غزل
ان اشعار کو غور سے پڑھیے
بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں
تجھے اے زندگی ہم دور سے پہچان لیتے ہیں
طبیعت اپنی گھبراتی ہے جب سنسان راتوں میں
ہم ایسے میں تری یادوں کی چادر تان لیتے ہیں
خود اپنا فیصلہ بھی عشق میں کافی نہیں ہوتا
اسے بھی کیسے کر گزریں جو دل میں ٹھان لیتے ہیں
جسے صورت بتاتے ہیں پتا دیتی ہے سیرت کا
عبارت دیکھ کر جس طرح معنی جان لیتے ہیں
تجھے گھاٹا نہ ہونے دیں گے کاروبارِ الفت میں
ہم اپنے سر ترا اے دوست ہر احسان لیتے ہیں
فراق اکثر بدل کر بھیں ملتا ہے کوئی کافر پھر
کبھی ہم جان لیتے ہیں کبھی پہچان لیتے ہیں
پھر مجھے دیدہ تر یاد آیا
دل جگر تشنہء فریاد آیا
میں نے مجنوں پر لڑکپن میں اسد
سنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا
یہ اشعار غزل سے لیے گیے ہیں۔
غزل اُردو کی سب سے مقبول صنف ہے۔ جس کا ہر شعر ایک اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایجاز واختصار اس کی خوبی ہے۔ ردیف اور قافیے کی پابندی کے ساتھ غزل کی مخصوص ہیت ہوتی ہے۔
غزل کا پہلا شعر مطلع کہلاتا ہے۔ جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ وہم ردیف ہوتے ہیں۔ اگر مطلعے کے بعد والے شعر کے دونوں مصرعے ہم قافیہ وہم ردیف ہوں تو اُسے حسنِ مطلع کہتے ہیں۔ ایک غزل میں ایک یا دو سے زیادہ مطلعے بھی ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح اشعار کی بھی کوئی تعداد مقرر نہیں ہے۔ عام طور پر شاعر غزل کے آخری شعر میں اپنا تخلص استعمال کرتا ہے، اُسے مقطع کہتے ہیں۔ غزل کا سب سے اچھا شعر شاہِ بیت کہلاتا ہے، اسے بیت الغزل بھی کہتے ہیں۔
قصیده
ان اشعار کو پڑھیے ۔
سمت کاشی سے چلا جانب متھرا بادل
برق کے کاندھے پہ لاتی ہے صبا گنگا جل
خبر اڑتی ہوئی آتی ہے مہابن میں ابھی
کہ چلے آتے ہیں تیرتھ کو ہوا پر بادل
نہ کُھلا، آٹھ پہر میں کبھی دو چار گھڑی
پندرہ روز ہوئے پانی کو منگل منگل
کبھی ڈوبی، کبھی اچھلی مہِ نوکی کشتی
بحر اخضر میں تلاطُم سے پڑی ہے ہل چل
یہ اشعار قصیدے سے لیے گئے ہیں۔ قصیدہ شاعری کی ایک اہم اور مشہور صنف ہے۔
قصیدہ شاعری کی وہ صنف ہے۔ جس میں کسی کی تعریف یا مذمت کی جاتی ہے۔ اس میں تخیل کی بلندی اور مبالغہ آمیزی ہوتی ہے۔ بلند آہنگی اور پُر شکوہ الفاظ کا استعمال اس کی اہم خوبی ہے۔
ہیئت کے اعتبار سے قصیدے کی دو قسمیں ہیں
خطابیہ ۔ یہ قصیدہ براہ راست مدح یا مذمت سے شروع ہوتا ہے۔
تمہیدیہ ۔ یہ قصیدہ براہ راست اصل موضوع سے شروع نہیں ہوتا بلکہ اس میں پہلے تمہید کے طور پر کچھ اشعار شامل کیے جاتے ہیں۔
موضوع کے اعتبار سے قصیدے کی دو قسمیں ہیں
مدحیہ ۔ جس میں کسی کی تعریف کی جائے۔
ہجویہ ۔ جس میں کسی کی مذمت کی جائے۔
قصیدے کے اجزائے ترکیبی درج ذیل ہیں ۔
تشبیب ۔ شاعر تمہید کے طور پر جو اشعار کہتا ہے اسے تشبیب کہتے ہیں۔
گریز ۔ وہ شعر جو تمہید اور مدح میں تعلق پیدا کرنے کے لیے کہے جاتے ہیں، انھیں گریز کہتے ہیں۔
مدح ۔ مدح میں ممدوح کی تعریف کی جاتی ہے اس تعریف میں اس کے جاہ وجلال، عدل و انصاف، شجاعت و سخاوت اور علم فضل وغیرہ کا بیان کیا جاتا ہے۔
حسن طلب ۔ شاعر کبھی کبھی ایسے اشعار بھی کہتا ہے جن کا مقصد ممدوح سے اعزاز دا کرام طلب کرنا ہوتا ہے۔ قصیدے کے آخر میں شاعر مدوح کی سلامتی اور درازی عمر کے لیے دعا کرتا ہے۔
مرثیہ
اس بند کو پڑھیے
چلاّئے بصد غم مِرے بھائی مِرے بھائی
کیا دل کا ہے عالم مِرے بھائی مِرے بھائی
کیوں چشم ہے پُر نم مِرے بھائی مِرے بھائی
اُکھڑا ہے تِرا دم مِرے بھائی مِرے بھائی
سینے میں اجل سانس ٹھہر نے نہیں دیتی
ہچکی تمھیں اب بات بھی کرنے نہیں دیتی
یہ بند ایک مرثیہ سے لیا گیا ہے۔ اس کا عنوان ہے شہادت عبّاس۔
مرثیہ لفظ رثا سے بنا ہے۔ اس کے معنی ہیں رونا ، آہ و بکا کرنا۔ مرثیہ اس نظم کو کہتے ہیں، جس میں کسی مرنے والے کے اوصاف بیان کیے جائیں اور اس کی وفات پر رنج و غم کا اظہار کیا جائے۔ مرثیے کے لیے مسدس کی ہیئت مخصوص ہے۔ جس نظم میں واقعات کربلا کا بیان ہو اسے مرثیہ کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ جو مرثیے لکھے گئے ان کو شخصی مریے کا نام دیا گیا ہے، مثلاً حالی کا مرثیہ غالب اقبال کا مرثیہ داغ ۔
مریے کے اجزائے ترکیبی درج ذیل ہیں
چره ۔ مرثیے کی تمہید ہے اس جز میں ، حمد، نعت ، منقبت کے علاوہ مناظر صبح و شام ، موسم کی شدت، دنیا کی بے ثباتی وغیرہ کا ذکر کیا جاتا ہے۔
سراپا ۔ اس جز میں جس شخص پر مرثیہ لکھا جا رہا ہے اس کے حسن و جمال اور دیگر صفات کا ذکر کیا جاتا ہے۔
رخصت ۔ اس جز میں ہیرو اپنے عزیز و اقارب سے جنگ میں جانے کے لیے رخصت لیتا ہے۔
آمد ۔ اس جز میں ہیرو کے شان و شوکت کے ساتھ میدانِ جنگ میں آنے کا منظر پیش کیا جاتا ہے۔
رجز ۔ اس جز میں ہیرو اپنے خاندان کی تعریف و توصیف اور اپنی بہادری اور مہارت کا ذکر کرتا ہے۔
جنگ ۔ اس جز میں ہیر و مقابل فوج سے شجاعت اور دلیری کے ساتھ جنگ کرتا ہے۔ ہیرو کے گھوڑے اور تلوار کی تعریف بھی کی جاتی ہے۔
شہادت ۔ اس جز میں میدانِ جنگ میں ہیرو دشمن سے لڑتے لڑتے شہید ہو جاتا ہے۔ شہادت کا بیان شاعر دردمندانہ اور موثر انداز میں کرتا ہے۔
بین ۔ مرثیے کا یہ جز سب سے اہم ہے جس میں ہیرو کی میت پر عزیز و اقارب خاص طور پر عورتیں شہید ہونے والے کی خوبیوں کو بیان کر کے گریہ و ماتم کرتی ہیں۔
مرثیے کے لیے مذکورہ اجزا متعین ہیں تاہم ایسے بھی مرثیے لکھے گئے ہیں، جن میں ان اجزا کی پابندی
نہیں کی گئی ہے۔
مثنوی
ان اشعار پر غور کیجیے ۔
گل چیں کا جو اب پتا ملا ہے
یوں شاخ قلم سے گل کھلا ہے
وہ باد چمن چمن خراماں
یعنی وہ بکاؤلی پریشاں
گلشن سے جو خاک اُڑاتی آئی
اس شہر میں آتی، آتی آئی
دیکھا تو خوشی کے پیچھے تھے
گل چیں کے شگوفے کھل رہے تھے
گلبانگ زناں تھا جو جہاں تھا
ایک ایک ہزار داستاں تھا
یہ اشعار مثنوی سے لیے گئے ہیں۔
مثنوی لفظ ثنی سے بنا ہے۔ جس کے لغوی معنی دو کے ہوتے ہیں۔ مثنوی مسلسل اشعار کے اس مجموعے کو کہتے ہیں جس میں شعر کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں اور ہر شعر کا قافیہ بالعموم الگ ہوتا ہے۔ اس میں اشعار کی تعداد مقرر نہیں ہوتی ۔
مثنویاں طویل اور مختصر دونوں قسم کی ہوتی ہیں۔ طویل مثنویوں میں عموماً آٹھ اجزا ہوتے ہیں۔ حمد و مناجات، نعت، منقبت، حاکم وقت کی مدح ، اپنی شاعری کی تعریف ، مثنوی لکھنے کا سبب، قصہ یا واقعہ اور خاتمہ ۔ لیکن ہر مثنوی میں یہ تمام اجزا لازمی حیثیت نہیں رکھتے ۔ مثنوی میں ہر قسم کے مضامین کی گنجائش ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر عشقیہ کہانیاں، اخلاقی اور متصوفانہ یا کسی معاشرے کے احوال یا افراد کی تعریف و تنقیص ، نصیحت و رہنمائی، جنگ اور مہم جوئی کے واقعات بیان کیے جاتے ہیں۔ میر حسن کی سحر البیان ، دیا شنکر نسیم کی گلزار نسیم اور نواب مرزا کی زہر عشق اہم مثنویاں ہیں۔ حالی کی مناجات بیوہ اور علی سردار جعفری کی مثنوی جمہور اور علامہ اقبال کی ساقی نامہ مثنوی کی ہیئت میں بعض معروف نظمیں بھی ملتی ہیں۔
رباعی
ان اشعار کو پڑھیے ۔
یہ کیا کہ حیات جاودانی کیا ہے
پہلے دیکھو جہان فانی کیا ہے
اس فکر میں ہو کہ موت کیا شے ہے رواں
یہ بھی سمجھے کہ زندگانی کیا ہے
یہ ایک رباعی ہے۔
رباعی چار مصرعوں پر مشتمل ایک مختصر نظم ہوتی ہے۔ اس کا پہلا دوسرا اور چوتھا مصرعہ ہم قافیہ ہوتا ہے۔ تیسرا مصرعہ بھی ہم قافیہ ہو سکتا ہے۔ یہ بحر ہزج میں کہی جاتی ہے اور اس کے لیے 24 اوزان مقرر کیے گئے ہیں۔
رباعی کا چوتھا مصرعہ بہت پر زور ہوتا ہے اس میں مختلف قسم کے مضامین ، جیسے فلسفہ، اخلاق ، رندی، سرمستی ، مذہب و تصوف، وعظ و پند ، حسن و عشق کے علاوہ شاعر کے تجربات اور مشاہدات بیان کیے جاتے ہیں۔
قطعہ
اشعار پڑھیے ۔
دھوپ اور مینہ
ہلکی ہلکی پھوار کے دوران میں
دفعتاً سورج جو بے پردہ ہوا
میں نے یہ جانا کہ وحشت میں کوئی
روتے روتے کھل کھلا کر ہنس پڑا
یہ ایک قطعہ ہے۔
قطعہ کے لغوی معنی کسی شے کے ٹکڑے یا حصے کے ہیں۔ قطعہ ایسی نظم کو کہتے ہیں جس میں کسی مضمون کا مسلسل بیان ہو۔ اس میں کم سے کم دو شعر ہوتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ اشعار کی تعداد مقرر نہیں ہے۔ عام طور پر اس میں مطلع نہیں ہوتا اور شعر کا دوسرا مصرعہ ہم قافیہ ہوتا ہے۔ اس میں شاعر تسلسل کے ساتھ ایک ہی کیفیت یا خیال بیان کرتا ہے۔
کبھی کبھی شعرا اپنی غزلوں میں بھی قطعہ بند اشعار شامل کر لیتے ہیں جن میں ایک ہی خیال کو دو یا دو سے زیادہ شعروں میں نظم کیا جاتا ہے۔ مثلاً ۔ میؔر کی غزل میں شامل ایک قطعہ حسب ذیل ہے۔
کل پاؤں ایک کاسئہ سر پر جو آگیا
یکسر وہ استخوان شکستوں سے چور تھا
کہنے لگا کہ دیکھ کے چل راہِ بے خبر
میں بھی کبھو کسو کا سرِ پُر غرور تھا
نظم
نظم کے یہ اشعار پڑھنے
سورج نے دیا اپن شعاعوں کو یہ پیغام
دنیا ہے عجب چیز کبھی صبح، کبھی شام
مدت سے تم آوارہ ہو پہنائے فضا میں
بڑھتی ہی چلی جاتی ہے بے مہری ایّام
نے ریت کے ذروّں پہ چمکنے میں ہے راحت
نے مثلِ صبا طوفِ گل ولالہ میں آرام
پھر میرے تجلی کدہ دل میں سما جاؤ
چھوڑو چمنستان و بیابان و دروبام
یہ اشعار اقبال کی نظم شعاع امید سے لیے گئے ہیں۔
نظم شاعری کی اس صنف کو کہتے ہیں جس میں ایک ہی موضوع پر تسلسل کے ساتھ اظہار خیال کیا جائے یا ایک ہی تجربے کا بیان ہو یا ایک ہی واقعہ نظم کیا جائے۔ نظم کی سب سے بڑی خوبی خیال کی وحدت ہے۔ عام طور پر ہر نظم کا کوئی عنوان ہوتا ہے۔
ہیئت کے اعتبار سے نظم کی تین قسمیں ہوتی ہیں ۔
پابند تم ۔ وہ نظم ہے جس میں بحر کے استعمال اور قافیوں کی ترتیب میں مقررہ اصولوں کی پابندی کی گئی ہو.
نظم معری ۔ وہ نظم ہے جس کے تمام مصرعے برابر کے ہوں مگر ان میں قافیے کی پابندی نہ ہو ۔
آزاد نظم ۔ ایسی نظم ہے جس میں قافیے و ردیف کی پابندی نہیں ہوتی اور اس کے ارکانِ بحر میں کمی بیشی ہو سکتی ہے، اس کی وجہ سے اس کے مصرعے چھوٹے بڑے ہو جاتے ہیں۔
نثری نظم ۔ یہ نظم چھوٹی بڑی سطروں پر مشتمل ہوتی ہے، اس میں نہ تو ردیف و قافیہ کی پابندی ہوتی ہے اور نہ وہ بحر وزن کی ۔
سوال و جواب
سوال 1 ۔ غزل کی تعریف کیجیے اور اس کی فنی خصوصیات تفصیل سے بیان کیجیے۔
جواب ۔
غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول اور قدیم صنف ہے۔ غزل ایسے اشعار پر مشتمل ہوتی ہے جن میں ہر شعر اپنی جگہ ایک مکمل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے، یعنی ہر شعر کا مفہوم دوسرے شعر سے الگ بھی مکمل ہوتا ہے۔ غزل کی سب سے بڑی خوبی ایجاز و اختصار ہے، جس کے ذریعے شاعر کم الفاظ میں گہرا مفہوم بیان کرتا ہے۔
غزل میں ردیف اور قافیے کی پابندی لازمی ہوتی ہے۔ غزل کا پہلا شعر مطلع کہلاتا ہے، جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ اور ہم ردیف ہوتے ہیں۔ اگر مطلع کے بعد کسی اور شعر کے دونوں مصرعے ہم قافیہ و ہم ردیف ہوں تو اسے حسنِ مطلع کہتے ہیں۔ غزل کے آخری شعر میں شاعر اپنا تخلص استعمال کرتا ہے، جسے مقطع کہا جاتا ہے۔ غزل کا سب سے بہتر اور اثر انگیز شعر شاہِ بیت یا بیت الغزل کہلاتا ہے۔
سوال 2 ۔ قصیدہ کیا ہے؟ اس کی اقسام اور اجزائے ترکیبی کی وضاحت کیجیے۔
جواب ۔
قصیدہ اردو شاعری کی ایک اہم صنف ہے جس میں کسی شخصیت، بادشاہ، امیر یا کسی بااثر فرد کی تعریف (مدح) یا مذمت (ہجو) کی جاتی ہے۔ قصیدے میں تخیل کی بلندی، مبالغہ، پُرشکوہ اندازِ بیان اور بلند آہنگی نمایاں ہوتی ہے۔
ہیئت کے اعتبار سے قصیدے کی دو قسمیں ہیں ۔
خطابیہ قصیدہ ۔ جس میں شاعر براہِ راست مدح یا مذمت سے آغاز کرتا ہے۔
تمہیدیہ قصیدہ ۔ جس میں اصل موضوع سے پہلے تمہیدی اشعار شامل کیے جاتے ہیں۔
موضوع کے اعتبار سے قصیدہ دو قسم کا ہوتا ہے ۔
مدحیہ قصیدہ ، ہجویہ قصیدہ
قصیدے کے اجزائے ترکیبی میں تشبیب، گریز، مدح، حسنِ طلب اور دعا شامل ہیں۔ تشبیب میں تمہید ہوتی ہے، گریز کے ذریعے مدح کی طرف آتے ہیں، مدح میں ممدوح کی خوبیاں بیان کی جاتی ہیں اور آخر میں شاعر دعا اور کبھی انعام کی درخواست بھی کرتا ہے۔
سوال 3 ۔ مرثیہ کی تعریف کیجیے اور اس کے اجزائے ترکیبی تفصیل سے بیان کیجیے۔
جواب ۔
مرثیہ لفظ رثا سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں رونا، آہ و بکا کرنا۔ مرثیہ ایسی نظم کو کہتے ہیں جس میں کسی مرحوم کی خوبیوں کو بیان کیا جائے اور اس کی وفات پر رنج و غم کا اظہار کیا جائے۔ اردو ادب میں خاص طور پر واقعاتِ کربلا پر لکھے گئے مراثی بہت مشہور ہیں۔
مرثیہ عموماً مسدس کی ہیئت میں لکھا جاتا ہے۔ مرثیے کے اہم اجزائے ترکیبی درج ذیل ہیں ۔
چہرہ، سراپا، رخصت، آمد، رجز، جنگ، شہادت اور بین۔
ان اجزا میں شاعر پہلے تمہید باندھتا ہے، پھر ہیرو کی شخصیت، میدانِ جنگ میں آمد، بہادری، جنگ اور آخر میں شہادت کا بیان کرتا ہے۔ بین مرثیے کا سب سے دردناک حصہ ہوتا ہے جس میں عورتیں گریہ و ماتم کرتی ہیں۔
سوال 4 ۔ مثنوی کیا ہے؟ اس کی خصوصیات اور موضوعات پر روشنی ڈالیے۔
جواب ۔
مثنوی اردو شاعری کی وہ صنف ہے جس میں ہر شعر کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں، لیکن ہر شعر کا قافیہ دوسرے شعر سے مختلف ہوتا ہے۔ مثنوی میں اشعار کی تعداد مقرر نہیں ہوتی، اسی لیے یہ طویل قصے اور واقعات بیان کرنے کے لیے موزوں صنف ہے۔
مثنوی میں عشقیہ داستانیں، اخلاقی تعلیمات، تصوف، معاشرتی حالات، جنگ و مہم جوئی اور تاریخی واقعات بیان کیے جاتے ہیں۔ مشہور مثنویوں میں سحرالبیان، گلزارِ نسیم، زہرِ عشق شامل ہیں۔ بعض نظموں کو بھی مثنوی کی ہیئت میں لکھا گیا ہے، جیسے اقبال کی ساقی نامہ۔
سوال 5 ۔ نظم کی تعریف کیجیے اور ہیئت کے اعتبار سے اس کی اقسام بیان کیجیے۔
جواب ۔
نظم شاعری کی وہ صنف ہے جس میں ایک ہی موضوع، ایک ہی خیال یا ایک ہی واقعہ کو تسلسل کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے۔ نظم کی سب سے بڑی خوبی خیال کی وحدت ہے۔ عموماً ہر نظم کا ایک عنوان ہوتا ہے جو اس کے مرکزی خیال کی وضاحت کرتا ہے۔
ہیئت کے اعتبار سے نظم کی چار قسمیں ہیں ۔
پابند نظم ۔ جس میں بحر اور قافیے کی پابندی ہوتی ہے۔
نظمِ معرّی ۔ جس میں وزن تو ہوتا ہے مگر قافیہ نہیں ہوتا۔
آزاد نظم ۔ جس میں قافیے اور ردیف کی پابندی نہیں ہوتی اور مصرعے چھوٹے بڑے ہو سکتے ہیں۔
نثری نظم ۔ جس میں نہ وزن ہوتا ہے اور نہ قافیہ، بلکہ خیالات نثری انداز میں شعری کیفیت کے ساتھ بیان کیے جاتے ہیں۔
This post provides a detailed explanation of Chapter 20 of NCERT Class 12 Urdu Grammar – Urdu Qawaid Aur Insha. It covers the major genres of Urdu poetry, including Ghazal, Qasida, Marsiya, Masnavi, Ruba‘i, Qat‘a, and Nazm, with clear definitions, characteristics, and examples. The post also includes well-structured question-and-answer explanations, making it useful for students preparing for board exams and for anyone seeking a clear understanding of classical Urdu poetic forms.