ذیل میں سبق خود نوشت اور احسان دانش کا جامع خلاصہ پیش کیا جا رہا ہے ۔
خود نوشت یا آپ بیتی سوانح نگاری کی وہ صنف ہے جس میں مصنف اپنی زندگی کے حالات خود قلم بند کرتا ہے ۔ اس صنف کی اہمیت اس وجہ سے زیادہ ہے کہ لکھنے والا اپنی زندگی کے نشیب و فراز، تجربات، کامیابیوں اور ناکامیوں کو براہِ راست بیان کرتا ہے ۔ اگر مصنف ایمانداری، احتیاط اور ذمہ داری کے ساتھ آپ بیتی لکھے تو وہ ایک مستند دستاویز بن جاتی ہے، لیکن اگر مبالغہ، مصلحت یا خود ستائی شامل ہو جائے تو خود نوشت کی وقعت کم ہو جاتی ہے ۔ ایک اچھی خود نوشت میں نہ صرف ذاتی زندگی کے حالات بلکہ ان اسباب و عوامل کی وضاحت بھی ضروری ہوتی ہے جن کی وجہ سے زندگی میں تبدیلیاں آتی رہتی ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنے عہد کے حالات، واقعات اور اہم شخصیات کے بارے میں تاثرات بھی خود نوشت کا لازمی حصہ سمجھے جاتے ہیں ۔
اردو ادب میں خود نوشتوں کی روایت ابتدا ہی سے موجود ہے ۔ مولانا جعفر تھانیسری کی کالا پانی کو اردو کی پہلی خود نوشت تسلیم کیا جاتا ہے جو 1923 میں شائع ہوئی ۔ سر رضا علی کی اعمال نامہ بھی ابتدائی خود نوشتوں میں شمار ہوتی ہے ۔ بعد کے زمانے میں شعرا، ادبا اور ناول نگاروں نے اس صنف کو فروغ دیا ۔ جوش ملیح آبادی کی یادوں کی برات، اختر الایمان کی اس آباد خرابے میں ، تکلم عاجز کی ابھی سن لو مجھ سے اور احسان دانش کی جہانِ دانش نمایاں خود نوشتیں ہیں ۔ خواتین میں ادا جعفری، عصمت چغتائی، بیگم حمیدہ اختر اور بیگم انیس قدوائی کی خود نوشتوں نے بھی خاص شہرت حاصل کی ۔ رشید احمد صدیقی اور مشتاق احمد یوسفی نے منفرد اسلوب میں آپ بیتیاں لکھیں جن میں طنز و مزاح نمایاں ہے ۔
احسان دانش اردو ادب کی ایک اہم اور منفرد شخصیت ہیں ۔ ان کا اصل نام احسان الحق اور تخلص دانش تھا ۔ وہ 1914 میں قصبہ کاندھلہ میں پیدا ہوئے ۔ ان کا تعلق ایک ایسے گھرانے سے تھا جو کبھی علمی و سماجی اعتبار سے ممتاز تھا، لیکن وقت کے ساتھ شدید غربت کا شکار ہو گیا ۔ احسان دانش نے صرف چوتھی جماعت تک باقاعدہ تعلیم حاصل کی، مگر ذاتی محنت، مطالعے اور اساتذہ کی صحبت سے عربی و فارسی میں مہارت حاصل کی ۔ کم عمری میں مزدوری کرنا ان کی زندگی کی مجبوری تھی، انہوں نے اینٹ ڈھونے، معماری، باغبانی، رنگ سازی اور دیگر محنت طلب کام کیے، لیکن علم و ادب سے رشتہ کبھی نہیں ٹوٹا ۔
لاہور آ کر انہوں نے سخت جدوجہد کے باوجود مطالعہ جاری رکھا اور بالآخر مکتبہ دانش کے نام سے اپنا ذاتی کتب خانہ قائم کیا ۔ شاعری کا شوق انہیں قاضی محمد ذکی کی صحبت سے ملا اور توفیق طاہر کی حوصلہ افزائی سے وہ مشاعروں میں پڑھے ۔ احسان دانش بنیادی طور پر نظم کے شاعر تھے، تاہم انہوں نے نثر اور دیگر اصناف میں بھی نمایاں کام کیا ۔ ان کی تصانیف میں حدیثِ ادب، دردِ زندگی، جہانِ دانش، زخم و مرہم، گورستان، نفیرِ فطرت وغیرہ شامل ہیں ۔ ان کی خود نوشت جہانِ دانش اردو ادب میں محنت، جدوجہد اور سچائی کی ایک زندہ مثال ہے ۔
احسان دانش 1982 میں لاہور میں وفات پا گئے، مگر ان کی زندگی اور تحریریں اس بات کی گواہ ہیں کہ محنت، علم دوستی اور سچائی انسان کو بلند مقام تک پہنچا سکتی ہے ۔
میں یونی ورسٹی میں کا خلاصہ
یہ اقتباس احسان دانش کی خود نوشت کا ایک نہایت اہم اور متاثر کن حصہ ہے، جس میں انہوں نے اپنی محنت، جدوجہد، غربت، علم دوستی اور غیر معمولی حوصلے کو نہایت سادگی اور سچائی کے ساتھ بیان کیا ہے ۔ اس حصے میں احسان دانش اپنی زندگی کے اس دور کا ذکر کرتے ہیں جب وہ پنجاب یونی ورسٹی میں مزدوری کر رہے تھے اور شدید جسمانی مشقت کے باوجود علم سے اپنا رشتہ قائم رکھے ہوئے تھے ۔
احسان دانش ایک معمار محمد اسحاق کے ذریعے مستری بدھو سے ملتے ہیں، جو نہایت دیانت دار، محنتی اور نیک سیرت انسان تھا ۔ مستری بدھو انہیں یونی ورسٹی میں رہٹ پر مزدوری کا کام دلواتا ہے ۔ ابتدا میں احسان دانش کو یہ کام آسان محسوس ہوتا ہے، لیکن جلد ہی انہیں اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ کام بیلوں جیسی سخت مشقت کا تقاضا کرتا ہے ۔ رہٹ کھینچنے کے لیے ہاتھوں اور پیروں سے مسلسل لوہے کے پہیے کو گھمانا پڑتا ہے تاکہ تعمیراتی کام کے لیے پانی مہیا ہو سکے ۔ اس شدید محنت سے ان کا جسم دکھ اور تھکن سے چور ہو جاتا ہے، مگر وہ ہمت نہیں ہارتے ۔ چند دنوں میں وہ اس سخت مشقت کے عادی ہو جاتے ہیں اور اپنے ساتھی مزدور رتا کے ساتھ ڈیوٹی بدل بدل کر کام کرنے لگتے ہیں تاکہ مطالعے کے لیے وقت نکالا جا سکے ۔ اس طرح احسان دانش جسمانی محنت کے ساتھ ساتھ ذہنی اور روحانی تسکین بھی حاصل کرتے ہیں ۔ رتا ایک نیک، معصوم، محنتی اور خوش اخلاق نوجوان تھا جس سے احسان دانش کو گہری ہمدردی اور محبت ہو جاتی ہے ۔ مذہبی فرق کے باوجود دونوں کے درمیان خلوص اور انسانیت کا رشتہ قائم ہو جاتا ہے ۔ بدقسمتی سے رتا شدید بیماری کے باعث انتقال کر جاتا ہے، جس سے احسان دانش کو گہرا صدمہ پہنچتا ہے ۔ اس واقعے کے بعد مزدور اس رہٹ کے کام سے خوف زدہ ہو جاتے ہیں، لیکن احسان دانش تنہا اس ذمہ داری کو قبول کر لیتے ہیں ۔ ٹھیکے دار انہیں ڈبل مزدوری کی پیش کش کرتا ہے، جسے وہ اس شرط پر قبول کرتے ہیں کہ انہیں وقت کی پابندی سے آزاد رکھا جائے ۔ اس طرح وہ اپنی محنت، نظم و ضبط اور ذہانت سے کام کو اس انداز میں انجام دیتے ہیں کہ کسی کو ان کی غیر موجودگی کا احساس بھی نہیں ہوتا، جس سے لوگوں میں ان کے بارے میں طرح طرح کی چہ میگوئیاں ہونے لگتی ہیں ۔
رفتہ رفتہ رہٹ کھینچنا ان کے لیے محض مشقت نہیں بلکہ ورزش بن جاتا ہے، جس سے ان کا جسم مضبوط اور توانا ہو جاتا ہے ۔ بعد میں انہیں ایک ماہر معمار محمد اکبر کے ساتھ لگایا جاتا ہے، جس کی صحبت سے ان کے اندر چھپا ہوا فن کار بیدار ہو جاتا ہے ۔ وہ لکھائی، چھلائی اور مجسمہ سازی میں مہارت حاصل کر لیتے ہیں اور یونی ورسٹی کی عمارت پر ان کا عملی کام آج بھی موجود ہے ۔
وقت گزرنے کے بعد یہی احسان دانش، جو کبھی یونی ورسٹی میں مزدور کی حیثیت سے اینٹیں اور گارا اٹھاتے تھے، اسی یونی ورسٹی میں ممتحن کے طور پر پہچانے جاتے ہیں ۔ یہ لمحہ ان کی زندگی کی جدوجہد، خود اعتمادی اور علم دوستی کی سب سے بڑی مثال بن جاتا ہے ۔ اس اقتباس کے اختتام پر احسان دانش اپنے اس خواب کا اظہار کرتے ہیں کہ وہ ایک مزدور یونی ورسٹی، اعلیٰ درجے کی لائبریری اور علمی ورثہ چھوڑ جانا چاہتے ہیں ۔
یہ خود نوشت کا حصہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مسلسل محنت، علم سے محبت اور مضبوط ارادہ انسان کو ناممکن سے ممکن تک پہنچا سکتا ہے، اور احسان دانش کی زندگی اسی حقیقت کی زندہ مثال ہے ۔
معروضی سوالات
سوال 1 ۔ خود نوشت کیا ہوتی ہے؟
الف) کسی دوسرے کی سوانح
ب) افسانوی کہانی
ج) مصنف کی اپنی زندگی کی کہانی
د) تاریخی ناول
جواب ۔ ج
سوال 2 ۔ احسان دانش کا اصل نام کیا تھا؟
الف) احسان علی
ب) دانش الحق
ج) احسان الحق
د) محمد احسان
جواب ۔ ج
سوال 3 ۔ احسان دانش کی ابتدائی تعلیم کتنی تھی؟
الف) آٹھویں جماعت
ب) دسویں جماعت
ج) چوتھی جماعت
د) بارہویں جماعت
جواب ۔ ج
سوال 4 ۔ احسان دانش کو رہٹ پر کام کی پیش کش کس نے کی؟
الف) محمد اکبر
ب) منشی
ج) مستری بدھو
د) جمعدار
جواب ۔ ج
سوال 5 ۔ رہٹ پر کام کرنے کا اصل مقصد کیا تھا؟
الف) کھیتی باڑی
ب) کنویں سے پانی نکالنا
ج) اینٹیں بنانا
د) بجلی پیدا کرنا
جواب ۔ ب
سوال 6 ۔ احسان دانش کے ساتھی مزدور کا نام کیا تھا؟
الف) اکبر
ب) رتا
ج) بدھو
د) اسحاق
جواب ۔ ب
سوال 7 ۔ رتا کس علاقے کا رہنے والا تھا؟
الف) لاہور
ب) دہلی
ج) راجپوتانہ
د) میرٹھ
جواب ۔ ج
سوال 8 ۔ رتا کی وفات کس وجہ سے ہوئی؟
الف) حادثہ
ب) بخار
ج) خون کے دست
د) زہر خورانی
جواب ۔ ج
سوال 9 ۔ احسان دانش نے رہٹ پر اکیلے کام کرنے کے بدلے کیا شرط رکھی؟
الف) زیادہ مزدوری
ب) چھٹی کا حق
ج) وقت کی پابندی نہ ہو
د) کم کام
جواب ۔ ج
سوال 10 ۔ بعد میں احسان دانش یونی ورسٹی میں کس حیثیت سے پہنچے؟
الف) مزدور
ب) معمار
ج) استاد
د) ممتحن
جواب ۔ د
آپ بتائیے
سوال 1 ۔ معمار کس کو کہتے ہیں؟
جواب ۔
معمار اس شخص کو کہتے ہیں جو عمارت بنانے کا کام کرتا ہے، جیسے اینٹیں چننا، گارا لگانا، دیواریں کھڑی کرنا، پلستر، لکھائی چھلائی اور تعمیر سے متعلق دوسرے کام انجام دینا ۔ معمار عمارت کی مضبوطی اور خوب صورتی دونوں کا ذمہ دار ہوتا ہے ۔
سوال 2 ۔ بدھو کیسا مستری تھا؟
جواب ۔
بدھو نہایت شریف، محنتی اور دیانت دار مستری تھا ۔ وہ ایک سادہ مزاج، خلوص رکھنے والا اور صاحبِ احتیاج انسان تھا ۔ اپنے مزدوروں سے نرمی اور ہمدردی سے پیش آتا تھا اور کام میں ایمانداری کو اہمیت دیتا تھا ۔
سوال 3 ۔ رہٹ پر مزدور کی مزدوری کتنی تھی؟
جواب ۔
رہٹ پر کام کرنے والے مزدور کو بارہ آنے روزانہ مزدوری ملتی تھی، جو اس زمانے کے حساب سے ایک معمولی اجرت تھی ۔
سوال 4 ۔ رہٹ سے کیا مراد ہے؟
جواب ۔
رہٹ ایک ایسا آلہ ہے جو کنویں سے پانی نکالنے کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔ اس میں پہیہ، ڈول اور نالیاں ہوتی ہیں ۔ عام طور پر رہٹ بیلوں سے چلایا جاتا ہے، لیکن اس کہانی میں رہٹ کو انسان اپنے ہاتھوں اور پاؤں کی قوت سے چلاتا ہے ۔
سوال 5 ۔ رتا کون تھا؟
جواب ۔
رتا احسان دانش کا ساتھی مزدور تھا جو رہٹ پر اس کے ساتھ کام کرتا تھا ۔ وہ راجپوتانہ کا رہنے والا، خوب صورت، مضبوط جسم والا، نیک دل، محنتی اور معصوم نوجوان تھا ۔
سوال 6 ۔ احسان دانش نے کس یونی ورسٹی میں مزدور کا کام کیا؟
جواب ۔
احسان دانش نے پنجاب یونی ورسٹی، لاہور میں مزدور کی حیثیت سے کام کیا ۔ وہاں انہوں نے رہٹ چلایا، اینٹیں ڈھوئیں اور بعد میں لکھائی چھلائی کا کام بھی سیکھا ۔
سوال 7 ۔ عام طور پر رہٹ چلانے کا کام کس جانور سے لیا جاتا ہے؟
جواب ۔
عام طور پر رہٹ چلانے کا کام بیل سے لیا جاتا ہے، جو مسلسل چکر لگا کر رہٹ کو گھماتا ہے ۔
سوال 8 ۔ رتا کی نگاہیں ممنونیت سے کیوں جھک گئیں؟
جواب ۔
رتا کی نگاہیں اس لیے ممنونیت سے جھک گئیں کہ احسان دانش نے ہمدردی کے جذبے سے اس کا بوجھ کم کرنے کے لیے خود زیادہ دیر رہٹ کھینچنے کی پیش کش کی، تاکہ رتا کو آرام مل سکے ۔
سوال 9 ۔ ہر تو ٹا کس کو کہتے ہیں؟
جواب ۔
ہر تو ٹا ایک ایسے مضبوط، تندرست اور خوب صورت نوجوان کو کہتے ہیں جو صحت مند جسم اور دلکش چال ڈھال کا مالک ہو ۔ مصنف نے رتا کی جوانی اور مضبوطی بیان کرنے کے لیے یہ لفظ استعمال کیا ہے ۔
سوال 10 ۔ منشی کے لڑکے نے کیوں کام چھوڑ دیا؟
جواب ۔
منشی کے لڑکے نے رہٹ کا کام اس لیے چھوڑ دیا کہ سخت مشقت کے باعث اسے خون کے دست آنے لگے ۔ رتا کی موت کے بعد خوف اور بیماری کی وجہ سے اس کے والد نے بھی اسے کام پر آنے سے روک دیا ۔
مختصر گفتگو
سوال 1 ۔ رہٹ کے پانی سے کون کون سے کام لیے جاتے تھے؟
جواب ۔
رہٹ سے نکالا گیا پانی یونی ورسٹی کی تعمیر میں کئی اہم کاموں کے لیے استعمال ہوتا تھا ۔ اسی پانی سے اینٹیں بھگوئی جاتی تھیں تاکہ وہ مضبوطی سے لگ سکیں، چونا تیار کیا جاتا تھا، دیواروں پر چھڑکاؤ کیا جاتا تھا اور تعمیر کے دیگر مراحل میں جہاں پانی کی ضرورت ہوتی تھی، وہیں یہی پانی کام آتا تھا ۔ اس لیے حوض کا بھرا رہنا بے حد ضروری تھا ۔
سوال 2 ۔ رتّا کی موت کیسے ہوئی؟
جواب ۔
رتّا کی موت رہٹ کی سخت اور مسلسل مشقت کے باعث ہوئی ۔ زیادہ محنت اور کمزور صحت کی وجہ سے اسے خون کے دست آئے، جس سے وہ شدید بیمار ہو گیا اور کچھ ہی دنوں میں انتقال کر گیا ۔ اس طرح سخت مزدوری نے ایک صحت مند نوجوان کی جان لے لی ۔
سوال 3 ۔ احسان دانش اپنی یادگار کے بہ طور کیا چھوڑنا چاہتے تھے؟
جواب ۔
احسان دانش اپنی یادگار کے طور پر اپنی تصانیف کے ساتھ ساتھ ایک اعلیٰ درجے کی لائبریری اور ایک یونی ورسٹی چھوڑنا چاہتے تھے ۔ ان کا خواب تھا کہ علم عام ہو اور مزدور اور عام آدمی بھی تعلیم سے فائدہ اٹھا سکیں۔
سوال 4 ۔ مصنف تکان مٹانے کے لیے کیا ترکیب کرتا ہے؟
جواب ۔
مصنف دن بھر کی سخت مزدوری کے بعد اپنے جسم کی تھکن دور کرنے کے لیے پہلے پورے بدن پر تیل کی مالش کرتا تھا اور اس کے بعد گرم پانی سے غسل کرتا تھا ۔ اس عمل سے اس کی جسمانی تھکن کم ہو جاتی اور وہ خود کو ہلکا اور پرسکون محسوس کرتا تھا ۔
تفصیلی گفتگو
سوال 1 ۔ رتّا نے کام کیسے شروع کیا اور احسان کو ڈھارس کیسے بندھی؟
جواب ۔
رتّا مستری بدھو کے حکم پر رہٹ کے مرقد نما گڑھے میں اتر کر سب سے پہلے کام شروع کرتا ہے ۔ وہ ہاتھوں اور پاؤں کی طاقت سے لوہے کے پہیے کو گھماتا ہے اور رہٹ کو مسلسل چلاتا ہے ۔ احسان دانش یہ منظر دیکھ کر فوراً سمجھ جاتے ہیں کہ یہ کام بیلوں کا نہیں بلکہ انسانوں سے لیا جا رہا ہے، جس سے ان کا حوصلہ پست ہو جاتا ہے ۔ تاہم جب وہ دیکھتے ہیں کہ رتّا بھی عام انسان ہے اور اسی مشقت کو برداشت کر رہا ہے تو ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ اگر دوسرا انسان یہ کام کر سکتا ہے تو وہ بھی کر سکتے ہیں ۔ اسی سوچ سے انہیں ڈھارس بندھتی ہے اور وہ ہمت کر کے رہٹ چلانے پر آمادہ ہو جاتے ہیں ۔
سوال 2 ۔ انسان کے مطالعہ میں رہٹ نے کیسے مدد کی؟ تفصیل سے بیان کیجیے ۔
جواب ۔
احسان دانش کے لیے رہٹ کی مزدوری محض جسمانی مشقت نہیں تھی بلکہ علم حاصل کرنے کا ایک ذریعہ بھی بن گئی ۔ انہوں نے اپنے ساتھی رتّا سے یہ طے کیا کہ دونوں باری باری ایک ایک گھنٹہ رہٹ چلائیں گے ۔ اس ترتیب سے احسان دانش کو دن میں چار گھنٹے مطالعے کے لیے مل جاتے تھے ۔ وہ ان اوقات میں کتابیں پڑھتے، غور و فکر کرتے اور اپنی علمی پیاس بجھاتے ۔ بعض اوقات مطالعہ کرتے ہوئے انہیں نیند بھی آ جاتی تھی، مگر رتّا ان کے آرام کا خیال رکھتا اور رہٹ چلاتا رہتا ۔ اس طرح رہٹ کی مزدوری نے احسان دانش کو وقت کی تنظیم، مطالعے کی عادت اور ذہنی بالیدگی عطا کی، جو آگے چل کر ان کی علمی ترقی کا سبب بنی ۔
سوال 3 ۔ ایک مزدور سے اعلیٰ عہدے تک پہنچنے میں کن باتوں کا دھیان دینا ضروری ہوتا ہے؟ اس خود نوشت کی روشنی میں لکھیے ۔
جواب ۔
اس خود نوشت کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایک مزدور سے اعلیٰ عہدے تک پہنچنے کے لیے سب سے پہلے محنت، صبر اور استقلال ضروری ہے ۔ احسان دانش نے سخت جسمانی مشقت کے باوجود ہمت نہیں ہاری ۔ دوسری اہم بات علم سے محبت ہے؛ انہوں نے مزدوری کے دوران بھی مطالعہ کو ترک نہیں کیا ۔ تیسری بات وقت کی صحیح تقسیم ہے، جس کے ذریعے انہوں نے کام اور مطالعے میں توازن قائم رکھا ۔ چوتھی بات خود اعتمادی اور بلند مقصد ہے، کیونکہ وہ خود کو صرف مزدور نہیں سمجھتے تھے بلکہ علم و ادب کی دنیا میں آگے بڑھنے کا خواب رکھتے تھے ۔ یہی اوصاف انسان کو بلند مقام تک پہنچاتے ہیں ۔
سوال 4 ۔ کن اوصاف کی بنا پر احسان دانش ایک مزدور سے ممتحن کے عہدے پر پہنچے؟ تفصیل سے بتائیے ۔
جواب ۔
احسان دانش کی کامیابی کے پیچھے کئی نمایاں اوصاف کارفرما تھے ۔ سب سے اہم وصف ان کی غیر معمولی محنت اور برداشت تھی، جس کی بدولت وہ رہٹ جیسی سخت مزدوری بھی مسلسل کرتے رہے ۔ دوسرا وصف علم دوستی تھا؛ وہ ہر حالت میں مطالعہ سے وابستہ رہے ۔ تیسرا وصف خود داری اور مقصد سے لگن تھی، جس نے انہیں مایوسی سے بچائے رکھا ۔ چوتھا وصف نظم و ضبط اور وقت کی پابندی تھی، جس کے ذریعے انہوں نے جسمانی مشقت کے ساتھ علمی ترقی بھی جاری رکھی ۔ انہی خوبیوں کے باعث احسان دانش ایک معمولی مزدور سے ترقی کرتے ہوئے اسی یونی ورسٹی میں ممتحن کے عہدے تک پہنچے، جو ان کی جدوجہد اور کردار کی روشن مثال ہے ۔
سوال ۔ اسم کی قسموں کی تعریف کیجیے اور مثالیں اس خود نوشت سے دیجیے ۔
جواب ۔
اسم کی تعریف ۔ اسم وہ لفظ ہے جو کسی شخص، جگہ، چیز، کیفیت یا خیال کے نام کو ظاہر کرے، اسے اسم کہتے ہیں ۔
مثال ۔ احسان، یونی ورسٹی، رہٹ، محنت، موت
اسم کی قسمیں، تعریف اور مثالیں
اسمِ ذات ۔ وہ اسم جو کسی جاندار یا بے جان چیز کا نام ہو اور جسے دیکھا یا چھوا جا سکے، اسمِ ذات کہلاتا ہے ۔
مثال ۔ احسان دانش، مستری بدھو، رتا، یونی ورسٹی، کنواں، رہٹ، حوض
اسمِ کیفیت ۔ وہ اسم جو کسی حالت، صفت، جذبے یا کیفیت کو ظاہر کرے، اسمِ کیفیت کہلاتا ہے ۔
مثال ۔ محنت، غربت، تھکن، بیماری، ہمدردی، ممنونیت، مشقت
اسمِ مصدر ۔ وہ اسم جو کسی کام یا فعل کے کرنے کا نام ہو، اسمِ مصدر کہلاتا ہے ۔
مثال ۔ مطالعہ، مزدوری، محنت کرنا، رہٹ کھینچنا، پڑھنا، کام کرنا
اسمِ جمع ۔ وہ اسم جو ایک سے زیادہ افراد یا چیزوں کے مجموعے کو ظاہر کرے، اسمِ جمع کہلاتا ہے
مثال ۔ مزدور، لوگ، ساتھی، ہمسائے، آنکھیں، بازو
اسمِ معرفہ ۔ وہ اسم جو کسی خاص شخص، جگہ یا چیز کی طرف اشارہ کرے، اسمِ معرفہ کہلاتا ہے ۔
مثال ۔ احسان دانش، مستری بدھو، رتا، پنجاب یونی ورسٹی، لاہور
اسمِ نکرہ ۔ وہ اسم جو کسی عام اور غیر متعین شخص یا چیز کو ظاہر کرے، اسمِ نکرہ کہلاتا ہے ۔
مثال ۔ ایک مزدور، ایک نوجوان، ایک آدمی، ایک لڑکا، ایک مستری
اسمِ مکان ۔ وہ اسم جو کسی جگہ یا مقام کا نام بتائے، اسمِ مکان کہلاتا ہے ۔
مثال ۔ یونی ورسٹی، مسجد، کنواں، حوض، لائبریری، لاہور
سوال ۔ جنس واضح کرتے ہوئے جملے بنائیے ۔
وسیع ، همراه، مسجد، مرقد ، محنت، گہرا، مدد
وسیع – مذکر
جملہ ۔ یہ میدان بہت وسیع ہے
همراه – مذکر
جملہ ۔ میرا همراه میرے ساتھ چل رہا ہے
مسجد – مؤنث
جملہ ۔ وہ ہر جمعہ کو مسجد جاتی ہے
مرقد – مذکر
جملہ ۔ مرقد کے سامنے لوگ دعا پڑھ رہے ہیں
محنت – مؤنث
جملہ ۔ کامیابی صرف محنت سے حاصل ہوتی ہے
گہرا – مذکر
جملہ ۔ کنویں کا پانی بہت گہرا ہے
مدد – مؤنث
جملہ ۔ ہر کسی کو ضرورت پڑنے پر مدد کرنی چاہیے
سوال ۔ اردو میں جمع بنانے کے چار قاعدے کی تعریف مثالوں کے ساتھ لکھیے ۔
اردو میں جمع بنانے کے چار قاعدے درج ذیل ہیں، ہر قاعدے کی تعریف کے ساتھ مثالیں بھی دی جا رہی ہیں ۔
پہلا قاعدہ ۔ سادہ جمع
تعریف ۔ بعض اسماء کے آخر میں صرف “یں” یا “و“ لگا کر جمع بنائی جاتی ہے ۔
مثالیں ۔ لڑکا → لڑکے، کتاب → کتابیں
دوسرا قاعدہ ۔ تبدیلی کے ساتھ جمع
تعریف ۔ بعض اسماء کے آخر کے حرف یا شکل بدل کر جمع بنائی جاتی ہے ۔
مثالیں ۔ مرد → مردان، بچہ → بچے
تیسرا قاعدہ ۔ جمع میں اضافہ کرنا
تعریف ۔ بعض اسماء کے آخر میں “ات” یا “اں” لگا کر جمع بنائی جاتی ہے ۔
مثالیں ۔ عورت → عورتیں، دوست → دوستاں
چوتھا قاعدہ ۔ استثنائی جمع یا غیر معمولی جمع
تعریف ۔ کچھ اسماء کی جمع عام قاعدوں کے مطابق نہیں بنتی اور ان کے لیے مخصوص صورتیں ہیں ۔
مثالیں ۔ آدمی → آدمی، ماں → مائیں، آنکھ → آنکھیں
سوال ۔ درج ذیل محاورات کے معنی واضح کرتے ہوئے جملے بنائیے ۔
دانتوں میں انگلی دبانا، آنکھ بچھانا، بات کو پی جانا، آنسو پی جانا، خاک کا پیوند لگانا
دانتوں میں انگلی دبانا
معنی ۔ کسی سخت تکلیف یا پریشانی کو برداشت کرنا
جملہ ۔ امتحان کے دن اس نے دانتوں میں انگلی دبائی اور پورا دن صبر سے گزارا
آنکھ بچھانا
معنی ۔ کسی کی بہت خدمت کرنا یا اس کا دل خوش کرنے کے لیے زیادہ خیال رکھنا
جملہ ۔ وہ اپنے مہمان کے لیے ہر چیز آنکھ بچھا کر تیار کر رہا تھا
بات کو پی جانا
معنی ۔ بات کو سمجھ لینا یا قبول کر لینا
جملہ ۔ استاد کی نصیحت سن کر احمد نے بات کو پی لیا اور محنت شروع کر دی
آنسو پی جانا
معنی ۔ دکھ یا تکلیف کو برداشت کرنا اور باہر ظاہر نہ کرنا
جملہ ۔ بچی نے اپنی تکلیف چھپائی اور آنسو پی لیے تاکہ والدین کو فکر نہ ہو
خاک کا پیوند لگانا
معنی ۔ کسی کی مرمت یا بہتری کرنا، کسی چیز کو سنوارنا
جملہ ۔ مکین نے پرانی کرسی پر خاک کا پیوند لگایا تاکہ دوبارہ کام آئے
سوال ۔ درج ذیل الفاظ کی ضد بتائیے ۔
گہرا، شب، بیمار، ہلکا، لطیف، تعریف، آشنا
گہرا – اونچا
شب – دن
بیمار – صحت مند
ہلکا – بھاری
لطیف – موٹا یا زبر
تعریف – مذمت
آشنا – اجنبی
This post presents complete Bihar Board Class 12 Kahkashan Chapter 23 solutions on Khud Nawisht (Autobiography), focusing on Ahsan Danish’s life and struggles. It includes a detailed summary of the lesson and the extract Main University Mein, covering themes of hard work, poverty, education, and determination. The post also provides objective questions, short and long Q&A, grammar explanations, gender usage, plural rules, idioms, antonyms, and examples, making it a comprehensive study resource for exam preparation.