نظم آوارہ کا خلاصہ
یہ نظم مجاز لکھنوی کے باطنی کرب، تنہائی، بے سمتی اور سماجی بغاوت کا بھرپور اظہار ہے۔ شاعر خود کو ایک آوارہ انسان کے طور پر پیش کرتا ہے جو رات کے وقت جگمگاتی سڑکوں پر بے مقصد گھوم رہا ہے۔ ظاہری طور پر شہر روشن اور پُررونق ہے، مگر شاعر کے دل میں اداسی، بے چینی اور وحشت بسی ہوئی ہے۔ وہ اپنے غمِ دل اور اضطراب کا کوئی حل نہیں پاتا، اسی لیے بار بار فریاد کرتا ہے کہ اے غمِ دل کیا کروں، اے وحشتِ دل کیا کروں۔
نظم میں رات، چراغاں، تارے، چاند اور شہر کی رنگینیاں زندگی کی ظاہری چمک دمک کی علامت ہیں، جبکہ شاعر کے سینے پر رکھی شمشیر اس کے اندرونی دکھ، سماجی جبر اور محرومی کی علامت ہے۔ شاعر محسوس کرتا ہے کہ اس کی کیفیت کو کوئی سمجھنے والا نہیں، نہ کوئی ہم نوا ہے اور نہ ہی کوئی سہارا۔ وہ عشق، شراب، ویرانے اور بغاوت جیسے راستوں پر غور کرتا ہے، مگر ہر طرف اسے رسوائی اور ناکامی نظر آتی ہے۔
نظم میں مفلسی، ظلم، جابرانہ نظام اور طاقت ور حکمرانوں کے خلاف شدید غصہ بھی جھلکتا ہے۔ شاعر کے دل میں بغاوت کی آگ بھڑک اٹھتی ہے اور وہ ظالم سلطنتوں، تخت و تاج اور جبر کے نظام کو توڑ دینے کی خواہش ظاہر کرتا ہے۔ یہ خواہش دراصل ایک حساس اور باشعور فرد کی بے بسی، غصے اور احتجاج کا اظہار ہے۔
مجموعی طور پر آوارہ ایک ایسے انسان کی داستان ہے جو محبت، انصاف، سکون اور مقصدِ حیات کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ یہ نظم مجاز کے رومانوی، انقلابی اور درد مند شعری مزاج کی نمائندہ ہے اور جدید انسان کی تنہائی، بے چینی اور بغاوت کو نہایت مؤثر انداز میں پیش کرتی ہے۔
نظم آوارہ کی تشریح
شہر کی رات اور میں ناشاد و ناکارا پھروں
جگمگاتی جاگتی سڑکوں پہ آوارا پھروں
اس شعر میں شاعر اپنے وجود کو شہر کی رات کے پس منظر میں رکھتا ہے۔ شہر روشن ہے، سڑکیں جگمگا رہی ہیں، زندگی حرکت میں ہے، مگر شاعر خود کو ناکام، غم زدہ اور بے کار محسوس کرتا ہے۔ وہ اسی زندہ اور روشن شہر میں آوارہ بن کر گھوم رہا ہے۔ یہاں شاعر یہ بتانا چاہتا ہے کہ ظاہری چمک دمک اور ترقی انسان کے اندر کے خلا کو نہیں بھر سکتی۔ شاعر کی آوارگی دراصل بے مقصد گھومنا نہیں بلکہ ایک حساس انسان کی داخلی بے چینی اور سماج سے کٹ جانے کا اظہار ہے۔
غیر کی بستی ہے کب تک در بہ در مارا پھروں
اے غمِ دل کیا کروں اے وحشتِ دل کیا کروں
اس شعر میں شاعر شہر کو غیر کی بستی کہہ کر اپنی بیگانگی ظاہر کرتا ہے۔ اسے محسوس ہوتا ہے کہ وہ جہاں رہ رہا ہے وہ اس کا اپنا نہیں، بلکہ اجنبی ہے۔ شاعر سوال کرتا ہے کہ کب تک وہ یوں بھٹکتا رہے گا۔ دوسرے مصرعے میں وہ اپنے دل کے غم اور وحشت سے مخاطب ہو کر اپنی بے بسی ظاہر کرتا ہے۔ یہ شعر انسان کی جڑ سے کٹ جانے کی کیفیت اور ذہنی اضطراب کی بہترین ترجمانی کرتا ہے۔
جھلملاتے قمقموں کی راہ میں زنجیر سی
رات کے ہاتھوں میں دن کی موہنی تصویر سی
یہاں شاعر روشنی کو آزادی کے بجائے قید کی علامت بنا دیتا ہے۔ قمقمے جو عام طور پر خوشی کی نشانی ہوتے ہیں، شاعر کے لیے زنجیر بن گئے ہیں۔ دن کی موہنی تصویر امید، روشن مستقبل اور خوابوں کی علامت ہے جو رات یعنی حالات کے اندھیرے میں قید ہو چکی ہے۔ شاعر کہنا چاہتا ہے کہ امید موجود ہے مگر حالات نے اسے جکڑ رکھا ہے۔
میرے سینے پر مگر رکھی ہوئی شمشیر سی
اے غمِ دل کیا کروں اے وحشتِ دل کیا کروں
اس شعر میں شاعر اپنے ذہنی اور جذباتی کرب کو تلوار سے تشبیہ دیتا ہے۔ اس کے سینے پر غم اس طرح رکھا ہے جیسے ننگی شمشیر، جو ہر لمحہ اسے زخمی کر سکتی ہے۔ یہ شدید ذہنی دباؤ اور خوف کی علامت ہے۔ شاعر اپنی اسی بے چینی پر فریاد کرتا ہے اور کسی حل کی تلاش میں نظر آتا ہے۔
یہ روپہلی چھاؤں یہ آکاش پر تاروں کا جال
جیسے صوفی کا تصور جیسے عاشق کا خیال
یہ شعر شاعر کی جمالیاتی اور رومانوی طبیعت کو ظاہر کرتا ہے۔ چاندنی، تارے اور رات کی خوبصورتی شاعر کو روحانی اور عشقیہ کیفیت میں لے جاتی ہے۔ شاعر ان مناظر کو صوفی کے تصور اور عاشق کے خیال سے تشبیہ دے کر یہ بتاتا ہے کہ وہ حسن کو صرف دیکھتا نہیں بلکہ دل سے محسوس کرتا ہے۔
آہ لیکن کون جانے کون سمجھے جی کا حال
اے غمِ دل کیا کروں اے وحشتِ دل کیا کروں
اس شعر میں شاعر افسوس کرتا ہے کہ اس کی داخلی کیفیت کو کوئی نہیں سمجھتا۔ وہ حسن کو محسوس تو کرتا ہے مگر اس کے دل کا درد کوئی بانٹنے والا نہیں۔ یہ شعر انسان کی گہری تنہائی اور اس احساس کو ظاہر کرتا ہے کہ ہجوم میں رہ کر بھی انسان اکیلا ہو سکتا ہے۔
پھر وہ ٹوٹا اک ستارہ پھر وہ چھوٹی پھلجڑی
جانے کس کی گود میں آئی یہ موتی کی لڑی
ٹوٹتا ہوا ستارہ اور پھلجڑی شاعر کے خوابوں اور امیدوں کی علامت ہیں۔ شاعر کو لگتا ہے کہ جو تمنائیں اس کی تھیں وہ بکھر گئیں اور کسی اور کو مل گئیں۔ “موتی کی لڑی” ان قیمتی خوابوں کی علامت ہے جو شاعر کے ہاتھ نہ آ سکے۔ یہ شعر ناکام محبت اور محرومی کا گہرا اظہار ہے۔
ہوک سی سینے میں اٹھی چوٹ سی دل پر پڑی
اے غمِ دل کیا کروں اے وحشتِ دل کیا کروں
یہ شعر دل کی شدید تکلیف کو ظاہر کرتا ہے۔ شاعر کے سینے میں اچانک درد کی لہر اٹھتی ہے اور دل زخمی ہو جاتا ہے۔ یہ محض جسمانی درد نہیں بلکہ روحانی اذیت ہے۔ شاعر بار بار ایک ہی سوال دہرا کر اپنی بے چارگی کو نمایاں کرتا ہے۔
رات ہنس ہنس کر یہ کہتی ہے کہ مے خانے میں چل
پھر کسی شہناز لالہ رخ کے کاشانے میں چل
یہاں رات شاعر کو عیش و عشرت، شراب اور حسن کی طرف مائل کرتی ہے۔ یہ دراصل شاعر کے نفس کی آواز ہے جو اسے وقتی سکون کی طرف لے جانا چاہتی ہے۔ شاعر اس کشش کو محسوس کرتا ہے مگر دل مطمئن نہیں ہوتا۔ یہ شعر اخلاقی کشمکش کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ نہیں ممکن تو پھر اے دوست ویرانے میں چل
اے غمِ دل کیا کروں اے وحشتِ دل کیا کروں
اگر دنیا کی رنگینیاں قابلِ قبول نہیں تو شاعر تنہائی کو ترجیح دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اگر مے خانہ اور حسن کاشانہ نہیں تو ویرانہ ہی سہی۔ یہ شعر ظاہر کرتا ہے کہ شاعر سمجھوتہ کرنے کے بجائے تنہائی کو قبول کرنے پر آمادہ ہے۔
رات ہنس ہنس کر یہ کہتی ہے کہ مے خانے میں چل
پھر کسی شہناز لالہ رخ کے کاشانے میں چل
یہاں رات کو ایک جیتی جاگتی ہستی بنا کر پیش کیا گیا ہے جو شاعر کو گمراہی کی دعوت دے رہی ہے۔ مے خانہ عیش و عشرت، شراب اور فرارِ حقیقت کی علامت ہے۔ شہناز لالہ رخ حسن، دولت اور وقتی لذت کی نشانی ہے۔ شاعر دکھاتا ہے کہ سماج اور حالات انسان کو درد سے بھگانے کے لیے غلط راستے دکھاتے ہیں۔ مگر یہ راستے اصل مسئلے کا حل نہیں بلکہ مزید تباہی کا سبب بنتے ہیں۔
یہ نہیں ممکن تو پھر اے دوست ویرانے میں چل
اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں
اگر عیش و عشرت ممکن نہیں تو رات شاعر کو ویرانے میں جانے کا مشورہ دیتی ہے۔ ویرانہ تنہائی، بے کسی اور سماج سے کٹ جانے کی علامت ہے۔ شاعر کو نہ معاشرہ قبول کرتا ہے، نہ وہ خود کو تنہائی میں سنبھال پاتا ہے۔ اسی کشمکش میں وہ اپنے دل کے غم اور وحشت سے فریاد کرتا ہے۔ یہ شعر انسان کی نفسیاتی بے سمتی کو واضح کرتا ہے۔
ہر طرف بکھری ہوئی رنگینیاں رعنائیاں
ہر قدم پر عشرتیں لیتی ہوئی انگڑائیاں
شاعر سماج کی ظاہری چمک دمک کا نقشہ کھینچتا ہے۔ ہر طرف رنگینیاں، خوشیاں اور لذتیں بکھری ہوئی نظر آتی ہیں۔ مگر یہ سب صرف ظاہری ہیں، حقیقی نہیں۔ شاعر ان خوشیوں سے محروم ہے اور یہ منظر اس کے دل میں حسرت اور تلخی پیدا کرتا ہے۔ یہ شعر طبقاتی فرق اور دکھاوے کی زندگی پر طنز ہے۔
بڑھ رہی ہیں گود پھیلائے ہوئے رسوائیاں
اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں
یہاں شاعر خبردار کرتا ہے کہ یہ ظاہری خوشیاں آخرکار رسوائی میں بدل جاتی ہیں۔ سماج کی چمک دمک انسان کو اپنی طرف کھینچتی ہے مگر نتیجہ ذلت اور بدنامی ہوتا ہے۔ شاعر اس انجام کو دیکھ کر مزید پریشان ہو جاتا ہے۔ اسی لیے وہ اپنے دل کی وحشت سے نجات نہ پا سکنے پر فریاد کرتا ہے۔ یہ شعر اخلاقی زوال کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
راستے میں رک کے دم لے لوں مری عادت نہیں
لوٹ کر واپس چلا جاؤں مری فطرت نہیں
یہاں شاعر اپنی فطرت اور مزاج بیان کرتا ہے۔ وہ رکنے والا، سمجھوتہ کرنے والا انسان نہیں ہے۔ وہ جو راستہ اختیار کر لے، اس سے واپس نہیں لوٹتا۔ یہ اس کے عزم، ضد اور بغاوت کی علامت ہے۔ شاعر اس شعر میں اپنے انقلابی مزاج کو واضح کرتا ہے۔
اور کوئی ہم نوا مل جائے یہ قسمت نہیں
اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں
شاعر اعتراف کرتا ہے کہ اس کی زندگی میں کوئی ساتھی یا ہم خیال موجود نہیں۔ وہ تنہا ہے اور یہی اس کی تقدیر بن چکی ہے۔ یہ تنہائی اس کے غم کو مزید گہرا کر دیتی ہے۔ وہ ایک بار پھر اپنے دل کی اذیت اور وحشت کا شکوہ کرتا ہے۔ یہ شعر وجودی تنہائی کی بھرپور تصویر ہے۔
منتظر ہے ایک طوفان بلا میرے لیے
اب بھی جانے کتنے دروازے ہیں وا میرے لیے
شاعر کو احساس ہے کہ مستقبل میں اس کے لیے بڑے خطرات اور آزمائشیں موجود ہیں۔ طوفان بلا زندگی کی شدید مشکلات کی علامت ہے۔ اس کے باوجود وہ جانتا ہے کہ جدوجہد کے راستے ابھی کھلے ہیں۔ یہ شعر امید اور خوف کے درمیان معلق کیفیت کو ظاہر کرتا ہے۔ شاعر حالات سے بھاگنے کے بجائے ان کا سامنا کرنے پر تیار ہے۔
پر مصیبت ہے مرا عہد وفا میرے لیے
اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں
شاعر کہتا ہے کہ اس کی سب سے بڑی مشکل اس کی وفاداری ہے۔ وہ اپنے اصول، وعدے اور نظریات سے غداری نہیں کر سکتا۔ یہی وفا اسے کمزور بھی بنا دیتی ہے۔ وہ چاہ کر بھی غلط راستہ اختیار نہیں کر پاتا۔ یہ شعر اخلاقی استقامت اور اندرونی کشمکش کو ظاہر کرتا ہے۔
جی میں آتا ہے کہ اب عہد وفا بھی توڑ دوں
ان کو پا سکتا ہوں میں یہ آسرا بھی توڑ دوں
یہاں شاعر لمحاتی کمزوری کا اعتراف کرتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ کیوں نہ اپنے اصول توڑ دے تاکہ سکون مل جائے۔ مگر یہ صرف خیال کی حد تک ہے، عمل نہیں۔ یہ شعر انسانی فطرت کی کمزوری اور ضمیر کی کشمکش کو نمایاں کرتا ہے۔ شاعر خود سے ہی جنگ کر رہا ہے۔
ہاں مناسب ہے یہ زنجیر ہوا بھی توڑ دوں
اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں
زنجیر ہوا سے مراد وہ رکاوٹیں ہیں جو نظر نہیں آتیں مگر انسان کو جکڑ لیتی ہیں۔ شاعر آزادی کا خواہاں ہے اور ان بندھنوں کو توڑنا چاہتا ہے۔ مگر وہ عملی راستہ نہیں پا رہا۔ اسی بے بسی میں وہ دل کی وحشت کا اظہار کرتا ہے۔ یہ شعر آزادی کی تڑپ کا اظہار ہے۔
اک محل کی آڑ سے نکلا وہ پیلا ماہتاب
جیسے ملا کا عمامہ جیسے بنیے کی کتاب
یہ شعر شدید طنز سے بھرپور ہے۔ پیلا ماہتاب کھوکھلی عظمت اور جھوٹی روشنی کی علامت ہے۔ شاعر مذہبی پیشواؤں اور سرمایہ دار طبقے پر طنز کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ان کی چمک بھی بناوٹی اور مفاد پرستانہ ہے۔ یہ شعر سماجی منافقت پر زبردست حملہ ہے۔
جیسے مفلس کی جوانی جیسے بیوہ کا شباب
اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں
یہاں شاعر دردناک مثالیں دے کر سماجی ظلم کو نمایاں کرتا ہے۔ غریب کی جوانی اور بیوہ کا شباب معاشرے میں بے قدر ہوتے ہیں۔ اسی طرح یہ چاندنی بھی بے معنی ہے۔ شاعر ان ناانصافیوں پر کڑھتا ہے اور دل کی وحشت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ یہ شعر طبقاتی ظلم کا گہرا نوحہ ہے۔
دل میں اک شعلہ بھڑک اٹھا ہے آخر کیا کروں
میرا پیمانہ چھلک اٹھا ہے آخر کیا کروں
یہاں شاعر کے اندر بغاوت اور غصہ بھڑک اٹھتا ہے۔ شعلہ، انقلاب اور احتجاج کی علامت ہے۔ اس کے جذبات اب قابو میں نہیں رہے۔ وہ سوال کرتا ہے کہ اب اس کیفیت میں وہ کیا کرے۔ یہ شعر انقلابی شعور کے عروج کو ظاہر کرتا ہے۔
زخم سینے کا مہک اٹھا ہے آخر کیا کروں
اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں
شاعر کا درد اب اتنا گہرا ہو چکا ہے کہ چھپ نہیں سکتا۔ زخم کی مہک اس کے پھیلنے اور شدت اختیار کرنے کی علامت ہے۔ وہ اندر سے ٹوٹ چکا ہے مگر خاموش نہیں رہ سکتا۔ یہی کیفیت اسے بے چین اور مضطرب بنا دیتی ہے۔ یہ شعر داخلی کرب کی انتہا دکھاتا ہے۔
جی میں آتا ہے یہ مردہ چاند تارے نوچ لوں
اس کنارے نوچ لوں اور اس کنارے نوچ لوں
یہاں شاعر پوری سماجی ساخت کو رد کرنے کا اعلان کرتا ہے۔ مردہ چاند تارے جھوٹی عظمتوں اور کھوکھلے نظام کی علامت ہیں۔ شاعر ان سب کو مٹا دینا چاہتا ہے۔ یہ اس کی انقلابی سوچ کا واضح اظہار ہے۔ وہ مکمل تبدیلی کا خواہاں ہے۔
ایک دو کا ذکر کیا سارے کے سارے نوچ لوں
اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں
شاعر جزوی اصلاح پر یقین نہیں رکھتا۔ وہ پورے نظام کو بدل دینا چاہتا ہے۔ مگر ساتھ ہی وہ اپنی جذباتی شدت سے خوفزدہ بھی ہے۔ اسی لیے وہ دل کی وحشت کا اظہار کرتا ہے۔ یہ شعر مکمل انقلاب کی خواہش کو ظاہر کرتا ہے۔
مفلسی اور یہ مظاہر ہیں نظر کے سامنے
سیکڑوں سلطان جابر ہیں نظر کے سامنے
یہاں شاعر غربت اور ظلم کو آمنے سامنے رکھتا ہے۔ ایک طرف مفلسی ہے، دوسری طرف جابر حکمران۔ یہ تضاد اس کے غصے کو بھڑکاتا ہے۔ شاعر سماجی ناانصافی کو براہِ راست دیکھ رہا ہے۔ یہ شعر حقیقت پسندانہ مشاہدہ ہے۔
سیکڑوں چنگیز و نادر ہیں نظر کے سامنے
اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں
چنگیز اور نادر ظلم اور خونریزی کی علامت ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ آج بھی ایسے ظالم موجود ہیں۔ یہ حقیقت اسے مزید بے چین کرتی ہے۔ وہ ظلم کے خلاف کچھ کرنا چاہتا ہے مگر راستہ نہیں ملتا۔ یہ شعر احتجاج اور بے بسی کا امتزاج ہے۔
لے کے اک چنگیز کے ہاتھوں سے خنجر توڑ دوں
تاج پر اس کے دمکتا ہے جو پتھر توڑ دوں
یہ شعر شاعر کی انقلابی اور جارحانہ سوچ کو نمایاں کرتا ہے۔ یہاں چنگیز ایک علامتی شخصیت ہے، جو ظالم، جابر یا مظالم کرنے والے حکمران کی نمائندگی کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اگر ضرورت پڑے تو وہ ظالم کے ہتھیار، خنجر، حتیٰ کہ طاقت کے نشانات تک توڑنے پر تیار ہے۔ یہ شعر انقلاب، عدالت پسندی اور سماجی اصلاح کے لیے شدید جوش و ولولے کی علامت ہے، اور شاعر کی ذہنی اور اخلاقی کشمکش کو بھی نمایاں کرتا ہے۔
کوئی توڑے یا نہ توڑے میں ہی بڑھ کر توڑ دوں
اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں
اس شعر میں شاعر فیصلہ کن لہجہ اختیار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اگر کوئی ظالم نظام کو توڑنے کے لیے آگے نہیں بڑھتا تو وہ خود یہ قدم اٹھانے کو تیار ہے۔ یہ انقلابی خود اعتمادی اور عملی جرات کی علامت ہے۔ شاعر اب صرف خیال یا خواب تک محدود نہیں رہا بلکہ عمل کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ مگر اسی لمحے اس کے دل میں خوف اور اضطراب بھی موجود ہے، اسی لیے وہ اپنے غم اور وحشت سے پھر سوال کرتا ہے۔ یہ شعر عمل اور خوف کے باہمی تصادم کو ظاہر کرتا ہے۔
بڑھ کے اس اندر سبھا کا ساز و ساماں پھونک دوں
اس کا گلشن پھونک دوں اس کا شبستاں پھونک دوں
یہاں شاعر ظلم، اقتدار اور عیش و عشرت کے مراکز کو جلانے کی بات کرتا ہے۔ اندر سبھا، گلشن اور شبستاں شاہی نظام، اشرافیہ اور مراعات یافتہ طبقے کی علامتیں ہیں۔ شاعر ان تمام علامتوں کو مٹا دینا چاہتا ہے جو عام انسان کے استحصال پر قائم ہیں۔ یہ محض غصہ نہیں بلکہ نظامیبغاوت کا اظہار ہے۔ شاعر ایک ایسی دنیا چاہتا ہے جہاں یہ طبقاتی تفاخر باقی نہ رہے۔
تخت سلطاں کیا میں سارا قصر سلطاں پھونک دوں
اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں
اس آخری شعر میں شاعر اپنی انقلابی سوچ کو انتہا تک پہنچا دیتا ہے۔ وہ صرف بادشاہ کے تخت کو نہیں بلکہ پورے شاہی نظام کو جلا دینے کا تصور پیش کرتا ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ شاعر جزوی اصلاح پر یقین نہیں رکھتا بلکہ مکمل تبدیلی چاہتا ہے۔ مگر اتنی بڑی بغاوت کا تصور بھی اس کے دل میں خوف اور اضطراب پیدا کرتا ہے۔ اسی لیے نظم کا اختتام پھر اسی فریاد پر ہوتا ہے کہ وہ اپنے دل کے غم اور وحشت کا کیا کرے۔
کوئی توڑے یا نہ توڑے میں ہی بڑھ کر توڑ دوں
اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں
اس شعر میں شاعر فیصلہ کن لہجہ اختیار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اگر کوئی ظالم نظام کو توڑنے کے لیے آگے نہیں بڑھتا تو وہ خود یہ قدم اٹھانے کو تیار ہے۔ یہ انقلابی خود اعتمادی اور عملی جرات کی علامت ہے۔ شاعر اب صرف خیال یا خواب تک محدود نہیں رہا بلکہ عمل کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ مگر اسی لمحے اس کے دل میں خوف اور اضطراب بھی موجود ہے، اسی لیے وہ اپنے غم اور وحشت سے پھر سوال کرتا ہے۔ یہ شعر عمل اور خوف کے باہمی تصادم کو ظاہر کرتا ہے۔
بڑھ کے اس اندر سبھا کا ساز و ساماں پھونک دوں
اس کا گلشن پھونک دوں اس کا شبستاں پھونک دوں
یہاں شاعر ظلم، اقتدار اور عیش و عشرت کے مراکز کو جلانے کی بات کرتا ہے۔ اندر سبھا، گلشن اور شبستاں شاہی نظام، اشرافیہ اور مراعات یافتہ طبقے کی علامتیں ہیں۔ شاعر ان تمام علامتوں کو مٹا دینا چاہتا ہے جو عام انسان کے استحصال پر قائم ہیں۔ یہ محض غصہ نہیں بلکہ نظامیبغاوت کا اظہار ہے۔ شاعر ایک ایسی دنیا چاہتا ہے جہاں یہ طبقاتی تفاخر باقی نہ رہے۔
تخت سلطاں کیا میں سارا قصر سلطاں پھونک دوں
اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں
اس آخری شعر میں شاعر اپنی انقلابی سوچ کو انتہا تک پہنچا دیتا ہے۔ وہ صرف بادشاہ کے تخت کو نہیں بلکہ پورے شاہی نظام کو جلا دینے کا تصور پیش کرتا ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ شاعر جزوی اصلاح پر یقین نہیں رکھتا بلکہ مکمل تبدیلی چاہتا ہے۔ مگر اتنی بڑی بغاوت کا تصور بھی اس کے دل میں خوف اور اضطراب پیدا کرتا ہے۔ اسی لیے نظم کا اختتام پھر اسی فریاد پر ہوتا ہے کہ وہ اپنے دل کے غم اور وحشت کا کیا کرے۔
آپ بتائیے
سوال 1 ۔ کیا شاعر سڑکوں پر آوارا پھر رہا تھا؟
جواب ۔
ہاں، شاعر خود کو شہر کی سڑکوں پر آوارہ محسوس کرتا ہے۔ یہ حقیقی آوارگی نہیں بلکہ علامتی ہے یعنی وہ ذہنی اور روحانی طور پر بے قرار، غمزدہ اور بے مقصد ہے۔ روشنیوں سے بھرے شہر میں وہ اپنی تنہائی اور ناکامی کی وجہ سے اکیلے بھٹک رہا ہے۔ اس کا مقصد شہر کی گلیوں میں چلنا نہیں بلکہ اپنی نفسیاتی اور جذباتی کیفیت کو بیان کرنا ہے۔
سوال 2 ۔ وہ کسے موتی کی لڑی کہتا ہے؟
جواب ۔
مجاز نے نظم میں کہا ۔
پھر وہ ٹوٹا اک ستارہ پھر وہ چھوٹی پھلجڑی
جانے کس کی گود میں آئی یہ موتی کی لڑی
یہاں موتی کی لڑیچھوٹے چھوٹے قیمتی لمحے، خوشیاں یا مواقع ہیں جو اچانک زندگی میں نمودار ہوتے ہیں۔ شاعر یہ سوال کرتا ہے کہ یہ خوشیاں کس کے نصیب میں آئی ہیں، کیونکہ وہ خود ان سے محروم ہے۔ یہ ایک علامتی اظہار ہے کہ قیمتی تجربات یا خوشیاں ہمیشہ ہر انسان کے لیے یکساں نہیں ہوتیں۔
سوال 3 ۔ کیا رات اسے ویرانے میں چلنے کی دعوت دیتی ہے؟
جواب ۔
ہاں، نظم میں رات کبھی مے خانے یا شہناز کے کاشانے کی طرف لے جاتی ہے، اور اگر وہ ممکن نہ ہو تو ویرانے میں چلنے کی دعوت دیتی ہے۔ ویرانہ یہاں تنہائی، خاموشی اور انفرادیت کی علامت ہے۔ شاعر کے لیے یہ ایک سفر یا تجربہ ہے جو معاشرتی دنیا سے دور ہے۔ یعنی رات اسے سمجھداری یا محتاط راستہ اختیار کرنے کی طرف بھی لے جاتی ہے۔
سوال 4 ۔ کیا وہ ایک طوفانِ بلا کے لیے منتظر ہے؟
جواب ۔
ہاں، شاعر کہتا ہے ۔
منتظر ہے ایک طوفان بلا میرے لیے
یہ طوفان علامتی ہے اور زندگی میں آنے والی شدید مشکلات، آزمائشیں یا سماجی انقلاب کی نشانی ہے۔ شاعر جانتا ہے کہ اس کے لیے مصائب آئیں گے، مگر وہ ان سے بھاگنے کے بجائے سامنا کرنے کے لیے تیار ہے۔
سوال 5 ۔ کیا وہ سارا قصر سلطاں پھونک دینا چاہتا ہے؟
جواب ۔
ہاں، نظم کے آخری اشعار میں شاعر کہتا ہے کہ وہ نہ صرف تختِ سلطاں بلکہ پورے قصر سلطاں کو پھونک دینا چاہتا ہے۔ یہ اظہار ظلم کے خلاف انتقام، نظامِ اشرافیہ کی بغاوت اور انقلاب کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ عملی بغاوت یا محض خیال کی علامت ہے، مگر شاعر کی جذباتی شدت اس کے موقف کو مضبوط بناتی ہے۔
سوال 6 ۔ کیا آوارہ ایک پر اثر الظلم ہے؟
جواب ۔
ہاں، نظم آوارہ ایک پر اثر اور متحرک نظم ہے۔ اس میں شاعر کی انقلابی سوچ، سماجی تنقید، اور دل کی کشمکش کو بھرپور انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ الفاظ اور تشبیہات ایسی ہیں کہ قاری پر نفسیاتی اور فکری اثر پڑتا ہے۔ نظم کی وسعت، علامتی تصاویر اور جذباتی شدت اس کو پراثر بناتی ہیں۔
سوال 7 ۔ کیا اس نظم کا عنوان درست ہے؟
جواب ۔
ہاں، عنوان آوارہ بہت درست اور معنی خیز ہے۔ شاعر خود کو آوارہ، بے قرار اور بے سہارا محسوس کرتا ہے۔ اس کی فکری اور جذباتی کیفیت، معاشرتی ناانصافی اور روحانی تنہائی تمام نظم کے مرکزی خیال کے مطابق ہے۔ یعنی عنوان مکمل طور پر نظم کی روح اور موضوع کی عکاسی کرتا ہے۔
سوال 8 ۔ کیا مجاز ایک ترقی پسند شاعر تھے؟
جواب ۔
ہاں، مجاز لکھنوی ایک ترقی پسند اور سماجی شعور رکھنے والے شاعر تھے۔ وہ معاشرتی ناانصافی، طبقاتی ظلم، اور انسانی کشمکش کو اپنی شاعری میں اجاگر کرتے تھے۔ ان کی شاعری صرف رومانی یا جمالیاتی نہیں بلکہ انقلابی اور فکر انگیز بھی ہے، جو قاری کو سماجی اور اخلاقی فکر پر مجبور کرتی ہے۔
سوال 9 ۔ کیا اردو کی رومانی شاعری میں ان کا نام روشن ہے؟
جواب ۔
ہاں، مجاز لکھنوی اردو رومانی شاعری میں بھی اپنا منفرد مقام رکھتے ہیں۔ ان کا کلام رومانیت، فلسفہ، روحانیت اور سماجی شعور کا حسین امتزاج ہے۔ وہ صرف جذباتی اور رومانی اشعار کے شاعر نہیں بلکہ نظم، غزل اور انقلابی فکر کے شاعر بھی ہیں، جس کی وجہ سے ان کا نام اردو ادب میں روشن اور معتبر ہے۔
مختصر گفتگو
سوال 1 ۔ رات ہنس ہنس کر شاعر سے کیا کہتی ہے؟
جواب ۔
نظم میں شاعر کہتا ہے ۔
رات ہنس ہنس کر یہ کہتی ہے کہ مے خانے میں چل
پھر کسی شہناز لالہ رخ کے کاشانے میں چل
رات یہاں ایک شخصیت کی طرح پیش کی گئی ہے جو شاعر کو عیش و عشرت کی دعوت دیتی ہے۔ یہ اسے مے خانہ، شراب اور حسن کے محل کی طرف لے جانے کی کوشش کرتی ہے۔ یعنی رات شاعر کو دل بہلانے اور دنیا کی لذتوں میں کھونے کی طرف راغب کرتی ہے، تاکہ وہ اپنی تنہائی اور غم سے فرار حاصل کرے۔
سوال 2 ۔ اس نظم میں اس کا کردار کیسا ہے؟
جواب ۔
رات نظم میں ایک مرکزی اور فعال کردار ادا کرتی ہے۔ یہ شاعر کی روحانی اور ذہنی کشمکش میں متحرک ہے۔ رات کبھی عیش و عشرت کی دعوت دیتی ہے، کبھی ویرانے کی طرف لے جاتی ہے، یعنی یہ شاعر کے اندر جھلملاتی خواہشات، فکری اضطراب اور تجرباتی راستوں کی علامت ہے۔ یہ کردار شاعر کے دل کی کیفیت کو ظاہر کرنے اور اس کے انتخاب کو آزمانے کے لیے موجود ہے۔
سوال 3 ۔ اک محل کی آڑ سے نکلا وہ پیلا ماہتاب شاعر نے یہ بات کیوں کہی؟
جواب ۔
شاعر کہتا ہے ۔
اک محل کی آڑ سے نکلا وہ پیلا ماہتاب، جیسے ملا کا عمامہ جیسے بنیے کی کتاب
یہاں وہ پیلا ماہتاب جھوٹی چمک، منافقت اور دکھاوے کی علامت ہے۔ شاعر اسے دیکھ کر تنقید کرتا ہے کہ معاشرے میں جو ظاہری روشنی یا عظمت دکھائی جاتی ہے، وہ اکثر خالی، منافقت پر مبنی اور ظلم کی نمائندگی کرنے والی ہوتی ہے۔ یہ مصرع شاعر کے سماجی شعور اور تنقیدی نقطہ نظر کو ظاہر کرتا ہے۔
سوال 4 ۔ وہ کن چیزوں کو نوچ لینا چاہتا ہے؟
جواب ۔
شاعر نظم میں بیان کرتا ہے کہ وہ مردہ چاند، تارے، کنارے، نظام کے مظاہر، تخت سلطاں اور اشرافیہ کے مراکز نوچنا چاہتا ہے۔ یہ سب چیزیں علامتی ہیں اور ظلم، دکھاوے، سرمایہ داری، ظلم اور منافقت کی نمائندگی کرتی ہیں۔ شاعر کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ وہ صرف ذاتی انتقام نہیں بلکہ پوری ناانصافی اور ظلم کی بنیاد کو تباہ کرنا چاہتا ہے۔
سوال 5 ۔ عصر حاضر کے چنگیز کے ساتھ وہ کیا سلوک کرنا چاہتا ہے؟
جواب ۔
شاعر کہتا ہے ۔
لے کے اک چنگیز کے ہاتھوں سے خنجر توڑ دوں، تاج پر اس کے دمکتا ہے جو پتھر توڑ دوں
یہاں چنگیز علامتی ہے، یعنی ظالم حکمران، جابر یا استحصالی طبقہ۔ شاعر کا ارادہ ہے کہ وہ ان کے ہتھیار، طاقت اور اقتدار کے مظاہر کو توڑ دے۔ یہ اظہار ہے کہ شاعر ظلم کے خلاف عملی اور فکری بغاوت کے لیے تیار ہے، اور وہ صرف خود کو نہیں بلکہ نظام کو بھی چیلنج کر رہا ہے۔
سوال 6 ۔ شاعر نے خود کو ناشاد اور ناکارا کیوں بتایا؟
جواب ۔
نظم کے آغاز میں شاعر کہتا ہے ۔
شہر کی رات اور میں ناشاد و ناکارا پھروں
یہاں وہ اپنی روحانی، جذباتی اور سماجی بے بسی کو بیان کرتا ہے۔ اس نے محسوس کیا کہ وہ کسی بھی خوشی، سکون یا کامیابی سے محروم ہے۔ شہر کی روشنی اور ہجوم کے باوجود وہ اپنے اندر عدمِ تسکین، ناکامی اور بے مقصد زندگی کا شکار ہے۔ اس کا یہ کہنا خود کی عکاسی اور احساسِ محرومی کی علامت ہے۔
سوال 7 ۔ اس کے دل میں غم اور وحشت کیوں ہے؟
جواب ۔
شاعر کے دل میں غم اور وحشت کی کئی وجوہات ہیں ۔
معاشرتی اور سماجی ناانصافی ۔ غریبوں، مظلوموں اور طبقاتی ظلم کی وجہ سے وہ دل گرفتہ ہے۔
ذہنی اور روحانی تنہائی ۔ خود کو آوارہ اور بے سہارا محسوس کرنا۔
ظلم کے خلاف داخلی اضطراب ۔ وہ نظام اور ظالموں سے نجات چاہتا ہے مگر راستہ مشکل ہے۔
یہ سب وجوہات اس کے دل کی وحشت اور غم کی شدت کو بڑھاتی ہیں۔
سوال 8 ۔ رات کے وقت شہر کے کیا کیا منظر ہوتے ہیں؟
جواب ۔
شہر کے رات کے مناظر نظم میں تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں ۔
جگمگاتی اور روشن سڑکیں، جو بظاہر خوبصورت لگتی ہیں۔
قمقمے اور روشنیوں کی جھلملاہٹ، جو دلکش مگر زنجیر کی مانند ہیں۔
رنگینیاں، عشرتیںاوررسوائیاں ہر قدم پر بکھری ہوئی ہیں۔
یہ مناظر شاعر کے لیے خوشنما اور دلکش تو ہیں، مگر حقیقت میں اسے مزید بےچینی، تنہائی اور غم محسوس ہوتا ہے۔
تفصیلی گفتگو
سوال 1 ۔ نظم کے اولین بندوں میں شاعر نے رات کی کیسی تصویر بھاری ہے؟
جواب ۔
نظم کے آغاز میں شاعر رات کو ایک زندہ اور جیتی جاگتی ہستی کی طرح پیش کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ شہر کی روشنیوں اور سڑکوں میں چمک کے باوجود، اس کے لیے رات بوجھ اور تنہائی کی علامت ہے۔ شاعر خود کو ناشاد اور ناکارہ محسوس کرتا ہے اور رات کے مناظر میں اپنی وحشت اور اضطراب کی جھلک دیکھتا ہے۔ روشنیوں کی جھلملاہٹ اور قمقموں کی چمک شاعر کے دل پر زنجیر اور قید کی طرح اثر ڈالتی ہے، جو اس کی اندرونی کشمکش کو نمایاں کرتی ہے۔ اس طرح رات کی تصویر میں حسن اور کشش کے ساتھ درد، وحشت اور اکیلا پن بھی دکھایا گیا ہے۔
سوال 2 ۔ اس نظم کی شاعرانہ خوبیاں واضح کریں۔
جواب ۔
نظم کی چند نمایاں شاعرانہ خوبیاں یہ ہیں ۔
علامتیت ۔ شاعر نے رات، تارے، قمقمے، قصر اور طوفان کو انسانی احساسات اور سماجی حالات کی علامت کے طور پر استعمال کیا ہے۔
جمالیاتی اور ادبی اظہار ۔ الفاظ میں چمک، کشش اور روانی ہے، جیسے روپہلی چھاؤں، تاروں کا جال اور پیلا ماہتاب۔
روحانی اور سماجی تہہ داری ۔ نظم میں صرف رومانوی رنگ نہیں، بلکہ سماجی ناانصافی، ظلم اور انسان کی تنہائی بھی عکاسی کرتی ہے۔
جذبات کی شدت اور روانی ۔ شاعر کے دل کی وحشت، غم اور انقلابی جذبات مصرع بہ مصرع محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
تشبیہات اور استعارے ۔ شاعر نے چنگیز، تاج، تخت سلطاں، مے خانہ اور ویرانہ جیسے استعاروں سے مضبوط بصری اور فکری اثر پیدا کیا ہے۔
سوال 3 ۔ اس نظم کا خلاصہ تحریر کریں۔
جواب ۔
نظم آوارہ میں شاعر اپنی روحانی اور سماجی کشمکش بیان کرتا ہے۔ وہ خود کو شہر کی روشنیوں میں بھی اکیلے، ناکارہ اور ناشاد محسوس کرتا ہے۔ رات اور مناظر شاعر کو عیش و عشرت، ویرانہ اور مواقع کے درمیان لے جاتے ہیں۔ نظم میں زندگی کے چھوٹے چھوٹے لمحے، مظالم، اور ظلم کے مظاہر بھی دکھائے گئے ہیں۔ شاعر اپنے دل کی وحشت اور غم کو ظالم حکمرانوں، جابر طبقے اور منافقت پر بغاوت کے جذبات سے ملاتا ہے۔ اختتام میں شاعر کی خواہش اور شدت یہ ہے کہ وہ ظلم کے تمام مظاہر اور نظام کو تباہ کر دے، اور انصاف کی علامت پیدا کرے۔ خلاصہ یہ کہ یہ نظم تنہائی، سماجی شعور، انقلابی فکر اور جذباتی شدت کا مجموعہ ہے۔
سوال 4 ۔ اس نظم کی روشنی میں مجاز کی شاعری پر اظہار خیال کریں۔
جواب ۔
مجاز لکھنوی کی شاعری میں یہ خصوصیات نمایاں ہیں ۔
رومانیت اور فکر کا امتزاج ۔ وہ صرف دل کے جذبات بیان کرنے والے شاعر نہیں تھے، بلکہ اپنی شاعری میں روحانی، سماجی اور فلسفیانہ خیالات بھی شامل کرتے تھے۔
سماجی شعور ۔ نظم میں ظلم، استحصال، مظلومیت اور طبقاتی ناانصافی کے موضوعات کو علامتیاورادبیاندازمیں بیان کیا گیا ہے، جو مجاز کی ترقی پسند سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔
تخیل اور تشبیہات کی قوت ۔ مجاز نے رات، چاند، تارے، چنگیز، قصر سلطاں اور طوفان جیسے عناصر سے تصویریاورفکریگہرائی پیدا کی، جو قاری پر دیرپا اثر چھوڑتی ہے۔
انقلاب اور احتجاج کی علامت ۔ نظم میں شاعر کی بغاوت، ظلم کے خلاف شدت اور اصلاح کی خواہش واضح ہے، جو مجاز کی شاعری میں فکریاوراخلاقیقوت کی نشانی ہے۔
ادبی معیار اور روانی ۔ ان کے اشعار میں موسیقیت، روانی اور فنی خوبصورتی بھی ہے، جو اردو کے کلاسیکی رومانی ادب میں انہیں ممتاز کرتی ہے۔
نتیجہ یہ کہ مجاز کی شاعری نہ صرف رومانوی اور جمالیاتی ہے بلکہ سماجی شعور، انقلابی فکر اور اخلاقی قوت کا مظہر بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا نام اردو شاعری میں روشن اور معتبر ہے۔