لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں
لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالم ناپائیدار میں
ان حسرتوں سے کہہ دو کہیں اور جا بسیں
اتنی جگہ کہاں ہے دل داغدار میں
کانٹوں کو مت نکال چمن سے او باغباں
یہ بھی گلوں کے ساتھ پلے ہیں بہار میں
بلبل کو باغباں سے نہ صیاد سے گلہ
قسمت میں قید لکھی تھی فصل بہار میں
کتنا ہے بد نصیب ظفرؔ دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
بہادر شاہ ظفر
The Ghazal “Lagta Nahi Hai Dil Mera Ujre Dayar Mein” by Bahadur Shah Zafar is written in the context of the plight of the Indian people afterthe First Indian War of Independence (Ghadar) of 1857 and the subsequent loss of the Mughal Empire. The Ghazal depicts the devastation of Delhi by the British, the martyrdom of loved ones, and Zafar’s own helplessness and pain of exile to Rangoon.