فقره
یہاں کچھ لفظوں کے مجموعے پیش کیے جا رہے ہیں۔ انھیں غور سے پڑھیے۔
جذبات کی عکاسی
شام سے پہلے
گائی جاتی ہے۔
مشاہدے کی گہرائی
محبت کا پیغام
غور کیجیے، اوپر لفظوں کے جو مجموعے پیش کیے گئے ہیں۔ اس سے مکمل معنی سامنے نہیں آتے بلکہ ان کے پڑھنے سے ادھورے معنی ہی نکلتے ہیں۔ انھیں واضح کرنے کے لیے شروع یا آخر میں چند الفاظ کا استعمال ضروری معلوم ہوتا ہے۔ یعنی
لفظوں کا وہ مجموعہ جو ایک خاص ترتیب میں کسی قدر با معنی ہونے کے باوجود مکمل نہ ہو ، فقرہ کہلاتا ہے۔
جملہ
کالم الف اور کالم ب کی تحریر کو غور سے پڑھیے ۔
الف) ۔ جذبات کی عکاسی، شام سے پہلے، پڑھی جاتی ہے، مشاہدے کی گہرائی، محبت کا پیغام
ب) ۔ ناول میں جذبات کی عکاسی ضرور ہے، مجھے شام سے پہلے ہی یہ کام مکمل کر لینا ہے، اچھی کتاب بار بار پڑھی جاتی ہے، اقبال کی نظموں میں مشاہدے کی گہرائی بہت زیادہ ہے، ہماری قومی شاعری میں خاص طور پر محبت کا پیغام دیا گیا ہے۔
کالم الف میں دیے گئے فقرے معنی کے اعتبار سے ادھورے ہیں۔ کالم ب میں انھیں جب اور لفظوں کے ساتھ جوڑا گیا تو ان کا مفہوم واضح ہو گیا۔
الفاظ کا وہ مجموعہ جن سے بات مکمل واضح ہو جائے ، جملہ کہلاتا ہے۔
ادھوری بات یعنی فقرہ کو مرکب ناقص اور جملے کو مرکب تام بھی کہتے ہیں۔
جملے کے اجزا۔ مبتدا، خبر
او پر کالم ب میں دیے گئے جملوں کو ذیل میں ان کے اجزا کے ساتھ پڑھیے۔
الف) ۔ ناول میں، مجھے شام سے پہلے، اچھی کتاب، اقبال کی نظموں میں، ہمارے قومی ترانے
ب) ۔ جذبات کی عکاسی ضروری ہے، مجھے شام سے پہلے ہی یہ کام مکمل کر لینا ہے، بار بار پڑھی جاتی ہے، مشاہدے کی گہرائی بہت زیادہ ہے، خاص طور پر محبت کا پیغام دیا گیا ہے۔
ان جملوں میں کالم الف خانے میں جو فقرے ہیں ان کی بابت کالم ب میں بتایا گیا ہے۔
جملے کا پہلا جزو جو کسی کی بابت ہو، اسے مبتدا کہتے ہیں اور دوسرا جزو جس میں کسی کی بابت کوئی بات کہی گئی ہو، اسکے خبر کہتے ہیں۔
اوپر کی ان مثالوں میں کالم الف کے الفاظ مبتدا ہیں اور کالم ب میں ان سے متعلق کہی گئی بات خبر ہے۔
جملے کی قسمیں
مفرد مرکّب
ان جملوں کو پڑھیے
وہ آئے۔
وہ آئے مگر فوراً چلے گئے۔
پہلے جملے میں ایک فعل ہے اور ایک فاعل ۔
وہ (فاعل) ـــــ آئے (فعل)
وہ جملہ جس میں ایک فعل اور ایک فاعل ہو، اُسے مفرد جملہ کہتے ہیں۔
دوسرے جملے میں دو فعل ہیں۔
‘آئے’ اور ‘چلے گئے’۔
وہ جملہ جو دو یا دو سے زیادہ جملوں سے مل کر کسی ایک مفہوم کو ادا کرے، اسے مرکب جملہ کہتے ہیں۔
بیانیہ، نکار یہ، سوالیہ، فجائیہ ، حکمیہ جملے
درج ذیل جملوں کو پڑھیے
الف) یہ پھول خوشبودار ہیں۔
اس جملے میں پھولوں کے بارے میں ایک بات بتائی گئی ہے۔
ایسا جملہ جس میں کوئی بات بتائی جائے یا خبردی جائے، اسے بیانیہ جملہ کہتے ہیں۔
اس میں کسی بات کا ہونا ظاہر ہوتا ہے۔ اسی لیے مثبت جملہ کہتے ہیں۔
انکار یہ جملہ
ب) یہ پھول خوشبودار نہیں ہیں۔
اس جملے میں بھی خبر دی گئی ہے۔ اس لیے یہ بھی بیانیہ جملہ ہے۔ لیکن اس میں منفی کیفیت ہے۔
یعنی کسی بات کا نہ ہونا ظاہر کیا گیا ہے۔
ایسا جملہ جس میں کوئی بات منفی انداز سے کہی گئی ہو یا انکار کیا گیا ہو، اسے منفی یا انکار یہ جملہ کہتے ہیں ۔
سوالیہ جملہ
ج) کیا یہ پھول خوش بودار ہیں؟
اس جملے میں کوئی بات پوچھی گئی ہے۔
ایسا جملہ جس میں سوال کیا گیا ہو، اسے سوالیہ یا استفہامیہ جملہ کہتے ہیں ۔
فجائیہ جملہ
ه) واہ کتنی اچھی خوشبو ہے ان پھولوں کی ۔
اس جملے میں جذبے وکیفیت اور تاثر کا اظہار ہے۔
وہ جملہ جس میں کسی جذبے یا فوری تاثر وکیفیت کا اظہار ہو، اسے فجائیہ جملہ کہتے ہیں ۔
حکمیہ جملہ
د) خوشبودار پھول لاؤ۔
اس جملے میں کوئی کام کرنے کے لیے کہا گیا ہے یا حکم دیا گیا ہے۔
ایسا جملہ جس میں کسی کام کو کرنے کا حکم دیا گیا ہو، اسے امریہ حکمیہ جملہ کہتے ہیں۔
سوال اور جواب
سوال 1 ۔ فقرہ کسے کہتے ہیں؟ مثال دے کر وضاحت کیجیے۔
جواب ۔
لفظوں کا وہ مجموعہ جو ترتیب کے ساتھ ہو لیکن اس سے مکمل بات واضح نہ ہو، فقرہ کہلاتا ہے۔ فقرہ پڑھنے سے معنی ادھورے رہتے ہیں اور قاری کو بات سمجھنے کے لیے مزید الفاظ کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر “جذبات کی عکاسی” اور “محبت کا پیغام” ایسے لفظی مجموعے ہیں جو مکمل بات ادا نہیں کرتے، اس لیے انہیں فقرہ کہا جاتا ہے۔ فقرہ کو مرکب ناقص بھی کہتے ہیں۔
سوال 2 ۔ جملہ کسے کہتے ہیں اور فقرہ اور جملے میں کیا فرق ہے؟
جواب ۔
الفاظ کا وہ مجموعہ جس سے بات پوری طرح واضح ہو جائے، جملہ کہلاتا ہے۔ جملہ پڑھنے کے بعد معنی مکمل ہو جاتے ہیں اور کسی مزید وضاحت کی ضرورت نہیں رہتی۔ فقرہ اور جملے میں بنیادی فرق یہ ہے کہ فقرہ ادھوری بات کو ظاہر کرتا ہے جبکہ جملہ مکمل مفہوم پیش کرتا ہے۔ مثال کے طور پر “اچھی کتاب بار بار پڑھی جاتی ہے” ایک مکمل جملہ ہے۔ جملے کو مرکب تام بھی کہا جاتا ہے۔
سوال 3 ۔ جملے کے اجزا کون سے ہیں؟ ان کی وضاحت کیجیے۔
جواب ۔
جملے کے دو بنیادی اجزا ہوتے ہیں جنہیں مبتدا اور خبر کہا جاتا ہے۔ مبتدا جملے کا وہ حصہ ہوتا ہے جس کے بارے میں بات کی جاتی ہے جبکہ خبر وہ حصہ ہوتا ہے جس میں مبتدا کے متعلق کوئی بات بتائی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر جملے “اقبال کی نظموں میں مشاہدے کی گہرائی بہت زیادہ ہے” میں “اقبال کی نظموں میں” مبتدا ہے اور “مشاہدے کی گہرائی بہت زیادہ ہے” خبر ہے۔
سوال 4 ۔ مفرد جملہ اور مرکب جملہ کسے کہتے ہیں؟ مثالوں کے ساتھ بیان کیجیے۔
جواب ۔
وہ جملہ جس میں ایک فاعل اور ایک فعل ہو، مفرد جملہ کہلاتا ہے۔ جیسے “وہ آئے”۔ اس کے مقابلے میں وہ جملہ جو دو یا دو سے زیادہ جملوں سے مل کر ایک ہی مفہوم ادا کرے، مرکب جملہ کہلاتا ہے۔ مثال کے طور پر “وہ آئے مگر فوراً چلے گئے” ایک مرکب جملہ ہے کیونکہ اس میں دو افعال موجود ہیں۔
سوال 5 ۔ جملے کی مختلف اقسام کی وضاحت کیجیے۔
جواب ۔
جملوں کی مختلف اقسام معنی اور اندازِ بیان کے اعتبار سے قائم کی جاتی ہیں۔ جب جملے میں کوئی بات سیدھے انداز میں بتائی جائے تو اسے بیانیہ جملہ کہتے ہیں جیسے “یہ پھول خوشبودار ہیں”۔ اگر اسی بات کا انکار کیا جائے تو وہ انکاریہ یا منفی جملہ بن جاتا ہے جیسے “یہ پھول خوشبودار نہیں ہیں”۔ جب کسی بات کے بارے میں سوال کیا جائے تو اسے سوالیہ جملہ کہتے ہیں جیسے “کیا یہ پھول خوشبودار ہیں؟” جب جملے میں جذبے، حیرت یا فوری تاثر کا اظہار ہو تو وہ فجائیہ جملہ کہلاتا ہے جیسے “واہ! کتنی اچھی خوشبو ہے”۔ جب کسی کام کے کرنے کا حکم دیا جائے تو ایسے جملے کو حکمیہ یا امریہ جملہ کہتے ہیں جیسے “خوشبودار پھول لاؤ”۔
This lesson explains NCERT Class 12 Urdu Grammar Chapter 14 (Urdu Qawaid aur Insha), focusing on phrases and sentences. It helps students understand the difference between incomplete word groups (phrases) and complete statements (sentences), sentence parts like subject and predicate, and various types of sentences, improving clarity, structure, and effective expression in writing and speech.