داستان
قصہ سنانے کی سب سے پرانی صنف کے طور پر داستانوں کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ دنیا کی ہر زبان میں داستانیں لکھی گئیں۔ شروع کے زمانے کے بعد یہ صورت پیدا ہوئی کہ عربی، فارسی اور اردو میں جو منظوم قصے لکھے گئے انھیں مثنوی کہا جانے لگا۔ جدید دور سے پہلے تک جو اردو میں قصہ سنایا جاتا تھا اسے داستان ہی کہا جاتا تھا۔
آج قصہ سنانے کا طریقہ بھی کافی بدل چکا ہے۔ داستانوں سے الگ ناول، افسانہ اور ڈراما جیسی صنفیں قصہ ہی سے نکلی ہیں۔ اس لیے داستان کی پہچان کو واضح کرنے کے لیے پرانے مواد کو دیکھ کر نقادوں نے بتایا کہ داستان میں کئی قصے ایک ساتھ چلتے ہیں۔ یہ قصے الگ بھی ہوتے ہیں مگر ایک باریک سلسلے سے وہ اصل قصے سے جڑے رہتے ہیں۔ اسی وجہ سے داستانِ امیر حمزہاور الف لیلی جیسی طویل داستانیں ممکن ہوئیں۔
داستان کی ایک اور خاص بات مافوق الفطرت عناصر یعنی غیر معمولی اور جادوئی چیزیں ہیں۔ کوئی بھی داستان ان کے بغیر آگے نہیں بڑھتی۔ انہی عناصر کی وجہ سے داستان لکھنے والا اپنی تخیل کا بھرپور استعمال کرتا ہے۔ داستانوں میں پرانے زمانے کی تہذیب اور ثقافت خوب نظر آتی ہے۔ پرانے زمانے کی زبان اور لوگوں کے رہن سہن کو جاننے کے لیے داستانوں کا مطالعہ ضروری ہے۔ داستان لکھنے والوں نے اپنے علم اور ذہانت سے بہترین کام کیے۔ محاورے اور کہاوتیں جس کثرت سے داستانوں میں استعمال ہوئیں وہ دوسری اصناف میں نظر نہیں آتیں۔
ملا وجہیکیسب رس کو اردو کی پہلی ادبی داستان کا درجہ حاصل ہے جو 1632 میں مکمل ہوئی۔ شمالی ہندوستان میں اٹھارھویں صدی میں قصہ مہر افروز دلبر (عیسوی خاں)، نوطرز مرصّع (عطا حسین خاں تحسین)، نو آئین ہندی (مہر چند کھتری) اور عجائب القصص (شاہ عالم ثانی) جیسی داستانیں اہم ہیں۔ لیکن داستان کی اصل ترقی فورٹ ولیم کالج میں ہوئی جہاں باغ و بہار (میرامن دہلوی)، آرایش محفل (حیدر بخش حیدری)، شکنتلا ناٹک (مرزا کاظم علی جواں) اور نثر بے نظیر (نہال چند لاہوری) جیسی اہم داستانیں لکھی گئیں۔
فورٹ ولیم کالج سے باہر بھی داستانیں لکھی جاتی رہیں۔ انشاء اللہ خاں انشا نےرانی کیکی کی کہانی جیسی مختصر داستان لکھی۔ اس کے علاوہ قصۂ عجائب (عظمت اللہ نیاز دہلوی)، باغ عشق (بینی نارائن جہاں)، الف لیلی (منشی عبد الکریم)، بوستانِ خیال (خواجہ امان دہلوی/رقمر الدین زاقم)، گلشن نوبہارا (محمد بخش مہجور)، فسانہ عجائب (مرزا رجب علی بیگ سرور)، قصہ بہرام گور (میر فرخند علی)، طلسم ہوش رُبا (احمد حسین جاہ) جیسی کئی داستانیں لکھیں گئیں۔ فسانہ آزاد (رتن ناتھ سرشار) کو داستان اور ناول کے بیچ کا کام سمجھا جاتا ہے۔
جیسے جیسے تعلیم بڑھی اور مغربی اثرات بڑھے داستانیں لکھنے اور سنانے کا رواج کم ہوتا گیا۔ پہلے قبائلی سماج میں ان کی ضرورت تھی پھر دیہی علاقوں میں کچھ جگہ بچی رہی لیکن شہروں کے پھیلاؤ نے داستان سنانے کا ماحول ختم کر دیا۔ آج داستانیں صرف پرانی باتوں میں رہ گئی ہیں۔
میر امن
میر امن کے بارے میں زیادہ تفصیلی معلومات نہیں ملتی۔ مختلف لوگوں نے جو کچھ لکھا ہے اس میں زیادہ تر باتیں اندازوں پر مبنی ہیں اس لیے ان پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ جو مختصر اور صحیح معلومات ملتی ہیں وہ یہ ہیں کہ ان کا اصل نام میر امن اور تخلص لطف تھا۔ وہ دلّی میں پیدا ہوئے اور وہیں پرورش پائی۔ ان کے خاندان والے پہلے مغل بادشاہوں کے ساتھ کام کرتے تھے اور اسی خدمت کے صلے میں انھیں جاگیریں بھی ملی تھیں۔
جب احمد شاہ ابدالی کی فوج دلّی میں داخل ہوئی تو میر امن کا گھر بھی لٹ گیا۔ پھر سورج مل جاٹ نے ان کی جاگیر بھی چھین لی۔ ان حالات میں میر امن دلّی چھوڑ کر نکل گئے اور کئی سال تک عظیم آباد میں رہتے رہے۔ وہاں سے روزگار کی تلاش میں کلکتہ پہنچے۔ وہاں نواب دلاور جنگ نے انھیں اپنے چھوٹے بھائی میر محمد کاظم خاں کا استاد مقرر کیا۔ دو سال یہ کام کرنے کے بعد منشی میر بہادر علی حسینی کی سفارش سے وہ گل کرسٹ تک پہنچے اور 4 مئی 1801 کو چالیس روپے ماہانہ پر فورٹ ولیم کالج کے ہندوستانی شعبے میں ان کی ملازمت لگ گئی۔
جون1806 تک وہ کالج میں اپنا کام کرتے رہے۔ عمر زیادہ ہونے اور صحت کمزور ہونے کے باعث 1806 میں انھیں کالج کی ملازمت سے علیحدہ کر دیا گیا۔ کالج سے جانے کے بعد ان کی زندگی کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ملتیں۔ میر امن کی پڑھائی کے بارے میں بھی یقینی بات معلوم نہیں مگر یہ سچ ہے کہ وہ فارسی بہت اچھی جانتے تھے۔ اسی وجہ سے انھوں نے فارسی کی مشہور کتاب اخلاق محسنی کا کامیاب ترجمہ کیا جو کنجِ خوبی کے نام سے مشہور ہے۔ میر امن کے گھر میں ان کے ساتھ چھوٹے بڑے کل دس افراد رہتے تھے۔
میر امن کی اصل شہرت جس کتاب سے ہوئی وہ باغ و بہار ہے۔ یہ کتاب 1801 میں مکمل ہوئی۔ اس وقت اس کا نام چہار درویش تھا۔ 1802 میں اس کی دوبارہ جانچ کی گئی اور اسے نیا نام باغ و بہار دیا گیا جس سے 1217ھ کا سال بنتا ہے۔ یہ کتاب پہلی بار 1804 میں کلکتے کے ہندوستانی چھاپہ خانے میں شائع ہوئی۔ فورٹ ولیم کالج کی کتابوں میں سب سے زیادہ مقبولیت میر امن کی اسی تصنیف کو ملی۔
باغ و بہار کا خلاصہ
شہزادے کا وفادار خادم مبارک اس کی جان بچانے کے لیے ایک تدبیر سوچتا ہے۔ وہ اس ظالم چچا کے سامنے یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ شہزادے کو جنگل لے جا کر مار ڈالے گا تاکہ بادشاہ کی بدنامی نہ ہو۔ چچا خوش ہو جاتا ہے اور اسے حکم دیتا ہے کہ شہزادے کو کہیں چھپا کر ختم کر دے۔ مبارک شہزادے کو رات کے وقت شہر سے نکال کر شمال کی طرف لے جاتا ہے۔ ایک مہینے بعد وہ دونوں ملکصادق کے جنّاتی دربار میں پہنچتے ہیں۔ وہاں مبارک سارا حال بیان کرتا ہے کہ شہزادہ یتیم ہے اس کی سلطنت اس کے چچا نے چھین لی ہے اور اب اسے مدد کی ضرورت ہے۔ ملک صادق شہزادے پر مہربانی کرتا ہے اور شرط رکھتا ہے کہ اگر شہزادہ اس کے لیے ایک خاص خدمت انجام دے دے تو وہ اسے اس کا ملک واپس دلائے گا۔
وہ شہزادے کو ایک تصویر دکھاتا ہے اور کہتا ہے کہ تصویر میں جو شخص ہے اسے جہاں بھی ملے تلاش کر کے اس کے پاس لے آؤ۔ اگر یہ کام پورا ہو گیا تو وہ شہزادے کا ہر طرح سے ساتھ دے گا۔ شہزادہ تصویر دیکھ کر ڈر جاتا ہے مگر خدمت قبول کرتا ہے اور مبارک کے ساتھ تلاش میں نکل پڑتا ہے۔ سات سال تک وہ مختلف ملکوں اور شہروں میں گھومتا رہتا ہے مگر کوئی سراغ نہیں ملتا۔ آخرکار ایک ایسے شہر میں پہنچتا ہے جہاں سب لوگ عبادت میں مشغول رہتے ہیں۔ وہاں اسے ایک اندھا فقیر ملتا ہے جسے کوئی خیرات نہیں دیتا۔ شہزادہ رحم کھا کر اسے ایک اشرفی دیتا ہے اور پھر اسے خاموشی سے اس کے گھر تک پیچھا کرتا ہے۔
فقیر کے گھر پہنچ کر شہزادہ دیکھتا ہے کہ فقیر کی بیٹی بالکل تصویر والی شکل سے ملتی ہے۔ اسے دیکھتے ہی شہزادہ بے ہوش ہو جاتا ہے۔ وہاں ہوش میں آکر وہ فقیر سے اپنا حال بیان کرتا ہے اور فقیر بھی اپنی بیٹی کی مصیبت سناتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اس کی بیٹی بہت خوبصورت ہے اسی وجہ سے شہر کے شہزادے نے اسے دیکھے بغیر عشق کر لیا تھا اور بادشاہ نے زبردستی اس کا رشتہ طے کر دیا تھا۔ فقیر اسی پریشانی میں ہے کہ اس کا کیا انجام ہوگا۔ یہاں سے شہزادہ سمجھ جاتا ہے کہ یہ وہی لڑکی ہے جسے تلاش کرنے کے لیے ملک صادق نے اسے بھیجا تھا، اور شاید اسی تلاش سے آگے کی کہانی آگے بڑھے گی۔
معروضی سوالات
سوال 1 ۔ دنیا کی سب سے قدیم ادبی صنف کون سی مانی جاتی ہے؟
الف) غزل
ب) داستان
ج) مرثیہ
د) ڈراما
جواب ۔ ب) داستان
سوال 2 ۔ اردو کی پہلی ادبی داستان کس کو کہا جاتا ہے؟
الف) فسانۂ آزاد
ب) نو طرزِ مرصع
ج) سب رس
د) بوستانِ خیال
جواب ۔ ج) سب رس
سوال 3 ۔ داستانوں میں کون سا عنصر لازمی سمجھا جاتا ہے؟
الف) حقیقت نگاری
ب) مافوق الفطری عناصر
ج) سیاسی واقعات
د) مذہبی مناظرے
جواب ۔ ب) مافوق الفطری عناصر
سوال 4 ۔ میر امن کا اصل نام کیا تھا؟
الف) میر بہادر علی
ب) میر محمد کاظم
ج) میر امن
د) لطف اللہ
جواب ۔ ج) میر امن
سوال 5 ۔ میر امن کی مشہور ترین تصنیف کون سی ہے؟
الف) نو آئین ہندی
ب) باغ و بہار
ج) عجائب القصص
د) سب رس
جواب ۔ ب) باغ و بہار
سوال 6 ۔ باغ و بہار پہلی بار کب مکمل ہوئی؟
الف) 1632
ب) 1801
ج) 1804
د) 1806
جواب ۔ ب) 1801
سوال 7 ۔ میر امن کو فورٹ ولیم کالج میں کتنی ماہانہ تنخواہ پر رکھا گیا تھا؟
الف) 20 روپے
ب) 30 روپے
ج) 40 روپے
د) 50 روپے
جواب ۔ ج) 40 روپے
سوال 8 ۔ داستانوں کی اصل ترقی کس ادارے میں ہوئی؟
الف) دہلی کالج
ب) علی گڑھ کالج
ج) فورٹ ولیم کالج
د) ناظم آباد کالج
جواب ۔ ج) فورٹ ولیم کالج
سوال 9 ۔ باغ و بہار کا اصل نام کیا تھا؟
الف) قصۂ مہر و ماہ
ب) چار درویش
ج) گلشنِ نو بہار
د) قصۂ عجائب
جواب ۔ ب) چار درویش
سوال 10 ۔ متن کے مطابق، اندھا فقیر شہزادے کو دیکھ کر کیوں حیران ہوا؟
الف) اس نے پہلے اسے دیکھا تھا
ب) اس نے اسے کھانا دیا
ج) اس نے اسے اشرفی دی
د) اس نے اس سے بُرا برتاؤ کیا
جواب ۔ ج) اس نے اسے اشرفی دی
آپ بتائیے
سوال 1۔ باغ و بہار کا تعلق کسی صنف سے ہے؟
جواب ۔ داستان صنف سے ہے
سوال 2 ۔ باغ و بہار کس کی تصنیف ہے؟
جواب ۔ میر امن دہلوی
سوال 3 ۔ باغ و بہار کہاں لکھی گئی؟
جواب ۔ فورٹ ولیم کالج، کلکتہ
سوال 4 ۔ باغ و بہار کس کتاب کا ترجمہ ہے؟
جواب ۔ قصۂ چہار درویش (فارسی)
سوال 5 ۔ باغ و بہار پر مصنف کو کتنے روپے کا انعام ملا تھا؟
جواب ۔ پانچ سو روپے کا انعام مالا
سوال 6 ۔ باغ و بہار کا سنہ اشاعت بتائیے۔
جواب ۔ باغ و بہار کا سنہ اشاعت 1804 ہے پہلی طباعت
سوال 7 ۔ باغ و بہار میں کتنے درویشوں کے واقعات کو بیان کیا گیا ہے؟
جواب ۔ چار درویش
سوال 8 ۔ کس کی خواہش پر میر امن نے باغ و بہار جیسی کتاب ترجمہ کی؟
جواب ۔ فورٹ ولیم کالج کے انگریز افسر گل کرسٹ کی خواہش پر
سوال 9 ۔ اس اقتباس میں کن کن ملکوں کا ذکر ہے؟
جواب ۔ چین، ماچین، ہندوستان
سوال 10 ۔ شاہزادے کے والد اور ملک صادق کے درمیان کیا رشتہ تھا؟
جواب ۔ دوستی اور خدمت کا رشتہ (ملک صادق شہزادے کے والد کا دوست اور احسان شناس تھا۔)
سوال 11 ۔ شاہزادہ فقیر کو کتنی اشرفیاں دیتا ہے؟
جواب ۔ ایک اشرفی
سوال 12 ۔ اندھے فقیر کا تعلق کس ملک سے تھا؟
جواب ۔ ہندوستان
مختصر گفتگو
سوال 1 ۔ مبارک شہزادے کو اس کے چچا سے نجات دلانے کے لیے کیا مشورہ دیتا ہے؟
جواب ۔
مبارک نے شہزادے کو اس کے ظالم چچا سے نجات دلانے کے لیے ایک محتاط اور چالاک منصوبہ تجویز کیا۔ اس نے کہا کہ شہزادے کو کسی بھی طرح فوری طور پر چچا کے قبضے سے دور لے جانا ضروری ہے تاکہ اس کی جان محفوظ رہے اور کوئی اس کی نجات کے بارے میں نہ جانے۔ مبارک کی تجویز یہ تھی کہ وہ شہزادے کو باہر جنگل لے جائیں وہاں اسے محفوظ طریقے سے چھپایا جائے اور اس کی جان کو کسی بھی قسم کے خطرے سے بچایا جائے۔ مبارک نے یہ بھی زور دیا کہ یہ کام خفیہ اور محتاط انداز میں کیا جائے تاکہ چچا کو کچھ بھی معلوم نہ ہو اور اس تدبیر سے شہزادہ نہ صرف اپنی جان کی حفاظت کرے بلکہ اپنی سلطنت کے حق میں محفوظ رہے۔
سوال 2 ۔ سفر پر روانہ ہونے سے پہلے مبارک نے بازار سے کون سی چیزیں خریدیں؟
جواب ۔
سفر پر روانہ ہونے سے پہلے مبارک نے بازار سے عطر، بخور اور دیگر ضروری سامان خریدے تاکہ سفر کے دوران اور شہزادے کی حفاظت کے لیے ہر ممکن سہولت مہیا کی جا سکے۔ اس کے ساتھ وہ تمام چیزیں بھی خریدیں جو شہزادے کے لیے رہائش، آرام اور سفری ضروریات کے لیے ضروری تھیں۔ مبارک نے خریداری میں شہزادے کی راحت، سفر کی حفاظت اور راہ میں پیش آنے والے ممکنہ حالات کا مکمل خیال رکھا تاکہ منصوبہ بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔
سوال 3 ۔ سلیمانی سرے کی کیا خوبی تھی؟
جواب ۔
سلیمانی سرے کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ اس کے استعمال سے شہزادے کو مافوق الفطرت ہستیوں کی موجودگی نظر آنے لگتی تھی۔ شہزادہ جنگل میں جب سلیمانی سرہ لگاتا ہے تو وہ جنات اور دیگر عجیب و غریب مخلوقات کے لشکر دیکھنے لگتا ہے لیکن وہ سب خوش رو اور خوش لباس ہوتے ہیں اور مبارک کو پہچان کر اس کے ساتھ دوستانہ رویہ اختیار کرتے ہیں۔ اس طرح شہزادے کو نہ صرف خطرات کا اندازہ ہوتا بلکہ وہ اپنے راستے میں محفوظ بھی رہتا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ شہزادے کو محتاط رکھنے کے ساتھ ساتھ اس کے اعتماد اور حفاظت کو بھی یقینی بنایا جائے۔
سوال 4 ۔ مبارک ملک صادق سے کس مقصد کے تحت ملنے گیا؟
جواب ۔
مبارک ملک صادق سے شہزادے کی جان بچانے کے مقصد کے تحت ملا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ شہزادے کو اس کے ظالم چچا سے نجات دلایا جائے اور اسے محفوظ طریقے سے ملک صادق کی خدمت میں پہنچایا جائے تاکہ شہزادہ اپنی سلطنت اور جان کی حفاظت میں کامیاب ہو۔ مبارک نے ملک صادق سے ملاقات کے دوران شہزادے کے تحفظ اور اسے محفوظ طریقے سے پہنچانے کے لیے ضروری ہدایات حاصل کیں۔
سوال 5 ۔ ملک صادق نے شہزادے کی مدد کے لیے کون سی شرط رکھی؟
جواب ۔
ملک صادق نے شہزادے کی مدد کے لیے شرط رکھی کہ شہزادہ ہر کام کو دیانت داری، ہوشیاری اور مکمل ایمانداری کے ساتھ انجام دے۔ وہ یہ چاہتے تھے کہ شہزادہ کسی بھی صورت میں خیانت نہ کرے امتحان میں کامیاب ہو اور اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ صرف اس صورت میں ملک صادق شہزادے کی مکمل مدد کریں گے اور اسے زیادہ انعام اور تعاون دیں گے۔ یہ شرط اس لیے رکھی گئی تاکہ شہزادہ اپنے اعمال میں محتاط رہے اور اعتماد کے قابل ثابت ہو۔
سوال 6 ۔ شہزادہ فقیر کی بیٹی کو دیکھ کر کیوں بے ہوش ہو گیا تھا؟
جواب ۔
شہزادہ فقیر کی بیٹی کی خوبصورتی، نزاکت اور سلیقے کے سبب شدید متاثر ہوا۔ اس کی شان اور حسن اتنی دلکش تھی کہ شہزادہ اپنی قوت برداشت کھو بیٹھا اور دل سے ایک نعرہ نکلا جس کے نتیجے میں وہ بے ہوش ہو گیا۔ بیٹی کی شخصیت، چال اور دلکشی نے شہزادے پر اتنا گہرا اثر چھوڑا کہ وہ اپنے ہوش پر قابو نہ پا سکا۔
سوال 7 ۔ ملک صادق نے شہزادے کو کس بات کی تاکید کی تھی؟
جواب ۔
ملک صادق نے شہزادے کو تاکید کی تھی کہ وہ محتاط رہے کسی بھی طرح کی خیانت نہ کرے اور ہر کام ایمانداری، ہوشیاری اور وفاداری کے ساتھ انجام دے۔ انہوں نے بار بار تاکید کی کہ چونکہ شہزادہ جوان ہے اس لیے اسے ہر لمحہ محتاط رہنا ہوگا اور امتحان میں کامیابی کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی ہوگی تاکہ اس کی حفاظت اور مستقبل محفوظ رہے۔
سوال 8 ۔ فقیر نے اشرفی لے کر شہزادے سے کیا کہا؟
جواب ۔
فقیر نے شہزادے کو اشرفی دی اور کہا کہ یہ اس مسافر کے حق میں ہے اور خدا کی رضا کے لیے اسے قبول کریں۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ شہزادہ اس اشرفی کے ذریعے مدد حاصل کرے اور اپنی منزل تک پہنچنے میں آسانی ہو۔ فقیر نے اس عمل کے ذریعے شہزادے کی رہنمائی اور اس کی حفاظت میں معاونت فراہم کی۔
سوال 9 ۔ پورے ملک میں فقیر کی بیٹی کی شہرت کیوں تھی؟
جواب ۔
پورے ملک میں فقیر کی بیٹی کی شہرت اس کے حسن، نزاکت، چالاکی اور سلیقے کی وجہ سے تھی۔ لوگ مشہور تھے کہ اس کے حسن کا مقابلہ کوئی بھی انسان یا پری نہیں کر سکتا۔ اس کی شخصیت، خوبصورتی اور اعلی اخلاقی معیار نے اسے پورے ملک میں ممتاز اور معروف کر دیا تھا اور ہر کوئی اس کے حسن کی تعریف کرتا تھا۔
تفصیلی گفتگو
سوال 1 ۔ شہزادے کے سفر کا حال اپنی زبان میں لکھیے۔
جواب ۔
شہزادے کا سفر ایک طویل اور خطرناک سلسلہ تھا۔ اس نے اپنے چچا کے ظلم سے بچنے کے لیے رات دن سفر کیا۔ مبارک نے اس کے لیے راہنمائی کی اور ہر ممکن تدبیر اختیار کی تاکہ شہزادہ محفوظ رہے۔ وہ بستی بستی، شہر شہر اور ملک ملک گزرتا رہا ہر جگہ تحقیق کرتا کہ اس کا چچا کہاں ہے اور کون کون اس کے بارے میں جانتا ہے۔ سفر میں اسے کئی مشکلات اور حیرت انگیز مناظر دیکھنے کو ملے کبھی ویران جنگل، کبھی آباد شہر، اور ہر جگہ اسے لوگوں کی مختلف عادات، رہن سہن اور تہذیب دیکھنے کو ملی۔ سات سال تک اس نے مسلسل محنت اور خطرات سہتے ہوئے اپنے مقصد کی تلاش جاری رکھی۔ اس دوران شہزادے کی ہمت، صبر اور عقل کا امتحان بھی ہوا اور اس کی وفاداری اور شجاعت کے اوصاف سامنے آئے۔
سوال 2 ۔ مبارک نے شہزادے کے لیے کون سی خدمات انجام دیں؟
جواب ۔
مبارک نے شہزادے کے لیے بے پناہ خدمات انجام دیں۔ سب سے پہلے اس نے شہزادے کو اس کے چچا کے ہاتھوں مارے جانے سے بچانے کی تدبیر کی اور مشورہ دیا کہ اسے جنگل میں لے جا کر محفوظ طریقے سے چھپایا جائے۔ اس نے بازار سے عطر، بخور، کھانے پینے کے لیے ضروری اشیاء، کپڑے اور دیگر ضروری سامان خریدا تاکہ سفر میں شہزادہ ہر طرح سے محفوظ اور آرام دہ رہے۔ دوران سفر مبارک نے اپنی چالاکی اور مہارت سے دشمنوں کی آنکھوں سے بچایا اور ہر مشکل لمحے میں شہزادے کی مدد کی۔ اس نے اسے ہر جگہ چھپنے، راہنمائی کرنے اور ہر خطرے سے بچانے میں فعال کردار ادا کیا۔ مبارک کی خدمات صرف جسمانی مدد تک محدود نہ تھیں بلکہ اس نے ذہنی سکون، ہمت اور دل کی تسلی بھی دی تاکہ شہزادہ حوصلہ نہ ہارے۔
سوال 3 ۔ میر امن کو باغ و بہار پر کیوں انعام ملا؟
جواب ۔
میر امن کو باغ و بہار پر انعام اس لیے ملا کیونکہ اس نے فارسی کے مشہور کتاب اخلاق محسنی کا بہترین ترجمہ کیا اور اسے اردو میں بخوبی منتقل کیا۔ اس کی علمی مہارت، زبان پر عبور اور فنی تخلیق نے اس ترجمہ کو نہ صرف آسان فہم بلکہ ادبی لحاظ سے بھی قابل قدر بنایا۔ باغ و بہار میں ہر واقعہ، ہر مکالمہ اور ہر کہانی تہذیب، اخلاق اور معاشرتی اصولوں کی بہترین عکاسی کرتی ہے۔ اس کتاب کی اشاعت کے بعد اسے فورٹ ولیم کالج اور دیگر ادبی حلقوں میں پذیرائی ملی اور اس کی خدمات کو انعام کے ذریعے تسلیم کیا گیا۔
سوال 4 ۔ باغ و بہار ہندستانی تہذیب و تمدن سے میل کھاتی ہے یا نہیں، وضاحت کریں۔
جواب ۔
باغ و بہار ہندستانی تہذیب و تمدن سے مکمل طور پر میل کھاتی ہے۔ کتاب میں پیش کیے گئے واقعات، کرداروں کے اخلاق، معاشرتی تعلقات اور قصے کی روایت قدیم ہندستان کی روزمرہ زندگی، رسم و رواج اور معاشرتی اقدار سے مطابقت رکھتے ہیں۔ اس میں محاورات، کہاوتیں اور لوگوں کے رویوں کی عکاسی بھی ہندستانی معاشرت کے مطابق کی گئی ہے۔ کتاب نہ صرف اخلاقی درس دیتی ہے بلکہ اس میں قدیم ہندستان کی زبان، طرز زندگی اور ثقافت کی جھلک بھی نمایاں طور پر ملتی ہے جس سے قاری ہندستانی معاشرت اور تاریخ سے روشناس ہوتا ہے۔
سوال 5 ۔ باغ و بہار کی نشر کی کیا اہمیت ہے؟
جواب ۔
باغ و بہار کی نشر کی اہمیت بہت زیادہ ہے کیونکہ یہ اردو ادب میں داستان نویسی اور اخلاقی تعلیمات کے امتزاج کی بہترین مثال ہے۔ اس کی اشاعت سے اردو زبان میں ادبی معیار بلند ہوا اور قصہ گوئی کی روایت مضبوط ہوئی۔ اس کتاب نے قارئین کو اخلاقی اصولوں، انسانی رویوں اور معاشرتی تعلقات کی تعلیم دی۔ اشاعت کی وجہ سے میر امن کی شہرت میں اضافہ ہوا اور اردو ادب میں فارسی سے ترجمہ کی جانے والی کتابوں کے لیے معیار قائم ہوا۔ اس کے علاوہ اس کتاب کی نشر سے اردو زبان کی ادبی ترقی اور ہندستانی ثقافت کی بقاء میں بھی مدد ملی، کیونکہ اس میں تہذیب، ادب اور اخلاقی کہانیوں کو محفوظ اور قابل رسائی شکل میں پیش کیا گیا۔
درج ذیل الفاظ کی جنسیت واضح کرتے ہوئے جملے بنائیے۔
تدبیر، امانت، ویرانی، سیرت، بدنامی
| جملہ | لفظ اور جنس |
| سب سے اچھی تدبیر اللہ تعالیٰ کی ہوتی ہے۔ | تدبیر (مؤنث) |
| امانت کی حفاظت ہر شخص کی ذمہ داری ہے۔ | امانت (مؤنث) |
| طوفان کے بعد گاؤں میں ویرانی چھا گئی تھی۔ | ویرانی (مؤنث) |
| سب سے اچھی سیرت محمد ﷺ کی ہے۔ | سیرت (مؤنث) |
| جھوٹ بولنے سے انسان کی بدنامی بڑھ جاتی ہے۔ | بدنامی (مؤنث) |
مترادفات یا ہم معنی لفظ بتا ہے۔
بادشاہ، پیر، تحقیق، علم ، شیبہ ، نابینا
| مترادفات یا ہم معنی لفظ | لفظ |
| راجا، حکمران | بادشاہ |
| مرشد، رہنما | پیر |
| جستجو، مطالعہ | تحقیق |
| دانش، معرفت | علم |
| شبہ، شباہت | شیبہ |
| اندھا، بینا نہ ہونے والا | نابینا |
درج ذیل الفاظ کے معنی بتائیے۔
مردعجمی، ظالم ، مخلصی ، تدبیر، محرم، بندش، دغدغہ
| معنی | لفظ |
| غیر عرب یا غیر ملکی آدمی | مردعجمی |
| ستمگر، جابر | ظالم |
| وفاداری، نیک دلی | مخلصی |
| منصوبہ بندی، حکمت عملی | تدبیر |
| رازدار، قابل اعتماد شخص | محرم |
| قید، روک، پابندی | بندش |
| فکری اضطراب، پریشانی | دغدغہ |