Bale Jibreel, Allama Iqbal, Gesu-e-Tabdar Ko Aur Bhi Tabdar Kar Ghazal Ki Tashreeh بالِ جبریل ، علامہ اقبال، گیسوئے تابدار کو اور بھی تابدار کر غزل کی تشریح

یہاں شاعر محبوبِ تجلی الٰہی جلوہ یا روحانی محبوب سے کہتا ہے کہ اپنی شان و جلوہ کو اور بڑھا دے تاکہ انسان کا دل اور عقل دونوں اسی جمال کے عشق میں گرفتار ہو جائیں۔ گیسو بال کی تابانی حسنِ جمال کی علامت بن گئی ہے۔ علامہ قبال چاہتے ہیں کہ وہ حسن ایسا ہو کہ انسان کی سمجھ ہوش و خرد اور اس کی آنکھ و دل دونوں اس کے سحر میں آ جائیں۔ ظاہری سطح پر یہ التجا ہے کہ محبوب کا جلوہ بڑھا دومگر باطنی معنی یہ ہیں کہ انسان کی شعور اور احساس کو ایسا رخ دے کہ عقل اور دل ایک ساتھ خدا کی طرف کھچ جائیں عقل کے ذریعے بھی الہیٰ حقیقت کا ادراک ہو اور دل کے ذریعے محبت کا جذبہ پیدا ہو۔ اقبال کے فلسفۂ خودی میں عقل اور عشق دونوں ضروری ہیں یہاں وہ چاہتے ہیں کہ خدا کی جلوہ گری اتنی ہو کہ انسان دونوں کو یکجا کر لے اور نتیجتاً اندرونی بیداری آئے۔

یہ شعر دو طرح کے پردے عشق کا پردہ اور حسنِ الٰہی کا پردہ کی بات کرتا ہے۔ اقبال فرماتے ہیں کہ یا تو عشق اندرونی شوقِ وصل پردے میں ہے یا اللہ کا جلوہ پردے میں ہے دونوں کے پردے ہٹنے چاہئیں۔ اگر خدا کی نعمتیں پردے میں ہیں تو وہ خود ظاہر ہو جائے اور اگر انسان کا دل پردہ میں ہے تو اس دل کو اس حالت سے نکال دے کہ وہ خدا کو دیکھ سکے۔ یہ دعا محض نظارہ نہیں بلکہ تجدیدِ باطن کی خواہش ہے عشق کو ایسا کر دو کہ وہ حائل پردوں کو پھاڑ دے یا محبوب خود اتنا روشن ہو کہ ہر پردہ بے معنی ہو جائے۔ یہاں “حجاب” کا معنی نفسِ امّارہ، دنیاوی تعلقات یا علمی و جذباتی رکاوٹیں بھی ہوسکتی ہے اقبال وہی پیغام دے رہے ہیں یا تو ذاتِ حق خود ظاہر ہو یا مجھے ایسی روحانی طاقت دے کہ میں خود اس کی باریکیاں دیکھ سکوں۔

اس شعر میں اللہ کو بے کنار، لامتناہی سمندر کہا گیا ہے اور انسان کو ایک چھوٹی سی ندی یا قطرہ محسوس کیا گیا ہے۔ شاعر کی التجا دو راستوں میں ہے یا مجھے اپنے کنارے کے برابر کر دے یعنی مجھے اپنی صفات، اپنی وسعت فراہم کر دے تاکہ میں تیرے قریب “ہمکنار” بن جاؤں یا مجھے مکمل طور پردیگر بنا دے یعنی اتنا فنا کر دے کہ میری منفرد محدودیت ہی ختم ہو جائے اور میں تیرے اندر گم ہو جاؤں بے کنار ہو جاؤں۔ اس میں خودی کا ایک لطیف مقام ہے انسان چاہتا ہے کہ یا اپنی چھوٹی خودی کو مضبوط بنا دے یا اسے ایسی وحدتِ وجود میں لے جا دے جہاں اس کا وجود تمثیلی طور پر خدا کے اندر جذب ہو۔ عملی معنی انسان اپنی حدود کو پہچانے اور یا تو انھیں بڑھانے کی کوشش کرے یا اپنی انا کو خدا کے حضور قربان کر دے تاکہ حقیقی بقا نصیب ہو۔

یہاں صدف oyster اور گوہر پَرل کا استعارہ استعمال ہوا ہے۔ اقبال انسان کو صدف کہتا ہے جس کے اندر ممکنہ طور پر قیمتی موتی ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ اگر میری ہستی ایک محافظ صدف ہے تو میری عزت اور موتی کی قدر تیرے ہاتھ میں ہے اور اگر میں بے قیمت کنکر ہوں خذف تو تجھے اپنی قدرت دکھانی ہے کہ تُو مجھے قیمتی گوہر میں بدل دے۔ یہ کلام عاجزی کے ساتھ ساتھ اُمّیدی بھی ہے انسان اپنی قدر خود نہیں بنا سکتا اس کی قدر خدا کی توجہ اور فیض سے بنتی ہے۔ فلسفیانہ طور پر یہ خیال اقبال کی خودی سے مختلف مگر مربوط ہے خودی کو مضبوطی چاہیے مگر اس مضبوطی کا سرچشمہ الہی فضل سے منسلک ہونا چاہیے انسان اپنی بہترین صورت اُس وقت پاتا ہے جب خدا اس میں فروعی خوبیوں کو نکھار دے۔

اس مصرع میں شاعر کہتا ہے کہ اگر میری قسمت میں بہار کا پورا نغمہ، مکمل خوشی، یا کامیابی نہ بھی لکھی ہو تو بھی میرے اندر جو جزوی سوز ہے، جو نیم جلتی امید ہے، اسے ایسی صورت دے کہ وہ بہار کی خوشخبری سنانے والا چھوٹا پرندہ بن جائے۔ مطلب یہ کہ اگر مجھے عظیم کامیابی نصیب نہ ہو تو میری ذرا سی لگن، ذرا سی حیاتِ دل دوسروں کے لیے روشنی یا تسکین بن جائے۔ اقبال یہاں فرد کی نسبت سے اجتماعی اثر کی بات کرتے ہیں ایک چھوٹی سی تحریک بھی معاشرے میں بہار لا سکتی ہے۔ اخلاقی طور پر یہ انسائٹ دیتی ہے کہ انسان کو نتائج کے دباؤ کے بغیر اپنی چھوٹی کوششوں کو معنی خیز بنانا چاہیے سوزِ دل کو عمل میں بدل کر دوسروں کی امید بننا اقبال کی عملی تلقین ہے۔

یہاں اقبال آدمی کی کائناتی رہنمائی اور مشن پر غور کرتا ہے۔ “باغِ بہشت سے حکم سفر” واضح طور پر آدم کی زمین آوری کا حوالہ ہے انسان کو جنت سے زمین پر بھیجا گیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ کیوں بھیجا گیا؟ جواب یہ ہے کہ یہ سفر ابھی مکمل نہیں ہوا دنیا کی کار کام بہت لمبی ہے انسان کو ابھی اپنا حصہ نبھانا ہے اس لیے اسے واپس لینے یا آرام دینے کا وقت نہیں آیا یا شاعر خدا سے کہہ رہا ہے کہ میرا سفر ابھی جاری ہے مجھے انتظار کر۔ یہ مصرع انسان کے تاریخی و اخلاقی مشن کو اجاگر کرتا ہے انسان یہاں آزمائش، عمل اور ترقی کے لیے ہے اور واپسی کا وقت تب تک نہیں جب تک کام مکمل نہ ہو۔ اقبال کا یہ خیال ہے کہ انسان کا میدانِ عمل وسیع ہے اور وہ تربیت و کوشش کے ذریعے ترقی پا سکتا ہے۔

آخری شعر میں شاعر قیامت کے منظر کی طرف آتا ہے جہاں ہر انسان اپنے اعمال کے حساب کے لیے پیش ہوگا۔ اقبال عاجزی کے ساتھ دعا کرتا ہے کہ جب میری کتابِ اعمال کھلی جائے تو اگر میں شرمندہ نظر آؤں تو آپ بھی شرم محسوس کریں یعنی خدا کی جانب سے پردہ پوشی اور کرم ہو۔ یہ نکتہ اقبال کی اخلاقی نفیسیات کا بھی اظہار ہے آدمی اپنی کمزوری تسلیم کرتا ہے اپنے اعمال کا حساب مانگتا ہے مگر ساتھ ہی خدائی رحمت کا محتاج بھی رہتا ہے۔ اس میں ایک گہرا صوفیانہ پہلو ہے بندہ چاہتا ہے کہ اس کے ہاتھ کچھ ایسی نیکی ہو کہ خدا بھی فخر محسوس کرے یا کم از کم اس کی نیت اور جستجو کو دیکھ کر خدا پردہ پوشی کرے۔ نتیجہ یہ کہ آخرت کی فکر انسان کو عمل کی طرف متوجہ کرے مگر وہ خوفِ خدا کے ساتھ امیدِ رحمت بھی رکھے۔

مجموعی طور پر یہ غزل اقبال کی ایک نرم مگر پُرجوش التجا ہے۔ ہر شعر میں وہ بندے کی عاجزی، خدا کی عظمت اور انسان کے اندرونی شوق و کوشش کے درمیان توازن دکھاتے ہیں۔ الفاظ سادہ مگر معنوی سطح بلند ہیں جمال اور جلوہ کی خواہش، پردوں کا ہٹانا، انسان کی محدودیت بمقابلہ الٰہی لامتناہی، انسان کو قیمتی بنانا، چھوٹی کوششوں کا وسیع اثر، زندگی کا مشن اور آخرت میں کرم کی امید یہ سب مل کر ایک مکمل روحانی مناجات بناتے ہیں۔ اقبال یہاں نہ صرف فرد کی ذاتی دعا کہتا ہے بلکہ ہر انسان کو سکھاتا ہے کہ اپنی عاجزانہ حالت تسلیم کرو، خدا کی طرف رجوع کرو، اپنے اندر کی چنگاری کو زندہ رکھو اور اپنے عمل کے ذریعے دنیا میں بہار لانے کی کوشش کرو۔

This post explains Allama Iqbal’s Bal-e-Jibreel ghazal Gesu-e-Tabdar Ko Aur Bhi Tabdar Kar, exploring themes of divine love, spiritual awakening, self-realization, and the human journey toward inner growth and higher purpose.

Scroll to Top