ڈپٹی نذیر احمد کی ناول نگاری
ڈپٹی نذیر احمد کا نام افسانوی ادب بالخصوص صنف ناول میں محتاج تعارف نہیں ہے۔ انہوں نے اس صنف سے اردو ادب کو متعارف کرایا ہے۔ نذیر احمد نے اپنے تمام ناول تعلیم و تربیت اور اصلاح کے مقصد سے لکھے ہیں ۔ ان کی فنی اور ذہنی ایج کا کمال ہے کہ انہوں نے داستان کی فضا سے نکل کر اپنے قصوں کی بنیاد نئے پن ( ناول کے فن ) پر رکھی اور ہمیں پہلی بار منطقی ترتیب و تنظیم ، سماجی شعور واقعاتی تحلیل، بیان واقعه، کردار، مکالمه، منظر نگاری اور زبان و بیان کی خصوصیات اور زندگی سے متعلق ایک مخصوص نقطہ نظر یہ ساری خصوصیات ان کے قصوں میں نظر آتی ہیں۔ یہی فن ناول نگاری کے عناصر ہیں جس کی بنیاد پر کسی ناول یا ناول نگار کے فن کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
قصہ پن
ناول کا اہم ترین عنصر قصہ کہانی ہی ہے اور یہی اس کو ناول کہلانے کا مستحق بناتا ہے۔ اس لیے ای ۔ ایم ۔ فورسٹر نے قصہ کو ناول کی ریڑھ کی ہڈی کہا ہے۔ قصہ ایسے واقعات یا حرکات کا بیان ہے، جو یکے بعد دیگرے ظاہر ہوتے ہیں اور کسی نتیجے پر پہنچتے ہیں یا مختصر طور پر زمان و مکان کی مناسبت سے ترتیب دیے جاتے ہیں۔ اس کی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ بعد میں آنے والے واقعے سے متعلق قاری کے اندر تجسس پیدا کرتا ہے۔
جب ہم نذیر احمد کے ناولوں کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ ان کے یہاں مقصدیت کا غلبہ ہے اور اصلاح ہی مقصود ہے۔ انہوں نے اپنے ناولوں میں ایسے قصوں کو پیش کیا ہے جس سے قاری اور سامع کے دل پر زیادہ اثر ہوتا ہے۔ ناول کی پیش کش میں ان کی لمبی تقریر کی وجہ سے کہیں کہیں قصہ پن کا سلسلہ ٹوٹنے لگتا ہے۔ اس کے باوجود وہ زبان اسلوب کے سہارے اس کو سنبھال لے جاتے ہیں۔
پلاٹ
نذیر احمد کے ناولوں کے پلاٹ سادہ اور اکہرے ہونے کی وجہ سے اس وقت کے افسانوی ادب یعنی داستانوں سے مختلف ہیں۔ ان کے ناولوں میں ہمیں اس چلتی پھرتی دنیا کے عام انسان دکھائی دیتے ہیں، جو ہمارے سامنے اپنی ہی دنیا کی بھلی بری تصویر پیش کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے ناولوں میں پہلی بار ہمیں معاشرے کے متوسط طبقے کے کردار دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اس کے علاوہ مذہبی، تہذیبی اور اخلاقی حالتوں کا نقشہ اور انسانوں کی مختلف فطری، ذہنی اور نفسیاتی کیفیتوں کا احوال بھی نظر آتا ہے۔
نذیر احمد کے تین ناول توبتہ النصوح، فسانہ مبتلا اور ابن الوقت ایسے ناول ہیں جن میں دوسرے ناولوں سے قطع نظر فن کارانہ طور پر پلاٹ کی تنظیم و ترتیب واضح طور پر نظر آتی ہے۔ بعض ارباب فکر توبۃ النصوح کو ان کا شاہکار ناول کہتے ہیں اور بعض ابن الوقت کو لیکن ڈاکٹر سید عبداللہ فسانہ مبتلا کے متعلق رقم طراز ہیں کہ
فسانہ مبتلا میں مقصد سے دل بستگی کا وہی عالم ہے جو مصنف کے اور ناولوں میں ہے، مگر فن کے اسرار ورموز پر عبور کے معاملے میں اس کو ہم نذیر احمد کا شاید مکمل ترین قصہ کہہ سکتے ہیں ۔
اس طرح ہم فسانہ مبتلا کو فنی سطح پر اردو کا پہلا مکمل ناول کہہ سکتے ہیں۔ مصنف نے اس ناول میں پلاٹ کی تنظیم کے اہتمام کے ساتھ ساتھ کرداروں کی سیرت اور شخصیت کا نفسیاتی جائزہ بڑی خوش اسلوبی سے پیش کیا ہے۔
ان کے ناولوں کے پلاٹ میں ہمیں بتدریج فن کارانہ شعورا بھرتا ہوا ملتا ہے۔ توبۃ النصوح کے بعد فسانہ مبتلا اور فسانہ مبتلا کے بعد ابن الوقت میں نئے کردار اور ان کی زندگیوں کے نت نئے مسائل ہمارے سامنے آتے ہیں۔ خلاف معمول انہوں نے فسانہ مبتلا اور ایامی میں معاملات حسن و عشق، حسن پرستی اور جنسی بے راہ روی جیسے مضامین پر بھی قدرے روشنی ڈالی ہے۔ اس طرح اردو کے جدید ناقدوں کے اس اعتراض سے بھی کسی حد تک وہ بری ہو جاتے ہیں۔
کردار نگاری
کردار نگاری میں ڈپٹی نذیر احمد نے مختلف طرح کی فنی تدبیریں اختیار کی ہیں۔ کبھی انہوں نے خود کرداروں کا تفصیلی تعارف کرایا ہے تو کبھی کرداروں کے مزاج اور ان کی خاصیتوں پر روشنی ڈالی ہے۔ ناول میں جن اشخاص کا قصہ بیان کیا جاتا ہے، انہیں کردار کہا جاتا ہے اور ان کرداروں کو ناول میں اس طرح پیش کرنا کہ ان کی گفتگو اور شعوری اور غیر شعوری حرکات سے ان کی فطرت سامنے آئے وہ کردار نگاری ہے ۔ کسی بھی ناول کی ادبی اہمیت اس کی کردار نگاری پر منحصر ہوتی ہے اس کے لیے ناول نگار کو چاہیے کہ دنیا کے چلتے پھرتے سوچتے سمجھتے ، ہنستے بولتے اور بنتے بگڑتے انسان کو کردار کی شکل میں پیش کرے تا کہ قاری کو محسوس ہو کہ وہ اس کی ارد گرد کی دنیا کے کردار ہیں۔ ڈپٹی نذیر احمد نے اپنے کرداروں کو پیش کرنے میں اس طرح کی بھر پور کوشش کی ہے لیکن پہلے ناول نگار ہونے کی وجہ سے اور اپنے مقصد کو اولیت دینے کی وجہ سے ان کے بعض کرداروں پر داستانوی کردار کا شائبہ ہوتا ہے۔ چناں چہ پہلے ناول مراۃ العروس کے کردار اصغری اور اکبری ہمارے معاشرے کا فرد معلوم ہوتے ہیں ۔ ہاں اصغری کے کردار سے مولوی صاحب نے جو کام لیا ہے وہ بعض مرتبہ بے حد مثالی معلوم ہوتا ہے جس کی وجہ سے داستانوی کردار لگنے لگتا ہے۔
نذیر احمد کے تیسرے ناول توبتہ النصوح کے اہم کردار نصوح، کلیم اور ظاہر دار بیگ ہیں ۔ نصوح ناول کا مرکزی کردار ہے، جو مصنف کے مقصد اور منشا کی تکمیل کرتا ہے۔ کلیم کا کاردار انسانی خوبیوں اور خامیوں کا ایک دلچسپ اور زندہ پیکر ہے، جو نذیر احمد کی کردار نگاری کا بہترین نمونہ ہے۔ کلیم سے ہر قاری کے دل میں فطری ہمدردی اور محبت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ اس ناول کا تیسرا اہم کردار ظاہر دار بیگ ہے جو خوشامدی، چرب زبان اور مکار واقع ہے۔ یہ جھوٹوں کی اچھی نمائندگی کرتا ہے۔ اس کو ایک کامیاب کردار کہہ سکتے ہیں اور اس سے نذیر احمد کے وسیع مشاہدے اور عمیق تجربے کی غمازی ہوتی ہے۔ نذیر احمد نے ان کے علاوہ کئی کردار جیسے مبتلا، ہریالی ، حاضر ، ناظر ، ابن الوقت، حجۃ الاسلام ، آزادی بیگم، صادقہ کی تخلیق کی اور اکثر کو جاوداں بنا دیا ہے۔
مکالمہ نگاری
مکالمہ بھی ناول کا ایک اہم جز ہے۔ اس کے ذریعہ ہی کردار کے ارادے، احساسات، جذبات وغیرہ ظاہر ہوتے ہیں ۔ ناول نگار واقعات کے بیان میں کبھی خود اپنے بیانات سے کہانی کو آگے بڑھاتا ہے تو کبھی کرداروں کے مکالمے کا سہارا لیتا ہے لیکن اس وقت ناول نگار کو بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے اور اس کو مکالمے کے لیے ایسی زبان کا اہتمام کرنا ہوتا ہے جو کرداروں کے حسب حال اور فطری انداز میں ہوتا ہے۔ کرداروں سے مکالمہ ادا کرواتے وقت اس بات کا بھی خیال رکھنا ہوتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ بالکل عامیانہ ہو کر ادبی زمرے سے خارج ہو جائے اور ایسا بھی نہ ہو کہ ادبی زبان کا جامہ پہنانے کی وجہ سے مصنوعی اور غیر فطری معلوم ہونے لگے۔ ساتھ ہی مکالمے کی زبان کرداروں کے حسب مراتب بھی ہوئی چاہیے ۔ کردار جس طبقے ، پیشے یا گروہ سے تعلق رکھتے ہوں ۔ مکالموں میں ان کے جذبات واحساسات کی مکمل ترجمانی ہونی چاہیے اور مکالموں کا لب ولہجہ بھی فطری اور حقیقی ہونا چاہیے۔
اس بات پر تقریباً سبھی نقاد متفق ہیں کہ ڈپٹی نذیر احمد زبان و بیان پر مکمل قدرت رکھتے ہیں اور مکالمہ نگاری کی گہری بصیرت سے ہی تمام کرداروں کی قلبی و ذہنی اور نفسیاتی جذبات و کیفیات کی بھر پوری عکاسی کرتے ہیں۔ اس سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا ہے کہ وہ مستورات کے مکالمے لکھنے پر قدرت کاملہ رکھتے تھے۔ ان کی نوک جھونک کی کیفیات کو ان ہی کے لب ولہجہ میں لکھنے پر عبور حاصل تھا۔ فسانہ مبتلا سے ایک نمونہ ملاحظہ ہو
تم نے دیکھا یہ ہریالی نہیں گھر والی ہے، یہ بی بی ہے، یہ میری سوکن ہے ، میں رانڈ ہوں یہ سہاگن ہے، میں لونڈی ہوں یہ بیگم ہے، میں چڑیل ہوں یہ حور ہے، یہ میاں کی لاڈو ہے، یہ میان کی چہیتی ہے، یہ میاں کے کلیجے کی ٹھنڈک ہے۔
اس طرح کے مکالمے نذیر احمد کے ناولوں میں بھرے پڑے ہیں۔ اس کے علاوہ ہر عمر اور درجہ کے مطابق کرداروں کی ہو بہو زبان استعمال کرنے کا ہنر بھی انہیں خوب آتا ہے۔ مکالمہ کی ایک خاص خصوصیت یہ ہے کہ وہ بقد رضرورت ہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ مکالمہ کہانی کے لیے روڑ ابن جائے اور اس کا سلسلہ ٹوٹ جائے ۔ یہاں پر کہیں کہیں مقصدیت کی رو میں نذیر احمد بہہ جاتے ہیں اور مکالمہ تقریر بن جاتا ہے، پھر بھی زبان و بیان برائے کی عمدگی کی وجہ سے اکثر قاری لطف اٹھاتا ہے، لیکن بہر صورت خامی خامی ہوتی ہے جو نظر آتی ہے اور کہیں کہیں خاص علمی اصطلاحات بھی استعمال کرتے ہیں اور کبھی عام محاوروں کے علاوہ عربی اور فارسی کے محاروے بھی درمیان میں استعمال میں لاتے ہیں جو عام قاری کے سمجھ میں نہیں آتے لیکن یہ ان کی علمی لیاقت ہے جو بے ساختہ چھلک جاتی ہے۔
جذبہ اصلاح
مولوی نذیر احمد کے تمام ناولوں میں یہ جذبہ موجود ہے۔ ان کا ہر ناول کسی نہ کسی مقصد کے لیے لکھا گیا اور اکثر کتاب کے سرورق پر اس مقصد کا اعلان بھی کر دیا گیا۔ مراۃ العروس اور بنات النعش لڑکیوں کی تربیت پر زور دینے کے لیے لکھے گئے۔ توبتہ النصوح کا پیغام یہ ہے کہ والدین خود کو اپنی اولاد کے لیے مثال بنائیں اور اسے دین دار بنانے کی کوشش کریں۔ ابن الوقت میں غلامانہ سوچ رکھنے والے ہندوستانیوں کو بتایا گیا کہ اگر وہ انگریزوں کی نقل کر کے بہادر بننا چاہیں تو انہیں صرف ذلت و شرمندگی ملے گی۔ فسانہ مبتلا ایک سے زیادہ شادیوں کے مسائل پر روشنی ڈالتا ہے۔ بیوہ عورتوں کے دوبارہ شادی کرنے کے فائدے ایامی سے واضح ہو جاتے ہیں۔ رویائے صادقہ میں مذہبی امور پر اس طرح روشنی ڈالی گئی کہ جدید تعلیم حاصل کرنے والے نوجوان دین سے دور نہ ہوں۔ خلاصہ یہ کہ ہر ناول کسی نہ کسی سماجی مسئلے کو دور کرنے کے مقصد سے لکھا گیا ہے۔
جس زمانے میں مولوی نذیر احمد نے یہ ناول لکھے، اس وقت سرسید کی اصلاحی تحریک اپنے عروج پر تھی، ادب کے فائدے اور مقصد پر زور تھا۔ سرسید کے اثر سے اور خاص طور پر حالی کے مقدمہ شعر و شاعری کی اشاعت کے بعد یہ خیال عام ہو گیا تھا کہ ادب صرف تفریح اور وقت گزارنے کا ذریعہ نہیں بلکہ زندگی کو بہتر بنانے کا بھی ذریعہ ہے۔ نذیر احمد کے دور کو دور اصلاح کہنا چاہیے اور مصلحین کے رہنما سرسید تھے، مگر پروفیسر نور الحسن کے مطابق بعض معاملات میں نذیر احمد ان سے بہتر تھے۔
کیونکہ وہ عربی زبان کے ماہر اور عالم دین بھی تھے، اس لیے مذہبی مسائل میں زیادہ یا کم روی سے محفوظ رہے۔ دوسری بات یہ کہ ان کی سوچ میں سرسید کے مقابلے میں زیادہ اعتدال و توازن تھا اور تیسری بات یہ کہ بعض اصلاحی کاموں میں وہ سرسید سے بھی آگے تھے، مثال کے طور پر تعلیم اور خواتین کی تربیت کی طرف انہوں نے سرسید سے زیادہ توجہ دی۔ بیوہ عورتوں کی دوبارہ شادی کی اہمیت انہوں نے پہلی بار دلچسپ انداز میں بیان کی۔
نذیر احمد کے اصلاحی ناول اردو ادب کا قیمتی سرمایہ ہیں، البتہ کبھی کبھار جذبہ اصلاح میں وہ اتنے ڈوب جاتے ہیں کہ فن کے اصول پیچھے رہ جاتے ہیں اور کہیں کہیں وہ صرف واعظ اور نصیحت کرنے والے بن کر رہ جاتے ہیں۔ لیکن جہاں فنکار نذیر احمد نے واعظ نذیر احمد پر کامیابی حاصل کی، وہاں فن کا کمال ظاہر ہوتا ہے۔
حقیقت نگاری
حقیقت نگاری مولوی نذیر احمد کے ناولوں کی سب سے اہم خصوصیت ہے۔
جیسے زبانوں کی طرح ہمارے ادب میں بھی ناول سے پہلے داستانوں کا دور تھا، اور یہ داستانیں حقیقت سے بہت دور تھیں۔ ان میں یا تو جن، بھوت، دیو، پریاں، جادو اور جادوگرنیاں دکھائی دیتی تھیں یا پھر بادشاہ، وزیر، شہزادے اور شہزادیاں۔ واقعات بھی ایسے ہوتے تھے جنہیں عقل کبھی تسلیم نہیں کر پاتی تھی۔
ناول، داستان کے خلاف ردعمل کے طور پر وجود میں آیا۔ اس کا مقصد زندگی کی حقیقت دکھانا تھا۔ مولوی نذیر احمد کے ناول اس معیار پر پورا اُترتے ہیں۔ ان میں حقیقی زندگی کی جھلک نظر آتی ہے۔ زیادہ تر وہ مسلمان متوسط گھرانوں کی عکاسی کرتے ہیں اور بالکل اصلی نقشہ کھینچ دیتے ہیں۔
افتخار عالم نے ”حیات النذیر“ میں لکھا ہے کہ اکبری اصغری کے قصے کو لوگ سچا واقعہ سمجھتے تھے اور بہت سے لوگ ان بہنوں کے گھروں کا پتا پوچھتے پھرتے تھے۔ بعض لوگوں کو شک ہوا کہ شاید ان میں مصنف نے اپنے خاندان کی تصویر دکھائی ہے۔ ابن الوقت کو سرسید کی تصویر کا ایک رخ مانا گیا۔ حجتہ الاسلام کے کردار میں لوگوں نے خود مولوی نذیر احمد کا چہرہ دیکھا۔ آزادی بیگم میں مولوی صاحب کی ایک بیوہ سالی کی تصویر بھی ڈھونڈ نکالی گئی۔
ظرافت
مولوی صاحب کے مزاج میں یہ خوش مزاجی موجود تھی۔ اس ظرافت نے ان کے ناولوں کو بہت زیادہ دلچسپ بنا دیا ہے۔ ہر جگہ ظرافت کی چھوٹی چھوٹی جھلکیاں دکھائی دیتی ہیں اور اس طریقے سے قاری کو اپنی گرفت میں رکھتے ہیں۔ بار بار مزاحیہ باتیں سنانے سے قاری ہنستا ہے۔ ”توبتہ النصوح“ میں مرزا ظاہر دار بیگ کے مضحکہ خیز کردار نے جان ڈال دی ہے۔ ”فسانہ مبتلا“ میں ظرافت کا مواد اور بھی زیادہ ہے۔ بھانڈوں کی بات چیت سے اس ناول میں مزاح پیدا کیا گیا ہے۔ بعض جگہ یہ ظرافت زیادہ ہو گئی اور ناگوار لگتی ہے۔
اہل نظر کا ایک گروہ ہے جو نذیر احمد کے ناولوں کی کمیاں بتاتا ہے۔ وہ انہیں ناول نہ مان کر قصے اور تمثیلیں کہتے ہیں اور کردار بنانے میں کمزوری کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انہوں نے بعض قصے انگریزی ناولوں سے لیے ہیں۔ مراۃ العروس رچرڈ سن کے قصے سے ماخوذ ہے۔ بنات النعش ٹامس ڈے کے ہسٹری آف سین فورڈ اینڈ میٹرن سے متاثر ہو کر لکھا گیا ہے۔ توبتہ النصوح میں ڈینیل ڈیفو کے فیملی انسٹرکٹر کی جھلک نظر آتی ہے، مگر یہ کوئی کمی نہیں۔
بعض خامیوں اور کمزوریوں کے باوجود، نذیر احمد کے ناول اردو فکشن کا قیمتی سرمایہ ہیں اور انہی کی بنیاد پر آگے چل کر اردو ناول کی اعلیٰ عمارت تعمیر ہوئی۔
This post highlights Deputy Nazir Ahmad’s novel-writing style, featuring realistic plots, detailed characterization, natural dialogue, and humor, with a focus on moral and social reform and middle-class life, shaping modern Urdu fiction.