اردو نظم نگاری آغاز و ارتقاء
نظم ایک ایسی صنفِ شاعری ہے جو فنی اور فکری دونوں اعتبار سے اپنے اندر بہت زیادہ تنوع رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نظم کے ارتقا کی تاریخ اور روایت دوسری اصناف کے مقابلے زیادہ مشکل اور غیر ہموار ہے۔ اردو شاعری کے ابتدائی دور میں نظم باقاعدہ صنف کی صورت میں ہمیں نظر نہیں آتی بلکہ اپنے مزاج کے لحاظ سے مثنوی اور قصیدوں کی شکل میں سامنے آتی ہے۔ پھر اس کے بعد نظیر اکبر آبادی کے یہاں نظم کا کچھ واضح تصور ابھرتا ہے اور عام زندگی کے موضوعات کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ اس کے بعد نظم باقاعدہ طور پر سرسید تحریک اور انجمن پنجاب کے زیر اثر رائج صنف کے طور پر ایک الگ پہچان قائم کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔
زیر نظر نظم کے تاریخی پس منظر، آغاز اور نظم گوئی کی روایت اور اس کے ارتقائی سفر کا مطالعہ کریں گے۔ نظم کے فنی اور فکری ارتقا کا سفر بہت طویل اور غیر ہموار ہے۔ اس صنف میں بیان اور ہیئت دونوں اعتبار سے تنوع پایا جاتا ہے، اس لیے یہ صنف مختلف ادوار میں مختلف شکلیں اختیار کرتی ہے اور اپنے ارتقائی مراحل طے کرتی ہے۔ اس میں نظم کی روایت کے آغاز، اس کے ابتدائی خدوخال اور ارتقائی سفر کے حوالے سے معلومات حاصل کریں گے۔
اردو نظم کا تاریخی پس منظر
اگر اردو شاعری کے آغاز کی بات کریں تو اردو شاعری کی روایت کے آغاز کا سہرا خسرو دہلوی کے سر ہے۔ امیر خسرو اردو شاعری کے بنیاد گزار ہیں۔ بنیادی طور پر خسرو فارسی کے شاعر ہیں اور ان کا زیادہ تر شعری سرمایہ اسی زبان پر مشتمل ہے لیکن اس کے باوجود انہوں نے اردو زبان میں بھی شاعری کی ہے۔ اردو شاعری کے ابتدائی نشانات امیر خسرو کے یہاں ہی ملتے ہیں۔ امیر خسرو کی ہندوی شاعری جو اپنی زبان کی تخلیق کے ابتدائی مرحلوں سے گزر رہی تھی، اردو شاعری کی غیر مربوط، غیر واضح اور ابتدائی شکل تھی۔ زبان و بیان اور ہیئت کے اعتبار سے اگرچہ خسرو کی ہندوی شاعری زیادہ پھیلی ہوئی نہیں ہے مگر موضوعات کی گوناگونی ان کی مختصر معلوم شدہ ہندوی شاعری میں جگہ جگہ نظر آتی ہے۔ ان کے دوہے، محاورے، کہ مکرنیاں اور پہیلیاں بے شمار موضوعات کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں اور ان موضوعات کی گہرائی میں بہت سے معنی پوشیدہ ہیں جن میں غور و فکر کر کے قاری گہرے مطالب اور معنی تلاش کر لیتا ہے۔ چونکہ اردو زبان اپنے ابتدائی دور میں تھی اس لیے خسرو کے یہاں جو زبان ملتی ہے وہ اتنی صاف اور مضبوط نہیں ہے لیکن اس زبان میں جو اپنی تشکیل کے آغاز میں تھی، ایسے نمونے پیش کرنا ان کا ایک غیر معمولی کارنامہ ہے۔
امیر خسرو اردو زبان کے پہلے شاعر اور نظم نگار ہیں۔ ان کا دستیاب ہندوی کلام چند حمدوں، غزلوں، دوہوں، دوسخنوں، جھولوں، کہہ مکرنیوں، محاوروں اور پہیلیوں پر مشتمل ہے۔ خسرو کی پہیلیاں بہت اہم ہیں۔ انہوں نے ان پہیلیوں میں مختلف موضوعات کو شامل کیا ہے۔ ان کی پہیلیوں میں خوبصورت استعاروں اور کنایوں کا خاص استعمال ملتا ہے۔ خسرو نے پہیلی لب، پہیلی حمد الٰہی، پہیلی چراغ، پہیلی ستی، پہیلی فکر اور دیگر عنوانات کے تحت بہت سی پہیلیاں لکھی ہیں۔
امیر خسرو کے بعد شمالی ہند میں اردو شاعری کی روایت کا سلسلہ کچھ عرصے کے لیے رک سا جاتا ہے اور اس کی ترقی شمال کے بجائے دکن میں ہوتی ہے۔ تیرھویں صدی کی آخری دہائی اور چودھویں صدی کی پہلی دہائی میں چند ایسے سیاسی واقعات پیش آتے ہیں جو اردو زبان و ادب کی تاریخ میں اہم حیثیت رکھتے ہیں۔ علاء الدین خلجی نے 1297ء میں گجرات فتح کیا اور پھر 1310ء میں پورے دکن کو فتح کر کے سلطنت دہلی میں شامل کر لیا اور اس کے انتظام کے لیے دکن اور گجرات کے علاقوں میں سو سو گاؤں الگ کر کے ان پر ایک ترک امیر مقرر کیا گیا جسے امیر صده کہا جاتا تھا۔ اس کی وجہ سے بہت سے ترک خاندان شمالی ہند سے جا کر دکن میں آباد ہو گئے۔ اس کے بعد ایک اور اہم واقعہ یہ پیش آیا کہ 1327ء میں محمد بن تغلق نے دہلی کے بجائے دولت آباد کو دارالحکومت بنانے کا فیصلہ کیا اور حکم دیا کہ تمام سرکاری محکمے، فوج، افسران اور متعلقہ لوگ دولت آباد منتقل ہو جائیں۔ اس طرح سرکاری محکموں اور فوج کے ساتھ بہت سے عام لوگ بھی ہجرت کر گئے اور ان کے ساتھ کئی صوفیائے کرام بھی دین کی تبلیغ کے مقصد سے دکن اور گجرات پہنچ گئے۔
مذکورہ واقعات کی بنا پر شمالی ہند سے لے کر جنوبی ہند تک اردو زبان و ادب کی ترقی کے لیے ایسی سازگار فضا پیدا ہوگئی کہ یہ زبان پورے ہندوستان کی مشترکہ عوامی زبان بننے کے لیے تیزی سے ترقی کے مراحل طے کرنے لگی۔ اس طرح اردو زبان شمال سے دکن پہنچ گئی جہاں اس زبان کے ادبی اور لسانی خدوخال واضح ہوئے۔ دکن کے لوگوں اور شمالی ہند سے آنے والوں کی زبانیں ایک دوسرے سے مختلف تھیں اس لیے ایک ایسی مخلوط زبان کو، جسے دونوں سمجھ سکیں، ترقی کرنے اور رائج ہونے کا موقع ملا۔ اسی لیے اردو زبان دکن میں خوب پھلی پھولی۔ صوفیا کرام نے اس زبان کو رواج دینے اور ترقی دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ دکن میں امیران صدہ نے دہلی کے مرکزی اقتدار کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیا اور بہمنی حکومت کے نام سے الگ ریاست قائم کر لی۔ بہمنی حکومت کے زیر اثر اردو زبان کو عوامی سطح پر ترقی کرنے کا موقع ضرور ملا تھا مگر ادبی سطح پر صوفیا کرام کے ملفوظات، مذہبی تصانیف اور مثنوی کدم راؤ پدم راؤ کا ذکر اور حوالے صرف تاریخ کی کتابوں میں ملتے ہیں۔ بہمنی حکومت بھی کچھ عرصے بعد پانچ حصوں میں تقسیم ہو گئی جن میں قطب شاہی اور عادل شاہی خاندانوں کے زیر حکومت اردو شاعری نے بہت ترقی کی۔ ان خاندانوں کے زیادہ تر حکمران خود بھی شاعر تھے اور شاعروں کی سرپرستی اور مدد بھی کرتے تھے۔
دکن میں شعری اصناف میں سب سے زیادہ مثنوی کو فروغ ملا۔ ابتدا میں اردو نظم مثنوی کی شکل اور ساخت میں اردو شاعری کے افق پر نظر آتی ہے۔ مثنوی کے علاوہ دیگر مسلسل بیانیہ اور اپنی شعری جہتیں اور اصناف بھی اسی کے ذیل میں رکھی جاتی ہیں۔ مثنوی اپنے مزاج کے اعتبار سے نظم کے زیادہ قریب ہے۔ مثنوی کو نظم کی ابتدائی شکل یا قالب قرار دینے کی وجہ وہ عناصر اور اوصاف ہیں جن پر نظم کی بنیاد ہے۔ پہلے نظم سے غزل کے علاوہ تمام دیگر بیانیہ شعری اصناف مراد ہوتی تھیں۔ نظم کی کوئی مخصوص شکل نہیں تھی اور نہ وہ کبھی کسی شکل کی پابند رہی ہے۔ چونکہ نظم کی کوئی مخصوص صنف نہیں تھی بلکہ غزل کے علاوہ دیگر اصناف بھی نظم کے دائرے میں آتی تھیں۔ چونکہ جب نظم کی شناخت اردو شاعری میں قائم ہوئی اور اس کی اہمیت مضبوط ہوئی تو فطری طرز اظہار اور حقیقت نگاری کے رجحان کے تحت یہ تبدیلی واقع ہوئی، اور چونکہ مثنوی کی روایت زیادہ تر غیر حقیقی عناصر سے بھری ہوئی تھی اس لیے وہ نظم سے مختلف ہوگئی۔ مذکورہ گفتگو کے تناظر میں مثنوی کو نظم کی ایک ذیلی شکل تسلیم کیا جانا چاہیے۔ چونکہ مثنوی شکل کی پابند ہے لیکن موضوع اور بیان کے اعتبار سے نظم کی پیروی کرتی ہے اور مثنوی کی شکل میں بھی نظم لکھی جاتی ہیں۔ حالی اور آزاد نے نظم جدید کی تحریک کے تحت ایسی ہی نظمیں لکھی ہیں جو مثنوی کی مخصوص شکل میں ہیں بلکہ بعض تو مثنوی کے عنوان کے ساتھ ہی لکھی گئی ہیں جیسے مثنوی شب قدر وغیرہ۔ جب نظم مخصوص صنف کے طور پر متعارف نہیں تھی، اس وقت مثنوی کی شکل میں اردو شاعری میں موجود تھی اور جب نظم بحیثیت صنف اردو شاعری میں اپنی پہچان قائم کرنے میں کامیاب ہوئی تو بھی مثنوی کو الگ نہیں کر پائی۔ مثنوی کے علاوہ مرثیہ اور قصیدہ بھی پہلے غزل کے مقابلے میں نظم کے دائرے میں آتے تھے۔ یہ اصناف بھی تھیں۔ یہ اصناف بھی مسلسل بیان اور ایک ہی موضوع کی بنا پر نظم کے قریب تر تسلیم کی جا سکتی ہیں۔
محمد قلی قطب شاہ کے یہاں دیگر موضوعات پر بھی نظمیں ملتی ہیں۔ زبان و بیان کے لحاظ سے زیادہ اہم نہ ہونے کے باوجود ان کی نظمیں اس عہد کی عکاسی کرتی ہیں۔ قلی قطب شاہ نے غزل کی طرز اور بیت پر بھی نظمیں لکھی ہیں۔ ان نظموں میں شاعر نے عنوان بنایا ہے اور پوری غزل نما نظم میں تسلسل کے ساتھ اس کو بیان کیا ہے۔ دکن کے اہم نظم نگاروں میں محمد قلی قطب شاہ کے علاوہ ملا وجہی، نصرتی، غواصی، فائز، امین، بحری وغیرہ کافی اہم ہیں۔ قلی قطب شاہ نے ایک عنوان کے تحت مختصر مثنویاں اور مسلسل بیانیہ غزلیں لکھی ہیں۔ محمد قلی قطب شاہ کی ان مثنویوں اور مسلسل غزلوں کو بھی نظم کے حصہ میں رکھا جا سکتا ہے۔
شمالی ہند میں فارسی سے ہٹ کر اٹھارہویں صدی میں جب شعرائے دہلی نے اردو شاعری کو داد دینا شروع کیا تو فارسی کی طرز پر اردو میں بھی غزل سب سے مقبول صنف شاعری بنی اور فارسی غزل کے موضوعات بھی آگئے۔ گویا غزل فارسی زبان سے اردو میں صرف شکل بدل رہی تھی۔ لیکن ابتدائی چند شاعروں کے یہاں مثنوی، مس، مسدس، ترجیع بند، ترکیب بند، قطعہ، رباعی اور دیگر اصناف پر مبنی نمونے ملتے ہیں جو نظم کے حصہ میں آتی تھیں۔ شمالی ہند کے ابتدائی شاعروں میں جن کے یہاں نظم کے نمونے ملتے ہیں، ان میں سراج الدین علی خان آرزو، شاہ مبارک آبرو، ظہور الدین حاتم، شاکر ناجی، صدرالدین خاں فائز، سید عبدالولی عزلت سورتی اور میر عبدالحئ تاباں کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
اردو نظم سے متعلق بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اردو نظم کی بنیاد انگریزی کے اثر سے پڑی، لیکن یہ خیال درست نہیں ہے کیونکہ اردو نظم کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ اردو نظم کی بنیاد اتنی ہی پرانی ہے جتنی پرانی اردو شعر و ادب کی تاریخ ہے۔ اردو شاعری کے ابتدائی ادب پاروں کو دیکھیں تو ایسی صنف زیادہ مقبول ہوئی جس میں بیانیہ کی زیادہ گنجائش ہو اور جس میں مربوط خیال کو آسانی سے تسلسل کے ساتھ شاعری میں ڈھالا جا سکے۔ اردو شاعری کی ابتدائی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے اور پچھلے مباحث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ نظم اردو شاعری کے ابتدائی دور میں موجود تھی اور بعد میں مختلف ادوار سے گزر کر موجودہ شکل میں ہمارے سامنے آئی۔ پہلے یہ مثنوی کی شکل میں ملتی تھی۔ ابتدا میں مثنوی کو سب سے زیادہ مقبولیت حاصل تھی اور دکنی ادب میں بہت سی اعلی مثنویاں اردو شاعری کے آغاز میں ہی لکھی گئی تھیں۔
اردو نظم ابتدا سے نظیر اکبر آبادی تک آتے آتے مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتی رہی اور مختلف قالبوں میں رائج رہی۔ نظیر اکبر آبادی نے اردو نظم کو بلندیوں تک پہنچایا۔ نظیر نے اردو نظم کو ایک مستقل صنف کی حیثیت دی اور اس کی مستقل صنفی پہچان قائم کی۔ اردو نظم کا آغاز اور ترقی ہندوستانی شاعروں کے ذریعہ ہی ہوئی، اس میں انگریزی یا دوسرے مغربی ادب کا کوئی حصہ نہیں ہے، البتہ یہ ضرور ہے کہ انیسویں صدی کے نصف آخر میں سرسید کے زیر تحریک حالی اور آزاد کے ذریعہ انگریزی کے اثر سے اردو نظم کی جدید کاری ہوئی اور اس کے بعد نظم میں مغربی نظم کے اثرات نظر آئے۔ حالی اور آزاد کی تحریک نظم جدید کے زیر اثر انگریزی نظم کو نمونہ عمل سمجھتی تھی اور انگریزی شاعروں اور ان کی نظموں کو آئیڈیل مانا گیا۔
اردو میں نظم گوئی کی روایت
اردو شاعری کے آغاز میں نظم سے کلام موزوں مراد لیا جاتا تھا۔ بعد میں غزل ایک مستقل صنف کے طور پر نظم سے الگ ہوگئی اور نظم کے حصے میں تمام اصناف شامل ہو گئیں۔ مرثیہ، قصیدہ اور مثنوی جیسی دیگر اصناف جہاں طویل بیانیہ، تسلسل اور وضاحت رکھتی تھیں، وہیں غزل نزاکت بیان، اختصار، ابہام اور مخصوص موضوعات کی پابند تھی اس لیے غزل کو نظم سے الگ کرنے کی کوشش کی گئی۔ اردو، عربی اور فارسی کی لغات میں اس کا یہی مطلب ملتا ہے۔ جامع اللغات (مرتبہ خواجہ عبدالحکیم) میں پہلی بار عربی، فارسی اور اردو کی پرانی لغات کے برخلاف نظم کو عام معنی سے ہٹ کر شعر کی ایک مستقل صنف کے طور پر استعمال کیا گیا اور نظم سے ایک مخصوص شعری صنف مراد لی گئی۔
نظم کی روایت بھی اردو شاعری میں بہت پرانی ہے، اگرچہ نظم کا کوئی واضح تصور نہیں تھا، مگر محمد قلی قطب شاہ، ولی، سراج، حاتم، خان آرزو اور دیگر شاعروں کے یہاں مختلف موضوعات پر مسلسل سوچ کے تحت نظمیں مل جاتی ہیں۔ نظیر اکبر آبادی خالص نظم کے شاعر ہیں۔ ان کی غزلوں میں بھی نظم کا انداز غالب ہے۔ نظیر کی نظمیں موضوعات کے تنوع، حقیقت نگاری اور سادگی کی بہترین مثالیں ہیں۔
نظم ایک طویل سفر طے کرنے کے بعد اپنی پہچان قائم کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ مثنوی، مرثیہ، قصیدہ اور دوسری بیانیہ شاعری کی شکل میں نظم نے اپنے ابتدائی ترقی کے مراحل طے کیے۔ اردو میں شعری روایت کے آغاز میں نظم ان بیانیہ اصناف اور شکلوں میں ملتی ہے۔ نظم کے لیے کبھی کوئی مخصوص شکل متعین نہیں تھی، البتہ الگ الگ ادوار میں مختلف شکلیں رائج اور مقبول رہیں۔ اردو شاعری کے ابتدائی دور سے حالی کے عہد جدید تک مثنوی کی شکل میں نظمیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ حالی نے مثنوی کی شکل کو سب سے پسند کیا۔
دکن میں لکھی گئی مثنویوں کو نظم کی ابتدائی شکل یا نمونہ کہا جا سکتا ہے۔ قلی قطب شاہ نے عنوان دے کر ایک موضوع پر مسلسل غزلیں لکھی ہیں۔ یہ غزل کی بیت میں ہونے کی وجہ سے غزل کے خانہ میں رکھی جاتی ہیں، لیکن یہ بھی اپنے بیان، عنوان اور تسلسل کی بنا پر نظم کے ہی حصے میں آتی ہیں۔
دکن کے بعد جب شمالی ہند میں اردو شاعری کو ترقی اور رواج حاصل ہوا تو یہاں بھی بہت سی مثنویاں لکھی گئیں۔ مثنوی کے علاوہ دیگر شکلوں میں بھی مسلسل شاعری کی بہت سی مثالیں شمالی ہند میں ملتی ہیں۔ فارسی سے ہٹ کر اٹھارہویں صدی میں جب شعرائے دہلی نے اردو شاعری کو داد دینا شروع کیا تو فارسی کی طرز پر اردو میں بھی غزل سب سے مقبول صنف شاعری بنی۔ لیکن غزل کے ساتھ چند شعرا کے یہاں مثنوی، مس، مسدس، ترجیع بند، ترکیب بند، قطعه، رباعی وغیرہ کی مثالیں ملتی ہیں جو نظم کے حصہ میں آتی تھیں۔ سراج الدین علی خان آرزو، شاہ مبارک آبرو، ظہور الدین حاتم، شاکر ناجی، صدرالدین خاں فائز، سید عبدالولی عزلت سورتی اور میر عبدائی تاباں کے یہاں ایسے نمونے ملتے ہیں۔
خان آرزو کا ریختہ گوئی میں بہت اہم کردار رہا۔ انہوں نے فن ریختہ میں نئی نسل کی تربیت کی۔ وہ ریختہ کی ترویج کے لیے ہر مہینے کی بندرہ تاریخ کو اپنے مکان میں مشاعرے اور مقابلے کی محفلیں کرتے تھے۔ خان آرزو نے بہت سی مثنویاں بھی لکھیں۔ نظم گوئی کے حوالے سے حاتم کا نام سب سے اہم ہے۔ حاتم نے نظم وصف سراپا، وصف قہوہ، وصف تمباکو اور ایک نظم واسوخت لکھی۔ ان کے علاوہ بھی بہت سی نظمیں لکھی گئیں۔
فائز دہلوی کے دیوان میں بھی پندرہ مثنویاں ہیں جو دراصل بیانیہ نظمیں ہیں۔ وصف جو گن، وصف کا چن، وصف بھنگڑن، تعریف پنگھٹ، تعریف ہولی وغیرہ ان کی اہم بیانیہ نظمیں ہیں۔ حاتم اور فائز کے علاوہ آبرو نے بھی نظمیں لکھی ہیں۔ آبرو کی ایک طویل نظم موعظت آرائش معشوق بہت اہم ہے۔ ان کے علاوہ میر عبدالحئی تاباں اور سید عبدالولی عزلت نے بھی نظمیں لکھی ہیں۔
اردو نظم شاعری کے آغاز پر اپنی واضح اور اہم پہچان اس وقت قائم کرتی ہے جب نظیر اکبر آبادی اس کے افق پر طلوع ہوتے ہیں۔ نظیر اکبر آبادی نے نظم کو اس کی پہچان اور اہمیت دی، اسی لیے نظم کا پہلا باقاعدہ اور مکمل شاعر نظیر اکبر آبادی کو ہی کہا جاتا ہے۔ نظیر سے پہلے نظم کو نہ زیادہ اہمیت حاصل تھی اور نہ اس کی بحیثیت صنف کوئی واضح پہچان تھی، نظیر نے نظم میں عمدہ اور معیاری شاعری کر کے یہ ثابت کیا کہ نظم میں کتنی خوبصورت، غیر معمولی اور فنی شاعری ہو سکتی ہے۔ نظیر اکبر آبادی نے نظم میں چھپی ہوئی شاعری کے وسیع امکانات دکھائے اور اس کے نمونے پیش کر کے ثابت کیا۔ نظیر پہلا شاعر ہیں جس نے جان بوجھ کر اور سوچ سمجھ کر اپنے خیال کے اظہار کا ذریعہ نظم بنایا اور نظم کو ایک مکمل اور اہم صنف کے طور پر ادبی منظرنامے پر پیش کیا۔
نظیر نے نظم کو ایک اہم صنف شاعری کے طور پر متعارف کروایا اور اس کے غیر معمولی عملی نمونے پیش کر کے نظم کے ارتقا کا سنگ میل رکھا۔ یہاں سے نظم ایک مخصوص صنف کے طور پر اردو شاعری میں شامل ہوگئی تھی، لیکن اس پر زیادہ توجہ نظیر کے ہم عصر اور ان کے بعد کے شعرا نے نہیں دی۔ نظم کا ارتقا ہندوستان میں انگریزوں کے مکمل اقتدار کے بعد ہی ہوا اور انگریزی شاعری کے اثر سے نظم کو فروغ دینے کی کوشش حالی، آزاد اور اسماعیل میرٹھی وغیرہ نے کی۔
مولانا حالی، محمد حسین آزاد اور اسماعیل میرٹھی نے نظم کو اس دور کے شعری منظرنامے میں نمایاں کر کے ایک نئی روایت کی بنیاد رکھی۔ انجمن پنجاب کے مناظموں نے نظم جدید کے ارتقا میں اہم کردار ادا کیا۔ چونکہ نظم کا یہ ارتقا علی گڑھ تحریک کا مرہون منت تھا، اس لیے محمدن ایجوکیشنل کالج میں نظم کے اس نئے رجحان کا بہت اثر تھا اور نئی نسل کے شعرا کے ذہن و فکر پر اس نئے رجحان نے نظم لکھنے کی تحریک پیدا کر دی۔ سرسید، حالی اور شبلی کی تربیت اور علم و ادب نے یہاں کے طلبہ کے ذہن میں جدید طرز تعلیم اور شعر و ادب کی سمجھ پیدا کی اور ان میں یہ شعور پیدا کیا کہ وقت کے تقاضوں اور ترقی کے موجودہ امکانات کے مطابق انگریزی اقتدار کے رائج طرز تعلیم اور زبان و ادب یعنی انگریزی زبان و ادب کی پیروی ضروری ہے۔ سرسید کی نظر ماضی پر بھروسہ کرنے کے بجائے حال کے تقاضوں کو پورا کر کے مستقبل کو بہتر بنانے پر تھی، اس لیے انہوں نے شعر و ادب میں بھی جدید طرز اور رجحان پیدا کرنے کی کوشش کی۔
انجمن پنجاب کا قیام
اردو ادب کی تاریخ میں بہت سی انجمنوں اور ادبی تنظیموں کا ذکر ملتا ہے جنہوں نے ادب کے ارتقا میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان تنظیموں نے مختلف وقت میں ادب کو ترقی دی اور اس پر اپنے اثرات چھوڑے۔ کسی بھی تنظیم یا انجمن کی بنیاد نظریات اور عقائد پر ہوتی ہے اور وہ نظریات اور رویے ان کے ذریعے تحریک اور رجحان کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ اردو ادب میں مختلف تنظیمیں، انجمنیں اور ادارے وجود میں آئے جنہوں نے اردو ادب کو نئی تحریکات اور جدید رجحانات کے مطابق ڈھالا۔ اردو ادب کی تاریخ میں اہم تنظیموں اور انجمنوں میں سے ایک انجمن پنجاب لاہور ہے جس نے اردو ادب اور خاص طور پر جدید نظم اور نئے تصور شعر کی نشوونما میں بہت بڑا کردار ادا کیا اور یہ انجمن اردو شاعری میں خاص طور پر نظم میں بہت بڑی تبدیلی کا سنگ میل بنی۔
ہندوستان میں 1857ء کی بغاوت کے بعد انگریزوں نے حکومت کے استحکام کے لیے نئی سیاسی حکمت عملی بنائی تھی۔ اقتدار کے استحکام کے لیے تعلیم، تہذیب اور معاشی ترقی کے معیار کو بدلنا سب سے زیادہ ضروری تھا، اس لیے انگریز دانشوروں اور حکمرانوں نے اپنی تعلیم، تہذیب اور زبان و ادب کو رائج کرنے پر بہت زیادہ توجہ دی۔ صدیوں پرانی تہذیب، طرز تعلیم، شعر و ادب کے ڈھانچے کو بدل کر یہ سمجھایا گیا کہ تعلیم اور تہذیب کا معیار وہ ہے جس پر ہم عمل کر رہے ہیں۔ ہندوستانیوں میں ایک بڑا طبقہ اس پر یقین بھی لے آیا اور اس ذہنی غلامی کو ترقی سمجھنے لگا۔ بقول اقبال: “جادوئے محمود کی تاثیر سے چشم ایاز … دیکھتی ہے حلقہ گردن میں ساز دلبری”۔ ایک طبقہ ایسا بھی تھا جو مجبوراً اسے اپنا رہا تھا اور ترقی کا واحد راستہ اسے ہی سمجھ رہا تھا۔ چونکہ انگریزی حکومت نے زندگی بہت مشکل کر دی تھی اور ظلم و جبر کی سب حدیں پار کر دی تھیں، معاشی ترقی کو اپنے معیار سے پرکھنے کے پیمانے مقرر کر دیے تھے جس کی وجہ سے مجبوراً ہندوستانیوں کو ان کے طرز تعلیم اور تہذیب کو اپنانا پڑا۔ جب انگریزی طرز تعلیم اور زبان کو اپنا لیا گیا تو مغربی ادب سے آشنائی ہوئی اور مغربی شعر و ادب کو معیار بنایا جانے لگا۔ اور اس کے اثر سے اپنے ادبی سرمائے کی انفرادیت اور روایت پر فخر کرنے کے بجائے اسے کم تر سمجھا گیا۔
اردو کے شاعروں اور ادیبوں نے اردو شعر و ادب میں بہت سی تبدیلیوں اور اصلاح پر توجہ دی اور انگریزی شعر و ادب کی نقل کرنے کی کوشش کی۔ پنجاب میں 1856ء میں محکمہ تعلیم قائم ہو چکا تھا۔ 1859ء میں چیف کمشنر کا عہدہ ختم کر کے اس کی جگہ لفٹیننٹ گورنر کا عہدہ بنایا گیا اور دہلی کو پنجاب کے ماتحت کر دیا گیا۔ دہلی کو پنجاب کے ماتحت کرنے سے دہلی کی مرکزیت ختم ہو گئی اور اس کے نتیجے میں شعر و ادب کا ذوق رکھنے والے بہت سے ادیب اور شاعر لاہور آئے اور نئی فضا میں شعر و ادب کا لائحہ عمل تیار ہوا۔
دہلی سے ہجرت کر کے لاہور آنے والے شعرا اور ادیبوں میں محمد حسین آزاد اور الطاف حسین حالی بھی شامل تھے۔ ان کے علاوہ دہلی کے مشاہیر ماسٹر پیارے لال آشوب، پنڈت من پھول منشی درگا پرساد نادر، مرزا اشرف بیگ خان اشرف، مولوی امو جان ولی، مولوی کریم الدین، مولوی سید احمد اور مرزا ارشد گرگانی کے نام بھی شامل ہیں۔
محکمہ تعلیم پنجاب کے زیر انتظام بہت سے اسکول اور کالج قائم کیے گئے اور اسی سلسلے میں لاہور اور دہلی میں سرکاری کالج بھی قائم کیے گئے۔ ڈاکٹر جی ڈبلیولائٹر کو گورنمنٹ کالج لاہور کا پرنسپل بنایا گیا۔ جدید تعلیم اور ادب کی ترقی کے لیے زمین ہموار کرنے اور ایک کامیاب لائحہ عمل تیار کرنے میں لائٹر نے اہم کام کیے۔ ڈاکٹر لائٹر نے پنجاب میں تعلیم کی ترویج اور اشاعت میں اہم کردار ادا کیا۔ بہت سے مصنفین اور محققین نے ڈاکٹر لائٹر کو نظر انداز کیا، جبکہ لائٹنر انجمن پنجاب کے صدر تھے اور انہی کی کوششوں سے اس انجمن کا قیام عمل میں آیا۔ کرنل ہالرائڈ کی اہمیت کو بھی بیشتر محققین تسلیم کرتے ہیں کیونکہ انہوں نے اردو زبان و ادب اور خاص طور پر انجمن کے مشاعروں میں اہم خدمات انجام دی ہیں۔ انجمن پنجاب اپنے مشاعروں کی وجہ سے زیادہ مشہور ہوئی اور کرنل ہالرائڈ ان مشاعروں میں پیش پیش رہے۔
محکمہ تعلیم پنجاب کے زیر انتظام ڈاکٹر لائٹر کی کوششوں سے 1865ء میں انجمن پنجاب قائم ہوئی اور اس کا نام “انجمن اشاعت مطالب مفیدہ” رکھا گیا۔ اس انجمن کی بنیاد نظم جدید کی تاریخ میں اہمیت رکھتی ہے کیونکہ اسی انجمن کے تحت نظم پر مبنی تاریخی مشاعرے منعقد ہوئے جو انجمن پنجاب کے مشاعروں کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ یہ مشاعرے اردو نظم کے جدید تصور اور رویے کے ارتقا کی پہلی منزل ہیں۔ انجمن کے ان مشاعروں کے ذریعے باقاعدہ اردو نظم کی تجدید کا آغاز ہوا۔ ڈاکٹر لائٹنر انجمن پنجاب کے صدر مقرر کیے گئے تھے۔
انجمن پنجاب کے قیام کے بعد اس کی کئی شاخیں پنجاب کے دوسرے شہروں میں بھی قائم ہوئیں۔ اس انجمن کا بنیادی مقصد تعلیم کا فروغ تھا، لیکن اس کے ساتھ کئی دیگر سرگرمیاں بھی شامل تھیں یا بعد میں شامل ہوئیں۔ انجمن پنجاب کے زیر اہتمام نثر کی مجالس بھی منعقد ہوتی تھیں۔ ان مجالس میں تاریخی، سائنسی، تہذیبی اور ادبی موضوعات پڑھائے جاتے تھے۔
انجمن کے اہم مقاصد میں جدید تعلیم کا فروغ، صنعت و تجارت کی ترقی، طبی امداد اور بیداری، سیاسی اور ادبی مذاکروں کا اہتمام، حکومت اور عوام کے درمیان تعلقات استوار کرنا، کتابوں کے تراجم اور اشاعت، لائبریریوں، اسکولوں اور کالجوں کا قیام اور نئے ادب کی ترقی شامل تھے۔ اردو ادب کے حوالے سے انجمن پنجاب کا سب سے اہم کارنامہ مشاعروں کے ذریعے نئی روایت قائم کرنا تھا۔ ان مشاعروں میں کسی مقررہ موضوع پر نظمیہ مشاعرے منعقد کیے جاتے تھے۔ ان مشاعروں نے انجمن پنجاب کو سب سے زیادہ شہرت اور مقبولیت دی۔ اردو شاعری کی تشکیل جدید میں انجمن پنجاب کے یہ مشاعرے سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں، جن کی وجہ سے کم وقت میں عوام کے ادبی ذوق میں تبدیلی آئی اور شاعری کا معیار بہتر ہوا۔ انجمن پنجاب کے ابتدائی مشاعرے ہی کامیاب تھے، لیکن ان کے اثرات بہت دور رس اور غیر معمولی تھے۔ نئے شعری رجحان اور جدید طرز سے عوام کو متعارف کروانے میں انجمن پنجاب کے مشاعروں نے کامیابی حاصل کی اور اپنا مقصد پورا کیا۔
انجمن پنجاب کے مشاعرے
انجمن پنجاب کے مشاعروں کا باقاعدہ آغاز 30 مئی 1874ء کو ہوا اور اس سے پہلے 19 اپریل 1874ء کو ایک اجلاس ہوا تھا۔ اس اجلاس میں محمد حسین آزاد اور کرنل ہالرائڈ نے مشاعرے کے مقاصد اور جدید نظم کے بارے میں تقریر کی اور آزاد نے اپنی مثنوی “شب قدر” پیش کی، جسے پہلی جدید نظم سمجھا جاتا ہے۔ جمیل جالبی نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
“یہ لکچر دے کر آزاد نے ایک مثنوی رات کے موضوع پر بعنوان شب قدر پیش کی۔ یہ پہلی جدید نظم تھی جو کسی ایک موضوع پر لکھی گئی تھی”۔ (تاریخ ادب اردو جلد چہارم، جلد دوم ص 995)
اس اجلاس میں انجمن کے سرپرست کرنل ہالرائڈ نے پہلے مشاعرے کے لیے برسات موضوع کی تجویز دی تھی۔ چونکہ یہ انجمن کا پہلا باقاعدہ مشاعرہ نہیں تھا بلکہ ایک افتتاحی اجلاس تھا، جس میں مولانا آزاد اور کرنل ہالرائڈ نے نظم کی اہمیت اور فائدے بیان کیے اور مشاعروں کے انعقاد کے مقاصد اور ضرورت پر روشنی ڈالی، آخر میں آزاد نے مثنوی “شب قدر” بطور نمونہ پیش کی۔ اس لیے اس اجلاس کو انجمن کا پہلا مشاعرہ نہیں کہا جا سکتا۔ جمیل جالبی نے بھی اسے افتتاحی جلسہ قرار دیا ہے۔ انجمن کے پہلے افتتاحی اجلاس کی وضاحت کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں:
“یہ پہلا افتتاحی جلسہ 19 اپریل 1874ء کو ‘سکھشا سبھا’ کی عمارت میں ہوا، جہاں انجمن اشاعت مطالب مفیدہ پنجاب کا پہلا جلسہ 21 جنوری 1865ء کو ہوا تھا اور لائٹز کو صدر انجمن پنجاب منتخب کیا گیا تھا۔ اس سلسلے کا پہلا موضوعاتی مشاعرہ جس کا موضوع برسات تھا، 30 مئی 1874ء کو ہوا”۔ (تاریخ ادب اردو جلد چہارم، جلد دوم، ص 996)
انجمن پنجاب کے تحت کل دس موضوعاتی مشاعرے ہوئے۔ انجمن کا پہلا مشاعرہ 30 مئی 1874ء کو ہوا، جس کا موضوع “برسات” تھا۔ حالی نے اس موضوع کے مطابق اپنی نظم “برکھارت” پیش کی۔ اس مشاعرے سے جدید نظم کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ نئے طرز کی نظمیں لکھنے کا آغاز پہلے ہی ہو چکا تھا اور انجمن کے افتتاحی اجلاس میں آزاد نے خود نظم مثنوی “شب قدر” پیش کی تھی، لیکن چونکہ جدید طرز کی نظم کا عملی اظہار پہلی بار اس مشاعرے میں ہوا، اس لیے اسے جدید نظم کی تحریک کا آغاز کہا جاتا ہے۔
انجمن پنجاب کا دوسرا مشاعرہ ایک مہینہ بعد 30 جون 1874ء کو “زمستان” کے موضوع پر ہوا۔ اس مشاعرے میں حالی شریک نہیں تھے۔ پنڈت تاتریہ کیفی نے اپنی کتاب “منشورات” کے صفحہ 270 پر اس مشاعرے کو “نئی شاعری کا پہلا مقابلہ” کہا، لیکن یہ درست نہیں، کیونکہ اس سے پہلے برسات کے موضوع پر مشاعرہ ہو چکا تھا۔
تیسرا مشاعرہ 3 اگست 1874ء کو ہوا۔ اس مشاعرے کا موضوع “امید” تھا۔ حالی نے اس مشاعرے میں نظم “نشاط امید” پیش کی جبکہ آزاد نے نظم “صبح امید” پیش کی۔
انجمن کا چوتھا مشاعرہ 30 اگست 1874ء کو ہوا۔ موضوع “حب وطن” تھا۔ اس مشاعرے میں حالی اور آزاد دونوں نے حب وطن کے عنوان سے نظمیں پیش کیں۔
پانچواں مشاعرہ 19 اکتوبر 1874ء کو ہوا۔ موضوع “امن” تھا۔ آزاد نے “خواب امن” پیش کی، جبکہ حالی اس مشاعرے میں شریک نہیں تھے۔
چھٹا مشاعرہ 14 نومبر 1874ء کو ہوا، جس کا موضوع “انصاف” تھا۔ حالی نے اپنی مشہور نظم “مناظرہ رحم و انصاف” پڑھی جبکہ آزاد نے “داد انصاف” پیش کی۔ ابتدائی چھ مشاعروں کی مقبولیت بعد کے مشاعروں کی نسبت زیادہ تھی، اور بعد میں کم ہوتی گئی۔
اس کے بعد چار مشاعرے اور ہوئے، 19 دسمبر 1874ء، 30 جنوری 1875ء، 13 مارچ 1875ء، اور 3 جولائی 1875ء کو، جن کے موضوعات بالترتیب “مروت، قناعت، تہذیب اور شرافت انسانی” تھے۔ ان آخری چار مشاعروں میں حالی شریک نہیں تھے، جس کا اثر مشاعروں کی مقبولیت پر بھی پڑا۔ 3 جولائی 1875ء کو منعقد ہونے والا مشاعرہ انجمن پنجاب کا آخری مشاعرہ ثابت ہوا۔
حالی اور آزاد کے علاوہ بھی بہت سے شعرا نے مشاعروں میں حصہ لیا، لیکن ادبی اعتبار سے ان کی اہمیت صرف تاریخی ہے کیونکہ زیادہ تر شعرا کی نظمیں فکری اور فنی اعتبار سے خاص اہمیت نہیں رکھتیں۔ یہ شعرا حالی اور آزاد کی پیروی کر رہے تھے۔ انجمن پنجاب کے شعرا میں حالی اور آزاد کی نظمیں اہمیت رکھتی ہیں اور نظم جدید کی ابتدا میں حالی کی نظمیں سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہیں اور ادبی تقاضوں کو پورا کرتی ہیں۔ حالی کی نظم “حب وطن” بہترین نظموں میں شمار ہوتی ہے۔ اس نظم میں حب وطن کے ساتھ قومی اتحاد، اصلاح و بہبود اور تحریک عمل کا بہترین تصور ملتا ہے۔
بیٹھے بے فکر کیا ہو ہم وطنو
اٹھو اہل وطن کے دوست بنو
مرد ہو تو کسی کے کام آؤ
ورنہ کھاؤ، پیو، چلے جاؤ
ہند میں اتفاق ہوتا اگر
کھاتے غیروں کی ٹھوکریں کیونکر
قوم کی عزت اب ہنر سے ہے
علم یا کہ سیم و زر سے ہے
حالی نے انجمن پنجاب کے صرف چار مشاعروں میں حصہ لیا، لیکن اس کے باوجود انجمن پنجاب کے مشاعروں میں سب سے بڑے اور اہم نظم نگار کی حیثیت سے اپنی پہچان قائم کی اور شاعری کی اس نئی تحریک کا سب سے بڑا چہرہ بن گئے۔ آزاد مشاعروں کے بنیاد گزار تھے اور ان کی محنت کی وجہ سے یہ مشاعرے تمام مخالفتوں کے باوجود طویل عرصے تک کامیابی کے ساتھ ہوئے اور جدید نظم پر دیرپا مثبت اثرات مرتب کرنے میں کامیاب رہے۔
آزاد نے بھی کچھ خوبصورت اور عمدہ نظمیں پیش کیں۔ ان نظمیں اگرچہ فنی اعتبار سے زیادہ اہم نہیں تھیں، لیکن اپنی اولیت کی وجہ سے اہمیت رکھتی ہیں۔ ان کی مشہور نظمیں “صبح امید” اور “حب وطن” جدید نظم کی ابتدائی نظموں کے طور پر اہم اولین نظموں میں شمار ہوتی ہیں۔
حالی اور آزاد کی نظمیں چھوڑ دی جائیں تو دیگر شعرا کی نظمیں فکری، فنی اور ادبی اعتبار سے بہت کمزور ہیں اور ان کی اہمیت صرف تاریخی ہے۔ بہت سی نظمیں شاعری کے معیار تک بھی نہیں پہنچتیں۔ انجمن کے مشاعروں کی مقبولیت جلد کم ہونے میں ایسے غیر معیاری شعرا اور ان کی نظمیں بھی بڑا سبب تھیں۔
انجمن کے زیر انتظام مشاعروں کا بنیادی مقصد قدرتی اور سادہ شاعری کو فروغ دینا، زیادہ مبالغہ آرائی، دکھاوا اور غیر ضروری پیچیدگی سے بچنا، سادہ اور واضح اظہار اور اصلیت پسندی پر زور دینا تھا۔ حالی اور آزاد (جو نظم جدید کی تحریک کے اہم رہنما تھے) نے انگریزی ادب میں وہ تمام خوبیاں دیکھی جو ان کے مطابق بہترین اور موزوں ادب کے لیے ضروری تھیں۔ اردو اور فارسی کی شعری روایت ان کے نزدیک پرانی ہو چکی تھی، اس لیے انہوں نے شعری اصول مغربی ادب سے لئے اور انگریزی نظم کو مثال کے طور پر لیا۔ انہوں نے اسی انداز کی شاعری لکھنے پر زور دیا۔
انجمن پنجاب کے مشاعروں سے جدید نظم کو بہت فروغ ملا اور شاعری میں نئے رجحان کا رواج عام ہوا۔ ان مشاعروں کا مقصد روایتی شاعری سے بغاوت کرنا تھا اور یہ بغاوت آنے والے وقت میں ایک نئی روایت بنی۔ ان مشاعروں کی وجہ سے اردو میں جدید نظم کی بنیاد پڑی اور اس میں بہت ترقی اور وسعت حاصل ہوئی۔ نئی شاعری کی اقسام اور نئے انداز و موضوعات سامنے آئے۔ ادب روایتی حدود سے آزاد ہوا اور آنے والے وقت میں ان مشاعروں نے نظم کو نئی راہوں اور منزلوں کی طرف لے جانے میں مدد دی۔
نظم کی روایت اقبال سے ترقی پسند تک
اردو میں رومانی تحریک کے اثرات نے انسان کو مادی زندگی کے مسائل سے دور، تخیل کے جنت نما عالم میں لے جا کر خوشیوں اور مسرتوں سے روشناس کرایا۔ اردو نظم میں زندگی کے ان رنگوں کی جگہ خیالی قوس قزح کے رنگ پیش کیے جانے لگے۔ حسن و عشق، شراب و ساقی، خوبصورتی اور خیال کی محفل کے رنگ برنگ کنول روشن کیے جانے لگے۔ زندگی اور ماحول میں ایسے انقلاب کا خواب دیکھا جانے لگا جو دراصل اندرونی جذبے، خوشی اور آرزومندی کا عکس تھا اور ان حقیقی مسائل کی سختی سے بے نیاز تھا جو اس خواب کو حقیقت بنانے میں رکاوٹ بنتے تھے۔
ہندوستان میں 1936ء سے اس تحریک کے ساتھ ترقی پسند مصنفین کی تحریک کا آغاز ہوا۔ اس کو جنم دینے میں ملک کے حالات اور یورپ و سوویت یونین سے لائی گئی سوچ نے اہم کردار ادا کیا۔ ترقی پسند تحریک کے منشور میں زندگی اور معاشرے کے اہم مسائل کو موضوع سخن بنانے کا فیصلہ کیا گیا، جیسے بھوک، غربت، سماجی پستی اور غلامی کے مسائل، جن میں غیر ملکی ظلم و جبر کے خلاف جدوجہد شامل تھی۔ اس کے علاوہ خاندان، مذہب، جنس، جنگ اور سماج کے بارے میں پرانے خیالات کو روکنا اور شعر و ادب میں سائنسی سوچ کو فروغ دے کر ترقی اور بہتری کی حمایت کرنا بھی شامل تھا۔
1857ء کے ہنگامے کے بعد جس جدید نظم کی بنیاد مولانا محمد حسین آزاد اور مولانا الطاف حسین حالی نے رکھی تھی، اس کی مضبوط بنیادوں میں مولانا ذکاء اللہ، ڈاکٹر نذیر احمد، اسماعیل میرٹھی، مولانا شبلی، اکبر اللہ آبادی، سرور جہان آبادی اور نادر کاکوروی کے علاوہ پنڈت کیفی، چکبست، اقبال، ظفر علی خان، شوق قدوائی اور صفی لکھنوی شامل ہیں۔
ان نظم گو شعرا نے زندگی کا نیا تصور پیش کیا، موضوعات کے انتخاب کا طریقہ بدلا، ماضی اور حال کو ملا کر شاعری میں جان ڈالی اور پرانے درختوں سے نئی شاخیں اُگائیں۔ سیاسی، اخلاقی، رومانی، تاریخی اور تہذیبی رنگ کو جدید نظم میں شامل کیا گیا اور شاعری میں ایک نیا انقلاب پیدا ہوا۔
جدید نظم کی روایت میں مضبوط درخت کی طرح علامہ اقبال کا نام بڑے احترام سے لیا جاتا ہے۔ علامہ اقبال نے جدید نظم کو ایک نیا معیار دیا۔ ان کی شاعری میں فرد کے صاف، سچے اور معصوم جذبات کی حفاظت کی گئی ہے، حیوانی، شہوانی یا بے جان جذبات کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ اقبال کی نظموں میں پرانے استعاروں کے نئے معنی بھی ملتے ہیں۔ ان کی شاعری کی خاص علامات شاہین، شہباز، لالہ، صحرا، صبح کا ستارہ اور مومن وغیرہ ہیں۔
اقبال کے آخری دور میں برصغیر کے ادیبوں کے ایک گروہ نے اشتراکیت اور جدید علوم سے متاثر ہو کر ترقی پسند سوچ کی بنیاد رکھی۔ ادب میں روایت توڑنا، حقیقت دکھانا، انسان دوستی، اجتماعی سوچ، عقلیت اور منطقی انداز کے اصول اس تحریک کے بنیادی اصول بن گئے۔ اقبال نے پرانی طرز کو چھوڑ کر نئے اصول اختیار کیے، لیکن وہ پرانی طرز کو مکمل طور پر نہیں چھوڑتے، بلکہ خاص معنی میں استعمال کرتے ہیں۔
اقبال کے بعد اور ترقی پسند تحریک کے قیام سے پہلے، جن نظم گو شعرا نے آزاد اور حالی کے لگائے ہوئے درخت کو پانی دیا، ان میں عظمت اللہ خان، برج نرائن چکسبت، جوش ملیح آبادی، حفیظ جالندھری، اختر شیرانی، جمیل مظہری اور احسان دانش کے نام شامل ہیں۔
اس سلسلے میں اقبال ایک مضبوط آواز کے طور پر نظر آتے ہیں۔ ان کا دور بیسویں صدی کا وہ وقت ہے جب مطالبات اور احتجاج کی آوازیں بلند ہو رہی تھیں اور سامراجی طاقتوں کے خلاف زبردست ردعمل شروع ہو چکا تھا۔ ان حالات نے ادب پر بھی اثر ڈالا۔ ایسے مشکل حالات میں اقبال کی مضبوط شخصیت سامنے آئی۔ اقبال نے سامراج اور سرمایہ داروں کی شاعری میں چھپی چالوں کو اچھی طرح سمجھ لیا تھا، اس لیے انہیں اس پر سخت نفرت تھی اور انہوں نے اس کے خلاف بھرپور تنقید کی۔
اگرچہ حالی، شبلی اور اکبر کے دور میں ہی اقبال کی شاعری نمایاں ہو گئی تھی، لیکن حالی، شبلی اور اقبال کے علاوہ سرور جہان آبادی، چکبست اور دیگر بھی اہم تھے۔
علامہ اقبال
علامہ اقبال کی ابتدائی نظموں میں ہندوستانی قومیت کا رجحان نمایاں ہے۔ ہندوستان اور اس کے لوگوں سے محبت ان کی نظموں خصوصاً بانگ درا کی زیادہ تر نظموں میں پوری طرح نمایاں ہے۔ اس لیے علامہ اقبال کے یہاں کے لوگ محبت اور باہمی رواداری چاہتے تھے جس کی وجہ سے دنیا والہ، تصویر در دور ترانہ ہندی جیسی نظمیں تخلیق کیں۔ انھوں نے پہلی جنگ عظیم سے پہلے ہی شمع وشاعر اور شکوہ جیسی نظمیں لکھ کر اپنی سوچ اور مطالعے کی جہتیں واضح کر دی تھیں۔ جنگ عظیم کے بعد خضر راہ میں موجودہ دور کے ملکی، اسلامی اور بین الاقوامی معاملات و مسائل پر تبصرہ کیا ہے۔ نظم کا انداز ڈرامائی اور رنگ بھرا ہے جس میں مغرب کے جمہوری اور استبدادی چہرے کو بے نقاب کر کے اس کا برا چہرہ دکھایا ہے اور دنیائے اسلام کو اتحاد کا سبق دیا ہے۔ طلوع اسلام بھی اسی انداز کی نظم ہے، جس میں جذبات کم اور سوچ و نظر کی پختگی زیادہ نمایاں ہے۔ خطابت کے جو انداز بھی اس نظم میں دکھائے ہیں۔
اقبال کی نظمیں مختلف موضوعات پر ہیں، مثلاً منظریہ، بیانیہ، طنزیہ، اخلاقی، اسلامی وغیرہ۔ ان سینکڑوں نظموں میں اقبال ہر شعر اور لفظ کے پیچھے اپنی منفرد فعال سوچ ظاہر کرتے ہیں۔ اقبال اور ان کی نظموں نے برصغیر پاکستان و ہند کے لوگوں خصوصاً مسلمانوں کی رہنمائی کی ہے۔ اقبال کی زیادہ تر نظموں میں مسجد قرطبہ، ذوق و شوق، ساقی نامہ، شکوہ اور جواب شکوہ شامل ہیں جو فنی لحاظ سے بہت اعلیٰ درجے کی ہیں۔ اقبال کی نظموں کو تین اہم سیاسی و فکری عنوانات کے تحت رکھا جاتا ہے۔ اول وطنیت، دوم اسلامیات اور سوم بین الاقوامیت۔ آخری دونوں موضوعات کے تحت ان کی زیادہ تر نظمیں ہیں جو عشق رسول اور اللہ کو ایک سمجھنے کا نتیجہ ہیں۔ عشق رسول اور وحدانیت ہی علامہ کی نظموں اور ان کے خیالات کی کلید ہے۔ علامہ کی نظموں نے بہت سے شعراء کو متاثر کیا ہے جن میں مولانا ظفر علی خاں، حفیظ جالندھری، چکبست زیادہ اہم ہیں۔
اقبال کے درج ذیل مجموعوں سے ان کی عظمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
اسرار خودی
علامہ اقبال کا پہلا شعری مجموعہ ہے، جو فارسی زبان میں ہے اور 1915 ء میں شائع ہوئی۔ اس کا ترجمہ دنیا کی مختلف زبانوں میں ہو چکا ہے۔ اس میں علامہ اقبال نے خواجہ حافظ شیرازی کے صوفیانہ خیالات سے متنبہ کیا ہے نیز ان کے افکار پر تنقید بھی کی ہے۔ اس مثنوی میں در اصل اقبال کے فلسفہ خودی کو ظاہر کرتی ہے۔ اقبال کا فلسفہ خودی ان کا انفرادی فلسفہ ہے جو انہیں سے مختص ہے اور ان کی شناخت بھی ہے۔ پروفیسر نکلسن نے 1920ء میں اقبال کی اس مثنوی کا انگریزی میں ترجمہ کیا جس کے بعد اقبال کی شاعری ملکی حدود سے نکل کر بیرون ملک میں متعارف ہوئی۔
رموز بے خودی
یہ علامہ اقبال کا دوسرا شعری مجموعہ ہے، یہ بھی فارسی زبان میں ہے اور اسرار خودی و رموز بے خودی دونوں ایک ی خوری دونوں ایک دوسرے سے منسوب ہیں بلکہ رموز بے خودی اسرار خودی کا تکملہ ہے۔ یہ مثنوی 1918ء میں شائع ہوئی ۔ اقبال کی ان دو ہے۔ یہ مثنوی 1918 ء میں شائع ہوئی ۔ اقبال کی ان دونوں کتابوں کے ذریعہ سے ان کی خودی کا فلسفہ پایہ تکمیل کو پہنچتا ہے۔ 170 صفحات پر مشتمل یہ دونوں مثنویاں اقبال کی اہم مثنویاں ہیں ۔
پیام مشرق
پیام مشرق 1923ء میں شائع ہونے والا اقبال کی فارسی شاعری کا تیسرا مجموعہ ہے۔ اقبال کے فارسی مجموعوں میں سب سے زیادہ شہرت و مقبولیت پیام مشرق کے ہی حصے میں آئی۔ اس کی ابتدا میں لالۂ طور کے عنوان سے 163 / رباعیاں افکار کے تحت نظمیں اور مئے باقی “ کے تحت 45 غزلیں شامل ہیں۔ اس کے مقدمہ میں اقبال نے لکھا ہے کہ جرمن شاعر گوئٹے کے دیوان مغرب کے جواب میں انہوں نے اپنی یہ مثنوی تخلیق کی ہے۔
زبور عجم
یہ علامہ اقبال کا چوتھا شعری مجموعہ ہے، جو فارسی میں ہے اور جون 1927ء میں شائع ہوا۔ اس میں زیادہ تر غزلیات شامل ہیں۔ اس کی غزلوں میں سوز و گداز کے ساتھ ساتھ سرمستی و سرشاری کی کیفیات کا اظہار پایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال نے اسے تنہائی میں پڑھنے کی تلقین کی ہے۔ اگر ہے ذوق تو خلوت میں پڑھ زبور نجم۔
بانگ درا
یہ علامہ اقبال کا پہلا اردو شعری مجموعہ ہے جو تمبر 1924 ء میں اشاعت سے ہمکنار ہوا۔ یہ اقبال کے چوبیس برس کے کلام پر مشتمل ہے۔ اس مجموعہ میں 143 نظمیں اور 28 غزلیں ہیں ۔ اس کو مختلف ادوار کے تحت منقسم کیا گیا ہے۔ پہلا حصہ 1905 ء تک ، دوسرا حصہ 1905ء سے 1908 ء تک اور تیسرا حصہ 1908ء سے 1914 ء تک کے کلام کا احاطہ کرتا ہے۔
گلشن رازِ جدید
اقبال کا یہ مجموعہ 1927 ء میں شائع ہوا۔ اس میں اقبال کا بہت مختصر سا کلام شامل ہے مگر اس میں بہت ہی عمیق و دقیق مسائل منظوم کیے گئے ہیں۔ الیبیات ، ما بعد الطبعیات ، اور وجود کائنات کے اہم اور پیچیدہ خیالات کو سوال و جواب کے انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اس میں اقبال نے کل نو سوالات قائم کیے ہیں اور پھر ان کے جوابات بھی دیئے ہیں۔ اس میں ایک طویل نظم ” بندگی نامہ شامل ہے، جس میں غلامی میں انداز فکر و نظر میں ہونے والی تبدیلی اور غلام قوموں کے مزاج اور ذہنیت پر بھی گفتگو کی گئی ہے۔
جاوید نامہ
اقبال کا یہ مجموعہ 1933ء میں منظر عام پر آیا۔ اس میں اقبال نے خیالی سفر کی روداد بیان کی ہے، جن میں ساتوں آسمان اور ان پر موجود مختلف مذہبی رہنماؤں اور دانشوروں سے ملاقات کا تذکرہ ہے۔ یہ کتاب اقبال کی قدرت کلام کا بین ثبوت ہے۔ اس میں صدیوں کے بے شمار مسائل کا جس انداز میں احاطہ کیا گیا ہے وہ غیر معمولی اہمیت و صلاحیت اور عبقری ذہن رسا کی ہی دین کہی جاسکتی ہے ساتھ ہی اقبال کی یہ سب سے مخیم تخلیق بھی ہے، جو سیکڑوں فکری نکات کے آئینہ کی حیثیت رکھتی ہے۔
بال جبریل
اقبال کے اردو کلام کا یہ دوسرا مجموعہ ہے۔ یہ 1935ء میں شائع ہوا۔ اس میں تقریبا دس برس کا کلام شامل ہے۔ یہ اقبال کے فکری وفنی بالیدگی کا بہترین نمونہ ہے۔ یہ مجموعہ ” ذوق و شوق مسجد قرطبہ لین خدا کے حضور میں فرمان خدا لالۂ صحرا شاہین اور الارض اللہ وغیرہ جیسی شاہکار نظموں کا احاطہ کرتا ہے۔ یہ مجموعہ اقبال کے فکر وفن کی بلندی و بالیدگی کے ساتھ ساتھ شعری روایت کی پاسداری ، بلیت، موضوع اور اسالیب میں انقلاب آفریں تبدیلی اور شاعری کو کائناتی وسعت سے آشنائی اور عالمی فکری افق سے آگہی کے تخلیقی امکانات کا غماز ہے۔ اس مجموعہ میں زیادہ تر نظمیں اور غزلیں ہیں، جو دو حصوں میں منقسم ہیں، پہلے حصے میں سولہ (16) اور دوسرے حصے میں اکسٹھ (31) غزلیں اور چند رباعیاں ہیں۔
ضرب کلیم
یہ اقبال کا اردو شاعری کا تیسرا مجمودہ ہے۔ یہ مجموعہ 1936 ء میں منظر عام پر آیا۔ اس میں صرف ایک سوتر اسی (183) عنوانات پر مبنی نظمیں شامل ہیں۔
ارمغان حجاز
یہ علامہ اقبال کا آخری مجموعہ کلام ہے جو ان کی وفات کے چھ ماہ بعد 1938 ء میں اشاعت سے ہمکنار ہوا۔ اس میں اردو اور فارسی دونوں طرح کا کلام شامل ہے، البتہ فارسی کلام اردو کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ اس میں ابلیس کی مجلس شوری جیسی شاہکار نظم شامل ہے جو چھیالیس (46) اشعار پر مشتمل ہیں ۔
جدید اردو نظم کے بانیوں نے نظم نگاری کو مواد اور ہیئت کے اعتبار سے وسعت دینے کے لیے منظوم ترجمے بھی کیے۔ آزاد، اسماعیل میرٹھی، کیفی اور نظم طباطبائی نے ا مانے اولین نمونے فراہم کیے۔ علامہ اقبال نے بھی اس تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے مغربی شعرا کے تراجم کیے یا ان سے ماخوذ نظمیں تخلیق کیں۔ پہاڑ اور گہری ، رخصت اے بام جان، ایک مکڑا اور کھی، پیام صبح عشق اور موت، سردی، ایک پرندہ اور جگنو وغیرہ مغربی شعراء کی نظموں کے تراجم یا ان سے ماخوذ ہیں۔ اقبال کی نظموں کے موضوعات بھی آزاد اور حالی کی ان نظموں سے مناسبت رکھتے ہیں جو انھوں نے تحریک کے فروغ کے لیے بطور خاص لکھیں۔ وطن کی مٹی سے محبت پیدا کرنے کے لیے قدرتی مناظر کی سچی اور دلکش تصویریشی ان شعراء کے پیش نظر رہی۔ اقبال اس لحاظ سے بھی نمایاں ہیں کہ انھوں نے اپنے فن کے ذریعے وطن کی مناظر کی بڑی سچی اور دلاویز عکاسی کی ہے۔ ان کی شہرت کی ابتدا ہی نظم ہمالہ سے ہوئی جو ان کے اولین مجموعہ کلام با نگ درا کی پہلی نظم ہے۔ اس طرح اقبال اس دور کے ایک جدید شاعر کی حیثیت سے سارے ملک میں متعارف ہوئے۔ قدرتی مناظر کی دلکش عکاسی ان کی بہت سی دیگر نظموں سے بھی ہوتی ہے۔ مثلاً جگنو، ابر، کنار راوی، نمود صبح ، بزم انجم، ابر کہسار، ایک آرزو، انسان اور بزم قدرت وغیرہ ۔ ان کی طویل نظموں مثلا ساقی نامہ، خضر راہ کے ابتدائی حصوں میں بھی فطرت کے حسین مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ وہ اپنے پیش روؤں سے اس لیے متاز نظر آتے ہیں کہ انھوں نے تقریباً ہر ظلم میں ان مناظر سے کوئی نہ کوئی فکری نتیجہ ضرور حاصل کیا ہے۔ ان کی شاعری روح ما روح عصر کی ترجمان ہے۔ ان کی شاعری کے پہلے دور ( ابتدا تا 1905ء) میں ہندوستان میں وطن پرستی ایک خاص روایت بن چکی تھی۔
وطنیت کا یہ تصور مغرب سے درآمد تھا۔ جغرافیائی حدود کے اندر قیام پذیرلوگوں کو ایک قوم قرار دے کر ان کی حب الوطنی سے ان کی شیرازہ بندی کرنا جدید اردو شاعری کا ایک نہایت اہم موضوع رہا ہے۔ اقبال نے اس تصور کو ہند۔ مسلم اتحاد اور غلامی سے نجات کا وسیلہ سمجھ کر اپنی ابتدائی نظموں میں بڑے واضح اور پر اثر انداز میں بیان کیا ہے۔ نیا شوالہ ترانہ ہندی، میرا وطن وہی ہے، ہندوستانی بچوں کا قومی گیت، ابر کہسار، سوامی رام تیرتھ، تصویر در داور رخصت اے بزم جہاں وغیرہ نظمیں اس تصور کے زیر اثر لکھی گئیں۔
عظمت اللہ خاں
جدید اردو نظم میں جو تجربے آزاد، حالی اور اسماعیل وغیرہ نے کیے تھے ان کی توسیع عظمت اللہ خان نے کی ۔ ان کے یہاں ہندی الفاظ کا استعمال بھی ملتا ہے۔ عظمت اللہ خاں نے شعوری طور پر نظم کی زبان ، عام بول چال کی ، ماحول ، متوسط درجے کا ہندوستانی گھرانا اسلوب و ہیئت میں مقامی انداز اپنایا۔ یوں تو انھوں نے چند ترجمے بھی کیے ہیں مثلاً ورڈس ورتھ کی نظم ”ہم سات ہیں اور کوئل وغیرہ۔ ان نظموں کی ہیروئن عام ہندوستانی گھرانے کی سیدھی سادی لڑکی ہے جو دیہاتوں کے سارے ماحول کی پروردہ ہے۔ ان نظموں میں لوک گیتوں اور مقامی کہانیوں کا استعمال بھی ملتا ہے مثلاً پیت کی ماری ستی شاعرہ رو پاستی، مجھے پیت کا یاں کوئی پھل نہ ملا وغیرہ۔ مناظر قدرت پر کہی جانے والی نظموں میں صبح ، برکھارت کا پہلا مینہ وغیرہ میں بھی روانی اور وزن کا غیر روایتی انداز برقرار ہے۔ یہ درست ہے کہ عظمت اللہ خاں کی نظمیں عام رواجی ، ہنگامی اور روایتی موضوعات جن کا بیسویں صدی کے ربع اول میں بڑاز دور تھا، مثلاً سیاسی ، قومی ، مذہبی اور مجلسی وغیرہ سے ہٹ کر ایک خاص انداز کی ہونے کی وجہ سے محدود دائرہ میں مقید ہیں اور یہ بھی درست ہے کہ یہ تجرباتی انداز کی نظمیں ہیں جن کی روایت کسی واضح شکل میں آگے نہیں بڑھ سکی ۔ اس کے باوجود اردو نظم کی تاریخ میں نظمیں ایک نئے موڑ ایک نئے انداز اور طرزفکر کی نمائندہ ہیں جو اپنی سادگی، روانی ، مقامیت اور جدت کی وجہ سے قابل ذکر ر ہیں گی ۔ ان کی نظم مجھے پیت کا یاں کوئی پھل نہ ملا کی چند مصرعے مثال کے طور پر۔
مجھے پیت کا یاں کوئی پھل نہ ملا
مرے جی کو یہ آگ لگائی گئی
مجھے عیش یہاں کوئی پل نہ ملا
میرے تن کو یہ آگ لگائی گئی
عظمت اللہ خاں کے یہاں ہندی گیتوں کا بھی نمایاں اثر ہے۔ انھوں نے اپنے گیتوں میں ہندی بحروں کا زیادہ استعمال کیا اور شاعری عربی و فارسی کے اثر سے نکل کر ہندوستان کی شاعری بن گئی۔ انھوں نے تشبیہات اور محاورات میں ہندو د یو مالاؤں اور ہندی بحروں کا عام استعمال کیا اور اردو شاعری میں ایسی روایت کا آغاز کیا جو آگے چل پر بہت مقبول ہوئی۔ اردو شاعری کی بہتری اور ترویج و تعمیر کے لیے سب سے زیادہ جد و جہد اور کوشش عظمت اللہ خاں نے ہی کی۔ ان کا ایک مضمون شاعری کے عنوان سے بھی شائع ہوا جس میں انھوں نے اردو شعرا کے لیے تجاویز پیش کیں۔
انھوں نے شاعری کے عیوب کو بڑے پر جوش انداز میں بیان کیا ۔ انھوں نے شاعری کے لیے ہندوستانی عروض کے استعمال کی صلاح دی۔ وہ عروضی آزادی میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں چاہتے تھے بلکہ شاعر کو اپنی نظم کے لیے ہر قسم کے خیالات کو پیش کرنے اور آزادی کے ساتھ بیان کرنے کا حق سمجھتے تھے۔ وہ میں پرانے ہندی عروض کی جگہ نئے اور معروضی عروض چاہتے تھے۔ ان کے مطابق جب تک نئے عروض نے وضع کیے جائیں اردو شاعری ترقی نہیں کر سکتی ۔
عظمت اللہ خاں ذہنی اور قلبی لحاظ سے انقلابی فکر کے حامی تھے۔ ان کی نظم میں لفظوں کے شعلے نکلتے دکھائی دیتے ہیں، انھوں نے روایت اور تقلید سے گریز کیا بلکہ اسے مسترد کر کے اپنے قواعدی پر شاعری کی بنیاد رکھی ۔ مگر وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے۔ ہیئت کا نیا تجربہ جو اقبال کی نظم اور روایت سے ہٹ کر ہے لیکن الفاظ کا درو بست تراکیب لفظی ، صنائع و بدائع کو پیش نظر اور ان سے کام لیتے ہوئے نظم کی آبیاری کی۔ عظمت اللہ خاں فطرت سے کافی لگاؤ رکھتے تھے۔ انھوں نے اقبال کی طرز پر فطرت کی عکاسی کی ہے۔ ان کی نظم ” برسات کی رات دکن میں دراصل اقبال کی نظموں ابر اور ابر کہسار جیسی منظر کشی پیدا کرتی ہیں۔
برکھا رت کی گھٹا چھائی
بالوں کو کھولے رات آئی ہے
اندھیاری میں گہرائی ہے
جھڑی لگی ہے ہلکی ہلکی
جانوروں نے لیا بسیرا
تاریکی نے جگ کو گھیرا
اور ہوا بھی اٹھلاتی ہے
بوندوں کے پگ کی بھی چھم چھم
جھینگر کے سروں سے ملتی ہے
لیمپ کی لو پون سے ہلتی ہے
نیند پوٹوں پر ملتی ہے
زور کیا ہے مینھ نے تھم تھم
عظمت اللہ کی نظم وطن حب وطن سے سرشار ہو کر لکھی گئی ہے اور اقبال کی نظم ترانہ ہندی ، صدائے درد، ہندوستانی بچوں کا گیت، نیا شوالہ وغیرہ سے متاثر ہوکر لکھی گئی ہیں۔
برج نارائن چکسبت
پنڈت برج نرائن چکبست کی پیدائش فیض آباد 1881ء میں اور وفات لکھنو میں 12 فروری 1926 ء مطابق 1344ھ کو ہوئی ۔ وہ اردو کے محب وطن شعرا میں بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ انہیں وطن سے محبت عشق کی حد تک ہے۔ ان کی نظمیں قومی اور وطنی موضوعات پر ہیں۔ وہ ہندو مسلم اتحاد کے خواہاں ہیں۔ ان کی اہم نظموں میں خاک ہند ، سیر دہرہ دون اور رامائن کا ایک سین ہیں۔ انھوں نے بھی اپنی شاعری کے ذریعے ہندوستان کی آزادی اور ہندو مسلم اتحا اور ہندو مسلم اتحاد کی کوششیں کیں۔ چکبست کی اس دور کی ایک مشہور نظم خاک ہند ہے۔ انھوں نے زیادہ تر ملی اور قومی ی اور قومی زندگی کے بارے میں نظمیں لکھیں اور اس دور کے سیاسی اور سماجی مسائل بھی شاعری میں بیان کیے۔ انھوں نے بھی شاعری کو انفرادی دور سے نکال کر اجتماعی خیالات کا مرقع بنایا اور نظم تفریح طبع سے نکل کر خیالات کے اظہار کا ذریعہ بن گئی اس دور میں صرف لفاظی کو ضروری نہیں سمجھا گیا بلکہ شاعری کے لیے خیال کا ہونا بھی ضروری قرار دیا گیا۔ پاک و ہند میں سیاسی بیداری پیدا کرنے کے لیے چکبست نے نظمیں لکھیں۔ یہ نظم اس بات کا اظہار ہے کہ برصغیر پاک و ہند میں سیاسی بیداری کے آثار پیدا ہو رہے ہیں۔ ان کی نظم رامائن کا ایک سین سے مثال کے طور پر یہ اشعار دیکھیے
مایوس ہوکے ہوتے ہیں انساں گناہ گار
یہ جانتے نہیں وہ ہے دانائے روزگار
انسان اس کی راہ میں ثابت قدم رہے
گردن وہی ہے امر رضا میں جو خم رہے
اور آپ کو تو کچھ بھی نہیں رنج کا مقام
بعد سفر وطن میں ہم آئیں گے شادکام
جوش ملیح آبادی
جوش ملیح آبادی کا شمار ان منفر د شاعروں میں ہوتا ہے جنھوں نے جدید اردو نظم کی روایت کو آگے بڑھایا۔ جوش کی نظموں میں سیاسی اور سماجی حالات کی جدو جہد اور تکالیف کا تذکرہ موجود ہے اور یہی وہ عہد ہے جس میں انھوں نے حقیقتا انقلابی شاعری کی ہے۔ آج کی رات، پروگرام، جوانی کی رات ، جنگل کی شہزادگی ، گنگا کے گھاٹ پر، اشک اولین، جمنا کے کنارے، کوہستان دکن کی عورت سے، ان کے ساتھ ہی اسی دور کی یہ نظمیں جوان کے مجموعے شعلہ و شبنم میں شائع ہوئیں ۔ غلاموں سے خطاب ، شکست زنداں کا خواب ، لمحہ آزادی، پیمان محکم ، مرد انقلاب کی آواز ، خون کی برادری یہ ان کی انقلابی شاعری کے دور کی ہیں۔ اس انقلابی شاعری میں مایوسی نہیں بلکہ ایک نوید ہے۔
مژدہ باد اے ایشیا اے سرزمین زرفشاں
آگئی وہ ساعت بیداری ہندوستان
مژده باد اے سرزمین ہند اے جنت سواد
میان سے باہر نکلنے ہی پہ ہے تیغ فساد
سرخ پرچم کھولنے پر ہے شقاوت کا جنوں
تیرے ذروں پر بہے گا ہندو اور مسلم کا خوں
غنچہ امید ارباب وطن کھل جائے گا
خاک پر بہتے ہی دونوں کا لہو مل جائے گا
جوش نے انگریزوں کے جبر و استبداد کے بارے میں بھی بعض ایسی نظمیں لکھیں جن پر پابندی عائد کر دی گئی۔ ان کی شاعری میں خیال کی رعنائی، جوش ، حسن بیان ، روانی وغیرہ ان کی شاعری کو فنی اعتبار سے ایک منفرد مقام عطا کرتی ہے۔
جوش کی نظموں میں حسن و عشق، منظر نگاری، جذبات نگاری، سیاسی اور انقلابی غرض ہر نوع کے موضوعات ملتے ہیں۔ ان کی نظموں کے مجموعوں روح ادب نقش و نگار، شعلہ و شبنم، فکر و نشاط ، جنون و حکمت ، حرف و حکایت ، آیات و نغمات ، عرش و فرش ، رامش و رنگ، سنبل و سلاسل، سیف و سبو، سر و دو خروش ، سموم و صبا میں تقریباً ہر طرح کی نظمیں مل جاتی ہیں۔
جوش نے غزل کے مقابلے میں نظم کو اعتبار بخشا اور اسے گھن گرج والے لب ولہجہ میں فروغ دیا۔ ان کی نظموں میں فکر کی گہرائی سے زیادہ نا شدید احساس، غلامی سے نفرت اور انقلاب وتوڑ پھوڑ کی خواہش عام ہے۔ ان کی ابتدائی نظموں میں رومان جبکہ بعد کی نظموں میں انقلاب کا گہر انعکس ہے۔ اس لیے جوش کی نظمیں رومان سے ہوتی ہوئی انقلاب کے خارزاروں سے گزر کر حقیقت کی منزل تک پہنچ جاتی ہیں۔ ان سب میں ان کے منفرد انداز کی چھاپ ہے۔ اس قبیل کی نظموں میں گرمی اور دیہاتی بازار وغیرہ اہم ہیں۔ ان کے علاوہ یہ کون اٹھا ہے شرماتا ، جنگل کی شہزادی ، کوہستان دکن کی عورت، اترے ہوئے چہرے، شکست زنداں، بدلی کا چاند ، ہم لوگ ، خونی بینڈ ، پیٹ بڑا بدکار، جمنا کے کنارے، آج کی رات ، میکدہ، ایسٹ انڈیا کمپنی کے فرزندوں سے ، تلاشی مستقبل ہندوستان اور گل بدنی اہم ہیں ۔
ان نظموں میں حسن و عشق کا ذکر بھی ہے اور انقلاب کا پیچ و تاب بھی ، جوش ہی سے نظم کے پیمانے میں انقلاب کی تیز و تند شراب بھی شروع ہوئی ہے۔ ہیئت کے لحاظ سے روایتی انداز کے علاوہ تجربات کی کوششیں بھی ملتی ہیں۔ اس طرح کی نظموں میں تعاقب، جنگل کی ہوا میں وغیرہ اہم ہیں۔ جوش کے یہاں ذخیرہ الفاظ کی کثرت ہے، جوش نے اپنے کلام میں اس دور کی عکاسی کی ہے جب معاشرہ انتشار کا شکار تھا۔ بے چینی اور بے سکونی کی کیفیت چھائی ہوئی تھی ۔ معاشرے کے ان تمام رہتے ہوئے ناسروں پر قلم اٹھایا۔ ان کی نظموں میں انہی خیالات کا اظہار ملتا ہے مگر ان کی نظموں میں گہرائی نہیں ہے ایک سطحی پن ہے جو دیر پا اثر نہیں رکھتا۔ جوش کے مجموعہ کلام نقش ونگار جو میں نظمیں وہ زیادہ تر رومانی ہیں اور انہی نظموں کی وجہ سے جوش کو شاعر شباب کا نام دیا گیا ، اس دور میں جوش کا ایک اور مجموعہ کلام شائع ہوا جس کا نام شعلہ و شبنم ہے۔ اس میں جوش کی انقلابی نظمیں شامل ہیں۔
جوش نے اپنی نظموں میں عظمت انسان کے ترانے گائے ہیں۔ جوش نے اس انسان کی تصویر پیش کی ہے وہ ایک آئیڈیل انسان ہے، جو اعلیٰ ترین صفات کا حامل اور قوت حیات سے معمار ہے۔ اس کی نگاہ بلند ، دل کشادہ، ظرف وسیع اور آدرش بڑے ہیں۔ جوش کے یہاں انسان کی جو عظمت پائی جاتی ہے اس کا اظہار ان کے مجموعوں میں تو اتر کے ساتھ ملاتا ہے۔ جوش انسان کے عظیم ہونے کے ساتھ ساتھ مستی انسان کو ظلوم و مجبور اور جہول واسفل بھی سمجھتے ہیں۔ جوش کی نظموں میں ابھرنے والا انسان ان کے شعری مجموعوں کے عناوین کی طرح دو مخالفت سمتوں پر رواں دواں ہے۔ ان کے شعروں مجموعوں سیف و سبو، سرود و خروش ، عرش و فرش، الهام وافکار ، نجوم و جواہر فکر ونشاط ، جنون و حکمت اور شعلہ و شبنم کے عناوین میں متضاد الفاظ کا استعمال شاعر کی فکر دولخت پین کو نشان زد کرتا ہے۔ ان کی نظم انسان کا ترانہ کے بعض اشعار دیکھیے
مری نور وظلمت کی تفسیر نو سے
مری فکر غواص کے تیوروں سے
مرے عزم و پرواز کے دبدبے سے
مرے ذوق تسخیر قدرت کے آگے
معمائے شام و سحر کا نپتا ہے
صدف مضطرب ہے گہر کانپتا ہے
دل نجم شمس وقمر کانپتا ہے
عناصر کا قلب و جگر کانپتا ہے
حفیظ جالندھری
حفیظ جالندھری ایک رومانی شاعر ہیں لیکن ان کی مقبولیت کی اصل وجہ ان کے گیت ہیں۔ ان کے کلام میں بڑی دلکشی ہے۔ حفیظ جالندھری کی ابتدائی نظمیں پربت کا گیت ” جاگ سوز عشق اٹھی حسینہ بحر اور ابھی تک تو میں ؟ تو میں جوان ہوں وغیرہ ہیں۔ بعد میں انھوں نے علامہ اقبال اور حالی کی روشن اختیار کی اور رومان کی وادی سے نکل کر اگر کچھ ہو سکے تو خدمت اسلام کر جاؤں کی راہ پر گامزن ہو گئے ۔ شاہنامہ اسلام ان کا ایک کارنامہ ہے جو انہیں ادب کی تاریخ میں زندہ و جاوید رکھے گا۔ اس میں اسلامی تاریخ اور اسلام کے کارناموں اور عظمت کا اظہار کیا گیا ہے۔ حفیظ جالندھری کی رومانیت کا عمدہ ترین اظہار ان کی غنائیت میں ہوا ہے۔ انھوں نے بحروں کے انتخاب اور الفاظ کی ترتیب سے آہنگ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے اردو شاعری کو جدت عطا کی اور ہندی اور اردو کے مزاج کو اس احسن طریقے سے ہم آہنگ کیا کہ اس کی مثال نا پید ہے۔ انھوں نے ہندوستانی موسیقی کو اس کی اصل روح میں پیش کیا۔ انہی کی وجہ سے ہندی شاعری کے آہنگ کو مقبولیت حاصل ہوئی۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ حفیظ کی شاعری میں عظمت اللہ کا رنگ جھلکتا ہے۔ اگر بغور غائر دیکھا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ حفیظ کا اپنا ایک جدا رنگ ہے اور وہ شروع سے آخر تک اپنے اس رنگ پر کار بند نظر آتے ہیں ۔ حفظ الندھری نے گیت بھی لکھے ، ان کے گیتوں میں اور ترنم بہت زیادہ ہے۔ درج ذیل گیت ملاحظہ کیجیے
لو پھر بسنت آئی
پھولوں پر رنگ لائی چلو بے درنگ
لب آب گنگ
بجے جل ترنگ
من پر امنگ آئی ۔ پھولوں پر رنگ لائی
لو پھر بسنت آئی
حفیظ کے شعری مجموعوں میں رزم، سوز و ساز ، نغمہ زار، چراغ سحر اور تلخابہ شیریں وغیرہ ہیں۔ ان مجموعوں میں شامل نظمیں انسان کی فطرت سے قربت کا اظہار کرتی ہیں۔ حفیظ کے یہاں عناصر فطرت پر انسان کی گہری نظر ہے۔ انسان کے جذبات واحساسات اور مشاہدہ فطرت کی عکاسی کلام حفیظ کا غالب رجحان ہے۔ خارجی مناظر کا بیان رومانی تحریک کا خاصہ ہے مگر حفیظ نے فطرت کے ذریعے انسان کی داخلی کیفیات تک رسائی ممکن بنائی ہے۔ حفیظ کے یہاں خیر اور شر کے نمائندہ انسان کی پیشکش ہوئی ہے۔ انھوں نے اسلام اور مشاہیر اسلام ، ارضِ وطن اور مشاہیر وطن سے خاص عقیدت رکھتے تھے۔ چنانچہ شہوار کر بلا ، اے قائد اعظم، جواں اقبالوں کا اقبال جیسی منظومات ایسے عملی و مثالی انسان کا تصور پیش کرتی ہیں جو خیر کا مجسمہ ہے۔ ان کے یہاں انسان کا ترقی پسندانہ شعور انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انھوں نے شاہنامہ اسلام میں بھی مثالی شخصیات کے عظیم کارنامے انسان کے قومی و ملی جذبات ابھارے ہیں۔ انہیں مسلمانوں کی دگرگوں حالت کا بھی احساس تھا اس لیے طویل نظمیہ داستان میں اخوت ملت اسلام کی تعلیم دی۔ کلیات حفیظ میں انسان کا ترقی پسندانہ شعور انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ حفیظ ترقی پسند تحریک سے وابستہ نہیں تھے پھر بھی ان کی شاعری میں ترقی پسندانہ خیالات ملتے ہیں ، ان کے یہاں شر کی نمائندگی کرنے والا انسان نظر آتا ہے۔ انھوں نے ایسے انسان پر ملامت کی ہے جس نے زمین پر ، یہاں رکی فساد بر پا کر کے عام انسان کو احقر بنا دیا ہے۔ نظم ” کنجوس سرمایہ دار کا مرکزی نقطہ طبقاتی شعور ہے۔ اس کا یک بند دیکھیے
ظالم تیرے ہاتھوں نے مسکینوں کے دل توڑے ہیں
ظلم کیے ہیں، حق چھینے ہیں ، تب یہ پیسے جوڑے ہیں
لعنت دنیا بھر کی تو نے خوب اکٹھی کر لی ہے
لاکھوں جیبیں خالی کر کے اپنی جھولی بھر لی ہے
سرمایہ دارانہ نظام نے متوسط غریب طبقے کو افلاس کی جد دلدل میں پھینک دیا تھا، بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں اس کے خلاف با قاعدہ رد عمل شروع ہوا۔ حفیظ نے نظم تکیہ میں سرمایہ دارانہ نظام کے اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے کہ کسی طرح تاجروں نے جاگیرداروں سے دولت چھین کر گیا ۔ غریب کسان پر ظلم کیا ، انھیں کس طرح کم اجرت پر کارخانے میں مزدور بھرتی کیا گیا اور کس طرح مزدور کی محنت کی زائد قدر وصول کر کے سرمایے کو محدود کیا گیا۔ درج ذیل اشعار کا لہجہ استفہامیہ سے مکر در پردہ تمام حقائق کا بیان موجود ہے۔
ادھر کچھ فاصلے پر چند کھر تھے کاشتکاروں کے
جہاں اب کارخانے بن گئے سرمایہ داروں کے
مویشی ہو گئے نیلام کیوں یہ کوئی کیا جانے
کچہری جانے ، ساہوکار جانے یا خدا جانے
الغرض حفیظ جالندھری نے ترقی پسندانہ نظمیں لکھ کر جہاں نظام زر کی بد تر تقسیم کا احساس دو چند کیا وہیں انسان کی طبیعت میں شامل شر پسند عناصر کو بھی عیاں کیا۔ اس وقت انسان کی رجائیت اس عہد میں انتہا پر تھی اسی لیے انسان نے برائی کا قلع قمع کرنے اور روشن مستقبل کے تانے بانے بنے، حفیظ کی نظمیں نئے دور میں اور اک دن ہم بھی جیتیں گئے وغیرہ اس عہد کے انسان کے رجائی طرز فکر کی غماز ہیں۔
اختر شیرانی
اختر شیرانی کی نظمیں عام روایتی موضوعات سے ذرا ہٹ کر واردات محبت سے متعلق ہیں ۔ محبت اور محبوب کے سلسلے میں بھی ان نظموں میں کوئی اعلی وارفع تخیلی نظریہ نہیں۔ سیدھی سادھی مرد اور عورت کی عام محبت اور یہ بھی ان نظموں کی جدت یا خوبی ہے۔ ان کے یہاں حسن کی تلاش اور اس سے مسرت کا حصول ان نظموں میں بھی ملتا ہے جو مناظر قدرت وغیرہ سے متعلق ہیں۔ ایسی نظموں میں موسم بہار، بارش، بادلوں کا جھوم کے آنا اور چاندنی کا ذکر عمو ما ملتا ہے۔ انہی مناظر و مظاہر قدرت سے شاعر کو تحریک ملتی ہے اور اس طرح اردو نظم شاعر کے باطن کی کہانی بن جاتی ہے اور اس کہانی سے جو تجربہ برآمد ہوتا ہے اس کی مدد سے خارج کو سمجھنے کی سعی کرتی ہے۔ نظم کی تاریخ میں ان نظموں کی اس لیے بھی بہت اہمیت ہے کہ ان میں خارج سے باطن اور باطن سے خارج کی طرف مراجعت کی ابتدائی کوششیں کی گئی ہیں۔
اختر شیرانی نے اردو نظم میں رومانوی خصوصیات کو اتنی عمدگی سے پیش کیا ہے کہ انہیں انگریزی شاعر کیٹس کے ہم پلہ کہا جانے لگا۔ ان کی نظم میں ایک جادوئی خواب بنانے کی خواہش جلوہ گر ہے، جہاں صرف عشق کا راج ہوا اور جو خیالوں کی جنت ہو۔ جہاں قدرت کا نقش خیال اپنے بھر پور آرائش جمال کے ساتھ جلوہ گر ہو۔ ان کے شعری مجموعوں میں لالہ طور، طیور آوارہ، صبح بہار، شہناز، اخترستان اور شہرود وغیرہ ہیں، جن میں اکثر مقامات پر ظاہر ہونے والا انسان بیرونی دنیا کی معاشی و معاشرتی ہنگامہ خیزی کا مقابلہ کرنے کے بجائے حسن و عشق میں پناہ ڈھونڈتا ہے۔ زندگی سے فرار کو عافیت جانتا ہے۔ یہ انسان خالص رومانی ہے اس لیے روز و شب کی یکسانیت سے اکتا کر اپنا ایک حسین جہان تعمیر کرنا چاہتا ہے جس میں ہے روز مناظر قدرت اور نسائی حسن به کثرت ہو اور اظہار حسن و جذبات کے مواقع بہم میسر ہوں ۔ یہ طرز زیست رومانویت پسندوں کے یہاں عام ہے۔ اختر شیرانی نے روایت سے تعلق منقطع کیے بغیر ہیئت کے نئے تجربات بھی کیے۔ انھوں نے نظموں اور گیتوں میں قطع برید کی اور مصرعوں کی کمی بیشی کر کے نئی شعری شکلیں تیار کی ہیں اسی طرح اردو نظم میں مغربی صنف سخن ، سانیٹ کے تجربے بھی کیے۔ اردو نظم میں موسیقیت اور شیرینی کا عنصر بھی داخل کیا۔ انھوں نے رومانیت میں عشق کا جو تصور پیش کیا ہے وہ حقیقت کے قریب ترین ہے۔ ان کی شاعری میں محبوب کا تصور مرد کے بجائے عورت کو بتایا گیا اور یہ تصور شاعری کو زندگی کے قریب لانے میں معاون ثابت ہوا ۔ اخر ن ہوا۔ اختر شیرانی کو نو جوانوں کا شاعر کہا جاتا ہے۔ ان کی شاعری نوجوانوں میں بہت مقبول ہوئی۔ اس سلسلے میں ان کی نظمیں سلمی ، عذراء ریحانہ بہت مشہور ہوئیں۔ ان نظموں کے علاوہ ایسی نظمیں بھی ہیں جن میں منظر فطرت کی عکاسی کی گئی ہے۔ مناظر فطرت کے بارے میں اس سے قبل بھی شاعری کی گئی لیکن اختر نے جس فطرت کو برتا وہ ان کا خاصہ تھا۔ اختر نے نظم کو غزل کو ترنم اور کیف و غنائیت عطا کی ۔ انھوں نے چھوٹی بحروں سے کام لیا ، ان کی رومانوی شاعری کم والم کی داستان نہیں بلکہ پر کیف اور پر اثر ہے۔ اختر کی شاعری منزل لیلی کی شاعر کی شاعر ہے اور اس تلاش میں وہ مختلف وادیوں کی سیر کرتے ہیں، ان کی نظمیں ارتعاشات کا مجموعہ ہیں، جن میں فکری عنصر میں بہت کم ہے۔ جذباتی فراوانی اور التزام قدم قدم پر ملتے ہیں۔ ان کا مزاج انسان دروں میں تھا کیوں کہ اس کی تمناؤں کی تکمیل بھی خود ساختہ دنیا میں ہوتی ہے۔ اختر شیرانی کی نظمیں ” سرزمین عشق ، تنہائی کی وادی میں اور اسے عشق کہیں لے چل بہ طور خاص انسان کی انفعالیت کو عیاں کرتی ہیں۔ ان نظموں میں انسان زمانے کو بدلنے کی آرزو نہیں رکھتا اور نہ خود میں اتنی ہمت پاتا ہے کہ تقدیر کا رخ موڑ سکے اس لیے دنیاوی انجمن سے دور بھاگتا ہے۔ اے عشق کہیں لے چل کا زیر نظر بند انسان کی منفعل مزاج کی عکاسی کرتا ہے۔
اک مذبح جذبات و افکار ہے یہ دنیا
اک مسکن اشرار و آزار ہے یہ دنیا
اک مقتل احرار و ابرار ہے یہ دینا
دور اس سے کہیں لے چل / اے عشق کہیں لے چل
اختر کے یہاں انسان کی بنائی ہوئی خیالی دنیا میں ہر چیز مثل بہشت خوش نما و دل کش ہے۔ اس کے گلستاں پر فضا اور اس کی بہاریں دل نشیں ہیں۔ ان کی نظم سرزمین عشق میں پر سکون ماحول اور داخلی احساسات کی تخیلاتی آماجگاہ کا بیان ظاہری دنیا سے تقابل کی صورت میں پیش ہوا ہے۔
ہنگامہ عالم سے دور ، آفت کہ ہستی سے دور
اس مکر کی دنیا سے دور ، اس ظلم کی بستی سے دور
اس رات، اس دن سے الگ ، اس اوج اس پستی سے دور
دوراز زمین و آسماں
اک سرزمین عشق ہے
ہیئت کے لحاظ سے اختر نے سا نیٹ کو رواج دیا اور اس سے بہت کام لیا اس کے علاوہ ان کی نظموں میں تشکیل و تعبیر کی احتیاط نہیں ہے پھر بھی ان کی روانی ، ترنم تسلسل نے ان نظموں کو اس حلقے میں بھی مقبول بنا دیا جہاں ابھی تک صرف غزل کا رواج تھا۔
احسان دانش
احسان دانش کی نظموں میں انقلابی و سماجی افکار پایا جاتا ہے۔ ان کے یہاں مناظر قدرت پر بہترین نظمیں ملتی ہیں۔ یہ ایک سچے محب وطن اور اپنی قوم سے بے پناہ محبت کرنے والے تھے۔ ان کی شاعری کے زیادہ تر موضوعات انسانی اقدار سے ہی ماخوذ ہیں۔ بیانیہ شاعری اور مرقع نگاری میں وہ منفرد اور ممتاز حیثیت کے مالک تھے۔ ان کا مشاہدہ عمیق ، مطالعہ وسیع ، تجربات و حوادث اور تخیل کی پرواز ان عوامل کی آئینہ دار ہیں۔ احسان کے کلام میں شائستگی، سوز و گداز اور لہجے کی ملائمیت ، بیچارگی ، اندوہ اور حسرت ہر شعر سے ٹپکتی ہے۔ شاعری میں نمگی کے رچاؤ کے ساتھ نوے کا درد سمٹ آیا ہے جو دلوں پر اثر کرتا ہے۔ مناظر فطرت کے حوالے سے کھیتوں ، دریاؤں، صبح و شام کے مناظر دلکش انداز میں پیش کیے ہیں ۔ الفاظ سے ؟ و تراکیب پر قدرت رکھتے ہیں۔ روانی و سلامت بھی ان کی شاعری کا خاصہ ہے۔ وطن پرستی کے جذبے سے سرشار ہو کر جو نظمیں انھوں نے کہی ہیں ان میں اقبال کا سا انداز اور پر تو نظر آتا ہے۔ احسان کی نظم خیال وطن پر اقبال کی نظم تصویر درد کے اثرات نظر آتے ہیں ۔ ان کی نظم خیال وطن کا یہ ٹکڑا دیکھیے
یہ ہوائے مشک پرور یہ بہار آئی ہوئی
میرا یہ عالم طبیعت غم سے گھبرائی ہوئی
اشکباری کی طرف مائل ہوا جاتا ہے دل
درد سا اٹھتا ہے سینے میں بھرا جاتا ہے دل
غم کی تاریکی میں ہے تنویر مہتاب وطن
دیکھتا ہوں عین بیداری میں اک خواب وطن
گھلتی جاتی ہے فضاؤں میں سیاہی کیا کروں
روح پر رقت سی طاری ہے الہی کیا کروں
الغرض احسان دانش کی حسیت اس انتہا کو پہنچی ہوئی ہے جہاں غریب کے دکھ درد کا احساس اور ان مصائب و آلام کا ذکر نظموں میں ہوا ہے۔
اس کا اظہار سبک روی اور دردمند دل کے ساتھ کیا ہے۔ احسان کی شاعری عوامی شاعری بن گئی ہے۔ اقبال نے عالمگیر انسان کی بات کر کے موضوع کو وسیع کر دیا البتہ احسان دانش نے اقبال سے انسانیت کا درد لے کر نظموں کو موضوع بنادیا۔ احسان دانش نے بہترین اور کامیاب نظمیں کہی ہیں جو آج بھی ذوق وشوق سے پڑھی اور سنی جاتی ہیں۔
This post explores the history and evolution of Urdu Nazm, highlighting its origins, key poets like Hali, Azad, and Iqbal, and the rise of modern Urdu poetry.