شکستِ زنداں کا خواب نظم کا خلاصہ
یہ نظم جوش ملیح آبادی کی انقلابی سوچ اور آزادی کے جذبے کی بھرپور ترجمان ہے۔ شاعر اس نظم میں ہندوستان کی جیل کو استعارہ بنا کر غلامی، ظلم اور استبداد کے نظام کے ٹوٹنے کا خواب پیش کرتا ہے۔ نظم کا آغاز اس تصور سے ہوتا ہے کہ قید خانے کی فضا بدل چکی ہے، تکبیروں کی آوازیں گونج رہی ہیں اور قیدی اپنی زنجیریں توڑنے پر آمادہ ہیں۔ اس سے بیداری، اتحاد اور مزاحمت کا احساس نمایاں ہوتا ہے۔
شاعر بتاتا ہے کہ زندانی دیواروں کے نیچے جمع ہو چکے ہیں، ان کے سینوں میں انقلابی جوش ہے اور آنکھوں میں تلواروں کی سی چمک نظر آتی ہے۔ بھوک اور محرومی نے ان میں بجلی سی طاقت پیدا کر دی ہے، جب کہ ظالموں کی توپیں بے اثر ہوتی جا رہی ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ظلم کے مقابلے میں مظلوموں کا حوصلہ اور عزم زیادہ طاقت ور ہے۔
نظم میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ اقتدار کے ایوان کمزور پڑ چکے ہیں۔ گدا کی آنکھوں میں سرخی اور سلطان کا چہرہ بے نور ہو گیا ہے۔ تعمیر کے نام پر کیے گئے کام سجدے میں گر چکے ہیں اور تخریب، یعنی پرانے ظالمانہ نظام کو توڑنے کی قوت غالب آ گئی ہے۔ شاعر واضح کرتا ہے کہ جن لوگوں نے قوم کی روح کو دبانے کی کوشش کی، انہیں اس بغاوت کا اندازہ نہیں تھا۔
آگے شاعر کہتا ہے کہ جنہوں نے لوگوں کا خون نچوڑا، ان کی خاموشی اور ظلم ایک دن خود ان کے خلاف گواہی بن جائیں گے۔ دبائی گئی آوازیں دہکتی تقریروں کی صورت میں سامنے آئیں گی اور ظلم کے راز کھل کر ظاہر ہوں گے۔
نظم کے اختتام پر شاعر ایک ولولہ انگیز اعلان کرتا ہے کہ زنداں گونج اٹھا ہے، قیدی آزاد ہو گئے ہیں، دیواریں گر چکی ہیں اور زنجیریں ٹوٹ گئی ہیں۔ یوں یہ نظم غلامی کے خاتمے، انقلاب کی کامیابی اور آزادی کی نوید بن کر سامنے آتی ہے۔
تشریح
کیا ہند کا زنداں کانپ رہا ہے گونج رہی ہیں تکبیریں
اکتائے ہیں شاید کچھ قیدی اور توڑ رہے ہیں زنجیریں
اس شعر میں شاعر ایک انقلابی منظر پیش کرتا ہے۔ ہندوستان کی جیل کو غلامی اور ظلم کی علامت بنایا گیا ہے۔ شاعر سوالیہ انداز میں کہتا ہے کہ کیا واقعی قید خانہ کانپ رہا ہے؟ یعنی کیا ظلم کا نظام لرزنے لگا ہے؟ تکبیروں کی گونج اس بات کی علامت ہے کہ قیدیوں میں دینی، اخلاقی اور انقلابی جوش بیدار ہو چکا ہے۔ وہ قیدی جو مدتوں سے ظلم سہہ رہے تھے اب اکتا چکے ہیں اور زنجیریں توڑنے، یعنی بغاوت اور آزادی کی کوشش کر رہے ہیں۔
دیواروں کے نیچے آ آ کر یوں جمع ہوئے ہیں زندانی
سینوں میں تلاطم بجلی کا آنکھوں میں جھلکتی شمشیریں
اس شعر میں قیدیوں کے اتحاد اور عزم کو دکھایا گیا ہے۔ قیدی دیواروں کے نیچے جمع ہو رہے ہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ وہ منظم ہو چکے ہیں۔ ان کے سینوں میں بجلی کی سی تلاطم ہے، یعنی ان کے دلوں میں شدید جوش، غصہ اور انقلاب کی آگ بھڑک رہی ہے۔ آنکھوں میں جھلکتی شمشیریں ان کے عزم، جرأت اور جدوجہد کی علامت ہیں۔
بھوکوں کی نظر میں بجلی ہے توپوں کے دہانے ٹھنڈے ہیں
تقدیر کے لب کو جنبش ہے دم توڑ رہی ہیں تدبیریں
یہاں شاعر مظلوم عوام کی طاقت کو نمایاں کرتا ہے۔ بھوکوں کی آنکھوں میں بجلی ہونے کا مطلب ہے کہ فاقہ کش اور محروم لوگ اب کمزور نہیں رہے بلکہ ان میں زبردست قوت پیدا ہو چکی ہے۔ اس کے مقابلے میں ظالم حکمرانوں کی توپیں بے اثر ہو گئی ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ اب تقدیر بدلنے والی ہے اور ظالموں کی ساری چالیں اور تدبیریں ناکام ہو رہی ہیں۔
آنکھوں میں گدا کی سرخی ہے بے نور ہے چہرہ سلطاں کا
تخریب نے پرچم کھولا ہے سجدے میں پڑی ہیں تعمیریں
اس شعر میں اقتدار کے الٹ پلٹ ہونے کا منظر ہے۔ غریب اور گدا کی آنکھوں میں سرخی ہے، یعنی ان میں جرأت اور بغاوت پیدا ہو چکی ہے، جبکہ سلطان یعنی حکمران کا چہرہ بے نور ہو گیا ہے، جو اس کی کمزوری اور زوال کی علامت ہے۔ تخریب کا پرچم بلند ہونا اس بات کی علامت ہے کہ پرانا ظالمانہ نظام ٹوٹ رہا ہے، جبکہ جھوٹی تعمیرات، یعنی ظلم پر قائم نظام، زمین پر گر چکے ہیں۔
کیا ان کو خبر تھی زیر و زبر رکھتے تھے جو روح ملت کو
ابلیں گے زمیں سے مار سیہ برسیں گی فلک سے شمشیریں
شاعر کہتا ہے کہ جن لوگوں نے قوم کی روح کو کچل رکھا تھا، انہیں اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ ظلم کا ردِعمل اتنا شدید ہو گا۔ زمین سے سیاہ بغاوتیں اٹھیں گی اور آسمان سے تلواروں کی طرح سخت اور فیصلہ کن انقلابی طاقت برسے گی۔ یہ عوامی غصے کے پھٹ پڑنے کا استعارہ ہے۔
کیا ان کو خبر تھی سینوں سے جو خون چرایا کرتے تھے
اک روز اسی بے رنگی سے جھلکیں گی ہزاروں تصویریں
اس شعر میں شاعر ظالموں کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ جو عوام کا خون نچوڑتے تھے، انہیں معلوم نہیں تھا کہ ایک دن یہی دبائی گئی زندگیاں اور قربانیاں ہزاروں تصویروں کی صورت میں سامنے آئیں گی۔ یعنی مظلوموں کی داستانیں تاریخ میں نمایاں ہو جائیں گی اور ظلم چھپ نہ سکے گا۔
کیا ان کو خبر تھی ہونٹوں پر جو قفل لگایا کرتے تھے
اک روز اسی خاموشی سے ٹپکیں گی دہکتی تقریریں
یہ شعر اظہارِ رائے پر پابندی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جنہوں نے لوگوں کے ہونٹوں پر تالے لگا دیے تھے، انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ ایک دن یہی خاموشی انقلابی اور دہکتی تقریروں میں بدل جائے گی۔ دبائی گئی آوازیں زیادہ شدت کے ساتھ ابھریں گی۔
سنبھلو کہ وہ زنداں گونج اٹھا جھپٹو کہ وہ قیدی چھوٹ گئے
اٹھو کہ وہ بیٹھیں دیواریں دوڑو کہ وہ ٹوٹی زنجیریں
یہ نظم کا اختتامی اور سب سے زیادہ ولولہ انگیز شعر ہے۔ شاعر اعلان کرتا ہے کہ قید خانہ گونج اٹھا ہے، قیدی آزاد ہو چکے ہیں، دیواریں گر رہی ہیں اور زنجیریں ٹوٹ چکی ہیں۔ یہ شعر آزادی، انقلاب کی کامیابی اور ظلم کے خاتمے کی علامت ہے۔
آپ بتائیے
سوال 1 ۔ شکستِ زنداں کا خواب کس کی نظم ہے؟
جواب ۔ شکستِ زنداں کا خوابمشہور انقلابی شاعر جوش ملیح آبادیکی نظم ہے۔
سوال 2 ۔ جوش کا اصل نام کیا ہے؟
جواب ۔ جوش ملیح آبادی کا اصل نام شیر حسن خاں تھا۔
سوال 3 ۔ زندانی سے کیا مراد ہے؟
جواب ۔ زندانی سے مراد قیدی ہے، یعنی وہ شخص جو کسی جرم یا سیاسی جدوجہد کی وجہ سے جیل میں بند ہو۔ نظم میں زندانی سے مراد وہ مظلوم عوام ہیں جو غلامی اور ظلم کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔
سوال 4 ۔ جوش کی پانچ تصانیف کے نام بتائیے۔
جواب ۔ جوش ملیح آبادی کی اہم تصانیف میں روحِ ادب، شعله و شبنم، جنون و حکمت، سیف و سبو، یادوں کی برات (خود نوشت) شامل ہیں۔
سوال 5 ۔ شکستِ زنداں کا خواب کی تعبیر کیا ہے؟
جواب ۔ شکستِ زنداں کا خواب کی تعبیر یہ ہے کہ غلامی، ظلم اور جبر کا نظام ٹوٹنے والا ہے۔ قیدی آزاد ہوں گے، زنجیریں ٹوٹیں گی اور قوم آزادی حاصل کرے گی۔ یہ نظم دراصل ہندوستان کی آزادی اور انقلابی بیداری کی علامت ہے۔
سوال 6 ۔ جوش کے ہم عصر تین شعرا کے نام اور ان کے مجموعۂ کلام کے نام لکھیے۔
جواب ۔ جوش ملیح آبادی کے ہم عصر شعرا میں علامہ محمد اقبال شامل ہیں جن کا مجموعۂ کلام بانگِ درا ہے۔
ان کے ایک اور ہم عصر فیض احمد فیض ہیں جن کا مجموعۂ کلام نقشِ فریادی ہے۔
تیسرے ہم عصر شاعر فراق گورکھپوری ہیں جن کا مجموعۂ کلام گلِ نغمہ ہے۔
مختصر گفتگو
سوال 1۔ کیا آپ کو اس بات سے اتفاق ہے کہ شاعر کے تخلص جوش اور ان کے شعری مزاج سے کوئی مناسبت ہے؟
جواب ۔
جی ہاں، اس بات سے مکمل اتفاق کیا جا سکتا ہے کہ شاعر کے تخلص جوش اور ان کے شعری مزاج میں گہری مناسبت پائی جاتی ہے۔ جوش ملیح آبادی کی شاعری میں جوش، ولولہ، انقلابی جذبہ، جرأت اور بے باکی نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔ ان کے اشعار میں غلامی کے خلاف بغاوت، ظلم کے مقابلے میں للکار اور آزادی کے لیے بے قراری صاف جھلکتی ہے۔ وہ صرف الفاظ کے شاعر نہیں بلکہ عمل، احتجاج اور انقلاب کے شاعر ہیں۔ اسی لیے ان کا تخلص ’’جوش‘‘ ان کی شخصیت اور شاعری دونوں کی درست ترجمانی کرتا ہے۔
سوال 2۔ زنداں پر رعشہ طاری ہونا، زنجیروں کا ٹوٹنا، دیواروں کے نیچے قیدیوں کا جمع ہو کر آزادی کا پرچم لہرانے کی تدبیریں کرنا، یہ ساری باتیں کسی تحریک کا پتا دے رہی ہیں؟
جواب ۔
یہ تمام علامات ایک منظم آزادی اور انقلابی تحریک کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ زنداں پر رعشہ طاری ہونا اس بات کی علامت ہے کہ ظلم کا نظام کمزور ہو چکا ہے۔ زنجیروں کا ٹوٹنا غلامی کے خاتمے کی نشانی ہے۔ قیدیوں کا دیواروں کے نیچے جمع ہونا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ عوام میں شعور بیدار ہو چکا ہے اور وہ آزادی کے لیے متحد ہو رہے ہیں۔ آزادی کا پرچم لہرانے کی تدبیریں اس جدوجہد کے عملی مرحلے کو ظاہر کرتی ہیں۔ اس طرح یہ ساری باتیں ہندوستان کی آزادی کی تحریک اور انقلابی بیداری کا واضح پتہ دیتی ہیں۔
سوال 3۔ جب آزادی کے دیوانے، پروانے حرکت میں آ جاتے ہیں تو سلطانِ وقت (قومِ افرنگ) کا چہرہ بے نور کیوں ہو جاتا ہے؟
جواب ۔
جب آزادی کے دیوانے اور پروانے بیدار ہو کر میدانِ عمل میں آ جاتے ہیں تو سلطانِ وقت یعنی قومِ افرنگ کا چہرہ اس لیے بے نور ہو جاتا ہے کہ اس کی طاقت، رعب اور اقتدار خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ غلام قوم کی بیداری ظالم حکمرانوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہوتی ہے۔ جب عوام خوف، خاموشی اور غلامی کو توڑ دیتے ہیں تو ظالم حکمران کے اقتدار کی بنیادیں ہلنے لگتی ہیں۔ اسی خوف، شکست اور بے بسی کو شاعر نے سلطان کے بے نور چہرے کے استعارے سے ظاہر کیا ہے۔
سوال 4 ۔ درج بالا شعر کی تشریح کیجیے
کیا ان کو خبر تھی زیرو زبر رکھتے تھے جو روحِ ملت کو
اُبلیں گے زمیں سے مارِ سیاہ، برسیں گی فلک سے شمشیریں
جواب ۔
ان اشعار میں شاعر ظلم کرنے والوں سے سوال کرتا ہے کہ کیا انھیں یہ اندازہ تھا کہ وہ قوم کی روح کو جس طرح کچل رہے ہیں، اس کا ردِعمل اتنا شدید ہوگا؟ شاعر کہتا ہے کہ جن لوگوں نے ملت کی روح کو دبانے، بدلنے اور مٹانے کی کوشش کی، انھیں خبر نہ تھی کہ ایک دن یہی دبی ہوئی قوت آتش فشاں بن کر پھٹے گی۔ زمین سے ’’مارِ سیاہ‘‘ یعنی خطرناک سانپوں کا اُبلنا عوام کے غصے اور بغاوت کی علامت ہے، جبکہ آسمان سے شمشیروں کا برسنا انقلابی جدوجہد اور مسلح مزاحمت کی علامت ہے۔ شاعر کا مقصد یہ بتانا ہے کہ ظلم زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتا، ایک دن قوم اٹھ کھڑی ہوتی ہے اور ظالم نظام کو تہس نہس کر دیتی ہے۔
مارِ سیاہ کا معنی بتائیے۔
یہاں لفظ مارسیہ نہیں بلکہ مارِ سیاہ استعمال ہوا ہے۔ مارِ سیاہ کے لغوی معنی کالا سانپ ہیں۔ شاعری میں یہ لفظ شدید غصے، خطرناک ردِعمل اور انقلابی قوت کے استعارے کے طور پر آیا ہے۔ شاعر کا مطلب یہ ہے کہ دبائی ہوئی قوم ایک دن خطرناک طاقت بن کر اُبھرے گی۔
ملک اور شمشیر کے مترادف بتائیے۔
لفظ ملک کے مترادف الفاظ وطن، مملکت اور دیس ہیں۔
لفظ شمشیر کے مترادف تلوار، سیف اور تیغ ہیں۔
ملت کو زیرو زبر کون رکھتے تھے؟
ملت کو زیرو زبر ظالم حکمران، استعمار ی طاقتیں اور قومِ افرنگ (انگریز) رکھتے تھے۔ یہ وہ طاقتیں تھیں جو ظلم، جبر اور استحصال کے ذریعے قوم کی آزادی، شناخت اور روح کو دبانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ شاعر انہی طاقتوں کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ وہ قوم کی بیداری کے انجام سے بے خبر تھے۔
تفصیلی گفتگو
سوال 1 ۔ اس نظم کا خلاصہ اپنے الفاظ میں لکھیے۔
جواب ۔
نظم شکستِ زنداں کا خواب جوش ملیح آبادی کی ایک انقلابی نظم ہے جس میں آزادی کی جدوجہد اور غلامی کے خلاف بغاوت کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ شاعر دکھاتا ہے کہ قید خانہ کانپ رہا ہے، زنجیریں ٹوٹ رہی ہیں اور قیدی آزادی کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ یہ نظم اس یقین کا اظہار ہے کہ ظلم و جبر ہمیشہ قائم نہیں رہ سکتا۔ جب قوم بیدار ہو جاتی ہے تو حکمرانوں کی طاقت کمزور پڑ جاتی ہے اور آزادی کی راہ ہموار ہو جاتی ہے۔ نظم میں قیدی دراصل غلام قوم کی علامت ہیں اور زنداں استعمار و ظلم کا استعارہ ہے۔ شاعر کو یقین ہے کہ قربانی، صبر اور جدوجہد کے نتیجے میں آزادی ضرور حاصل ہوتی ہے۔
سوال 2 ۔ جوش کی شاعرانہ خصوصیات پر روشنی ڈالیے۔
جواب ۔
جوش ملیح آبادی اردو کے عظیم انقلابی شاعر ہیں۔ ان کی شاعری میں جوش، ولولہ، للکار اور انقلابی جذبہ نمایاں نظر آتا ہے۔ وہ آزادی، حریت، قومی وقار اور ظلم کے خلاف بغاوت کے شاعر ہیں۔ ان کی زبان شعلہ بیان، پرجوش اور خطیبانہ ہے۔ تشبیہات اور استعارات کا استعمال بڑی قوت کے ساتھ کرتے ہیں۔ جوش کی شاعری میں الفاظ کا زور، جذبے کی شدت اور فکر کی بلندی ملتی ہے۔ وہ قاری کے دل میں حرکت اور بیداری پیدا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا تخلص „جوش“ ان کے مزاج اور شاعری سے پوری طرح مطابقت رکھتا ہے۔
سوال 3 ۔ جب سینوں میں بجلی کا تلاطم اور آنکھوں میں شمشیر بے نیام کی چمک آگئی تو توپوں کے دہانے ٹھنڈے کیوں پڑ گئے؟
جواب ۔
جب غلام قوم کے سینوں میں انقلابی جذبہ بیدار ہو جاتا ہے اور آنکھوں میں قربانی اور جدوجہد کا عزم نظر آنے لگتا ہے تو ظالم حکمرانوں کے ہتھیار بے اثر ہو جاتے ہیں۔ توپیں اور بندوقیں اس وقت کام نہیں آتیں جب عوام خوف سے آزاد ہو جائیں۔ شاعر کا مطلب یہ ہے کہ قوم کی بیداری اور حوصلہ ظلم کی سب سے بڑی طاقت کو بھی ناکارہ بنا دیتا ہے، اسی لیے توپوں کے دہانے ٹھنڈے پڑ گئے۔
سوال 4 ۔ جب زبانوں اور انگلیوں پر تقریر و تحریر کی پابندی لگ گئی تو ایک دن وہ فرنگی بندشوں سے آزاد ہو کر ظالم حکمرانوں کا تختہ پلٹنے کے لیے آمادہ کیسے ہو گئیں؟
جواب ۔
جب کسی قوم پر بولنے، لکھنے اور اظہارِ رائے پر پابندیاں لگا دی جاتی ہیں تو وقتی طور پر خاموشی ضرور چھا جاتی ہے، مگر یہ خاموشی اندر ہی اندر بغاوت کو جنم دیتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ دبائی ہوئی آوازیں ایک دن دہکتی تقریروں میں بدل جاتی ہیں۔ فرنگی حکمران یہ نہ سمجھ سکے کہ جبر قوم کے شعور کو ختم نہیں کرتا بلکہ اسے اور مضبوط بنا دیتا ہے۔ اسی شعور نے آگے چل کر ظلم کے تختے الٹنے کی راہ ہموار کی۔
سوال 5 ۔ پہلے مصرعے کا جزوِاوّل کیا ہند کا زنداں کانپ رہا ہے صرف ہندستان ہی کی تحریک آزادی کی یاد دلا رہا ہے یا مختلف ممالک کی طرف بھی اشارہ کر رہا ہے۔ اس ضمن میں تحریک فرانس، آزادی روس و امریکہ اور دیگر عرب ممالک کی آزادی کے سلسلے میں اپنے اساتذہ سے معلومات فراہم کریں۔
جواب ۔
یہ مصرعہ اگرچہ بظاہر ہندوستان کی تحریکِ آزادی کی طرف اشارہ کرتا ہے، لیکن درحقیقت اس کا مفہوم عالمی ہے۔ شاعر کا اشارہ ہر اس قوم کی طرف ہے جو غلامی میں جکڑی ہوئی تھی۔ فرانس میں 1789ء کا انقلاب ظلم کے خلاف عوامی بغاوت کی مثال ہے۔ روس میں 1917ء کا انقلاب زار شاہی کے خاتمے کا سبب بنا۔ امریکہ نے برطانیہ سے آزادی حاصل کر کے دنیا کو آزادی کا پیغام دیا۔ اسی طرح عرب ممالک نے بھی سامراجی طاقتوں کے خلاف جدوجہد کر کے آزادی حاصل کی۔ اس طرح یہ مصرعہ صرف ہندوستان نہیں بلکہ دنیا بھر کی آزادی کی تحریکوں کی نمائندگی کرتا ہے۔