسوا اسے فوراً پہچان لیتے ہیں۔ یہ وہی مشہور طوائف امراؤ جان ادا ہوتی ہے جو خود بھی شاعرہ تھی اور ’ادا‘ تخلص کرتی تھی۔ اس کے بعد وہ محفل میں آنے لگتی ہے۔ رسوا کی فرمائش پر وہ اپنی پوری آپ بیتی سناتی ہے۔

امراؤ جان کا اصل نام امیرن تھا اور وہ فیض آباد کے ایک شریف گھرانے میں پیدا ہوئی۔ ان کے والد بہو بیگم صاحبہ کے مقبرے کے نوکر تھے۔ گھر میں وہ، ان کی والدہ اور ایک چھوٹا بھائی رہتے تھے۔ گھر کا خرچ بھی صحیح چلتا تھا۔ ان کے ابا محبت والے اور اصول پرست انسان تھے۔ امیرن اپنی خوشگوار بچپن کی یادیں کچھ اس طرح بیان کرتی ہے

ایک دن ان کے والد نے محلے کے بدمعاش دلاور کے خلاف عدالت میں گواہی دی۔ دلاور جب جیل سے باہر آیا تو بدلہ لینے کا سوچا۔ امیرن کی شادی اپنے چچا زاد سے طے ہوچکی تھی۔ مگر ایک دن دلاور نے کبوتر دینے کا بہانہ بنا کر اسے اغوا کر لیا اور اپنے ساتھی پیر بخش کے ساتھ لکھنؤ لایا۔ وہاں اسے خانم جان نامی مشہور طوائف کے ہاتھ بیچ دیا گیا۔

خانم جان اور بوا حسینی نے اسے ناچ، گانا اور ناز و ادا کے سارے گر سکھایا اور وہی امیرن امراؤ جان ادا بن گئی۔ کوٹھے پر نواب سلطان سے اس کی ملاقات ہوئی اور وہ اس سے محبت کرنے لگی۔ مگر طوائف کی زندگی میں کسی کا تعلق پکا نہیں ہوتا۔ اس کے بعد ڈاکو فیض علی آتا ہے اور امراؤ اس کے ساتھ بھاگ جاتی ہے۔ مگر فیض علی مارا جاتا ہے اور امراؤ جان کانپور پہنچ جاتی ہے جہاں اسے اپنی پرانی ساتھی رام دئی ملتی ہے جو اب نواب سلطان کی بیگم بن چکی تھی۔ پھر خانم کے آدمی اسے واپس لے جاتے ہیں۔
امرؤ جان ادا 1857 ء کی جنگ میں یہ سب دوبارہ بے گھر ہوجاتے ہیں۔ امراؤ اپنے شہر فیض آباد آ جاتی ہے۔ ایک دن اسی محلے میں مجرہ کرنے کے لیے بلایا جاتا ہے۔ یہاں اسے وہی املی کا درخت نظر آتا ہے جہاں وہ کھیلتی تھی۔ ماں اسے پہچان لیتی ہے۔ بھائی غصّے میں اسے قتل کرنا چاہتا تھا مگر پھر وہ یہ کہہ کر چلا جاتا ہے کہ امراؤ اس شہر سے دور چلی جائے۔ وہ لکھنؤ آ کر پھر وہی زندگی گزارتی رہتی ہے۔ ایک نواب محمود علی اسے اپنی بیوی بتا کر مقدمہ کردیتا ہے۔ اکبر علی خان اسے بچا لیتا ہے اور وہ تین سال اس کے گھر رہتی ہے۔ نواب سلطان اور رام دئی سے بھی پھر ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں۔ پھر ایک دن بخشی کے تال پر اسے دلاور خان نظر آتا ہے۔ اسے گرفتار کر کے پھانسی دے دی جاتی ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ امراؤ کی جوانی ڈھل جاتی ہے۔ وہ توبہ کر کے باقی زندگی اللہ کی یاد میں گزارنے کا ارادہ کرتی ہے لیکن اسی دوران رسوا سے ملاقات ہوتی ہے۔ امراؤ ان کی فرمائش پر اپنی پوری زندگی بیان کرتی ہے۔ وہی ان کی آپ بیتی ہے جو آج ہمیں ناول ’’امراؤ جان ادا‘‘ کے نام سے ملتی ہے۔

یہ ناول موضوع کے لحاظ سے ایک معاشرتی اور ثقافتی ناول ہے جو اودھ کے زوال پذیر معاشرے کی ایک اہم پہچان، یعنی طوائف اور اس کے بالا خانے کے ذریعے ایک تہذیب کی کہانی بیان کرتا ہے۔ یہ معاشرہ، اس کی تہذیب اور اسی معاشرے و تہذیب کی پرورش پانے والی ایک طوائف، اُمراؤ جان ادا، ناول کا مرکزی کردار ہے۔ ذیل میں انہی اہم نکات پر بات کی جائے گی۔

امراؤ جان ادا کا موضوع خطہ اودھ کے معاشرتی زوال یا طوائف ہے اس بارے میں ناقدین ادب کی رائے مختلف ہے۔ علی عباس حسینی نے اپنی کتاب ”اردو ناول کی تاریخ اور تنقید” میں اسے ایک طوائف کی کہانی بتایا یعنی ناول کا موضوع ایک طوائف اور اس کی زندگی ہے۔ خورشید الاسلام کے مطابق اس ناول کا موضوع لکھنؤ کا معاشرتی اور تہذیبی زوال ہے۔ اختر انصاری نے بھی اس ناول کا موضوع معاشرتی زوال اور تہذیبی کمی بتایا۔ پروفیسر یوسف سرمست کے مطابق اس ناول کا موضوع لکھنو کے معاشرت میں موجود ایک طوائف ہے۔

دراصل رسوا نے انیسویں صدی کے آخر کے لکھنؤ کے معاشرے اور اس کے تہذیبی زوال کو دکھانے کے لیے طوائف کے کوٹھے کا انتخاب کیا کیونکہ معاشرتی زوال اور تہذیبی کمی کی جو تصویر وہ قاری کو دکھانا چاہتے تھے اس میں طوائف کا کردار مرکزی ہے۔ یہ طوائف کا کوٹھا تھا جہاں معاشرے کے ہر طبقے کے لوگ آتے تھے، اور ہم ان کی فطرت، عادتیں، کام اور معاشرتی رویوں کو آسانی سے دیکھ سکتے تھے۔

اس لیے ناول کا موضوع طوائف بھی ہے اور معاشرتی زوال بھی۔ بقول پروفیسر سید احتشام حسین

مشاہرین ادب کے خیالات کے مطابق ہم کہہ سکتے ہیں کہ ناول اُمراؤ جان ادا کا موضوع طوائف بھی ہے اور معاشرہ بھی۔ دراصل رسوا جس معاشرت کی تصویر اپنے ناول میں پیش کرنا چاہتے تھے وہ اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتی تھی جب تک طوائف کا کوٹھا شامل نہ ہوتا۔ کیونکہ اُس وقت کے تہذیبی منظر میں شاعری اور طوائف کا کوٹھا بہت اہم تھا۔ اس دور کے شاعروں کی شہرت میں ان خوش آواز اور اعلیٰ مزاج والی طوائفوں کا بڑا ہاتھ تھا جو شاعروں کی غزلوں کو اپنی خوبصورت آواز دے کر مشہور کر دیتی تھیں۔ انیسویں صدی کے آخر کے اودھ کا زوال پذیر معاشرہ شاعری اور طوائف کے بغیر مکمل نہیں تھا اور اسی وجہ سے اُس معاشرے کی تصویر کشی میں ان دونوں کا ذکر ضروری ہے۔

امراؤ جان ادا ایک ایسا ناول ہے جس میں ایک مخصوص دور اور ماحول کی جیتی جاگتی تصاویر پیش کی گئی ہیں۔ رسوا کی خوبی یہ ہے کہ وہ فنکارانہ مہارت کے ساتھ انیسویں صدی کے آخر کے اودھ کی تہذیب، سیاسی حالات، اخلاقی زوال، طاقت اور سماجی مشکلات کو دکھاتے ہیں۔ رسوا کے دور کا لکھنو تمام تہذیبی حوالوں کے ساتھ قاری کے سامنے آجاتا ہے۔

ناول کے شروع میں رسوا نے مشاعرے کی ایک محفل کی تصویر کشی کی ہے

مشاعرہ ہماری تہذیبی روایت کا ایک اہم حصہ ہے۔ آج مشاعروں کا مزاج اور معیار وہ نہیں جو رسوا کے دور میں ہوا کرتا تھا۔

چونکہ امراؤ جان ادا کی مرکزی کردار یعنی امیرن یا امراؤ جان خود ایک اچھی شاعرہ ہے اس لیے اس مشاعرے کا ایک مناسب جواز بھی ہے۔ لکھنوی تہذیب میں طوائف اور اس کا کوٹھا بہت اہمیت رکھتے تھے۔ یہ وہ دور تھا جب عام شرفاء عورتوں کو پڑھنے لکھنے سے دور رکھتے تھے لیکن طوائفوں کو شعر و ادب، رقص اور موسیقی کی بہترین تعلیم اُس دور کے ماہر اساتذہ سے دی جاتی تھی۔ انہیں محفل میں آداب اور شعر و ادب میں مکمل مہارت دی جاتی تھی۔ امراؤ و رؤسا کے بچے بھی طوائفوں کے پاس تہذیب اور محفل کے آداب سیکھنے بھیجے جاتے تھے۔ نو وارد کے آنے پر کس طرح استقبال کرنا چاہیے، پان اور الائیچی کیسے پیش کیے جائیں ان کی فرمائشوں پر رد و قبول کا رویہ کیسا ہونا چاہیے اور آنے والوں سے اپنی ضرورت یا پسند کی چیزیں کیسے مانگیں یہ سب تربیت نو خیز طوائفوں کو تجربہ کار طوائفیں دیتی تھیں۔ موسیقی اور راگ رنگ اس تہذیب کا لازمی حصہ تھے۔ تقریباً سبھی کو نغمہ سرائی اور موسیقی کے باریک فن سے واقفیت ہوتی تھی۔

مندرجہ بالا اقتباس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اُس وقت کی طوائفوں کے لیے ضروری تھا کہ وہ موسیقی میں ماہر ہوں۔ خانم جس طرح استاد کو سنبھالتی ہے اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مشاعرے میں آنے والے لوگ صرف وقت گزارنے نہیں آتے تھے بلکہ طوائفوں کی گلوکاری سے لطف اٹھاتے تھے اور زیادہ تر فن موسیقی کی گہری سمجھ بھی رکھتے تھے۔

کسی بھی تہذیب کا اپنا رہن سہن اور طرز زندگی ہوتا ہے جو وقت کے ساتھ بدلتا رہتا ہے۔ تقریباً ڈیڑھ سو سال پہلے کے طریقہ رہائش، خاص طور پر طوائف کے کوٹھے کا منظر رسوا نے بہت خوبصورتی اور تفصیل کے ساتھ اپنے ناول میں پیش کیا ہے۔

طرز زندگی کے ساتھ لباس اور آرائش کا تعلق بھی تہذیب سے بہت گہرا ہوتا ہے اور معاشرے میں وقت کے ساتھ اس میں تبدیلی آتی رہتی ہے۔ انیسویں صدی کے آخر کے لکھنؤ میں خواتین کے لباس اور آرائش کی تفصیلات مرزا رسوا نے اپنے ناول میں خوبصورت طریقے سے پیش کی ہیں۔

امراؤ جان ادا کی زبانی نواب سلطان بیگم کی تصویر

مندرجہ بالا مثالوں سے یہ کہنا درست ہوگا کہ امراؤ جان ادا ایک تہذیبی ناول ہے۔ یہ ناول جس تہذیب کی جیتی جاگتی تصویر ہے، اسے مرزا محمد ہادی رسوا نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ ناول کے تمام کردار فرضی ہیں لیکن اُس وقت کے اودھ کے زوال پذیر معاشرے میں رسوا کو اپنے ارد گرد یہی مناظر نظر آئے ہوں گے۔ پریم چند نے کہا تھا: “تاریخ میں سب کچھ جھوٹ ہوتا ہے سوائے ناموں کے اور افسانے میں سب کچھ صحیح ہوتا ہے سوائے ناموں کے۔” اس لیے ناول کے تمام کردار مخصوص معاشرے اور تہذیب کے لحاظ سے سچے ہیں اور ان کے نام ناول میں مختلف ہو سکتے ہیں، لیکن وہ وقت کے معاشرے میں موجود تھے اور رسوا نے انہیں ایک ادبی شاہکار کا حصہ بنا دیا۔

امراؤ جان ادا میں موجود رومانی عناصر دیکھیں تو ہمیں اس میں محبت کی جھلک ضرور ملتی ہے لیکن سچی اور کامل محبت کہیں نظر نہیں آتی۔ عشق و محبت کا وہ تصور جس میں عاشق اور معشوق ایک دوسرے کے لیے جان تک دینے میں ہچکچاتے نہیں اس ناول میں نہیں ملتا۔ پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ وہ دور خود غرضی اور ناپسندیدہ تھا۔ اس معاشرے میں ہر شخص اپنی ذاتی غرض کا غلام تھا۔

طوائفیں تو اپنی حیثیت میں دولت کی خواہاں ہوتی تھیں لیکن نواب اور امراء بھی کم نہیں تھے۔ خلوص دونوں طرف نہیں تھا وہ معاشرہ ہی ایسا تھا جہاں اخلاقی قدریں زوال پذیر تھیں۔ ایسی صورت حال میں لیلیٰ مجنوں جیسی محبت کا تصور بھی ممکن نہیں تھا۔ خود اُمراؤ جان کے الفاظ میں

ناول میں اُمراؤ جان کو پہلی بار جس مرد سے دل چسپی پیدا ہوتی ہے وہ گوہر مرزا ہے جو کسی ڈومنی کا بیٹا تھا اور خانم کے کوٹھے پر رہتا تھا۔ اُس کی شکل و صورت اچھی تھی اور اُمراؤ جان اسے پسند بھی کرتی تھی۔ یہ امراؤ جان کے بچپن کی محبت کہی جا سکتی ہے۔ گوہر مرزا کے لیے امراؤ جان کے جذبات مرزا رسوا کے الفاظ میں

کوٹھے پر آنے والے دوسرے مردوں میں اُمراؤ جان کو جس شخص سے تعلق پیدا ہوتا ہے وہ نواب سلطان تھا۔ یہ وہی نواب سلطان ہیں جن کے ساتھ اُمراؤ کے کوٹھے پر پہلے دن ایک قتل ہوتا ہے اور پھر وہ دوبارہ اُس کوٹھے پر نہیں آتے لیکن اُمراؤ جان سے ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں۔ یہ پہلا موقع تھا جب اُمراؤ جان واقعی کسی مرد کے لیے پسندیدگی اور محبت کے جذبات محسوس کرتی ہے۔

نواب سلطان سے تعلق کا سبب ان کی مردانہ خوبی کے علاوہ دونوں کا ہم مزاج ہونا بھی تھا۔ اُمراؤ جان مرزا رسوا کو بتاتی ہے

امراؤ جان اور نواب سلطان کی محبت زیادہ ترقی نہیں کر سکی۔ ان کی دوبارہ ملاقات اُس وقت ہوتی ہے جب اُمراؤ جان فیض علی ڈاکو کے ساتھ دربدر ہونے کے بعد کسی نواب کی بیگم کے مجرے پر پہنچتی ہیں، جہاں ملاقات اسی شخص سے ہوتی ہے جو پہلے بھی اغوا ہوا تھا اور وہی نواب سلطان تھے جن کا ذکر پہلے آچکا ہے۔

امراؤ جان فیض علی کے ساتھ نکل پڑتی ہے لیکن اس کا یہ سفر ناکام ہوتا ہے۔ فیض علی کو راجہ کے سپاہیوں نے گرفتار کر لیا اور اُمراؤ جان کو پتا چلتا ہے کہ وہ ایک مشہور ڈاکو تھا۔ اس طرح اُمراؤ جان کا گھر بسانے کا خواب پورا نہیں ہوا۔

گوہر مرزا نواب سلطان اور فیض علی ڈاکو تینوں میں اُمراؤ جان کسی نہ کسی مرحلے میں دلچسپی لیتی ہے لیکن اسے کسی سچی محبت کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ ایک ایسی محبت جو دونوں کو بے قرار رکھے اس معاشرے میں ایک طوائف اور اس کے چاہنے والوں کے درمیان ممکن نہیں تھی۔ وہ معاشرہ طوائف کے کوٹھے پر آ کر تہذیب سیکھنے کو برا نہیں سمجھتا لیکن کسی طوائف کو گھر کی زینت بنا کر مہذب زندگی نہیں دے سکتا تھا۔

مذکورہ تمام واقعات کے باوجود اُمراؤ جان ادا کو رومانی ناول نہیں کہا جا سکتا کیونکہ رومان یا محبت قصے کا مرکزی موضوع نہیں ہے۔ سچی محبت، ایثار اور قربانی کے جذبات اس ناول کا حصہ نہیں ہیں۔ یہ ناول جاگیردارانہ طبقے کے اخلاقی زوال اور کچھ مثبت یا منفی اقدار کی داستان ہے جو رسوا کے قلم سے ہم تک پہنچی ہے۔ امراؤ جان ادا اصل میں ایک تہذیب کی کہانی ہے جو ایک طوائف کی زبانی رسوا نے ہمیں سنائی ہے۔

This post provides a detailed introduction and critical analysis of Mirza Hadi Ruswa’s novel Umrao Jaan Ada (1899). It covers the novel’s plot, characters, and themes, highlighting the life of the courtesan Umrao Jan, her experiences in 19th-century Lucknow, and her interactions with key figures like Nawab Sultan and Faiz Ali. The post also examines the novel as a cultural and social document, showing the decline of Lucknow’s society and the intricate customs, music, and poetry of the courtesan world, while distinguishing its narrative from a typical romantic story.

Scroll to Top