نظم فن کا تنقیدی جائیزہ
نظم نگاری کا فن
نظم شاعری کی وہ شکل ہے جس میں کوئی قصہ، کوئی واقعہ، کوئی تجربہ یا کوئی خیال ترتیب اور ربط کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے، کیونکہ نظم کے معنی ہی جوڑنے اور اکٹھا کرنے کے ہیں۔ اس طرح نظم، غزل سے بالکل مختلف ہے، کیونکہ غزل کی یہ خاص بات ہے کہ عام طور پر اس کا ہر شعر ایک الگ اکائی ہوتا ہے اور اپنا الگ مطلب رکھتا ہے۔ ایک شعر دوسرے شعر سے مختلف خیال بھی پیش کر سکتا ہے۔ اسی وجہ سے غزل کو بعض ناقدین نے “ریزہ خیالی” کہا اور اس پر سخت اعتراض بھی کیے گئے۔ یہ کہا گیا کہ اگر غزل میں تسلسل بیان پیدا نہ ہوا تو یہ خود ختم ہو جائے گی، مگر وقت نے ثابت کیا کہ غزل اپنی تمام خوبیوں کے ساتھ زندہ رہی۔ البتہ ۱۸۵۷ء کے انقلاب کے بعد مغربی اثرات کی وجہ سے نظم کی طرف زیادہ توجہ دی گئی، کیونکہ اس دور میں بہت سے ایسے حالات اور تجربات تھے جنہیں تسلسل کے ساتھ بیان کرنا ضروری تھا۔
اردو میں نظم پہلے بھی موجود تھی، مگر اسے پابند نظم کہنا زیادہ درست ہے۔ یہ نظم غزل سے زیادہ مختلف نہیں تھی، کیونکہ اس میں بھی بحر اور قافیہ کی پابندی ضروری تھی۔ قصیدہ، مرثیہ اور مثنوی بھی نظم ہی کی مختلف شکلیں ہیں۔ ان سب میں بحر اور قافیہ ہوتا ہے اور تسلسل بیان بھی لازم ہے۔ غزل کی ایک مقررہ شکل ہوتی ہے، جسے اس کی ہئیت کہا جاتا ہے۔ غزل کی ہئیت یہ ہے کہ تمام اشعار ایک ہی وزن میں ہوتے ہیں۔ پہلا شعر، جسے مطلع کہتے ہیں، اس کے دونوں مصرعوں میں قافیہ ہوتا ہے اور اگر ردیف رکھی گئی ہو تو ردیف بھی ہوتی ہے۔ باقی تمام اشعار میں قافیہ ہوتا ہے اور اگر غزل مردف ہو تو ردیف بھی ہوتی ہے۔ آخری شعر میں شاعر اپنا تخلص استعمال کرتا ہے، اسے مقطع کہا جاتا ہے۔ عام طور پر غزل کا ہر شعر مکمل ہوتا ہے اور اپنا الگ مطلب رکھتا ہے۔ اس کے برعکس نظم کی کوئی خاص مقررہ شکل نہیں ہوتی۔ نظم کے لیے یہ ضروری ہے کہ خیال اور معنی کے لحاظ سے اس میں تسلسل ہو اور ایک شعر دوسرے شعر سے جڑا ہوا ہو۔ اسی لیے قصیدہ، مثنوی، مرثیہ، واسوخت اور شہر آشوب سب نظم کے دائرے میں آتے ہیں۔
لیکن یہاں جس نظم کا ذکر ہے، اس میں قصیدہ، مرثیہ، مثنوی، واسوخت اور شہر آشوب شامل نہیں ہیں، کیونکہ اب ان کا رواج کم ہو چکا ہے۔ موجودہ دور میں نظم ایک الگ صنف کے طور پر ابھری ہے اور اس نے اتنی ترقی کی کہ اگر غزل کے مقابلے میں کسی صنف کو رکھا جا سکتا ہے تو وہ نظم ہی ہے۔ اردو کے تقریباً تمام شاعروں نے نظمیں کہیں، لیکن جن شاعروں نے خاص طور پر نظم کو اپنایا اور اسے فروغ دیا، ان میں نظیر اکبر آبادی، محمد حسین آزاد، حالی، شبلی، اقبال، اکبر الہ آبادی، چکبست، جوش، فیض، ن م راشد، میراجی، اختر الایمان، سردار جعفری، مخدوم اور مجاز قابلِ ذکر ہیں۔
جس طرح نظم کے موضوعات بے حد ہیں، اسی طرح اس کی شکلیں بھی بہت سی ہیں۔ مسمط کی تمام شکلیں، جیسے مثلث، مربع، مخمس، مسدس، مثمن، متسع اور معشر، نظم میں شامل ہیں۔ بعض جگہ مثنوی، غزل اور مثمن کے انداز بھی اختیار کیے گئے ہیں۔ ترکیب بند اور ترجیع بند بھی نظم کی صورتیں ہیں۔ نظمِ معریٰ اور آزاد نظم مغربی اثر سے اردو میں رائج ہوئیں۔ گیت بھی نظم کی ایک شکل ہے اور اردو میں اس کا رواج ہندی شاعری کے اثر سے ہوا ہے۔
نظم کی شکلیں
غزل ۔ غزل کا فارم نظم سے قطعی مختلف ہے لیکن نظم نے اس کا اکثر استعمال کیا ہے۔ مثال کے طور پر اقبال کا ترانہ سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا ” ایک نظم ہے لیکن شاعر نے غزل کا فارم اختیار کیا ہے۔
مثنوی ۔ اقبال کی نظم والدہ مرحومہ کی یاد میں ، مثنوی کی شکل میں لکھی گئی ۔
ترکیب بندہ ۔ اس میں غزل کا انداز اختیار کیا جاتا نظم کا ہر بند غزل کی شکل میں ہوتا ہےلیکن ہر بند کا آخری شعر دوسرے قافیے میں ہوتا ہے
ترجیع بند ۔ یہ ترکیب بند کی طرح ہی ہوتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ترکیب بند میں ٹیپ کا شعر ہر بند میں الگ ہوتا ہے جبکہ ترجیع بند میں ٹیپ کا ایک ہی شعر ہر بند کے آخر میں دہرایا جاتا ہے۔
مستناد ۔ مستزاد وہ شکل ہے جس میں ہر مصرعے کے بعد ایک چھوٹا سا ٹکڑا بڑھا دیا جاتا ہے ۔
قطعہ ۔ قطعے میں غزل کی شکل اختیار کی جاتی ہے لیکن عمل کے برخلاف اس کے معنی میں تسلسل پایا جاتا ہے۔
مسمّط ۔ یہ ایک عربی لفظ ہے جس کے معنی ہیں پرونا۔ اس طرح یہ بھی ایک نظم ہوئی۔ اس کی مختلف قسمیں ہیں جو بند کے اشعار کی تعداد کو نظرمیں رکھتے ہوئے مقر کی گئی ہیں۔ ان کی قسمیں اس طرح سے ہیں ۔
مثلث ۔ تین مصرعوں کا بند
مربع ۔ چار مصرعوں کا بند
مخمس ۔ پانچ مصرعوں کا بند
مسدس ۔ چھ مصرعوں کا بند
مسبع ۔ سات مصرعوں کا بند
مثمن ۔ آٹھ مصرعوں کا بند
مقسع ۔ نو مصرعوں کا بند
معشر ۔ دس مصرعوں کا بند
نظم کی جدید ہئیتیں
عالمی ادب کے اثر سے ہماری شاعری میں بعض نئی ہیتوں کا اضافہ ہوا ہے جن کی تفصیل یہاں پیش کی جاتی ہے۔
سانیٹ ۔ نظم کی شکل مغرب میں بہت مقبول ہے مصرعوں کی تعداد چودہ ہوتی ہے۔ اس کے وزن اور قوافی کا ایک مخصوص نظام ہے۔ خاص طور پر وزن کا نظام ہماری شاعری کے مزاج سے میل نہیں کھاتا۔ اس لیے ہمارے شعرا نے مختلف وزن استعمال کیے۔ بہر حال سانیٹ اردو نظم کا حصہ نہیں بن پائی۔
نظم معّری ۔ نظم معری نظم کی وہ قسم ہے جسے انگریزی میں بلینک درس کہتے ہیں۔ اس میں قافیے کی پابندی نہیں ہوتی اس لیے شاعر کو آزادی ہوتی ہے۔ انگریزی میں اس کے لیے ایک خاص وزن مقرر ہے مگر اردو میں اس کی پابندی ممکن نہیں تھی اس لیے مختلف اوزان اختیار کیے گئے۔ نظم معری کی مثال
یہ ترے پیار کی خوشبو سے مہکتی ہوئی رات
اپنے سینے میں چھپائے ترے دل کی دھڑکن
آج پھر تیری ادا سے مرے پاس آئی ہے
کتنے لمحے کہ غم زیست کے طوفانوں میں
زندگانی کی جلائے ہوئے باغی مشعل
تو مرا عزم جواں بن کے مرے ساتھ رہی
جاں نثار اختر ۔ مہکتی ہوئی رات
آزاد نظم ۔ انگریزی ادب میں شاعری کی جو ہئیت فری درس کہلاتی ہے ہمارے شاعروں نے اسے اپنایا اور آزاد نظم نام رکھا۔ یہ در اصل فرانس کی ایک شعری ہئیت ہے ۔ اردو میں داخل ہو کر یہ بہت مقبول ہوئی۔ ہماری جدید شاعری کا ایک بہت بڑا حصہ اسی شعری ہئیت میں ہے۔ یہ ہیت وزن اور قافیہ دونوں پابندیوں سے آزاد ہے لیکن ہمارے شاعروں نے اپنی شاعری کے مزاج کو دیکھتے ہوئے کچھ پابندی باقی رکھی ہے۔ ہم نے وزن کے معاملے میں یہ رویہ اپنا یا کسی ایک رکن مثلاً فاعلن کو لے لیا اور نظم کے تمام مصرعے برابر رکھنے کے بجائے کم زیادہ کر دیے۔ مثلا مخدوم کی نظم چارہ گر میں فاعلن کی تکرار ہے اور یہ ارکان ہر مصرعے میں کم زیادہ ہوتے رہتے ہیں۔ مثال کے طور پر
اک چنبیلی کے منڈوے تلے
میکدے سے ذرا دور اس موڑ پر
دو بدن
پیار کی آگ میں جل گئے
مخدوم محی الدین ۔ چاره گر
نثری نظم ۔ نثری نظم ہماری شاعری میں ایک نئی چیز ہے جومغرب کے راستے داخل ہوئی لیکن اردو شاعری میں کوئی مقام نہیں پاسکی۔ اس میں نہ وزن ہوتا ہے نہ قافیہ بس ایک شعری تجربہ ہوتا ہے جو جذبات کی پوری شدت کے ساتھ پیش کر دیا جاتا ہے۔
ترائیلے ۔ اس شعری ہیت کو نظر انداز بھی کردیا جائے توکوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ اردو شاعری میں یہ مقبول نہیں ہوسکی۔ یہ آٹھ مصرعوں پر مشتمل چھوٹی سی نظم ہوتی ہے۔ اس کا اصل نام ٹرایولٹ ہے اور فرانسیسی شاعری میں اس کا رواج رہا ہے ۔ اب فرانسیسی شاعر بھی اسے ترک کر چکے ہیں۔
ہائی کو ۔ اس شعری ہئیت کا وطن جاپان ہے۔ وہاں سے یہ مغرب پہنچی اور وہیں سے ہمارے شاعروں نے اسے اختیار کیا۔ ہائی کو میں صرف تین مصرعے ہوتے ہیں اور وہ بھی قافیے کی قید سے آزاد۔ تینوں مصرعوں کا وزن بھی الگ ہوتا ہے ۔ جاپانی شاعروں نے اس کے لیے جس طرح کا وزن مقرر کیا تھا وہ اردو تو کیا انگریزی شاعری میں بھی نہیں برتا جا سکا۔
اردو نظم کا سرمایہ
ہماری شاعری میں غزل کا سرمایہ بہت شاندار اور قیمتی ہے، لیکن نظم کی دولت بھی کسی طرح کم نہیں۔ جس دن اردو شاعری نے آنکھ کھولی، اسی دن اردو نظم نے بھی جنم لیا، اور اس دن سے آج تک نظم کا سفر جاری ہے۔ بلکہ آج کی نظم میں وہ تمام خوبیاں موجود ہیں جن کی کسی ترقی یافتہ زبان سے امید کی جا سکتی ہے۔
قدیم دکنی شاعروں نے نظم کو کبھی نظر انداز نہیں کیا، اسی لیے دکن کے ادبی ذخیرے میں اعلیٰ درجے کی نظموں کی کمی نہیں۔ شمالی ہند میں نظیر اکبرآبادی اکیلے ہی بہت سے نظم گو شاعروں پر بھاری ہیں۔ انہوں نے بے شمار موضوعات پر نظمیں لکھیں اور ہندوستانی تہذیب اور معاشرت کی زندہ تصویریں پیش کیں۔ اکبر الہ آبادی بھی ایک بڑے نظم گو اور منفرد انداز کے شاعر تھے، لیکن ان کے مقام کو جس چیز نے کم کیا وہ ان کی تنگ نظری تھی، جس کی وجہ سے وہ ہر بات کو ایک خاص نظر سے دیکھتے تھے۔ وہ خود کو یہ کہہ کر تسلی بھی دیتے تھے کہ
“بہت نزدیک ہیں وہ دن نہ ہم ہوں گے نہ تم ہوں گے”
وہ اپنی طنزیہ شاعری سے نئے زمانے کی تیز رفتار تبدیلیوں کو روکنے کی کوشش کرتے رہے۔ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو شاید اور بھی بڑے شاعر مانے جاتے۔
آزاد، حالی اور شبلی نے نئی نظم کی بنیاد رکھنے اور اسے آگے بڑھانے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ ان بزرگوں کی کوششوں سے اردو شاعری پر لگا یہ الزام دور ہوا کہ اس میں صرف جھوٹے عشق کی کہانیاں اور خوشامد ہی پائی جاتی ہے۔ ان شاعروں کی نظموں میں وہی دنیا دکھائی دیتی ہے جو ہمارے آس پاس موجود ہے، اور وہی مسائل سامنے آتے ہیں جن کا ہمیں سامنا ہے۔
چکبست اور سرور جہاں آبادی نے اپنی نظموں میں ہندوستان کی عظمت کا بیان کیا۔ اقبال کی ابتدائی نظمیں بھی وطن سے محبت کے جذبے سے لبریز تھیں، لیکن بعد میں ان کا انداز بدل گیا اور ان کی نظموں میں فکر اور فلسفہ نمایاں ہو گیا۔ انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے ایک سوئی ہوئی قوم کو جگانے کی کوشش کی۔
اس کے بعد جنگ عظیم، رولٹ ایکٹ، جلیان والا باغ اور خلافت عثمانیہ کے خاتمے جیسے بڑے واقعات پیش آئے، جنہوں نے ملک ہی نہیں بلکہ شاعری میں بھی ہلچل مچا دی۔ عظمت اللہ خاں کی نظموں میں بغاوت کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔ اختر شیرانی نے سانیٹ کو اپنایا۔ ترقی پسند تحریک کے اثر سے جذبے کے بجائے خیال کو زیادہ اہمیت دی گئی، اسی لیے نظمِ معریٰ اور آزاد نظم زیادہ مقبول ہوئیں۔ ان نظموں میں شاعر اپنی بات آسانی سے کہہ سکتا ہے۔ انہیں فروغ دینے میں فیض اور راشد کی کوششوں کا بڑا حصہ ہے۔ ہئیت کے معاملے میں دونوں نے کئی نئے تجربے کیے۔ فیض نے قافیہ کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اسے اکثر نظموں میں نئے انداز سے استعمال کیا، یعنی قافیہ کو مصرعے کے آخر کے بجائے درمیان میں لایا۔
ہندی کے اثر سے گیت بھی اردو میں مقبول ہوئے۔ جوش کی نظموں میں فطرت کی عکاسی نمایاں ہے۔ انہوں نے ایک طرف انقلاب کا پیغام دیا، تو دوسری طرف صبح و شام، برسات اور چاندنی رات کی خوبصورت تصویریں بھی کھینچیں۔ ان کی شاعری میں فکر کی گہرائی اگرچہ کم ہے، لیکن اندازِ بیان پراثر اور بلند آہنگ ہے۔ اختر الایمان کی شاعری میں پورے ایک دور کا دکھ اور کرب نظر آتا ہے۔ ان کی آواز منفرد ہے اور آسانی سے پہچانی جاتی ہے۔
شہر یار، ندا فاضلی، راشد آزر، ساحر لدھیانوی، جاں نثار اختر، وحید اختر، محمد علوی، زاہدہ زیدی، شہنشاہ مرزا، شکیب نیازی، نعیم اشفاق، حمید سہروردی وغیرہ اس دور کے دیگر اہم نظم گو شاعر ہیں۔
This post gives a brief critical overview of Nazm in Urdu poetry. It explains how Nazm differs from Ghazal by maintaining continuity of thought and tracing its growth, especially after 1857. The post outlines major classical and modern forms of Nazm and highlights the contributions of important Urdu poets, showing how Nazm developed into a strong medium for expressing social, intellectual, and emotional experiences.