NCERT Class 12 Urdu Grammar Chapter 19 – اردو قواعد اور انشاء

اردو کے افسانوی ادب کی تاریخ میں جن اصناف کی خاص اہمیت ہے، اُن میں ناول اور افسانے کے علاوہ داستان بھی شامل ہے۔ افسانوی ادب کی ان اصناف میں داستان سب سے قدیم ہے۔ بنیادی طور پر داستان کا فن بیانیہ کا فن ہے۔ جس کا زیادہ تعلق سننے سنانے سے ہے۔ اردو میں داستان گوئی کی روایت کسی نہ کسی طور پر آج بھی قائم ہے۔

داستان کے بارے میں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ داستان کسی ایک واقعہ پر مبنی نہیں ہوتی ، ایک قصے کے

بعد ہی دوسرا قصہ شروع ہو جاتا ہے اور ہر قصہ ایک خاص انجام کو پہنچتا ہے ۔ قصہ در قصہ کی یہ کیفیت داستان کو

ایک سلسلے وارلڑی کے طور پر قائم رکھتی ہے۔ اسی بنا پر داستان طویل ہوتی چلی جاتی ہے۔

داستان میں ایک مرکزی کردار ہوتا ہے ۔ کسی بڑی مہم کو سر کرنے کے لیے وہ کئی طرح کے خطرناک مرحلوں سے گزرتا ہے۔ جب وہ مہم سر ہو جاتی ہے تو ایک خاص منزل پر داستان اپنے انجام تک پہنچتی ہے۔ عام طور پر داستانوں کا انجام خوش گوار ہوتا ہے۔

داستان میں دلچسپی کو برقرار رکھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ سننے یا پڑھنے والے کے تحّیر اور تجسّ کو قائم رکھے۔ مافوق الفطرت عناصر اور کردار بھی تحیر کی فضا کو قائم رکھنے میں معاون ہوتے ہیں۔ داستان کو ایک کے بعد ایک کئی منتہاؤوں سے اسی لیے گزارا جاتا ہے اور اسی مناسبت سے موثر زبان استعمال کی جاتی ہے کہ داستان کی طوالت اکتاہٹ کا سبب نہ بن جائے۔

ناول ایک نثری بیانیہ ہے۔ جس کی طوالت کی کوئی حد مقرر نہیں ہے۔ مغرب ہی میں نہیں اردو میں بھی دو ہزار سے زیادہ صفحات پر پھیلے ہوئے ناول کی مثال ملتی ہے۔ بعض حضرات مختصر ناول کو ناولٹ بھی کہتے ہیں۔

ناول زندگی کی طرح وسیع ہوتا ہے۔ اس کے لیے کسی خاص موضوع کی کوئی قید نہیں ہے۔ زندگی کے ہر رنگ اور ہر تجربے کو موضوع بنایا جا سکتا ہے ۔ اسی لیے ناول کے فن کو لچک دار بھی کہا گیا ہے۔ لچک کی اسی بنیاد پر ہر ناول کی تکنیک بھی ایک دوسرے سے الگ ہوتی ہے۔ نقطہ نظر میں بھی فرق ہوتا ہے۔ اگر چہ ناول کی کسی ایک تعریف کو حتمی قرار نہیں دیا جا سکتا پھر بھی بعض ایسی خصوصیات ہیں جن کی کم یا زیادہ پابندی اکثر ناول نگاروں نے کی ہے۔

ناول میں ایک خاص فنی تنظیم کی ضرورت ہوتی ہے تا کہ اُس کے مختلف جُزوں میں بکھراؤ پیدا نہ ہو سکے۔

ناول میں پلاٹ ہی اُسے ایک خاص تنظیم مہیا کرتا ہے جس میں ہر واقعہ دوسرے واقعے کے ساتھ مربوط ہوتا ہے۔

ایسے ناول بھی لکھے گئے ہیں جنھیں پلاٹ سے عاری کہا جاتا ہے یا جو ڈھیلے پلاٹ پر مبنی ہوتے ہیں۔

ناول ایک جدید فن ہے جسے جدید عہد کا رزمیہ بھی کہا گیا ہے۔ ناول کے کردار حقیقت سے زیادہ قریب ہوتے ہیں۔ بعض کردار موضوع کے تقاضے کے مطابق ٹائپ یا جامد بھی کہے جاسکتے ہیں۔ کردار اس وقت ایک فرد کی شکل لے لیتا ہے جب وہ اپنی انفرادیت کا احساس دلاتا ہے۔ ایک زندہ کردار میں وقت، حالات یا کسی نفسیاتی جبر کے تحت تبدیلیاں بھی واقع ہوتی ہیں۔ زندہ کردار ہی کسی کامیاب ناول کے ضامن ہوتے ہیں۔

ناول میں جزئیات نگاری کا بھی خاص درجہ ہے، جسے صورت حال اور موضوع کے مطابق ہونا چاہیے۔ ناول نگار موقع کی مناسبت سے ایک ایک جُز کی تفصیل بیان کرتا ہے۔ اس قسم کی تفصیلات کردار اور صورت حال کو معنی خیز بنانے میں معاون ہوتی ہیں۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ جزئیاتی تفصیل صورت حال اور موضوع کے مطابق ہونی چاہیے۔

ناول میں زبان و بیان یا اسلوب کی بھی خاص اہمیت ہے جس سے سلیقہ اظہار کا پتہ چلتا ہے۔

ناول کی زبان کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ تخلیقی ہونے کے باوجود اپنے عہد کی زبان سے مطابقت رکھتی ہو۔

ہر ناول کا ایک نقطہ نظر ہوتا ہے ، جو اس کے موضوع اور مقصد کی ترجمانی کرتا ہے۔

اردو میں افسانے کو مختصر افسانہ یا کہانی بھی کہا جاتا ہے۔ اردو افسانوی ادب کی تاریخ میں داستان کے بعد ناول، پھر افسانے کی منزل آتی ہے۔ افسانہ ایک مقبول ترین صنف ہے جسے ایک نشست میں پڑھا جاسکتا ہے۔ ناول اگر زندگی کے ایک دور کا احاطہ کرتا ہے تو افسانہ زندگی کے کسی ایک پہلو یا ایک انسانی تجربے پر مبنی بھی ہو سکتا ہے۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ کسی ایک واقعے یا اس واقعے کے تاثر کی بنیاد پر افسانے کی عمارت کھڑی کی جاتی ہے۔

افسانہ کے فن میں پلاٹ، کردار، تکنیک اور زبان واسلوب کی خاص اہمیت ہے۔ پلاٹ، واقعے کی ایسی ترتیب ہے جس میں افسانے کے تمام اجزا باہم مربوط ہوتے ہیں۔ اردو میں بغیر پلاٹ کے افسانے بھی لکھے گئے ہیں ۔

افسانے میں اختصار کی خاص اہمیت ہے، اس لیے اکثر افسانے کسی ایک کردار پر مرکوز ہوتے ہیں۔ کرداروں کی بہتات افسانے کو بوجھل اور غیر دلچسپ بنا دیتی ہے، اس لیے افسانے میں کردار بھی کم ہوتے ہیں یا صرف ایک ہی کردار ہوتا ہے۔

چوں کہ افسانہ ایک بیانیہ صنف بھی ہے، اس لیے افسانے میں تکنیک کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔

افسانہ نگار جب خود کہانی بیان کرتا ہے تو اس میں آپ بیتی کا رنگ آجاتا ہے۔ ایسے افسانوں میں خود کلامی کا عنصر بھی حاوی ہوتا ہے ۔ تکنیک میں افسانے کی ابتدا اور انتہا بھی خاص معنویت رکھتی ہے۔ افسانے کا آغاز ایسا ہونا چاہیے کہ وہ قاری کو فوراً اپنی گرفت میں لے لے۔ یہ بات بھی اپنی جگہ اہمیت رکھتی ہے کہ افسانے کا تعلق کس زماں اور مکان سے ہے۔ کوئی بھی افسانہ وقت اور مقام کی قید سے آزاد نہیں ہو سکتا۔

زبان کے سلسلے میں بھی ہر افسانے کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں۔ افسانے کی زبان تخلیقی ہونی چاہیے۔

استعاراتی اور علامتی زبان کے استعمال میں احتیاط ضروری ہے کہ افسانے کا مقصد فوت نہ ہونے پائے اور افسانہ معما نہ بننے پائے۔

ڈراما بنیادی طور پر اسٹیج کا فن ہے۔ ڈراما لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ اسے کر کے دکھایا جائے۔

ڈرامے کی روایت قدیم ہے۔ یہ ایک مقبول صنف ہے۔ داستان، ناول اور افسانہ کی زیادہ تر خوبیاں جیسے کردار نگاری، قصہ گوئی، مکالمہ نگاری، ڈرامے میں بھی پائی جاتی ہیں ۔ مگر ڈراما ان سب سے الگ پہچان بھی رکھتا ہے۔ ڈراما میں ہم جیتے جاگتے کرداروں کو عمل کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ ڈراما نگار انھیں جس طرح پیش کرتا ہے ، ہم انھیں اسی طرح قبول کرتے ہیں۔ یعنی ناظرین سے اس کا سیدھا رشتہ قائم ہو جاتا ہے۔

اسٹیج ڈراموں نے اب کافی ترقی کر لی ہے۔ یعنی اسٹیج ڈرامے کے علاوہ نکڑ ناٹک، ریڈیو ڈراما اور ٹیلی ویژن ڈرامے کی بھی ایک مستحکم روایت بن چکی ہے۔

یہ اپنے نام کی مناسبت سے کسی چورا ہے، بازاری کی بھی کھلی ہوئی جگہ پر کھیلا جاتا ہے۔ ڈراما گروپ کے ذریعے پہلے گانا گا کر ، ڈھول بجا کر یا اعلان کر کے بھیٹر جمع کی جاتی ہے۔ جب ناظرین جمع ہو جاتے ہیں تو پھر بھیڑ سے نکل کر کردار ڈراما پیش کرنے لگتے ہیں۔

ریڈیو ڈراما کا ناظرین کے بدلے سامعین سے رشتہ ہوتا ہے۔ یعنی کرداروں کی بات چیت صوتی تاثر اسے اور موسیقی کے وسیلے سے جو ڈراما ہم تک پہنچتا ہے اُسے ریڈیو ڈراما کہتے ہیں۔

ٹیلی ویژن ڈراما متحرک تصویروں کے ذریعے پیش کیا جاتا ہے۔ اردو کے اولین ڈرامے خورشید اور واجد علی شاہ کے رہس ہیں۔ امانت کی اندر سبھا ، بھی اسی زمانے میں لکھی گئی جو بے حد مقبول ہوئی۔ بعد میں پارسی تھیٹر کی وجہ سے اردو ڈرامے کو بہت فروغ ہوا۔ انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے نصف اول میں احسن لکھنوی، پنڈت نرائن پرشاد بیتاب، طالب بنارسی ، آغا حشر کا شمیری کے ڈرامے بہت مشہور ہوئے ۔ امیتاز علی تاج کا ڈراما انار کلی پہلا معروف ادبی ڈراما ہے۔ بیسویں صدی میں پروفیسر محمد مجیب، ڈاکٹر عابد حسین اور فضل الرحمن کے ڈراموں نے غیر معمولی شہرت پائی۔ موجودہ دور میں حبیب تنویر، ابراهیم یوسف، ڈاکٹر محمد حسن اور ریوتی سرن شرما کے نام بہت معروف ہیں۔

مضمون ایک غیر افسانوی نثری صنف ہے۔ اس صنف میں کسی موضوع پر مربوط انداز میں اظہار خیال کیا جاتا ہے۔ اس کے لیے موضوع کی کوئی قید نہیں ہے ۔ مضمون نگار کسی بھی موضوع پر مضمون لکھ سکتا ہے۔ مضمون میں خیالات کا تسلسل ضروری ہے۔ موضوع کے اعتبار سے مضمون کی مختلف اقسام ہیں۔ جیسے عملی، ادبی، سیاسی، سماجی ، مذہبی اور معلوماتی مضامین وغیرہ۔

اردو میں مضمون نگاری کا آغاز انیسویں صدی کے وسط سے ہوا۔ سرسید اور ان کے معاصرین نے سماجی اصلاح کے ایک وسیلے کے طور پر مضمون لکھے۔ اس عہد میں عوام میں ذہنی بیداری پیدا کرنے کے لیے مضامین لکھے گئے ۔ مولانا الطاف حسین حالی ، شبلی نعمانی، محمد حسین آزاد، ذکاء اللہ اور امیر ناصر علی نے معاشرت، تہذیب، مذہب ، ادب اور دیگر موضوعات پر مضامین لکھے۔ عبدالحلیم شرر نے تاریخی موضوعات پر مضامین لکھے۔ مولوی عبدالحق ، مولانا ابوالکلام آزاد، وحید الدین سلیم اور سید سلیمان ندوی وغیرہ نے علمی وادبی مضامین کے ساتھ تحقیقی ، تنقیدی اور لسانی موضوعات پر بھی مضامین لکھے۔ مہدی افادی ، سجاد انصاری، نیاز فتحپوری ، مولانا عبد الماجد دریا آبادی، منشی پریم چند، سجاد حیدر یلدرم، سلطان حیدر جوش، مجنوں گورکھپوری کے مضامین بھی بہت معروف ہیں اور وسیع حلقوں میں پسند کیے جاتے ہیں ۔

مضمون نگاری کی صنف مقبول عام صنف ہے۔ اس میں کسی بھی موضوع پر اظہار خیال کی پوری آزادی حاصل ہے۔ اسی لیے مضمون نگاری کا فن مستقل ترقی کر رہا ہے اور آج بھی مختلف موضوعات پر عمدہ مضامین لکھے جارہے ہیں۔

انشائیہ نثری ادب کی ایک اہم صنف یہ انگریزی کے لائٹ مضمون یا پرسنل مضمون کی اردو شکل ہے۔ انشائیہ علمی یا معلوماتی مضمون سے مختلف ہوتا ہے۔ اس کا مقصد اطلاعات فراہم کرنا نہیں ہوتا اور نہ ہی مضمون کی طرح اس میں کسی خاص ترتیب کا خیال رکھا جاتا ہے بلکہ اس کا مقصد مسرت اور لطف فراہم کرنا ہوتا ہے۔ انشائیہ میں مضمون کے برعکس جذبات اور تخیل کا سہارا لیا جاتا ہے اور زندگی کے گہرے تجربات کو ہلکے پھلکے شگفتہ، دلکش اور تخلیقی انداز میں بیان کیا جاتا ہے۔ انشائیہ من کی ایک موج یا ایک جذباتی ترنگ ہے۔

سرسید احمد خان، محمد حسین آزاد، خواجہ حسن نظامی، وزیر آغا د وغیرہ اردو کے اہم انشائیہ نگار ہیں۔ اردو کے معروف مزاح نگاروں میں فرحت اللہ بیگ، رشید احمد صدیقی ، شوکت تھانوی، پطرس بخاری، ملا رموزی، شفیق الرحمن، مشتاق احمد یوسفی اور یوسف ناظم وغیرہ کے انشائیے بھی دلچسپی سے پڑھے جاتے ہیں۔

سوانح میں عام طور پر کسی مشہور اور ممتاز ہستی کے حالات زندگی اور اس کے کارناموں کی روداد بیان کی جاتی ہے۔ مواد کے اعتبار سے یہ تاریخ سے زیادہ قریب ہے کیوں کہ اس میں اُس شخص کی پیدائش سے وفات تک ، زندگی کے بیشتر واقعات ایک خاص ترتیب سے سامنے آتے ہیں۔ سوانح میں کسی شخص کی زندگی کے ساتھ ساتھ اس دور کی تاریخی سیاسی، معاشی اور معاشرتی صورت حال کا بیان بھی ہو سکتا ہے۔

اردو کے مختلف تذکروں میں بعض شعرا کے حالات زندگی کا ذکر ہو جاتا تھا لیکن سوانح نگاری کو ایک صنف کی ادبی حیثیت حالی اور شبلی نے عطا کی۔ حالی نے حیات سعدی، یادگار غالب اور حیات جاوید جیسی سوانح عمریاں لکھیں۔ شبلی نعمانی نے مذہبی و تاریخی شخصیات کو سوانح عمریوں کا موضوع بنایا ۔ اس سلسلے میں ان کی مشہور سوانح المامون، الفاروق، سيرة النعمان، الغزالی اور سیرة النبیﷺ ہے۔ سیرۃ النبیﷺ کی تکمیل شبلی کے انتقال کے بعد سید سلیمان ندوی نے کی۔

منشی ذکاء اللہ ، عبدالرزاق کانپوری، عبدالحلیم شرر ، مولانا اسلم جیراج پوری، سید سلیمان ندوی، رئیس احمد جعفری، شیخ محمد اکرام ، عبد السلام ندوی، غلام رسول مہر، سر رضا علی، اور قاضی عبد الغفار نے مذہبی، علمی ، ادبی اور سیاسی شخصیات کی سوانح عمریاں لکھیں۔

بعض شخصیات نے اپنے حالات زندگی خود تحریر کیے ہیں۔ ایسی سوانح نگاری کو آپ بیتی یا خود نوشت کہتے ہیں۔ اردو میں متعدد قلم کاروں اور سیاسی شخصیتوں نے آپ بیتیاں لکھیں ہیں ان میں مولانا محمد جعفر تھانیسری کی آپ بیتی کالا پانی اور مولانا ابوالکلام آزاد کا تذکرہ اور جوش صلح آبادی کی یادوں کی برات، اردو کی معروف خود نوشت سوانح عمریاں ہیں۔

خاکہ نگاری ایسی نثری صنف ہے جس میں کسی شخصیت کے نقوش اس طرح ابھارے جاتے ہیں کہ اس کی خوبیاں اور خامیاں اُجاگر ہو جاتی ہیں اور قاری کے سامنے ایک جیتی جاگتی تصویر آجاتی ہے ۔ سوانح کے مقابلے میں خاکے میں کسی شخصیت کے حالات زندگی کا بیان بالترتیب نہیں ہوتا بلکہ صرف وہ نقوش ہوتے ہیں جن سے اس کی شخصیت نمایاں ہوتی ہے۔ ایک اچھے خاکے میں جس شخص کا خاکہ پیش کیا جاتا ہے اُس کی کمزرویوں یا خامیوں کا بیان اس طرح نہیں ہوتا کہ اُس شخصیت کی منفی تصویر سامنے آئے۔

ایک اچھا خاکہ نگار شخصیت سے مرعوب ہوئے بغیر اس کی خوبیاں اور خامیاں دلچسپ اور شگفتہ انداز میں بیان کرتا ہے۔

اردو میں خاکہ نگاری کا باقاعدہ آغاز تو بیسویں صدی میں ہوا لیکن اُس سے پیشتر شعرا کے تذکروں میں بعض شعرا کی شخصیتوں کی جھلکیاں نظر آتی ہیں۔ خاص طور پر محمد حسین آزاد کی کتاب آب حیات میں شعرا کی شخصیت کے جو نقوش اُبھارے گئے ہیں وہ خاکہ نگاری سے بہت قریب ہیں۔

مرزا فرحت اللہ بیگ نے اپنے استاد کا خاکہ نذیر احمد کی کہانی کچھ ان کی اور کچھ میری زبانی کے عنوان سے لکھا جو خاکہ نگاری کا شاہکار ہے۔ مولوی عبدالحق ، رشید احمد صدیقی ، سعادت حسن منٹو، عصمت چغتائی ، شوکت تھانوی، آغا حیدر حسن، شاہد احمد دہلوی تخلص بھوپالی، اشرف صبوحی، احمد بشیر، محمد طفیل، یوسف ناظم اور محبتی حسین نے بڑی تعداد میں خاکے لکھے ہیں۔

رپورتاژ نثر کی ایک جدید صنف ہے۔ رپورتاژ فرانسیسی زبان کا لفظ ہے۔ اس سے مراد ہے کہ کسی حقیقی واقعے کی خبر یا رپورٹ اس طرح تیار کی جائے کہ اس میں افسانے کا انداز پیدا ہو جائے۔ اس لیے اسے صحافت اور افسانے کی درمیانی کڑی کہا گیا ہے۔ یعنی چشم دید واقعات اتنے دلچسپ انداز میں بیان کیے جائیں کہ سچا واقعہ کہانی سا لگے۔

ترقی پسند تحریک کے زیر اثر اس صنف کا فروغ ہوا۔ انجمن ترقی پسند مصنفین کے جلسوں کی روداد حمید اختر نے افسانوی اور محاکاتی انداز میں تحریر کیں جو اخبار ہفت روزہ نظام میں شائع ہوئی۔ بظاہر یہ ان جلسوں کی رپورٹیں تھیں لیکن ان رپورٹوں میں قلم کار کے ذاتی تاثرات اور رنگ آمیزی نے انھیں ایک دلچسپ روداد بنا دیا۔

رپورتاژ نگار واقعات کو اتنے دلچسپ پیرائے میں پیش کرتا ہے کہ رپورتاژ انشائیہ اور خاکے کی حدوں کو چھو لیتا ہے۔

سجاد ظہیر نے یادیں کے عنوان سے رپورتاژ لکھا۔ کرشن چندر، عادل رشید، عصمت چغتائی، خواجہ احمد عباس، شاہد احمد دہلوی، فکر تونسوی، ابراہیم جلیس، ممتاز مفتی ظفر انصاری، قدرت اللہ شہاب، خدیجہ مستور جمنا داس اختر ، صفیہ اختر اور قرۃ العین حیدر نے بھی رپورتا ژلکھ کر اس صنف کو استحکام بخشا۔

اردو نثر میں سفرنامے نے بھی اب ایک باضابطہ صنف کی حیثیت اختیار کرلی ہے یہ ایک ایسی صنف ہے جس میں مصنف اپنے سفر کے احوال اور تجربات تخلیقی انداز میں بیان کرتا ہے۔

سفرنامہ لکھنے کے لیے کوئی خاص اصول یا تکنیک متعین نہیں ہے۔ مگر اسلوب ایسا ہونا چاہیے کہ پڑھنے والے کی دلچسپی قائم رہے۔ سفر کے دوران جو تجربات ، مشاہدات اور احساسات ہوتے ہیں، سفرنامہ لکھنے والا انھیں اپنی یادداشت کے لیے ڈائری کی شکل میں نوٹ کرتا رہتا ہے اور سفر ختم ہونے کے بعد انھیں کی مدد سے اپنا سفر نامہ مرتب کرتا ہے۔ سفرنامے میں گاؤوں شہروں ملکوں کی تاریخ، جغرافیہ، سیاسی، سماجی حالات ، موسم اور مناظر وہاں کے باشندوں کے رہن سہن ، کھانے، پینے کے طریقوں اور وہاں کی رسموں اور روایتوں کا ذکر ہو سکتا ہے۔ سفرنامہ لکھنے والا اکثر و بیشتر اپنے سفرنامے کو دلچسپ بنانے کے لیے رنگین بیانی، افسانہ طرازی، مبالغہ آرائی سے بھی کام لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سفرنامے کی اپنی مخصوص فضا ہوتی ہے۔

اردو کا پہلا سفرنامہ عجائبات فرنگ 19 ویں صدی میں لکھا گیا اس کے مصنف یوسف خاں کمبل پوش تھے۔ سرسید احمد خان، شبلی نعمانی، خواجہ حسن نظامی، عبد الماجد دریا آبادی، قاضی عبد الغفار ، احتشام حسین، قرۃ العین حیدر، صالحہ عابد حسین ، رام لعل، ابن انشاء ممتاز مفتی مستنصر حسین تارڑ ، بیگم اختر ریاض نے دلچسپ اور معلومات افزا سفرنامے لکھے ہیں۔

داستان اردو افسانوی ادب کی سب سے قدیم صنف ہے۔ یہ بنیادی طور پر بیانیہ کا فن ہے اور سننے سنانے سے جڑا ہوتا ہے۔ داستان میں ایک مرکزی کردار ہوتا ہے جو کسی بڑی مہم کو سر کرنے کے لیے خطرناک مراحل سے گزرتا ہے اور قصے در قصے ایک سلسلے وار طویل بیانیہ پیش کرتی ہے۔ دلچسپی برقرار رکھنے کے لیے مافوق الفطرت عناصر اور متعدد منتهاؤں کا استعمال کیا جاتا ہے اور عام طور پر اس کا انجام خوشگوار ہوتا ہے۔

ناول ایک طویل نثری بیانیہ ہوتا ہے جس کی طوالت کی کوئی حد نہیں اور یہ زندگی کے ہر پہلو یا تجربے کو موضوع بنا سکتا ہے۔ ناول میں پلاٹ، کردار، جزئیات نگاری اور زبان و بیان کی اہمیت ہوتی ہے۔
افسانہ (مختصر افسانہ یا کہانی) نسبتاً مختصر ہوتا ہے، ایک نشست میں پڑھا جا سکتا ہے اور زندگی کے کسی ایک پہلو یا واقعے پر مبنی ہوتا ہے۔ افسانہ میں کردار کم ہوتے ہیں اور پلاٹ، تکنیک اور زبان کی اختصار پر زور دیا جاتا ہے۔

ڈراما بنیادی طور پر اسٹیج کا فن ہے اور اسے کر کے دکھایا جاتا ہے۔ اس میں جیتے جاگتے کردار، پلاٹ، مکالمے اور اداکاری شامل ہوتے ہیں۔
ڈرامے کی اقسام ۔

اسٹیج ڈراما ۔  تھیٹر یا کھلی جگہ پر پیش کیا جاتا ہے۔

نکڑ ناٹک ۔  بازاری جگہ پر گانے، ڈھول اور اعلان کے ذریعے پیش کیا جاتا ہے۔

ریڈیو ڈراما ۔  سامعین کے لیے صوتی تاثر کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔

ٹیلی ڈراما ۔  متحرک تصویروں کے ذریعے ٹیلی ویژن پر نشر کیا جاتا ہے۔

مضمون کسی موضوع پر مربوط انداز میں اظہار خیال ہے اور اس میں خیالات کا تسلسل ضروری ہوتا ہے۔ یہ علمی، ادبی، سیاسی، سماجی، مذہبی یا معلوماتی ہو سکتا ہے۔
انشائیہ ایک شخصی یا ہلکے پھلکے انداز کا نثری مضمون ہے، جس میں جذبات اور تخیل کا استعمال ہوتا ہے۔ اس کا مقصد معلومات فراہم کرنا نہیں بلکہ لطف اور مسرت دینا ہوتا ہے۔

سوانح ۔  کسی مشہور یا ممتاز شخصیت کی پیدائش سے وفات تک زندگی اور کارناموں کی روداد ہوتی ہے، اور اس میں تاریخی، سیاسی، معاشرتی حالات بھی شامل ہو سکتے ہیں۔

خاکہ ۔  کسی شخصیت کے نقوش، خوبیوں اور خامیوں کو نمایاں کرنے والا مختصر بیانیہ ہے۔ سوانح کے برعکس، خاکہ میں زندگی کی ترتیب ضروری نہیں اور یہ جیتی جاگتی تصویر پیش کرتا ہے۔

This post explains NCERT Class 12 Urdu Grammar Qawaid aur Insha, Chapter 19, covering major prose genres of Urdu literature such as Dastan, Novel, Short Story, Drama, Essay, Inshaiya, Biography, Sketch, Reportage, and Travelogue. It highlights their definitions, key features, differences, and important Urdu writers, providing a clear and structured overview for students and exam preparation.

Scroll to Top