Bihar Board Class 12 Kahkashan Chapter 21 Solutions Qataye Tareekh, قطعئہ تاریخ

قطعۂ تاریخ اردو شاعری کی ایک اہم اور دل چسپ صنف ہے جو فارسی شاعری سے اردو میں آئی۔ فارسی میں اس فن کے آغاز کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا، تاہم بعض محققین کے نزدیک اس کے ابتدائی نمونے سلجوقی دور (428 تا 622ھ) میں ملتے ہیں۔ اردو شاعری کے فروغ تک یہ صنف پوری طرح پختہ ہو چکی تھی، اسی لیے اردو کے کلاسیکی شعرا کے یہاں تاریخ گوئی کی کامیاب مثالیں موجود ہیں۔

قطعۂ تاریخ کا مقصد کسی اہم واقعے جیسے ولادت، وفات، شادی، تخت نشینی، تصنیفِ کتاب یا عمارت کی تعمیر کے سال کو شعری انداز میں محفوظ کرنا ہے۔ اس فن میں شاعر ایسا مصرع یا فقرہ ترتیب دیتا ہے جس کے حروف کے اعداد جوڑنے سے متعلقہ واقعے کا سال برآمد ہو جائے۔ ایسے مصرعے یا فقرے کو مادّۂ تاریخ کہا جاتا ہے۔ اس حساب کے لیے عربی رسم الخط کے حروف کے متعین اعداد استعمال کیے جاتے ہیں، جسے حسابِ ابجدی یا حسابِ جُمّل کہتے ہیں۔ حسابِ ابجدی میں عربی حروف کو آٹھ کلمات میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر حرف کے لیے مخصوص عدد مقرر ہے۔ اردو اور فارسی کے وہ حروف جو عربی میں نہیں پائے جاتے، ان کے قریب المخرج عربی حروف سے حساب کیا جاتا ہے۔ بسا اوقات مادّۂ تاریخ کے اعداد پورے سال سے کم یا زیادہ ہو جاتے ہیں، ایسی صورت میں شاعر عدد بڑھانے کو تعمیر اور گھٹانے کو تَخرِیج کہتا ہے اور شعر میں اس کی طرف اشارہ کر دیتا ہے۔

تاریخ گوئی کی تحقیقی اہمیت اس لیے مسلم ہے کہ زیادہ تر تاریخیں اسی زمانے میں کہی جاتی ہیں جس زمانے میں واقعہ پیش آتا ہے، اس طرح ان کی تاریخی حیثیت مضبوط سمجھی جاتی ہے۔

عطا کاکوی اردو اور فارسی کے ممتاز عالم، نقاد، محقق اور شاعر تھے۔ ان کا اصل نام سید شاہ عطاالرحمان تھا۔ وہ 17 ستمبر 1904 کو گاؤں کاکو میں پیدا ہوئے اور 8 مارچ 1998 کو پٹنہ میں ان کا انتقال ہوا۔ انہوں نے پٹنہ یونیورسٹی اور بہار یونیورسٹی کے شعبہ اردو و فارسی میں اہم خدمات انجام دیں اور صدرِ جمہوریہ کے سرٹیفکیٹ آف آنر سے بھی سرفراز ہوئے۔

عطا کاکوی تنقید، تحقیق، شاعری اور خصوصاً تاریخ گوئی میں غیر معمولی مہارت رکھتے تھے۔ ان کی تنقیدی تصانیف میں طالِعۂ حسرت، تنقیدی مطالعے اور تقابلی مطالعے شامل ہیں، جب کہ شعری تصانیف میں جمالِ غزلِ غالب اور ساقی نامہ کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ بیدل پر ان کی تحقیقی کتاب حیرت زار علمی دنیا میں نمایاں مقام رکھتی ہے۔ انہوں نے ادبی رسالہ سفینہ بھی جاری کیا جس کے خصوصی شمارے دستاویزی اہمیت کے حامل ہیں۔

عطا کاکوی نے اپنے عہد کے شعرا، ادبا اور معتبر شخصیات کی وفات پر متعدد قطعہ ہائے تاریخ کہے جو ملک کے اہم رسائل میں شائع ہوئے۔ قدیم اردو و فارسی ادب پر ان کی گہری نظر تھی، اسی لیے وہ عظیم آباد کی ادبی محفلوں میں کلاسیکی اقدار کے آخری نمائندوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔

تشریح ۔

اس شعر میں شاعر ارشد کی وفات کی خبر دے رہا ہے اور قاری یا دوست کو مخاطب کر کے اس سانحے کی شدت کو اجاگر کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ ارشد کی موت نے زندگی میں خوشیوں کے تمام راستے بند کر دیے اور غم کے دروازے کھول دیے، یعنی اس حادثے نے زندگی کے ماحول کو مکمل طور پر بدل دیا۔ یہ بیان غمی کیفیت اور شاعر کا ذاتی صدمہ واضح کرتا ہے۔ یہاں “دریچۂ غم” اور “در ہوا خوشی کا بند” کی تشبیہ سے شاعر نے موت کے اثرات کو زیادہ اثر انگیز انداز میں پیش کیا ہے۔

تشریح ۔

یہ شعر مرحوم کی کم عمری اور اچانک موت پر افسوس و حیرت کا اظہار کرتا ہے۔ ارشد ابھی صرف چونتیس سال کے نوجوان تھے، یعنی زندگی کے عروج پر، جب اچانک موت نے انہیں اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ شاعر تقدیر یا قسمت کی معمہ آمیز کارروائی پر حیرت ظاہر کرتا ہے کہ قضا (قسمت) نے ایسا فیصلہ کیوں کیا۔ یہاں “اداکوئی قضا کو پسند” سے مراد ہے کہ زندگی کی قیمتی شمع کو جلدی بجھانے کی تقدیر نے جو فیصلہ کیا، وہ سمجھ سے بالاتر تھا۔

تشریح ۔

شاعر مرحوم کو ادبی محفل کی روشن شمع سے تشبیہ دیتا ہے۔ ارشد ادب اور علم کی دنیا میں ایک روشنی پھیلانے والے، سرگرم اور متاثر کن شخصیت تھے۔ مگر اجل کی ہوا نے ان کی زندگی کو ختم کر دیا اور ان کی “زبان” یعنی علمی یا ادبی خدمات کو ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا۔ یہاں شمع اور روشنی کی مثال سے شاعر نے ارشد کی ادبی حیثیت اور موت کے اثر کو نمایاں کیا ہے۔

تشریح ۔

شاعر روح اور جسم کے تعلق کو پرندے اور پنجرے کی مثال سے بیان کرتا ہے۔ جس وقت تقدیر کا دروازہ کھلا، روح جسم کے محدود پنجرے سے آزاد ہو کر پرواز کر گئی۔ یہ شعر روح کی آزادی اور موت کی فطری حقیقت کو فلسفیانہ رنگ میں پیش کرتا ہے۔ یہاں موت کو ایک قدرتی عمل کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جو ناگزیر اور فطری ہے۔

تشریح ۔

اس شعر میں ارشد کے کردار کی تعریف کی گئی ہے۔ وہ نہ کسی کی خوشامد کرتا تھا اور نہ کسی سے دشمنی رکھتا تھا۔ شاعر ان کی سچائی، اصول پسندی اور شفاف کردار کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ شعر نہ صرف مرحوم کی اخلاقی خصوصیات بیان کرتا ہے بلکہ ایک مثالی شخصیت کی تصویر بھی پیش کرتا ہے جو ادب اور زندگی میں اخلاقی معیار کی پاسداری کرتی تھی۔

تشریح ۔

یہ فارسی شعر زندگی اور موت کی حقیقت پر فلسفیانہ سوالات اٹھاتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ کوئی نہیں جانتا کہ زندگی کی اصل حقیقت کیا ہے اور موت کے بعد روح کہاں جاتی ہے۔ یہ شعر زندگی و فنا کے فلسفے کو بیان کرتا ہے اور موت کے اسرار کو سمجھنے میں انسانی محدودیت کو واضح کرتا ہے۔

تشریح ۔

یہ شعر شاعر کے ذاتی غم کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔ شاعر حیران اور پریشان ہے کہ وہ کہاں جائے، کیا کرے اور صبر کیسے حاصل کرے۔ وہ چاہتا ہے کہ اس کے دوست اور احباب اس کے حال سے واقف ہوں اور اس کے دکھ میں شریک ہوں۔ یہ شعر غم کی شدت، انسانی احساسات اور اجتماعی ہمدردی کو اجاگر کرتا ہے۔

تشریح ۔

شاعر یہاں اپنے دکھ کی شدت بیان کرتا ہے اور دعا کرتا ہے کہ ایسا درد کسی دشمن کو بھی نصیب نہ ہو۔ یہ شعر رحمدلی، انسانیت اور اخلاقی جذبات کی تصویر پیش کرتا ہے۔ شاعر اپنے ذاتی الم کو ایک ایسے صدمے کے طور پر پیش کرتا ہے جو بے حد شدید اور ناقابلِ برداشت ہے۔

تشریح ۔

شاعر مرحوم کے دو بیٹوں جمیل اور عقیل کا ذکر کرتا ہے اور دعا کرتا ہے کہ وہ سلامت رہیں۔ ان کے وجود کو مرحوم کی زندہ یادگار قرار دیتا ہے۔ اس شعر میں خاندانی اور اجتماعی یادداشت کی اہمیت اور والد کے اثرات کی تصویر کشی ہے۔

تشریح ۔

یہ شعر عطا کاکوی کے تاریخ گوئی کے فن کی مثال ہے۔ وہ مرحوم کے سالِ وفات کا تعین مادۂ تاریخ کے ذریعے کرتا ہے۔ “سرِ الم کو ملا کر” سے مراد ہے کہ الفاظ کے حروف کے اعداد جمع کر کے ارشد کے وفات کا سال نکالا گیا، اور “غمِ فرزند” کے الفاظ مادۂ تاریخ کے لیے استعمال ہوئے۔

۱۳۸۲ھ = ۱ + ۱۳۸۱

تشریح ۔

یہاں شاعر مادۂ تاریخ کے حساب میں ایک عدد کا اضافہ (تعمیر) کر کے ارشد کے سالِ رحلت ۱۳۸۲ھ ظاہر کرتا ہے۔ یہ قطعہ تاریخ کا عملی مظاہرہ ہے جو نظم کو علمی اور دستاویزی اہمیت بھی دیتا ہے۔

یہ نظم ارشد کی ناگہانی وفات پر کہی گئی ایک دردناک مرثیہ نما نظم ہے۔ شاعر ارشد کی کم عمری میں موت کو ایک عظیم سانحہ قرار دیتا ہے جس سے خوشی کے دروازے بند اور غم کے دریچے کھل گئے۔ ارشد ابھی صرف چونتیس برس کا تھا اور بزمِ ادب میں شمع کی طرح روشن تھا، مگر اچانک موت کی ہوا نے اس چراغ کو بجھا دیا۔ شاعر روح اور جسم کے تعلق کو پنجرے اور پرندے کی مثال سے واضح کرتا ہے۔ ارشد ایک صاف گو، شریف اور اصول پسند انسان تھا جس کا کسی سے نہ عناد تھا نہ مفاد۔ نظم میں زندگی اور موت کے فلسفے پر سوال اٹھائے گئے ہیں اور اپنے غم کی شدت احباب تک پہنچانے کی خواہش ظاہر کی گئی ہے۔ آخر میں شاعر مرحوم کے دو بیٹوں جمیل اور عقیل کے لیے دعا کرتا ہے اور قطعۂ تاریخ کے ذریعے ارشد کے سالِ وفات (۱۳۸۲ھ) کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

شاعر کہتا ہے کہ ہر مخلوق پر محبت اور اثرات موجود رہتے ہیں۔ “مہر اليه ترجعون” سے مراد یہ ہے کہ انسان کے اعمال اور اثرات کی بنیاد پر اس کی یادگار قائم رہتی ہے۔ موت کے ذریعے ہی زندگی کا اصل مقصد اور اس کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ یعنی موت صرف اختتام نہیں بلکہ زندگی کی حقیقت کی عکاسی ہے، اور اسی سے انسان کی خدمات اور اثرات قائم رہتے ہیں۔

یہ شعر اشرف قادری کی شخصیت کی تعریف کرتا ہے۔ شاعر انہیں نہ صرف شاعر بلکہ قانون دان اور اہلِ علم قرار دیتا ہے۔ “معّمر ذات” سے مراد یہ ہے کہ وہ ایک عمر بھر محنت کرنے والا اور علم و ادب کی دنیا میں فعال شخصیت تھے۔ شاعر کہتا ہے کہ ان کی شخصیت اور خدمات اتنی نمایاں تھیں کہ قبر کو بھی زینت ملی، یعنی ان کی یاد اور اثرات مرنے کے بعد بھی زندہ ہیں۔

اس شعر میں شاعر موت کی حتمیت پر زور دیتا ہے۔ کوئی بھی انسان موت سے نہیں بچ سکتا، چاہے وہ اعلیٰ مقام والا بادشاہ ہو یا عام آدمی (گدا)۔ “شہِ لولاک کی بھی ظاہراً تربت بنی” سے مراد یہ ہے کہ طاقتور اور اعلیٰ مقام والے بھی موت کے بعد زمین میں مل جاتے ہیں۔ یہ شعر موت کے فلسفیانہ پہلو اور انسان کے فانی ہونے کا ادبی بیان ہے۔

یہ شعر اشرف قادری کی علمی و روحانی عظمت کو ظاہر کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اشرف قادری “ہم سایۂ قادر” یعنی قدرت کے زیر سایہ اور رحمت کے حامل تھے۔ ان کا تعلق غوث (روحانی بزرگوں) کی نسبت سے بھی رحمت کا باعث سمجھا جاتا ہے۔ ساتھ ہی، قطعہ تاریخ کے ذریعے ان کے سالِ وفات ۱۴۱۹ھ کو بھی ظاہر کیا گیا ہے، جس سے ان کی زندگی اور وفات کو دستاویزی اہمیت حاصل ہوئی۔

شاعر یہاں اشرف قادری کے علمی اور ادبی اثرات کی بات کرتا ہے۔ ان کی تعلیمات، افکار اور شخصیت ایسی ہیں جو لوگوں کے دل و دماغ میں روشنی اور اثر ڈالتی ہیں۔ “مُلہم لگاتا ہے صدا” سے مراد ہے کہ ان کی تعلیمات اور اثرات ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ شاعر ان کے سکونت گاہ کو جنت سے تشبیہ دیتا ہے، یعنی وہ مقام جہاں وہ رہے، برکت اور نور کا مرکز تھا۔ ساتھ ہی، سالِ وفات ۱۹۹۸ء کو مادۂ تاریخ کے طور پر واضح کیا گیا ہے۔

قطعه تاریخ رحلت جناب اشرف قادری اشعار کا خلاصہ ۔

یہ نظم جناب اشرف قادری کی وفات پر کہی گئی ہے اور ان کی زندگی و شخصیت کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ موت کے ذریعے زندگی کی حقیقت اور اہمیت ظاہر ہوتی ہے، کیونکہ مخلوق پر محبت اور یادگار کے آثار برقرار رہتے ہیں۔ اشرف قادری ایک اہلِ علم، شاعر اور قانون دان شخصیت تھے، جنہوں نے اپنی زندگی کے ہر پہلو میں اہم خدمات انجام دیں۔ شاعر یاد دلاتا ہے کہ موت سے کوئی بچ نہیں سکتا، چاہے وہ اعلیٰ مقام والا ہو یا عام فرد، اور یہ حقیقت سب کے لیے یکساں ہے۔

نظم میں اشرف قادری کی شخصیت کی بلند خصوصیات، جیسے غوث کی نسبت اور رحمت کی باعث بننا، بیان کی گئی ہیں۔ ان کے علمی اور ادبی اثرات کو قریئۂ افکار میں رہنے والا صدا کے طور پر پیش کیا گیا ہے، اور ان کی رہائش اور وفات کے مقام کو جنت کی تشبیہ دی گئی ہے۔ نظم کے آخر میں قطعہ تاریخ کے ذریعے ان کی وفات کا سال ۱۴۱۹ھ اور ۱۹۹۸ء کے اعداد سے بھی واضح کیا گیا ہے۔

یہ شعر مولانا نظام الدین صاحب کی مسند نشینی کی مناسبت سے کہا گیا ہے۔ شاعر سوالیہ انداز میں مخاطب سے پوچھتا ہے کہ کس نے ان کے سر پر امیری یا قیادت کا تاج (دستار امیری) رکھا۔ ساتھ ہی شاعر موجودہ ملک کی خراب اور سنگین حالات کی طرف اشارہ کرتا ہے، یعنی مشکل دور میں یہ منصب سنبھالا گیا۔ یہ شعر قیادت کی ذمہ داری، اہمیت اور حالات کی پیچیدگی کو واضح کرتا ہے۔

شاعر یہاں معاشرتی اور سیاسی تناظر میں لوگوں کی کمزوریوں اور غرور کی تصویر پیش کرتا ہے۔ “ممولے” سے مراد وہ لوگ ہیں جو تعداد میں زیادہ ہیں لیکن حقیقت میں کمزور یا غیر مؤثر ہیں۔ وہ اپنی بڑی حیثیت یا زعم میں رقص کرتے ہیں، یعنی اپنی طاقت کے بارے میں مبالغہ آرائی کرتے ہیں۔
اس کے برعکس، “پتھروں کے درمیان شاہین” مولانا نظام الدین کی مثال ہے جو مشکل اور پریشان حالات میں بلند نظری، شجاعت اور بصیرت رکھتے ہیں۔ شاہین کی تشبیہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ حالات کی سختیوں کے باوجود بلند مقام اور فہم و فراست کے حامل ہیں۔

یہ شعر معاشرتی تضاد کو واضح کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ بعض لوگ اندھیری یا مشکل صورتحال کو اپنے من پسند طور پر اچھا یا روشن ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، یعنی حقائق کو مسخ کرتے ہیں۔
“عالموں میں جہل والے باعث تزئین ہیں” کا مطلب یہ ہے کہ بعض علماء یا اہل علم جو حقیقت سے ناواقف ہیں، وہ اپنے علم یا رتبے کے باوجود معاشرتی نظام یا حقائق کی تشہیر میں غلط معلومات یا تزئین کرتے ہیں، جس سے فریب یا گمراہی پیدا ہوتی ہے۔ شاعر مولانا نظام الدین کی عقل و فہم کو ان سے ممتاز کرتا ہے۔

یہ شعر مولانا نظام الدین کی کردار کی سب سے نمایاں خصوصیت بیان کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ مشکل، پیچیدہ اور فتنہ انگیز حالات میں مولانا نظام الدین وہ شخصیت ہیں جو غمزدہ، پریشان یا محتاج لوگوں کے لیے رہنمائی اور سکون کا مینارہ ہیں۔ یہاں “مینارہ تسکین” کی تشبیہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایسے وقت میں روشنی، رہنمائی اور امید فراہم کرتے ہیں، جیسے مینارہ جہازوں کو راستہ دکھاتا ہے۔

شاعر آخری شعر میں مولانا نظام الدین کی عظمت کو قوم و ملت کے لیے باعث فخر قرار دیتا ہے۔ وہ انہیں “اولوا الامر” یعنی اہل اختیار اور قیادت رکھنے والوں کی شان کے مترادف بیان کرتا ہے۔ یہاں شاعر کے نزدیک مولانا نظام الدین کی شخصیت، علم و فضل، قیادت اور اخلاقی خدمات، قوم کے لیے ایسی مثال ہیں جو نہ صرف یادگار ہیں بلکہ فخر کا باعث بھی ہیں۔ یہ شعر ان کی جامع علمی، اخلاقی اور دینی خدمات کا خلاصہ پیش کرتا ہے۔

قطعه تاریخ مسند نشینی امیر شریعت مولانا نظام الدین صاحب کا خلاصہ ۔

یہ نظم مولانا نظام الدین صاحب کی مسند نشینی اور ان کی علمی، دینی اور اخلاقی خدمات کی تعریف پر مبنی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ ایسے وقت میں جب ملک میں حالات انتہائی سنگین اور پیچیدہ ہیں، مولانا نظام الدین نے اپنے منصب اور علم سے قوم و ملت کے لیے رہنمائی فراہم کی۔

شاعر نے ان کی شخصیت کو ایسے معاشرتی اور علمی کردار کے طور پر پیش کیا ہے جو غمزدہ اور پریشان لوگوں کے لیے سکون اور رہنمائی کا مینارہ ہے۔ نظم میں ان کے کردار کی عظمت کو شاہین سے تشبیہ دی گئی ہے جو پتھروں کے درمیان بلند پرواز کرتا ہے، یعنی وہ مشکل حالات میں بھی روشنی اور بصیرت فراہم کرتے ہیں۔

مولانا نظام الدین صاحب کی شخصیت علماء اور قوم کے لیے باعث فخر ہے، اور وہ شانِ اولوا الامر (اہلِ اختیار اور قیادت رکھنے والوں) کی مثال کے طور پر پیش کیے گئے ہیں۔ نظم میں ان کی علمی و دینی عظمت، اخلاقی کردار اور قوم و ملت کے لیے خدمات کو اجاگر کیا گیا ہے۔

جوا ب ۔ باغ و بہار1217

جواب ۔ اس علامت کا ابجد میں عدد عام طور پر شامل نہیں کیا جاتا، لہٰذا محمد ﷺ،   92

جواب ۔ ظ = 900

جواب ۔ ارشد =  505

جواب ۔ اشرف=  581

قادری =  315

اشرف قادری  896

جواب ۔  ارشد کی موت پر۔

جواب ۔ شاعر اور مرحوم کے درمیان دوستی/استاد و شاگرد یا قریبی احباب کا تعلق تھا۔

جواب ۔ ارشد کی عمر چونتیس سال تھی۔

جواب ۔  جمیل اور عقیل

جواب ۔ 1 عدد کا اضافہ کیا گیا۔

جواب ۔  ۱۹۹۸ء یا ۱۴۱۹ھ (قطعہ تاریخ میں دونوں سالوں کا ذکر ہے)

جواب ۔ شاعر ہونا، قانون دان ہونا، رحمت و خیرخواہی کا باعث ہونا

جواب ۔  غوث کی نسبت

جواب ۔  اہلِ قانون یا ماہر قانون

جواب ۔ مسند نشینی (امیر شریعت کے منصب سنبھالنے) کے موقعے پر

جواب ۔  واحد نظیر

جواب ۔  قطعہ میں سال واضح نہیں دیا گیا، لیکن تاریخی تناظر کے مطابق یہ منصب سنبھالنے کے موقعے پر کہا گیا۔

جواب ۔ یہ تشبیہ ہے کہ مولانا نظام الدین مشکل اور پرفتن حالات میں غمزدہ اور پریشان لوگوں کے لیے سکون، رہنمائی اور امید کا ذریعہ ہیں۔ یعنی وہ ایسے ہیں جیسے مینارہ جہازوں کو راستہ دکھاتا ہے، ویسے ہی وہ عوام کے لیے رہنمائی اور سکون کے مینارہ ہیں۔

تاریخ گوئی ایک ادبی فن ہے جس میں شاعر کسی اہم واقعے یا شخصیت کی تاریخ کو شعری یا نثری جملوں کے ذریعے محفوظ کرتا ہے۔ اس میں اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ مصرع، جملہ یا فقرہ ایسا ترتیب دیا جائے کہ اس کے حروف کے ابجدی یا جمل کے اعداد جمع کرنے سے واقعے کا سال معلوم ہو جائے۔ تاریخ گوئی میں شاعر نہ صرف واقعے کی تاریخ بیان کرتا ہے بلکہ اس کے متعلقہ حالات، شخصیت اور جذبات کو بھی ادبی رنگ میں پیش کرتا ہے۔ اردو اور فارسی ادب میں یہ فن اس وقت پروان چڑھا جب کلاسیکی شاعری میں علمی اور ادبی حوالوں کو یادگار بنانے کی ضرورت محسوس کی گئی۔

تاریخ گوئی کی ادبی اہمیت اس میں ہے کہ شاعر اپنی تخلیقی صلاحیت اور مہارت کے ذریعے کسی واقعے یا شخصیت کو یادگار بناتا ہے۔ اس میں تشبیہات، استعارے اور جذباتی رنگ شامل ہوتے ہیں جو شاعر کے ادبی ذوق کو ظاہر کرتے ہیں۔ تاریخی اہمیت کی بات کریں تو تاریخ گوئی عام طور پر اسی وقت کی جاتی ہے جب واقعہ رونما ہوتا ہے، اس لیے سند میں شک کی گنجائش بہت کم رہ جاتی ہے۔ اس فن کے ذریعے محققین اور تاریخ دانوں کو بعد میں قابل اعتماد معلومات حاصل ہوتی ہیں، کیونکہ واقعے کا ذکر اور اس کی تاریخ اسی زمانے میں محفوظ ہو جاتی ہے۔

قطعہ تاریخ وہ شعر یا نثری جملہ ہے جس میں کسی واقعہ یا شخصیت کی تاریخ حروف کے ابجدی یا جمل اعداد کے ذریعے ظاہر کی جاتی ہے۔ نصاب میں شامل قطعہ “غمِ ارشد” عطا کاکوی کی تصنیف ہے، جو ارشد کی وفات پر لکھی گئی۔ اس قطعہ میں مادۂ تاریخ کے ذریعے سال ۱۳۸۲ھ ظاہر کیا گیا۔ اس کے علاوہ ارشد کی شخصیت، علمی و ادبی مقام، اخلاقی خصوصیات اور غمزدہ احباب کے جذبات کو بھی اجاگر کیا گیا۔ شعر میں تشبیہات اور استعارے استعمال ہوئے ہیں، تاکہ واقعہ یادگار اور جذباتی طور پر مؤثر ہو۔

عطا کاکوی کا مکمل نام سید شاہ عطا الرحمان تھا۔ وہ ۱۷ ستمبر ۱۹۰۴ کو مردم خیز گانو میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے شعبہ اردو و فارسی، بہار یونیورسٹی مظفرپور اور شعبہ فارسی، پٹنہ یونیورسٹی میں بطور استاد خدمات انجام دیں۔ وہ اردو و فارسی ادب کے محقق اور شاعر تھے اور صدر جمہوریہ کے سرٹیفیکیٹ آف آنر سے بھی سرفراز ہوئے۔ انہوں نے کلاسیکی ادب پر مہارت حاصل کی اور تاریخ گوئی میں بھی اپنی مہارت کا ثبوت دیا۔ انہوں نے شاعری، تنقید، تحقیق اور تاریخ نویسی میں نمایاں کام کیا اور ادبی محافل میں ایک اہم مقام رکھتے تھے۔ ان کی وفات ۸ مارچ ۱۹۹۸ کو پٹنہ میں ہوئی۔

 واحد نظیر نے اشرف قادری اور مولانا نظام الدین جیسے اہم شخصیات پر قطعہ تاریخ لکھی۔ ان کے قطعات میں علمی، ادبی اور دینی خدمات کو اجاگر کیا گیا اور مادۂ تاریخ کے ذریعے واقعات یا منصب سنبھالنے کے سال کا تعین کیا گیا۔ واحد نظیر نے اپنے قطعہ میں شخصیات کی رحمت، رہنمائی اور قوم و ملت کے لیے فخر کا ذکر کیا۔ ان کے قطعات میں شاعری اور تاریخی دستاویزات کا امتزاج موجود ہے اور یہ قطعہ تاریخی معلومات کو شعری انداز میں محفوظ کرنے کا بہترین نمونہ ہیں۔

 قطعہ تاریخ میں تخرجہ کا استعمال اس وقت کیا جاتا ہے جب مادۂ تاریخ کے حروف کے مجموعی اعداد حاصل شدہ سال سے زیادہ ہوں۔ شاعر اضافی عدد کو حذف کر کے صحیح سال ظاہر کرتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر مادہ کے مجموعہ کا عدد ۱۳۸۳ ہو اور صحیح سال ۱۳۸۲ ہو تو ایک عدد کو تخرجہ کے طور پر کم کیا جاتا ہے تاکہ سال درست برآمد ہو۔

تعمیہ کا مطلب ہے حروف کے مجموعی اعداد میں کسی عدد کو اضافہ کرنا۔ اس کا استعمال اس وقت ہوتا ہے جب مادۂ تاریخ کے اعداد مجموعی طور پر سالِ وقوعہ سے کم ہوں۔ شاعر مطلوبہ عدد میں اضافہ کر کے صحیح سال ظاہر کرتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر مادہ کا مجموعہ ۱۳۸۱ ہو اور سال ۱۳۸۲ چاہیے تو ایک عدد کا اضافہ (تعمیہ) کیا جاتا ہے۔

 مادۂ تاریخ وہ مصرع، جملہ یا فقرہ ہے جس کے حروف کے اعداد جمع کرنے سے واقعے یا شخصیت کا سال معلوم ہوتا ہے۔ مادۂ تاریخ ہمیشہ معنی خیز اور شعری لحاظ سے موزوں ہوتا ہے اور بعض اوقات اس میں تعمیہ یا تخرجہ شامل ہوتا ہے تاکہ سال درست برآمد ہو۔

This post provides a detailed study of Qataye Tareekh from Bihar Board Class 12 Kahkashan Chapter 21. It explains the literary and historical significance of this poetic form, its origin from Persian poetry, and the use of Abjadi (numeric) calculation to record important dates in verses. The post includes biographical details of Ata Kakvi, a renowned Urdu and Persian scholar, poet, and historian, along with explanations of his Qataye Tareekh on notable figures like Arshad, Ashraf Qadri, and Maulana Nizamuddin. It also provides summaries, verse interpretations, and answers to textbook questions, highlighting the use of mater-e-tareekh, ta’miyah, and takhreej in historical poetry.

Scroll to Top