Bihar Board Class 12 Kahkashan Chapter 31 Solutions Qasida Mirza Rafi Sauda, قصیدہ مرزا رفیع سودا

قصیدہ اردو اور فارسی کی قدیم شعری صنفوں میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔ اس کی اہمیت اس لیے زیادہ رہی کیونکہ استادانہ مہارت اور زبان و بیان کی قوت کو ظاہر کرنے کے لیے قصیدہ سب سے موزوں صنف تھی۔ فارسی میں یہ صنف انتہائی مقبول تھی اور تقریباً تمام اہم شعرا نے لازماً قصائد کہے۔ فارسی کے اثر سے اردو میں بھی قصیدے کا رواج بڑھا اور اردو شعرا نے فارسی کے طرز، انداز اور اجزا کو بڑی حد تک تسلیم کیا۔ قصیدے کے روایتی اجزاء میں تشبیب، گریز، مدح، طلب اور دعا شامل ہیں، اور ہر جزو کے لیے الگ الگ اصول وضع کیے گئے تھے۔

دکن کے شاعر نصرتی نے علی نامہ میں پہلی بار قصیدہ گوئی کا کامیاب تجربہ کیا۔ اٹھارویں صدی میں مرزا محمد رفیع سودا نے قصیدہ گوئی میں اعلیٰ کمال حاصل کیا اور انہیں نقاش اول کے طور پر تسلیم کیا گیا۔ اس زمانے میں انشا اللہ خاں انشا نے بھی بعض قصائد تخلیق کیے۔ انیسویں صدی میں شیخ محمد ابراہیم ذوق نے سودا کے بعد اپنی بہترین قصیدہ گوئی کی وجہ سے شہرت حاصل کی۔ اسی دور میں غالب اور مومن نے بھی اپنے الگ انداز کے قصائد تخلیق کیے۔ انیسویں صدی کے اواخر میں حسن کاکوری نعتیہ قصائد کے ذریعے اپنی شہرت کے لیے جانے گئے، جن کے قصیدے نے سب کی توجہ اپنی طرف مبذول کی۔

قصیدہ بنیادی طور پر کسی شخص کی تعریف کے لیے استعمال ہوتا تھا، مگر اس صنف کو مذمت یا طنز کے لیے بھی بروئے کار لایا جا سکتا تھا۔ تاہم تعلیم کی ترقی، بادشاہت کے زوال اور جاگیرداری نظام کے خاتمے نے اس صنف کے لیے مددگار ماحول ختم کر دیا۔ آج کے دور میں قصیدہ گوئی کو زیادہ تر خوشامد اور چاپلوسی کے مترادف سمجھا جاتا ہے، اس لیے اس کی ترقی کے لیے سازگار ماحول موجود نہیں۔

مرزا محمد رفیع سودا کا تخلص سودا تھا اور وہ تقریباً 1713 میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد تجارت سے وابستہ تھے اور خیال ہے کہ سودا کا بچپن ناز و نعم میں گزرا۔ ان کی تعلیم و تربیت کے بارے میں تفصیل معلوم نہیں، مگر فارسی اور اردو دونوں میں انہوں نے اعلیٰ مہارت حاصل کی۔ ابتدا میں فارسی میں مشق سخن کی، جس پر سراج الدین علی خاں آرزو نے توجہ دلائی، اور بعد میں اردو میں شعر کہنا شروع کیا۔ فارسی میں خان آرزو اور اردو میں شاہ حاتم سے انہوں نے مشورہ حاصل کیا۔

سودا نے اپنی زندگی کے بیشتر سال امرا، نوابوں اور اہم شخصیات کی صحبت میں گزارے، جن میں بسنت خاں خواجہ سراء احمد علی خاں، نواب عماد الملک غازی الدین خاں، مهربان خان رند، شجاع الدولہ اور آصف الدولہ شامل تھے۔ ان کے مربیان اور سرپرست ان کے بہت قریب تھے اور ہر کسی سے انہیں تقرب حاصل تھا۔

سودا نے مختلف شعری صنفوں میں مہارت دکھائی، جن میں غزل، قصیدہ، مثنوی، ہجو، سلام و مراثی، رباعی شامل ہیں۔ خاص طور پر قصیدہ اور ہجویات میں انہوں نے شہرت حاصل کی اور قصیدوں میں ان کو بادشاہ تسلیم کیا جاتا تھا۔ ان کے مشہور ہجویہ قصیدہ تضحیک روزگار میں مغلیہ سلطنت اور اس کے سیاسی و معاشی زوال کو طنز آمیز انداز میں پیش کیا گیا۔

سودا نے فارسی میں ایک رسالہ عبرت الغافلین بھی لکھا، جس میں پانچ ابواب میں فارسی اساتذہ کے کلام پر اظہار خیال کیا گیا۔ اردو نثری رسالے مشعلہ عشق کا بھی ذکر موجود ہے، مگر یہ رسالہ آج دستیاب نہیں۔ سودا نے موسیقی کا شوق رکھا، خوش گفتار اور مزاج شناس تھے، اور ان کے پاس کتوں پالنے کا شوق بھی تھا۔ ان کی شخصیت میں شوق، مزاح اور در گزر کی عادات نمایاں تھیں۔

مجموعی طور پر سودا نے قصیدہ گوئی، ہجو، اور مختلف شعری صنفوں میں اپنے وقت کا اعلیٰ مقام حاصل کیا۔ انہوں نے نہ صرف فارسی بلکہ اردو شاعری میں بھی اپنی مہارت اور منفرد انداز کے ذریعے صدیوں تک یاد رہنے والا نام بنایا۔

قصیدہ تضحیکِ روزگار مرزا محمد رفیع سودا کا ایک مشہور ہجویہ قصیدہ ہے، جس میں انہوں نے مغلیہ سلطنت کے زوال، معاشرتی ناہمواری اور انسانی کمزوریوں کو طنز آمیز انداز میں پیش کیا ہے۔ اس قصیدے میں مرکزی کردار ایک ابلق (دو رنگا) گھوڑا ہے، جسے دیکھ کر انسان کی زندگی اور معاشرتی حالات کا مزاحیہ لیکن عبرت آموز عکس پیش کیا گیا ہے۔ سودا نے گھوڑے کے زوال پذیر اور کمزور ہونے کو زمانے کی بے حسی، ظلم اور ناانصافی کی علامت بنایا ہے۔

قصیدہ میں گھوڑے کے مختلف پہلوؤں کی تفصیل دی گئی ہے ۔  وہ لاغر، کمزور، بیمار، اور بے اختیار ہے، اس کے پاؤں مضبوط نہیں، نہ دانہ و کاہ ہے، اور نہ ہی کوئی پرورش مکمل ہوئی ہے۔ اس کی حالت کو دیکھ کر انسان زمانے کے احوال، طاقتور و کمزور کے درمیان عدم توازن، اور بے بسی کی تصویر سمجھتا ہے۔ گھوڑے کے ذریعے سودا نے یہ دکھایا ہے کہ زمانے نے کس طرح عام آدمی، خدمت گزار، یا کمزور شخص کو نقصان پہنچایا ہے، اور کس طرح طاقتور افراد اور امرا اپنے اختیار کے ذریعے دوسروں پر ظلم ڈھاتے ہیں۔

قصیدہ میں مزاح اور طنز بہت مہارت کے ساتھ استعمال کیا گیا ہے۔ سودا نے گھوڑے کے ہر عمل، حالت، اور رویے کو ایک معاشرتی یا سیاسی طنز سے مربوط کیا ہے۔ مثال کے طور پر، گھوڑے کے کمزور ہونے، بھوکا رہنے، یا لڑائی کے قابل نہ ہونے کو بادشاہت کے زوال، فوج کی ناکامی، اور رعایا کے حالات سے جوڑا گیا ہے۔ گھوڑے کی شکل، طاقت، اور حرکت سب کچھ ایک مزاحیہ لیکن حقیقت پر مبنی تصویر پیش کرتے ہیں۔

قصیدہ میں سودا نے سلیقے اور زبان و بیان کی اعلیٰ مہارت بھی دکھائی ہے۔ وہ گھوڑے کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے طنز، استعارہ، اور مزاح کا بے حد استعمال کرتے ہیں، اور قارئین کو ہنسانے کے ساتھ ساتھ زندگی اور زمانے کی تلخیوں پر غور کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔

مجموعی طور پر، تضحیکِ روزگار ایک طنزیہ اور ہجویہ قصیدہ ہے جو گھوڑے کی حالت کے ذریعے مغلیہ سلطنت، معاشرتی بے ربطی، اور انسانی کمزوریوں کی تصویر پیش کرتا ہے۔ اس میں مزاح، طنز، عبرت اور سلیقے کی نمائندگی یکجا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ یہ قصیدہ اردو ادب میں ہجو اور طنز کے بہترین نمونوں میں شمار ہوتا ہے۔

الف) انشا
ب) ذوق
ج) سودا
د) غالب

الف) غزل
ب) ہجویہ قصیدہ
ج) رباعی
د) نعت

الف) مرہٹہ سلطنت
ب) مغلیہ سلطنت
ج) دہلی سلطنت
د) بریطانوی دور

الف) ایک نقیب
ب) ایک نوجوان سپاہی
ج) ایک ابلق (دو رنگا) گھوڑا
د) ایک نوکر

الف) اردو
ب) فارسی
ج) عربی
د) ترکی

الف) غلاموں کی بے بسی
ب) بادشاہت کے زوال
ج) معاشرتی ناانصافی
د) سب صحیح ہیں

الف) طاقتور اور شجاع
ب) لاغر، کمزور اور بے اختیار
ج) خوبصورت اور تیز رفتار
د) نرم مزاج اور شگفتہ

الف) سراسر تعریف
ب) طنز اور مزاح
ج) سادہ بیانیہ
د) نثری بیان

الف) لڑائی کے قابل اور مضبوط
ب) بھوکا، کمزور اور ہر کام کے لائق نہیں
ج) آرام دہ اور خوش مزاج
د) تیز رفتار اور باہمت

الف) طاقتور ہمیشہ کامیاب رہتے ہیں
ب) معاشرتی کمزوریاں اور زمانے کی بے رخی کو طنز کے ذریعے دکھانا
ج) صرف گھوڑوں کی اہمیت بیان کرنا
د) صرف جنگ کی تکنیکیں سکھانا

جواب ۔  مرزا محمد رفیع سودا کو قصیدہ نگاری کا نقاش اول کہا جاتا ہے۔ اٹھارھویں صدی میں اردو میں قصیدہ گوئی کو جس کمال تک پہنچانے کا سہرا کسی شاعر کے سر جاتا ہے، وہ مرزا محمد رفیع سودا ہیں۔ مصحفی نے بھی انہیں اس صنف میں بہترین اور نقاش اول تسلیم کیا۔

جواب ۔  قصیدہ کی ابتدا فارسی زبان میں ہوئی تھی۔ فارسی شعرا نے اس صنف کو بہت ترقی دی اور اجزاء و اصول مقرر کیے، جیسے مدح، تشبیب، گریز، طلب اور دعا۔ بعد میں اردو شاعروں نے فارسی کے اثر سے اسی صنف کو اپنایا اور اردو میں بھی قصیدہ گوئی کا چلن بڑھا۔

جواب ۔  اگرچہ سودا کے مکمل عددی کلام کا حساب موجود نہیں، لیکن یہ بات واضح ہے کہ انہوں نے غزلوں کے علاوہ کئی قصائد بھی کہے اور ان میں ہجو، مدح اور طنز کی صنف میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ ان کے قصیدوں میں بادشاہوں اور اشرافیہ کی مدح اور طنزیہ منظر نگاری شامل ہے، جس کی مثال مشہور قصیدہ تضحیکِ روزگار ہے۔

جواب ۔  سودا نے فارسی میں خان آرزو سے رہنمائی حاصل کی اور ان کے اشعار اور اصول کو اپنے لیے نمونہ بنایا۔ علاوہ ازیں سراج الدین علی خان آرزو نے بھی ان کی توجہ اردو شاعری کی طرف دلائی اور رہنمائی کی۔ یوں فارسی کے بڑے شعرا کے اسلوب و اصول ان کے لیے نمونہ بنے۔

جواب ۔  سودا کا سب سے مشہور ہجویہ قصیدہ تضحیکِ روزگار ہے۔ اس قصیدے میں انہوں نے ایک گھوڑے کے ذریعے مغلیہ سلطنت کے سیاسی اور معاشی زوال کو طنزیہ انداز میں پیش کیا۔ یہ قصیدہ ان کی طنز و ہجو میں مہارت اور معاشرتی بصیرت کا بہترین نمونہ ہے۔

 قصیدہ کے اجزائے ترکیبی وہ بنیادی حصے ہیں جو اس صنف کو مکمل اور منظم بناتے ہیں۔ روایتی طور پر اردو اور فارسی میں یہ اجزاء شامل ہیں ۔  تشبیب، یعنی آغاز میں شاعر کی تعریف یا ماحول کی تصویر؛ گریز، یعنی موضوع سے ہٹ کر معمولی یا ضمنی خیال پیش کرنا؛ مدح، یعنی کسی شخص یا مقام کی تعریف؛ طلب، یعنی دعا یا کسی بھلائی کی خواہش؛ اور دعا، جس میں آخر میں کسی کی خیر یا نصرت کے لیے التجا کی جاتی ہے۔ ہر جزو کے لیے الگ اصول مقرر کیے گئے ہیں تاکہ قصیدہ ایک فنکارانہ اور منظم انداز اختیار کرے۔

ہجو شاعری کی وہ صنف ہے جس میں کسی شخص یا واقعے کی تنقید، طنز یا مذاق اُڑایا جائے۔ اس کا مقصد محض مزاح نہیں بلکہ عموماً برائیوں یا کمیوں کی نشاندہی کر کے عبرت دلانا ہوتا ہے۔ اردو میں ہجو اکثر کسی حکمران، اشراف یا کسی خاص صورت حال پر بھی لکھا جاتا ہے، اور اس میں فنی مہارت، زبان و بیان اور استعارات کا استعمال اہم ہوتا ہے۔

قصیدہ تضحیکِ روزگار میں مرزا محمد رفیع سودا نے مغلیہ سلطنت اور اس کے سیاسی و معاشی زوال کا مذاق اُڑایا ہے۔ اس میں ایک ناکارہ، لاغر اور کمزور گھوڑے کے ذریعے اس دور کی حکومت، حکمرانوں اور اشرافیہ کے رویوں کی طنزیہ عکاسی کی گئی ہے۔ گھوڑے کی بے کار اور مضحکہ خیز حالت، جس پر سپاہی یا شہری سوار ہونے کی کوشش کرتے ہیں، بادشاہت اور ریاست کی کمزوری اور بے عملی کی علامت بنائی گئی ہے۔ اس طرح سودا نے نہ صرف ایک طنزیہ منظر پیش کیا بلکہ سیاسی اور معاشرتی خامیوں کی نشاندہی بھی کی۔

 سودا اس قصیدے میں یہ بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ظاہری شان و شوکت کے باوجود اگر نظام اور ادارے کمزور ہوں تو طاقت اور اثر صرف دکھاوے کے لیے رہ جاتی ہے۔ گھوڑے کے مضحکہ خیز کردار سے وہ مغلیہ سلطنت کے سیاسی و معاشی زوال، حکمرانوں کی نااہلی اور عوام کی مشکلات کی تصویر کھینچتے ہیں۔ مقصد صرف ہنسی مذاق نہیں بلکہ معاشرتی اور سیاسی شعور بیدار کرنا ہے، تاکہ لوگ ضعف اور ناپائیداری کو پہچانیں۔

 مرزا محمد رفیع سودا 1713 میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد مرزا محمد شفیع تجارت کے پیشے سے تعلق رکھتے تھے۔ والد کے انتقال کے بعد انہیں مختصر عرصہ فوج میں ملازمت کا موقع ملا، لیکن زیادہ تر زندگی امرا کی مصاحبت میں گزری۔ ان کے مربی اور کفیل بسنت خاں، نواب عماد الملک، مہربان خان رند، شجاع الدولہ اور آصف الدولہ تھے۔ سودا نے فارسی اور اردو دونوں زبانوں میں شاعری کی، اور انہیں موسیقی اور فنون لطیفہ کا بھی شغف تھا۔ 1781 میں لکھنؤ میں وفات پائی۔

سودا کی قصیدہ نگاری اردو میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔ انہوں نے بادشاہت اور اشرافیہ کی مدح کے ساتھ ساتھ ہجو اور طنز میں بھی مہارت حاصل کی۔ ان کے قصائد، جیسے تضحیکِ روزگار، اپنی زبان و بیان کی قوت، فنی تخیل اور استعاراتی مہارت کی وجہ سے منفرد ہیں۔ سودا نے قصیدہ کو محض مدح یا چاپلوسی تک محدود نہیں رکھا بلکہ سیاسی و معاشرتی کمزوریوں کی نشاندہی اور تنقید کے لیے بھی استعمال کیا۔ ان کی فنی مہارت، دقیق مشاہدہ اور طنزیہ انداز انہیں اردو کے عظیم قصیدہ نگاروں میں ممتاز کرتا ہے۔

نا طاقتی کا اس کی کہاں تک کروں بیاں؟

فاقوں کا اس کے اب میں کہاں تک کروں شمار؟

مانند نقش نعل زمیں سے یہ جز فنا

ہرگز نہ اٹھ سکے وہ اگر بیٹھے ایک بار

ہے پیر اس قدر کہ جو بتلاوے اس کا سین

پہلے وہ لے کے ریگ بیاباں کرے شمار

لیکن مجھے زردے تو اریخ یاد ہے

شیطان اسی پہ نکلا تھا بہت سے ہو سوار

یہاں شاعر ایک گھوڑے کی انتہائی کمزوری، لاغری اور بیکاری کو بیان کر رہا ہے۔ ناطاقتی یعنی طاقت کی کمی اور فاقوں یعنی بھوک و کمزوری کو شاعر اتنی شدت سے محسوس کرتا ہے کہ وہ اسے لفظوں میں بیان کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔ یہ طنزیہ اور مبالغہ آمیز انداز اس گھوڑے کی مضحکہ خیز حالت کو نمایاں کرتا ہے۔

اس میں گھوڑے کی کمزوری کو اور بڑھا کر بیان کیا گیا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ یہ گھوڑا زمین پر پڑے ہوئے نقش نعل (نعل کے نشان) کی مانند ہے، یعنی اس کی موجودگی کچھ خاص اثر نہیں رکھتی۔ اگر وہ بیٹھ جائے تو اٹھنا بھی اس کے بس کی بات نہیں، جس سے اس کی مضحکہ خیزی اور بے کار ہونے کی کیفیت سامنے آتی ہے۔

یہاں پیر سے مراد گھوڑے کا پاؤں ہے، اور شاعر طنز کرتے ہوئے کہتا ہے کہ گھوڑے کے پاؤں اتنے کمزور اور بے اثر ہیں کہ اگر وہ حرکت کرے تو صرف بیابان کے ریگ کے دانے ہی گن سکے۔ اس سے گھوڑے کی نہایت کمزوری اور ناکامی کو مزاحیہ انداز میں دکھایا گیا ہے۔

یہاں شاعر طنزیہ انداز میں تاریخی یا مذہبی تمثیل پیش کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ حتیٰ کہ شیطان بھی اس گھوڑے پر سوار ہو کر کمال حاصل نہ کر سکا، یعنی گھوڑے کی حالت اور ناقص فطرت ایسی ہے کہ کوئی بھی اسے قابلِ اعتماد یا مؤثر نہیں سمجھ سکتا۔ یہ شعر اس گھوڑے کی مضحکہ خیزی اور ناکامی کو آخری حد تک واضح کرتا ہے۔

فعل → افعال (واحد سے جمع)
حال→ حالات (واحد سے جمع)
تواریخ → تاریخ (جمع سے واحد)
خدمات→  خدمت (جمع سے واحد)
وقت → اوقات (واحد سے جمع)

Scroll to Top