سلام بن رزاق
سلام بن رزاق مہاراشٹر کے پن ویل میں 15 نومبر 1941 کو پیدا ہوئے۔ ان کی تعلیم ڈپلوما اِن ایجوکیشن تک ہے۔ انہوں نے بمبئی میونسپل کارپوریشن کے اسکولوں میں 35 برس تک استاد کے طور پر کام کیا اور 1999 میں ریٹائر ہوئے۔ اس وقت سلام بن رزاق بمبئی میں رہتے ہیں۔
1964میں ان کا پہلا افسانہ شائع ہوا۔ دنگی دو پہر کا سپاہی 1977، معبر1987 اور شکستہ بتوں کے درمیان 2001 ان کے افسانوں کے مجموعے ہیں۔ انہوں نے مراٹھی زبان سے ماہم کی کھاڑی اور شری پاد کرشن کول ہشکر کی کتابوں کا اردو میں ترجمہ کیا۔ ہندی میں ان کے افسانوں کا مجموعہ کام دھینو 1988 میں شائع ہوا۔ نیشنل بک ٹرسٹ نے 1995 میں ان کی مرتب اور ترجمہ کی ہوئی کتاب عصری ہندی کہانیاں شائع کی۔ 1998 میں انہیں ساہتیہ اکادمی کا ترجمہ ایوارڈ ملا۔ مہاراشٹر، اتر پردیش اور بہار اردو اکادمیوں نے بھی انہیں کئی بار انعامات دیے۔ 2004 میں شکستہ بتوں کے درمیان کے لیے انہیں ساہتیہ اکادمی انعام ملا۔
جدیدیت کے بعد جو نئے افسانہ نگار سامنے آئے، ان میں سلام بن رزاق کو ایک اہم اور معتبر لکھنے والا مانا جاتا ہے۔ انہوں نے علامتی انداز کے ساتھ صاف اور واضح بات کہنا سکھایا۔ ان کا ماننا ہے کہ روایتی افسانے کی خوبی آج بھی باقی ہے، اور اگر اسے نئے افسانوں میں شامل کیا جائے تو اچھے نتائج نکل سکتے ہیں۔ انہیں اپنے کرداروں کے دل و دماغ کو گہرائی سے سمجھنے کی خاص صلاحیت حاصل ہے۔ ان کے زیادہ تر کردار ہماری روزمرہ زندگی سے لیے گئے ہیں۔ وہ کمزور اور مشکل حالات میں پھنسے لوگوں کے حق میں لکھتے ہیں، جس سے ان کی عوام دوست سوچ ظاہر ہوتی ہے۔
سلام بن رزاق نے خاص طور پر ایسے کرداروں پر توجہ دی ہے جن کے ساتھ قدرت یا حالات نے انصاف نہیں کیا۔ ان کی زندگیاں الجھی ہوئی ہوتی ہیں اور وقت کے ظلم نے انہیں بدل دیا ہے۔ اس کے باوجود سلام بن رزاق ان کے ساتھ انسانی ہمدردی اور اچھے برتاؤ کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنے افسانوں میں فسادات اور بدلتے ہوئے سماجی اور مذہبی حالات کو بھی سنجیدگی سے پیش کیا ہے۔
ابراهيم سقّہ کا خلاصہ
یہ افسانہ ایک حساس اور باخبر راوی کی یادوں پر قائم ہے، جو پچیس برس بعد ایک دیہی اسکول کے معائنے کے لیے واپس آتا ہے۔ اس واپسی کے دوران گاؤں، اسکول اور قبرستان اسے ماضی کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں، جہاں اس کی زندگی کا ایک نہایت دردناک اور سبق آموز واقعہ دفن ہے۔
راوی جب پہلی بار ایک نوجوان مدرس کی حیثیت سے دھورن گاؤں میں تعینات ہوتا ہے تو اسے گاؤں کی سادہ مگر سخت زندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسی گاؤں میں اس کی ملاقات ابراہیم سقّہ (ابو) سے ہوتی ہے جو پیشے کے لحاظ سے پانی بھرنے والا ایک غریب نوجوان ہے۔ ظاہری طور پر ابراہیم ایک عام سا، کم تعلیم یافتہ اور معمولی انسان دکھائی دیتا ہے، مگر آہستہ آہستہ اس کی شخصیت کے پوشیدہ پہلو سامنے آتے ہیں۔ وہ شاعری کا شوق رکھتا ہے، مطالعہ کرنا چاہتا ہے اور علم و ادب سے فطری لگاؤ رکھتا ہے، حالاں کہ اس کے حالات اسے اس راستے پر آگے بڑھنے نہیں دیتے۔
ابراہیم کی شخصیت کی سب سے اہم خوبی اس کی غیر معمولی خودداری ہے۔ وہ کسی کا بچا ہوا کھانا قبول نہیں کرتا اور محنت کی کمائی کو ہی عزت کی روٹی سمجھتا ہے۔ یہی خودداری راوی کے دل و دماغ کو جھنجھوڑ دیتی ہے اور اسے اپنی سہولت پسندی، مصلحت پسندی اور سماجی رویّوں پر نظر ثانی پر مجبور کر دیتی ہے۔ اس واقعے کے بعد راوی بیدار خان دیش مکھ جیسے بااثر مگر ظالم لوگوں سے فاصلہ اختیار کر لیتا ہے، جن کا گاؤں میں سخت رعب و دبدبہ ہے اور جن کے خوف سے لوگ سچ بولنے کی ہمت نہیں کرتے۔
افسانے کا الم ناک موڑ اس وقت آتا ہے جب بیدار خان دیش مکھ کی بہن کی موت واقع ہوتی ہے۔ گاؤں میں یہ افواہ پھیلتی ہے کہ وہ ایک شخص سے محبت کرتی تھی اور اسی محبت کے انکشاف کے بعد اسے ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں اس نے جان دے دی یا اسے مار دیا گیا۔ بعد کے واقعات سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ وہ شخص ابراہیم سقّہ ہی تھا، جو اس عورت سے سچی محبت رکھتا تھا مگر سماجی دباؤ، طبقاتی فرق اور ظلم کے سامنے بے بس ثابت ہوا۔
اسی صدمے، خوف اور اندرونی اذیت کے باعث ابراہیم کی موت ہو جاتی ہے۔ اس کی لاش قبرستان میں ایک تازہ قبر سے لپٹی ہوئی ملتی ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ ایک بااخلاق، خوددار اور حساس انسان اس بے رحم سماج میں زندہ نہ رہ سکا۔ اس کی موت محض ایک فرد کی موت نہیں بلکہ انسانی قدروں، محبت اور سچائی کی شکست ہے۔
افسانے کے آخر میں راوی پچیس برس بعد اسی قبرستان میں کھڑا ہے۔ ابراہیم کی یادیں، اس کی خودداری، اس کا کردار اور اس کا انجام راوی کے دل پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔ یہ افسانہ قاری کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ اصل عظمت دولت، طاقت اور رتبے میں نہیں بلکہ انسان کی اخلاقی بلندی، خودداری اور سچائی میں ہے۔ ساتھ ہی یہ افسانہ طبقاتی ناانصافی، سماجی جبر اور انسان کی تنہائی کو نہایت مؤثر اور دردناک انداز میں پیش کرتا ہے۔
معروضی سوالات
سوال 1 ۔ افسانہ ابراہیم سقّہ کے مصنف کون ہیں؟
الف) شفیع جاوید
ب) سلام بن رزاق
ج) احمد ندیم قاسمی
د) راجندر سنگھ بیدی
جواب ۔ ب) سلام بن رزاق
سوال 2 ۔ راوی دھورن گاؤں میں کس حیثیت سے آیا تھا؟
الف) تحصیلدار
ب) پولیس انسپکٹر
ج) مدرس
د) تاجر
جواب ۔ ج) مدرس
سوال 3 ۔ ابراہیم سقّہ کا پیشہ کیا تھا؟
الف) کسان
ب) مزدور
ج) بھشتی (پانی بھرنے والا)
د) دکاندار
جواب ۔ ج) بھشتی (پانی بھرنے والا)
سوال 4 ۔ ابراہیم کو گاؤں میں کس نام سے پکارا جاتا تھا؟
الف) شیخ
ب) ابو
ج) اللہ رکھا
د) سلیم
جواب ۔ ب) ابو
سوال 5 ۔ ابراہیم سقّہ کس چیز کو کھانے سے صاف انکار کر دیتا ہے؟
الف) دال روٹی
ب) گوشت
ج) بچا ہوا کھانا
د) باری کا کھانا
جواب ۔ ج) بچا ہوا کھانا
سوال 6 ۔ بیدار خان دیش مکھ گاؤں میں کس حیثیت سے جانا جاتا تھا؟
الف) اسکول ماسٹر
ب) مسجد کا متولی
ج) زمیندار
د) سرپنچ
جواب ۔ ب) مسجد کا متولی
سوال 7 ۔ بیدار خان دیش مکھ کی بہن کی موت کیسے ہوئی؟
الف) بیماری سے
ب) حادثے سے
ج) کنویں میں گر کر
د) زہر کھا کر
جواب ۔ ج) کنویں میں گر کر
سوال 8 ۔ ابراہیم سقّہ کو کہاں مردہ پایا گیا؟
الف) کنویں کے پاس
ب) مسجد میں
ج) کھیت میں
د) قبرستان میں تازہ قبر سے لپٹا ہوا
جواب ۔ د) قبرستان میں تازہ قبر سے لپٹا ہوا
سوال 9 ۔ افسانے میں ابراہیم سقّہ کس انسانی قدر کی علامت بن کر ابھرتا ہے؟
الف) دولت
ب) طاقت
ج) خودداری
د) چالاکی
جواب ۔ ج) خودداری
سوال 10۔ افسانے کے آخر میں راوی کتنے برس بعد دوبارہ گاؤں آتا ہے؟
الف) دس برس
ب) پندرہ برس
ج) بیس برس
د) پچیس برس
جواب ۔ د) پچیس برس
آپ بتائیے
سوال 1 ۔ سلام بن رزاق کو کس سال ساہتیہ اکادمی انعام سے نوازا گیا؟
جواب ۔ سلام بن رزاق کو2004 میں ساہتیہ اکادمی انعام سے نوازا گیا۔
سوال 2 ۔ کن دو زبانوں کے ادب سے سلام بن رزاق کا ادبی تعلق ہے؟
جواب ۔ سلام بن رزاق کا ادبی تعلق اردو اور مراٹھی زبانوں کے ادب سے ہے۔
سوال 3 ۔ سلام بن رزاق کے تین افسانوی مجموعوں کے نام لکھیے۔
جواب ۔ دنگی دو پہر کا سپاہی، معبر، شکستہ بتوں کے درمیان
سوال 4 ۔ کردار اساس چار افسانوں کے عنوانات اور ان کے لکھنے والوں کے نام لکھیے۔
جواب ۔
ابراہیم سقّہ — سلام بن رزاق
کفن — پریم چند
ٹو با ٹیک سنگھ — سعادت حسن منٹو
نیا قانون — پریم چند
مختصر گفتگو
سوال 1۔ ابراہیم سقّہ کی تعلیم کہاں تک ہوئی تھی؟
جواب ۔ ابراہیم سقّہ کی تعلیم چوتھی جماعت تک ہوئی تھی۔
سوال 2 ۔ ابراہیم کس سے محبت کرتا تھا؟
جواب ۔ ابراہیم بیدار خان دیش مکھ کی بہن سے محبت کرتا تھا۔
سوال 3 ۔ اس افسانے میں کس گاؤں کا قصہ بیان کیا گیا ہے؟
جواب ۔ اس افسانے میں دھورن گاؤں کا قصہ بیان کیا گیا ہے۔
سوال 4 ۔ عبد الرب اور عبد اللہ بھینسا کون تھے؟
جواب ۔
عبد الرب اسکول کے ہیڈ ماسٹر تھے۔
عبد اللہ بھینسا گاؤں کا ایک عام شخص / چرواہا تھا جس نے راوی کو ابراہیم کی شاعری کے بارے میں بتایا تھا۔
سوال 5 ۔ افسانہ „ابراہیم سقّہ“ کے خالق کون ہیں اور یہ کس مجموعے سے اخذ کیا گیا ہے؟
جواب ۔ افسانہ „ابراہیم سقّہ“ کے خالق سلام بن رزاق ہیں اور یہ ان کے افسانوی مجموعے „شکستہ بتوں کے درمیان“ سے اخذ کیا گیا ہے۔
تفصیلی گفتگو
سوال 1 ۔ ابراہیم سقّہ کے مرکزی کردار کا سراپا بیان کیجیے۔
جواب ۔
ابراہیم سقّہ افسانے کا مرکزی کردار ہے۔ وہ ایک غریب، سیدھا سادہ اور کم تعلیم یافتہ انسان ہے۔ اس کی تعلیم صرف چوتھی جماعت تک ہوئی تھی، مگر اس کے دل میں جذبات اور احساسات کی دنیا بہت وسیع تھی۔ وہ پیشے کے اعتبار سے سقّہ تھا، یعنی لوگوں کو پانی پلانے کا کام کرتا تھا۔ اس کا لباس عام، زندگی سادہ اور رہن سہن معمولی تھا۔
ابراہیم کے چہرے اور شخصیت سے محرومی اور خاموشی جھلکتی ہے۔ وہ کم بولتا ہے مگر اس کے دل میں بہت کچھ دبا ہوا ہے۔ وہ محبت کرنے والا، حساس اور خواب دیکھنے والا انسان ہے، لیکن سماج نے اسے کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا۔ اس کا سراپا اس بات کی علامت ہے کہ ایک عام انسان بھی بڑے درد اور گہرے احساسات رکھتا ہے۔
سوال 2 ۔ افسانہ ابراہیم سقّہ کے پیش نظر سلام بن رزاق کی جذبات نگاری پر روشنی ڈالیے۔
جواب ۔
سلام بن رزاق اس افسانے میں نہایت موثر جذبات نگاری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ انہوں نے ابراہیم کے دل کی کیفیت، اس کی محبت، محرومی اور ٹوٹے ہوئے خوابوں کو بڑے سادہ مگر اثر انگیز انداز میں پیش کیا ہے۔
مصنف کہیں بھی جذبات کو بناوٹی یا ضرورت سے زیادہ نہیں بناتے، بلکہ چھوٹے چھوٹے واقعات کے ذریعے قاری کو ابراہیم کے دکھ سے جوڑ دیتے ہیں۔ ابراہیم کی خاموشی، اس کی ناکام محبت اور اس کا اکیلا پن قاری کے دل کو چھو لیتا ہے۔
سلام بن رزاق کی جذبات نگاری کا کمال یہ ہے کہ وہ قاری کو رلانے کے بجائے سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔
سوال 3 ۔ ابراہیم سقّہ کی موت کن حالات میں ہوئی؟ تفصیل سے بتائیے۔
جواب ۔
ابراہیم سقّہ کی موت نہایت افسوسناک حالات میں ہوتی ہے۔ وہ زندگی بھر محرومی، ناکامی اور نظرانداز کیے جانے کا شکار رہا۔ اس کی محبت پوری نہ ہو سکی، سماج نے اسے کبھی اہمیت نہیں دی اور وہ اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا۔
آخرکار ایک دن وہ ایسے حالات میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے جہاں اس کی موت ایک عام واقعہ سمجھ لی جاتی ہے۔ کسی نے اس کی موت پر زیادہ افسوس نہیں کیا، نہ اس کی زندگی کو سمجھنے کی کوشش کی گئی۔
اس کی موت دراصل سماج کی بے حسی اور ناانصافی کی علامت ہے، جہاں ایک حساس انسان خاموشی سے ختم ہو جاتا ہے۔
سوال 4 ۔ سماج کے ایک معمولی فرد کو مرکزی کردار بنا کر سلام بن رزاق نے قاری کو اندر سے جھنجھوڑ دیا ہے۔ اس قول کی وضاحت کریں۔
جواب ۔
سلام بن رزاق نے اس افسانے میں ایک ایسے شخص کو مرکزی کردار بنایا ہے جو سماج کی نظر میں بالکل معمولی ہے۔ ابراہیم نہ کوئی بڑا آدمی ہے، نہ تعلیم یافتہ اور نہ طاقتور۔
لیکن مصنف نے اسی عام انسان کی زندگی، دکھ اور جذبات کو اس طرح پیش کیا ہے کہ قاری مجبور ہو جاتا ہے اس کے بارے میں سوچنے پر۔ قاری کو احساس ہوتا ہے کہ سماج میں ایسے بے شمار ابراہیم موجود ہیں جنہیں ہم نظر انداز کر دیتے ہیں۔
یوں سلام بن رزاق ایک عام فرد کو مرکز بنا کر سماج کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیتے ہیں۔
سوال 5 ۔ افسانہ ابراہیم سقّہ کے وحدتِ تاثر پر ایک نوٹ لکھیے۔
جواب ۔
وحدتِ تاثر سے مراد یہ ہے کہ افسانہ شروع سے آخر تک ایک ہی اثر قائم رکھے۔ افسانہ ابراہیم سقّہ میں ابتدا سے لے کر انجام تک غم، محرومی اور تنہائی کا تاثر قائم رہتا ہے۔
کردار، واقعات، ماحول اور انجام سب ایک ہی سمت میں آگے بڑھتے ہیں۔ کہیں بھی غیر ضروری واقعہ یا بات شامل نہیں کی گئی۔ ابراہیم کی زندگی کا ہر پہلو اسی مرکزی خیال کو مضبوط کرتا ہے۔
اسی وجہ سے افسانہ پڑھنے کے بعد قاری کے دل میں ایک گہرا اثر باقی رہتا ہے۔
سوال 6 ۔ سلام بن رزاق کی افسانوی زبان پر تبصرہ کیجیے۔
جواب ۔
سلام بن رزاق کی افسانوی زبان سادہ، صاف اور رواں ہے۔ وہ مشکل الفاظ اور بھاری جملوں سے پرہیز کرتے ہیں۔ ان کی زبان میں بناوٹ نہیں بلکہ فطری پن پایا جاتا ہے۔ وہ مکالمے بھی کرداروں کے مزاج کے مطابق لکھتے ہیں، جس سے کردار زندہ محسوس ہوتے ہیں۔ مقامی فضا اور عام بول چال کی زبان افسانے کو حقیقت کے قریب لے آتی ہے۔ سلام بن رزاق کی زبان کا سب سے بڑا وصف یہ ہے کہ وہ کم لفظوں میں گہری بات کہہ دیتے ہیں، اور یہی خوبی انہیں ایک کامیاب افسانہ نگار بناتی ہے۔
This post covers Bihar Board Class 12 Kahkashan Chapter 10 solutions based on Salam bin Razzaq’s short story Ibrahim Saqqa, including the writer’s biography, detailed story summary, character analysis, themes of self-respect and social injustice, and important objective and descriptive questions for exam preparation.