ڈپٹی نذیر احمد کے حالات زندگی
ناول انگریزی زبان سے اردو زبان میں متعارف ہوا ۔ لفظ ناول اطالوی زبان کے لفظ ناویلا سے مستعار ہے جس کے معنی نیا کے ہیں۔ اردو میں اس کے آغاز کے سلسلے میں اگر چہ اختلاف ہے لیکن اکثر محققین اس بات پر متفق ہیں کہ ڈپٹی نذیر احمد اردو کے پہلے ناول نگار ہیں اور سنہ 1869 میں لکھی ہوئی ان کی تصنیف مراۃ العروس اردو کا پہلا ناول ہے۔ اس کے بعد نذیر احمد کے یکے بعد دیگرے چھ اور ناول منظر عام پر آئے ہیں۔ ان تمام ناولوں کے موضوعات اصلاحی پہلوؤں پر مشتمل ہیں۔
خاندانی پس منظر
اردو ادب کو ایک نئی صنف سے آشنا کرانے کا سہرا ڈ پٹی نذیر احمد کے نام ہے، حالاں کہ ان کی خدمات کئی اصناف سخن میں ہیں لیکن ناول وہ شاہ کار کارنامہ ہے، جس کی وجہ سے ہی ان کا نام ادبی دنیا میں زندہ ہے۔ نذیر احمد کا خاندان علم و فضل کی وجہ سے معروف تھا۔ ان کے جد اعلیٰ شیخ عبدالقدوس گنگوہی کے خلیفہ شیخ عبد الغفور اعظم پوری تھے اور ان کے خاندان کے افراد پیر زادے کہلاتے تھے۔
ولادت اور ابتدائی حالات
نذیر احمد اپنے نانیہال موضع ریبر ، پر گند افضل گڑھ، تحصیل نگیہ ضلع بجنور میں پیدا ہوئے ، جہاں ان کے والد سعادت علی خانہ داماد بن کر رہ رہے تھے۔ نذیر احمد کی تاریخ ولادت کے سلسلے میں کوئی مستند شہادت موجود نہیں ہے، سید افتخار بلگرامی نے حیات النذیر میں ان کی پیدائش کی تاریخ 6 دسمبر 1836 درج کیا ہے۔ ڈاکٹر افتخار احمد صدیقی نے اپنے تحقیقی مقالہ مولوی نذیر احمد دہلوی ۔ احوال و آثار میں 1830 ثابت کیا ہے۔ جب کہ نذیر احمد نے اپنی پیدائش 1833 بتائی ہے۔
تعلیم و تربیت
اپنے خسر کی وفات کے بعد نذیر احمد کے والد اپنے اہل وعیال کے ساتھ بجنور آ کر اپنے آبائی مکان میں قیام پذیر ہوئے اور معلمی کے پیشے کو ذریعہ معاش بنایا۔ نذیر احمد نے ابتدائی تعلیم والد صاحب سے حاصل کی اور فارسی کی ابتدائی کتابیں ان ہی سے پڑھیں ۔ نذیر احمد خود کہتے ہیں کہ ان کے والد کی دی ہوئی تعلیم ان کے لیے تریاق تھی فارسی کے لٹریچر کا ، پھر مولوی سعادت علی نے اپنے دونوں بچوں علی احمد اور نذیراحمد کو نامور عالم ڈپٹی نصر اللہ خاں خور جوی کی شاگردی میں دے دیا، جو اس وقت بجنور میں تعینات تھے۔ ان سے انھوں نے صرف و نحو، عربی ادب اور فلسفہ و منطق کی کتابیں پڑھیں ۔ 1842 ء میں ان کا تبادلہ مظفر نگر ہوا تو ان دونوں بھائیوں کو وہیں بلوالیا اور وہاں سے طویل رخصت پر جاتے ہوئے نذیر احمد کے والد کو مشورہ دیا کہ دہلی کے کسی مدرسے میں دونوں کا داخلہ کرا دیں، چنانچہ انہوں نے 1842 ء ہی میں دونوں کو مولوی عبدالخالق کے پاس اورنگ آباد مسجد میں چھوڑ آئے۔ یہاں محنت و مشقت کے ساتھ تعلیم حاصل کرتے رہے۔ مولوی نذیر احمد نے خود اس دور کو بدترین وقت کہا ہے، بالآخر 1845 ء میں دونوں بھائیوں نے مسجد سے نکل کر دہلی کالج میں داخلہ لیا اور وہاں دسمبر 1852 ء تک زیر تعلیم رہے۔ دہلی کالج میں نذیر احمد کا خاص مضمون عربی تھا۔ انہوں نے مختلف اساتذہ سے علم حاصل کیا جن میں نمایاں نام مولوی مملوک علی اور امام بخش صہبائی کا ہے۔ اسی دوران والد اللہ کو پیارے ہو گئے اور گھر کی ساری ذمہ داری ان دونوں بھائیوں کے سر پر آن پڑی۔ انہیں چار روپے جو وظیفہ ملتا تھا اس میں سے بچا کر گھر کی بھی کفالت کرتے تھے۔
ازدواجی زندگی
دہلی کالج میں تعلیم کے دوران ہی نذیر احمد کی شادی گھر والوں کی مرضی کے خلاف مولوی عبد الخالق کی پوتی اور مولوی عبد القادر کی بیٹی صفیہ النساء بیگم سے دہلی میں ہوئی۔ ان کے بطن سے کئی اولادیں پیدا ہوئیں لیکن صرف تین اولا دیں ( دو بیٹیاں سکینہ بیگم اور صغری بیگم اور بیٹا بشیر الدین احمد ) لمبی زندگی پائیں ۔ نذیر احمد کی والدہ کو شروع سے ہی خواہش تھی کہ ان کی شادی بجنور میں ہوا اور یہیں گھر بسائیں۔ ان کے اصرار پر بالآخر 1888ء میں نذیر احمد نے مجبور ہو کر بجنور کی ایک خاتون سے عقد کر لیا لیکن کچھ عرصے بعد طلاق ہوگئی ۔
ملازمت اور سرکاری خدمات
تعلیم سے فراغت کے بعد نذیر احمد لڑکوں کو پڑھا کر گزر بسر کرتے رہے۔ 1854 ء میں کنجاہ (گجرات) میں مدرس کی ملازمت ملی لیکن ماحول سے مطمئن نہ ہونے کی وجہ سے مسلسل دوسری ملازمت کی تلاش میں لگے رہے اور ڈپٹی انسپکٹر (تعلیم) کی جگہ ملتے ہی 1856 ء میں کانپور چلے گئے لیکن امتحان ہال میں پان کھانے پر انسپکٹر مدارس کپتان فلر نے انہیں سخت ملامت کی تو وہاں سے بھی استعفا دے کر دہلی چلے آئے۔
ترجمہ و تصنیف کا دور
پھر ماسٹر رام چندر کی سفارش پر انگریز ناظم تعلیمات نے انھیں الہ آباد کی ڈپٹی انسپکٹڑی پر مامور کیا ۔ الہ آباد میں (1859-1858) دوران قیام انھوں نے انگریزی سیکھی اور 1859ء – 1860 ء میں انکم ٹیکس ایکٹ کا ترجمہ اردو میں کیا۔ اس کے بعد 1860 سے 1861 میں تعزیرات ہند کے ترجمے و صحیح کا کام کیا۔ اس کے انعام میں انہیں سونے کی گھڑی پیش کی گئی اور ساتھ ہی ڈپٹی کلکٹری کے لیے نامزد کر دیے گئے لیکن آسامی کے نہ ہونے کی وجہ سے سلیم پور میں تحصیل دار مقرر ہوئے۔ یہیں رہ کر انہوں نے تحصیل داری کا امتحان اول درجے سے پاس کیا اور ضابطہ فوج داری (1862 ء ) پر نظر ثانی کیا ۔ 1862 ء ہی میں ولیم ایڈورڈس کی سرگزشت غدر (انگریزی) کا اردو ترجمہ مصائب غدر کے نام سے کیا جو 1863 ء میں نول کشور پریس سے شائع ہوا۔ انھوں نے بابوشیو پرشاد کی فرمائش پر (حکایات لقمان ) کی چند حکایات کا ترجمہ کیا پھر مزید حکایات شامل کر کے منتخب الحکایات کے نام سے 1863 ء میں مرتب کر کے شائع کیا۔
ناول نگاری اور ادبی انعامات
نذیر احمد کا تبادلہ 1863ء میں گورکھپور ہو گیا پھر وہاں سے انہیں اور کی ( ضلع جالون ) بھیج دیا گیا ۔ اسی دوران 1868ء میں حکومت کی جانب سے اچھی کتابوں پر انعامی مقابلے کا اعلان ہوا تو مراۃ العروس لکھ کر مقابلہ میں پیش کیا ۔ اس پر انھیں 1870ء میں انعام سے سرفراز کیا گیا اور 1872 میں ان کی دوسری کتاب بنات النعش پر بھی انعام ملا۔
حیدرآباد دکن کا قیام
نذیر احمد نے 1871 ء میں لے پوئیرون کے قانون شہادت کے متن کا اردو میں ترجمہ کیا۔ اس زمانے میں مبادی الحکمت (1871ء) بھی تحریر کیا۔ علم ہیئت کے موضوع پر فرانسیسی مصنف اے گیلمن کی تصنیف ہیونز کا سمٰوات کے نام سے 1872ء میں ترجمہ کیا ۔ 1874ء میں ان کی کتاب ” توبۃ النصوح منظر عام پر آئی ۔ اس کے علاوہ عربی و فارسی کی تعلیم کے لیے ما يغنيك في الصرف نصاب خسرو صرف صغیر اور رسم الخط تصنیف کی ۔
آخری تصنیفی دور
سرسید کی سفارش پر 1877 ء میں سرسالار جنگ اول نے نذیر احمد کو حیدر آباد دکن بلایا۔ 27 اپریل 1877 ء کو حیدر آباد پہنچے اور سر سالار جنگ کی فرمائش پر میر محبوب علی خاں کی تعلیم و تربیت کے لیے انتظام سلطنت پر سات رسالے تحریر کیے۔ اس دوران تصنیف و تالیف کا کام موقوف رہا۔ حیدر آباد میں انہوں نے چھ مہینے سترہ دن کی مدت میں قرآن مجید حفظ کیا ۔ 8 فروری 1883ء کو سر سالار جنگ اول کی وفات ہوگئی تو وہ صدر تعلقہ دار کے عہدے سے چھ سو روپے ماہوار کی پنشن لے کر 1884ء میں ہمیشہ کے لیے ملازمت چھوڑ کر دہلی آگئے ۔ دہلی آکر تصنیف کا سلسلہ پھر سے شروع ہوا اور انھوں نے فسانہ مبتلا (1885ء) ، ابن الوقت ( 1888ء) ، ایامی (1891 ء ) اور رویائے صادقہ ( 1892ء) تصنیف کی ۔ اس کے علاوہ انہوں نے مذہبی تصانیف اور قرآن مجید کے اردو تراجم کا کام بھی دہلی آنے کے بعد کیا۔ اس زمانے میں مختلف کا نفرنسوں میں لیکچر بھی دیے۔ اس طرحانہوں نے اپنی بقیہ زندگی بھی علم و ادب میں صرف کی ۔
اختلافات اور آخری ایام
نذیر احمد اپنے لیکچر میں دوٹوک بات کہتے تھے، جو بات حق سمجھتے وہ کہہ دیا کرتے جس کی وجہ سے کئی باران پر کفر کے فتوے صادر ہوئے ، دسمبر 1904ء میں ایجوکیشنل کے اٹھارویں اجلاس کے موقع پر علی گڑھ کالج کے اہل اختیار پر سخت تنقید کی لیکن محسن الملک نے انھیں ٹو کا اور اسٹیج پر ان کی تردید کی تو انہیں ناگوار گزرا اور لیکچر ہی سے انہوں نے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ بہت منت و سماجت کے بعد 1905ء میں انجمن حمایت الاسلام لاہور کے جلسے میں شرکت کی ، یہ ان کا آخری لیکچر تھا۔ 1908ء میں ایک عیسائی پادری احمد کی کتاب ” امہات المؤمنین کے جواب میں انہوں نے امہات الامہ لکھی لیکن بعض جگہ با محاورہ زبان کے استعمال کی وجہ سے اس میں مذمت کا پہلو نظر آتا تھا۔ علما نے ان پر کفر کا فتویٰ عائد کیا اور ساری کتابیں ان سے لے کر جلا دی گئیں ۔
وفات اور اعزازات
لوگوں کے رویے اور گردشِ ایام نے ان کو تھکا دیا، عمر بھی کافی ہوگئی تھی ، آنکھیں ساتھ چھوڑ رہی تھیں، اونچا سننے لگے تھے ۔ 28 /اپریل 1912 ء کو فالج کے شکار ہو گئے ۔ 3 مئی 1912 ء جمعہ کے روز آٹھ بجے شب کو وہ اپنے مالک حقیقی کو پیارے ہو گئے اور دنیا کو نعم البدل کی تلاش میں چھوڑ گئے ۔
نذیر احمد اپنی زندگی میں کئی اعزاز وانعامات سے سرفراز کیے گئے ۔ سب سے پہلے برطانوی حکومت نے 22 جون 1897 ء کو شمس العلما کا خطاب عطا کیا ۔ 2 اپریل 1902ء کو ایڈنبرا یونیورسٹی نے ایل ایل ڈی کی ڈگری سے نوازا۔ 28 دسمبر 1910ء کو پنجاب یونیورسٹی نے ڈی او ایل کی سند سے سرفراز کیا۔
This post briefly outlines the life and literary contributions of Deputy Nazir Ahmad (1836 -1912), regarded as the first Urdu novelist. It highlights his pioneering role in introducing the novel to Urdu literature, especially through Mirat-ul-Uroos (1869). The description touches on his education, government service, reformist novels, major translations, later life, controversies, and the honors he received, emphasizing his lasting impact on Urdu prose and fiction.