غزل
عربی قصائد کی تشبیب سے فارسی شاعروں نے غزل جیسی صنف بنائی۔ غزل کا لفظی مطلب عورتوں سے بات کرنا ہے۔ شاید اسی وجہ سے فارسی اور اردو غزل میں زیادہ تر عشقیہ موضوعات ملتے ہیں۔ غزل کے پہلے دو مصرعے اور باقی تمام اشعار کے دوسرے مصرعے ایک ہی قافیہ اور ردیف میں ہوتے ہیں۔ پہلا شعر، جس کے دونوں مصرعے لازمی طور پر ہم قافیہ اور ہم ردیف ہوں، مطلع کہلاتا ہے۔ بعض اوقات شاعر ایک سے زیادہ مطلع بھی کہہ دیتے ہیں، جنہیں حسنِ مطلع کہا جاتا ہے۔ غزل کے آخری شعر میں عام طور پر شاعر اپنا قلمی نام یا تخلص استعمال کرتا ہے، اس شعر کو مقطع کہتے ہیں۔
غزل کے اشعار کی کوئی مقررہ تعداد نہیں ہوتی۔ پرانے شاعروں نے کم از کم پانچ اشعار کی روایت قائم کی تھی، لیکن بعد میں بعض شاعروں نے چار یا تین اشعار کی غزلیں بھی اپنے دیوان میں شامل کیں۔ اس کی نمایاں مثال دیوانِ غالب ہے۔ غالب کے اثر سے جدید دور میں پانچ سے کم اشعار والی غزل کو قبول کیا جانے لگا۔ بعض لوگوں نے نظمِ آزاد کی طرح آزاد غزل کہنے کی کوشش بھی کی، لیکن یہ صرف ایک تجربہ ثابت ہوا۔
غزل میں موضوعات کی کوئی پابندی نہیں۔ ابتدا میں زیادہ تر عاشقانہ خیالات بیان کیے جاتے تھے، لیکن آہستہ آہستہ غزل کا دائرہ وسیع ہو گیا۔ آج غزل میں ہر طرح کے موضوعات شامل ہو سکتے ہیں۔ زندگی کے تمام مسائل اور حالات کو غزل میں بیان کیا جا سکتا ہے۔ تصوف کے ساتھ رندی، محبت کے ساتھ عیاشی، اور روحانیت کے ساتھ دنیا داری جیسے مختلف اور متضاد خیالات بھی غزل میں ملتے ہیں۔
وقت کے ساتھ ساتھ غزل میں کئی تبدیلیاں آئیں، لیکن ہر دور میں غزل کہنے والے شاعروں کی مقبولیت برقرار رہی۔ ولی سے میر تک، غالب سے اقبال تک، فیض سے بشیر بدر تک، عرفان صدیقی سے شجاع خاور تک اور اسعد بدایونی سے خورشید اکبر تک اردو غزل میں مضبوط اور خوبصورت اظہار کے انداز پیدا ہوئے، جن کی وجہ سے ہر دور میں غزل کو مرکزی حیثیت حاصل رہی۔ اردو کے اثر سے ہندی میں بھی غزل کہنے کا رواج بڑھا اور وہاں بڑی تعداد میں غزل گو شاعر سامنے آئے۔ ہندوستان کی علاقائی زبانوں میں بھی کئی غزل گو پیدا ہو چکے ہیں۔ یہ سب غزل کی مقبولیت کا ثبوت ہیں۔ مختلف گلوکاروں نے بھی غزل گا کر اردو غزل کو عام لوگوں میں مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
اسد اللہ خاں غالب
مرزا غالب، جن کا پورا نام اسد اللہ بیگ خان تھا، 27 دسمبر 1797 کو اپنے نانھیال آگرہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام مرزا عبد اللہ بیگ اور والدہ کا نام عزت النسا بیگم تھا۔ غالب کے نانا خواجہ مرزا غلام حسین خاں سرکارِ میرٹھ میں ایک فوجی افسر تھے اور آگرہ کے معزز لوگوں میں شمار ہوتے تھے۔
غالب ابھی کم عمر تھے کہ ان کے والد کا انتقال ہو گیا۔ والد کے بعد ان کے چچا نصر اللہ بیگ خاں نے ان کی دیکھ بھال کی، لیکن چند سال بعد وہ بھی وفات پا گئے۔ اس کے بعد غالب اپنی والدہ کی سرپرستی میں رہے۔ ان کی ابتدائی تعلیم کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ملتیں، البتہ یہ معلوم ہے کہ انھوں نے فارسی کی ابتدا مولوی معظم سے کی۔ اسی زمانے میں غالب نے شعر کہنا شروع کر دیا تھا۔
تیرہ برس کی عمر میں غالب کی شادی خاندانِ لوہارو میں الہی بخش خاں معروف کی بیٹی امراء بیگم سے ہوئی۔ شادی کے چند برس بعد وہ دہلی میں مستقل طور پر رہنے لگے۔ دہلی میں انھیں مالی مشکلات کا سامنا رہا۔ خاندانی پنشن کے لیے وہ کلکتہ گئے، مگر کامیابی نہ ملی۔ بعد میں قلعہ معلا سے ان کا باقاعدہ تعلق قائم ہوا تو حالات کچھ بہتر ہوئے، لیکن غدر کے واقعات نے سب کچھ بدل دیا۔ رام پور کے دربار سے وابستگی اور قلعہ معلا سے پنشن ملنے کے باوجود ان کی پریشانیاں ختم نہ ہو سکیں۔ آخرکار 15 فروری 1869 کو ان کا انتقال ہو گیا۔
غالب نے اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں لکھا۔ ان کی فارسی کتابوں میں پنج آہنگ، مہر نیم روز، دستنبو، قاطع برہان، درفش کاویانی اور کلیات نظم فارسی شامل ہیں۔ اردو میں ان کا مشہور دیوان موجود ہے۔ ان کی زندگی ہی میں ان کے خطوط کے دو مجموعے عود ہندی اور اردوئے معلا کے نام سے شائع ہوئے۔ بعد میں لوگوں نے ان کی بکھری تحریروں کو جمع کر کے مختلف ناموں سے شائع کیا۔ ابتدا میں ان کا تخلص اسد تھا، بعد میں انھوں نے غالب اختیار کیا۔ غالب نئی سوچ رکھنے والے شاعر تھے۔ شروع میں انھوں نے فارسی شاعر بیدل کی پیروی کی، لیکن جلد ہی اس انداز کو چھوڑ کر اپنا الگ راستہ اختیار کیا۔
غالب کے خطوط اردو ادب کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ اپنے خطوط میں انھوں نے سادہ اور بے جھجھک انداز اپنایا۔ آسان زبان، درد بھرے لہجے اور ہلکے مزاح نے ان کے خطوط کو بہت خاص بنا دیا ہے۔ ان خطوط سے نہ صرف ان کی سوچ کا پتا چلتا ہے بلکہ ان کی شخصیت بھی واضح ہو کر سامنے آتی ہے۔
پہلی غزل کی تشریح و خلاصہ
دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میں
خاک ایسی زندگی پہ کہ پتھر نہیں ہوں میں
تشریح ۔
غالب اس شعر میں اپنی خودداری اور غیرتِ انسانی کا اعلان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں کوئی ایسا شخص نہیں جو ہمیشہ کسی کے دروازے پر پڑا رہے اور ذلت کی زندگی گزارے۔ ایسی زندگی پر مٹی ڈالنی چاہیے جس میں انسان کے احساسات مر جائیں۔ شاعر خود کو پتھر سے تشبیہ دے کر واضح کرتا ہے کہ وہ حساس دل رکھتا ہے، بے جان نہیں ہے۔ اس شعر میں غالب کی انا اور عزتِ نفس نمایاں ہے۔
کیوں گردشِ مدام سے گھبرا نہ جائے دل
انسان ہوں پیالہ و ساغر نہیں ہوں میں
تشریح ۔
اس شعر میں غالب انسانی کمزوری کو نہایت گہرے انداز میں بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مسلسل مصیبتوں اور حالات کے الٹ پھیر سے دل کیوں نہ گھبرا جائے؟ آخر میں انسان ہوں، کوئی پیالہ یا جام نہیں ہوں جو ہر دھچکا برداشت کر لے۔ یہاں شاعر یہ بات واضح کرتا ہے کہ انسان کے صبر کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ یہ شعر غالب کی نفسیاتی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔
یارب زمانہ مجھ کو مٹاتا ہے کس لیے
لوحِ جہاں پہ حرفِ مکرر نہیں ہوں میں
تشریح ۔
اس شعر میں غالب خدا سے شکوہ کرتے ہیں کہ زمانہ انہیں بار بار مٹانے پر کیوں تلا ہوا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں دنیا کی تختی پر لکھا ہوا کوئی ایسا لفظ نہیں ہوں جسے بار بار لکھ کر مٹا دیا جائے۔ شاعر اپنی انفرادیت، تخلیقی عظمت اور فکری وقار کا اظہار کرتا ہے۔ یہ شعر اس احساس کا مظہر ہے کہ معاشرہ اہلِ کمال کی قدر نہیں کرتا۔
حد چاہیے سزا میں عقوبت کے واسطے
آخر گناہ گار ہوں کافر نہیں ہوں میں
تشریح ۔
یہ شعر غالب کی انصاف پسندی اور اعتدال کی بہترین مثال ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اگر سزا دی جا رہی ہے تو اس کی بھی کوئی حد ہونی چاہیے۔ میں نے اگر کچھ غلطیاں کی ہیں تو میں گناہ گار ہوں، مگر کافر نہیں کہ اتنی سخت سزا دی جائے۔ اس شعر میں غالب انسانی قانون اور اخلاقی توازن کی بات کرتے ہیں اور ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔
کس واسطے عزیز نہیں جانتے مجھے
لعل و زمرد و زر و گوہر نہیں ہوں میں
تشریح ۔
اس شعر میں غالب معاشرے کی مادہ پرستی پر گہرا طنز کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ لوگ مجھے اس لیے عزیز نہیں سمجھتے کیونکہ میں سونا، چاندی یا قیمتی جواہر نہیں ہوں۔ یہاں شاعر اس تلخ حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ انسان کی قدر اس کے اخلاق یا علم سے نہیں بلکہ دولت سے کی جاتی ہے۔
رکھتے ہو تم قدم مری آنکھوں سے کیوں دریغ
رتبے میں مہر و ماہ سے کم تر نہیں ہوں میں
تشریح ۔
اس شعر میں شاعر مخاطب سے شکوہ کرتا ہے کہ وہ اس کی عزت کیوں نہیں کرتا۔ غالب کہتے ہیں کہ میرے مرتبے میں کوئی کمی نہیں، میں سورج اور چاند سے کم نہیں ہوں۔ یہ شعر غالب کی خودی، خود شناسی اور انسانی عظمت کا اعلان ہے۔ یہاں شاعر انسان کو کائنات کی عظیم ترین مخلوق قرار دیتا ہے۔
کرتے ہو مجھ کو منعِ قدم بوس کس لیے
کیا آسمان کے بھی برابر نہیں ہوں میں
تشریح ۔
اس شعر میں غالب انسانی وقار کو مزید بلند سطح پر لے جاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے قدم چومنے سے کیوں روکا جا رہا ہے؟ کیا میں آسمان کے برابر بھی نہیں ہوں؟ یہاں شاعر انسان کی بلند حیثیت اور اس کے روحانی مقام کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہ شعر غرور نہیں بلکہ خود آگہی کی علامت ہے۔
غالبؔ وظیفہ خوار ہو دو شاہ کو دعا
وہ دن گئے کہ کہتے تھے نوکر نہیں ہوں میں
تشریح ۔
مقطع میں غالب انتہائی دردناک انداز میں اپنی زندگی کی حقیقت بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اب میں بادشاہ کے وظیفے پر گزارا کرنے والا شخص بن چکا ہوں، اس لیے اس کے حق میں دعا کرنا ہی مناسب ہے۔ وہ دن گزر گئے جب میں فخر سے کہا کرتا تھا کہ میں کسی کا نوکر نہیں ہوں۔ یہ شعر وقت کی بے رحمی، حالات کی مجبوری اور انسان کی شکستہ خودداری کا نوحہ ہے۔
غزل کا خلاصہ
یہ غزل مرزا غالب کی شخصیت، فکر اور زندگی کا آئینہ ہے۔ اس میں شاعر اپنی خودداری، انسانی عظمت اور فکری انفرادیت کا بھرپور دفاع کرتا ہے۔ غالب جگہ جگہ زمانے کی ناانصافی، معاشرے کی بے قدری اور مادہ پرستی پر طنز کرتے ہیں۔ وہ انسان کو محض ایک کمزور مخلوق نہیں بلکہ باوقار اور باعزت ہستی کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
غزل میں درد، شکوہ، احتجاج اور خود شناسی ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ ابتدا میں غالب اپنی عزتِ نفس کا اعلان کرتے ہیں، درمیان میں ظلم اور بے انصافی کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں، اور آخر میں وقت کی ستم ظریفی کو قبول کرتے ہوئے اپنی مجبوری کا اعتراف کرتے ہیں۔ یہی تضاد غالب کی عظمت ہے کہ وہ شکست کھا کر بھی فکری طور پر سرخرو نظر آتے ہیں۔
دوسری غزل تشریح و خلاصہ
سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں
خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں
تشریح
غالبؔ یہاں حسن اور جمال کی دنیا کو بیان کر رہے ہیں۔ لالہ و گل (کھلے ہوئے پھول) تو نظر آتے ہیں اور سب کے سامنے اپنی خوبصورتی دکھاتے ہیں، لیکن زمین کے اندر چھپی ہوئی صورتیں یا چیزیں جو زمین کی گہرائی میں موجود ہیں، ان کے بارے میں سوچتے ہیں کہ وہ کتنا زیادہ حسین ہوں گی۔ یہ مصرعہ ظاہری اور باطنی خوبصورتی کا تقابل کرتا ہے، اور انسان کی فطرت میں چھپی ہوئی چیزوں کو تلاش کرنے کی جستجو کو بھی ظاہر کرتا ہے۔
یاد تھیں ہم کو بھی رنگا رنگ بزم آرائیاں
لیکن اب نقش و نگار طاق نسیاں ہو گئیں
تشریح
یہ مصرعہ غالبؔ کے ماضی کی یادوں کی عکاسی کرتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پہلے ہم محافل، خوشیوں اور رنگا رنگ آرائشوں کے عادی تھے، لیکن اب وہ سب ماضی کی یادیں بن کر رہ گئی ہیں۔ وقت کی تبدیلی، زندگی کی فانی فطرت اور یادوں کی قدردانی کو ظاہر کیا گیا ہے۔
تھیں بنات النعش گردوں دن کو پردے میں نہاں
شب کو ان کے جی میں کیا آئی کہ عریاں ہو گئیں
تشریح
یہاں غالبؔ انسانی دل اور جذبات کی نرمی اور پوشیدہ خوبصورتی پر روشنی ڈالتے ہیں۔ دن کے وقت یہ جذبات چھپے رہتے ہیں، لیکن رات کے وقت یہ کھل جاتے ہیں، یعنی رات کی تنہائی اور سکوت میں انسان کے جذبات اور خواب آشکار ہو جاتے ہیں۔
قید میں یعقوب نے لی گو نہ یوسف کی خبر
لیکن آنکھیں روزن دیوار زنداں ہو گئیں
تشریح
یہ مصرعہ حضرت یعقوب اور یوسف کی کہانی کا حوالہ دیتا ہے۔ یعقوب کو اپنے بیٹے یوسف کی خبر نہ ہونے کے باوجود امید کا دامن نہیں چھوڑا۔ غالبؔ اسے انسانی صبر، انتظار اور محبت کی علامت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ آنکھیں روزن (کھڑکی) کی طرف دیکھتی رہتی ہیں، یعنی دل کی گہرائی میں امید کی روشنی ہمیشہ موجود رہتی ہے۔
سب رقیبوں سے ہوں نا خوش پر زنان مصر سے
ہے زلیخا خوش کہ محو ماہ کنعاں ہو گئیں
تشریح
یہ مصرعہ یوسف و زلیخا کی داستان کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ غالبؔ کہتے ہیں کہ وہ دنیا کے تمام رقیبوں سے خوش نہیں ہیں، لیکن زلیخا خوش ہے کیونکہ وہ یوسف کی محبت میں محو ہے۔ یہاں محبت، حسد، اور انسان کے جذبات کی پیچیدگی کا عکس ملتا ہے۔
جوئے خوں آنکھوں سے بہنے دو کہ ہے شام فراق
میں یہ سمجھوں گا کہ شمعیں دو فروزاں ہو گئیں
تشریح
غالبؔ محبوب سے جدائی کے درد کو بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میری آنکھوں سے بہنے والے آنسو، شمعوں کی روشنی کی طرح ہیں۔ یہ مصرعہ غم کو خوبصورتی میں بدلنے کا فلسفہ بیان کرتا ہے: درد اور رنج بھی شاعری اور جمالیات میں مثبت انداز میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔
ان پری زادوں سے لیں گے خلد میں ہم انتقام
قدرت حق سے یہی حوریں اگر واں ہو گئیں
تشریح
یہ مصرعہ جنت اور حوروں کی مثال دیتا ہے۔ غالبؔ طنزیہ انداز میں کہتے ہیں کہ اگر جنت میں حوریں ہیں تو ہم ان سے انتقام لیں گے، یعنی دنیا میں جو محبت، حسن اور دل فریبیاں موجود تھیں، ان کا ازالہ جنت میں بھی کر سکتے ہیں۔ یہاں حسن اور عشق کی انتقامی خوبی کو بیان کیا گیا ہے۔
نیند اس کی ہے دماغ اس کا ہے راتیں اس کی ہیں
تیری زلفیں جس کے بازو پر پریشاں ہو گئیں
تشریح
یہاں محبوب کی گرفت اور تسلط بیان کیا گیا ہے۔ محبوب کی زندگی کے ہر پہلو پر غالبؔ کا اثر ہے: نیند، سوچ، راتیں اور حتیٰ کہ زلفیں بھی۔ یہ مصرعہ محبت کی مکمل گرفت اور جذبے کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔
میں چمن میں کیا گیا گویا دبستاں کھل گیا
بلبلیں سن کر مرے نالے غزل خواں ہو گئیں
تشریح
غالبؔ چمن (باغ) میں جانے کی مثال دیتے ہیں، جہاں دبستاں (خوبصورتی اور عشق کے مناظر) کھل جاتے ہیں۔ بلبلیں بھی ان کے غم و شوق کی آواز سن کر غزل گانے لگتی ہیں۔ یہ فطرت اور انسانی جذبات کے تعلق کو دکھاتا ہے۔
وہ نگاہیں کیوں ہوئی جاتی ہیں یارب دل کے پار
جو مری کوتاہیٔ قسمت سے مژگاں ہو گئیں
تشریح
یہ مصرعہ دعائیہ انداز میں ہے۔ غالبؔ کہتے ہیں کہ محبوب کی نگاہیں دل کو پار کر جائیں، کیونکہ قسمت کی کمی سے مژگاں (آنسو) بہتے ہیں۔ یہ قسمت اور تقدیر پر انسانی فکر اور دعا کی عکاسی کرتا ہے۔
بسکہ روکا میں نے اور سینے میں ابھریں پے بہ پے
میری آہیں بخیۂ چاک گریباں ہو گئیں
تشریح
یہاں غالبؔ اپنی آہوں اور درد کو بیان کرتے ہیں۔ جب انسان اپنے جذبات کو روکنے کی کوشش کرتا ہے، تو یہ درد مزید بڑھ جاتا ہے۔ آہیں ان کے چاک شدہ سینے کی علامت ہیں۔
واں گیا بھی میں تو ان کی گالیوں کا کیا جواب
یاد تھیں جتنی دعائیں صرف درباں ہو گئیں
تشریح
غالبؔ محبوب کی ناراضگی اور گالیوں کا ذکر کرتے ہیں۔ پرانی دعائیں اور تمنائیں محض یادیں رہ گئی ہیں، یعنی انسان کی کوششیں اور امیدیں کبھی حقیقت نہیں بن پاتیں۔
جان فزا ہے بادہ جس کے ہاتھ میں جام آ گیا
سب لکیریں ہاتھ کی گویا رگ جاں ہو گئیں
تشریح
یہاں غالبؔ شراب کی مثال دیتے ہیں۔ جس کے ہاتھ میں جام (پیالہ) ہے، اس کا جادو سب محسوس کرتا ہے۔ ہاتھ کی لکیریں گویا انسان کی زندگی کی رگیں ہیں جو حرکت میں آ گئی ہیں۔ یہ زندگی کے لطیف تجربات اور خوشی کو بیان کرتا ہے۔
ہم موحد ہیں ہمارا کیش ہے ترک رسوم
ملتیں جب مٹ گئیں اجزائے ایماں ہو گئیں
تشریح
غالبؔ معاشرتی رسم و رواج کی پرواہ نہیں کرتے۔ وہ موحد (اکتائی پرست) ہیں اور ایمان کے اجزاء کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ یعنی روحانیت اور اخلاقیات کو رسوم و رواج پر ترجیح دینا۔
رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج
مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں
تشریح
غالبؔ کہتے ہیں کہ اگر انسان رنج اور مشکلات کا عادی ہو جائے تو درد بھی کم محسوس ہوتا ہے۔ اتنی مشکلات آئیں کہ وہ سب آسان لگنے لگیں۔ یہ صبر، برداشت اور انسانی عادت کی طاقت کو ظاہر کرتا ہے۔
یوں ہی گر روتا رہا غالبؔ تو اے اہل جہاں
دیکھنا ان بستیوں کو تم کہ ویراں ہو گئیں
تشریح
غالبؔ آخری مصرعہ میں سبق دیتے ہیں کہ اگر انسان بس روتا رہے اور حالات پر مایوس ہو، تو دنیا کی بستیوں کی ویرانی اور خالی پن دیکھنے کو ملتا ہے۔ یعنی عمل اور جدوجہد کی ضرورت اور صرف دکھ میں ڈوبنے کی تنبیہ۔
غزل کا خلاصہ
غالبؔ اس غزل میں محبت، حسن، جدائی، انسانی جذبات اور زندگی کی حقیقتوں کو گہرائی سے بیان کر رہے ہیں۔ وہ ابتدا میں ظاہری اور باطنی خوبصورتی کے فرق پر غور کرتے ہیں، جیسے کھلے ہوئے پھول (لالہ و گل) اور زمین میں چھپی ہوئی صورتیں، اور اس میں انسان کی دلچسپی اور حیرت کو ظاہر کرتے ہیں۔
غزل میں ماضی کی یادیں، رنگا رنگ محافل اور خوشیوں کا ذکر ہے جو اب صرف یادیں رہ گئی ہیں۔ انسانی دل کی پوشیدہ کیفیت، جذبات کی چھپی ہوئی صورتیں دن میں چھپی رہتی ہیں لیکن رات کے وقت آشکار ہو جاتی ہیں۔
غالبؔ محبت اور جدائی کے جذبات بیان کرتے ہیں، جیسے یعقوب کی یوسف سے بے خبری، زلیخا کی محبت، اور محبوب کی نگاہوں کا دل پر اثر۔ وہ دکھ اور درد کو بھی خوبصورتی اور معنویت کے زاویے سے دیکھتے ہیں، اور یہ بتاتے ہیں کہ انسان اگر صبر اور برداشت اختیار کرے تو مشکلات آسان لگنے لگتی ہیں۔
غزل میں روحانیت اور اخلاقی فلسفہ بھی موجود ہے: رسم و رواج کی بجائے ایمان اور انسانی اصولوں کو اہمیت دی گئی ہے۔ آخر میں غالبؔ تنبیہ کرتے ہیں کہ اگر انسان صرف روتا اور مایوس رہتا ہے تو دنیا کی بستیوں کو ویران دیکھے گا، یعنی عمل اور جدوجہد کی ضرورت ہے۔
آپ بتائیے
سوال 1۔ دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میں، یہ بات شاعر نے کس سے کہی ہے؟
جواب ۔
غالبؔ یہ بات خدا یا محبوب سے کہہ رہے ہیں۔ دراصل وہ یہ بیان کر رہے ہیں کہ وہ ہمیشہ کسی کے در پر حاضر نہیں رہتے، یعنی ہر وقت ہر شخص یا مقام کی خدمت میں نہیں ہوتے۔
سوال 2۔ شاعر کو کون مٹانا چاہتا ہے؟
جواب ۔
غالبؔ کہتے ہیں کہ زمانہ (دنیا کے حالات، لوگ، یا تقدیر) انہیں مٹانا چاہتا ہے۔ یعنی وہ مختلف مشکلات، رکاوٹیں اور انسانوں کے رویوں سے دبانے کی کوشش کرتے ہیں، مگر غالبؔ اپنی پہچان اور وجود کو برقرار رکھتے ہیں۔
سوال 3۔انھیں کون لوگ نہیں جانتے ہیں؟
جواب ۔
غالبؔ کہتے ہیں کہ لوگ انہیں نہیں پہچانتے، اور وہ عزیز نہیں سمجھے جاتے۔ یہاں “لوگ” سے مراد معاشرت، اہلِ زمانہ یا ایسے لوگ ہیں جو ان کی قدر اور اصل مقام کو نہیں جانتے۔
سوال 4۔ وہ دن گئے، کہہ کر شاعر کیا بتانا چاہتا ہے؟
جواب ۔
غالبؔ “وہ دن گئے” کہہ کر ماضی کی یاد دلا رہے ہیں جب لوگ انہیں نوکر یا کسی ادنیٰ حیثیت کا سمجھتے تھے، لیکن اب وہ مقام، مرتبہ یا اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ یعنی ماضی کی حقارت اور موجودہ مقام کا تقابل بیان کیا گیا ہے۔
سوال 5۔ غالب نے وظیفہ خوار کس کو کہا ہے؟
جواب ۔
غالبؔ نے وظیفہ خوار بادشاہ یا حکومتی دربار کے افسران کو کہا ہے، جو وظیفہ (پیشہ وارانہ تنخواہ یا مالی مدد) دیتے ہیں۔ وہ طنز کے ساتھ کہہ رہے ہیں کہ اب وہ دن گئے جب انہیں نوکر سمجھا جاتا تھا، لیکن اب بھی وہ بادشاہ یا حکومتی احکام کے تابع ہیں۔
سوال 6۔ شاعر کے روتے رہنے سے کیا ہو گا؟
جواب ۔
غالبؔ کہتے ہیں کہ اگر انسان بس روتا رہے اور حالات پر مایوس رہے تو دنیا کی بستیوں کو ویران دیکھے گا۔ یعنی رونا اور مایوسی محض نقصان دہ ہیں، اور عمل و جدوجہد کی ضرورت ہے۔
سوال 7۔ چمن میں کس کے جانے سے دبستان کھل گیا؟
جواب ۔
یہ غالبؔ خود کی طرف اشارہ ہے۔ جب وہ چمن (باغ) میں آئے تو ان کی موجودگی سے ماحول روشن اور جذباتی ہوگئے، بلبلیں (پرندے) بھی ان کی شاعری کے نالے سن کر غزل گانے لگیں۔ یعنی غالبؔ کی موجودگی اور کلام نے دبستان (محیط حسن) کو روشن کیا۔
سوال 8۔ یعقوب اور یوسف میں کیا نسبت ہے؟
جواب ۔
یعقوب حضرت یوسف کے والد ہیں۔ غالبؔ ان کی مثال دیتے ہوئے انسانی صبر، امید اور محبت کی شدت بیان کرتے ہیں۔ یعقوب کو یوسف کی خبر نہیں تھی لیکن آنکھیں روزن (کھڑکی) کی طرف دیکھتی رہیں۔ یعنی والدین کا انتظار اور امید کی علامت۔
سوال 9۔ مُوَحِّد کسے کہتے ہیں؟
جواب ۔
موحد سے مراد ایسا شخص ہے جو صرف ایک خدا پر ایمان رکھتا ہو۔ غالبؔ نے اس لفظ کا استعمال روحانیت اور ایمان کی جانب اشارہ کرنے کے لیے کیا ہے، یعنی وہ مذہبی یا رسم و رواج کے بجائے توحید اور ایمان کے اصولوں پر یقین رکھتے ہیں۔
سوال 10۔ رنج سے خوگر ہونے سے کیا مراد ہے؟
جواب ۔
رنج سے خوگر ہونے کا مطلب ہے کہ انسان مشکلات اور دکھوں کا عادی ہو جائے۔ غالبؔ کہتے ہیں کہ جب انسان بہت سی مشکلات اور مصائب دیکھ لے تو وہ اتنے عادی ہو جاتے ہیں کہ یہ مسائل آسان لگنے لگتے ہیں۔
مختصر گفتگو
سوال 1۔ شاعر نے بتایا کہ وہ پتھر نہیں ہے۔ اس نے یہ بات کیوں کہی؟
جواب ۔
غالبؔ کہتے ہیں
“خاک ایسی زندگی پہ کہ پتھر نہیں ہوں میں“
اس مصرعے میں شاعر یہ وضاحت کر رہے ہیں کہ وہ جذبات، احساسات اور حساسیت رکھنے والا انسان ہے، نہ کہ بے حس اور بے جان پتھر۔ یعنی وہ صرف مادی یا سخت وجود نہیں رکھتا، بلکہ احساسات و جذبات سے بھرپور ہے۔
یہ اس لیے کہا گیا ہے تاکہ دنیا یا کسی شخص کو یاد دلایا جا سکے کہ وہ انسان ہے، اپنے حق اور وجود کے لیے حساس، اور اس کی شخصیت کو نظر انداز یا دبایا نہیں جا سکتا۔
سوال 2۔ شاعر نے اپنے متعلق یہ بات کیوں کہی کہ وہ لوح جہاں پر حرف مکرر نہیں ہے؟
جواب ۔
غالبؔ کہتے ہیں
“لوح جہاں پہ حرف مکرر نہیں ہوں میں”
یہ مصرعہ شاعر کی انفرادیت اور نایابی کو ظاہر کرتا ہے۔ لوح جہاں (دنیا یا کائنات کی تختی) پر حرف مکرر (دہرائے جانے والے الفاظ یا واقعات) ہوتے ہیں، لیکن غالبؔ کہتے ہیں کہ وہ کوئی عام یا بار بار آنے والا وجود نہیں، بلکہ منفرد اور اپنی پہچان رکھنے والا انسان ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ غالبؔ اپنی سوچ، شعور اور اثر کے لحاظ سے معمولی یا عام نہیں ہیں، بلکہ ممتاز اور نایاب ہیں۔ یہ ان کی شخصیت اور مقام کی وضاحت ہے۔
سوال 3۔ پہلی غزل میں شاعر کے کن تجربوں کا بیان ہوا ہے؟
جواب ۔
پہلی غزل میں غالبؔ نے اپنی زندگی کے مختلف تجربات اور انسانی حالات بیان کیے ہیں
مشکلات اور رنج و مصائب: شاعر بتاتے ہیں کہ زمانہ اور لوگ انہیں مٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔
معاشرتی مقام اور پہچان: لوگ انہیں نہیں جانتے اور ان کی قدر نہیں کرتے۔
ماضی کی یادیں: وہ دن گزر گئے جب لوگ انہیں کم تر سمجھتے تھے۔
مالی اور حکومتی تعلقات: وظیفہ خوار بادشاہ یا دربار کے معاملات کا ذکر ہے۔
انسانی حساسیت اور جذبات: وہ بتاتے ہیں کہ وہ پتھر نہیں ہیں بلکہ جذبات رکھنے والا انسان ہیں۔
جدت پسندی اور انفرادیت: شاعر اپنی انفرادیت، فکر اور مقام کو اجاگر کرتے ہیں۔
مجموعی طور پر پہلی غزل شاعر کی ذاتی زندگی، احساسات، مشکلات اور سماجی تنقید کا بیان ہے۔
سوال 4۔ بلبلیں غزل خواں کیوں ہو گئیں؟
جواب ۔
غالبؔ کہتے ہیں
“بلبلیں سن کر مرے نالے غزل خواں ہو گئیں”
یہاں بلبلیں شاعری کی تشبیہ اور اثر کی علامت ہیں۔ غالبؔ خود چمن میں آ کر اپنی موجودگی اور کلام کے ذریعے ماحول کو زندہ کرتے ہیں۔
ان کی موجودگی اور جذباتی نالے (غم و عشق کے جذبات) سے فطرت بھی متاثر ہوتی ہے۔
بلبلیں، جو عام طور پر پھولوں کی خوشبو اور باغ کی رونق سن کر گاتی ہیں، یہاں شاعر کے جذبات سن کر غزل گوئی میں مشغول ہو جاتی ہیں۔
یہ مصرعہ اس بات کی نمائندگی کرتا ہے کہ شاعر کے جذبات اور کلام میں ایسی طاقت ہے کہ فطرت بھی اس کی شاعری سے متاثر ہو جاتی ہے۔
سوال 5۔ شاعر کے مطابق مشکلیں کیسے آسان ہو جاتی ہیں؟
جواب ۔
غالبؔ کہتے ہیں
“رنج سے خوگر ہوا انسان تو مٹ جاتا ہے رنج
مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں”
اس سے مراد یہ ہے کہ جب انسان زندگی کے رنج، دکھ اور مشکلات کے عادی ہو جائے تو وہ ان مسائل کو آسان اور معمولی محسوس کرنے لگتا ہے۔
یعنی ابتدا میں مشکل یا دکھ شدید لگتا ہے، لیکن وقت اور تجربے کے ساتھ انسان مزاحمت اور برداشت پیدا کر لیتا ہے۔ مشکلات کا اثر کم ہو جاتا ہے کیونکہ انسان نے صبر، عادت اور برداشت پیدا کر لی ہے۔
یہ انسانی ذہنی قوت، صبر و شکیبائی اور زندگی کے تجربات کی طاقت کو ظاہر کرتا ہے۔
This post provides a detailed study of Mirza Ghalib’s ghazals from Bihar Board Class 12 Kahkashan Chapter 18, including summaries, explanations, thematic analysis, and answers to important questions for better understanding of his poetry and life.