Bihar Board Class 12 Kahkashan Chapter 22 Solutions Marsiya, Meer Anees, مرثیہ،میر انیس

یہ مضمون اردو ادب میں مرثیہ کی صنف، اس کی تاریخ، ارتقا اور میر انیس کی شخصیت و خدمات کا احاطہ کرتا ہے۔ مرثیہ بنیادی طور پر غم اور اظہارِ حزن کے لیے مخصوص صنفِ شاعری ہے۔ مشرقی شاعری میں ابتدا میں ہر وہ نظم جو کسی کی موت پر کہی جاتی تھی مرثیہ کہلاتی تھی، اور عربی و فارسی ادب میں بھی یہی روایت رہی۔ تاہم اردو میں مرثیہ ایک مخصوص مفہوم اختیار کر گیا اور اب اس سے مراد شہادتِ امام حسینؑ اور اہلِ بیت کے مصائب کا منظوم بیان ہے۔ گزشتہ تقریباً پانچ صدیوں سے اردو مرثیہ کا یہی مرکزی موضوع رہا ہے، اسی لیے کسی عام شخص کی وفات پر لکھی گئی نظم کو شخصی مرثیہ کہا جاتا ہے۔

اردو مرثیہ گوئی کا آغاز دکن میں سولہویں صدی کے اوائل میں ہوا۔ سید شاہ اشرف بیابانی کی مثنوی “نوسر باز” کو اردو کا پہلا مرثیہ قرار دیا جاتا ہے۔ دکن کے شعرا جیسے شاہ میراں جی، برہان الدین جانم، محمد قلی قطب شاہ، ملا وجہی اور نصرتی کے کلام میں بھی مرثیے ملتے ہیں۔ بعد میں مرزا ایجا پوری نے واقعاتِ کربلا کو باقاعدہ بنیاد بنا کر مرثیے لکھے اور دکن میں مرثیہ گوئی کو مضبوط کیا۔

اٹھارہویں صدی میں دہلی مرثیہ گوئی کا اہم مرکز بنا، جہاں کئی مرثیہ نگار پیدا ہوئے، مگر سودا کو اس لیے خاص اہمیت حاصل ہے کہ انہوں نے پہلی بار مرثیے کے لیے مسدس کی ہیئت اختیار کی۔ یہی ہیئت بعد میں اتنی مقبول ہوئی کہ گزشتہ ڈھائی سو برس سے زیادہ عرصے سے زیادہ تر مرثیے مسدس ہی میں لکھے جا رہے ہیں۔

مرثیہ کے لیے سب سے زرخیز زمین اودھ، خصوصاً لکھنو ثابت ہوا۔ یہاں ضمیر، دل گیر، میر مستحسن خلیق اور پھر میر انیس اور مرزا دبیر نے اس صنف کو فنی و فکری عروج تک پہنچایا۔ انیس اور دبیر کی بدولت مرثیہ گوئی پورے برصغیر میں پھیلی اور نوابینِ اودھ کی سرپرستی نے مرثیہ خوانی کو سماجی اور ثقافتی حیثیت عطا کی۔ بیسویں صدی میں بھی کئی شعرا نے مرثیہ کی طرف توجہ دی، مگر یہ حقیقت تسلیم شدہ ہے کہ مرثیہ کو سب سے زیادہ موافق فضا لکھنو میں ہی ملی۔ مرثیہ میں رزم اور بزم دونوں طرح کے مناظر، واقعہ نگاری، جذباتی تاثیر اور مصائبِ اہلِ بیت کی تفصیل بھرپور فنی مہارت سے پیش کی جاتی ہے۔

میر ببر علی انیس اردو مرثیہ کے سب سے عظیم شاعر مانے جاتے ہیں۔ ان کی پیدائش تقریباً 1802 میں فیض آباد میں ہوئی۔ وہ ایک علمی و شعری خاندان سے تعلق رکھتے تھے؛ ان کے والد میر مستحسن خلیق، دادا اور پردادا بھی مشہور شعرا تھے۔ ان کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی اور بعد میں نامور علما سے استفادہ کیا۔ انہوں نے سواری، شمشیر زنی اور فوجی تربیت بھی حاصل کی، جس کا اثر ان کے مرثیوں میں رزمیہ مناظر کی قوت میں نظر آتا ہے۔

انیس نے کم عمری میں شاعری شروع کی۔ ابتدا میں غزل کہتے تھے، پھر سلام اور بالآخر مرثیہ نگاری کو اپنا میدان بنایا۔ ابتدا میں ان کا تخلص “حزیں” تھا، مگر بعد میں “انیس” اختیار کیا۔ انہوں نے بڑی تعداد میں سلام، رباعیاں اور مرثیے کہے، مگر اصل شہرت مرثیہ گو کی حیثیت سے حاصل ہوئی۔ لکھنو میں انہیں مرزا دبیر جیسے عظیم شاعر کا مقابلہ کرنا پڑا، ابتدا میں مخالفت بھی ہوئی، مگر وقت کے ساتھ انیس کی عظمت تسلیم کر لی گئی۔

میر انیس نے کبھی درباری شاعری نہیں کی اور نہ کسی بادشاہ یا امیر کا قصیدہ لکھا۔ وہ سادگی اور خودداری کے ساتھ زندگی بسر کرتے رہے۔ 1857 کے بعد انہوں نے لکھنو کے علاوہ پٹنہ، حیدر آباد، بنارس اور الہ آباد میں بھی مرثیہ خوانی کی۔ ان کی زبان کی سب سے بڑی خوبی سادہ، شستہ اور محاوراتی لکھنوی اردو ہے، جس نے کربلا کے واقعات کو عام فہم اور دل نشیں بنا دیا۔ میر انیس نے رثائی شاعری کو ایسی بلندی عطا کی کہ وہ اردو ادب کا بیش قیمت سرمایہ بن گئی۔ ان کا انتقال 10 دسمبر 1874 کو لکھنو میں ہوا۔

الف) بادشاہوں کی مدح
ب) عشقیہ جذبات
ج) شہادتِ امام حسینؑ اور اہلِ بیت کے مصائب
د) فطرت کے مناظر

الف) مثنوی کربلا
ب) نوسر باز
ج) سلامِ شہادت
د) واقعۂ عاشورا

الف) 1490
ب) 1503
ج) 1520
د) 1550

الف) میر انیس
ب) مرزا دبیر
ج) سودا
د) ضمیر

الف) دہلی
ب) دکن
ج) پنجاب
د) اودھ

الف) لکھنو
ب) دہلی
ج) فیض آباد
د) حیدر آباد

الف) میر غلام حسین حسن
ب) میر مستحسن خلیق
ج) میر تقی میر
د) میر ضاحک

الف) مرثیہ
ب) سلام
ج) غزل
د) قصیدہ

الف) سودا
ب) ضمیر
ج) میر حسن
د) مرزا دبیر

الف) 1860
ب) 1868
ج) 1870
د) 10 دسمبر 1874

یہ مرثیہ دراصل شاعر کی ایک درد مندانہ دعا، خود احتسابی اور زمانے کی ناقدری پر گہری شکایت کا اظہار ہے۔ شاعر سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کرتا ہے کہ وہ اس کے کلام کے چمن کو گلزارِ ارم بنا دے، اس کی خشک صلاحیت پر اپنی رحمت کی بارش فرمائے اور اسے فیضِ الٰہی سے سرفراز کرے۔ شاعر اپنے آپ کو گمنام اور کمزور سمجھتے ہوئے یہ التجا کرتا ہے کہ اللہ اس کے بیان کو اعجاز عطا کرے تاکہ اس کا قلم سخن کے میدان میں اثر دکھا سکے۔ وہ اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ جب تک خدائی نور کی روشنی شامل نہ ہو، سخن کا قلمرو قائم نہیں رہ سکتا۔

مرثیے میں شاعر اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ فیضِ الٰہی ہر طرف جاری ہے، مگر پھر بھی شاعر کو اپنی محنت اور ریاضت کا پھل نصیب نہیں ہو رہا۔ وہ چاہتا ہے کہ اسے بھی ان نایاب معنوی پھولوں کی خوشبو ملے جو عام لوگوں کی دسترس میں نہیں آتے۔ میر انیس اپنی فنی صلاحیت کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر خدا کی عنایت شامل ہو جائے تو وہ قطرے کو گوہر، ذرے کو آفتاب اور خار کو گلِ تر بنا سکتے ہیں۔ وہ معنی کے گلدستے کو نئے انداز میں باندھنے اور ایک مضمون کو سو رنگوں میں پیش کرنے کی خواہش ظاہر کرتے ہیں۔

شاعر کہتا ہے کہ اگر لکھتے وقت اسے خدا کی توجہ حاصل ہو جائے تو وہ جنت کے مناظر، حضرت سلیمانؑ کی بزم کی شان اور معانی کی حسین دنیا کو الفاظ میں سمو سکتا ہے۔ اس مقام پر وہ حضرت علیؑ کی مدد اور تائید کا سہارا لیتے ہیں اور بار بار ان کو پکار کر اپنی فنی اور روحانی قوت کا اظہار کرتے ہیں۔ شاعر کو یقین ہے کہ حضرت علیؑ کی حمایت کے سبب وہ تنہا ہوتے ہوئے بھی سب پر بھاری ہے۔

مرثیے کا ایک اہم حصہ زمانے کی ناقدری پر مبنی ہے۔ شاعر شکایت کرتا ہے کہ اس دور میں نہ قدر دانی باقی رہی ہے، نہ انصاف، نہ گل و بلبل جیسی محبت۔ اہلِ بصیرت خاموش ہیں اور دل شکستہ ہو کر آنسو بہانے پر مجبور ہیں۔ لوگ اصل قیمتی جواہرات کو چھوڑ کر معمولی چیزوں کو اہمیت دیتے ہیں اور سخن کے نادر گوہروں کو مٹی میں ملا دیتے ہیں۔ شاعر افسوس کرتا ہے کہ اب نہ خریدار رہا ہے نہ پہچاننے والا، اس لیے اہلِ کمال ایسے وقت میں آئے ہیں جب بازار خالی ہو چکا ہے۔

آخر میں میر انیس اپنی بلند پروازی پر خود نادم نظر آتے ہیں۔ وہ اعتراف کرتے ہیں کہ جوش میں آ کر انہوں نے حد سے بڑھا ہوا دعویٰ کر دیا، مگر ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ سب ان کے دل کے زخموں کا علاج تھا۔ شاعر صفائی پیش کرتا ہے کہ اس نے کبھی امیروں کی خوشامد، جاہلوں کی تقلید یا بے جا مدح سرائی نہیں کی، بلکہ اس کا فخر صرف ازلی امام، یعنی حضرت علیؑ کی محبت اور حمایت پر ہے۔ اسی نسبت کو وہ اپنی تمام تعلّی اور روحانی قوت کی بنیاد قرار دیتا ہے۔

یہ مرثیہ میر انیس کی فکری بلندی، فنی عظمت، خود آگہی، دینی وابستگی اور اپنے عہد کی سماجی و ادبی ناقدری کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔

اس شعر میں میر انیس اللہ تعالیٰ سے نہایت عاجزی کے ساتھ دعا کرتے ہیں۔ شاعر اپنی شاعری کو ایک باغ قرار دیتا ہے جو اس وقت خشک اور بے رونق ہے۔ وہ خدا سے درخواست کرتا ہے کہ اس باغ کو گلزارِ ارم یعنی جنت جیسے حسین اور سرسبز باغ میں بدل دے۔ “ابرِ کرم” سے مراد خدا کی رحمت ہے اور “خشک زراعت” شاعر کی تخلیقی کم مائیگی کی علامت ہے۔ شاعر یہ مانتا ہے کہ اس کی شاعری میں جو کمی اور خشکی ہے، وہ صرف خدائی کرم سے ہی دور ہو سکتی ہے۔ اس شعر میں بندے کی عاجزی، خدا پر مکمل انحصار اور دعا کا انداز نمایاں ہے۔

اس شعر میں شاعر اس حقیقت کا اعتراف کرتا ہے کہ ہر قسم کا فیض، علم اور کمال اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ شاعر خود کو “گمنام” کہہ کر اپنی عاجزی ظاہر کرتا ہے اور اللہ سے التجا کرتا ہے کہ اگر وہ ایک لمحے کے لیے بھی اس پر توجہ فرما دے تو اس کے بیان میں ایسا اعجاز پیدا ہو جائے کہ وہ ادب میں ہمیشہ کے لیے ثبت ہو جائے۔ یہاں شاعر شہرت کا طالب نہیں بلکہ فنی کمال کا طلبگار ہے، جو صرف خدائی توجہ سے ممکن ہے۔

اس شعر میں “مہر” سے مراد سورج ہے جو خدائی نور کی علامت ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جب تک اس کے قلم کو اللہ کے نور اور تائید کی روشنی حاصل نہیں ہوگی، اس کی شاعری کی سلطنت قائم نہیں رہ سکتی۔ “اقلیمِ سخن” سے مراد شاعری کی دنیا ہے اور “قلم رو” سے مراد شاعر کی تخلیقی حکومت۔ شاعر اس شعر میں یہ واضح کرتا ہے کہ فن کی اصل طاقت انسان کی ذات میں نہیں بلکہ خدا کی عطا میں ہے۔

اس شعر میں شاعر پوری کائنات کو ایک باغ قرار دیتا ہے جس میں اللہ کے فیض کے چشمے مسلسل بہہ رہے ہیں۔ بلبل کی شکر گزاری اس بات کی علامت ہے کہ قدرت کی ہر مخلوق اپنے خالق کی نعمتوں کا اعتراف کرتی ہے۔ شاعر یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ اللہ کی رحمت عام ہے، ہر طرف موجود ہے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ کون اس سے فائدہ اٹھاتا ہے۔

یہاں شاعر کہتا ہے کہ جب اللہ کی عطا سے ہر درخت پھل دار ہو سکتا ہے تو پھر ہماری محنت، عبادت اور ریاضت کیوں بے ثمر رہے؟ شاعر اپنی محنت کا حوالہ دے کر خدا سے انصاف اور فضل کی درخواست کرتا ہے۔ اس شعر میں امید، دعا اور اعتماد جھلکتا ہے کہ خدا محنت ضائع نہیں کرتا۔

اس شعر میں شاعر اس خواہش کا اظہار کرتا ہے کہ اگر اللہ کی خاص عنایت شامل ہو جائے تو اس کی فطری صلاحیتیں ایسے نادر خیالات اور معانی پیدا کریں گی جن کی خوشبو تک بڑے بڑے شاعر بھی محسوس نہ کر سکے ہوں۔ “چمنِ طبع” شاعر کی ذہنی و فکری دنیا ہے اور نایاب پھول اعلیٰ تخلیقی مضامین کی علامت ہیں۔

یہاں شاعر اپنے فنی اعتماد کا اظہار کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اگر خدا اس کی مدد کرے تو وہ معمولی چیز کو عظمت عطا کر سکتا ہے۔ چشمے کو سمندر سے ملانا اور قطرے کو گوہر بنانا اس بات کی علامت ہے کہ شاعر معمولی خیال کو عظیم معنی میں بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے، بشرطیکہ خدائی توفیق شامل ہو۔

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اگر خدا کی مدد حاصل ہو تو وہ ذرے کو سورج جیسی روشنی دے سکتا ہے اور کانٹوں کو نرم و نازک پھولوں میں بدل سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ شاعر سخت، تلخ اور معمولی موضوعات کو بھی حسن، نرمی اور تاثیر عطا کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔

اس شعر میں میر انیس اپنی فنی انفرادیت بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ معانی کے گلدستے کو نئے اسلوب سے ترتیب دے سکتے ہیں اور ایک ہی مضمون کو مختلف پہلوؤں، رنگوں اور انداز میں پیش کر سکتے ہیں۔ یہ شعر میر انیس کی تخلیقی وسعت اور فنی مہارت کا اعلان ہے۔

یہاں شاعر کہتا ہے کہ اگر لکھتے وقت اللہ کی توجہ حاصل ہو جائے تو وہ جنت کے مناظر کو اس طرح الفاظ میں کھینچ سکتا ہے کہ پڑھنے والا اسے اپنی آنکھوں کے سامنے محسوس کرے۔ اس شعر میں تخیل کی بلندی اور خدائی تائید کی اہمیت واضح ہے۔

اس شعر میں میر انیس حضرت علیؑ کو پکار رہے ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ جو تائید، مدد اور قوت اسے حاصل ہے، وہ حضرت علیؑ کی روحانی نصرت کا نتیجہ ہے۔ “حیدرِ صفدر” حضرت علیؑ کا لقب ہے، جو شجاعت، قوت اور حق کی علامت ہے۔ شاعر یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کی شاعری میں جو جلال، قوت اور استقامت ہے، وہ علیؑ کی نسبت اور ان کی مدد کا فیض ہے، نہ کہ محض ذاتی صلاحیت۔

یہاں شاعر حضرت علیؑ کی سخاوت اور کرم کا ذکر کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ جس طرح اللہ کا کرم عام ہے، اسی طرح علیؑ کی عنایت بھی ہر سچے طالب کے لیے عام ہے۔ شاعر اس شعر میں اہلِ بیتؑ سے اپنی عقیدت اور وابستگی کا اظہار کرتا ہے اور یہ بتاتا ہے کہ اس کی روحانی قوت کا سرچشمہ یہی نسبت ہے۔

اس شعر میں شاعر اپنے روحانی اعتماد اور حوصلے کا اظہار کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ حضرت علیؑ کی برکت سے وہ اکیلا ہو کر بھی دشمنوں کے مقابل کھڑا ہو سکتا ہے۔ “شمشیر بکف” حق کے لیے جدوجہد کی علامت ہے۔ شاعر یہ بتانا چاہتا ہے کہ اہلِ حق کو تعداد کی نہیں، حقانیت اور روحانی طاقت کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس شعر میں شاعر زمانے کی ناقدری پر گفتگو کرتا ہے، مگر ساتھ ہی یہ بھی کہتا ہے کہ اسے اس دنیا کی بے قدری کی شکایت نہیں، کیونکہ یہ دنیا باطل ہے اور اس کی حقیقت عارضی ہے۔ شاعر دنیاوی بے اعتنائی کو معمولی سمجھتا ہے اور حق و صداقت کو اصل معیار قرار دیتا ہے۔

یہاں شاعر زمانے کی اخلاقی گراوٹ کا شکوہ کرتا ہے۔ گل اور بلبل، جو محبت اور حسن کی علامت تھے، اب ان میں بھی خلوص باقی نہیں رہا۔ شاعر کہتا ہے کہ ایسے ماحول میں وہ خود کو بے اثر اور بے معنی محسوس کرتا ہے، کیونکہ کسی کی روح کو اس سے راحت نہیں پہنچتی۔

اس شعر میں شاعر اپنے عہد کی سماجی تصویر پیش کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ دنیا آلودہ ہو چکی ہے، دلوں سے صفائی ختم ہو گئی ہے۔ ہر چیز موجود ہے، دولت، طاقت اور علم، مگر انصاف ناپید ہے۔ یہ شعر شاعر کی گہری سماجی بصیرت اور اصلاحی فکر کو ظاہر کرتا ہے۔

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ دنیا میں اچھے اور برے میں تمیز باقی نہیں رہی۔ “عارف” سے مراد صاحبِ بصیرت انسان ہے، جو کبھی جان بوجھ کر حقیقت سے آنکھ نہیں چراتا۔ شاعر اس بات پر افسوس کرتا ہے کہ لوگ دانستہ حق و باطل کی پہچان چھوڑ چکے ہیں۔

یہاں شاعر ادبی ناقدری کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ لوگ پھول کی قدر چھوڑ کر کانٹوں کو ترجیح دینے لگے ہیں اور خوش آوازی یا حسنِ کلام کی تعریف نہیں کرتے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اعلیٰ ادب اور فن کی قدر اس زمانے میں باقی نہیں رہی۔

اس شعر میں شاعر اہلِ دل کی کیفیت بیان کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اگرچہ ان کے دل ٹوٹ چکے ہیں، مگر وہ خاموش ہیں۔ ان کا درد اتنا شدید ہے کہ آنسو خود بخود بہنے لگتے ہیں۔ یہ شعر داخلی کرب اور ضبطِ نفس کی عمدہ تصویر ہے۔

یہاں شاعر معاشرتی اقدار کی الٹ پھیر بیان کرتا ہے۔ لوگ ہیرے کو چھوڑ کر مٹی کے کھلونے کو بہتر سمجھتے ہیں۔ اصل قدر کو گھٹا کر ظاہر داری کو بڑھایا جاتا ہے۔ یہ شعر سماج کی فکری پستی پر گہرا طنز ہے۔

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اندھیر نگری کا یہ عالم ہے کہ لوگ مصنوعی چیز کو اصل نور سمجھ لیتے ہیں اور حضرت علیؑ کے درِ نجف جیسے قیمتی روحانی مرکز کو بھلا دیتے ہیں۔ یہ شعر دین سے دوری اور ظاہر پرستی کی مذمت کرتا ہے۔

یہاں شاعر کہتا ہے کہ ادب اور سخن کے بیش قیمت جواہر ضائع ہو رہے ہیں۔ لوگ اعلیٰ شاعری اور گہرے معانی کو نظرانداز کر کے انہیں مٹی میں ملا دیتے ہیں۔ یہ شعر ادبی ناقدری کا انتہائی دردناک اظہار ہے۔

اس شعر میں شاعر ماضی کو یاد کرتا ہے جب ادب کے قدر دان موجود تھے۔ وہ سوال کرتا ہے کہ وہ اہلِ ذوق کہاں چلے گئے جو ہمیشہ اچھے سخن کے طلبگار رہتے تھے۔ یہ شعر حسرت اور افسوس سے بھرپور ہے۔

یہاں شاعر کہتا ہے کہ اب نہ قدر دان باقی رہے، نہ پہچاننے والے، نہ خریدنے والے۔ ایسی صورت میں وہ اپنے بیش قیمت کلام کو کس کے سامنے پیش کرے؟ یہ شعر شاعر کی تنہائی اور مایوسی کی عکاسی کرتا ہے۔

اس شعر میں میر انیس اپنے عہد کی بدقسمتی پر گہرا افسوس ظاہر کرتے ہیں۔ “ملکِ عدم” سے مراد وہ عالم ہے جہاں انسان کی روح پیدائش سے پہلے ہوتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ ہم ایسے زمانے میں دنیا میں آئے ہیں جب ادب، علم اور اعلیٰ سخن کا بازار ویران ہو چکا تھا۔ جو لوگ اچھی شاعری کے قدر دان تھے، وہ پہلے ہی دنیا سے رخصت ہو چکے تھے۔ گویا شاعر کا زمانہ ایسا ہے جہاں اعلیٰ کلام کی نہ مانگ ہے اور نہ پہچان۔ یہ شعر شاعر کی محرومی، تنہائی اور عہد کی ناقدری کا نہایت دردناک نوحہ ہے۔

اس شعر میں شاعر دنیا سے مایوسی کے بعد خدا اور رسول ﷺ کی بارگاہ کا سہارا لیتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اگرچہ آج دنیا میں کوئی ایسا شخص نہیں جو قوتِ سخن، یعنی اعلیٰ شاعری اور فکر کی قدر کرے، مگر اسے اس بات کا اطمینان ہے کہ اللہ اور رسول ﷺ کی بارگاہ موجود ہے۔ “صاحبِ معراج” سے مراد حضور اکرم ﷺ ہیں۔ شاعر یہ واضح کرتا ہے کہ دنیاوی بے قدری اس کے لیے نقصان دہ نہیں، کیونکہ اس کا اصل مخاطب خدا اور رسول ﷺ ہیں۔

یہ شعر خالصتاً عقیدت اور توکل پر مبنی ہے۔ شاعر اللہ تعالیٰ کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ اے اس کائنات کو پیدا کرنے والے، تو ساری مخلوق کا سردار ہے۔ تیری قدرت یہ ہے کہ تو ایک لمحے میں محتاج کو غنی بنا سکتا ہے۔ اس شعر میں شاعر یہ اقرار کرتا ہے کہ عزت، دولت، قبولیت اور کامیابی سب اللہ کے اختیار میں ہیں، انسان کی کوشش اس کے اذن کے بغیر بے معنی ہے۔

اس شعر میں میر انیس اپنے عقیدے اور فکری وابستگی کو پوری وضاحت کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میری تمام امیدیں اسی در سے وابستہ ہیں، یعنی اللہ اور اہلِ بیتؑ کے در سے۔ اسی کو وہ اپنا وسیلہ سمجھتے ہیں۔ دنیاوی مال و دولت کے مقابلے میں یہی ان کی اصل دولت ہے اور یہی ان کے روحانی سفر کا زادِ راہ ہے۔ اس شعر میں شاعر کی زہد، قناعت اور دینی وابستگی نمایاں طور پر سامنے آتی ہے۔

یہاں شاعر اپنی سابقہ باتوں پر خود احتسابی کرتا ہے۔ وہ اعتراف کرتا ہے کہ جوشِ عقیدت اور جذبے کی شدت میں اس نے کچھ ایسے دعوے کر دیے جو مناسب نہ تھے۔ اب وہ خود شرمندہ ہے اور حیران ہے کہ اس نے یہ سب کیسے کہہ دیا۔ یہ شعر شاعر کی انکساری، خود آگاہی اور اخلاقی بلندی کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنی غلطی کو تسلیم کرنے میں عار محسوس نہیں کرتا۔

اس شعر میں شاعر اپنی خطا کو مزید واضح کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ میں نے ایک معمولی چیز کو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کر دیا، گویا ایک قطرے کو دریا بنا دیا۔ یہ دراصل اپنی شاعری یا دعوے کی طرف اشارہ ہے۔ شاعر خدا سے معافی مانگتا ہے اور اقرار کرتا ہے کہ اس سے بے جا مبالغہ ہو گیا۔ یہ شعر مرثیے میں انکساری اور عاجزی کا انتہائی خوبصورت نمونہ ہے۔

اس شعر میں شاعر اپنی وضاحت پیش کرتا ہے۔ وہ مانتا ہے کہ اس حد تک تعلّی یا خودنمائی درست نہ تھی، مگر ساتھ ہی یہ بھی کہتا ہے کہ یہ تعلّی دراصل اس کے دل کے دکھوں اور اندرونی تکلیف کا علاج تھی۔ “کلیجے کے پھپھولے” سے مراد وہ درد اور غم ہے جو دل میں جمع ہو چکا تھا۔ اس شعر میں شاعر کی نفسیاتی کیفیت اور جذباتی دباؤ نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے۔

یہاں شاعر خود کو “مجرم” کہہ کر انتہائی عاجزی کا اظہار کرتا ہے، مگر ساتھ ہی یہ وضاحت بھی دیتا ہے کہ اس نے کبھی دانستہ ایسی خطا نہیں کی جس سے گستاخی لازم آئے۔ وہ کہتا ہے کہ اس نے کبھی اپنی ذات کی تعریف یا خودستائی نہیں کی۔ اس شعر میں شاعر اپنی نیت کی پاکیزگی اور اخلاص کو واضح کرتا ہے۔

اس شعر میں میر انیس فخر کے ساتھ اپنے ادبی اور اخلاقی اصول بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے کبھی دل سے حکمرانوں اور امیروں کی خوشامد نہیں کی، نہ ہی جاہل لوگوں کے سطحی کلام کی تقلید کی۔ ان کی شاعری نہ لالچ پر مبنی ہے اور نہ جہالت پر، بلکہ اصول، وقار اور حق پسندی پر قائم ہے۔

آخری شعر میں مرثیے کا فکری اور روحانی نقطۂ عروج سامنے آتا ہے۔ میر انیس اعلان کرتے ہیں کہ انہیں کسی دنیاوی چیز پر ناز نہیں، بلکہ امامِ ازلی یعنی حضرت علیؑ کی محبت پر فخر ہے۔ وہ صاف طور پر کہتے ہیں کہ اگر ان کے کلام میں کہیں بلند آہنگی، جلال یا خود اعتمادی نظر آتی ہے تو وہ سب حضرت علیؑ کی نسبت اور حمایت کا فیض ہے۔ اس شعر پر مرثیہ اپنے اعتقادی، فکری اور روحانی اختتام کو پہنچتا ہے۔

جواب ۔  میر انیس کا پورا نام میر ببر علی انیس ہے۔

جواب ۔  مرثیے کی تمہید کو چہرہ یا تمہیدِ مرثیہ کہا جاتا ہے، جس میں شاعر دعا، حمد، نعت یا فکری گفتگو کرتا ہے۔

جواب ۔  میر انیس کے مشہور ہم عصر شاعر مرزا سلامت علی دبیر تھے۔

جواب ۔  اردو کے پہلے مرثیے کا نام مثنوی نوسرباز ہے، جو سید شاہ اشرف بیابانی نے لکھی۔

جواب ۔  مرثیہ عربی لفظ رِثاء سے مشتق ہے، جس کے معنی ہیں کسی کے غم میں نوحہ یا اظہارِ افسوس۔

جواب ۔  میر انیس کا تعلق دبستانِ لکھنؤ سے ہے۔

جواب ۔  جی ہاں، میر انیس کے والد میر ستحسن خلیق مشہور مثنوی نگار تھے۔

مرثیہ کے اجزائے ترکیبی میں عام طور پر چند بنیادی عناصر شامل ہوتے ہیں۔ سب سے پہلے تمہید یا مقدمہ ہوتا ہے جس میں شاعر کی عقیدت، دعا یا حمد شامل ہوتی ہے۔ اس کے بعد بیانیہ حصہ آتا ہے جس میں واقعے کی تفصیل بیان کی جاتی ہے، مثلاً شہداء یا مصائب اہلِ بیتؑ کے حالات۔ اس کے بعد اظہار غم اور نوحہ آتا ہے، جہاں شاعر جذبات اور احساسات کے ذریعے دکھ و الم کا اظہار کرتا ہے۔ آخر میں مرثیہ کا اختتام عموماً تعلیمی یا روحانی نتیجہ سے ہوتا ہے، جس میں شاعر اخلاقی سبق، عقیدت یا توکل کی بات کرتا ہے۔

مرثیہ گو شاعر مریے میں مسدس کی طرز تحریر سے کام لینا چاہتے ہیں۔ مسدس کی طرز میں ہر شعر چھ مصرعوں پر مشتمل ہوتا ہے اور اس میں ردیف اور قافیہ کی پابندی رہتی ہے۔ میر انیس کے بعد کے مرثیہ گووں نے اسی طرز کو اپنا کر مراثی کو زیادہ مؤثر اور منظم انداز میں پیش کیا۔ اس طرز میں شاعر جذبات کو خوبصورتی اور فنی مہارت کے ساتھ بیان کر سکتا ہے۔

انیس درج بالا مصرع کیوں رقم کرتے ہیں؟ اپنے سبق کے حوالے سے جواب دیں۔
جواب ۔  میر انیس یہ مصرع اس لیے رقم کرتے ہیں کیونکہ وہ اپنے عہد کی سماجی و اخلاقی کیفیت کا اظہار کرنا چاہتے ہیں۔ سبق کے مطابق، وہ بتاتے ہیں کہ اس زمانے میں دولت، علم، طاقت سب کچھ موجود ہے، لیکن انصاف اور اخلاقی اقدار ناپید ہیں۔ اس مصرع کے ذریعے وہ قارئین کو شعور دلاتے ہیں کہ معاشرتی ناانصافی اور اخلاقی پستی کے باوجود حق اور سچائی کی قدر کو ہمیشہ قائم رکھنا چاہیے۔

اک پھول کا مضموں ہو، تو سب رنگ سے باندھوں
یا رب چمنِ نظم کو گلزارِ ارم کر
اس عہد میں سب کچھ ہے، پر انصاف نہیں ہے

یہ قول مکمل طور پر قبول کیا جا سکتا ہے۔ میر انیس نے مرثیہ گوئی میں اپنی تخلیقی صلاحیت، فنی مہارت اور جذباتی گہرائی کے ذریعے صنف کو نہایت بلند مقام تک پہنچایا۔ انیس نے نہ صرف واقعہ طرازی میں مہارت دکھائی بلکہ اسلوب، محاورہ اور لکھنوی بول چال کے استعمال سے اپنے کلام کو عوام اور خواص دونوں کے لیے قابلِ قبول بنایا۔ انیس نے مرثیہ میں مسدس کی طرز کو جدید انداز سے اپنایا، جس سے مراثی میں نظم و ضبط اور روانی پیدا ہوئی۔ انہوں نے کربلا کے واقعات کو نہایت دل کش اور اثر انگیز انداز میں بیان کیا، اور اس طرح اردو ادب میں مرثیہ گوئی کو معراج تک پہنچایا۔ اس کے برعکس، کوئی دلیل نہیں ہے جو اس مقام کو رد کرے کیونکہ بعد میں آنے والے مرثیہ گووں نے بھی انیس کے اسلوب اور فنی معیار کو بنیاد بنایا۔

مرثیہ، بنیادی طور پر اہلِ بیتؑ اور کربلا کے واقعات پر مبنی تھا اور مذہبی جذبات سے جڑا ہوا تھا۔ لیکن وقت کے ساتھ سماجی، ثقافتی اور ادبی ماحول بدل گیا۔ لکھنو کے سیاسی زوال، فوجی اور معاشرتی انتشار، اور نوابوں و اشرافیہ کی دلچسپی میں کمی کی وجہ سے مرثیہ کی روایت کمزور پڑ گئی۔ ساتھ ہی عوامی ذوق میں بھی تبدیلی آئی، لوگ مزاح، داستان اور دیگر صنفوں کی طرف متوجہ ہوئے۔ اس کے علاوہ، تعلیم اور ادبی تربیت کے نئے رجحانات نے بھی مرثیہ گوئی کو محدود کر دیا۔ اس لیے مذہبی موضوع اور تاریخی اہمیت کے باوجود، صنف زوال پذیر ہوئی کیونکہ اس کے لیے مناسب پلیٹ فارم اور سرپرستی میسر نہ رہی۔

میر انیس کی منظر نگاری اردو مرثیہ میں ایک انوکھا مقام رکھتی ہے۔ وہ مرثیہ میں صرف غم بیان نہیں کرتے بلکہ ہر منظر کو جاندار اور متحرک انداز میں پیش کرتے ہیں۔ انیس کی شاعری میں چمن، گل، بلبل اور چشمے عام ہیں، مگر ان کے استعمال میں فنی جمالیات، رنگوں اور خوشبو کے تاثر بھی شامل ہوتا ہے۔ وہ ایک منظر کو یوں بیان کرتے ہیں کہ قاری خود اس میں موجود محسوس کرے۔ کربلا کے واقعات، شہداء کی قربانی، اور مصائب اہلِ بیت کے مناظر وہ انتہائی تفصیل کے ساتھ پیش کرتے ہیں، تاکہ ہر واقعہ قاری کے دل پر اثر انداز ہو۔ ان کی منظر نگاری میں محاوروں، لکھنوی زبان اور سلیقے سے ترتیب دی گئی تشبیہات کا بھرپور استعمال ہوتا ہے، جو ان کی مرثیہ گوئی کو زندہ اور یادگار بناتا ہے۔

گلدستۂ معنی کو نئے ڈھنگ سے باندھوں
اک پھول کا مضموں ہو تو سو رنگ سے باندھوں

اس شعر میں میر انیس کلام کی فن کاری اور معانی کے حسن کو بیان کر رہے ہیں۔ “گلدستۂ معنی” سے مراد شعر یا مرثیہ میں استعمال ہونے والے معنوی اور فکری جواہر ہیں، جنہیں شاعر ایک خوبصورت گلدستے کی طرح پیش کرتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں ان معانی کو نئے انداز اور منفرد تخلیقی ہنر سے باندھوں گا، یعنی اسے نئی ترتیب، رنگ اور جمالیاتی حسن کے ساتھ پیش کروں گا۔ دوسرے مصرع میں وہ کہتے ہیں کہ اگر ایک پھول، یعنی ایک موضوع یا خیال کا بیان ہو، تو میں اسے اتنے رنگوں اور انداز میں پیش کروں گا کہ یہ نہایت دلکش اور مکمل محسوس ہو۔ اس شعر میں فنِ مرثیہ کے تخلیقی حسن، شاعر کی فنی مہارت اور اظہار کی وسعت واضح ہوتی ہے۔

چمن – یہ لفظ مؤنث ہے۔ مثال ۔  چمن میں بہار کے پھول کھل آئے ہیں۔

چشمہ – یہ لفظ مذکر ہے۔ مثال ۔  چشمہ پہاڑ کے کنارے سے بہہ رہا ہے۔

سمندر – یہ لفظ مذکر ہے۔ مثال ۔  سمندر کی لہریں طوفان میں بلند ہو گئی ہیں۔

بلبل – یہ لفظ مذکر ہے۔ مثال ۔  بلبل نے صبح کے وقت خوبصورت نغمہ گایا۔

مٹی – یہ لفظ مؤنث ہے۔ مثال ۔  مٹی کی خوشبو بارش کے بعد بہت دلکش ہوتی ہے۔

آب و ہوا – یہ لفظ مؤنث ہے۔ مثال ۔  آب و ہوا آج خوشگوار ہے۔

جوش – یہ لفظ مذکر ہے۔ مثال ۔  شاعر کے دل میں جذبے کا جوش تھا۔

شمشیر – یہ لفظ مذکر ہے۔ مثال ۔  فوجی نے اپنی شمشیر تیار کر لی۔

رب – خدا، معبود
پھل – میوہ، ثمر
شمشیر – تلوار، خنجر
عنایت – کرم، فضل
فلک – آسمان، گگن

صاحب – واحد ہے، جمع ۔  صاحبان
عام – واحد ہے، جمع ۔  عوام
اطراف – جمع ہے، واحد ۔  طرف
روح – واحد ہے، جمع ۔  ارواح
حکام – جمع ہے، واحد ۔  حاکم
علما – جمع ہے، واحد ۔  عالم
خلق – جمع ہے، واحد ۔  خَلقہ یا خلقہ
تصاویر – جمع ہے، واحد ۔  تصویر
حال – واحد ہے، جمع ۔  احوال

This post provides a comprehensive summary of Marsiya in Urdu literature, its history, evolution, and the life and contributions of Meer Anees, the greatest Urdu Marsiya poet. It covers the origins of marsiya, its thematic focus on the martyrdom of Imam Hussain and the Ahl-e-Bayt, the adoption of the musaddas style, and Lucknow as its cultural center. The post also explains Meer Anees’s biography, poetic style, thematic concerns, spiritual devotion, and his mastery in creating vivid, emotional, and morally instructive poetic imagery. Additionally, it includes objective questions, explanations of literary terms, and exercises on grammar, word gender, synonyms, and singular-plural forms.

Scroll to Top