بالِ جبریل، علامہ اقبال
ساتویں غزل
دگر گوں ہے جہاں تاروں کی گردش تیز ہے ساقی
دل ہر ذرہ میں غوغائے رستاخیز ہے ساقی
متاع دین و دانش لٹ گئی اللہ والوں کی
یہ کس کافر ادا کا غمزۂ خوں ریز ہے ساقی
وہی دیرینہ بیماری وہی نامحکمی دل کی
علاج اس کا وہی آب نشاط انگیز ہے ساقی
حرم کے دل میں سوز آرزو پیدا نہیں ہوتا
کہ پیدائی تری اب تک حجاب آمیز ہے ساقی
نہ اٹھا پھر کوئی رومیؔ عجم کے لالہ زاروں سے
وہی آب و گل ایراں وہی تبریز ہے ساقی
نہیں ہے ناامید اقبالؔ اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
فقیر راہ کو بخشے گئے اسرار سلطانی
بہا میری نوا کی دولت پرویز ہے ساقی
تشریحِ غزل
دگر گوں ہے جہاں تاروں کی گردش تیز ہے ساقی
دل ہر ذرہ میں غوغائے رستاخیز ہے ساقی
تشریح
یہ شعر اقبال کی فلسفیانہ بصیرت اور کائنات کے بارے میں ان کے تصور کا آغاز ہے۔ “تاروں کی گردش تیز” کے ذریعے وہ دنیا اور کائنات کی مسلسل حرکت، وقت کی روانی اور حالات کی تبدیلی کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ اس کا مطلب صرف فلک کی رفتار نہیں بلکہ دنیاوی نظام میں ہر لمحہ ہونے والی تبدیلیاں، انسانی زندگی پر اثر ڈالنے والی قوتیں اور معاشرتی حالات کی تیزی بھی ہیں۔
دوسرا مصرعہ “دل ہر ذرہ میں غوغائے رستاخیز” انسان کی اندرونی بیداری کو اجاگر کرتا ہے۔ اقبال کے نزدیک انسان کے دل و دماغ میں ہر ذرے میں ایک چھپی ہوئی طاقت موجود ہے، جو تبدیلی، خودی کی بیداری اور اصلاح کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ “غوغائے رستاخیز” اس بات کا اظہار ہے کہ ہر ذرے میں ایک چھپی ہوئی انقلابی توانائی ہے جو انسان کو سستی، مادی لذتوں اور جمود سے باہر نکال سکتی ہے۔
ساقی کا لفظ یہاں محض مادی ساقی کے طور پر نہیں بلکہ روحانی رہنما، اللہ یا معرفت کے ذریعہ دل کی بیداری پیدا کرنے والے کے لیے استعمال ہوا ہے۔ فلسفہ یہ ہے کہ حقیقی انقلاب یا ترقی دل کی بیداری اور خودی کے شعور سے شروع ہوتی ہے۔
متاع دین و دانش لٹ گئی اللہ والوں کی
یہ کس کافر ادا کا غمزۂ خوں ریز ہے ساقی
تشریح
یہ شعر اقبال کی معاشرتی اور روحانی تنقید کو ظاہر کرتا ہے۔ “متاع دین و دانش” سے مراد وہ روحانی، علمی اور اخلاقی دولت ہے جو صوفیاء اور اہل معرفت کے پاس تھی۔ اقبال اس شعر میں بیان کر رہے ہیں کہ یہ دولت دنیاوی لالچ، مادہ پرستی یا طاقت کے نشے میں ضائع ہو گئی ہے۔
“کس کافر ادا کا غمزۂ خوں ریز” سوالیہ انداز میں اس نقصان کی وجوہات کی نشاندہی ہے۔ اقبال یہاں اس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ روحانی اور علمی دولت کو نقصان پہنچانے والے عناصر اکثر دنیاوی طاقت، مادہ پرستی اور انسان کی خودغرضی ہیں۔ فلسفیانہ لحاظ سے یہ شعر انسان کو اس بات کا شعور دلاتا ہے کہ علم و حکمت اور روحانی دولت کی حفاظت ضروری ہے ورنہ وہ دنیاوی فریب کی زد میں آ کر ضائع ہو جاتی ہے۔ اس شعر میں اقبال نے مشرق کی علمی و روحانی زوال پذیری کی حقیقت بھی اجاگر کی ہے۔
وہی دیرینہ بیماری وہی نامحکمی دل کی
علاج اس کا وہی آب نشاط انگیز ہے ساقی
تشریح
یہ شعر انسانی دل کی اندرونی کمزوری اور روحانی بیماری کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ “دیرینہ بیماری” انسانی دل کی سستی، عدم استقامت اور جمود کی علامت ہے۔ یہ بیماری صدیوں سے انسان کی ترقی، بیداری اور معرفت کے راستے میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔
نامحکمی دل کی یعنی وہ دل جو مستقل مزاج اور مضبوط نہیں ہے، جو عشق، معرفت اور علم کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔ اقبال کہتے ہیں کہ اس کا علاج وہی آب نشاط انگیز ہے یعنی وہ روحانی اور معرفتی طاقت جو دل کو تازگی، قوت اور خودی عطا کرتی ہے۔ فلسفیانہ تناظر میں یہ شعر بتاتا ہے کہ دل کی بیماری کا حل صرف بیرونی عوامل یا دنیاوی وسائل میں نہیں بلکہ عشق الہیٰ، معرفت اور روحانی روشنی میں ہے۔ دل کی بیداری اور خودی کے لیے یہ پانی یا توانائی لازمی ہے جو انسان کو حقیقی مقصد اور عمل کی طرف لے جاتی ہے۔
حرم کے دل میں سوز آرزو پیدا نہیں ہوتا
کہ پیدائی تری اب تک حجاب آمیز ہے ساقی
تشریح
یہ شعر انسان کے دل میں عشق اور روحانی شوق کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ “حرم کے دل میں سوز آرزو” سے مراد وہ شدید آرزو اور شوق ہے جو دل کو روحانی اور اخلاقی بلندی کی طرف لے جاتی ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ اگر پیدائی ابھی تک حجاب آمیز ہے یعنی دنیاوی فریب مادہ پرستی یا نفسانی خواہشات کی پردہ داری موجود ہے، تو دل میں حقیقی شوق اور سوز پیدا نہیں ہو سکتا۔
یہاں فلسفہ یہ ہے کہ روحانی ترقی اور معرفت کے لیے دل کی صفائی اور حجاب کا خاتمہ ضروری ہے۔ انسان کے اندرونی اور بیرونی حالات دونوں کو صاف اور شفاف کرنا لازم ہے تاکہ عشق اور آرزو دل میں اثر ڈال سکیں۔ “ساقی” اللہ یا روحانی رہنما کے طور پر استعمال ہوا ہے جو دل میں یہ شوق پیدا کرتا ہے۔
نہ اٹھا پھر کوئی رومیؔ عجم کے لالہ زاروں سے
وہی آب و گل ایراں وہی تبریز ہے ساقی
تشریح
اقبال نے یہاں رومی کی مثال دی ہے جو عشق اور معرفت میں مشہور ہیں۔ “لالہ زار” دنیاوی حسن و مناظر ہیں، جو روحانی ترقی اور معرفت میں مددگار نہیں ہوتے۔ اقبال کہتے ہیں کہ کوئی رومی دوبارہ عجم کے لالہ زاروں سے وہ روحانی بیداری حاصل نہیں کر سکا۔
“آب و گل ایراں اور تبریز” اصل روحانی مرکز اور معرفت کی زمین ہیں، جو حقیقی ترقی، عشق اور بیداری کے لیے ضروری ہیں۔ فلسفیانہ پہلو یہ ہے کہ انسان کو دنیاوی لذتوں کی طرف دیکھنے کے بجائے اصل معرفت اور روحانی مرکز کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ یہ شعر انسان کو یاد دلاتا ہے کہ روحانی ترقی کے لیے دنیاوی حسن اور لذتوں میں وقت ضائع نہ کرے۔
نہیں ہے ناامید اقبالؔ اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
تشریح
یہ شعر امید اور عمل کی اہمیت کو بیان کرتا ہے۔ “کشت ویراں” دل یا معاشرہ کی خشک اور سنسان حالت کو ظاہر کرتا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ تھوڑی سی محنت اور کوشش سے یہ سنسان زمین زرخیز اور پھل دینے والی بن سکتی ہے۔ فلسفہ یہ ہے کہ انسان کو اپنی ناکامی یا بدحالی پر ناامید نہیں ہونا چاہیے۔ ہر دل اور معاشرہ میں چھپی قوتیں محنت اور رہنمائی کے ذریعے پھل سکتی ہیں۔ اقبال کے نزدیک عمل اور کوشش ہی انسانی اصلاح اور معاشرتی ترقی کا اصل ذریعہ ہیں۔
فقیر راہ کو بخشے گئے اسرار سلطانی
بہا میری نوا کی دولت پرویز ہے ساقی
تشریح
یہ شعر روحانی رہنماؤں اور شاعروں کے کردار کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ “فقیر راہ” یعنی روحانی رہنما یا صوفی کو اللہ نے “اسرار سلطانی” یعنی معرفت، علم اور روحانی اسرار عطا کیے ہیں۔ اسی طرح شاعر کی آواز اور کلام بھی انسانیت کے لیے روشنی اور رہنمائی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ فلسفہ یہ ہے کہ شاعر اور روحانی رہنما کی ذمہ داری ہے کہ وہ انسانیت کو معرفت، علم اور روحانی دولت فراہم کریں۔ اقبال کے نزدیک یہی انسانی ترقی اور اصلاح کا اصل ذریعہ ہے کیونکہ علم و معرفت دلوں میں انقلاب پیدا کر کے معاشرہ کو مضبوط اور روشن کر سکتی ہے۔
A detailed explanation of Allama Iqbal’s ghazal ‘Digar Gun Hai Jahan Taron Ki Gardish Tez Hai Saqi, exploring spiritual awakening, selfhood, decline, and revival of faith, hope, and inner transformation.