سر سید احمد خان کی حالتِ زندگی
۱۸۵۷ء کے خونی انقلاب کے بعد مسلمانوں کے لئے حالات بہت بدتر ہو چکے تھے اور اس انقلاب سے سب سے زیادہ نقصان ہندوستانی مسلمانوں کا ہوا تھا۔ ایک تو ان پر بغاوت کا الزام لگا دوسرے انہیں ساجی ، معاشی تعلیمی ترقی میں پیچھے کر دیا گیا ۔ اور وہ تاریکی کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبتے جارہے تھے۔ اگر ہم آج کے حالات کا جائزہ لیں تو ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ آج ہندستانی مسلمان تعلیمی اعتبار سے کافی اچھے ہیں اور زندگی کے تمام تر شعبے میں ترقی کے لئے کوشش کر رہے ہیں ۔ لیکن اس وقت کے حالات اتنے بدتر ہو چکے تھے کہ نہ کوئی پرسان حال تھا اور نہ ہی ان کی حالات زار پر کوئی رونے والا ۔ ایسے ہی وقت میں سرسید احمد خاں نے ہندستانی مسلمانوں کی حالت دیکھتے ہوئے اپنی کوششوں سے ، اپنی صحافت سے مسلمانوں پر احسان عظیم کیا اور مسلمانوں کو تباہی سے بچالیا۔ سرسید نے اپنی زندگی کو قوم کے لئے وقف کر دیا تھا اور اپنی تحریک سے ایک نئے عہد کی شروعات کی۔ ان کی کوششوں کی بدولت ہی مسلمان تعلیم اور دیگر شعبوں کی جانب متوجہ ہوئے
نام – سید احمد ، خطاب ۔ سر ، اعزاز سی ایس آئی اور کے سی ایس آئی ، والد ۔ میر تقی ، والدہ – عزیز النساء ، دادا سید ہادی ، پر دادا سید عماد، چھر دادا۔ سید برہان ، مورث اعلیٰ ۔ سید محمد دوست ۔
سید محمد دوست اور نگ زیب عالم گیر کے ہمراہ دکن کی مہم میں شریک ہوئے تھے۔ بعد میں وہ دکن میں ہی بس گئے ۔ ان کے لڑکے سید برہان نے دکن سے دہلی آکر سکونت اختیار کر لی۔ ان کے فرزند تھے سید نماد ، اور ان کے دو بیٹے تھے ۔ سید ہادی اور سید مہدی ۔
سید ہادی کو خطاب جواد علی خاں اور منصب ہزاری دیا گیا۔ جب شاہ عالم بادشاہ ہوا تو خطاب جواد الدولہ دیا گیا اور عہدہ قضائے لشکر عنایت ہوا۔ سید ہادی کے مرنے کے بعد ان کے دوست خواجہ فرید نے اپنی بیٹی کی شادی ان کے بیٹے میر تقی سے کر دی۔ میر تقی شادی کے بعد خواجہ فرید کے ہی گھر میں رہنے لگے ۔ وہیں سید احمد کی پیدائش ہوئی۔ بچپن کی تعلیم ایسے ہی بے دلی سے پوری کی ۔ خواجہ فرید کے مرنے کے بعد اور بھی آزادی مل گئی اور خوب شرارتیں کرنے لگے۔ پڑھائی سے زیادہ رجحان کھیلوں کی طرف تھا ۔ تیراندازی ، پتنگ بازی اور تیرا کی میں خوب مہارت حاصل تھی۔
سید احمد خاں کی والدہ عزیز النساء بیگم کی شخصیت کافی متاثر کن تھی۔ ان کی پرورش اور تربیت نے سرسید احمد خان کی زندگی اور انداز فکر پر گہرا اثر ڈالا ۔ ایک مرتبہ سید احمد خاں نے کسی ملازم کو تھپڑ مار دیا۔ اس بات سے ناراض ہو کر ان کی والدہ نے فورا ان کو گھر سے باہر کر دیا۔ اور تین دن کے بعد اس شرط پر واپسی کی اجازت دی کہ ملازم سے معافی مانگیں۔
سید احمد نے جب جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا تو ایک عام نوجوان کی طرح جوانی کی رنگینیوں میں کھو گئے ۔ ہولی کے میلے، پھول والوں کی سیر، بسنت کے میلے، راگ رنگ کی محفلیں غرض کوئی جگہ باقی نہ بچی تھی۔ کبھی کبھی طوائفوں کے یہاں بھی جان ہو جاتا تھا۔ ڈاکٹر ساجد امجد لکھتے ہیں۔
جوانی کی نمائش میں اگر حسن کی دکانیں نہ ہوں تو سید کا لطف ہی کیا۔ اس کمی کو طوائفوں کے ناز و انداز سے پورا کیا جارہا تھا اور اس کو تہذیب سمجھا جارہا تھا۔ ایک نشہ تھا جو آہستہ آہستہ سب کو سلائے دے رہا تھا۔ امیر زادوں کے محلات موسیقی کی تانوں سے گونج رہے تھے۔ سید احمد بھی اس متعدی مرض سے اپنے آپ کو بچا نہ سکا کے
والدہ نے جب یہ کارنامے سے تو ہکا بکا رہ گئیں اور صرف ۱۸ ارسال کی عمر میں ان کی شادی خالہ زاد سے کر دی ۔ والدہ نے اس لیے شادی کر دی تھی کہ وہ گھر کی ذمہ داری کو سمجھے گا اور باہر کی ہوا سے دور رہے گا لیکن شادی تو ایک دن کی تھی۔ کچھ دنوں کے بعد سید احمد نے پھر بازار کی رونق کی طرف نظر کی۔ ان سب کے ساتھ ساتھ کتابوں کے مطالعے کا بھی شوق تھا۔ اور دہلی کے امراء ورؤسا کی محفل میں بھی جا کر بیٹھتے تھے۔ دہلی کے اس وقت کے مشہور شاعر غالب، صہبائی ، آزردہ، وغیرہ سے ملنے جاتے تھے اور ان کی علمی مجلسوں میں بھی شامل ہوتے تھے۔ اس وقت ادبی ذوق و شوق رکھنا امیرانہ شان کی نشانی تھی۔
یہی شب و روز تھے کہ والد میر متقی اللہ کو پیارے ہو گئے ۔ والد کی موت کے بعد سید احمد کو گھر کا خیال آیا۔ ایک انگریز افسر مسٹر ہملٹن نے سید احمد کو نائب منشی بنادیا۔ سید احمد کو غالب کی دیکھا دیکھی جب لکھنے کا شوق ہوا تو ایک کتاب فاری میں جام جم کے نام سے ۱۸۴۰ء میں مرتب کر دی۔ پھر دھیرے دھیرے مطالعے کا اور شوق بڑھا تو تین مذہبی رسائل تصنیف کیے اور پھر دہلی کی عمارتوں پر تحقیق کرنا شروع کیا اور نتیجہ آثار الصنادید کی شکل میں سامنے آیا ۔ آثار الصنادید ۱۸۳۷ء میں شائع ہوئی۔ یہ کتاب ان کا بہت بڑا علمی کارنامہ ہے۔ یہ کتاب کتاب انھوں نے دہلی میں منصفی کے زمانے میں لکھی تھی۔ یہ کام انھوں نے جس محنت اور جانفشانی سے کیا اس کا کا اندازہ اس سے ہو گا کہ قطب مینار کے اکثر کتبے پڑھنے کے لیے انھوں نے باڑھ تک بندھوائے۔ اس کتاب کا ترجمہ مسٹر رابرٹس کلکٹر و مجسٹریٹ نے رائل ایشیاٹک سوسائٹی لندن کے ذریعہ کروایا اور سید احمد کو سوسائٹی کا آنریری فیلو مقرر کیا گیا ۔ ۱۸۶۱ تک اس کتاب کا فرانسیسی میں بھی ترجمہ ہو چکا تھا۔
جب ۱۸۵۷ء کی بغاوت ہوئی تو سید احمد خاں بجنور میں تھے اور صد رامین کے عہدے پر فائز تھے ۔ دہلی کے بعد بغاوت کی لہریں بجنور تک پہنچیں اور انگریز حاکموں کو خوف محسوس ہوا تو سرسید ایک جوان مرد بن کر سامنے آئے ۔ مولانا حالی لکھتے ہیں۔
مسٹر شیکسپیر جو اس زمانے میں بجنور کے کلکٹر و مجسٹریٹ تھے گو کہ سرسید کو باعتبار عہدے کے ان سے کچھ تعلق نہ تھا مگر مسٹر شکسپیر اور مز شکسپیر سے ان کی بہت راہ و رسم تھی۔ جب بجنور میں بغاوت کے آثار نمودار ہونے لگے اور حالت خطرناک ہوئی تو مز شیکسپیر بہت گھبرا ئیں۔ سرسید کو جب یہ حال معلوم ہوا تو جا کر ان کی تشفی کی اور کہا کہ جب تک ہم زندہ ہیں آپ کو گھبرانا نہیں چاہیے۔ جب آپ دیکھیں کہ ہماری لاش کو بھی کے سامنے پڑی ہے اس وقت گھبرانے کا مضائقہ نہیں ۔
اور اس رات سرسید اسلحے سے لیس ہو کر ساری رات پہرہ دیتے رہے۔ ساتھ ہی ساتھ وہ حوصلے بھی بڑھاتے جاتے تھے۔ سید احمد نے ہندوستانی حفاظتی دستوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا ۔ محمد رحمت اللہ ڈپٹی مجسٹریٹ اپنے مصاحبوں کو لے کر رات بھر گشت کرتے رہے۔ اور پھر سید احمد ، سید تراب علی تحصیل کے ساتھ بجنور کی اندھیری راتوں میں جیل خانے اور خزانے اور انگریز حاکموں کی کوٹھی کا دورہ کرتے رہے۔ سید احمد نے بغاوت کے ختم ہونے پر مسلمانوں کی تباہی و بربادی دیکھی تو ان کا دل بھر آیا اور انھوں نے رسالہ اسباب بغاوت ہند لکھ کر انگریز حکمرانوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ بغاوت کے ذمہ دار مسلمان نہیں تھے۔ سید احمد نے مسلمانوں کی تعلیمی حالت سدھارنے کے لیے ایک تحریک شروع کی اور اسی لیے وہ ولایت گئے جہاں انھوں نے ولیم میور کی کتاب لائف آف محمد کا جواب بھی لکھا۔ پیرس، لندن ، اسکندریہ وغیرہ کی ممالک کا دورہ کرنے کے بعد وہ وطن واپس آئے۔ وہاں سے وہ مسلمانوں کی ناخواندگی ، نا کامیابی اور پستی کا حال معلوم کر کے لوٹے تھے۔ ہندوستان واپس آنے پر مسلمانوں نے کافی مخالفت کی اور کرشان ( کرسچن ) کا خطاب دے ڈالا ۔ کئی علماء نے تو کفر کا فتویٰ بھی صادر کر دیا لیکن سید احمد کو صرف اور صرف قوم کی فکر تھی۔ انھوں نے کسی بات کی پرواہ نہیں کی اور اپنے کام میں لگے رہے۔
سائنٹفک سوسائٹی کی بنیاد تو انھوں نے ولایت جانے سے پہلے ہی رکھ دی تھی اور اخبار سائنٹفک سوسائٹی بھی شائع ہونا شروع ہو چکا تھا۔ کئی انگریزی کتابوں کے تراجم پر بھی کام ہورہا تھا۔ لندن سے واپس آنے کے بعد انھوں نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ رسالہ تہذیب الاخلاق کی شروعات کی۔ اس رسالے میں مسلمانوں کی تعلیم و ترقی ، مذہب ، سماجی مسائل کے موضوعات پر مضامین شائع کرنے شروع کیے۔ مذہبی عقائد و خیالات جو ترقی میں مانع تھے۔ ان پر بھی کافی کچھ لکھا۔ عبادت کا صحیح مفہوم ، پیری مریدی ، اہل کتاب کے ساتھ معاملات ان سب پر عقلی دلیل سے روشنی ڈالی جس کی کافی مخالفت کی گئی۔ مسلمانوں کو انگریزی تعلیم کی طرف متوجہ کیا۔ اور مسلمانوں کی ترقی میں حائل دشواریوں کو دور کرنے کی کوشش کی ۔ مسلمانوں کی پسماندگی جاننے کے لیے اعلان کروایا ۔ ایک کمیٹی بنائی گئی جس کا مقصد یہ تھا کہ سرکاری اسکولوں میں مسلمان کم کیوں پڑھتے ہیں ۔ اس کے اسباب کا پتہ لگایا جائے اور حل ڈھونڈھا جائے ۔ ان سب کاموں کے لیے انگریزوں اور مسلمانوں سے چندہ جمع کیا۔ اس کمیٹی کے جلسے سے ایک دن پہلے سید احمد رات بھر جاگتے رہے تھے اور رورو کر کہتے رہتے تھے کہ مسلمان بگڑ گئے ہیں اور بگڑتے جارہے ہیں۔ کوئی صورت ان کی بھلائی کی نظر نہیں آتی ۔ اس جلسے میں رپورٹ پیش کی گئی جسے گورنمنٹ کو بھی دیا گیا۔ اس رپورٹ کے مطابق یہ بات سامنے آئی کہ مسلمانوں کو اپنی تعلیم کی فکر خود کرنی ہوگی ۔ سرکار نے کہا کہ اگر کمیٹی کسی کالج کا قیام کرتی ہے تو حکومت اس کی امداد کرے گی۔ سرسید احمد نے چندے جمع کر کے مدرسے کو ۲۴ رمئی ۱۸۷۵ کو شروع کر وا دیا ۔ اب ایک مسئلہ کالج کی تعمیر کا تھا۔ لیکن یہ حوصلے کا پہاڑ مسلمانوں کی کامیابی کا عزم مصمم دل میں لئے ہوئے اپنے سامنے آنے والے سارے مسائل ، ساری بغاوتوں ، سارے طوفانوں کا مقابلہ کرتا ہوا اپنی کوششوں میں انگار ہا۔ وہ چندہ مانگنے میں اتنا مشہور تھے کہ لوگ جہاں دیکھتے تھے یہ سوچ لیتے تھے کہ کہیں چندہ نہ مانگ لیں ۔ لاٹری تک ڈالی اور لوگوں کے اعتراض کے جواب میں کہا کہ جب ہم اپنے لیے نا جائز کام کرتے ہیں تو قوم کی بھلائی کے لیے کیوں نہیں کر سکتے ۔ بھاری آواز میں غزلیں گائیں تاکہ لوگ پیسے دیں ۔ کتا بیں فروخت کیں ۔ قومی رضا کار بن کر گلے میں جھولی ڈال کر پیسے جمع کیے۔ یہاں تک کہ طوائفوں اور سازندوں سے بھی چندہ وصول کیا۔ اتنی محنت اور جانفشانی رنگ لائی اور آخر کار یکم جنوری ۱۸۷۸، کو کالج میں کلاسیں شروع ہو گئیں ۔ سرسید کے مخالفین میں سجاد حسین ، اکبرالہ آبادی ، امداد علی و غیرہ پیش پیش تھے۔
سرسید نے ایک کام یہ کیا کہ انھوں نے ایک نئے علم کلام کی بنیاد ڈالی ۔ انھوں نے تفسیر القرآن لکھی۔ جس میں اسلام کے ہر عقیدے، قانون ، احکامات کو عقلی استدلال و ثبوت کے ساتھ پیش کیا لیکن وہ پوری تفسیر نہیں مکمل کر سکے اور ۲۷ مارچ ۱۸۹۸ء کو انتقال فرما گئے لیکن ان کا فیض آج بھی زندہ ہے۔ سرسید احمد خاں کو مولانا آزاد نے ان الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا تھا۔
مرحوم سرسید اور ان کے ساتھیوں نے علی گڑھ میں صرف ایک کالج ہی قائم نہیں کا یا تھا بلکہ وقت کی تمام علمی اور ادبی سرگرمیوں کے لیے ایک ترقی پسند حلقہ پیدا کر دیا تھا۔ اس حلقہ کی مرکزی شخصیت خود ان کا وجود تھا اور ان کے گرد ملک کے بہترین دماغ جمع ہو گئے تھے۔ اس عہد کا شاید ہی کوئی قابل ذکر اہل قلم ایسا ہوگا جو اس مرکزی حلقہ کے اثرات سے متاثر نہ ہوا ہو۔ جدید ہندوستان کے بہترین مسلمان مصنف اسی حلقہ کے زیر اثر پیدا ہوئے اور یہیں نئے قسم کی اسلامی تحقیق و تصنیف کی راہیں پہلے پہل کھولی گئیں۔
سرسید احمد خاں نے مسلمانوں کو اندھیروں کے بادل سے روشنی میں لاکھڑا کیا۔ وہ اندھیری رات میں ایک ستارے کی مانند روشن ہوئے اور مسلمانوں پر چھائے پسماندن ، جاہلیت کے اندھیرے کو سورج بن کر روشن کر دیا۔ آج بھی سرسید کی حب الوطنی ، دوراندینی ، بے تعصبی اور قوم کی محبت کی کوئی مثال نہیں مل سکتی ۔ مولوی عبد الحق لکھتے ہیں
یہ سرسید کی ہستی ہی تھی ، ان کی زندگی سے ہمیں بہت سے بے بہا سبق مل سکتے ہیں۔ ان کا اپنے نصب العین پر آخر دم تک جھے رہنا ، اس کے ہر جائز ذریعہ کو کام میں لانا مخالف قوتوں کا دلیری سے مقابلہ کرنا محنت و مشقت سے کبھی جی نہ چرانا ، دن رات کام میں لگے رہنا، تساہل اور کاہلی کو پاس نہ پھٹکنے دینا۔ خود ایک بڑا کارنامہ ہے۔ انھوں نے اپنے خیالات کو کبھی نہیں چھپایا۔ جو دل میں تھا وہی ان کی زبان و قلم پر تھا۔ کبھی اس کی پرواہ نہیں کی کہ اس سے ان کی ذات یا ان کے مقاصد کو نقصان پہنچے گا۔ ان کی زندگی میں اکثر ایسے موقعے آئے۔ جب ان پر خیر اندیش اور مخلص دوستوں نے ان کو کسی فعل سے باز رہنے کی صلاح دی۔ اعتماد سے معاملے کی اونچ نیچ سمجھائی لیکن انھوں نے وہی کیا جو ان کے ضمیر نے کہا۔ اور ہمیشہ کمال اخلاقی جرآت سے کام لیا۔ بے ریائی اور صداقت عمر بھر ان کا شعار رہا۔
سرسید احمد خاں نے اپنے ناتواں کندھوں پر پوری قوم کا بار اٹھایا اور قوم کی کامیابی کے لیے اپنے عیش و آرام ، اپنے اوقات اور اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔ ان کے بعد بھی ان کے کارنامے اور ان کا فیض زندہ ہے۔
سر سید احمد خاں کی زندگی کے چند نمایاں پہلو
سرسیداحمدخاں کو برصغیر میں مسلم علیحدگی پسندی کا بانی قرار دے کر کوئی انھیں اچھا کہتا ہے اور کوئی برا۔ انھیں اسلام کی تجدید اورنئی تعبیر و تشریح پیش کرنے والے کی حیثیت سے کبھی ہدف ملامت بنایاجاتا ہے تو کبھی خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔تقریباً ایک صدی گزرجانے کے بعد بھی ان کا نام مع القاب و آداب (سرسید) پوری آب و تاب کے ساتھ زندہ ہے۔
سیداحمدخاں کے والد میرمتقی نے گوشہ نشینی کی زندگی اختیارکرلی تھی۔ سیداحمد کی ساخت و پرداخت اور تعلیم و تربیت ان کے ناناخواجہ فرید کے سایۂ عاطفت میں ہوئی۔ سرسید پر ان کے والد سے زیادہ ان کے نانا اور ان کی والدہ عزیز النساء کے اثرات مرتب ہوئے۔ اگرچہ ان کے والدمیرمتقی نے بھی انھیں صوفیانہ روایت سے وابستہ کرنے میں اپنا رول ادا کیا بقول کرسچپن ٹرال یہ وہی صوفیانہ تصورات ہیں جن کی چھاپ ان کے مذہبی افکار پر آخر دم تک قائم رہی۔ خواجہ فرید ایک صاحب امارت انسان تھے۔ ان کی وسیع و عریض حویلی میں ایک دیوان خانہ بھی تھا جس میں وہ اپنے گھر کے بچوں کو درس دیا کرتے تھے۔ ملوک چند خواجہ فرید کا ایک دیرنہ ملازم تھا، جسے انھوں نے منیجر کی حیثیت سے ملازم رکھا تھا اور اس سے وہ آخر عمر تک اہم امور میں صلاح و مشورہ کرتے رہتے تھے۔خواجہ فرید کی فراخ دلی اور وسیع المشربی کااندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ انھوں نے اپنی جائیداد منقولہ و غیرمنقولہ میں سے اپنی وصیت کے مطابق ملوک چند کوبھائی کے برابرحصہ دیا۔
ان کی والدہ عزیزالنساء حیرت انگیز امتیازی خصوصیات کی حامل تھیں۔ ایک بار ایک شخص نے سیداحمد کو تکلیف پہنچائی۔ وہ اس سے انتقام لینے پر مصرتھے۔ ان کی والدہ نے ہدایت کی کہ وہ اسے معاف کردیں اور سیداحمدخاں کوبالآخر اسے معاف کرنا پڑا۔ ایک بار بچپن میں سیداحمدخاں نے ایک پرانے بوڑھے نوکر کو ایک تھپڑ ماردیا۔جب ان کی والدہ کو اس واقعہ کا پتا چلا تو انھوں نے کہا کہ یہ لڑکا اس گھر میں رہنے کے لائق نہیں ہے۔اسے فوراً گھر سے باہر نکال دیاجائے۔ جب تک یہ نوکر سے باقاعدہ معافی نہ مانگے اور وہ اسے معاف نہ کردے۔
اپنے والد کے انتقال کے بعد سیداحمدنے ملازمت اختیارکرلی۔ پہلے وہ ریڈر ہوئے پھر منصف یاجونئیر جج۔ انھوں نے نہایت تندہی سے اپنے فرائض منصبی کو انجام دیا اوربرابر لکھتے بھی رہے۔ ان کو ہمیشہ یہ امید رہی کہ لکھتے رہنے سے ان کی آمدنی بڑھتی رہے گی۔
سیداحمدنے ایک کتاب آثار الصنادید کے نام سے دہلی کی یادگار عمارتوں پر لکھی اورپھر آئین اکبری مصنفہ ابوالفضل کی تدوین کی۔ بقول مجیب صاحب جو سیداحمد کی مداحی میں وہ زیادہ نہیں ہیں، یہ دونوں کتابیں اتنی وقیع ہیں جوسیداحمد کو دنیا کے عظیم دانشوروں میں شامل ہونے کامستحق بنادیتی ہیں۔ یہاں چند نکات قابل غور ہیں۔سیداحمد نے عظمت رفتہ کی یادوں کو تازہ کرنے کے لئے ایران او رعرب کی سرزمین کی طرف نہیں دیکھا جو ان کے آبا و اجداد کا مسکن رہ چکی تھی۔ انھوں نے دہلی کو اپنا موضوع فکربنایا اور اس کی عظمت رفتہ کے آثار ونقوش کوبقائے دوام عطاکرنے کے اسباب فراہم کئے۔ انھوں نے دہلی کے بادشاہوں کی واقعہ نگاری کرتے وقت اپنی کتاب کی ابتدا میں ہندومہاراجاؤں کویاد کیا ہے۔ امتیازی اور خصوصی مطالعے کے لئے وہ اورنگ زیب کے بجائے اکبر کا انتخاب کرتے ہیں۔
سیداحمدخاں کے معاصر شاعر مرزاغالب نے آئین اکبری پر جو تقریظ لکھی اس میں غالب نے کہا کہ اس وقت قدیم بادشاہوں کے بجائے انگریز زیادہ قابل مطالعہ ہیں۔سیداحمد نے اس تقریظ کوناپسند کیا اوراسے واپس کردیا لیکن ۱۸۵۷ء نے ثابت کردیا کہ غالب کاخیال درست تھا اورسیداحمد کواس خیال سے متفق ہونا پڑا۔
سرسید پر ۱۸۵۷ء کے اثرات
اس تبدیلی پر دوسرے انداز سے بھی نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔ سیداحمد نے ماضی کا مطالعہ کیا تھا اور اس سے ترغیب بھی حاصل کی تھی۔ وہ اپنے نانا خواجہ فرید کی طرح یہ بات اچھی طرح سمجھتے تھے کہ انگریز ہندوستان پر مستقل طور سے قابض ہوگئے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو قوم کا مستقبل انگریزوں سے مصالحت اورمفاہمت میں ہی مضمر ہے۔ سیداحمد کوقوم سے والہانہ عشق تھا اور وہ اس مقصد کے حصول کے لئے سرگرم عمل ہوگئے۔ انھوں نے 1859ء میں کہا
یہ میری دلی خواہش اور خدا سے دعا ہے کہ ہماری حکومت اور ہندوستان کے لوگ باہم شیروشکر ہوجائیں۔ حکومت اورملک میں باہمی ربط سے قوم کو بھرپور تعاون ملے گا۔ اس سے 1857ءکے مکروہ اورناخوش گوار واقعات کا کرب بھی دورہوگا۔
سیداحمد نے برطانوی حکومت اور قوم کے روابط کو مستحکم بنانے میں اہم رول ادا کیا۔ انھوں نے ’’اسباب بغاوت ہند‘‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی جس میں ارباب اقتدار کی غلطیوں کو واشگاف انداز میں نشاندہی کی۔ اکبراعظم کے عہد کے رعایا اورحکومت کے بہترین تعلقات کی یاددلائی۔
تصور قوم
جہاں تک قوم کا تعلق ہے سیداحمد نے زوردیا کہ قوم کو اپنے ذہن میں وسعت پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ انگریزوں کے فکروفن اور ان کے طریقہ کار کا صحیح ڈھنگ سے جائزہ لے سکے۔ انھوں نے کلکتہ میں 1863ء میں مسلمانوں کے ایک جلسہ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ
ہرطالب علم اس نتیجے تک پہنچے گا کہ حق کثیرالعباد سے اور یہ کہ دنیا اس کے فرقہ، جماعت اور معاشرے سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ جہالت ہماری سب سے بڑی دشمن ہے۔ اگر ہندوستان کے باشندوں کو انگلستان کی عظیم طاقت کااندازہ ہوتا تو1857ء کے ناخوش گوار واقعات ہرگز رونما نہ ہوتے۔
سیداحمدخاں نے صرف ناصح مشفق کا رول اد انہیں کیا بلکہ ایک مصلح کی حیثیت سے انھوں نے عملی اقدامات کیے اور قوم کی ہلاکت و فلاکت کو دور کرنے کے لئے اسباب و وسائل فراہم کئے۔
ان وسائل میں سب سے اہم وسیلہ تعلیم کو قرار دیا۔1857ء میں مرادآباد میں سیداحمد نے ایک اسکول شروع کیا۔ پھر سید احمد کی پوسٹنگ جب غازی پور میں ہوئی تو وہاں ایک اسکول قائم کیا۔ یہ دونوں اسکول ہندو او رمسلمانوں کے مالی تعاون سے قائم ہوئے اورجاری رہے اوران دونوں اسکولوں نے ہر جماعت کے طلبا کو بلاتفریق مذہب و نسل تعلیم سے آراستہ کیا۔ اسی دوران سیداحمد نے انجیل کی ایک اردو تفسیر لکھی جس کا مقصد اسلام او رعیسائیت میں تطبیق تھی۔
سید صاحب نے 1864ء میں ٹرانسلیشن سوسائٹی قائم کی جو آگے چل کر سائنٹفک سوسائٹی کے نام سے مشہور ہوئی جس کے واسطے سے وہ مغربی اقوام کے علم و ادب سے مشرق کے بے شمار لوگوں کو روشناس کرانا چاہتے تھے۔ یہ سوسائٹی سیداحمد کے ساتھ علی گڑھ منتقل ہوگئی۔ جہاں انھیں راجہ جے کشن داس کی صورت میں ایک لائق و فائق ہندو معاون میسر ہوگیا۔ اس دور میں سیداحمد نے ایک ہی نعرہ وضع کیا۔
’’تعلیم حاصل کرو،’’تعلیم حاصل کرو،’’تعلیم حاصل کرو‘‘
یہاں یہ سوال غور طلب ہے، ان کی برطانوی حکومت سے مفاہمت اورجدید تعلیم کی تبلیغ و اشاعت کی کوششیں صرف مسلمانوں کے لئے وقف تھیں یا جملہ ہندوستانیوں کے لئے۔ انھوں نے انگریزی سیکھنی نہ چاہی۔ ان کی اردو میں (جیسا کہ دوسروں کی اردو میں) لفظ قوم سے مراد کبھی مسلمانوں سے ہے اور کبھی ہندو اور مسلمان دونوں سے۔ شاذونادر ہی اس سے مراد اسلام کی عالمی اخوت ہے۔ اگرچہ انھوں نے یہ اسلامی نقطۂ نظر بھی پیش کیا کہ
یہ بات بے معنی ہے کہ ایک ایمان لانے والا کالا ہے یا گورا، ترک ہے یا ترجیک، عرب ہے یا چینی، پنجابی ہے یا ہندوستانی۔
سید احمد نے پرجوش طریقے سے خلافت ترکی کی مخالفت کی۔انھوں نے کہا کہ
ترکی خلافت کا ہم سے کوئی تعلق نہیں، ہم ہندوستان کے باشندے اوربرطانوی حکومت کی رعایا ہیں، ہندوستان کی سرزمین سے وابستہ ہیں۔
ایک موقع پر انھوں نے کہا کہ
لفظ ہندو کا اطلاق ان تمام لوگوں پرہوتا ہے جو کہ ہندوستان میں بستے ہیں خواہ وہ (عقیدے کے لحاظ سے) مسلمان ہوں یا ہندو۔
جب ان کے ذہن میں صرف مسلمان ہوتے تھے تو اس وقت ان کے نزدیک قوم سے مراد ہندوستان کی مسلم جماعت ہوتی تھی نہ کہ مشترکہ عقیدہ رکھنے والی پوری امت مسلمہ۔
لارڈ لارینس، وائسرائے ہند نے 1886ء میں جب انھیں گولڈ میڈل عطا کیا تھا تو اس وقت جو توصیف نامہ پڑھاگیا تھا اس میں درج کیا گیا تھا کل اہل ملک کی خدمات کے صلے میں نہ کہ مسلم جماعت کی خدمات سے متعلق۔ مرادآباد اور غازی پور کے اسکول مسلم مزاج کی بجائے ہندوستانی رنگ و آہنگ کے عکاس تھے اوریہی حال سائنٹفک سوسائٹی کا بھی تھا کہ وہ صرف مسلمانوں کے لئے ہی نہ تھی بلکہ اس سے زیادہ تھی۔ جب 1861ءمیں تین غیرمسلم ہندوستانیوں کو وائسرائے کی لیجسلیٹو کونسل (مجلس قانون ساز) میں شامل کیا گیا تو سیداحمد نے بے کراں مسرت کا اظہار کیا اورخداوند عالم کاشکرادا کیا کہ تینوں نے نہایت ہمت واستقلال اور مستعدی اوردیانت سے اپنے فرائض منصبی کو انجام دیا۔ ان تینوں صاحبان میں سے دوپٹیالہ اوربنارس کے مہاراجہ تھے اورتیسرے سردنکر راؤ تھے ان تینوں کا تعلق اس غیرمسلم جماعت سے تھا، جس کے لئے سیداحمد دلسوزی، خلوص و تپاک اور گرم جوشی کے داخلی احساسات رکھتے تھے۔ ان کے بے پایاں اخلاص کا یہ عملی نمونہ ان کی شخصیت کی اس تصویر کو مسخ نہیں کرسکتا جو ان کی پورے ہندوستان سے مکمل وابستگی کا مظہر ہے اور جس کا تعلق صرف مسلمانوں سے نہیں ہے۔
کچھ دوسرے عناصر بھی ایسے ہیں جو اس تصویر کی آب و تاب کو نمایاں کرتے ہیں۔ جب علی گڑھ میں سیداحمد کاتبادلہ ہوا تو انھوں نے1866ء میں یہاں برٹش انڈین ایسوسی ایشن کی تحریک شروع کی۔ یہ وہ ایسوسی ایشن تھی جس کا آغاز کلکتہ میں1851ء میں ہوا تھا اور سیداحمداس سے متاثر ہوئے تھے۔
ایسوسی ایشن کے افتتاح کے موقع پر ایک بار پھر انھوں نے کہا کہ یہ ہندوؤں اورمسلمانوں کا مشترکہ معاملہ ہے۔ اس لئے انھیں برطانوی حکمرانوں کے سامنے اپنی شکایات نہایت صفائی ،دیانت داری اورباعزت طریقے سے رکھنا چاہئے۔ پھرانھوں نے خداوند عالم کی عالم گیر ربوبیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ
وہ یہودیوں،ہندوؤں، عیسائیوں اورمسلمانوں غرض کہ سب کا خدا ہے۔
ایسوسی ایشن کے سامنے پیش کی گئی عرض داشتوں کا تعلق تعلیمی، معاشی اورغیرفرقہ وارانہ مسائل سے تھا۔ ان عرض داشتوں میں یہ مقصد بھی پیش کیا گیا تھا کہ ایک دیسی زبان کا مسئلہ (مسلم نہیں) یونیورسٹی اترپردیش میں قائم کی جانی چاہئے جہاں آرٹس، سائنس اور دوسرے یورپی ادبیات اردو میں پڑھائے جائیں۔1887ء میں جب کہ وہ حکومت کے ملازم تھے، انھوں نے آگرہ میں منعقد ایک جشن سے واک آوٹ کرنے والوں کی سربراہی کی، کیوں کہ وہاں ہندوستانی مہمانوں کونسبتاً کم درجہ کی جگہوں پربٹھایا گیا تھا۔ ہندوؤں اورمسلمانوں نے اس واک آوٹ میں ان کا مکمل ساتھ دیا۔
ایک موقع ایسا بھی آیا جب ان کی قوم پر وارانہ تصویر دھندلی ہوگئی۔ جب بنارس میں ان کی پوسٹنگ ہوئی تو وہاں انھوں نے کچھ ایسے ہندوصاحبان کو دیکھا جو عدالتوں میں اردو کو ہندی سے بدلنے کے لئے کوشاں تھے۔ سیداحمد کے لئے اس ملک میں اردو مسلم حکومت کی یادگار اور ہندوؤں اورمسلمانوں کی مشترکہ تہذیب کی زندہ علامت تھی۔ان کے جذبات کافی حد تک مجروح ہوئے اور ان کے قدیم دوست مسٹر شیکسپیئر جو بنارس بہ سلسلہ ملازمت مقیم تھے۔ پہلی بار یہ دیکھا کہ وہ ’صرف مسلمانوں کی فلاح و بہبود‘ کے بارے میں گفتگو کررہے ہیں۔ مسٹر شیکسپیئر نے کہا کہ ’’اس سے قبل آپ ہمیشہ ملک کے تمام باشندوں کی فلاح میں دلچسپی رکھتے تھے۔‘‘سیداحمد نے جواب دیآ
ٓاب مجھے یقین ہوگیا کہ یہ دونوں جماعتیں کسی بھی معاملے میں مکمل خلوص قلبی کے ساتھ حصہ نہیں لیں گی۔ ان نام نہاد تعلیم یافتہ لوگوں کی بدولت دونوں جماعتوں کے درمیان تلخی ،مستقبل میں بڑھتی جائے گی۔ جو زندہ رہیں گے وہ اس منظرنامے کو ضرور دیکھیں گے۔ٓ
سیداحمد کو ایک تازہ جھٹکا اس وقت لگاجب سائنٹفک سوسائٹی کے کچھ ہندو اراکین سوسائٹی کی مطبوعات کے سلسلے میں اردوکو ہندی میں بدلنے کی تجویز پیش کی۔ سیداحمد نے دیکھا کہ یہ روش ہندومسلم اتحاد کو ناممکن بنادے گی۔ یکجہتی اور یگانگی کی یہ بنیاد (اردو) ہندوستانی املاک کی بجائے مسلم میراث سمجھی جانے لگی۔ اردو کے بے شمار مقامی لغات کو نظرانداز کرتے ہوئے ہندوصاحبان نے اس زبان کوغیرملکی اثرات کا مظہر سمجھا۔اس قبیل کے ہندوصاحبان کے خیالات کو ان مسلمانوں سے تقویت ملی، جنھوں نے اردو کو عربی و فارسی الفاظ سے ٹھونس ٹھانس سے بوجھل بنادیاتھا۔
معاصر شاعر حالی نے دونوں جماعتوں پر زور دیا کہ وہ دہلی کی صاف اور سادہ زبان اختیار کریں، جسے دہلی کے ہندو اورمسلمان دونوں بولتے ہیں۔ مہاتما گاندھی نے بھی اس خیال کی تائید کی کہ اگر دونوں جماعتوں کی کوئی مشترکہ زبان ہوسکتی ہے تو وہ ایسی زبان ہوگی جس میں حالی کی ’’مناجات بیوہ‘‘ لکھی گئی ہے۔ اردو اور ہندی ایک زبان او ر دو رسم الخط کی شکل اختیار کرلیتی اگر اس قسم کی (اتحاد کی) باتوں کی طرف سنجیدگی کے ساتھ توجہ کی جاتی۔
سیداحمد اردو کے اخراج کے آثار کی وجہ سے دلبرداشتہ ہوگئے،لیکن اس کے باوجود وہ ہمیشہ تعاون اور اتحاد کے عقیدے کی بحالی کے لئے کوشاں رہے۔1969ء میں انھوں نے اپنے پہلے سفربرطانیہ کے دوران ہندوستان کے مردوں اورعورتوں کے بارے میں لکھا کہ وہ حقیقتاً ایک ہیں۔ٓ
سیداحمد نے انگلستان میں 17 مہینے قیام کیا، وہاں انھوں نے ملکہ وکٹوریہ کو دیکھا، کارلائل سے ملاقات کی اورچارلس ڈکنس سے بھی آخری بار رابطہ قائم کیا۔ ڈیوک آف ارگل سے انہیں اسٹار آف انڈیا (ستارۂ ہند) کا خطاب ملا۔ انھوں نے وہاں رہ کر یہ نتیجہ نکالا کہ انگلستان کی تہذیبی برتری صرف اس لئے رہے کہ وہاں جملہ علوم و فنون ملکی زبان میں پڑھائے جاتے ہیں۔ انھوں نے اپنے ہندوستانی دوستوں سے کہا کہ ہندوستان کی ترقی بھی یہاں کی زبان کو ذریعۂ تعلیم بنانے میں مضمر ہے۔ یہ بات کوہِ ہمالیہ پر بڑے بڑے حروف میں لکھ دی جائے۔
This post details Sir Syed Ahmed Khan’s life and work, showing how he helped Indian Muslims recover after the 1857 revolt. It covers his early life, education, family influence, youthful experiences, and professional career, including his writings. The post highlights his efforts in promoting modern education, founding the Scientific Society, launching and establishing the Muhammadan Anglo-Oriental College, while also emphasizing his vision for communal harmony, social reform, and the intellectual uplift of Muslims.