علمِ بدیع
کلام میں حُسن ، اثر اور زور پیدا کرنے کے لیے اسے بہت سی خوبیوں کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ قواعد کی زبان میں انھیں ہم صنائع بدائع کے نام سے جانتے ہیں۔ صنائع صنعت کی جمع ہے۔ اس کا مطلب ہے کاری گری /ہنر مندی اور بدائع، بدیع کی جمع ہے۔ اس کا مطلب ہے تازگی اور انوکھا پن۔
بدیع وہ علم ہے جس سے کلام کے معنوی یا ظاہری حسن میں اضافہ ہوتا ہے ۔ بدیع کو علم معنی بھی کہتے ہیں۔ اس علم کے تحت کلام میں استعمال ہونے والی مختلف صنعتوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔
صنائع بدائع کو شاعری کا زیور کہا گیا ہے۔ ان سے شعر کو لفظی اور معنوی دونوں اعتبار سے سجایا جاتا ہے۔
شعر میں صنعتوں کا استعمال بذات خود شاعری کا مقصد نہیں اور نہ ہی کسی صنعت کا استعمال شاعری کا اصل مقصد ہوتا ہے ۔ لیکن ان سے شعر کے حسن اور تاثر میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ شعر میں لفظی اور معنوی دو طرح کی خوبیاں (صنائع لفظی و معنوی) ہوتی ہیں۔
صنائع لفظی سے مراد وہ خوبیاں ہیں جو الفاظ کو خصوصی رعایت اور ہنر مندی کے ساتھ استعمال کرنے سے پیدا ہوتی ہیں۔ لفظی خوبیاں (صنائع لفظی ) ذہن کو کلام کی فکری ومعنوی خوبیوں کی طرف لے جائیں تو انھیں صنائع معنوی کہتے ہیں۔
تجنيس
یہ شعر غور سے پڑھیے ۔
گلے سے ملتے ہی جتنے گلِے تھے بھول گئے
وگرنہ یاد تھیں ہم کو شکایتیں کیا کیا
اس شعر میں لفظ گلے اور گلِے املا کے اعتبار سے ایک جیسے ہیں مگر تلفظ اور معنی کے اعتبار سے مختلف تجنیس کے لغوی معنی ہیں ایک جیسا / یکساں۔
کلام میں دو یا دو سے زیادہ ایسے الفاظ جو تلفظ یا املا کے لحاظ سے تو ایک جیسے ہوں ، مگر معنی کے اعتبار سے مختلف ہو تو شعر کی یہ خوبی ، حسن صنعت تجنیس کہلاتی ہے۔
ذیل میں صنعت تجنیس کی کچھ اور مثالیں پڑھیے ۔
دل میں پیدا ہمتِ پروانہ کر
ورنہ مرغِ شوق کے پروانہ کر
آدمی کہتے ہیں جس کو ایک پتلا کل کا ہے
پھر کہاں کل اس کو گر کل ہو ذرا بگڑی ہوئی
لف ونش
غالب کا یہ شعر پڑھیے ۔
نہ ہمت نہ دل ہے نہ قسمت نہ آنکھیں
نہ ڈھونڈا، نہ سمجھا، نہ پایا، نہ دیکھا
یہاں پہلے مصرعے میں ہمت، دل، قسمت اور آنکھیں الفاظ ایک ساتھ استعمال کیے گئے ہیں۔ پھر ان
کی مناسبت سے دوسرے مصرعے میں وضاحت کی گئی ہے۔ ہمت کے لیے ڈھونڈا ، دل کے لیے سمجھا، قسمت کے تعلق سے پایا اور آنکھیں کے واسطے دیکھا، الفاظ لائے گئے ہیں۔ شعر میں اس سے معنوی خوبی پیدا ہوگئی ہے۔
شعر میں پہلے چند چیزوں کو ایک ترتیب سے بیان کرنا پھر ان کی مناسبت سے وضاحت کرنا، لف و نشر کہلاتا ہے۔
لف کے معنی ہیں پیٹنا اور نشر کے معنی ہیں پھیلانا۔ جیسا کہ پہلے مصرعے میں چند چیزوں کو ایک ترتیب سے بیان کیا گیا۔ یہ لف ہے۔ پھر ان کی مناسبت سے دوسرے مصرعے میں بات کو پھیلا یا گیا یہ نشر ہے۔ لف و نشر کی دو قسمیں ہیں۔ مرتب اور غیر مرتب – لف و نشر مرتب سے مراد یہ ہے کہ پہلے مصرعے میں الفاظ کی جو ترتیب ہو، اسی نسبت سے دوسرے مصرعے میں وضاحت کی جائے جیسا کہ اوپر کے شعر میں آپ نے دیکھا۔ لف و نشر غیر مرتب سے مراد یہ ہے کہ پہلے مصرعے کی ترتیب کے مطابق دوسرے مصرعے میں وضاحت اُسی ترتیب سے نہ ہو۔
میر انیس کا یہ شعر دیکھیے۔
چھپتی تھیں، بھاگی جاتی تھیں، گرتے تھے خاک پر
قبضوں سے تیغ ، جسم سے روحیں ، تنوں سے سر
چھتی تھیں ” جسم سے روحیں“ کے لیے ہے بھاگی جاتی تھیں، تیغ کے لیے اور گرتے تھے خاک پر سے مراد تنوں سے سر کا جدا ہو کر گرنا ہے۔ جو ترتیب پہلے مصرعے میں ہے اس کی وضاحت دوسرے مصرعے میں بدل گئی۔ اس ترتیب کا بدلنا لف و نشر غیر مرتب کہلاتا ہے۔
ایک اور شعر دیکھیے
کبھی جو زلف اٹھادے تو منہ نظر آئے
اس امید پہ گزری ہے صبح وشام ہمیں
پہلے مصرعے میں زلف اور پھر منہ کا ذکر ہے۔ دوسرے مصرعے میں صبح کا لفظ منہ کے لیے اور شام کا لفظ زلف کے لیے لائے ہیں یہاں بھی ترتیب بدل گئی۔
مراعاة النّظير
یہ شعر پڑھیے ۔
پتہ پتہ بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
پہلے مصرعے میں پتہ ، پھر بوٹا دوسرے مصرعے میں گل، اور باغ میں باہمی مناسبت ہے ۔
کلام میں پہلے ایک ایسا لفظ لانا جس کی مناسبت یا تعلق سے دوسرے الفاظ کسی ایک مصرعے یا شعر میں
جمع ہو جائیں، اسے مراۃ النّظیر کہتے ہیں۔
رعایتِ لفظی
اس شعر پر غور کیجیے ۔
پانی تھا آگ گرمیِ روز حساب تھی
ماہی جو سیخِ موج تک آئی کباب تھی
اس شعر میں پانی اور آگ میں تضاد ہے اور تضاد بھی تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔ دوسرے مصرعے میں پانی کی مناسبت سے ماہی (مچھلی) اور آگ کی مناسبت سے گرمی اور سیخ کے تعلق سے کباب کا ذکر ہوا ہے۔
شعر میں ایسی چیزیں جمع کرنا جن میں کوئی نہ کوئی تعلق ہو، خواہ آپس میں ضد ہو، اسے رعایت لفظی کہتے ہیں ۔
بظاہر مراعاۃ النّظیر اور رعایت لفظی اپنی لفظی خصوصیات کی بنا پر ایک ہی صنعت نظر آتی ہیں۔ لیکن مراۃ النّظیر میں تضاد یا متضاد الفاظ کا استعمال نہیں ہوتا ۔
کام میں باہمی مناسبت کے ساتھ لفظوں کا استعمال صنعت مراعاۃ النظیر کہلاتا ہے۔
اب کچھ اور مثالوں کے ساتھ اس صنعت کا لطف لیجیے ۔
کبھی شاخ و سبزه و برگ پر کبھی غنچہ وگل و خار پر
میں چمن میں چاہے جہاں رہوں مراحق ہے فصل بہار پر
صراحی ہے نہ صہبا ہے نہ کوئی جام ہے ساقی
ترے رندوں کی محفل میں خدا کا نام ہے ساقی
تضاد
میر کی غزل کا یہ مشہور شعر پڑھیے
یاں کے سپید وسیہ میں ہم کو دخل جو ہے سو اتنا ہے
رات کو رو رو صبح کیا اور دن کو جوں توں شام کیا
اس شعر میں ان لفظوں پر غور کیجیے
سپید سیہ ، رات دن ، صبح شام
شاعر نے ایسے الفاظ سے شعر کو سجایا ہے جو ایک دوسرے کی ضد ہیں۔
کلام میں ایسے الفاظ کا لانا جو ایک دوسرے کی ضد ہوں، تضاد کہلاتا ہے۔
ذیل کے اشعار میں بھی تضاد کا مزہ لیجیے ۔
نہ تو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیے
جہاں ہے تیرے لیے تو نہیں جہاں کے لیے
درد منّت کشِ دوا نہ ہوا
میں نہ اچھا ہوا، برا نہ ہوا
تلمیح
آپ کو افسر میرٹھی کی نظم کا یہ مصرعہ خوب یاد ہوگا
ع خضر کا کام کروں راہ نما بن جاؤں
یا پھر غالب کی غزل کا یہ شعر بھی آپ کے ذہن میں ہوگا۔
کیا وہ نمرود کی خدائی تھی
بندگی میں مرا بھلا نہ ہوا
ان دونوں مثالوں میں لفظ خضر اور نمروز آئے ہیں۔ حضرت خضر کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ بھولے بھٹکوں کو راستہ دکھاتے ہیں۔
نمرود ایک بادشاہ کا نام ہے جس نے اپنے دور میں خدائی کا دعویٰ کیا تھا۔ جب تک ان کے بارے میں نہ معلوم ہو شعر کا مفہوم واضح نہیں ہو سکتا۔
کلام میں جب کسی مشہور واقعہ شخص، مقام یا روایت کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے تو اسے تلمیح کہتے ہیں ۔
تلمیح کے استعمال سے شعر میں ایک بڑا مضمون مختصر لفظوں میں بیان ہو جاتا ہے۔
تلمیح کی کچھ اور مثالیں درج ذیل ہیں
ابن مریم ہوا کرے کوئی
میرے دکھ کی دوا کرے کوئی
اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیا
جام جم سے یہ مرا جامِ سفال اچھا ہے
نہ لازم نہیں کہ سب کو ملے ایک سا جواب
آؤ نہ ہم بھی سیر کریں کوہ طور کی
نہ گور سکندر نہ ہے قبرِ دار
مٹےِ نامیوں کے نشاں کیسے کیسے
حسن تعلیل
غالب کا یہ شعر پڑھیے ۔
سب کہاں کچھ لالہ وگل میں نمایاں ہوگئیں
خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں
غالب نے اس شعر میں مختلف قسم کے پھولوں کے کھلنے کا سبب یہ بتایا ہے کہ زمین کے اندر جو حسین چہرے اور ہستیاں دفن ہیں گویا انھیں کا عکس لالہ و گل میں نمایاں ہو گیا ہے۔
لالہ و گل یعنی پھولوں کا کِھلنا فطری عمل ہے مگر شاعر نے اس کا کچھ اور سبب بتایا ہے۔
شعر میں کسی بات کا وہ سبب بیان کرنا جو حقیقت میں اس کا سبب نہ ہو، حسن تعلیل کہلاتا ہے۔
صنعت حسن تعلیل کی کچھ اور مثالیں دیکھیے ۔
زیرِ زمیں سے آتا ہے جو گل سو زر بکف
قاروں نے راستے میں لٹایا خزانہ کیا
ہو دل فریب ایسا کہسار کا نظارہ
پانی بھی موج بن کر اُٹھ اُٹھ کے دیکھتا ہو
ابہام
اس شعر کو غور سے پڑھیے ۔
میکش کو ہوس ایاغ کی ہے
پروانے کو لَو چراغ کی ہے
اس شعر میں لفظ لَو کو پر غور کیجیے۔ اس کے ایک معنی ہیں شعلہ اور دوسرے معنی ہیں شوق / آرزو لیکن شاعر نے یہاں لو کو دوسرے معنی شوق / آرزو میں استعمال کیا ہے۔
کلام میں ایسے الفاظ کا استعمال جس کے دو معنی ہوں ایک قریب کے اور دوسرے دور کے اور شاعر کی مراد دور کے معنی سے ہو تو لفظ کا یہ استعمال ابہام کہلاتا ہے۔
ایہام کے لغوی معنی ہیں وہم میں ڈالنا شاعر اپنے کلام میں ایک ایسے لفظ سے وہم میں ڈالتا ہے جس کے دو معنی ہوتے ہیں۔ پڑھنے والا بظاہر قریب کے معنی سمجھتا ہے مگر شاعر دور کے معنی مراد لے کر اپنا مدعا بیان کرتا ہے۔
اب کچھ اور مثالیں دیکھیے ۔
کیوں منڈاتا ہے زلف کو پیارے
دیکھ تجھ کو کہیں گے سب مورکھ
نظر آتا نہیں وہ ماہ رو کیوں
گزرتا ہے مجھے یہ چاند خالی
مبالغہ
ان اشعار کو پڑھیے اور غور کیجیے
وعده شام پہ کی ہم نے عبث جاگ کے صبح
وہ اسی وقت نہ آتے اگر آنا ہوتا
تم سلامت رہو ہزار برس
ہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار
گرمی سے مضطرب تھا زمانہ زمین پر
بھُن جاتا تھا جو گرتا تھا دانہ زمین پر
ان اشعار میں بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔
پہلے شعر میں رات بھر جاگ کر صبح کرنا۔
دوسرے شعر میں ہزار برس جینے کی دعا دینا۔
تیسرے شعر میں گرمی کی شدت کا یہ حال کہ جو دانہ زمین پر گر جائے فوراً بھن جائے۔
کلام میں کسی حالت ، بات یا کیفیت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا، مبالغہ کہلاتا ہے۔
مبالغہ کی تین شکلیں ہیں
پہلے شعر میں رات بھر جاگ کر صبح کر دینا عقل اور عادت دونوں اعتبار سے ممکن ہے۔
مبالغہ کی یہ شکل کہ جب کوئی بات عقلی اور عملی دونوں طرح ممکن ہو، تبلیغ کہلاتی ہے۔
دوسرے شعر میں ہزار برس جینے کی دعا عقلی طور پر تو ممکن ہو سکتی ہے مگر عملی طور پر نہیں۔
مبالغہ کی یہ صورت جب کوئی بات عقلی طور پر تو ممکن ہو لیکن عملی طور پر ممکن نہ ہو، اسے اغراق کہتے ہیں ۔
تیسرے شعر میں گرمی کی شدت کا یہ بیان کہ دانہ زمین پر گرتے ہی بھن جائے یہ بات نہ عقلی طور پر صحیح ہے نہ عملی طور پر ممکن ہے۔
مبالغے کی یہ انتہائی شکل کہ جب کوئی بات عقلی اور عملی کسی طور پر بھی ممکن نہ ہو، غلو کہلاتی ہے۔
ذیل کی مثالوں میں مبالغے اور اس کی مختلف شکلوں کو پہچاہیے
مجمع میں تِل رکھنے کی جگہ نہ تھی ۔
جناب آپ کے تو بڑے ٹھاٹھ ہیں ، روز صبح کا ناشتہ دہلی میں تو کھانا لندن میں کھاتے ہیں ۔
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
پانی تھا آگ گرمئی روزِ حساب تھی
ماہی جو سیخِ مِوج تک آئی کباب تھی
سوال و جواب
سوال 1 ۔ علمِ بدیع کسے کہتے ہیں؟ اس کا مقصد بیان کیجیے۔
جواب ۔
علمِ بدیع وہ علم ہے جس کے ذریعے کلام کے لفظی اور معنوی حسن میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد شاعری یا نثر میں خوب صورتی، اثر اور زور پیدا کرنا ہے۔ اس میں مختلف صنعتوں کا استعمال کر کے کلام کو دل کش بنایا جاتا ہے۔
سوال 2 ۔ صنائعِ لفظی اور صنائعِ معنوی میں فرق واضح کیجیے۔
جواب ۔
وہ خوبیاں جو الفاظ کے ہنرمندانہ استعمال سے پیدا ہوں صنائعِ لفظی کہلاتی ہیں، جیسے تجنیس۔
وہ خوبیاں جو معنی اور خیال کی گہرائی سے تعلق رکھتی ہوں صنائعِ معنوی کہلاتی ہیں، جیسے تضاد، تلمیح اور حسنِ تعلیل۔
سوال 3 ۔ صنعتِ تجنیس کیا ہے؟ مثال کے ساتھ وضاحت کیجیے۔
جواب ۔
کلام میں ایسے دو یا دو سے زیادہ الفاظ کا آنا جو املا یا تلفظ میں ایک جیسے ہوں مگر معنی مختلف ہوں، تجنیس کہلاتا ہے۔
مثال ۔
گلے سے ملتے ہی جتنے گلِے تھے بھول گئے
یہاں گلے اور گلِے املا میں یکساں مگر معنی میں مختلف ہیں۔
سوال 4 ۔ لف و نشر سے کیا مراد ہے؟ اس کی اقسام بیان کیجیے۔
جواب ۔
شعر میں پہلے چند چیزوں کو ترتیب سے بیان کرنا اور پھر ان کی مناسبت سے وضاحت کرنا لف و نشر کہلاتا ہے۔
اس کی دو قسمیں ہیں ۔
لف و نشر مرتب ، جب وضاحت اسی ترتیب سے ہو۔
لف و نشر غیر مرتب ، جب وضاحت کی ترتیب بدل جائے۔
سوال 5 ۔ مبالغہ کیا ہے؟ اس کی تین شکلیں لکھئے۔
جواب ۔
کلام میں کسی بات یا کیفیت کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنا مبالغہ کہلاتا ہے۔
اس کی تین شکلیں ہیں ۔
تبلیغ، بات عقلی اور عملی دونوں طرح ممکن ہو۔
اغراق، بات عقلی طور پر ممکن ہو مگر عملی طور پر نہ ہو۔
غلو، بات نہ عقلی طور پر ممکن ہو نہ عملی طور پر۔
This post covers NCERT Class 12 Urdu Grammar Qawaid aur Insha, Chapter 18 Ilm-e-Badi‘, explaining how poetic beauty and impact are enhanced through rhetorical devices. It discusses major Sanāyi‘-e-Badī‘ such as Tajnees, Laf-o-Nashr, Mira‘at-un-Nazir, Riaayat-e-Lafzi, Tazaad, Talmih, Husn-e-Ta‘leel, Ihaam/Abhaam, and Mubaligha, with clear definitions and classical Urdu poetry examples for easy understanding.