Bihar Board Class 12 Kahkashan Chapter 19 Solutions Yagana Changezi, یگانہ چنگیزی

تشریح ۔

اس شعر میں شاعر انسان کے باطن میں جاری اخلاق اور نفس کی کشمکش کو بیان کرتا ہے۔ “ادب” سے مراد تہذیب، شرافت اور پاکیزہ جذبات ہیں جنہوں نے دل میں بلند خواہشات کو جنم دیا، جبکہ “ہوس” سے مراد نفسانی خواہشات ہیں جو ان پاکیزہ جذبات کو دبانے کی کوشش کرتی رہیں۔ شاعر کہنا چاہتا ہے کہ انسانی زندگی میں دل کی نیک خواہشات بار بار نفس کی خود غرضی کے ہاتھوں مغلوب ہوتی رہی ہیں۔

تشریح ۔

اس شعر میں شاعر حسن اور تخلیق کی طاقت پر اظہارِ حیرت کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ معلوم نہیں یہ قلم کی کوئی معمولی لغزش ہے یا کوئی عظیم تخلیق، مگر حسن کی کشش نے بڑے بڑے فتنے اور ہنگامے برپا کیے ہیں۔ یہاں “بلائے حسن” حسن کی اس طاقت کی علامت ہے جو انسان کو بے قابو کر دیتی ہے اور عقل کو مغلوب کر دیتی ہے۔

نگاہ ڈال دی جس پر وہ ہو گیا اندھا
نظر نے رنگِ تصرف دکھائے ہیں کیا کیا

تشریح ۔

اس شعر میں نگاہ کو اقتدار اور تسلط کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جس پر نظر پڑی وہ اندھا ہو گیا، یعنی حقیقت کو پہچاننے کی صلاحیت کھو بیٹھا۔ حسن، طاقت یا انا کی ایک نظر انسان کی سوچنے سمجھنے کی قوت چھین لیتی ہے اور وہ اندھا تقلید کرنے لگتا ہے۔

اسی فریب نے مارا کہ کل ہے کتنی دور
اس آج کل میں عبث دن گنوائے ہیں کیا کیا

تشریح ۔

یہ شعر وقت کے فریب پر گہری تنقید ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ انسان یہ سوچ کر کہ کل ابھی بہت دور ہے، آج کے قیمتی لمحات ضائع کر دیتا ہے۔ یہی غلط فہمی انسان کی ناکامی اور پچھتاوے کا سبب بنتی ہے۔ شاعر وقت کی قدر اور حال میں جینے کا پیغام دیتا ہے۔

پہاڑ کاٹنے والے زمیں سے ہار گئے
اسی زمیں میں دریا سمائے ہیں کیا کیا

تشریح ۔

اس شعر میں شاعر مثال کے ذریعے انسانی غرور کو بے نقاب کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ جو لوگ پہاڑ کاٹنے کے دعوے کرتے تھے وہ بھی زمین کے سامنے ہار گئے، جبکہ اسی زمین میں بڑے بڑے دریا سما جاتے ہیں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اصل طاقت خاموشی، برداشت اور عاجزی میں ہوتی ہے نہ کہ غرور اور دعووں میں۔

تشریح ۔

یہ شعر خود شناسی کے مشکل سفر کو بیان کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ ہم اپنی ذات کو پہچاننے کے عمل میں اپنی اصل تک تو پہنچ گئے، مگر اس راستے میں بہت سے دھوکے کھائے، نقصان اٹھایا اور اذیتیں جھیلیں۔ خود آگاہی آسان نہیں بلکہ قربانی کا تقاضا کرتی ہے۔

بلند ہو تو کھلے تجھ پہ زورِ پستی کا
بڑے بڑوں کے قدم ڈگمگائے ہیں کیا کیا

تشریح ۔

اس شعر میں شاعر غرور کے انجام کی طرف توجہ دلاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ جب انسان بلندی پر پہنچتا ہے تو پستی کی طاقت اس پر ظاہر ہو جاتی ہے، کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ بڑے بڑے لوگ بھی لغزش کا شکار ہوئے ہیں۔ یہ شعر انکساری اور احتیاط کا درس دیتا ہے۔

خوشی میں اپنے قدم چوم لوں تو زیبا ہے
وہ لغزشوں پہ مری مسکرائے ہیں کیا کیا

تشریح ۔

اس شعر میں شاعر معاشرے کی منافقت پر طنز کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اگر میں اپنی کامیابی پر خود کو داد دے دوں تو یہ بالکل جائز ہے، کیونکہ لوگوں نے میری ناکامیوں پر بارہا طنز اور تمسخر سے کام لیا۔ یہاں شاعر کی خودداری اور خود اعتمادی نمایاں ہے۔

خدا ہی جانے یگانہؔ میں کون ہوں کیا ہوں
خود اپنی ذات پہ شک دل میں آئے ہیں کیا کیا

تشریح ۔

مقطع میں شاعر اپنی فکری بے چینی اور باطنی انتشار کو عروج پر لے آتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ میں کون ہوں اور کیا ہوں، کیونکہ خود مجھے اپنی شناخت پر شک ہونے لگا ہے۔ یہ یگانہ چنگیزی کی انفرادیت، خود آگاہی اور شدید انا کا بھرپور اظہار ہے۔

یہ غزل یگانہ چنگیزی کی فکری اور فلسفیانہ شاعری کی نمائندہ ہے۔ شاعر نے اس میں انسانی زندگی کے باطنی تضادات، وقت کے فریب، غرور کے انجام اور خود شناسی کی پیچیدہ کیفیت کو بیان کیا ہے۔ وہ دکھاتا ہے کہ انسان کے دل میں تہذیب اور اخلاق بلند خواہشات کو جنم دیتے ہیں، مگر ہوس اور نفس اکثر ان خواہشات کو دبا دیتے ہیں۔ حسن، نگاہ اور اختیار کی طاقت انسان کو حقیقت سے اندھا کر دیتی ہے اور وہ فتنوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

شاعر وقت کی ناقدری پر افسوس کرتا ہے کہ انسان “کل” کے فریب میں مبتلا ہو کر “آج” کے قیمتی لمحات ضائع کر دیتا ہے۔ وہ مثالوں کے ذریعے بتاتا ہے کہ غرور اور دعوے انسان کو کمزور بنا دیتے ہیں، جبکہ عاجزی اور برداشت میں اصل طاقت پوشیدہ ہوتی ہے۔ غزل میں خود شناسی کے سفر کو مشکل اور تکلیف دہ بتایا گیا ہے، کیونکہ اس راستے میں انسان کو بار بار دھوکے اور لغزشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

آخر میں شاعر اپنی ذات پر شک کا اظہار کرتا ہے اور اعتراف کرتا ہے کہ وہ خود اپنی پہچان کے بارے میں تذبذب کا شکار ہے۔ یوں یہ غزل انسانی نفس، وقت، انا اور وجودی سوالات پر ایک گہرا اور فکر انگیز تبصرہ پیش کرتی ہے۔

تشریح ۔

اس شعر میں شاعر اپنی خودداری اور سچائی کا اظہار کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اگر دل سے کوئی خطا ہو بھی جائے تو اسے مان لینے میں شرمندگی محسوس نہیں کرتا، لیکن کسی اور کے جرم کو اپنے سر لینے کا ہنر اسے نہیں آتا۔ شاعر یہاں اس سماجی رویے پر تنقید کرتا ہے جہاں لوگ دوسروں کی خوشنودی کے لیے جھوٹے الزامات اپنے اوپر لے لیتے ہیں، جبکہ شاعر سچ اور خودداری پر قائم رہنے کا قائل ہے۔

تشریح ۔

اس شعر میں شاعر اجتماعی ذمہ داری اور اخلاقی فرض کا ذکر کرتا ہے۔ “ناخدا” زندگی کا رہنما یا حالات کا مالک ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اسے آخرکار لوگوں کو منہ دکھانا ہے، اس لیے وہ کسی بہانے سے اکیلا جان بچا کر پار اتر جانا پسند نہیں کرتا۔ یعنی شاعر مشکل وقت میں دوسروں کو چھوڑ کر خود غرضی سے نکل جانے کے خلاف ہے۔

تشریح ۔

یہ شعر صبر، حوصلے اور استقامت کا درس دیتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ مشکلات خواہ کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہوں، ایک دن ختم ہو ہی جاتی ہیں۔ اس لیے وہ مایوسی میں خود کو ختم کر لینے یا بے صبری کا مظاہرہ کرنے کے قائل نہیں۔ یہاں شاعر امید اور ثابت قدمی کو زندگی کا اصل سہارا قرار دیتا ہے۔

تشریح ۔

اس شعر میں شاعر دل کی کمزوری اور برداشت کی کمی کو بیان کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ جو دل ذرا سی چوٹ برداشت نہیں کر سکتا، وہ بڑے غم کیسے سہہ پائے گا۔ شاعر کے نزدیک غم برداشت کرنا اور دکھ سہنا بھی ایک صلاحیت ہے، جو ہر شخص میں نہیں ہوتی۔

تشریح ۔

اس شعر میں شاعر حقیقت پسندی اور احتیاط کا پہلو نمایاں کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ آزادی کی خواہش اسے بھی بے چین کرتی ہے، لیکن وہ اپنی حد سے آگے بڑھنا نہیں چاہتا۔ “چادر سے باہر پاؤں پھیلانا” سے مراد اپنی حیثیت، حالات اور حدود سے تجاوز کرنا ہے۔ شاعر آزادی کے ساتھ ذمہ داری کو بھی ضروری سمجھتا ہے۔

تشریح ۔

مقطع میں شاعر اپنی شخصیت کی پیچیدگی اور دنیا کی ناسمجھی کا شکوہ کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اس کی ذات ایک راز ہے، وہ خود کو تو سمجھتا ہے مگر دنیا کو اپنی حقیقت سمجھا نہیں سکتا۔ اس شعر میں شاعر کی تنہائی، فکری گہرائی اور معاشرتی بے اعتنائی کا احساس جھلکتا ہے۔

یہ غزل یاسؔ کی اصول پسند، خوددار اور حقیقت شناس شخصیت کی عکاس ہے۔ شاعر اپنی صاف گوئی کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ دل کی اپنی خطا کو مان لینے سے نہیں گھبراتا، مگر کسی اور کے جرم کو اپنے نام لکھوانا اسے منظور نہیں۔ وہ مشکل حالات میں دوسروں کو چھوڑ کر خود کو بچا لینے کے بجائے اجتماعی ذمہ داری نبھانے کو ترجیح دیتا ہے۔ شاعر زندگی کی مصیبتوں کو صبر اور حوصلے سے جھیلنے کا قائل ہے۔ اس کے نزدیک بڑے غم سہنے کے لیے مضبوط دل اور برداشت ضروری ہے، کیونکہ کمزور دل معمولی چوٹ بھی برداشت نہیں کر پاتا۔ غزل میں آزادی کی خواہش کا ذکر بھی ہے، مگر شاعر حد سے تجاوز کرنے اور غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے کے خلاف ہے۔

آخر میں شاعر اپنی شخصیت کو ایک راز قرار دیتا ہے اور یہ احساس ظاہر کرتا ہے کہ وہ خود کو تو سمجھتا ہے، مگر دنیا کو اپنی حقیقت سمجھا نہیں سکتا۔ مجموعی طور پر یہ غزل سچائی، خودداری، صبر، ذمہ داری اور فکری گہرائی کا مؤثر اظہار ہے۔

جواب ۔ یگانہ چنگیزی کا اصلی نام مرزا واجد حسین یاس تھا۔

جواب ۔ اپنی مثال آپ، منفرد، اکیلا، بے نظیر۔

 جواب ۔ یگانہ چنگیزی ابتدا میں یاسؔ تخلص کرتے تھے۔

جواب ۔ پہاڑ کاٹنے والے کی اصطلاح اُن لوگوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو اپنی طاقت، ہمت اور قابلیت پر حد سے زیادہ گھمنڈ کرتے ہیں اور بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔

غلط ۔ سر مار کر مجھے تیشہ سے مر جانا نہیں آتا

غلط ۔ زمیں کاٹنے والے پہاڑ سے ہار گئے

جواب ۔ 1) ۔ شاد عظیم آبادی

جواب ۔ 3) ۔ ۱۸۸۳ء

جواب ۔ 4) ۔ لکھنؤ

خوشی میں اپنے قدم چوم لوں تو زیبا ہے
وہ لغزشوں پہ مری مسکرائے ہیں کیا کیا

ادب نے دل کے تقاضے اٹھائے ہیں کیا کیا
ہوس نے شوق کے پہلو دبائے ہیں کیا کیا

خوشی میں اپنے قدم چوم لوں تو زیبا ہے
وہ لغزشوں پہ مری مسکرائے ہیں کیا کیا

پہاڑ کاٹنے والے زمیں سے ہار گئے
اسی زمیں میں دریا سمائے ہیں کیا کیا

خدا ہی جانے یگانہؔ میں کون ہوں کیا ہوں
خود اپنی ذات پہ شک دل میں آئے ہیں کیا کیا

 خدا ہی جانے یگانہؔ میں کون ہوں، کیا ہوں
خود اپنی ذات پر شک دل میں آئے ہیں کیا کیا

سببِ پسندیدگی ۔

یہ شعر شاعر کی گہری خود آگاہی اور فکری بے چینی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس میں انسان کی اپنی شناخت کے بارے میں تذبذب اور زندگی کے پیچیدہ سوالات نہایت سادہ مگر اثر انگیز انداز میں بیان ہوئے ہیں، اسی لیے یہ شعر دل کو چھو لیتا ہے۔

اس مصرعے سے مراد یہ ہے کہ بظاہر کمزور اور معمولی نظر آنے والی چیزوں میں بھی بڑی طاقت اور وسعت چھپی ہوتی ہے۔ شاعر کہنا چاہتا ہے کہ عاجزی، برداشت اور خاموشی میں وہ قوت ہے جو بڑے بڑے دعوے داروں میں نہیں ہوتی۔ یہ انسانی غرور کی نفی اور حقیقت پسندی کا اظہار ہے۔

یگانہ یہ بات اس لیے کہہ رہے ہیں کہ وہ اپنی ذات، اپنے خیالات اور اپنی سچائی کو تو سمجھتے ہیں، مگر دنیا تعصب، سطحی سوچ اور مفاد پرستی کی وجہ سے سچ کو قبول نہیں کرتی۔ اس لیے شاعر کو احساس ہے کہ دنیا کو اپنی حقیقت سمجھانا مشکل بلکہ ناممکن ہے۔

خدا ہی جانے یگانہؔ میں کون ہوں، کیا ہوں
خود اپنی ذات پر شک دل میں آئے ہیں کیا کیا

تشریح ۔

اس شعر میں شاعر اپنی شخصیت کے فکری انتشار اور باطنی اضطراب کو بیان کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اس کی اصل حقیقت کو صرف خدا جانتا ہے، کیونکہ زندگی کے تجربات نے اسے خود اپنی پہچان پر بھی شک میں مبتلا کر دیا ہے۔ یہ شعر خود شناسی اور وجودی فکر کی بہترین مثال ہے۔

اسیرو! شوقِ آزادی مجھے بھی گر گراتا ہے
مگر چادر سے باہر پاؤں پھیلانا نہیں آتا

تشریح ۔

اس شعر میں شاعر آزادی کی خواہش کے ساتھ احتیاط اور ذمہ داری کا پہلو بیان کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ آزادی کی تڑپ اسے بھی بے چین کرتی ہے، لیکن وہ اپنی حیثیت اور حالات سے بڑھ کر قدم اٹھانا مناسب نہیں سمجھتا۔ شاعر کے نزدیک آزادی نظم و ضبط کے بغیر بے فائدہ ہے۔

یگانہ چنگیزی اردو غزل کے ایک منفرد اور باغی شاعر ہیں۔ ان کی غزل گوئی روایتی عشقیہ مضامین سے ہٹ کر فکری، فلسفیانہ اور خود آگاہانہ رنگ رکھتی ہے۔ وہ غزل کو محض محبوب، ہجر و وصال اور حسن و عشق تک محدود نہیں رکھتے بلکہ اس میں انسانی نفس، انا، سچائی، خودداری، صبر، حوصلہ، وقت کی بے ثباتی اور وجودی سوالات کو جگہ دیتے ہیں۔

یگانہ کی غزل میں شدید خود اعتمادی اور انانیت پائی جاتی ہے، مگر یہ انا کھوکھلا غرور نہیں بلکہ زندگی کے تلخ تجربات سے پیدا ہونے والی خود شناسی ہے۔ ان کی زبان سادہ، براہِ راست اور بے باک ہے۔ وہ مصلحت پسندی اور خوشامد کے قائل نہیں، اسی لیے ان کی غزل میں تلخی، طنز اور حقیقت پسندی نمایاں نظر آتی ہے۔

زیرِ مطالعہ غزل میں بھی یگانہ نے دل کی کمزوری، مصیبتوں کا مقابلہ، آزادی کی خواہش، دنیا کی ناسمجھی اور اپنی ذات پر شک جیسے موضوعات کو نہایت مؤثر انداز میں پیش کیا ہے۔ اسی وجہ سے یگانہ کی غزل گوئی اردو غزل کی روایت میں ایک الگ اور نمایاں مقام رکھتی ہے۔

دل بے حوصلہ ہے اک ذرا سی ٹھیس کا مہماں
وہ آنسو کیا پئے گا جس کو غم کھانا نہیں آتا

تشریح (معنوی ربط کے ساتھ)

 اس شعر میں شاعر انسانی دل کی کمزوری اور برداشت کی کمی کو بیان کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ جو دل ذرا سی چوٹ برداشت نہیں کر سکتا، وہ بڑے غم کیسے سہہ پائے گا۔ یہاں “غم کھانا” سے مراد غم کو برداشت کرنے کی صلاحیت ہے۔
یہ شعر اگلے شعر سے معنوی طور پر جڑا ہوا ہے، کیونکہ یہاں دل کی کمزوری کا ذکر ہے اور اگلے شعر میں مصیبتوں کا مقابلہ صبر سے کرنے کا پیغام دیا گیا ہے۔ یوں دونوں اشعار مل کر حوصلہ، برداشت اور ثابت قدمی کا تصور واضح کرتے ہیں۔

مصیبت کا پہاڑ آخر کسی دن کٹ ہی جائے گا
مجھے سر مار کر تیشے سے مر جانا نہیں آتا

تشریح (معنوی ربط کے ساتھ)

 اس شعر میں شاعر امید، صبر اور حوصلے کا درس دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ مشکلات چاہے کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہوں، ایک دن ختم ہو ہی جاتی ہیں۔ اس لیے وہ مایوسی میں خود کو ختم کرنے یا بے صبری دکھانے کا قائل نہیں۔
یہ شعر پہلے شعر کی توسیع ہے۔ پہلے شعر میں دل کی کمزوری پر تنقید تھی اور اس شعر میں مضبوط حوصلے اور صبر کو زندگی کا اصل سہارا قرار دیا گیا ہے۔ دونوں اشعار مل کر یہ پیغام دیتے ہیں کہ زندگی کا مقابلہ حوصلے سے کیا جانا چاہیے، نہ کہ مایوسی سے۔

یگانہ چنگیزی نے غزل کے ذریعے جن موضوعات کو خاص طور پر بیان کیا ہے، وہ درج ذیل ہیں ۔

زیرِ مطالعہ غزل میں یہ تمام موضوعات واضح طور پر موجود ہیں، مثلاً دل کی کمزوری، مصیبتوں کا سامنا، آزادی کی خواہش اور اپنی ذات پر شک۔ یگانہ نے ان موضوعات کو نہایت بے باک اور سچائی کے ساتھ غزل کے قالب میں ڈھالا ہے۔

یگانہ چنگیزی نے اردو غزل کی تاریخ میں سب سے اہم تجربہ یہ کیا کہ غزل کو روایتی عشقیہ دائرے سے نکال کر فکری اور فلسفیانہ اظہار کا ذریعہ بنا دیا۔ انہوں نے محبوب، زلف، رخسار اور ہجر و وصال کے بجائے انسان، اس کی ذات، اس کی انا اور اس کی زندگی کے مسائل کو غزل کا موضوع بنایا۔

یگانہ نے غزل میں صاف گوئی، تلخی اور بے لاگ انداز اختیار کیا، جو اس وقت کی روایتی غزل کے لیے ایک نیا تجربہ تھا۔ ان کی غزل میں تصنع کم اور حقیقت زیادہ ہے۔ اسی تجربے نے یگانہ کو اردو غزل میں ایک منفرد اور جداگانہ مقام عطا کیا۔

سوال 1 ۔ درست مصرعوں کے آگے () کا نشان لگائیے۔

پیڑ کاٹنے والے دریا سے ہار گئے
پہاڑ کاٹنے والے پیر سے ہار گئے
پہاڑ کاٹنے والے زمیں سے ہار گئے (✔)

غم میں اپنے ہاتھ چوم لوں تو زیبا ہے
 خوشی میں اپنے قدم چوم لوں تو زیبا ہے (✔)
 غم میں اپنے قدم چوم لوں تو زیبا ہے

مجھے دل کی خطا پر یاسؔ شرمانا نہیں آتا
پرایا جرم اپنے نام لکھوانا نہیں آتا

ردیف ۔  نہیں آتا

قافیہ ۔  شرمانا / لکھوانا

سراپا راز ہوں میں، کیا بتاؤں کون ہوں، کیا ہوں
سمجھتا ہوں مگر دنیا کو سمجھانا نہیں آتا

ردیف ۔  نہیں آتا

قافیہ ۔  سمجھانا

مصیبت کا پہاڑ آخر کسی دن کٹ ہی جائے گا
مجھے سر مار کر تیشے سے مر جانا نہیں آتا

ردیف ۔  نہیں آتا

قافیہ ۔  جائے گا / جانا

 خانۂ ب مکمل مصرعہ خانہ الف
ذرا سی ٹھیس کا مہماںدل بے حوصلہ ہے اک
کیا بتاؤں کون ہوں، کیا ہوںسرا پاراز ہوں میں
کسی دن کٹ ہی جائے گامصیبت کا پہاڑ آخر
اتر جانا نہیں آتابہانہ کر کے تنہا پار
آخر کسی کو منہ دکھانا ہے!مجھے اے ناخدا

ادب (مذکر / مؤنث)

جملہ ۔  ادب نے دل کے تقاضے اٹھائے ہیں۔
(یہ لفظ عمومی طور پر مذکر کے طور پر استعمال ہوتا ہے)

لغزش (مؤنث)

جملہ ۔لغزش پر مسکرانا بھی انسان کی فطرت ہے۔

شک (مذکر)

جملہ۔اس نے اپنے دل میں شک پیدا کر لیا۔

خطا (مؤنث)

جملہ ۔ دل کی خطا پر شرمندہ ہونا ضروری ہے۔

حوصلہ (مذکر)

جملہ ۔ حوصلہ رکھنے والا کبھی ہارتا نہیں۔

آزادی (مؤنث)

جملہ ۔آزادی ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔

ذات (مؤنث)

جملہ ۔  اپنی ذات کو پہچاننا بہت اہم ہے۔

دریا (مذکر)

جملہ ۔  دریا کا پانی ساحل تک بہتا ہے۔

فریب (مذکر)

جملہ۔فریب سے انسان کا ذہن دھوکہ کھاتا ہے۔

زمین (مؤنث)

جملہ ۔  زمین پر ہر فصل ایک دن پختہ ہو جاتی ہے۔

This post explains Bihar Board Class 12 Kahkashan Chapter 19 with detailed interpretations of Yagana Changezi’s ghazals, summaries, questions, and answers.

Scroll to Top