Bihar Board Class 12 Kahkashan Chapter 16 Solutions Mutashayer, متشاعر

ظفر کمالی کی نظم متشاعر اردو ادب میں طنز و مزاح اور ادبی خود شناسی کا بہترین مظہر ہے۔ اس نظم میں شاعر نے اپنی ادبی شناخت، تجربات اور معاشرتی و ادبی حقائق کو بہت باریک بینی سے بیان کیا ہے۔ شاعر اپنے کردار، کمزوریوں، کامیابیوں اور اردو ادب کے فروغ کے لیے کی گئی جدوجہد کا تذکرہ کرتا ہے۔

شاعر اپنی شاعری کی نوعیت اور اس کے اثرات پر روشنی ڈالتا ہے۔ وہ تسلیم کرتا ہے کہ اگرچہ وہ سب سے بڑا شاعر نہیں، لیکن اپنی محنت، چالاکی اور فن کی سمجھ کے ذریعے ادبی دنیا میں ایک مقام رکھتا ہے۔ نظم میں شاعر طنز و مزاح کے ذریعے یہ بھی بیان کرتا ہے کہ بعض لوگ صرف ظاہری طور پر ادیب یا نیک نظر آتے ہیں، لیکن حقیقت میں وہ اخلاقی یا ادبی معیار سے خالی ہوتے ہیں۔

ظفر کمالی نظم میں اپنی ادبی محافل میں جانے، غزل سنانے اور اردو زبان کے فروغ کا ذکر کرتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ دنیا کے مختلف شہروں جیسے کاناڈا، پیرس، دوحہ، پٹنہ، دکن اور دیگر جگہوں میں اس نے اپنی شاعری سنائی اور اردو ادب کو اجاگر کیا۔ شاعر اپنی ذات کے ساتھ ساتھ ادبی دنیا کی حقیقتوں کو بھی ننگ کر دیتا ہے، جیسے چاپلوسی، نقلی شہرت، ادبی رسالوں میں غیر معیاری سرگرمیاں اور معاشرتی ریاکاری۔

نظم میں ظفر کمالی نے اردو ادب کی خدمت اور ادبی شناخت کے حصول کے لیے محنت اور جدوجہد کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ شاعر یہ واضح کرتا ہے کہ ادبی دنیا میں مقام حاصل کرنے کے لیے کبھی خوشامد، کبھی نقلی شہرت اور کبھی محنت کا سہارا لینا پڑتا ہے، لیکن اصل مقصد ہمیشہ اردو کے فروغ اور ادب کی خدمت ہونا چاہیے۔

مزید برآں، شاعر نے نظم میں انسانی کمزوریوں، معاشرتی برائیوں اور اخلاقی تضادات کی طرف بھی توجہ دلائی ہے۔ وہ طنز و مزاح کے ذریعے یہ ظاہر کرتا ہے کہ انسان کی زندگی میں ظاہری اور باطنی پہلو ایک ساتھ موجود ہیں اور ادبی دنیا میں بھی یہی صورت حال ہے۔

نظم کا کلیدی پیغام یہ ہے کہ اردو ادب میں اپنی پہچان اور مقام حاصل کرنے کے لیے محنت، صبر، چالاکی اور مزاح و طنز کا امتزاج ضروری ہے۔ اسی کے ذریعے شاعر معاشرتی اور ادبی برائیوں کی نشاندہی کرتا ہے اور قاری کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ادبی دنیا کے مختلف رنگ اور حقیقتیں کیا ہیں۔

جواب ۔  متشاعر کا لفظی معنی ہے وہ شخص جو خود شعر نہ کہے، مگر شعر و ادب کے نام پر سماج میں شاعر کی طرح پیش آتا ہے اور اپنے لیے شہرت یا مقام حاصل کرتا ہے۔

جواب ۔  نرالا اثر متشاعر کے بیٹر یا اظہارِ فن میں ہے۔ یعنی اس کے انداز، چالاکی اور ادبی ہنر میں ایک منفرد اور دلکش اثر ہے جو اسے ادبی مجالس میں نمایاں رکھتا ہے۔

جواب ۔  متشاعر کبھی بھی غزل سنانے اورادبی مجالس میں اپنی موجودگی دکھانے سے نہیں تھکتا۔ وہ ہر شہر اور ملک میں اردو ادب کے فروغ کے لیے اپنی محنت جاری رکھتا ہے۔

جواب ۔  مشاعر اس بات پر مطمئن ہے کہ وہ ادبی دنیا میں اپنی شناخت اور شہرت برقرار رکھتا ہے، چاہے وہ اصلی شاعر نہ بھی ہو۔ وہ اپنی محافل اور مشاہدات کے ذریعے ادبی مقام حاصل کرتا ہے۔

جواب ۔  وہ مختلف شہروں اور مقامات، جیسے دھنباد، جھریا، پٹنہ، دہلی، دکن، پوٗنا، کناڈا، پیرس، دوحہ قطر وغیرہ میں اس لیے جاتا ہے کہ ادبی مجالس میں حصہ لے اور اردو ادب کو فروغ دے، نیز وہاں لوگوں کی توجہ اور شہرت حاصل کرے۔

جواب ۔  متشاعر کا یار وہ شخص ہے جو تضمین لکھ دے یا پیروڈیاں دے۔ یعنی جو اس کی ادبی سرگرمیوں میں مدد یا ستائش کرتا ہے، وہ اس کے نزدیک دوست یا ہمدرد ہے۔

جواب ۔  اس کی نظر میں جو پیروڈیاں دے اور اس کی ادبی نقل یا ستائش کرے، وہ غم خوار ہے، یعنی ادبی لحاظ سے اس کا حمایتی اور مددگار ہے۔

جواب ۔  متشاعر کا سردار وہ شخص ہے جو اس کو دیوان دے دے، یعنی جس کے پاس اس کے کام کی اہمیت یا دستاویز کی شکل میں اثر موجود ہو۔

جواب ۔  مشاعر کا بس چلے تو وہ دیوانِ اکبر پر قبضہ جمالے اور ادبی دنیا میں اپنی بالادستی قائم کرے۔ وہ اردو کے خزانے اور ادبی شہرت کو اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتا ہے۔

جواب ۔  متشاعر افسران اور حکومتی اہلکاروں سے دو گنا کماتا ہے، یعنی وہ حکومتی یا بااثر شخصیات کے ذریعے اپنے فائدے اور ادبی شہرت کے لیے زیادہ فائدہ حاصل کرتا ہے۔

 مشاعر اردو کا جنازہ اس انداز سے نکالے گا کہ ظریفانہ انداز اور طنز کے ذریعے اردو ادب کی اصل اور سچی قدروں کو اجاگر کرے۔ وہ ظاہر کے شاعر اور ادبی جعلی کرداروں کو بے نقاب کر کے ادب کے غیر حقیقی پہلوؤں کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ ادبی دنیا میں موجود جھوٹے اور نقلی ادبی عمل کو ختم کرنے کی علامت کے طور پر یہ کہتا ہے۔

یہاں شاعر کہنا چاہتا ہے کہ ممولے یعنی چھوٹے، نااہل یا ناپختہ لوگ اہل اور اصل ادیبوں کے کام یا مقام پر قابض ہو گئے ہیں۔ شاہین، جو اصل اور قابل شاعر کی علامت ہے، کا چولا بدلنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ اہل لوگ حاشیے پر چلے جاتے ہیں اور غیر اہل لوگ شہرت اور مقام حاصل کر لیتے ہیں۔

پٹنہ (بھارت) – راجدھانی ۔  نئیں

دہلی (بھارت) – راجدھانی ۔  دہلی

دکن (بھارت) – راجدھانی ۔  حیدرآباد (دکن)

پوٗنا (بھارت) – راجدھانی ۔  ممبئی (پرانا صوبہ مہاراشٹر)

کناڈا – راجدھانی ۔  اوٹاوا

پیرس (فرانس) – راجدھانی ۔  پیرس

دوحہ (قطر) – راجدھانی ۔  دوحہ

متشاعر خود کو کھوٹا سکہ کہہ رہا ہے کیونکہ وہ اصلی شاعر نہیں ہے، اس کے فن کی نقلی نوعیت ہے۔ وہ شاعری کے ذریعے شہرت حاصل کرتا ہے، مگر اس کا فن اصل اور خالص نہیں ہے۔ یہ خود شناسی اور طنز کا حصہ ہے۔

کیا ذبح غیرت کو بن کر قصائی ۔  شاعر طنز کر رہا ہے کہ کچھ لوگ اپنی غیرت اور اخلاقی اصولوں کو قربان کر کے دوسروں کے فائدے یا مکاری کے لیے کام کرتے ہیں، بالکل قصائی کی طرح جو جانور ذبح کرتا ہے۔

ملی ہے مجھے دولت بے ضمیری ۔  شاعر کہتا ہے کہ اسے ایسی دولت یا کامیابی ملی ہے جو غیر اخلاقی اور بے ضمیر طریقوں سے حاصل کی گئی ہے، یعنی شہرت اور فائدہ اخلاق یا اصول کے بغیر حاصل ہوا۔

 شاعر خود کو باعث تنگ اور متشاعر اس لیے کہہ رہا ہے کہ ادب کی دنیا میں وہ اصلی شاعر نہیں ہے، لیکن ادبی محافل اور شہرت کے لیے اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ وہ طنز کے ذریعے ادب کے غیر حقیقی اور جعلی پہلوؤں کو اجاگر کرتا ہے اور یہ بیان کرتا ہے کہ حقیقی اور اہل لوگ اکثر حاشیے میں رہ جاتے ہیں، جبکہ نقلی لوگ مرکز میں ہوتے ہیں۔

ظفر کمالی نے نظم متشاعر اس لیے لکھی کہ وہ ادب اور معاشرت میں موجود جعلی اور نقلی کرداروں کو بے نقاب کرے۔ نظم کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ کچھ لوگ اصل اور اہل ہونے کے باوجود اپنے مقام سے محروم رہ جاتے ہیں، جبکہ وہ لوگ جو اصلی صلاحیت کے حامل نہیں، وہ سازش، چاپلوسی اور دوسروں سے فائدہ اٹھا کر شہرت اور دولت حاصل کر لیتے ہیں۔ نظم ایک سماجی تنقید ہے جو ادبی دنیا کی منافقت، نفاق اور غیر حقیقی رویوں کی طرف روشنی ڈالتی ہے۔ ساتھ ہی شاعر طنز و مزاح کے پیرایے میں یہ بھی بتاتا ہے کہ معاشرت میں ظاہری شہرت اصل قابلیت پر غالب آ جاتی ہے۔

متشاعر شعر نہیں کہتا، مگر اس کی شہرت اور اہمیت درج ذیل وجوہات کی بناء پر قائم ہوئی ۔

دوسروں کے کلام کو جمع کرنا اور پیش کرنا ۔  وہ اپنی محافل اور مشاعروں میں دوسروں کے شعر اور نظمیں پیش کر کے خود کو شاعر کے طور پر منوا لیتا ہے۔

چاپلوسی اور تعلقات کا استعمال ۔  وہ اہل اور با اثر شخصیات کے ساتھ تعلق قائم کر کے اپنی پہچان بڑھاتا ہے۔

ادبی محافل میں سرگرمی ۔  شہر در شہر، ملک در ملک جا کر مشاعروں میں حصہ لینا، یہاں تک کہ بین الاقوامی محافل میں اپنی موجودگی ظاہر کرنا۔

اظہارِ دلکشی اور نرالا اثر ۔  اپنے مخصوص انداز، مذاق اور مزاح سے محفل میں سب کی توجہ حاصل کرنا۔

نقلی شہرت اور غیر اخلاقی حکمت عملی ۔  دوسروں کے کلام پر قبضہ کرنا یا خود کو زیادہ قابل ظاہر کرنا۔

ان عوامل کی وجہ سے، اگرچہ وہ اصلی شاعر نہیں ہے، اس کی شہرت اور ادبی مقام قائم رہتا ہے۔

نظم کے مطابق اصلی اور اہل شاعر اکثر معاشرتی اور ادبی منافقت کا شکار ہوتے ہیں ۔

اہل شاعر جو اصلی صلاحیت اور قابلیت کے حامل ہیں، وہ اکثر حاشیے میں چلے جاتے ہیں۔

ظاہری طور پر کمزور یا نقلی لوگ سازش، چاپلوسی اور دوسروں کے کلام کو استعمال کر کے شہرت حاصل کر لیتے ہیں۔

اصلی شاعر کی محنت، قابلیت اور اخلاقی معیار کے باوجود، انہیں منافع، شہرت اور اہمیت نہیں ملتی۔

فقلی یا نقلی شاعر کے مقابلے میں اصلی شاعر انتہائی سچائی اور اصول پر قائم رہنے کی وجہ سے محرومی کا شکار ہے۔

اس طرح نظم نے اصلی اور نقلی کے درمیان فرق واضح کرتے ہوئے معاشرتی ستم ظریفیوں کو اجاگر کیا ہے۔

نظم کے مطابق مشاعر اردو کی خدمت نہیں کر رہا، بلکہ اس کی تجارت کر رہا ہے۔

وہ شاعری اور ادبی محافل کا منافع اور شہرت حاصل کرنے کا ذریعہ بنا رہا ہے۔

دوسروں کے کلام کو جمع کر کے اور نقلی حکمت عملی سے محفلوں میں پیش کر کے اپنی ذاتی فائدہ مندی حاصل کرتا ہے۔

اس کے اعمال میں ادب کی حقیقی خدمت نہیں بلکہ فریب، چاپلوسی اور نقلی شہرت چھپی ہوئی ہے۔

نظم میں واضح ہے کہ وہ خود اصلی شاعر نہیں، اور ادبی دنیا میں اس کی سرگرمیاں شہرت اور دولت کے حصول کی خاطر ہیں، نہ کہ زبان و ادب کی خدمت کے لیے۔

نظم میں مشاعر کے چند اہم کرتب درج ذیل ہیں ۔

شہر در شہر اور ملک در ملک جا کر مشاعروں میں شرکت کرنا ۔  یہ عمل اسے ادبی محافل میں پہچان دلاتا ہے۔

دوسروں کے کلام کو جمع کرنا اور پیش کرنا ۔  وہ دوسروں کی شاعری اور نظمیں اپنے نام کے ساتھ پیش کرتا ہے۔

چاپلوسی اور تعلقات بنانا ۔  اہل اور با اثر شخصیات کے ساتھ تعلقات قائم کر کے اپنی اہمیت بڑھانا۔

مزاح اور دلکشی کا استعمال ۔  محافل میں دلچسپی پیدا کرنے کے لیے مذاق، طنز اور نرالا انداز استعمال کرنا۔

نقلی شہرت قائم کرنا ۔  اصل شاعر کی محنت یا کام پر قبضہ کر کے اپنے لیے شہرت حاصل کرنا۔

بین الاقوامی محافل میں شرکت ۔  جیسے کناڈا، پیرس، دوحہ وغیرہ جا کر اپنی موجودگی ظاہر کرنا اور شہرت بڑھانا۔

سوال 1۔ مقدر میں ان کے شکاگو نہ لندن
سوال 2۔ جہانِ ادب کا سکندر بنا ہوں
سوال 3۔ فضاؤں میں اڑتا ہے پچکا غبار
سوال 4۔ یہ سچ ہے کہ ہاری ہوئی جنگ ہوں میں
سوال 5۔ خوشامد کی میں تھا دال گیا ہوں

جو افسر ہیں ان سے دونا کماتا ہوں

امیری میں کرنے لگا ہوں فقیری

غلط فہمیوں کا رنگ گھولا عجب

اڑا لوں چلے بس تو واہی کی پونچی

شتر کنویں ہر روز کہ جھانکتا ہوں

غلط فہمیوں کا عجب رنگ گھولا

امیری میں کرنے لگا ہوں فقیری

جو افسر ہیں ان سے دو گنا کماتا ہوں

شتر کنویں ہر روز کہ جھانکتا ہوں

چلے بس تو واہی کی پونجی اڑا لوں

This post provides a detailed study of Bihar Board Class 12 Kahkashan Chapter 16, Mutashayer by Zafar Kamali. It includes a comprehensive summary of the poem, its key themes of literary self-awareness, satire, and social critique, and explains the poet’s observations about the literary world. The post also contains objective and subjective questions with answers, helping students understand the poem’s meaning, characters, and messages in depth.

Scroll to Top