Bihar Board Class 12 Kahkashan Chapter 8 Solutions Promise, پرامس،

جیلانی بانو 14 جولائی 1936 کو بدایوں (اتر پردیش) میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد علامہ حیرت بدایونی نے ملازمت کے سلسلے میں حیدر آباد کی مستقل رہائش اختیار کی تو یہ حیدر آبادی ہو گئیں۔ ان کے والد اردو اور فارسی کے شاعر کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کے ماہر بھی تھے۔ انہوں نے اپنے سات بچوں کی پرورش میں خاص دلچسپی لی۔

جیلانی بانو کی تعلیم ایم۔ اے۔ تک ہے۔ انہوں نے زیادہ تر امتحانات خود سے پاس کیے۔ ابتدا میں انہوں نے صبا بدایونی کے نام سے شاعری کی۔ انہیں موسیقی اور تصویری فن کا بھی شوق تھا لیکن وہ افسانہ اور ناول لکھنے کے لیے مشہور ہوئیں۔ 1959 میں ان کی شادی مشہور ادیب ڈاکٹر انور معظم سے ہوئی۔ روشنی کے مینار، نروان پرایا گھر، رات کے مسافر، روز کا قصہ، یہ کون ہنسا، تریاق، نئی عورت، بیچ کے سوا، بات پھولوں کی ان کے افسانوں کے مجموعے ہیں۔
ایوانِ غزل اور بارش سنگ ان کے ناولوں کے نام ہیں۔
ننے کا سفر اور جگنو اور ستارے ان کے ناولٹ ہیں۔

انہوں نے کرشن چندر پر مونوگراف بھی لکھا ہے۔ بچوں کے ادب اور تراجم میں بھی ان کی دلچسپی رہی ہے۔ دنیا کی مختلف زبانوں میں ان کی تخلیقات کے ترجمے ہو چکے ہیں۔ انہیں غالب ایوارڈ، کل ہند قومی حالی ایوارڈ، نقوش ایوارڈ، سوویت لینڈ نہر وایوارڈ وغیرہ سے بھی نوازا گیا۔ وہ آج بھی اپنے تخلیقی کاموں میں پوری طرح سرگرم ہیں۔

افسانہ پرامس امو اور ان کے خاندان کے گرد گھومتا ہے۔ امو شدید بیمار ہیں اور ان کا علاج بہت مہنگا اور پیچیدہ ہے۔ افسانے کا آغاز اسی وقت ہوتا ہے جب امو تقریباً مرنے والی لگ رہی ہیں اور پورا خاندان ان کی حالت پر فکر مند ہے۔ ان کے تینوں بیٹے، بیویاں اور پوتے پوتیاں سب گھبرا کر امو کے آس پاس جمع ہو جاتے ہیں۔ سب چاہتے ہیں کہ امو کی موت کے وقت سب کچھ درست اور ترتیب کے مطابق ہو۔ امو کے سب سے بڑے بیٹے نے جلدی سے سفید کپڑا لایا تاکہ امو کا منہ چھپایا جائے مگر امو نے چادر ہٹا دی اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سب پر اپنے قابو رکھتی ہیں اور اپنی مرضی سے حالات دیکھنا چاہتی ہیں۔

ڈاکٹر نے دو سال پہلے کہا تھا کہ امو کا کینسر پورے جسم میں پھیل گیا ہے اور کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد سے بیویاں زیادہ محتاط ہو گئی ہیں اور امو کی دیکھ بھال پر خصوصی توجہ دیتی ہیں۔ ایک بیوی ہمیشہ فون کر کے امو کی خیریت پوچھتی ہے جبکہ دوسری امریکی بیوی گرمی کے باوجود ہر سال حیدرآباد آتی ہے اور فائیو اسٹار ہوٹل میں قیام کرتی ہے مگر وقت نکال کر امو کی بھی خبر لیتی ہے۔ بیٹے علاج کے لیے بڑی پابندی کے ساتھ پیسے بھیجتے ہیں اور گھر میں ہر قسم کا آرام، بہترین ڈاکٹر اور خدمت کرنے والی خواجہ بی موجود ہوتی ہیں۔

ایک دن صبح سویرے خواجہ بی کا فون آتا ہے کہ امو کی طبیعت خراب ہے اور بیٹوں کو فوری بلایا جائے۔ اس خبر سے خاندان میں ہلچل مچ جاتی ہے۔ سب اپنے اپنے پروگرام چھوڑ کر آنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں لیکن گرمی اور دوری کی وجہ سے سب کچھ مشکل لگتا ہے۔ رشید اپنے بھائیوں کو یاد دلاتا ہے کہ انہوں نے امو سے وعدہ کیا تھا کہ ان کے آخری دن میں وہ سب ساتھ ہوں گے اور ان کی آخری رسومات میں شریک ہوں گے۔

افسانے میں دکھایا گیا ہے کہ بچوں کی زندگی مصروف ہے امریکہ میں رہتے ہیں سیاست یا نوکری کے معاملے میں مصروف ہیں مگر والدہ کی ضرورت اور بیماری کے وقت وہ واپس آ جاتے ہیں۔ یہاں امو کی ذہنی کیفیت اور جسمانی تکلیف کو بھی واضح طور پر دکھایا گیا ہے۔ امو بیمار ہونے کے باوجود اپنے بچوں کی محبت اور وفاداری کو محسوس کرتی ہیں، اور ان کے لیے دعا اور فکر کا جذبہ برقرار رہتا ہے۔

کہانی میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ بچوں کی ترقی، بیرون ملک رہنا، سیاست اور دیگر ذمہ داریوں کے باوجود والدین کے آخری وقت میں ان کی اہمیت اور محبت کیا معنی رکھتی ہے۔ افسانے کا مرکزی خیال والدین کی بیماری، خاندان کی محبت، بچوں کی ذمہ داری اور والدین کی آخری خواہشات کی اہمیت ہے۔

امو کے آخری دنوں میں سب کچھ ترتیب سے ہو رہا ہے آکسیجن دی جا رہی ہے، خواجہ بی دیکھ بھال کر رہی ہے، اور بچوں نے سب انتظامات کر دیے ہیں۔ حمید کی سیاسی مصروفیات اور طاقتور عہدہ ہونے کے باوجود وہ بھی والدہ کی بیماری کی خبر سنتے ہی فوری طور پر مدد اور دیکھ بھال کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ اس طرح، افسانہ والدین اور بچوں کے درمیان محبت، ذمہ داری اور انسانی جذبات کی پیچیدگیوں کو حقیقی انداز میں بیان کرتا ہے۔

الف) حیدر آباد
ب) دہلی
ج) بدایوں
د) ممبئی

الف) بی۔اے۔
ب) ایم۔اے۔
ج) ایف۔اے۔
د) پی۔ایچ۔ڈی۔

الف) صبا بدایونی
ب) جیلانی بانو
ج) مشہور ادیب
د) حیرت بدایونی

الف) 1949
ب) 1959
ج) 1969
د) 1979

الف) روشنی کے مینار
ب) ایوانِ غزل
ج) جگنو اور ستارے
د) بارش سنگ

الف) دو
ب) تین
ج) چار
د) پانچ

الف) دل کا مرض
ب) شوگر
ج) کینسر
د) بخار

الف) دوا لانا
ب) سفید کپڑا ڈال کر منہ چھپانا
ج) ڈاکٹر کو فون کرنا
د) بیمار کو ہسپتال لے جانا

الف) پڑھائی اور سیاست
ب) صرف کھیل کود
ج) کاروبار
د) سفر

الف) دہلی جانے کا
ب) امریکہ جانے کا
ج) گھر میں رہنے کا
د) نوکری چھوڑنے کا

جواب ۔ 14 جولائی 1936ء بدایوں (اتر پردیش)

جواب ۔ روشنی کے مینار

جواب ۔ ایوانِ غزل اور بارش سنگ

جواب ۔ امو افسانہ ”پرامس” کا مرکزی کردار ہے

جواب ۔ حمید اور رشید

جواب ۔ امو کے بدن میں کینسر کا مرض سارے بدن میں پھیل گیا تھا۔

جواب ۔ گھر میں خدمت کرنے والی

جواب ۔ پنکی نے

جواب ۔ ان کے جنازے کو چاروں بھائی مل کر اٹھانا

جواب ۔ بڑی بہو نے، امو کے آخری دنوں میں

حمید امو کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے۔ وہ پڑھائی میں زیادہ دلچسپی نہیں لیتے تھے بلکہ اکثر دوستوں کے ساتھ وقت گزارتے اسٹوڈنٹس یونین یا سیاسی پارٹیوں کے ساتھ سرگرم رہتے۔ وہ کبھی سڑکوں پر نعرے لگاتے کبھی کسی سیاسی پارٹی میں شامل ہو جاتے۔ بعد میں حمید کی سیاسی سرگرمیوں کے باعث انہیں پارٹی میں اہمیت حاصل ہوئی اور وہ ایک مضبوط سیاسی رہنما بن گئے۔ حمید کے بڑھتے سیاسی اثر و رسوخ اور مصروفیات کی وجہ سے وہ گھر میں کم آتے اور اپنی والدہ امو کے آخری وقت میں بھی فوری موجود نہیں ہو سکے۔

حمید سیاسی سرگرمیوں میں مصروف، بعد میں منسٹر بن گئے۔

رشید امو کی دیکھ بھال اور فیملی کے معاملات میں زیادہ سنجیدہ۔

جمشید امریکہ میں مقیم، تعلیم یا کام میں مصروف۔

خورشید امریکہ میں مقیم، تعلیم یا کاروباری/سیاسی سرگرمیوں میں مصروف۔

ان سب کے بیٹے مختلف شعبوں میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد امریکہ یا دیگر جگہوں پر مصروف ہو گئے جس کی وجہ سے امو کو اکثر اکیلا رہنا پڑتا۔

امو دکھی اس لیے تھیں کہ ان کے بیٹے، جو تعلیم یافتہ اور کامیاب تھے اکثر اپنے مصروفیات کی وجہ سے ان کے قریب نہیں رہتے تھے۔ بیماری کے باوجود ان کے بیٹے ان کے آخری وقت میں فوری موجود نہیں ہو پائے۔ امو کی طبیعت خراب تھی، انہیں کینسر تھا اور جسم کے مختلف حصے درد سے متاثر تھے لیکن ان کے بیٹوں کی غیر حاضری اور دوری نے ان کے دل کو زیادہ دکھ دیا۔ وہ یہ بھی محسوس کرتی تھیں کہ بیٹے ان کی قربت اور محبت کا احساس کم کر رہے ہیں اور ان کے آخری دن تنہائی میں گزر رہے ہیں۔

امو کے بیٹوں نے ان کی موت کے وقت ساتھ نہیں دیا کیونکہ وہ مختلف ممالک میں مقیم تھے، زیادہ تر امریکہ میں تھے اور اپنے پیشہ ورانہ اور سیاسی مصروفیات میں گرفتار تھے۔ حمید سیاسی سرگرمیوں میں مصروف اور دہلی میں موجود تھا جبکہ دیگر بیٹے جمشید اور خورشید بھی امریکہ میں تھے اور اپنے کام یا تفریح میں مصروف تھے۔ اس کے علاوہ، گرمی اور دیگر وجوہات نے بھی ان کے دیر سے پہنچنے میں رکاوٹ ڈالی۔ اگرچہ سب نے فون اور پیسے کے ذریعے امو کی مدد کی لیکن جسمانی موجودگی ممکن نہ ہو سکی جس سے امو کو دکھ ہوا۔

افسانہ “پرامس” انسانی رشتوں کی پیچیدگی اور جدید دور کے بدلتے سماجی رویوں کا عکاس ہے۔ اس میں خاندان کے افراد کی زندگی، محبت، ذمہ داری اور دوری کو بڑے واضح انداز میں دکھایا گیا ہے۔ آج کے عہد میں بھی اکثر والدین اپنے بچوں کی مصروفیات اور دوری کی وجہ سے تنہائی محسوس کرتے ہیں جیسے کہ امو کو اپنے بیٹوں کی غیر حاضری نے دکھ دیا۔ افسانہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ رشتے صرف محبت اور خون سے نہیں بلکہ وقت، دیکھ بھال اور قربت سے مضبوط ہوتے ہیں۔ امو کے بیٹے تعلیم اور پیشہ ورانہ کامیابی کے لیے امریکہ چلے گئے مگر ان کی والدہ کی ضرورت اور بیماری کے وقت موجود نہ ہونا انسانی رشتوں میں دوری اور غیر یقینی صورتحال کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

اس کے علاوہ افسانہ یہ سبق بھی دیتا ہے کہ انسانی رشتوں میں صرف وعدے کافی نہیں بلکہ حقیقی جذبات، وقت اور توجہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ آج کے معاشرتی دور میں، جہاں لوگ تعلیم، ملازمت اور مصروفیات میں زیادہ وقت گزارتے ہیں افسانہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ رشتوں کو زندہ رکھنے کے لیے وقت اور محبت دونوں دینا ضروری ہیں۔

افسانہ “پرامس” ایک بزرگ عورت امو کے گرد گھومتا ہے جو کینسر کے مرض میں مبتلا ہیں۔ ان کے بیٹے تعلیم اور کام کے سلسلے میں امریکہ اور دیگر مقامات پر مقیم ہیں۔ بیماری کے باوجود امو کی خواہش ہے کہ ان کے آخری وقت میں ان کے بیٹے ان کے پاس ہوں اور ان کے جنازے کے لیے وعدہ پورا کریں۔

افسانہ میں دکھایا گیا ہے کہ امو کے بیٹے اپنی مصروفیات کی وجہ سے فوراً موجود نہیں ہو پاتے اور ان کی غیر حاضری سے امو دکھی اور تنہا محسوس کرتی ہیں۔ حمید، جو سیاسی اور سماجی سرگرمیوں میں مصروف ہے، آخر کار فون اور انتظامات کے ذریعے امو کی مدد کرتا ہے۔ افسانہ خاندان، والدین کی محبت، دوری اور انسانی ذمہ داریوں کے تضاد کو مؤثر انداز میں پیش کرتا ہے۔

جیلانی بانو کی کردار نگاری افسانہ “پرامس” میں انتہائی باریک بینی اور حقیقت پسندی سے کی گئی ہے۔ انہوں نے امو کے کردار کو نہ صرف بیماری اور دکھ میں دکھایا بلکہ اس کی جذباتی پیچیدگی، محبت اور والدین کی فکر کو بھی نمایاں کیا۔ امو ایک ایسا کردار ہے جو صبر، برداشت اور اپنے بیٹوں کے لیے محبت میں مستقل ہے، مگر بیٹوں کی غیر حاضری اور دوری کے باعث اس کا دکھ واضح ہوتا ہے۔ بیٹوں کے کردار بھی بہت حقیقت پسندانہ ہیں۔ ہر بیٹے کی شخصیت اور مصروفیات، خواہ وہ سیاسی ہو یا تعلیمی، ان کے جذبات اور ذمہ داریوں کے درمیان توازن کی کوشش کو دکھاتی ہیں۔ حمید کے کردار میں سیاست اور ذمہ داری کی کشمکش نظر آتی ہے، جبکہ دیگر بیٹے اپنے مصروفیات میں اتنے مشغول ہیں کہ اپنی والدہ کی قربت کے لیے کم وقت نکال پاتے ہیں۔

خواجہ بی اور دیگر ضمنی کردار بھی کردار نگاری میں مؤثر ہیں جو خاندان کے ماحول اور تعلقات کو جاندار بناتے ہیں۔ جیلانی بانو نے کردار نگاری کے ذریعے انسانی رشتوں، محبت، ذمہ داری اور دوری کے پیچیدہ جذبات کو عام فہم اور مؤثر انداز میں پیش کیا ہے۔

Scroll to Top