افسانہ: تعارف، تعریف،فن اور اجزائے ترکیبی
افسانے کا تعارف
تحقیقات کے مطابق افسانہ اور افسوں کا مادہ ایک ہی ہے۔ افسوں کے ذریعے بھی لوگوں کے دلوں کو نرم اور متاثر کیا جاتا ہے، اور افسانہ سنا کر بھی دلوں پر اثر ڈالنا مقصد ہوتا ہے۔ افسوں کی بھی کوئی حقیقی بنیاد نہیں ہوتی اور افسانے کی بھی کوئی ٹھوس حقیقت نہیں ہوتی۔
اگر اس بات کو سامنے رکھ کر مطالعہ کیا جائے تو ہندی میں کہانی، عربی میں قصہ اور فارسی میں افسانہ لغوی اعتبار سے ایک ہی معنی رکھتے ہیں اور ایک دوسرے کے بدلے استعمال ہو سکتے ہیں۔ لیکن اردو ادب میں یہ تینوں اصطلاحات کے طور پر استعمال ہوتے ہیں اور اس لحاظ سے ایک دوسرے سے کچھ مختلف ہیں۔ تینوں میں یہ بات مشترک ہے کہ کسی واقعے کو اس طرح دلچسپ انداز میں بیان کیا جائے کہ قاری یا سامع پوری توجہ کے ساتھ اسے پڑھے یا سنے۔
حکایت، روایت، قصہ، داستان، کہانی اور افسانہ یہ سب الفاظ بظاہر ایک جیسے لگتے ہیں، لیکن ان کے مفہوم میں فرق ہے۔ خاص طور پر افسانہ اپنی خصوصیات کے لحاظ سے باقی تمام اصنافِ ادب سے الگ اور مختلف ہے۔
اردو میں افسانہ کو انگریزی لفظ شارٹ اسٹوری کا ہم معنی سمجھا جاتا ہے۔ یہ بیسویں صدی کے آغاز میں مغرب کے اثر سے، انگریزی کے ذریعے اردو ادب میں شامل ہوا۔ لیکن شروع ہی سے یہ ہندوستانی ماحول میں اس طرح گھل مل گیا کہ اب اسے صرف باہر سے آئی ہوئی صنف نہیں کہا جا سکتا۔ اگرچہ افسانے کی بناوٹ مغربی ہے اور اس کے فن کے اصول بھی مغرب سے لیے گئے ہیں، لیکن اس کی دوسری خصوصیات ہماری قدیم ادبی روایت سے جڑی ہوئی ہیں۔
اسی وجہ سے مغربی ادب سے متاثر ہونے کے باوجود اردو افسانہ اپنی الگ پہچان رکھتا ہے۔ اس نے ہندوستان میں رائج کہانیوں کو اپنے اندر شامل کر کے ملکی سماج، تہذیب اور قومی زندگی کی صحیح تصویر پیش کی ہے۔
افسانہ کی تعریف
افسانے سے مراد ایسی نثری کہانی ہے جس میں کوئی ایسا واقعہ بیان کیا گیا ہو جس کی ابتدا ہو، ارتقاء ہو، اور خاتمہ ہو اور جو زندگی کی بصیرت میں اضافہ کرے۔ دوسرے لفظوں میں وہ نثری کہانی جس میں زندگی کے کسی ایک گوشے یارخ کو کم سے کم الفاظ میں اجاگر کیا جائے۔ افسانہ مغربی ادب سے مستعار لیا گیا ہے لیکن اس کے موضوعات ابتدا سے ہی مقامی عناصر پر مشتمل رہے ہیں۔
مختصر افسانے کی مختلف تعریفیں کی جاتی ہیں۔
اڈگر الین پو کے مطابق ۔ افسانہ وہ مختصر کہانی ہے جو آدھے گھنٹے سے لے کر ایک یا دو گھنٹے کے اندر پڑھی جاسکے ۔ گویا افسانہ اتنا مختصر ہونا چاہئے کہ اسے ایک نشست میں پڑھا جا سکے لیکن اس تعریف میں افسانے کی فنی ساخت سے متعلق وضاحت نہیں ہوتی۔
واشنگٹن ارنگ جس نے انیسویں صدی کے آغاز میں مختصر افسانے کی ابتداء کی، لکھتے ہیں کہ مختصر افسانے کو پڑھ کر قاری کے دل پر ایک خاص کیفیت گزر جاتی ہے اور یہی مختصر افسانے کی پہچان ہے۔
پروفیسر وقار عظیم ۔ کے مطابق مختصر افسانہ ایک ایسی نثری داستان ہے جو بآسانی آدھ گھنٹہ سے لے کر دو گھنٹے تک پڑھ سکیں اور جس میں اختصار یا سادگی کے علاوہ اتحاد اثر ، اتحاد زماں، اور اتحاد کر دار بدرجہ اتم موجود ہوں۔
اردو میں افسانہ انگریزی لفظ شارٹ اسٹوری سے مستعار ہے۔ لہذا پہلے مختصر افسانہ اور پھر افسانہ رائج ہو گیا۔ حالاں کہ کہانی کے طور پر بھی اس کا استعمال ہوتا ہے۔ دی انسائیکلو پیڈیا برٹمینی کا میں شارٹ اسٹوری کی تعریف و وضاحت ان الفاظ میں کی گئی ہے۔
Short story, brief fictional process narrative that is shorter than a novel and that usually deals with only a few characters. The short story is usually concerned with a single effect conveyed in only one or few significant episodes or scenes………. The short story had its precedents in ancient Greek fables and brief romances, the tales of the Arabian Nights.
(“The New Encyclopaedia Britanica” Volume10, 15th Edition, Page 761.)
اس اقتباس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مختصر افسانہ ایک ایسی صنفِ ادب ہے جو ناول کے مقابلے میں بہت چھوٹی ہوتی ہے اور چند اہم باتوں کو ایک مضبوط اور متحد اثر کے ساتھ پیش کرتی ہے۔
ٹی۔ او۔ بیچ کرافٹ نے اپنی کتاب دی ماڈیسٹ آرٹ کے پہلے باب میں مختلف مغربی ادیبوں کے حوالے سے افسانے کی ابتدا کے بارے میں معلومات دی ہیں۔ ایچ۔ ای۔ بیس اپنی کتاب دی ماڈرن شارٹ اسٹوری میں لکھتا ہے کہ افسانے کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں بلکہ کافی مختصر ہے۔ الزبتھ بووین اپنی کتاب دی فیبر بک آف ماڈرن میں کہتی ہیں کہ افسانہ ایک جدید فن ہے اور اسی صدی کی پیداوار ہے۔ سمرسٹ ماہم افسانے کو جدید صنف تو مانتا ہے لیکن اسے انیسویں صدی کے وسط کی پیداوار قرار دیتا ہے۔ کتاب اے اسٹڈی آف دی شارٹ اسٹوری میں اس کے امریکن مصنفین ایچ۔ ایس۔ کینیائیاوراے۔ ایس۔ ڈیشیل افسانے کو انیسویں صدی کے ابتدائی دور کی پیداوار بتاتے ہیں۔
بیچ کرافٹ اپنی کتاب کے پیش لفظ (اسٹوریز، صفحہ 3-5) میں کہانی (قدیم) اور افسانہ (جدید) کے درمیان بنیادی فرق بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ کہانی عموماً کہانی گو زبانی طور پر سامعین کو سناتا ہے۔ اس میں کہانی گو کی موجودگی اور اس کی شخصیت کو خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ وہ اپنی مہارت سے وہی روایتی کہانی سناتا ہے جس سے سامعین پہلے ہی واقف ہوتے ہیں، اور اس طرح انہیں متاثر کرتا ہے۔
اس کے برعکس افسانہ تحریری صورت میں ہوتا ہے۔ افسانہ نگار براہِ راست قارئین کے سامنے موجود نہیں ہوتا۔ وہ ایک بالکل نئی کہانی لکھتا ہے تاکہ قاری کی توجہ حاصل ہو سکے اور قاری تنہائی میں اس پر زیادہ گہرائی سے غور اور احساس کر سکے۔ کہانی زبانی انداز میں سنائی جاتی ہے، جبکہ افسانہ تحریر کی صورت میں ہوتا ہے اور اس کا مقصد پڑھنے سے ہی پورا ہوتا ہے۔
برمیتھیوز نے اپنی کتاب دی فلاسفی آف دی شارٹ اسٹوری میں افسانے کے بارے میں مزید وضاحت کی ہے۔ وہ افسانے کو مختصر کہانی سے بالکل الگ اور اعلیٰ صنف مانتا ہے۔ اس کے مطابق افسانہ کئی غور و فکر کے بعد وجود میں آتا ہے اور اس میں بہت سی خوبیاں شامل ہوتی ہیں۔
درحقیقت روایت، حکایت، قصہ، کہانی، داستان اور افسانہ ایک ہی سلسلے کی مختلف شکلیں ہیں، لیکن افسانہ اپنی ترقی یافتہ صورت میں ایسی بیانیہ تحریر ہے جس میں فن کو سامنے رکھ کر زندگی کے کسی ایک واقعے، حادثے یا جذبے کو مختصر انداز میں بیان کیا جاتا ہے، تاکہ قاری پوری دلچسپی سے اسے پڑھے اور آخر تک پہنچ کر اس کا ایک مکمل اور گہرا اثر اس کے ذہن میں قائم ہو جائے۔
وقار عظیم نے ایڈگر ایلن پو، اے۔ جے۔ جے۔ ریٹ کلف، ایچ۔ جی۔ ویلز، چیخوف، مس الزبتھ بووین، ای۔ جے۔ اور برین اور دیگر مغربی ادیبوں کے حوالے سے افسانے کی مختلف تعریفیں اور خصوصیات بیان کی ہیں اور اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ
افسانہ نثر کی ایک مختصر بیانیہ تحریر ہوتی ہے جو ایک اہم ڈرامائی واقعے کو نمایاں کرتی ہے۔ اس میں کسی ایک کردار یا چند خاص کرداروں کو نمایاں کیا جاتا ہے۔ اس میں کردار کی ذہنی کشمکش یا اس کی زندگی کا کوئی ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے، اور واقعات کو اس قدر اختصار سے پیش کیا جاتا ہے کہ قاری کے ذہن میں ایک فن افسانہ نگاری، ص 16 ہی مضبوط اثر قائم ہو جائے۔
افسانہ زندگی کے حقائق کو پیش کرنے میں مغرب کو مشرق پر برتری دیتا ہے، جبکہ روایت، حکایت، قصہ اور داستان جیسی اصناف کی ابتدا اور ترقی میں مشرق کا اہم کردار رہا ہے اور مغرب نے ان سے فائدہ اٹھایا ہے۔
اسی بنیاد پر یہ بات طے ہوتی ہے کہ اردو زبان میں افسانہ ایک ایسی صنف ہے جو بیسویں صدی میں تیزی سے بدلتے ہوئے زمانے کی پیداوار ہے۔ یہ نثری صنف ہمارے ادب میں مغربی ادب کے اثر سے، انگریزی زبان کے ذریعے داخل ہوئی ہے۔
افسانے کا فن
ایڈگر ایلن پو، اے۔ جے۔ جے۔ ریٹ کلف، ایچ۔ جی۔ ویلیس، چیخوف وغیرہ سے لے کر شمس الرحمٰن فاروقی تک سب اس بات پر متفق ہیں کہ کسی واقعے کو اس طرح دلچسپ انداز میں بیان کیا جائے کہ قاری یا سامع پوری توجہ کے ساتھ اسے پڑھ یا سن سکے، یہی افسانے کی اصل بنیاد ہے۔ افسانے میں واقعات، تجربات، مشاہدات اور کرداروں کو پوری غیر جانبداری کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے اور افسانہ نگار اپنی ذاتی رائے یا احساسات کو اس میں شامل نہیں کرتا۔ اس طرح افسانہ نگار اپنا کام مکمل کر دیتا ہے۔
افسانے کے ذریعے قاری کے سامنے کوئی بھی مسئلہ رکھا جا سکتا ہے، لیکن اس کا حل بتانا ضروری نہیں ہوتا۔ حل تلاش کرنا اور نتیجہ نکالنا قاری کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ افسانے کی لمبائی کے بارے میں ناقدین کی رائیں مختلف ہیں، لیکن سب اس بات پر متفق ہیں کہ افسانہ اتنا طویل نہ ہو کہ قاری اکتا جائے۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ افسانہ وہ تحریر ہے جسے پندرہ منٹ میں پڑھا جا سکے۔ اسی وجہ سے مختصر افسانے میں زیادہ واقعات اور بہت سے کردار شامل کرنا ممکن نہیں ہوتا۔
اگرچہ اردو افسانہ مغرب سے آیا ہے، لیکن یہ ہندوستانی ماحول میں اس طرح گھل مل گیا ہے کہ اب اسے غیر ملکی صنف کہنا مشکل ہو گیا ہے۔ افسانے کی ساخت مغربی ہے اور اس کے فنی اصول بھی مغرب سے لیے گئے ہیں، لیکن اس کی دوسری خوبیاں ہمارے قدیم ادبی سرمائے سے جڑی ہوئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی ادب سے متاثر ہونے کے باوجود اردو افسانے کی اپنی الگ پہچان ہے۔ اس نے ہندوستان میں رائج کہانیوں اور داستانوں کو اپنے اندر شامل کیا ہے، ملکی سماج، تہذیب اور قومی زندگی کی عکاسی کی ہے، اور کم وقت میں ہی ادب کو قیمتی تخلیقات دی ہیں۔
افسانہ انسانی زندگی سے جڑے تمام محرکات، حالات، مختلف مشغلے، دکھ سکھ، اتار چڑھاؤ اور واقعات کو اپنے اندر سمیٹ کر اس طرح ادبی شکل دیتا ہے کہ زندگی کے کسی ایک پہلو کو نمایاں کر کے قاری کے ذہن پر گہرا اثر چھوڑتا ہے۔ چونکہ افسانہ انسانی زندگی سے براہ راست تعلق رکھتا ہے، اس لیے یہ بھی زندگی کی طرح متحرک اور بدلتا رہتا ہے۔ جیسے جیسے انسانی زندگی میں تبدیلیاں آتی ہیں، افسانہ بھی اسی کے مطابق نئی صورت اختیار کرتا ہے۔
مختصر افسانے کی جان وحدتِ تاثر ہے۔ یہی افسانہ نگار کا اصل مقصد ہوتا ہے کہ وہ کم وقت میں قاری کے ذہن پر ایک مضبوط اثر قائم کر دے۔ اس مقصد کے لیے وہ اپنے تجربات، مشاہدات اور تخیل سے کام لیتا ہے اور تخلیق کے مشکل ذہنی مراحل سے گزر کر واقعات کو دلکش انداز میں جوڑتا ہے۔ وہ ایسے کردار پیش کرتا ہے جو ماحول اور فضا کے مطابق ہوں اور افسانے کے مقصد کو پورا کریں۔
افسانے کے فنی اجزا جیسے روانی، تجسس، نیاپن، تازگی اور جامعیت قاری کو اس طرح اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں کہ اس کی دلچسپی شروع سے آخر تک قائم رہتی ہے۔ جب قاری کا ذہن اس ایک تاثر کو قبول کر لیتا ہے جس کے لیے افسانہ تخلیق کیا گیا ہو، تو افسانہ کامیاب ہو جاتا ہے۔
افسانہ نگار کے لیے بعض مراحل مشکل اور محنت طلب ہوتے ہیں۔ وحدتِ تاثر قائم رکھنے کے لیے وہ پہلے اپنے ذہن میں خیال کو سنوارتا ہے، پھر واقعات اور کرداروں کا انتخاب کرتا ہے، اور آخر میں سب کو اس طرح جوڑ دیتا ہے کہ افسانے میں تیزی اور اثر پیدا ہو جائے۔
افسانہ کے اجزائے ترکیبی
ہمارے علم میں یہ ہونا چاہیے کہ اردو کا پہلا طبعزاد افسانہ مولانا راشد الخیری کا نصیر اور خدیجہ ہے۔ یہ افسانہ ماہنامہ مخزن لاہور بابت ماہ دسمبر 1903 میں شائع ہوا تھا۔ حالاں کہ اس سے قبل سجاد حیدر یلدرم کے دو افسانے مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ (معارف، اگست 1900 ء ) اور نشے کی پہلی ترنگ ( معارف اکتوبر 1900ء) شائع ہو چکے تھے مگر اوّل الذکر انگریزی افسانہ کا ترجمہ ہے اور ثانی الذکر ترکی زبان کے مشہور افسانہ نگار خلیل رشدی بے کے افسانہ کا ترجمہ ہے۔
تشکیلی عناصر میں موضوع (تھیم) ، قصہ/ واقعہ، پلاٹ، کردار، مکالمہ، اسلوب، فضا وماحول اور وحدتِ تاثیر کو اہمیت حاصل ہے۔
موضوع (تھیم)
شروع سے ہی صنفِ افسانہ میں موضوع کے انتخاب کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔ مثال کے طور پر خواجہ حسن نظامی نے ملک و ملت کی خراب حالت اور قدیم تہذیب و معاشرت کے زوال کو اپنے افسانوں کا موضوع بنایا۔ انہوں نے اپنے افسانوں کو تاریخی حقائق کے بہت قریب رکھنے کی کوشش کی اور زبان کو اتنا سادہ رکھا کہ جدید افسانوی تکنیک کی طرف کم توجہ ہو سکی۔
حکیم یوسف حسن نے رسم و رواج کی غیر ضروری پابندیوں اور ان سے پیدا ہونے والے حالات کو اپنے افسانوں کا موضوع بنایا۔ ان کے افسانے معاشرے میں ہونے والے ظلم، زیادتی اور لوٹ مار کے واقعات پر مرکوز ہیں۔ حامد اللہ افسر نے بھی تقسیم کے موضوع پر خاص توجہ دی۔ وہ اپنی وسیع سوچ اور گہری نظر کی مدد سے زندگی کے چھوٹے چھوٹے واقعات سے دلچسپ اور سبق آموز موضوعات اخذ کرتے ہیں اور انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو سامنے لانے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔
راشد الخیری کا اہم موضوع مشرقی روایات اور تہذیب کی حفاظت اور خواتین کی فلاح رہا ہے۔ موضوع پر خاص توجہ دینے کی وجہ سے اردو افسانے کی تاریخ میں انہیں مصورِ غم اور محسنِ نسواں کہا جاتا ہے۔ ان کے پسندیدہ موضوعات میں عورتوں پر ہونے والے ظلم، تعلیم و تربیت، معاشرتی اصلاح کی کوششیں، گھریلو اصول، صحت کی حفاظت اور بچوں کی دیکھ بھال شامل ہیں۔
حکیم احمد شجاع، ایم اسلم، امتیاز علی تاج، نذر سجاد حیدر، سید عابد علی عابد، پنڈت بدری ناتھ سدرشن اور اعظم کریوی نے بھی موضوع کے انتخاب کو خاص اہمیت دی، لیکن پریم چند نے اس دائرے کو مزید وسیع کیا۔ انہوں نے موضوع کو باقاعدہ ایک اہم جز کی حیثیت دی اور ساتھ ہی دوسرے عناصر کو بھی ضروری قرار دیا۔ انہوں نے سماجی ناانصافی، رشوت، معاشرتی بگاڑ، جہالت، بے روزگاری، بھیک مانگنے کی لعنت، جہیز، ناموزوں شادیوں اور استحصالی نظام سے پیدا ہونے والے مسائل کو فنکارانہ انداز میں پیش کر کے افسانے کے اجزا کو مضبوط بنایا۔
پریم چند نے سب سے پہلے یہ واضح کیا کہ مختصر افسانے کا سب سے پہلا جز موضوع ہوتا ہے۔ اسے نمایاں کرنے کے لیے افسانہ نگار کو کسی ایک نکتے پر پوری توجہ مرکوز کرنا ہوتی ہے۔ یہ ایک مشکل مرحلہ ہے، جس کے لیے گہری نظر اور وسیع مطالعہ ضروری ہوتا ہے۔ اسی صورت میں افسانہ نگار موضوع پر مکمل گرفت حاصل کر کے کہانی کی ساخت تیار کر سکتا ہے، پلاٹ کو ترتیب دے سکتا ہے اور اسی بنیاد پر عنوان قائم کر سکتا ہے۔
قصہ/ واقعہ
کہیں سنی یا دیکھی ہوئی بات یا واقعہ کو چاہے وہ فرضی ہو یا حقیقی ، اپنے مختصر ترین الفاظ میں بیان کرنے کا نام قصہ ہے۔ کسی بھی قصے یا واقعے کو افسانہ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اسے افسانوی رنگ دیا جائے۔ یہ کسی بھی رُخ یا زاویے سے شروع ہو کر اپنا دائروی سفر شروع کرتا ہے۔ اس سفر میں انسانی حرکات و سکنات اور واقعات کا بیان یکے بعد دیگرے اس طرح ہوتا ہے کہ اختتام کسی معقول نتیجے پر ہو۔ اس میں موضوع کے ارد گرد واقعات کی اہم تفصیلات و جزئیات کو اس طرح ترتیب دیا جاتا ہے کہ اس میں کہانی پن پیدا ہو جائے تا کہ افسانہ میں بڑھتا ہوا تجسٹس قاری کو ہر دم باندھے رکھنے میں کامیاب رہے۔ قصہ / واقعہ کی مختلف قسمیں ہوتی ہیں۔ کچھ کا انداز جگ بیتی کا ، کچھ میں آپ بیتی کا۔ کچھ سیدھے، کچھ آڑے ترچھے اور کچھ دائروی شکل میں ہوتے ہیں۔ کچھ قصے قرین قیاس ہوتے ہیں اور کچھ دور از قیاس مگر سب کی بنیاد انسانی زندگی کے کسی خاص پہلو پر ہوتی ہے جس میں اس اہم پہلو کے واقعات کا عکس ہوتا ہے۔ مختصر ترین لفظوں میں ہونے کے باوجود یہ عکس بھر پور ہوتا جس کا نقش قاری کے ذہن پر دیر تک برقرار رہتا ہے۔
پلاٹ
افسانے میں پلاٹ کی حیثیت جسم میں ریڑھ کی ہڈی کی سی ہے۔ اس کی کئی قسمیں بیان کی گئی ہیں جیسے سادہ پلاٹ، پیچیدہ پلاٹ ، غیر منظم پلاٹ ہمنی پلاٹ وغیرہ تقسیم ہند سے قبل سادہ پلاٹ زیادہ مقبول رہے ہیں بعد میں تیزی سے ان کی نوعیت بدلی ہے۔ ناقدین نے پلاٹ کا پہلا مجز افسانے کا عنوان قرار دیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ عنوان میں مقناطیسی کشش اور معنویت ہونی چاہیے کہ قاری سُرخی دیکھ کر افسانہ پڑھنے پر آمادہ ہو جائے۔ اچھے عنوان کی پہلی شرط افسانے کے موضوع سے اُس کی مناسبت ہے۔ دوسری خصوصیت اس کا مختصر ہونا ہے اور تیسرا وصف اُس کا نیا پن ہے۔
افسانہ میں واقعات، مشاہدات اور حادثات کی فنی تعمیر دراصل پلاٹ کی تشکیل کی وساطت سے ہوتی ہے جو افسانہ کے دیگر اجزاء کو آپس میں مربوط رکھ کر آغاز سے انجام تک تجسس اور تسلسل انجام تک تجسس اور تسلسل کو برقرار رکھتی ہے۔ پلاٹ جس قدر مربوط نجس اور متناسب ہوگا ، افسانہ اُتنا ہی دلچسپ اور معیاری ہوگا اور قاری اس قدر منہمک ہو کر بھر پور تاثر قبول کر سکے گا۔ سپاٹ یا غیر منظم پلاٹ افسانویت سے عاری ہوتے ہیں۔ اُن میں وہ گرید برقرار نہیں رہ پاتی جو قاری کو بے چین کر دیا کرتی ہے۔ اس لیے پلاٹ کے صیغے میں افسانہ نگار کو واقعات اس ترتیب کے ساتھ بیان کرنے چاہئیں کہ قاری کی دلچسپی لمحہ بہ لمحہ بڑھتی جائے اور وہ انجام جاننے کے لیے مضطرب ہو جائے ۔ ایک عرصہ تک پلاٹ کو افسانے کا سب سے اہم مجر مانا گیا لیکن بغیر پلاٹ کے افسانے بھی لکھے جاتے ہیں جس کی وجہ سے پلاٹ کا تصورا فسانے کے واقعات کے منطقی ربط تک محدود نہیں رہ گیا ہے۔
کردار
اشخاص قصہ کے حرکات و سکنات کی عکاسی کا نام کردار سازی ہے۔ کردار افسانے کا مضبوط ترین ستون ہے۔ ناقدین نے اسے افسانہ میں سب سے زیادہ اہمیت دی ہے اور کردار کو پلاٹ پر بھی مقدم بتایا ہے جبکہ کہانی کے سارے ڈھانچے کا انحصار پلاٹ پر مبنی ہوتا ہے۔ بغیر اشخاص قصہ، افسانہ کی تکمیل مشکل ہے۔ جن افسانوں میں حیوانات یا نباتات ہیرو کی شکل میں ہیں اُن میں بھی اُن کو انسانوں کی طرح بولتے سوچتے ، سمجھتے اور عمل کرتے دکھایا گیا ہے۔ پلاٹ میں کرداروں کی شمولیت سے زندگی کی لہر دوڑ جاتی ہے اور ڈرامائی جاذبیت بھی پیدا ہوتی ہے۔ افسانہ نگار زندگی کے جس رخ کی نقاب کشائی کرنا چاہتا ہے وہ ان کو کرداروں کے وسیلے سے منعکس کرتا ہے۔
بہر حال پلاٹ کی طرح افسانہ میں کردار کی بھی بڑی اہمیت ہے۔ ای ۔ ایم ۔ البرائٹ اپنی کتاب دی شارٹ اسٹوری میں کردار نگاری کے دو واضح طریقوں کو بیان کرتا ہے۔ پہلا تجزیاتی یا بالواسطہ طریقہ اور دوسرا ڈرامائی یا بلا واسطہ انداز ۔ پہلے طریقے کو بھی وہ دوحصوں میں تقسیم کرتا ہے۔ پہلے کے تحت کہانی کا اسلوب بیانیہ ہو اور فنکار بحیثیت راوی کردار سے متعارف کرتا ہوا چلے ۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ افسانہ نگار مرکزی کردار کے ذریعے کہانی بیان کرے اور مرکزی کردار وہ خود ہو۔ ڈرامائی یا بلا واسطہ طریقے میں البرائٹ کرداروں کے مکالمے اور عمل کو فوقیت دیتا ہے۔ اس کے مطابق وہ افسانے جن میں واقعات تیزی سے عمل میں آتے ہیں اور مکالموں کا عنصر زیادہ ہوتا ہے، ڈرامائی یا بلا واسطہ کردار نگاری کے وصف سے مملو و متصف ہوتے ہیں ۔
مکالمہ
افسانہ میں مکالمہ کی بھی اہمیت ہے۔ اس کے ذریعے افسانہ نگار کردار کے جذبات واحساسات سے قاری کو متعارف کراتا ہے۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ مکالمہ فطری ہو، موقع محل کے مطابق ہو۔ مکالموں کا تعلق کرداروں سے ہے۔ کرداروں کی نسبت سے ہی مکالموں کا ہونا بھی افسانے میں ضروری ہے جب ہی کرداروں کا حقیقی رنگ و روپ کھلتا ہے اور مختلف کرداروں کے امتیازات نمایاں ہوتے ہیں۔ چونکہ افسانوں میں کرداروں کی گفتگو اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ اس کے سہارے کہانی آگے بڑھتی ہے، گتھیاں سلجھتی ہیں، مطلع صاف ہوتا ہے۔ اس لیے اچھا مکالمہ وہ ہوتا ہے جو کرداروں کی عمر جنس، حیثیت وغیرہ کو ہی واضح نہ کرے بلکہ وقت اور مقام کے بارے میں بھی آگاہ کرتا ہو۔
اسلوب
پلاٹ کی فنی اور موثر ترتیب، جیتے جاگتے کردار ، مناظر کی مصوری اور فضا کی تاثیر کے لیے حُسنِ بیان پر خاصہ زور دیا گیا ہے۔ آغاز سے انجام تک افسانہ نگار کی یہ کوشش کہ قاری افسانہ کی طرف پوری طرح متوجہ رہے اُسی صورت میں ممکن ہو سکتی ہے کہ اس کو زبان پر عبور حاصل ہوا اور تحریر میں موہ لینے والی کیفیت ہو۔ حسن بیان کے سہارے جذباتی تاثر افسانہ کے رگ وپے میں اس طرح سمویا جا سکتا ہے کہ قاری کے دل کی دھڑکنیں تیز ہوتا ہے اور ہو جائیں اور وہ افسانہ ختم کرے تو دلی جذبات اُس کے ذہن میں چنگاریاں کی پیدا کر دیں۔ تقریباً ہر افسانہ نگار کا اسلوب کچھ نہ کچھ مختلف ہوتا ۔ یہ اسلوب ہی اُسے دوسرے افسانہ نگاروں سے ممتاز وممیز کرتا ہے۔ اس وصف کو ہم چار حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں ۔ (الف) بیانیہ اسلوب ۔ (ب) مراسلاتی اسلوب ۔ ( ج ) سوانحی اسلوب ۔ (د) مخلوط اسلوب ۔ حسن بیان کے یہ چاروں انداز ہمیں افسانے کی سو سالہ تاریخ میں واضح طور پر نظر آتے ہیں۔
فضا وماحول
افسانے کے ضروری عناصر فضا اور ماحول بھی قرار دیے جاتے ہیں۔ یہ قصہ ، پلاٹ اور کردار کی ایسی درمیانی کڑیاں ہیں جو تمام واقعات کے تانوں بانوں کو یکجا کرتی ہیں۔ فضا کے ذریعہ قاری کو فوری احساس ہو جاتا ہے کہ دراصل اس کی فضا رومانی طلسماتی ، جاسوس ، المناک، دردناک یا مسرور کن ہے۔ ماحول کے تحت کہانی کے گردو پیش کے مناظر ، مقام کی جغرافیائی خصوصیات اور مکان کے ساز و سامان آتے ہیں بلکہ تہذیب و تمدن ، رہن سہن اور رسم و رواج وغیرہ بھی اس کے احاطہ میں شامل ہو جایا کرتے ہیں۔ اس تاثر کی بدولت معلوم ہوتا ہے کہ جو فضا طاری ہوئی ہے وہ دیہی ماحول کی ہے یا شہری ، قصباتی ، علاقائی ہے۔ علاقائی میں بھی کہاں اور کس طبقے کی ہے۔ لیکن فضا اس تاثر کو کہیں گے جو ماحول کی تصویر کشی سے دل و دماغ میں پیدا ہوتا ہے جیسے قبرستان کی ویران اور تاریک رات کا منظر ماحول میں شمار ہوتا ہے مگر اُس کے تصور سے دل و دماغ پر جو خوف اور اداسی طاری ہوتی ہے اُسے فضا کہیں گے۔
وحدتِ تاثیر
افسانوں کے اجزائے ترکیبی میں وحدت تاثر بھی لازمی جز قرار پاتا ہے۔ حالاں کہ آج اس عنصر سے اختلاف کی گنجائش ممکن ہے کیوں کہ یہ وحدت تاثر سے محروم بھی ہوا ہے۔ یہ جانتے ہوئے کہ افسانہ کا فن دادی، نانی کی کہانی نہیں ہے مگر کیا کیا جائے یہ نصابی مجبوری ہے ورنہ ہر بڑا فنکار قیود سے آزادی چاہتا ہے۔ تاہم اس کا بھی یہی نصب العین ہوتا ہے کہ وہ کم سے کم وقت میں اپنی بات قاری کے ذہنوں میں پرتش کر سکے۔ اس عصر کو برقرار رکھنے کے لیے افسانہ نگار مختلف حربوں کا سہارا لیتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ وہ جو کچھ کہنا چاہتا ہے پورے تاثر کے ساتھ افسانے میں نظر آئے اور قاری اُس کو اُسی شدت سے محسوس کرے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ افسانے میں پیش کیا جانے والا تاثر جس قدر توانا اور مضبوط ہوگا ، افسانہ اُسی قدر کامیاب ہوگا ۔