Bihar Board Class 12 Kahkashan Chapter 17 Solutions Ham Nahi Jaante, ہم نہیں جانتے

یہ نظم بنیادی طور پر انسانی زندگی کی غیر یقینی کیفیت اور اندرونی یقین کے باہمی تعلق کو بیان کرتی ہے۔ شاعر ابتدا ہی میں واضح کرتا ہے کہ انسان مستقبل کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔ آنے والا کل خوشی لے کر آئے گا یا غم، یہ طے نہیں۔ زندگی کا راستہ کبھی خوبصورت وادیوں، پہاڑوں اور سرسبز میدانوں سے گزرتا ہے اور کبھی خوفناک، تاریک اور ہولناک اندھیروں میں جا پہنچتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ یہ بھی ممکن ہے کہ روشنی اندھیروں میں گم ہو جائے، امیدیں ٹوٹ جائیں اور انسان اجنبی سرحدوں میں بھٹکنے لگے۔ اسی طرح وہ روایات، دیومالا اور تاریخ جن پر انسانی زندگی کی بنیاد رکھی گئی ہے، وقت کے ساتھ بے معنی ہو کر ایک دھندلے اندھیرے میں کھو سکتی ہیں۔ اس صورت میں زندگی ایک ایسی کہانی بن جاتی ہے جسے مکمل طور پر بیان کرنا ممکن نہیں رہتا۔

اس شدید بے یقینی کے باوجود شاعر ایک مضبوط اور گہری حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ وہ یہ کہتا ہے کہ انسان جہاں بھی جائے، اپنے اجداد، وطن اور تہذیبی ورثے کی خاموش مگر اثر انگیز موسیقی کو اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔ یہ آہنگ انسان کی آواز، سانس اور وجود میں رچ بس جاتا ہے۔ اگرچہ یہ آواز ظاہری طور پر خاموش ہو جاتی ہے، لیکن دل کے اندر اس کی گونج ہمیشہ باقی رہتی ہے۔ شاعر اس کیفیت کو ایک خوبصورت استعارے سے واضح کرتا ہے ۔  جیسے سورج غروب ہونے کے بعد بھی باغ میں اس کی حرارت کی یاد باقی رہتی ہے۔ اسی طرح ماضی، روایت اور تہذیب کی تاثیر انسان کے اندر زندہ رہتی ہے۔

نظم کے آخری حصے میں شاعر امید اور معنویت کا پیغام دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ خاموشی، تھکن اور بے بسی سے گزر کر ایک دن وہ بے لفظ سچائیاں اور پوشیدہ احساسات انسان کی رگوں میں اتر آئیں گے، اور زندگی ایک نئی لذت، تازگی اور شعوری بیداری کے ساتھ سامنے آئے گی۔

الف) ماضی کے حالات
ب) حال کے مسائل
ج) مستقبل کی کیفیت
د) قدرت کے قوانین

الف) صرف خوشیوں سے
ب) صرف غموں سے
ج) مسرت یا غم دونوں سے
د) دولت سے

الف) سیدھا اور ہموار
ب) محدود اور مختصر
ج) پیچ و خم والا
د) پہلے سے طے شدہ

الف) صرف خوبصورت وادیوں میں
ب) صرف اندھیروں میں
ج) حسین مقامات یا ہولناک پاتال میں
د) صرف شہروں میں

الف) دولت اور طاقت
ب) رشتے اور تعلقات
ج) دیومالا، روایات اور تاریخ
د) علم اور حکمت

الف) ایک مکمل حقیقت
ب) ایک واضح نقشہ
ج) ایک ناقابلِ ترسیل حکایت
د) ایک کامیاب سفر

الف) دولت کو
ب) شہرت کو
ج) اجداد کے آہنگ کو
د) طاقت کو

الف) صرف زبان میں
ب) صرف آنکھوں میں
ج) آواز اور تنفس میں
د) ہاتھوں میں

الف) چاندنی سے
ب) بارش سے
ج) سورج کے بعد کی حرارت سے
د) ہوا کی خنکی سے

الف) خاموشی اور مایوسی
ب) تنہائی اور خوف
ج) نئی معنویت اور لذت
د) جدائی اور محرومی

جواب ۔ یوجینو مونتالی بیسویں صدی کے شاعر ہیں۔

جواب ۔  ان کا پہلا شعری مجموعہ 1915 میں شائع ہوا۔

جواب ۔  نظم ہم نہیں جانتے کا ترجمہ اطالوی زبان سے کیا گیا ہے۔

جواب ۔  نظم ہم نہیں جانتے کا اردو ترجمہ زاہدہ زیدی نے کیا ہے۔

جواب ۔  جی ہاں، یہ مصرع نظم ہم نہیں جانتے ہی سے ماخوذ ہے۔

جواب ۔  یہ نظم آزاد نظم کی ہیئت میں لکھی گئی ہے۔

جواب ۔  شاعر اس نظم میں اپنے اجداد (بحرِ اجداد) کے آہنگ اور خاموش سرگم کو اپنے ساتھ لے جانا چاہتا ہے۔

جواب ۔  مونتالی اس نظم میں اجداد کے آہنگ اور خاموش سرگم کی گونج کے نہاں خانۂ دل میں باقی رہنے کی بات کرتا ہے۔

شاعر نے زندگی کو ناقابلِ ترسیل حکایت اس لیے کہا ہے کہ زندگی کے تجربات، احساسات اور حقیقتیں پوری طرح الفاظ میں بیان نہیں کی جا سکتیں۔ انسان خود بھی نہیں جانتا کہ اس کا مستقبل کیسا ہوگا۔ حالات بدلتے رہتے ہیں، روایات اور تاریخ بھی دھندلا سکتی ہیں، اس لیے زندگی ایک ایسی کہانی بن جاتی ہے جسے مکمل طور پر دوسروں تک منتقل کرنا ممکن نہیں رہتا۔

نظم کے پہلے حصے میں شاعر زندگی کی غیر یقینی کیفیت بیان کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ہمیں معلوم نہیں آنے والا کل خوشی لائے گا یا غم۔ زندگی کا راستہ کبھی حسین وادیوں اور سرسبز میدانوں سے گزرتا ہے اور کبھی خوفناک اندھیروں اور ہولناک پاتال میں جا پہنچتا ہے۔ شاعر اس حصے میں مستقبل کے بارے میں انسانی بے خبری اور اضطراب کو نمایاں کرتا ہے۔

اے بحرِ اجداد” سے مخاطب ہو کر شاعر اپنے ماضی، اجداد اور تہذیبی ورثے سے وابستگی کا اظہار کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ انسان جہاں بھی جائے، اپنے اجداد کی خاموش مگر اثر انگیز سرگم کو اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔ یہ آہنگ انسان کی آواز، سانس اور دل میں ہمیشہ زندہ رہتا ہے اور خاموشی کے باوجود اس کی گونج نہاں خانۂ دل میں باقی رہتی ہے۔

نظم ہم نہیں جانتے میں یوجینو مونتالی نے انسانی زندگی کی غیر یقینی کیفیت، مستقبل کی بے خبری اور وجودی اضطراب کو نہایت گہرے فکری انداز میں پیش کیا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ انسان نہیں جانتا کہ آنے والا کل خوشیوں سے بھرپور ہوگا یا غموں کے دھندلکوں میں لپٹا ہوا۔ زندگی کا سفر کبھی حسین وادیوں، سرسبز میدانوں اور روشن مناظر سے گزرتا ہے اور کبھی خوفناک، تاریک اور ہولناک اندھیروں میں جا پہنچتا ہے۔

شاعر اس نظم میں یہ خیال بھی پیش کرتا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ دیومالا، قدیم روایات اور تاریخ، جن پر انسانی زندگی کی بنیاد رکھی گئی ہے، اپنی معنویت کھو سکتی ہیں اور ایک مبہم اندھیرے میں گم ہو سکتی ہیں۔ اس صورت میں زندگی ایک ایسی حکایت بن جاتی ہے جسے مکمل طور پر بیان یا منتقل کرنا ممکن نہیں رہتا۔ تاہم اس بے یقینی اور اندیشے کے باوجود شاعر امید کا پہلو بھی اجاگر کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ انسان جہاں بھی جائے، اپنے اجداد، وطن اور تہذیبی ورثے کی خاموش مگر اثر انگیز سرگم کو اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔ یہ آہنگ انسان کی سانسوں، آواز اور دل میں رچ بس جاتا ہے اور خاموشی کے باوجود اس کی گونج نہاں خانۂ دل میں باقی رہتی ہے۔ نظم کے اختتام پر شاعر نئی معنویت، احساس اور داخلی بیداری کی امید دلاتا ہے۔

نظم ہم نہیں جانتے کئی نمایاں شاعرانہ خوبیوں کی حامل ہے۔ سب سے پہلی خوبی اس کا فکری اور فلسفیانہ عمق ہے، جس میں شاعر نے انسانی وجود، وقت اور مستقبل کے مسائل کو نہایت سنجیدگی سے بیان کیا ہے۔ نظم میں علامات اور استعارات کا خوبصورت استعمال ملتا ہے، جیسے وادیوں، پاتال، اندھیروں، سورج کے غروب ہونے اور باغ میں باقی رہنے والی حرارت کی تصویریں۔نظم کی زبان سادہ مگر پراثر ہے، جو قاری کے دل و دماغ پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ آزاد نظم کی ہیئت شاعر کو خیال کی آزادی عطا کرتی ہے، جس کے سبب جذبات اور خیالات فطری بہاؤ کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔ نظم میں تضاد (روشنی اور اندھیرا، مسرت اور غم) کے ذریعے زندگی کی حقیقت کو نمایاں کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ نظم میں ترسیلِ احساس نہایت مضبوط ہے۔ خاموش سرگم، نہاں خانۂ دل اور بے لفظ معانی جیسے تراکیب نظم کو گہرائی عطا کرتی ہیں۔ مجموعی طور پر یہ نظم فکری، علامتی اور فنی اعتبار سے ایک کامیاب نظم ہے۔

یوجینو مونتالی بیسویں صدی کے عظیم اطالوی شاعر ہیں۔ وہ 1896 میں پیدا ہوئے اور جدید اطالوی شاعری میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ان کی شاعری میں زندگی کی تلخی، انسان کی تنہائی، وقت کی بے ثباتی اور سیاسی و سماجی شعور گہرائی کے ساتھ ملتا ہے۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ 1915 میں شائع ہوا۔ انہوں نے شاعری کے ساتھ ساتھ تنقید اور ترجمے کا کام بھی کیا۔ 1975 میں انہیں ادب کا نوبل انعام دیا گیا، جو ان کی عالمی اہمیت کا ثبوت ہے۔

زاہدہ زیدی اردو کی ممتاز شاعرہ، نقاد، ڈراما نگار اور مترجمہ ہیں۔ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ انگریزی میں پروفیسر رہیں۔ ان کے شعری مجموعوں میں زہرِ حیات، دھرتی کا لمس اور سنگِ جاں شامل ہیں۔ انہوں نے چیخوف، سارتر اور بیکٹ جیسے عالمی ڈراما نگاروں کے ڈراموں کے اردو تراجم کیے۔ یوجینو مونتالی کی نظم ہم نہیں جانتے کا ترجمہ بھی زاہدہ زیدی نے نہایت خوبصورتی سے کیا ہے، جس سے ان کی ترجمہ نگاری کی صلاحیت کا اندازہ ہوتا ہے۔

معنی ہم صوت لفظ
آواز، پکارصدا
ہمیشہ، ہمیشہ کے لیےسدا
غذا، طعامکھانا
گھر، کمرہخانہ
آنگنصحن
برداشت، تحملسہن
قربانی، چڑھاوانذر
دیکھنا، نگاہنظر
ہواباد
بعد میں، کسی وقت کے گزرنے کے بعدبعد
متضاد لفظلفظ
ظاہرپوشیدہ
غممسرت
روشنتاریک
موتزندگی
ناممکنممکن
متحدجدا
آوازخاموشی

This post provides Bihar Board Class 12 Kahkashan Chapter 17 Solutions for the poem Ham Nahi Jaante by Eugenio Montale, translated by Zahida Zaidi. It includes a clear summary of the poem, explanation of themes like uncertainty of life, tradition, and hope, along with objective questions, short and long answer questions, and exam-oriented explanations to help students understand the poem deeply and prepare effectively.

Scroll to Top