درخواست نویسی
ذیل میں درخواست کا ایک نمونہ دیا جا رہا ہے۔ اس کے خاکے پر غور کیجیے ۔
تاریخ ۔ یکم جنوری، 2011
بخدمت پرنسپل صاحب
گورنمنٹ سینئیر سیکنڈری اسکول
بلّی ماران، دہلی
موضوع ۔ دو دن کی رخصت کی درخواست
جنابِ عالی
عرض ہے کہ ماہ جنوری کی 12 اور 13 تاریخ کو ممبئی میں اپنے ایک قریبی رشتےدار کی شادی ہے۔ مجھے اپنے والدین کے ساتھ اس تقریب میں شریک ہونا ہے۔
آپ سے درخواست ہے کہ ان تاریخوں میں اسکول سے مجھے رخصت عنایت فرمائیں۔
شکریہ
آپ کا فرماں بردار شاگرد
کلیم الدین
جماعت دہم
درخواست لکھتے وقت ذیل کی باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے ۔
صفحے کی دائیں طرف جس کے نام درخواست لکھی جارہی ہے ، اس کا عہدہ اور پتا
اس کے بعد کم سے کم لفظوں میں مقصد کی وضاحت
محترم / محترمہ / جناب وغیرہ لفظوں سے تخاطب
چند سطروں میں درخواست کے مقصد کی تفصیل
آخر میں بائیں جانب درخواست لکھنے والے کا نام ، دستخط اور جماعت
خط نویسی
اس خط کو غور سے پڑھیے ۔
بی ، 10/26
سکنڈ فلور
اوکھلا وہار، جامعہ نگر نئی دہلی
تاریخ ۔ یکم جون، 2011
جناب والد صاحب! امی جان
السلام علیکم
آپ کا خط ملا۔ آپ لوگ خیریت سے ہیں، پڑھ کر خوشی ہوئی۔ یہاں رہائش کا مناسب انتظام ہو گیا ہے اور مکان مالک مناسب قیمت پر کھانا بھی فراہم کر دیتے ہیں۔ داخلہ کی ساری کارروائیاں پوری ہوگئی ہیں اور کلاس کا بھی آغاز ہو چکا ہے۔ یہاں کے استاد بہت اچھا پڑھاتے ہیں۔ میری طرح باہر سے آئے ہوئے کچھ دوست بھی مل گئے ہیں، جس کے سبب اجنبیت محسوس نہیں ہوتی ہے۔
بہت بارونق شہر ہے۔ یہاں بہت چہل پہل رہتی ہے اور روشنیوں سے جگمگاتے ہوئے بازار ہیں۔
کچھ روز پہلے میں لال قلعہ، جامع مسجد اور قطب مینار وغیرہ دیکھنے گیا تھا۔ انھیں دیکھے کر مجھے تاریخ کے بارے میں بہت دلچسپ معلومات حاصل ہوئیں۔
میرے لیے فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے، اسلم کو سلام اور شہناز کو پیار۔
آپ کا فرماں بردار بیٹا
سلیم احمد
یہ ایک خط ہے۔ خط کو مکتوب بھی کہا جاتا ہے۔
خط لکھنے والے کو مکتوب نگار اور جس کے نام خط لکھا گیا ہوا سے مکتوب الیہ کہتے ہیں۔
خط کے چار حصے ہوتے ہیں۔ داہنی طرف ایک گوشے میں پتا اور تاریخ درج ہے جس سے یہ پتا چلتا ہے کہ خط کہاں سے اور کب لکھا گیا۔
دوسرے حصے میں کسی کو مخاطب کر کے اس کے لیے ایک تعظیمی فقرہ استعمال کیا گیا ہے۔
تیسرا حصہ خط کا اصل حصّہ ہے۔ جس میں مدعا بیان ہوا ہے۔ اسے نفس مضمون کہا جاتا ہے۔
چوتھا حصہ خاتمے کا ہے جو بائیں طرف ہے جس میں مکتوب نگا کا نام اور مکتوب الیہ سے اس کے تعلق اور
رشتے کا اظہار تا ہے۔
مضمون نویسی
درج ذیل نمونے پر غور کیجیے ۔
الف) ۔ پھول کو موضوع بنا کر مضمون لکھنا ہو تو ان نکات پر توجہ دی جاسکتی ہے ۔
پھولوں کی اہمیت
مختلف موسموں میں پھولوں کی پیداوار
مختلف رنگوں اور خوشبوؤں والے پھول
گلاب کی خصوصی اہمیت
پھولوں کا مصرف
خلاصہ
ب) ۔ اسکول میں یوم جمہوریہ منائے جانے پر مضمون لکھنے کے لیے اشارے ۔
یوم جمہوریہ کی تاریخی و قومی اہمیت
مادر وطن کے لیے اپنے فرائض کی یاد دہانی
اسکول میں جشن کسی طرح منایا گیا
قومی پرچم لہرانے کے طریقے اور اس کی عقیدت کا بیان
پریڈ کی اہمیت
قومی ترانہ
پرچم کشائی کے بعد کی تقریر کا حوالہ
جشن جمہوریہ کے موقعے پر ہونے والی تقریبات کا حوالہ
خلاصہ
خبر نویسی
اخبار میں چھپنے والی ان خبروں کو توجہ سے پڑھیے ۔
شہزادی ڈائنا کا جوڑا دولاکھ 76 ہزار میں نیلام ہوا
لندن۔ برطانیہ کے شہزادہ چارلس کے ساتھ رشتہ کے بعد شہزادی ڈائنا تافتہ نامی جو جوڑا پہن کر عوام کے سامنے آئی تھیں وہ کل لندن میں دولاکھ 76 ہزار ڈالر میں نیلام کیا گیا۔ نیلام کرنے والے کیری ٹیلر نے اس جوڑے کو نہایت خوبصورت بتاتے ہوئے کہا کہ اس جوڑے کے تھیں سے پچاس ہزار پانڈ میں نیلام ہونے کی امید تھی لیکن یہ ڈریس اس سے چار گنا زیادہ رقم میں نیلام ہوئی۔ ٹیلر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ڈائنا نے اپنے رشتہ کی بات شروع ہونے سے کئی ہفتہ پہلے اپنا وزن کافی کم کیا تھا اور یہ تافتہ ڈریس انہیں کافی ڈھیلا ہو گیا تھا۔ ڈائنا نے یہ ڈریس فٹ کرنے کے لیے ڈیزائز الیز ابتھ ایمینوئل کو دیا تھا۔
ان خبروں سے خبر نویسی کی چند خصوصیات واضح ہوتی ہیں ۔
خبر کی سرخی جو کہ خبر کا نچوڑ ہوتی ہے۔
واقعہ کب ہوا، کہاں ہوا، کیوں ہوا اور کیسے ہوا۔
خبر کے اہم نکات کی وضاحت ۔
خبر نگاری خبر لکھنے کا فن ہے جو کسی واقعے یا حادثے کا حقیقی بیان ہوتا ہے۔
اس لیے خبر لکھتے وقت بات اُلجھی ہوئی نہیں ہونا چاہیے۔ بات گھما پھرا کر یا بڑھا چڑھا کر کی جائے تو خبر حقیقت سے دور ہو جاتی ہے۔ یاد رہے کہ خبر صداقت یا حقیقت پر مبنی ہو ، کہانی نہ بن جائے۔ خبر میں ذاتی پسند اور ناپسند اور تجزیے سے گریز کیا جانا ضروری ہے۔ خبر کی زبان آسان اور سادہ ہونی چاہیے۔
اشتہار نویسی
آج کا دور تشہیر کا دور ہے۔ مختلف قسم کے اشتہارات ہمیں اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں۔ خبر نویسی کی طرح اشتہار نویسی کا تعلق بھی پیشہ ورانہ صحافت سے ہے۔ ٹی وی، اخبارات، انٹرنیٹ، پوسٹر اور ہورڈنگ وغیرہ اشتہار کے ذرائع ہیں۔ اشتہار میں تصویر کے ساتھ تحریر کا بھی حصہ ہوتا ہے۔
اشتہار کی عبارت مختصر اور دلچسپ ہونی چاہیے۔ عبارت میں استعمال کیے جانے والے جملوں میں اگر موزونیت ہو تو اشتہار آسانی سے سمجھ میں آجاتا ہے۔
ذیل کے فقرے اسی کی مثال ہیں ۔
ہم دو، ہمارے دو
دو بوند زندگی کی
زندگی کے ساتھ بھی، زندگی کے بعد بھی
سب پڑھیں ، سب بڑھیں
آؤ اسکول چلیں
سوال و جواب
سوال 1 ۔ درخواست نویسی کیا ہے؟ درخواست لکھتے وقت کن باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے؟ وضاحت کیجیے۔
جواب ۔
درخواست نویسی اردو نثر کی ایک اہم عملی صنف ہے جس کے ذریعے کسی افسر، ادارے یا ذمہ دار شخص سے شائستہ اور باقاعدہ انداز میں اپنی ضرورت، مسئلہ یا مطالبہ پیش کیا جاتا ہے۔ درخواست عام طور پر کسی کام کی اجازت، رخصت، رعایت یا شکایت کے لیے لکھی جاتی ہے۔
درخواست لکھتے وقت درج ذیل باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے ۔
سب سے پہلے صفحے کے اوپر دائیں جانب تاریخ لکھی جاتی ہے۔ اس کے بعد جس شخص کے نام درخواست لکھی جا رہی ہو، اس کا عہدہ اور پورا پتا درج کیا جاتا ہے۔ پھر موضوع لکھا جاتا ہے تاکہ درخواست کا مقصد واضح ہو جائے۔
اس کے بعد جناب عالی، محترم، محترمہ جیسے الفاظ کے ذریعے مؤدبانہ تخاطب کیا جاتا ہے۔ چند سطروں میں صاف، سادہ اور مختصر انداز میں درخواست کی وجہ بیان کی جاتی ہے۔ آخر میں شکریہ ادا کر کے بائیں جانب درخواست لکھنے والے کا نام، دستخط اور جماعت لکھی جاتی ہے۔ زبان شائستہ اور غیر مبالغہ آمیز ہونی چاہیے۔
سوال 2 ۔ خط نویسی کی تعریف کیجیے اور خط کے مختلف حصوں کی وضاحت کیجیے۔
جواب ۔
خط نویسی خیالات، جذبات اور معلومات کو تحریری صورت میں دور بیٹھے ہوئے کسی شخص تک پہنچانے کا ذریعہ ہے۔ خط کو مکتوب بھی کہا جاتا ہے۔ خط لکھنے والے کو مکتوب نگار اور جس کے نام خط لکھا جائے اسے مکتوب الیہ کہتے ہیں۔
خط کے چار بنیادی حصے ہوتے ہیں ۔
پہلا حصہ خط کے اوپر دائیں طرف ہوتا ہے، جس میں لکھنے والے کا پتا اور تاریخ درج ہوتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خط کہاں سے اور کب لکھا گیا۔
دوسرا حصہ تخاطب پر مشتمل ہوتا ہے، جس میں مخاطب کے لیے تعظیمی الفاظ جیسے جناب، والد محترم، عزیز دوست وغیرہ استعمال کیے جاتے ہیں۔
تیسرا اور اہم حصہ خط کا اصل متن ہوتا ہے جسے نفسِ مضمون کہتے ہیں۔ اس حصے میں خط لکھنے کا مقصد اور ساری بات تفصیل سے بیان کی جاتی ہے۔
چوتھا حصہ خاتمے پر مشتمل ہوتا ہے، جس میں دعائیہ کلمات، رشتے کا اظہار اور آخر میں مکتوب نگار کا نام لکھا جاتا ہے۔ خط کی زبان سادہ، خلوص بھری اور موقع کے مطابق ہونی چاہیے۔
سوال 3 ۔ خبر نویسی اور اشتہار نویسی کیا ہے؟ دونوں کی اہم خصوصیات بیان کیجیے۔
جواب ۔
خبر نویسی صحافت کا ایک اہم شعبہ ہے جس میں کسی واقعے یا حادثے کا سچا اور غیر جانبدار بیان پیش کیا جاتا ہے۔ خبر میں یہ باتیں واضح ہونی چاہئیں کہ واقعہ کب، کہاں، کیسے، کیوں اور کس نے انجام دیا۔ خبر کی سب سے اہم چیز اس کی سرخی ہوتی ہے جو پوری خبر کا نچوڑ پیش کرتی ہے۔ خبر میں مبالغہ، ذاتی رائے اور تجزیے سے گریز ضروری ہے۔ زبان سادہ، واضح اور حقیقت پر مبنی ہونی چاہیے۔
اشتہار نویسی بھی صحافت کا ایک اہم حصہ ہے جس کا مقصد کسی چیز، منصوبے یا پیغام کی تشہیر کرنا ہوتا ہے۔ اشتہار ٹی وی، اخبار، انٹرنیٹ، پوسٹر اور ہورڈنگ کے ذریعے دیا جاتا ہے۔ اشتہار کی عبارت مختصر، دل چسپ اور پر اثر ہونی چاہیے۔ جملوں میں روانی اور نعرے کی سی کیفیت ہو تاکہ پیغام جلد ذہن نشین ہو جائے، جیسے ہم دو، ہمارے دو یا سب پڑھیں، سب بڑھیں۔ اشتہار میں کم الفاظ میں زیادہ بات کہنے کی صلاحیت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
This post explains NCERT Urdu Grammar Chapter 21, covering application writing, letter writing, essay writing, news writing, and advertisement writing with clear examples and exam-oriented questions and answers.