Bihar Board Class 12 Kahkashan Chapter 14 Solutions Kheti, کھیتی

یہ نظم دراصل انسان اور وقت کے تعلق کو بیان کرتی ہے۔ شاعر نے وقت کو ایک کسان اور انسان کو اس کی کھیتی قرار دیا ہے۔ جس طرح کسان بیج بوتا ہے اس کی نگہداشت کرتا ہے، پانی دیتا ہے اور اسے بڑھنے کا موقع دیتا ہے، اسی طرح وقت بھی انسان کو پیدا کرتا ہے اسے زندگی کے مواقع دیتا ہے اور آگے بڑھنے کا راستہ دکھاتا ہے۔

نظم میں بتایا گیا ہے کہ وقت ہمیں سیکھنے، آگے بڑھنے اور اپنی صلاحیتیں ظاہر کرنے کا موقع دیتا ہے۔ وہ ہمیں آزادی دیتا ہے کہ ہم زندگی کی ہوا کے ساتھ ناچیں، خوشیوں سے لطف اٹھائیں اور سورج و چاند کی روشنی میں اپنی زندگی کو خوبصورت بنائیں۔ وقت ہمیں بتاتا ہے کہ کیسے ترقی کرنی ہے اور کیسے پھلنا پھولنا ہے۔ لیکن نظم کا سب سے اہم اور سنجیدہ پہلو آخر میں سامنے آتا ہے۔ شاعر یاد دلاتا ہے کہ جیسے کھیتی کو آخرکار کاٹا جاتا ہے ویسے ہی انسان کو بھی ایک دن وقت کے ہاتھوں ختم ہونا ہے۔ یعنی زندگی عارضی ہے اور موت ایک اٹل حقیقت ہے۔

مرکزی خیال
یہ نظم ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ زندگی وقت کی امانت ہے۔ وقت ہمیں بہت کچھ دیتا ہے، مگر اس کا حساب بھی لیتا ہے۔ اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ وقت کی قدر کرے، اپنی زندگی کو اچھے کاموں میں صرف کرے اور اس حقیقت کو نہ بھولے کہ انجام سب کا ایک ہی ہے۔

الف) عبد الحئی
ب) عبد العزیز حنفی
ج) عبدالسلام
د) عبدالرزاق

الف) 1925
ب) 1927
ج) 1928
د) 1930

الف) دہلی
ب) بھوپال
ج) اندور (میوں چھاؤنی)
د) لکھنؤ

الف) اردو اور فارسی
ب) فلسفہ اور موسیقی
ج) تاریخ اور سیاسیات
د) معاشیات اور سماجیات

الف) دوردرشن
ب) جامعہ ملیہ
ج) آل انڈیا ریڈیو
د) دہلی یونیورسٹی

الف) شب گشت
ب) سنگِ پیراہن
ج) صلصلة الجرس
د) شہرزادہ

الف) مسافر
ب) چراغ
ج) کھیتی
د) دریا

الف) قدرت
ب) وقت
ج) انسان خود
د) معاشرہ

الف) وہ آزاد ہو جاتا ہے
ب) وہ کامیاب ہو جاتا ہے
ج) اسے کاٹ لیا جاتا ہے
د) وہ وقت پر غالب آ جاتا ہے

الف) رومانویت
ب) ترقی پسند تحریک
ج) جدیدیت
د) کلاسیکیت

جواب ۔ نہیں، کھیتی ایک پابند نظم نہیں ہے بلکہ یہ آزاد نظم ہے۔

جواب ۔ کھیتی کی ہیئت آزاد نظم کی ہے۔

جواب ۔ اس نظم کے شاعر عمیق حنفی ہیں۔

جواب ۔  جی ہاں، یہ مصرع نظم کھیتی ہی سے ماخوذ ہے۔

جواب ۔  سبز کو زریں بنانے کی اجازت ہمیں وقت مرحمت کرتا ہے۔

جواب ۔  جی ہاں، وقت ہمیں سورج کی کرن کی ہم دمی میں جھومنے دیتا ہے۔

جواب ۔  جی ہاں، نظم کے مطابق تمام انسان وقت کی کھیتی ہیں۔

جواب ۔  جی ہاں، نظم کے مفہوم کے مطابق تمام انسان وقت کے لقمے ہیں۔

جواب ۔  جی ہاں، وقت ہی نظم کھیتی کا مرکزی اور بنیادی کردار ہے۔

نظم کھیتی میں شاعر نے انسان کو وقت کی کھیتی قرار دیا ہے۔ جس طرح کھیتی کو کسان بوتا ہے، اس کی پرورش کرتا ہے اور اسے بڑھنے کے مواقع دیتا ہے، اسی طرح وقت انسان کو پیدا کرتا ہے، اس کی زندگی کی رہنمائی کرتا ہے اور اسے آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ انسان کی نشوونما، کامیابی اور تجربات سب وقت کے ذریعے ممکن ہوتے ہیں۔ اس اعتبار سے انسان مکمل طور پر وقت کے اختیار میں ہے، اسی لیے شاعر کہتا ہے کہ ہم وقت کی کھیتی ہیں۔

نظم کے مطابق وقت انسان کو زندگی میں آگے بڑھنے کے بے شمار مواقع دیتا ہے۔ وقت ہمیں سیکھنے، ترقی کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کی اجازت دیتا ہے۔ وہ ہمیں آزادی دیتا ہے کہ ہم زندگی کی ہوا کے ساتھ ناچیں، سورج کی کرنوں کے ساتھ جھومیں اور چاندنی جیسی خوشیوں سے لطف اندوز ہوں۔ وقت ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ کس طرح ہم پھلیں پھولیں اور اپنے وجود کو بامعنی بنائیں۔ یوں وقت انسان کی ذہنی، فکری اور عملی ترقی کا سبب بنتا ہے۔

 نظم میں شاعر کہتا ہے کہ جب وقت ہمیں چاندنی پی کر بدست پاتا ہے تو وہ خوش ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب انسان زندگی کی خوبصورتیوں کو سمجھتا ہے، خوشیوں سے لطف اٹھاتا ہے اور وقت کی دی ہوئی نعمتوں کو قبول کرتا ہے تو وقت خوش ہوتا ہے۔ انسان کا زندگی سے ہم آہنگ ہونا اور وقت کے تقاضوں کے مطابق جینا، وقت کی خوشی کا سبب بنتا ہے۔

 جی ہاں، نظم کھیتی ایک نہایت پر اثر اور فکر انگیز نظم ہے۔ یہ نظم قاری کو زندگی اور وقت کے تعلق پر غور کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ سادہ مگر گہری علامتوں کے ذریعے شاعر نے انسانی زندگی کی حقیقت کو بیان کیا ہے۔ نظم کا اختتام خاص طور پر گہرا اثر چھوڑتا ہے، جہاں انسان کی ناپائیداری اور وقت کی بالادستی واضح ہو جاتی ہے۔ اسی لیے یہ نظم دیرپا اثر رکھتی ہے۔

اقتباس ۔
ہاں مگر انجام کار
کاٹ لیتا ہے ہمیں
ہم بالآخر اس کے لقمے
ہم بالآخر اس کی فصل

اس اقتباس میں شاعر انسانی زندگی کی آخری اور تلخ حقیقت کو بیان کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اگرچہ وقت انسان کو بڑھنے، سیکھنے اور خوشیاں منانے کے مواقع دیتا ہے، لیکن آخرکار وہی وقت انسان کو کاٹ لیتا ہے۔ یعنی موت ایک اٹل حقیقت ہے۔ انسان بالآخر وقت کا لقمہ بن جاتا ہے، جیسے کھیتی آخر میں کاٹ لی جاتی ہے۔ اس تشریح سے واضح ہوتا ہے کہ انسان وقتی طور پر زندہ اور خوش ہے، مگر انجام وقت کے اختیار میں ہے۔ شاعر نے نہایت سادہ مگر گہری علامتوں کے ذریعے زندگی کی ناپائیداری اور وقت کی طاقت کو اجاگر کیا ہے۔

This post provides Bihar Board Class 12 Kahkashan Chapter 14 Solutions for the poem “Kheti” by Ameen Hanfi, including a poem summary, central theme, explanation of symbols, objective questions, and detailed answers that focus on the concepts of time and human life.

Scroll to Top