Bihar Board Class 12 Kahkashan Chapter 20 Solutions Khalilur Rahman, خلیل الرحمن

تشریح

یہ شعر شاعر کی زندگی میں بڑھتی ہوئی محرومی اور تنہائی کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اس کی زندگی میں غم پہلے ہی ایک مستقل حقیقت بن چکا تھا، یہاں تک کہ غم کو وہ ایک پرانے دوست کے طور پر دیکھنے لگا تھا۔ لیکن حالات کی ستم ظریفی یہ ہے کہ اب دشمنوں کی سازشیں اور مخالفت بھی اس غم پر سایہ فگن ہو گئی ہیں۔ سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ وہ غم، جو اب تک اس کا ساتھی تھا، وہ بھی ساتھ چھوڑ گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب شاعر کے پاس نہ سکون ہے، نہ دکھ کا کوئی مانوس سہارا۔ یہ شعر مکمل تنہائی، داخلی و خارجی دونوں محاذوں پر شکست کی علامت ہے۔

تشریح

اس شعر میں شاعر نے یادوں کو ایک گھنے اور سایہ دار درخت سے تشبیہ دی ہے۔ یادیں عام طور پر انسان کے لیے تسلی اور سکون کا باعث بنتی ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ اگر یہ یادیں باقی ہوتیں تو وہ ان کے سائے میں بیٹھ کر دل کو بہلا لیتا، مگر وقت کی تیز آندھی نے اس درخت کو جڑ سے اکھاڑ دیا۔ یہاں “جڑ سے اکھڑ جانا” اس بات کی علامت ہے کہ نہ صرف یادیں مٹ گئیں بلکہ ان کا لوٹ آنا بھی ناممکن ہو گیا۔ یہ شعر ماضی کے مکمل انہدام اور انسان کی جذباتی بے خانمانی کو ظاہر کرتا ہے۔

تشریح

یہ شعر شاعر کی خودداری اور سماجی ذلت کے احساس کو نہایت شدت سے پیش کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ بیگانوں نے اسے سب کے سامنے رسوا کیا، جیسے کسی زندہ انسان کو شاہراہ پر دفن کر دیا جائے۔ شاہراہ یہاں معاشرے، عوام اور دنیا کی علامت ہے۔ شاعر سوالیہ انداز میں کہتا ہے کہ ایسی ذلت آمیز صورتِ حال میں اگر وہ غیرت کے مارے اپنی ہی خاک میں گڑ جانا چاہے تو اس میں کیا عجب ہے۔ یہ شعر انسانی وقار، عزتِ نفس اور سماج کی بے رحمی کو نمایاں کرتا ہے۔

تشریح

اس شعر میں شاعر نے انسانی منافقت اور دوہرے معیار کو بے نقاب کیا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جو شخص تنہائی میں نہایت نرم دل، محبت کرنے والا اور شائستہ تھا، وہی شخص محفل میں بلا کسی وجہ کے سخت لہجہ اختیار کر لیتا ہے۔ اس تبدیلی کا سبب حالات نہیں بلکہ دکھاوا اور سماجی بناوٹ ہے۔ شاعر یہاں اس رویے پر گہرا طنز کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ معاشرہ سچائی کے بجائے مفاد کو ترجیح دیتا ہے۔

تشریح

یہ شعر نفسیاتی گہرائی رکھتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ لوگ محض عیادت کے لیے آئے تھے، مگر ان کی باتوں، سوالوں اور ہمدردی نے اس کے دل کے پرانے زخم دوبارہ کھول دیے۔ جو زخم وقت کے ساتھ کسی حد تک بھر گئے تھے، وہ پھر سے ہرے ہو گئے۔ شاعر یہاں یہ بتاتا ہے کہ بعض اوقات ہمدردی بھی اذیت بن جاتی ہے کیونکہ وہ انسان کو اس کے دکھوں کی یاد دلا دیتی ہے۔

تشریح

یہ شعر شاعر کی جذباتی اور ذہنی تھکن کی انتہا کو ظاہر کرتا ہے۔ “خونِ جگر” محاورہ ہے جو شدید محنت، قربانی اور روحانی اذیت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اس نے اپنی زندگی کی ساری توانائی دوسروں پر صرف کر دی، مگر اب اس کے پاس کچھ بھی باقی نہیں رہا۔ یہاں تک کہ آخری قطرہ بھی ختم ہو گیا۔ یہ شعر مکمل داخلی کھوکھلا پن اور وجودی تھکن کی علامت ہے۔

تشریح

اس شعر میں شاعر خود کو طنزیہ انداز میں “بددماغ” کہتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اس کے دوستوں نے زمانے کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا، حالات کے مطابق خود کو ڈھال لیا، مگر وہ ایسا نہ کر سکا۔ وہ اپنے اصولوں پر قائم رہا اور اسی ضد اور سچائی کی وجہ سے تنہا رہ گیا۔ یہ شعر اصول پسندی بمقابلہ مصلحت کا گہرا اظہار ہے۔

تشریح

یہ شعر شاعر کے شدید خود احتسابی کو ظاہر کرتا ہے۔ شاعر کسی اور کو الزام نہیں دیتا بلکہ اپنی ناکامیوں کو تسلیم کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ میں اپنی کوتاہیوں کے لیے کوئی تاویل نہیں گھڑ سکتا، کیونکہ جو بھی کام میں نے شروع کیا، وہ میری ہی غلطیوں کی وجہ سے ناکام ہوا۔ یہ شعر شاعر کی دیانت داری اور اخلاقی جرأت کو ظاہر کرتا ہے۔

تشریح

یہ غزل کا فکری اور جذباتی اختتام ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اس کے ذہن میں خوابوں، امیدوں اور منصوبوں کا ایک پورا شہر آباد تھا، مگر وقت نے اسے حقیقت بننے سے پہلے ہی تباہ کر دیا۔ یہاں “خیالوں کا شہر” انسانی آرزوؤں کی علامت ہے اور “وقت کے ہاتھوں اجڑ جانا” زندگی کی بے رحمی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ شعر ناکام تمناؤں اور ادھورے خوابوں کا مکمل نوحہ ہے۔

یہ غزل خلیلؔ الرحمن اعظمی کے داخلی کرب، تنہائی اور زندگی کے تلخ تجربات کا جامع اظہار ہے۔ شاعر زندگی کو ایک مسلسل جدوجہد کے طور پر پیش کرتا ہے جس میں انسان کو وقت کی بے رحمی، حالات کی مخالفت اور اپنوں کی بے وفائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ غم، جو کبھی شاعر کا مانوس ساتھی تھا، وہ بھی آخرکار ساتھ چھوڑ دیتا ہے اور انسان مکمل تنہائی میں آ جاتا ہے۔

شاعر یادوں، خوابوں اور امیدوں کے ٹوٹنے کا دکھ بیان کرتا ہے۔ ماضی کے سہارے، جو کبھی سایہ دار درخت کی مانند تھے، وقت کی آندھی میں جڑ سے اکھڑ جاتے ہیں۔ معاشرہ شاعر کے ساتھ بے حسی اور منافقت کا برتاؤ کرتا ہے؛ خلوت میں نرمی اور محفل میں سختی جیسے رویّے انسانی دوغلے پن کو نمایاں کرتے ہیں۔ ہمدردی کے نام پر آنے والے لوگ بھی اس کے زخموں کو بھرنے کے بجائے مزید گہرا کر دیتے ہیں۔ اس غزل میں شاعر اپنی ناکامیوں کا اعتراف بھی کرتا ہے اور کسی دوسرے کو الزام نہیں دیتا۔ دوست زمانے سے سمجھوتہ کر لیتے ہیں مگر شاعر اپنی اصول پسندی اور خودداری کی وجہ سے تنہا رہ جاتا ہے۔ آخر میں شاعر یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ اس کے خوابوں اور خیالوں کا شہر حقیقت بننے سے پہلے ہی وقت کے ہاتھوں برباد ہو گیا۔

مجموعی طور پر یہ غزل ایک باوقار، حساس اور سچ بولنے والے انسان کی داستان ہے جو شکست، محرومی اور تنہائی کے باوجود زندگی سے فرار اختیار نہیں کرتا بلکہ اس کا سامنا کرتا ہے۔

تشریح

اس شعر میں شاعر زندگی سے خطاب کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ہم نے زندگی کے دکھوں اور موت کے سائے میں بھی تیری ہی مدح سرائی کی۔ “بانسری پر موت کا نغمہ” اس بات کی علامت ہے کہ شاعر نے شدید تکالیف اور مایوسی کے باوجود زندگی سے شکایت کے بجائے اسے قبول کیا۔ شاعر زندگی کو اعلیٰ مقام دیتا ہے، چاہے وہ کتنی ہی کٹھن کیوں نہ ہو۔

تشریح

یہاں شاعر تقدیر کا شکوہ کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اے زندگی، تو تو آسودگی اور راحت کا سرچشمہ ہے، مگر ہمارا مقدر صرف پیاس ہی رہا۔ حالانکہ خوشیوں کا دریا قریب تھا، پھر بھی ہمیں اس سے سیرابی نصیب نہ ہوئی۔ یہ شعر قریب ہو کر محرومی کی انتہائی مؤثر تصویر پیش کرتا ہے۔

تشریح

اس شعر میں زندگی کو ایک نہ ختم ہونے والے سفر سے تشبیہ دی گئی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ ایک قدم سے دوسرے قدم تک غموں کی زنجیر پھیلی ہوئی تھی۔ منزل حاصل ہونا تو دور کی بات، ہمیں تو مسلسل چلتے رہنے کا حکم ملا۔ یہ شعر انسانی جدوجہد کی بے انتہا تھکن اور مسلسل آزمائش کو ظاہر کرتا ہے۔

تشریح

یہ شعر ماضی کے کسی تعلق یا خواب کی مبہم یاد کو ظاہر کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ وہ نہیں جانتا کہ وہ کون تھا، اس کا نام کیا تھا اور اس سے اس کا کیا رشتہ تھا، مگر اس کی ایک دھندلی سی تصویر آج بھی دل کے پردے پر باقی ہے۔ یہ شعر انسانی یادداشت کی کمزوری اور دل پر پڑنے والے دیرپا اثرات کی علامت ہے۔

تشریح

یہ غزل کا اختتامی اور امید بھرا شعر ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اگرچہ سورج (حالات) سخت اور بے رحم ہے، مگر آسمان کی نیلی چھت ہمارے سر پر موجود ہے۔ شاعر آسمان سے دعا کرتا ہے کہ اس کا سایہ ہمیشہ قائم رہے۔ یہ شعر زندگی کی سختیوں کے باوجود امید، حوصلے اور کائناتی تحفظ کے احساس کو ظاہر کرتا ہے۔

یہ غزل انسانی زندگی کی جدوجہد، محرومی اور تقدیر کی سختی کا گہرا اظہار ہے۔ شاعر زندگی سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ اس نے دکھ، تکلیف اور موت کے سائے میں بھی زندگی کی قدر و عظمت کو تسلیم کیا۔ زندگی آسودگی اور سکون کا سرچشمہ ہونے کے باوجود شاعر کے حصے میں صرف پیاس اور تشنگی آئی، حالانکہ خوشیوں کا دریا قریب ہی موجود تھا۔

غزل میں زندگی کو ایک طویل اور کٹھن سفر کے طور پر دکھایا گیا ہے جس میں ہر قدم کے ساتھ غم کی زنجیریں بندھی ہیں۔ منزل کا حصول ممکن نہ ہو سکا، مگر سفر رکتا نہیں۔ شاعر ماضی کی ایک مبہم یاد کا ذکر کرتا ہے جو آج بھی دل پر دھندلے نقش کی صورت باقی ہے۔ آخر میں شاعر کائنات سے امید وابستہ کرتا ہے اور آسمان کے سائے کو زندگی کی سخت دھوپ میں تحفظ اور حوصلے کی علامت قرار دیتا ہے۔

مجموعی طور پر یہ غزل محرومی کے باوجود وقار، قبولیت اور امید کا پیغام دیتی ہے اور خلیلؔ الرحمن اعظمی کی فکری گہرائی کو نمایاں کرتی ہے۔

جواب ۔  خلیلؔ الرحمن اعظمی اعظم گڑھ کے گاؤں سیدھا سلطان پور میں پیدا ہوئے تھے۔

جواب ۔  خلیلؔ الرحمن اعظمی پیشے کے اعتبار سے استاد (لیکچرر) تھے اور شعبۂ اردو سے وابستہ رہے۔

جواب ۔  جی ہاں، خلیلؔ الرحمن اعظمی کا تعلق علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے رہا، جہاں وہ شعبۂ اردو میں لیکچرر تھے۔

جواب ۔  ان کا ایک شعری مجموعہ کاغذی پیرہن ہے۔

جواب ۔  خلیلؔ الرحمن اعظمی کے دو ہم عصر ناصر کاظمی اور ابنِ انشا تھے۔

خلیلؔ الرحمن اعظمی کی شاعری میں گہری داخلی کیفیت، انسانی کرب، تنہائی، محرومی، خود احتسابی اور فکری سنجیدگی پائی جاتی ہے۔ ان کی شاعری سطحی جذبات کے بجائے زندگی کے گہرے تجربات کی عکاس ہے۔ وہ جدید انسان کی بے چینی، ناکامی، خوابوں کے ٹوٹنے اور وقت کی بے رحمی کو نہایت وقار اور ضبط کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ ان کے یہاں غم تو ہے مگر چیخ و پکار نہیں، مایوسی ہے مگر فرار نہیں۔ یہی سنجیدہ اور متوازن کیفیت ان کی شاعری کی نمایاں خصوصیت ہے۔

دوسری غزل کے اشعار کے آخر میں آنے والا مشترک لفظ ترا ہے، جو ہر شعر میں دہرایا گیا ہے، اس لیے ۔

ردیف ۔  ترا

قافیہ ۔  نغمہ، رتبہ، دریا، رستا، چہرہ، سایہ

(یہ تمام الفاظ ردیف “ترا” سے پہلے آئے ہیں اور ہم آواز ہیں)

نیلا سائباں سے مراد آسمان ہے۔ شاعر نے آسمان کو ایک نیلے خیمے یا چھت کے طور پر پیش کیا ہے جو انسان کے سر پر سایہ کیے ہوئے ہے۔ یہ ترکیب تحفظ، امید، پناہ اور حوصلے کی علامت ہے۔ اگرچہ زندگی میں سورج کی طرح سخت حالات موجود ہیں، مگر آسمان کا نیلا سائباں انسان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ کائنات میں ابھی سہارا اور امید باقی ہے۔

خلیلؔ الرحمن اعظمی کا تعلق اردو ادب کی جدیدیت کی تحریک سے رہا ہے۔ وہ جدید اردو شاعری کے اہم نمائندہ شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ اگرچہ انھوں نے ترقی پسند تحریک پر تحقیقی کام بھی کیا، لیکن شاعری میں وہ کسی نظریاتی جکڑ بندی کے قائل نہیں تھے۔ ان کی شاعری فرد کے باطن، داخلی کرب اور وجودی مسائل کو مرکز بناتی ہے، جو جدیدیت کی بنیادی خصوصیت ہے۔

خلیلؔ الرحمن اعظمی نے اپنی شاعری کسی ایک بڑے شاعر کی اندھی تقلید میں نہیں کی، بلکہ انھوں نے روایت سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی الگ اور منفرد آواز قائم کی۔ البتہ جدید غزل کے ابتدائی دور میں وہ میرؔ تقی میر کی روایت اور ناصر کاظمی و ابنِ انشا کی نرم، داخلی اور احساساتی شاعری سے متاثر دکھائی دیتے ہیں۔ اس کے باوجود ان کی شاعری محض اتباع نہیں بلکہ فکری پختگی اور انفرادی اسلوب کی حامل ہے۔

خلیل الرحمان اعظمی کی شاعری میں ایک خاص اور منفرد کیفیت پائی جاتی ہے۔ ان کی شاعری سطحی جذبات یا صرف رومانی موضوعات تک محدود نہیں ہے بلکہ وہ انسان کی داخلی کیفیت، تنہائی، کرب، محرومی اور وجودی مسائل کو بیان کرتے ہیں۔ ان کے اشعار میں دکھ اور درد تو موجود ہے مگر وہ چیخ و پکار کے بجائے وقار اور متوازن انداز میں بیان کیے گئے ہیں۔ ان کی شاعری میں جدیدیت کے اثرات نمایاں ہیں، جہاں وہ انسان کے نفسیاتی تجربات، خوابوں کے ٹوٹنے، وقت کی بے رحمی اور سماجی تضادات کو شعوری انداز میں پیش کرتے ہیں۔ علامتی اور استعاراتی زبان کا استعمال بھی ان کی شاعری کی اہم خصوصیت ہے، جیسے درخت، دریا، بانسری، نیلا سائباں وغیرہ، جو ان کے جذبات اور تجربات کو زیادہ پراثر انداز میں ظاہر کرتی ہیں۔ خلیل الرحمان اعظمی کی شاعری میں خود احتسابی اور دل کی سچائی بھی نمایاں ہے۔ وہ اپنی ناکامیوں اور محرومیوں کا ذمہ خود لیتے ہیں اور انہیں بغیر مبالغہ کے بیان کرتے ہیں۔ مجموعی طور پر ان کی شاعری گہری، باوقار اور احساسات سے لبریز ہے جو اردو ادب کے جدید اور معتبر شاعر کے طور پر انہیں ممتاز کرتی ہے۔

خلیل الرحمان اعظمی نے اردو ادب میں نہ صرف شاعری کے شعبے میں بلکہ تنقید، تحقیق اور تدریس کے شعبوں میں بھی نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ ان کے تین شعری مجموعے شائع ہوئے، جن میں کاغذی پیرہن، نیا عہد نامہ اور زندگی، اے زندگی شامل ہیں، اور 2000 میں آسمان، اے آسمان کے نام سے ان کے اشعار کا انتخاب منظر عام پر آیا۔ ان کی شاعری میں انسانی کرب، تنہائی، محرومی اور زندگی کی حقیقتوں کو عمدگی سے پیش کیا گیا، جو جدید اردو شاعری میں اہم مقام رکھتی ہے۔ انہوں نے تنقیدی مضامین کے مجموعے بھی شائع کیے، جن میں فکر و فن، زاویہ نگاہ اور مضامین نو شامل ہیں۔ انہوں نے بہادر شاہ ظفر کی شاعری کا انتخاب نواۓ ظفر کے نام سے شائع کیا اور اس پر تفصیلی مقدمہ لکھا۔ اسی طرح مثنوی سحر البیان پر بھرپور مقدمہ لکھ کر اسے شائع کیا۔ ان کے مقدمہ کلام آتش میں بھی غزل اور جدید شاعری پر تحقیق کی گئی۔ ان کا تحقیقی مقالہ اردو میں ترقی پسند ادبی تحریک اردو ادب میں معیاری تحقیقی مقالہ کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ تعلیمی خدمات کے لحاظ سے وہ شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر کے طور پر مقرر ہوئے اور طلبہ کی تربیت اور اردو ادب کی تعلیم میں نمایاں کردار ادا کیا۔ مجموعی طور پر خلیل الرحمان اعظمی نے اردو ادب میں شاعری، تنقید، تحقیق اور تدریس کے شعبوں میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں، جو نہ صرف ادب کے معیار کو بلند کرتی ہیں بلکہ جدید اردو شاعری اور تحقیق میں ایک مثال قائم کرتی ہیں۔

یہ شعر شاعر کی اصول پسندی اور تنہائی کی عکاسی کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اس کے دوست زمانے کے تقاضوں کے مطابق سمجھوتہ کر گئے اور حالات کے ساتھ ہم آہنگ ہو گئے، یعنی انہوں نے دنیا سے صلح کر لی۔ لیکن شاعر اپنی وفاداری، اصول پسندی اور سچائی کی وجہ سے ان کے ساتھ نہیں چل سکا اور تنہا رہ گیا۔ یہاں لفظ “بددماغ” طنزیہ انداز میں استعمال ہوا ہے، جس سے شاعر اپنی ضد اور ایمانداری کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ شعر انسانی رشتوں کی فطرت، مصلحت پسندی اور اصول پرستی کے تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔

اس شعر میں شاعر اپنے خوابوں اور امیدوں کی شکست بیان کرتا ہے۔ “خیالوں کے شہر” انسان کی آرزوؤں، منصوبوں اور خوابوں کی علامت ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ یہ شہر، جو اس کے ذہن میں آباد تھا، حقیقت کا روپ اختیار کرنے سے پہلے ہی وقت کی بے رحمی اور زندگی کی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے تباہ ہو گیا۔ یہ شعر انسانی زندگی کی فانی نوعیت، خواہشات کی عارضیت اور وقت کی قوت پر روشنی ڈالتا ہے۔

یہ شعر شاعر کے وجودی خیالات اور زندگی کے فلسفے کو بیان کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ ہم نے موت کے سائے میں بھی زندگی کی مدح کی اور اس کے مقام و مرتبے کی قدر کی۔ “بانسری پر موت کا نغمہ” ایک علامت ہے کہ شاعر نے زندگی کی سختیوں، دکھوں اور موت کے قریب ہونے کے باوجود شاعری کے ذریعے زندگی کی عظمت کو پیش کیا۔ یہ شعر زندگی کی وقار اور بلند مرتبے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، چاہے حالات کتنے ہی سخت کیوں نہ ہوں۔

یہ شعر کائنات میں انسان کی حفاظت اور امید کے موضوع کو اجاگر کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اگرچہ سورج (ظالم حالات یا زندگی کی مشکلات) سخت اور مہربان نہیں ہے، مگر آسمان (نیلا سائباں) انسان کے سر پر سایہ ڈالے ہوئے ہے۔ یہ نیلا سائباں امید، حوصلہ اور کائناتی تحفظ کی علامت ہے۔ شاعر آسمان سے دعا کرتا ہے کہ یہ سایہ ہمیشہ قائم رہے، تاکہ انسان زندگی کی سختیوں میں بھی امید سے محروم نہ ہو۔

صحیح مصرعہ ۔

صحیح مصرعہ ۔

صحیح مصرعہ ۔

بوا، عیادت، صلح، نغمہ، مقدر، مهربان

بوا  ۔ مونث
مثال ۔  بوا نے کھانا تیار کیا۔
عیادت  ۔ مونث
مثال ۔  مریض کی عیادت کے لیے دوست آئے۔

صلح  ۔ مونث
مثال ۔  دو بھائیوں نے باہمی صلح کر لی۔

نغمہ  ۔ مذکر
مثال ۔  اس نے خوبصورت نغمہ گایا۔

مقدر  ۔ مذکر
مثال ۔  ہر انسان کا مقدر الگ ہوتا ہے۔

مہربان  ۔ مذکر/مونث
مثال ۔  استاد بہت مہربان ہیں۔

انان، یاروں ، زمانہ، کوتا ہی، مہربانیاں، منزل، اموات، زنجیر، زندگیوں

واحد ۔  انا

جمع ۔  انان

واحد ۔  یار

جمع ۔  یاروں

واحد ۔  زمانہ

جمع ۔  زمانے

واحد ۔  کوتاہی

جمع ۔  کوتاہیاں

واحد ۔  مہربانی

جمع ۔  مہربانیاں

واحد ۔  منزل

جمع ۔  منزلیں

واحد ۔  موت

جمع ۔  اموات

واحد ۔  زنجیر

جمع ۔  زنجیریں

واحد ۔  زندگی

جمع ۔  زندگیوں

This post provides detailed explanations and summaries of Khalilur Rahman’s ghazals from Bihar Board Class 12 Kahkashan Chapter 20, along with Q&A and literary analysis.

Scroll to Top