بالِ جبریل، علامہ اقبال
پانچوی غزل
کیا عشق ایک زندگئ مستعار کا
کیا عشق پائیدار سے ناپائیدار کا
وہ عشق جس کی شمع بجھا دے اجل کی پھونک
اس میں مزہ نہیں تپش و انتظار کا
میری بساط کیا ہے تب و تاب یک نفس
شعلہ سے بے محل ہے الجھنا شرار کا
کر پہلے مجھ کو زندگیٔ جاوداں عطا
پھر ذوق و شوق دیکھ دل بے قرار کا
کانٹا وہ دے کہ جس کی کھٹک لا زوال ہو
یارب وہ درد جس کی کسک لا زوال ہو
تشریحِ غزل
کیا عشق ایک زندگیٔ مستعار کا
کیا عشق پائیدار سے ناپائیدار کا
تشریح
یہ شعر بنیادی سوال کھڑا کرتا ہے وہ عشق جو صرف عارضی، وقتی زندگی کے لیے ہو کیا وہ واقعی عشق کہلا سکتا ہے؟ اقبال یہاں زندگی کو “مستعار” کہتے ہیں یعنی عارضی، ادھوری، وقتی۔ انسان کا وجود مادی طور پر فانی ہے جسم ختم ہوگا، تانے بانے ٹوٹ جائیں گے۔ اگر عشق کا دائرہ صرف اسی فانی تن تک محدود رہے تو وہ عشق بلاشبہ ناپائیدار ہوگا۔ اقبال کا معیار یہ ہے کہ عشق کی حقیقت اُس وقت سامنے آتی ہے جب وہ انسان کو جاودانگی کی طرف کھینچےیعنی عشق ایسی قوت بنے جو موت کی قید توڑے، نفس کو اشتیاقِ باطنی دے اور انسان کو اپنے اندر بلند قدم اٹھانے کی تحریک دے۔ اس میں اقبالی مفہومِ خودی نظر آتا ہے خودی کو زندہ کرنے والا عشق وہی ہے جو شخص کو محض جسمانی تسکین سے اوپر اٹھا کر ذاتی اور اخلاقی کمال کی تلاش میں لگا دے۔ نتیجہ یہ کہ اگر آپ کا پیار صرف وقتی لذت، مفاد یا جسمانی ضرورتوں تک محدود ہے تو اقبال ان کو عشق نہیں مانتے عشق وہ ہے جو انسان کو بیدار کرے، بدل دے اور ابدی اقدار کی طرف لے جائے۔
وہ عشق جس کی شمع بجھا دے اجل کی پھونک
اس میں مزہ نہیں تپش و انتظار کا
تشریح
یہاں اقبال شمع اور پھونک کے نازک استعارے سے بتاتے ہیں کہ جو عشق موت کی ایک پھونک سے بجھ جائے وہ عشق محض خفیف ومؤقت جذبات ہے۔ عشق کا حسن تپش، بے چینی، انتظار اور قربانی میں ہے یہی وہ “سوز” ہے جو عاشق کو مضبوط بناتا ہے۔ اقبالی نقطہ یہ ہے کہ عشق کا تجربہ تبھی مکمل ہوتا ہے جب وہ موت و فنا کی تلخیوں سے عبور کرکے بقا بخشے۔ اگر محبت ایسی ہو کہ ایک سانس میں وہ ختم ہوجائے تو وہ زندگی کو گہرا رنگ نہیں دیتی۔ صوفیانہ تناظر میں بھی بزرگوں نے بتایا ہے کہ عشقِ حقیقی میں فنا و بقا کا عملی تجربہ ہوتا ہے عاشق اپنی ذات کو کسی عظیم ہدف کے لیے قربان کرنے کو تیار ہوتا ہے۔ اس مصرعے میں عملی پیغام یہ ہے کہ عشق کو آزمائش، صبر اور مسلسل انتظار کا درجہ دینا چاہیے وہی عشق قائم رہتا ہے جو مصائب میں بھی استقامت دکھائے۔ اقبال کا یہ ماننا ہے کہ جو محبت آپ کو خوفِ موت یا مشکلات کے سامنے گھٹا دے وہ آپ کی خودی کو کمزور کرتی ہے اصل عشق آپ کی خودی کو قوت بخشتا ہے۔
میری بساط کیا ہے تب و تاب یک نفس
شعلہ سے بے محل ہے الجھنا شرار کا
تشریح
اس شعر میں شاعر اپنی حقارت یا عاجزی کا اظہار کرتا ہے۔ “بساطِ من” یعنی میرے پاس کیا ہے؟ صرف ایک عارضی، تیز تپش والا لمحہ تب و تابِ یک نفس۔ وہ کہتا ہے کہ میں چھوٹی چنگاری ہوں اور شعلہ (جو بڑا، جاری اور مستقل جلنے والا ہے) سے میرا مقابلہ نہیں۔ اس کے اندر دو تہیں ہیں ایک اعترافِ مداخلتِ فانی وجود کا انسان کی محدود طاقت کا اقرار دوسرا اِصرارِ عشق باوجود کمزوری کے بھی دل کی تابجویی اور جستجو برقرار رکھنا۔ اقبالی تناظر میں یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ خودی کی نشوونما ایک لمبے عمل کا تقاضا کرتی ہے مگر شاعر بتاتا ہے کہ وہ ابھی اسی ابتدائی تمنا میں ہے جو شعلہ (حقیقی بلند ہدف، بقا) کے سامنے کمزور ہے۔ عملی نقطہ یہ ہے کہ اپنی کمزوری کو جان کر بھی جو مستقل کوشش جاری رکھے وہی ترقی کی راہ پر ہے۔ اقبال کی تعلیم یہی ہے خودی کا آغاز چھوٹی چنگاری سے ہوتا ہے مگر ہمیشہ اُس چنگاری کو پھیلانے کی لگن لازم ہے شعلہ کے ساتھ جنگ نہیں، شعلہ کی سمت میں بڑھنا چاہیے۔
کر پہلے مجھ کو زندگیٔ جاوداں عطا
پھر ذوق و شوق دیکھ دل بے قرار کا
تشریح
یہ مصرع دعا کی صورت ہے “پہلے مجھے وہ زندگی عطا فرما جو فنا نہ کھائے پھر دیکھ کہ میرا دل تیرے عشق میں کتنا بے قرار ہو جائے گا”۔ اقبال واضح کرتے ہیں کہ عشق کی مکمل کیفیت تبھی ظاہر ہوسکتی ہے جب انسان کو اندرونی بقا (روحانی زندگی) مل جائے یعنی ایسا ایمان، علم اور ایسی داخلی بصیرت جو موت کے خوف سے آزاد کرے۔ “زندگیٔ جاوداں” کا مفہوم محض جسمانی امراض کے خلاف نیست بلکہ ایک ایسی بیداری ہے جو ہمارے اعمال، فیصلوں اور محبتوں کو دائمی بنا دے۔ جب بندہ موت کی بندش سے آزاد ہو کر عشق میں پڑتا ہے تو اُس کا شوق بے حد حرارت سے جل پڑتا ہے اور وہ کامل عمل کرنے کو تیار ہو جاتا ہے۔ اقبالی فلسفہ یہاں واضح ہے پہلے خودی کو مضبوط کرو پھر عشق کی شدت اپنے وجود کو نئی شکل دے گی۔ عملی نصیحت یہ کہ عقل و تربیت کے ساتھ عشق کو جِلا دو صرف جزباتی ولولہ کافی نہیں بقا کی توسیع کے لیے علمی، اخلاقی اور عملی معیار بھی لازم ہیں۔
کانٹا وہ دے کہ جس کی کھٹک لا زوال ہو
یارب وہ درد جس کی کسک لا زوال ہو
تشریح
یہ شعر اقبال کی دعا کا بلند ترین اور منفرد اظہار ہے۔ وہ دعا کرتا ہے کہ اے رب مجھے ایسا “کانٹا” دے یعنی ایسا مستقل تکلیف یا چبھن دینے والا عنصر جو ہمیشہ رہنمائی کرے اور وہ “درد” بھی دے جس کی حسرت کسک یا کسکِ دل کبھی ختم نہ ہو۔ یہ درد محض تکلیف نہیں یہ وہ روحانی چبھن ہے جو بندے کو سستی میں مبتلا نہیں ہونے دیتی جو اسے مسلسل جدوجہد، اصلاح اور کوشش میں رکھتی ہے۔ اقبال یہاں انہی صوفیانہ اور اخلاقی تصورات کو ملا کر پیش کرتے ہیں کامل عشق وہ ہے جو انسان کو سکونِ قلب سے محروم رکھے تاکہ وہ سچائی کی تلاش میں عمل کرتا رہے۔ “لا زوال” کا تقاضا یہ ہے کہ یہ کیفیت عارضی نہ ہو نہ تھم جائے بلکہ ایک دائمی محرک بن جائے۔ فلسفیانہ طور پر یہ خودی کی مستقل پختگی کا عین مظہر ہے جب درد اور کانٹا بندے کو حرکت میں رکھیں اور وہ اپنی ذات کو ہر لمحہ بہتر بنانے کی کوشش کرے۔ عملی نتیجہ یہ ہے کہ انسان کو سستی یا رنجش میں سکون پانے کے بجائے ایسے اندرونی محرکات چاہیے جو اسے مستقل عمل پر آمادہ کریں تاکہ اس کی زندگی کا مقصد برقرار رہے اور وہ جاودان حقیقتوں کی جانب بڑھے۔
مجموعی مفہوم
یہ غزل اقبال کے عشقِ حقیقی کے نظریے کا مکمل خاکہ پیش کرتی ہے عشق وہ نہیں جو وقتی لذت دے یا موت سے ختم ہو، بلکہ وہ عشق جو انسان کو فنا کی قید سے آزاد کرے، جو خودی کو مضبوط کرے، جو چنگاری کو شعلہ میں بدلنے کی خواہش دے، اور آخر کار وہ مستقل درد و چبھن جو انسان کو ہر روز بہتر بنانے پر مجبور کرے۔ اقبال عشق کو محض جذبات کا کھیل نہیں مانتے وہ اسے ایک تسلسلِ عمل، تربیت اور خودی کی تعمیر کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔
A detailed explanation of Allama Iqbal’s ghazal ‘Kya Ishq Ek Zindagi-e-Mustaar Ka,’ discussing true love, permanence, selfhood, spiritual struggle, and eternal human purpose.