NCERT Class 12 Urdu Grammar Chapter 13 – اردو قواعد اور انشاء

ایک دن کی بات ہے، ایک لومڑی اپنی غذا کی تلاش میں نکلی ۔ سارے دن گھومتی پھرتی رہی۔ کھانے کو کچھ نہ ملا۔ اسی تلاش میں وہ ایک باغ میں پہنچ گئی۔ وہاں انگور کی بیل تھی۔ انگور کے رس دار خوشے لٹک رہے تھے۔ لومڑی کے منہ میں پانی بھر آیا۔ آس پاس دیکھ کر وہ انگور کے ایک خوشے کی طرف اُچھلی مگر اس تک نہ پہنچ سکی۔ تھوڑی دیر بعد اس نے رخ بدل کر پھر چھلانگ لگائی مگر منہ میں ایک بھی انگور نہیں آیا۔ اس نے سوچا ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔ پھر اس نے اپنے جسم میں پھرتی پیدا کی اور لگا تار کئی چھلانگیں لگا ئیں ۔ مگر انگوروں تک نہ پہنچ سکی اور وہ بری طرح تھک گئی۔ آخر کار نڈھال ہو کر باغ سے باہر جانے لگی۔ جاتے جاتے اس نے انگوروں کو مڑکر دیکھا۔ اتنی دیر میں ایک دوسری لومڑی آگئی اور کہنے لگی

بہن کیوں ! چل دیں ، انگور نہیں ملے؟

لومڑی نے کہا۔ نہیں انگور تو بہت ہیں لیکن کھٹے ہیں ۔

کہانی کے آخر میں لومڑی نے انگور نہ کھانے کی جو وجہ بتائی ہے یعنی انگور کھٹے ہیں، ایک کہاوت ہے۔ لومڑی نے اپنی شرمندگی دور کرنے کے لیے جو وجہ بتائی اسے ہم ایسے موقع پر بولتے ہیں جب کوئی اپنی شرمندگی کو چھپانے کے لیے کوئی بہانہ بناتا ہے۔

کہاوت کے چند الفاظ وہ بات بیان کر دیتے ہیں جس کے لیے عام طور پر خاصی تفصیل در کا ہوتی ہے۔ ہر کہاوت انسانی تجربے کا نچوڑ پیش کرتی ہے۔ اس میں بڑے گر کی باتیں بیان ہوتی ہیں۔ یہ کسی سماجی یا تہذیبی تجربے یا واقعے کے اثر سے اپنے آپ وجود میں آجاتی ہے اور پھر ایک نسل سے دوسری نسل تک اور کبھی کبھی ایک ملک سے دوسرے ملک تک پہنچ جاتی ہے۔

آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا۔

ایک مصیبت سے نکل کر دوسری مصیبت میں پھنسا۔

ابھی دلّی دور ہے۔

کام پورا نہیں ہوا ہے یا مقصد پورا ہونے میں دیر ہے۔

حمد چار دن کی چاندنی پھر اندھیری رات۔

زندگی کے تھوڑے دن آرام چین سے گزرتے ہیں اس کے بعد پھر وہی مصیبتیں۔

مان نہ مان میں تیرا مہمان۔

اپنے آپ کو کسی پر زبر دستی مسلط کرنا۔

جیسی کرنی ویسی بھرنی۔

جیسا عمل کرو گے، ویسا ہی پھل ملے گا۔

ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا۔

کام کرنا نہ آتا ہو اور کام ہی کو خراب بتایا جائے۔

لومڑی نے بہت کوشش کی مگر وہ انگور تک نہ پہنچ سکی۔ جب وہ ناکام ہو گئی تو اس نے اپنی ناکامی اور شرمندگی چھپانے کے لیے یہ کہہ دیا کہ انگور کھٹے ہیں۔ دراصل انگور کھٹے نہیں تھے بلکہ وہ خود انہیں حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی۔ اسی بات سے کہاوت بنتی ہے کہ جب کوئی شخص کسی چیز کو حاصل نہ کر سکے اور اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے اس میں عیب نکالے تو اسے کہا جاتا ہے کہ انگور کھٹے ہیں ۔ یہ کہاوت انسانی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے۔

کہاوت ایسے مختصر جملے یا فقرے کو کہتے ہیں جو کسی گہرے تجربے، واقعے یا کہانی سے نکلے ہوں اور بات میں زور پیدا کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہوں۔ کہاوت کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ چند الفاظ میں ایک بڑی بات سمجھا دیتی ہے۔ ہر کہاوت انسانی تجربے کا نچوڑ ہوتی ہے اور اس میں زندگی کے اہم اصول پوشیدہ ہوتے ہیں۔ کہاوتیں نسل در نسل منتقل ہوتی رہتی ہیں اور ہماری زبان و تہذیب کا قیمتی سرمایہ ہوتی ہیں۔

ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا کا مطلب یہ ہے کہ جب کسی کو کوئی کام کرنا نہ آتا ہو تو وہ اپنی غلطی ماننے کے بجائے کام یا حالات کو برا کہنے لگتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی طالب علم پڑھائی نہ کرے اور امتحان میں فیل ہو جائے تو وہ سوالنامہ مشکل ہونے کا بہانہ بناتا ہے۔

جیسی کرنی ویسی بھرنی کا مطلب ہے کہ انسان کو اپنے اعمال کا ویسا ہی نتیجہ ملتا ہے جیسا وہ کرتا ہے۔ اگر کوئی اچھے کام کرے گا تو اچھا نتیجہ پائے گا اور اگر برے کام کرے گا تو اسے اس کا نقصان اٹھانا پڑے گا۔ یہ کہاوت انسان کو اچھے اعمال کی تلقین کرتی ہے۔

This lesson covers NCERT Class 12 Urdu Grammar Chapter 13 (Urdu Qawaid aur Insha) on proverbs, explaining how short, meaningful sayings arise from stories and life experiences. It helps students understand how proverbs express deep ideas, moral lessons, and human behaviour simply and effectively, enriching language and communication skills.

Scroll to Top