NCERT Class 12 Urdu Grammar Chapter 20 – اردو قواعد اور انشاء

ان اشعار کو غور سے پڑھیے

یہ اشعار غزل سے لیے گیے ہیں۔

غزل کا پہلا شعر مطلع کہلاتا ہے۔ جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ وہم ردیف ہوتے ہیں۔ اگر مطلعے کے بعد والے شعر کے دونوں مصرعے ہم قافیہ وہم ردیف ہوں تو اُسے حسنِ مطلع کہتے ہیں۔ ایک غزل میں ایک یا دو سے زیادہ مطلعے بھی ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح اشعار کی بھی کوئی تعداد مقرر نہیں ہے۔ عام طور پر شاعر غزل کے آخری شعر میں اپنا تخلص استعمال کرتا ہے، اُسے مقطع کہتے ہیں۔ غزل کا سب سے اچھا شعر شاہِ بیت کہلاتا ہے، اسے بیت الغزل بھی کہتے ہیں۔

ان اشعار کو پڑھیے ۔

یہ اشعار قصیدے سے لیے گئے ہیں۔ قصیدہ شاعری کی ایک اہم اور مشہور صنف ہے۔

خطابیہ ۔  یہ قصیدہ براہ راست مدح یا مذمت سے شروع ہوتا ہے۔

تمہیدیہ ۔ یہ قصیدہ براہ راست اصل موضوع سے شروع نہیں ہوتا بلکہ اس میں پہلے تمہید کے طور پر کچھ اشعار شامل کیے جاتے ہیں۔

مدحیہ ۔ جس میں کسی کی تعریف کی جائے۔

ہجویہ ۔ جس میں کسی کی مذمت کی جائے۔

قصیدے کے اجزائے ترکیبی درج ذیل ہیں  ۔

تشبیب ۔ شاعر تمہید کے طور پر جو اشعار کہتا ہے اسے تشبیب کہتے ہیں۔

گریز ۔ وہ شعر جو تمہید اور مدح میں تعلق پیدا کرنے کے لیے کہے جاتے ہیں، انھیں گریز کہتے ہیں۔

مدح ۔ مدح میں ممدوح کی تعریف کی جاتی ہے اس تعریف میں اس کے جاہ وجلال، عدل و انصاف، شجاعت و سخاوت اور علم فضل وغیرہ کا بیان کیا جاتا ہے۔

حسن طلب ۔ شاعر کبھی کبھی ایسے اشعار بھی کہتا ہے جن کا مقصد ممدوح سے اعزاز دا کرام طلب کرنا ہوتا ہے۔ قصیدے کے آخر میں شاعر مدوح کی سلامتی اور درازی عمر کے لیے دعا کرتا ہے۔

اس بند کو پڑھیے

یہ بند ایک مرثیہ سے لیا گیا ہے۔ اس کا عنوان ہے  شہادت عبّاس۔

مریے کے اجزائے ترکیبی درج ذیل ہیں

چره ۔ مرثیے کی تمہید ہے اس جز میں ، حمد، نعت ، منقبت کے علاوہ مناظر صبح و شام ، موسم کی شدت، دنیا کی بے ثباتی وغیرہ کا ذکر کیا جاتا ہے۔

سراپا ۔ اس جز میں جس شخص پر مرثیہ لکھا جا رہا ہے اس کے حسن و جمال اور دیگر صفات کا ذکر کیا جاتا ہے۔

رخصت ۔ اس جز میں ہیرو اپنے عزیز و اقارب سے جنگ میں جانے کے لیے رخصت لیتا ہے۔

آمد ۔ اس جز میں ہیرو کے شان و شوکت کے ساتھ میدانِ جنگ میں آنے کا منظر پیش کیا جاتا ہے۔

رجز ۔ اس جز میں ہیرو اپنے خاندان کی تعریف و توصیف اور اپنی بہادری اور مہارت کا ذکر کرتا ہے۔

جنگ ۔ اس جز میں ہیر و مقابل فوج سے شجاعت اور دلیری کے ساتھ جنگ کرتا ہے۔ ہیرو کے گھوڑے اور تلوار کی تعریف بھی کی جاتی ہے۔

شہادت ۔ اس جز میں میدانِ جنگ میں ہیرو دشمن سے لڑتے لڑتے شہید ہو جاتا ہے۔ شہادت کا بیان شاعر دردمندانہ اور موثر انداز میں کرتا ہے۔

بین ۔ مرثیے کا یہ جز سب سے اہم ہے جس میں ہیرو کی میت پر عزیز و اقارب خاص طور پر عورتیں شہید ہونے والے کی خوبیوں کو بیان کر کے گریہ و ماتم کرتی ہیں۔

مرثیے کے لیے مذکورہ اجزا متعین ہیں تاہم ایسے بھی مرثیے لکھے گئے ہیں، جن میں ان اجزا کی پابندی

نہیں کی گئی ہے۔

ان اشعار پر غور کیجیے  ۔

یہ اشعار مثنوی سے لیے گئے ہیں۔

مثنویاں طویل اور مختصر دونوں قسم کی ہوتی ہیں۔ طویل مثنویوں میں عموماً آٹھ اجزا ہوتے ہیں۔ حمد و مناجات، نعت، منقبت، حاکم وقت کی مدح ، اپنی شاعری کی تعریف ، مثنوی لکھنے کا سبب، قصہ یا واقعہ اور خاتمہ ۔ لیکن ہر مثنوی میں یہ تمام اجزا لازمی حیثیت نہیں رکھتے ۔ مثنوی میں ہر قسم کے مضامین کی گنجائش ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر عشقیہ کہانیاں، اخلاقی اور متصوفانہ یا کسی معاشرے کے احوال یا افراد کی تعریف و تنقیص ، نصیحت و رہنمائی، جنگ اور مہم جوئی کے واقعات بیان کیے جاتے ہیں۔ میر حسن کی سحر البیان ، دیا شنکر نسیم کی گلزار نسیم اور نواب مرزا کی زہر عشق اہم مثنویاں ہیں۔ حالی کی مناجات بیوہ اور علی سردار جعفری کی مثنوی جمہور اور علامہ اقبال کی ساقی نامہ مثنوی کی ہیئت میں بعض معروف نظمیں بھی ملتی ہیں۔

ان اشعار کو پڑھیے  ۔

یہ ایک رباعی ہے۔

رباعی کا چوتھا مصرعہ بہت پر زور ہوتا ہے اس میں مختلف قسم کے مضامین ، جیسے فلسفہ، اخلاق ، رندی، سرمستی ، مذہب و تصوف، وعظ و پند ، حسن و عشق کے علاوہ شاعر کے تجربات اور مشاہدات بیان کیے جاتے ہیں۔

قطعہ

اشعار پڑھیے ۔

یہ ایک قطعہ ہے۔

کبھی کبھی شعرا اپنی غزلوں میں بھی  قطعہ بند اشعار شامل کر لیتے ہیں جن میں ایک ہی خیال کو دو یا دو سے زیادہ شعروں میں نظم کیا جاتا ہے۔ مثلاً  ۔  میؔر کی غزل میں شامل ایک قطعہ حسب ذیل ہے۔

یہ اشعار اقبال کی نظم شعاع امید سے لیے گئے ہیں۔

ہیئت کے اعتبار سے نظم کی تین قسمیں ہوتی ہیں ۔

پابند تم ۔ وہ نظم ہے جس میں بحر کے استعمال اور قافیوں کی ترتیب میں مقررہ اصولوں کی پابندی کی گئی ہو.

نظم معری ۔ وہ نظم ہے جس کے تمام مصرعے برابر کے ہوں مگر ان میں قافیے کی پابندی نہ ہو ۔

آزاد نظم ۔ ایسی نظم ہے جس میں قافیے و ردیف کی پابندی نہیں ہوتی اور اس کے ارکانِ بحر میں کمی بیشی ہو سکتی ہے، اس کی وجہ سے اس کے مصرعے چھوٹے بڑے ہو جاتے ہیں۔

نثری نظم ۔ یہ نظم چھوٹی بڑی سطروں پر مشتمل ہوتی ہے، اس میں نہ تو ردیف و قافیہ کی پابندی ہوتی ہے اور نہ وہ بحر وزن کی ۔

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول اور قدیم صنف ہے۔ غزل ایسے اشعار پر مشتمل ہوتی ہے جن میں ہر شعر اپنی جگہ ایک مکمل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے، یعنی ہر شعر کا مفہوم دوسرے شعر سے الگ بھی مکمل ہوتا ہے۔ غزل کی سب سے بڑی خوبی ایجاز و اختصار ہے، جس کے ذریعے شاعر کم الفاظ میں گہرا مفہوم بیان کرتا ہے۔

غزل میں ردیف اور قافیے کی پابندی لازمی ہوتی ہے۔ غزل کا پہلا شعر مطلع کہلاتا ہے، جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ اور ہم ردیف ہوتے ہیں۔ اگر مطلع کے بعد کسی اور شعر کے دونوں مصرعے ہم قافیہ و ہم ردیف ہوں تو اسے حسنِ مطلع کہتے ہیں۔ غزل کے آخری شعر میں شاعر اپنا تخلص استعمال کرتا ہے، جسے مقطع کہا جاتا ہے۔ غزل کا سب سے بہتر اور اثر انگیز شعر شاہِ بیت یا بیت الغزل کہلاتا ہے۔

قصیدہ اردو شاعری کی ایک اہم صنف ہے جس میں کسی شخصیت، بادشاہ، امیر یا کسی بااثر فرد کی تعریف (مدح) یا مذمت (ہجو) کی جاتی ہے۔ قصیدے میں تخیل کی بلندی، مبالغہ، پُرشکوہ اندازِ بیان اور بلند آہنگی نمایاں ہوتی ہے۔

ہیئت کے اعتبار سے قصیدے کی دو قسمیں ہیں ۔

خطابیہ قصیدہ ۔  جس میں شاعر براہِ راست مدح یا مذمت سے آغاز کرتا ہے۔

تمہیدیہ قصیدہ ۔  جس میں اصل موضوع سے پہلے تمہیدی اشعار شامل کیے جاتے ہیں۔

موضوع کے اعتبار سے قصیدہ دو قسم کا ہوتا ہے ۔

قصیدے کے اجزائے ترکیبی میں تشبیب، گریز، مدح، حسنِ طلب اور دعا شامل ہیں۔ تشبیب میں تمہید ہوتی ہے، گریز کے ذریعے مدح کی طرف آتے ہیں، مدح میں ممدوح کی خوبیاں بیان کی جاتی ہیں اور آخر میں شاعر دعا اور کبھی انعام کی درخواست بھی کرتا ہے۔

مرثیہ لفظ رثا سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں رونا، آہ و بکا کرنا۔ مرثیہ ایسی نظم کو کہتے ہیں جس میں کسی مرحوم کی خوبیوں کو بیان کیا جائے اور اس کی وفات پر رنج و غم کا اظہار کیا جائے۔ اردو ادب میں خاص طور پر واقعاتِ کربلا پر لکھے گئے مراثی بہت مشہور ہیں۔

مرثیہ عموماً مسدس کی ہیئت میں لکھا جاتا ہے۔ مرثیے کے اہم اجزائے ترکیبی درج ذیل ہیں ۔
چہرہ، سراپا، رخصت، آمد، رجز، جنگ، شہادت اور بین۔
ان اجزا میں شاعر پہلے تمہید باندھتا ہے، پھر ہیرو کی شخصیت، میدانِ جنگ میں آمد، بہادری، جنگ اور آخر میں شہادت کا بیان کرتا ہے۔ بین مرثیے کا سب سے دردناک حصہ ہوتا ہے جس میں عورتیں گریہ و ماتم کرتی ہیں۔

مثنوی اردو شاعری کی وہ صنف ہے جس میں ہر شعر کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں، لیکن ہر شعر کا قافیہ دوسرے شعر سے مختلف ہوتا ہے۔ مثنوی میں اشعار کی تعداد مقرر نہیں ہوتی، اسی لیے یہ طویل قصے اور واقعات بیان کرنے کے لیے موزوں صنف ہے۔

مثنوی میں عشقیہ داستانیں، اخلاقی تعلیمات، تصوف، معاشرتی حالات، جنگ و مہم جوئی اور تاریخی واقعات بیان کیے جاتے ہیں۔ مشہور مثنویوں میں سحرالبیان، گلزارِ نسیم، زہرِ عشق شامل ہیں۔ بعض نظموں کو بھی مثنوی کی ہیئت میں لکھا گیا ہے، جیسے اقبال کی ساقی نامہ۔

نظم شاعری کی وہ صنف ہے جس میں ایک ہی موضوع، ایک ہی خیال یا ایک ہی واقعہ کو تسلسل کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے۔ نظم کی سب سے بڑی خوبی خیال کی وحدت ہے۔ عموماً ہر نظم کا ایک عنوان ہوتا ہے جو اس کے مرکزی خیال کی وضاحت کرتا ہے۔

پابند نظم ۔  جس میں بحر اور قافیے کی پابندی ہوتی ہے۔

نظمِ معرّی ۔  جس میں وزن تو ہوتا ہے مگر قافیہ نہیں ہوتا۔

آزاد نظم ۔  جس میں قافیے اور ردیف کی پابندی نہیں ہوتی اور مصرعے چھوٹے بڑے ہو سکتے ہیں۔

نثری نظم ۔  جس میں نہ وزن ہوتا ہے اور نہ قافیہ، بلکہ خیالات نثری انداز میں شعری کیفیت کے ساتھ بیان کیے جاتے ہیں۔

This post provides a detailed explanation of Chapter 20 of NCERT Class 12 Urdu Grammar – Urdu Qawaid Aur Insha. It covers the major genres of Urdu poetry, including Ghazal, Qasida, Marsiya, Masnavi, Ruba‘i, Qat‘a, and Nazm, with clear definitions, characteristics, and examples. The post also includes well-structured question-and-answer explanations, making it useful for students preparing for board exams and for anyone seeking a clear understanding of classical Urdu poetic forms.

Scroll to Top