Bihar Board Class 12 Kahkashan Chapter 30 Solutions Ghazal Rasikh Azimabadi, غزل راسخ عظیم آبادی

یہاں راسخ دل کی حالت کو آئینے کے ساتھ تشبیہ دیتے ہیں۔ دل مدھم اور دھندلا ہے، اسی لیے محبوب کا حسن واضح طور پر نظر نہیں آتا۔ شاعر کی خواہش ہے کہ دل شفاف اور صاف ہوتا تاکہ محبوب کے چہرے کی خوبصورتی مکمل طور پر دل میں جھلک سکے۔ اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ دل کی صفائی اور پاکیزگی محبت کو دیکھنے اور محسوس کرنے کے لیے ضروری ہے۔

شاعر اس شعر میں انسان کی کمزوری اور خود فہمی پر روشنی ڈالتے ہیں۔ اکثر لوگ اپنے آپ کو کامل سمجھتے ہیں، مگر حقیقت میں ان میں خامیاں موجود ہوتی ہیں۔ اگر انسان اپنی کمیوں اور نقائص کو پہچان لے تو وہ واقعی کامل بن سکتا ہے۔ یہاں راسخ خود شناسی کی اہمیت اور عاجزی پر زور دیتے ہیں۔

اس شعر میں راسخ دنیاوی لذتوں کو ترک کرنے کی روحانی خوشی کی بات کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں وہ مزا حاصل نہیں ہوا جو نفسانی خواہشات کو ترک کرنے سے ملتا ہے۔ اگر یہ خوشی نصیب ہوتی تو انسان کو روحانی سکون اور حقیقی لطف حاصل ہوتا۔ یہ شعر تصوف اور روحانیت کی طرف رجحان ظاہر کرتا ہے۔
تم سے کچھ بندہ نے چاہا تو تمھیں کو چاہا

یہاں شاعر محبت کی گہرائی بیان کرتے ہیں۔ جب انسان محبوب سے کچھ چاہتا ہے تو اصل میں وہ محبوب کی ذات کو چاہتا ہے۔ باقی دنیاوی چیزیں اس کے لیے اہم نہیں ہوتیں۔ یعنی محبت میں محبوب کی ذات سب سے بڑی ضرورت ہے، اور باقی سب خواہشیں ثانوی ہیں۔

یہ شعر حسن و جمال کی پہچان سے متعلق ہے۔ خریدار اپنے محبوب کو ماہ یعنی سب سے خوبصورت سمجھتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ وہ بھی حسن اور وقار کو پہچاننے والوں میں شامل ہوتا، یعنی وہ بھی خوبصورتی کی قدر جانتا ہے۔ یہاں یوسف کی مثال جمال اور پاکیزگی کی علامت کے طور پر دی گئی ہے۔
دام میں عقل مزوّر کے نہ آیا راسخ

راسخ عقل کے فریب اور دنیاوی چالاکیوں سے دور رہنے کی بات کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ عقل کے جال میں نہیں آئے اور خوش رہے۔ دوانہ وہ ہے جو عقل کے باوجود خوش رہ سکتا ہے، اور عاقل وہ ہے جو سمجھداری سے زندگی گزارے۔ یہ شعر عقل، عشق اور خودی کے توازن کو ظاہر کرتا ہے۔

راسخ کی اس غزل میں سب سے پہلے دل کے آئینے کی کیفیت بیان کی گئی ہے۔ شاعر کا کہنا ہے کہ دل مدھم اور مبہم ہے، اس لئے محبوب کا رخ صاف طور پر نظر نہیں آتا۔ اگر دل شفاف ہوتا تو محبوب کی خوبصورتی دل میں واضح طور پر جھلکتی اور دل اس کے حسن کو دیکھنے کے قابل ہوتا۔ اس کے بعد راسخ زاہدوں کی خامیوں کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اکثر لوگ اپنے آپ کو کامل سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت میں وہ نقائص سے بھرے ہوتے ہیں۔ اگر انسان اپنی کمیوں پر نظر ڈالے تو وہ واقعی کامل بن سکتا ہے۔ یہاں شاعر خود شناسی اور عاجزی کی اہمیت واضح کرتا ہے۔

پھر شاعر روحانی لذت اور دنیاوی لذت کی تمیز پر آتا ہے۔ راسخ کہتے ہیں کہ دنیاوی لذتیں ترک کرنے کی خوشی نصیب نہیں ہوئی، اور اگر یہ خوشی حاصل ہوتی تو روحانی مزا اور سکون حاصل ہوتا۔ اس کے بعد وہ محبت کی گہرائی بیان کرتے ہیں۔ جب کوئی محبوب سے کچھ چاہتا ہے تو دراصل وہ محبوب کی ذات کو چاہتا ہے، باقی دنیاوی چیزیں ثانوی حیثیت رکھتی ہیں۔ محبت میں اصل طلب محبوب کی ذات ہے، نہ کہ چیزوں کی۔

بعد میں شاعر حسن و جمال کی پہچان کی طرف آتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ خریدار اپنے محبوب کو ماہ سمجھتا ہے، یعنی سب سے خوبصورت۔ اور شاعر خود بھی یوسف کے خریداروں میں شامل ہوتا ہے، جو حسن اور وقار کو پہچاننے والا ہے۔ آخر میں راسخ عقل کے فریب سے بچنے اور عشق کی حقیقت پر زور دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ عقل کے جال میں گرفتار نہ ہونا اور عشق میں سمجھداری کے ساتھ خوش رہنا ضروری ہے۔

مجموعی طور پر یہ غزل دل کی صفائی، خود شناسی، عشق حقیقی، تصوف، اور عقل و عشق کے درمیان توازن کے موضوعات پر مبنی ہے۔ راسخ نے اپنی شاعری میں انسان کی کمزوریوں، محبت اور روحانی بصیرت کو نہایت گہرائی سے بیان کیا ہے، اور ہر شعر میں فلسفۂ زندگی اور عشق کے مختلف پہلو سامنے آتے ہیں۔

اس شعر میں شاعر اپنی عمر اور تجربے کی حالت بیان کر رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اب وہ عمر رسیدہ ہو چکے ہیں، اور ان کا رونا یا غم لوگوں کے سامنے قابل دید ہو گیا ہے۔ پلک پر اپنی آنسو صبح پیری کا ستارا ہے کا مطلب ہے کہ ان کی آنکھوں پر عمر کی تھکن اور غم کا نشان ہمیشہ نظر آتا ہے، جیسے ہر صبح ان کے آنسو پیری کی حقیقت کو ظاہر کرتے ہوں۔ یہاں راسخ نے عمر، تجربے اور دکھ کی شدت کو خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔

شاعر نے یہاں محبت اور دل کی پیچیدگی کو بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اللہ ہی جانتا ہے کہ دل کے اندر پوشیدہ کیا کچھ ہے، جو دکھائی نہیں دیتا۔ لیکن اہل دل کے لیے خوشی ہے کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن پر دل کی پوشیدہ کیفیت بھی آشکارا ہو جاتی ہے، یعنی وہ لوگوں کے جذبات اور دل کی حالت کو سمجھ لیتے ہیں۔ یہ شعر محبت، دل کی گہرائی اور فہم اہل دل کو اجاگر کرتا ہے۔

یہاں شاعر تقدیر اور محبوب کی بے وفائی کی بات کرتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ فلک یا قسمت نے ان پر پہلے تک کوئی خاص تکلیف نہیں ڈالی، بلکہ جو مشکلات وہ محسوس کر رہے ہیں وہ محبوب کی بے مہری اور اس کے اشاروں کا نتیجہ ہیں۔ شاعر محبوب کی رویوں کو اپنی تکلیف کی اصل وجہ قرار دیتا ہے۔

شاعر محبت کے درد کی شدت کو بیان کرتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مسلسل یہ سوچ کر اور یہ کہہ کر کہ محبت میں دکھ ہوتا ہے، اپنے دل کی تکلیف کو مزید بڑھایا۔ محبوب پر طنز کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ محبوب حقیقت میں مرنے (یا درد سہنے) سے ڈرتا ہے، کیونکہ زندگی اسے پیاری ہے، یعنی وہ خود درد کو مکمل قبول نہیں کرتا۔ یہ شعر محبت کی شدت اور دل کی بیماری کو بڑے گہرے انداز میں پیش کرتا ہے۔

یہ شعر عشق کے عمل اور تجربے پر ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ لوگ کہتے ہیں کہ عشق کی ابتدا میں انسان اپنے جذبات میں ڈوبا جاتا ہے، غرق ہو جاتا ہے۔ لیکن شاعر اپنی حالت کو بیان کرتا ہے کہ وہ تو کنارے پر رہتے ہوئے بھی اس دریا میں ڈوبے ہوئے ہیں، یعنی محبوب کے اثر اور عشق کی شدت نے ان کے جذبات کو مکمل طور پر اپنے قابو میں لے لیا ہے۔ یہ محبت کی شدت اور انسان کی بے بسی کو ظاہر کرتا ہے۔

راسخ عظیم آبادی کی اس غزل میں شاعر نے بنیادی طور پر چار بڑے موضوعات کو مدنظر رکھا ہے ۔  عمر، محبت، دل کی کیفیت اور انسانی جذبات کی پیچیدگی۔ غزل کی ابتدا میں شاعر اپنی بڑھاپے اور عمر رسیدگی کی حالت بیان کرتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اب ان کا رونا اور دکھ لوگوں کے سامنے واضح ہو گیا ہے، اور آنکھوں پر عمر کی چھاپ اور آنسو جیسے صبح کے ستارے نظر آتے ہیں۔ اس سے شاعر کی زندگی کی تھکن، تجربات اور وقت کے اثرات کا احساس ہوتا ہے۔

اس کے بعد شاعر دل کے اندر چھپے جذبات اور محبت کی پوشیدہ حالت کی طرف آتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اللہ ہی جانتا ہے دل کے اندر کیا کچھ ہے، لیکن اہل دل وہ لوگ ہیں جو دل کی پوشیدہ حالت کو بھی پڑھ سکتے ہیں۔ یہاں راسخ اہل دل کی بصیرت اور حساسیت کو سراہتے ہیں جو جذبات اور دل کی کیفیت کو سمجھ سکتے ہیں۔

تیسرا پہلو محبوب کی بے مہری اور انسانی دل کی تکلیف ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ زندگی اور فلک نے پہلے تک کوئی خاص ایذا نہیں دی، جو دکھ اور تکلیف انہیں پہنچ رہی ہے وہ محبوب کی بے مہری اور رویے کی وجہ سے ہیں۔ محبت میں دل کی بیماری، محبوب کی خاموشی اور اشارے شاعر کی زندگی کی مشکلات کا سبب بنے ہیں۔ اسی تناظر میں شاعر محبوب پر طنز کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ محبوب حقیقت میں مرنے یا دکھ سہنے سے ڈرتا ہے کیونکہ زندگی اسے عزیز ہے، یعنی محبوب مکمل طور پر درد اور عشق کے اثر کو نہیں سمجھ پاتا۔

غزل کے آخر میں عشق کی شدت اور انسانی جذبات کی گہرائی کو بیان کیا گیا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ عشق کی ابتدا میں انسان اپنے جذبات میں ڈوب جاتا ہے، لیکن شاعر کہتا ہے کہ وہ تو کنارے پر ہونے کے باوجود بھی اس دریا میں غرق ہیں، یعنی عشق نے ان کے جذبات اور زندگی پر مکمل اثر ڈال دیا ہے۔ یہاں شاعر عشق حقیقی کی شدت اور انسان کی بے بسی کو خوبصورتی سے پیش کرتا ہے۔

مجموعی طور پر یہ غزل عمر، عشق، محبت کے دکھ، دل کی پیچیدگی اور انسانی جذبات کی نفسیاتی حالت پر مبنی ہے۔ ہر شعر میں شاعر نے زندگی کے تجربات، محبت کے فلسفے اور دل کی گہرائی کو خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ یہ غزل نہ صرف رومانوی ہے بلکہ روحانی اور فلسفیانہ معنی بھی رکھتی ہے، جس میں دل کی کیفیت، محبت کی شدت اور انسان کی اندرونی حالت کی باریکی کو اجاگر کیا گیا ہے۔

جواب ۔  راسخ کا پورا نام شیخ غلام علی تھا۔

سوال 2 ۔  راسخ کب اور کہاں پیدا ہوئے؟
جواب ۔  راسخ تقریباً1757 میں پیدا ہوئے، اور ان کے اجداد دِبلی کے رہنے والے تھے، بعد میں وہ عظیم آباد میں مستقل آباد ہو گئے۔

جواب ۔  راسخ نے شاعری میں ابتدائی اصلاح مرزا محمد فدوی سے لی اور بعد میں محمد تقی میر کے شاگرد ہوئے۔

جواب ۔  راسخ خود اپنی میر کی شاگردی پر فخر کرتے تھے۔

جواب ۔  راسخ نے خصوصاً غزل، قصائد، رباعیات، مدحیہ قطعات، مثنویات، مخمسات اور وا سوخت میں طبع آزمائی کی۔

جواب ۔  دل کا آئینہ صاف اور شفاف ہونے پر رخ یار کے قابل ہوتا ہے۔

جواب ۔  فلک نے شاعر کے مطابق محبوب کی بے مہری اور اشارے پر ایذا پہنچائی۔

جواب ۔  دل اس لیے ڈوبا جا رہا تھا کیونکہ عشق کی شدت اور محبوب کے اثرات نے اسے مکمل طور پر اپنے قابو میں لے لیا تھا۔

جواب ۔  راسخ عظیم آبادی نے سب سے پہلے مرزا محمد فدوی سے اصلاح لی اور بعد میں محمد تقی میر کے شاگرد ہوئے۔

جواب ۔  راسخ کو خصوصاً غزل، قصائد، رباعیات، مدحیہ قطعات، مثنویات، مخمسات اور وا سوخت سے شغف تھا۔

جواب ۔  میر کی تربیت نے راسخ کی شاعری میں فصاحت، وزن و قافیہ کی مہارت اور عروض کی صحیح ادائیگی کو نکھارا اور ان کی غزلوں میں میر کی طرز اور گہرائی نمایاں ہوئی۔

جواب ۔  راسخ کی وفات 1823میں ہوئی، اور ان کی قبر محلہ لودی کٹرہ، پٹنہ سٹی میں ہے۔

جواب ۔  راسخ کا کلام کلیات راسخ کے نام سے محفوظ اور شائع ہوا۔

راسخ عظیم آبادی کا اصل نام شیخ غلام علی تھا اور تخلص انہوں نے راسخ رکھا۔ ان کے والد کا نام شی محمد فیض تھا۔ ان کے اجداد دِبلی کے رہنے والے تھے، بعد میں وہ عظیم آباد میں مستقل آباد ہو گئے۔ راسخ تقریباً 1757 میں پیدا ہوئے۔ ان کی تعلیم کی تفصیلات دستیاب نہیں، لیکن ان کی تحریروں سے واضح ہوتا ہے کہ وہ اردو، فارسی اور فن عروض کے ماہر تھے۔ شاعری میں انہوں نے ابتدا میں مرزا محمد فدوی سے اصلاح حاصل کی اور بعد میں محمد تقی میر کے شاگرد ہوئے۔ اقتصادی طور پر وہ ہمیشہ کمزور رہے اور کبھی مستقل ملازمت نہیں کی۔ بڑھاپے میں ان کا رجحان تصوف کی طرف ہو گیا۔ راسخ نے فن عروض پر ایک مختصر رسالہ بھی تحریر کیا اور ان کے کلیات میں غزلیں، قصائد، رباعیات، مدحیہ قطعات، مثنویات، مخمسات اور وا سوخت شامل ہیں۔ ان کی وفات 1823 میں ہوئی اور قبر محلہ لودی کٹرہ، پٹنہ سٹی میں ہے۔

راسخ عظیم آبادی اٹھارویں صدی کے آخر اور انیسویں صدی کے اوائل کے شاعر ہیں۔ یعنی وہ میر تقی میر اور مرزا غالب کے زمانے سے تقریباً پہلے یا ہم عصر تھے۔ ان کے چند اہم معاصرین میں شامل ہیں ۔  محمد تقی میر، مرزا محمد فدوی، اور دیگر اردو شعرا جو 18ویں اور 19ویں صدی میں سرگرم تھے۔

 راسخ کی شاعری میں کئی نمایاں خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ سب سے پہلے، وہ فن عروض میں مہارت رکھتے تھے اور شعری وزن اور قافیہ کو درست استعمال کرتے تھے۔ ان کی غزلوں میں دل کی گہرائی، محبت کی شدت، اور انسانی جذبات کی نفسیاتی پیچیدگی دکھائی دیتی ہے۔ ان کے اشعار میں روحانی اور فلسفیانہ پہلو بھی شامل ہیں، جیسے دل کی صفائی، خود شناسی، اور عشق حقیقی۔ راسخ نے اکثر دل کی بیماری، محبوب کی بے مہری، اور عشق کی شدت کو بہت نفیس انداز میں بیان کیا۔ ان کی غزلوں میں تصوف اور انسانی نفسیات کا امتزاج نمایاں ہے۔

راسخ کی شاعری کے مطابق، عاشق کو مصیبتیں محبوب کی بے مہری اور اشارے کی وجہ سے آتی ہیں۔ شاعر کے اشعار میں یہ واضح ہے کہ فلک یا تقدیر نے پہلے تک کسی قسم کی تکلیف نہیں دی، بلکہ جو دکھ ہیں وہ محبوب کی رویوں اور خاموش اشاروں کی وجہ سے ہیں۔

راسخ کے مطابق، عشق کے آغاز میں انسان اپنے جذبات میں ڈوبا رہتا ہے اور ابتدائی طور پر اسے اپنی کیفیت کا مکمل ادراک نہیں ہوتا۔ لوگ کہتے ہیں کہ عشق میں دل ڈوب جاتا ہے، یعنی انسان جذبات کی شدت میں غرق ہو جاتا ہے۔ آگے جا کر یہ غرقی زیادہ نمایاں ہو جاتی ہے، اور محبوب کے اثرات اور عشق کی شدت دل اور زندگی پر غالب آ جاتی ہے۔ شاعر کے الفاظ میں یہ بھی ہے کہ عاشق کنارے پر ہونے کے باوجود بھی اس دریا میں ڈوب چکا ہوتا ہے، یعنی عشق کا اثر مکمل اور عمیق ہوتا ہے۔

کامل اپنے تئیں جانا رہا ناقص زاہد

نقص پر اپنے نظر ہوتی تو کامل ہوتا

ہوئے ہیں پیر ہم اب دیدنی رونا ہمارا ہے

اس شعر میں شاعر نے انسان کی خود شناسی اور عاجزی کو بیان کیا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ اکثر لوگ اپنے آپ کو کامل سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت میں وہ ناقص اور کمزور ہوتے ہیں۔ خاص طور پر زاہد یعنی وہ لوگ جو پرہیزگاری یا تقویٰ میں مصروف ہوتے ہیں، اکثر اپنی کمیوں اور خامیوں پر غور نہیں کرتے۔ اگر وہ اپنے نقص اور کمزوریوں پر نظر ڈالیں اور انہیں پہچانیں، تو وہ واقعی کامل بن سکتے ہیں۔ یہاں راسخ نے انسان کی کمزوری، خود فہمی، اور خود شناسی کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ یہ شعر اخلاقی اور روحانی نصیحت کے زمرے میں آتا ہے، جو انسان کو اپنی ذات کا جائزہ لینے کی تلقین کرتا ہے۔

اس شعر میں شاعر نے اپنی بڑھاپے اور عمر رسیدگی کی حالت بیان کی ہے۔ پیر یعنی بوڑھے، یا عمر رسیدہ ہونے کی وجہ سے، اب ان کا رونا اور دکھ دوسروں کے سامنے ظاہر ہوتا ہے، یعنی وہ دیکھنے کے قابل ہو گیا ہے۔ پلک پر اپنی آنسو صبح پیری کا ستارا ہے کا مطلب ہے کہ ان کی آنکھوں پر عمر کے اثرات اور زندگی کی مشکلات کے نشانات نظر آتے ہیں، جیسے ہر صبح یہ آنسو ان کے بڑھاپے اور تجربات کی نشانی ہوں۔ شاعر نے عمر رسیدگی، تجربات اور دکھ کی شدت کو نہایت خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے۔

کاش یوں تیرہ نہ یہ آئینہ دل ہوتا، صاف ہوتا تو رخ یار کے قابل ہوتا

ترک لذات کی لذت نہ ہوئی ہم کو نصیب، یہ مزا کاش ہمارے تئیں حاصل ہوتا

یہی کہہ کہہ کے مارا اپنے بیمار محبت کو، کہ تو مرنے سے ڈرتا ہے بہت جی تجھ کو پیارا ہے

فلک ایسا ہمارے در پے ایذا نہ تھا آگے، یہ بے مہری تمھاری ہے تمھارا ہی اشارہ ہے

تمھارا ہی اشارہ ہے فلک ایسا ہمارے در پے ایذا نہ تھا آگے

Scroll to Top