مرثیہ کی تعریف اور فن
مرثیہ کی تعریف
مرثیہ عربی لفظ رثا سے مشتق ہے۔ اس کے معنی ہیں مرنے والے کا بیان ۔ عرب میں یہ دستور تھا کہ شعرا اپنے عزیز واقارب اور دوست و احباب کی موت پر ان کے بارے میں اپنے جذبات و احساسات نظم کرتے تھے۔ مرنے والے کی برائیوں کا عام طور پر بیان نہیں ہوتا تھا، اس لیے خوبیاں یاد کی جاتیں ۔ شمیم احمد اصناف سخن اور شعری ہتیں میں مرثیہ کے بارے میں لکھتے ہیں
عزیزوں اور برگزیدہ ہستیوں کی موت پر رنج و غم کے جذبات سے پر جو اشعار کہے جاتے ہیں انہیں اصطلاحا مرثیہ کہا جاتا تھا ۔ ( شمیم احمد اصناف سخن اور شعری ہیتیں، ص 81)
عرب کے تقریباً تمام ہی شعرا کے پاس اس طرح کی شاعری ملتی ہے۔ ماقبل اسلام اور عہد اسلامی ہر دور میں یہ صنف پائی جاتی ہے۔
مریثے کافن
شاعری کی دوسری اصناف کی طرح مرثیے کا بھی اپنا الگ ادبی اور فنی مزاج ہے۔ یہ صنف چونکہ مرنے والوں کے ذکر کے لیے استعمال ہوتی ہے، اس لیے اس میں عام طور پر مرنے والے کی صرف اچھی باتیں بیان کی جاتی ہیں۔ اس کی خامیوں اور برائیوں کا ذکر نہیں کیا جاتا۔ آگے چل کر جب یہ صنف واقعۂ کربلا کے بیان تک محدود ہو گئی تو اس میں مذہب اور مذہبی احترام بھی شامل ہو گیا۔ ادبی نقطۂ نظر سے اس میں زبان و بیان کے معاملے میں گہرے اور وسیع انداز سے کام لیا گیا۔ واقعۂ کربلا تاریخِ اسلام کا ایک ایسا واقعہ ہے جس نے اسلام اور اسلامی تعلیمات کو رہتی دنیا تک کے لیے بھلائی اور برائی، خیر و شر، نیکی و بدی، حق اور باطل کی پہچان بنا دیا۔ اس لڑائی میں، اس جنگ میں حق نے بظاہر شکست کھا کر اصل میں فتح حاصل کی۔ امام حسین شہید ہو کر رہتی دنیا تک کے لیے زندہ جاوید ہو گئے۔ اسلامی تعلیمات اور اسلامی اصول دن کی روشنی کی طرح واضح ہو گئے اور محفوظ ہو گئے۔ کمزوری کے باوجود غلط کو غلط کہنے کی ہمت اور جرأت کا مظاہرہ ہوا۔ اسلامی اصولوں کی حمایت اور ان کی بقا کے لیے خاندانِ نبوت اور ان کے چاہنے والوں نے ہر طرح کی قربانی دی۔ اس سبق آموز واقعے کو پورے ادب اور احترام کے ساتھ مرثیے میں مختلف طریقوں اور اندازوں سے بہت سے شاعروں نے اپنی اپنی زبان میں پیش کیا۔
اردو میں شروع ہی سے یہ صنف اپنے پورے پس منظر کے ساتھ موجود رہی ہے۔ ابتدا میں یہ قصیدے کے سانچے، ہیئت یا فارم میں ملتی ہے۔ آگے چل کر اس میں نئے تجربے کیے گئے۔ چنانچہ مثلث، مربع، مخمس اور مسدس میں اسے پیش کیا گیا۔ مسدس کی ہیئت یعنی چھ مصرعوں میں یہ سب سے زیادہ مناسب سمجھی گئی اور مسدس کا سانچہ مرثیے کے لیے خاص ہو گیا۔ اب مرثیے کے ساتھ ہی مسدس کا سانچہ ذہن میں آتا ہے۔
شعرا نے اس صنف کو ابتدا ہی سے غم اور غم کے اظہار کا ذریعہ بنایا اور اس غم میں فطرت کو بھی شامل کیا۔ اس غم ناک واقعے پر اپنے جذبات اور احساسات کا اظہار کیا گیا۔ اس بات کو واضح کیا گیا کہ اس میں ادب کی پرانی روایت کے مطابق تاریخ کے ساتھ ساتھ تصور اور اندازے کو بھی جگہ دی گئی۔ راوی اور روایات کے ساتھ تخیل کو بھی شامل کیا گیا۔ ادبی اظہار کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے تشبیہ، استعارہ اور دوسری صنعتوں کا بھی استعمال کیا گیا۔ دکنی دور سے ہی ہمیں یہ تمام خوبیاں مرثیہ نگاری میں نظر آتی ہیں۔ چنانچہ پہلے صاحبِ دیوان شاعر محمد قلی قطب شاہ کے کلام میں بھی ان خصوصیات کی جھلک ملتی ہے۔ وہ لکھتا ہے
لہو روتی ہیں بی بی فاطمہ اپنے حسینا تئیں
او لہو لالی کا رنگ ساتوں گگن اپرال چھایا ہے
یہاں سیدۃ النسا العالمین کو ایک ہندوستانی ماں کی طرح اپنے فرزند کی وفات پر خون کے آنسو روتے دکھایا گیا ہے۔ ان آنسوؤں کی لالی کا رنگ ساتوں آسمانوں کے اوپر بتاتے ہوئے صنعت حسنِ تعلیل کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس صنعت کے لحاظ سے طبعی حقیقت کی توجیہ کسی قیاسی خصوصیت سے جوڑی جاتی ہے۔ تو جیہ ایسی ہونی چاہیے کہ دماغ و دل اس کو قبول کریں ۔
مدد کرنے ملک آئے قبولے نیں امام ان کو
کہ حیدر ہات تھے چہار دندیاں سر گرایا ہے
مرثیے لکھنے کے مقاصد میں ایک مقصد سننے والوں کو واقعۂ کربلا کی عظمت اور اس پر رونے کی سعادت حاصل کرنے کا موقع دینا بھی ہے۔ مرثیہ نگاروں نے ابتدا سے آج تک اس بات کو سامنے رکھا اور ہر دور میں موجود حالات اور واقعات کی اصلاح کے لیے اس سے فائدہ اٹھانے کے طریقے اپنائے۔ اس طرح اپنے طویل سفر میں یہ واقعہ اپنی اہمیت، فائدہ اور تقدس کے ساتھ ادب کا حصہ بنتا رہا ہے اور غالباً ہمیشہ رہے گا۔
مرثیے کے اجزائے ترکیبی
ابتدا میں مریعے قصیدے کی ہیئت میں لکھے گئے ۔ آگے چل کر مربع مخمس اور مسدس میں بھی لکھے گئے ۔ مسدس کا سانچہ مرثیے کے لیے مقبولیت حاصل کیا۔ مرثیے کے لیے مسدس کے سانچے کا استعمال سودا سے منسوب کیا جاتا ہے۔ مرثیے کی ادبی حیثیت میں اضافے کے لیے میر ضمیر کی کوششوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ میر نے بھی اس صنف سخن سے دلچسپی لی ۔ رفتہ رفتہ اس میں مخصوص ارکان شامل کیے گئے ۔ یہ ارکان یا اجزا آٹھ ہیں
چهره
سراپا
رخصت
آمد
رجز
جنگ
شہادت
بین
مرثیے میں اجزائے ترکیبی کا یہ تعین استاد دبیر میر ضمیر نے کیا۔ لیکن اس کی پابندی پوری طرح نہیں ہوسکی ۔ خود ضمیر اور بعد میں انیس ودبیر کے یہاں بھی اس کی پابندی نہیں ہو سکی ۔ مثلاً مرزا سلامت علی دبیر کا ایک مشہور مرثیہ ہے “کس شیر کی آمد ہے کہ رن کا نپ رہا ہے” ۔ یہ مرثیہ آمد سے شروع ہوتا ہے۔
چہرہ ۔
مرثیے میں چہرہ، قصیدے کی تشبیب کی طرح ہوتا ہے، جس میں شاعر حمد، نعت، منقبت حضرت علی و امام حسین کے علاوہ مکہ سے سفر، سفر کے خطرناک حالات، گرمی کا موسم، صبح کا منظر بیان کرتا ہے، یا پھر اپنی شاعرانہ عظمت، بولنے کی قدرت اور شاخوانِ حسین ہونے پر فخر کا اظہار کرتا ہے۔ کبھی پیاس کی حالت بھی بیان کرتا ہے۔ عموماً موسم کے بیان میں گرمی کی سختی، صبح کا منظر، چڑیوں کی چہچہاہٹ، شبنم کا پھولوں پر موٹی اور چمک دار بوند بن کر چمکنا وغیرہ جیسے مناظر تشبیہ، استعارے اور ادبی صنعتوں کی خوبصورتی کے ساتھ قلم بند کیے جاتے ہیں۔ انیس کے ایک مشہور مرثیے میں صبح کا منظر اس طرح بیان کیا گیا ہے ۔
وه دشت، وہ نسیم کے جھونکے، وہ سبزہ زار
پھولوں پہ جا بہ جا وہ گہر ہائے آبدار
اٹھنا وہ جھوم جھوم کے شاخوں کا بار بار
بالائے نخل ایک جو بلبل تو گل ہزار
خواہاں تھے نخل گلشن زہرا جو آپ کے
شبنم نے بھر دیے تھے کٹورے گلاب کے
سراپا ۔
عموماً یہ ایک طرح سے انصارِ حسینی کا تعارف ہوتا ہے۔ کبھی کبھی لشکرِ یزید کے ساتھیوں کا بھی سراپا بیان کیا گیا ہے۔ سراپا لکھتے وقت شاعر اپنی پوری طاقت اور صلاحیت لگا دیتا ہے، جس سے ایک طرف شاعر کی محبت اور عقیدت کا بھرپور اظہار ہوتا ہے اور دوسری طرف باطل یعنی یزیدیوں سے نفرت کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ سراپا بیان کرتے وقت تشبیہات اور استعاروں سے مدد لی جاتی ہے۔ ادبی صنعتوں کا بھرپور استعمال کیا جاتا ہے۔ دبیر نے ایک مرثیے میں بالکل الگ انداز سے نقشہ کھینچا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ایسی تشبیہ کہاں سے لائیں جو حسنِ حسینی کی چمک کو برداشت کر سکے۔ کہتے ہیں کہ اگر رُخ کو آئینہ کہوں تو سمجھو کہ میں نے کچھ بھی بیان نہیں کیا، اور اگر آنکھ کو نرگس کہوں تو وہ بھی ان آنکھوں کے لیے کم ہے، کیونکہ نرگس میں نہ پلکیں ہیں، نہ پتلی اور نہ ہی دیکھنے کی طاقت۔
آئینہ کہا رخ کو تو کچھ بھی نہ ثنا کی
صنعت وہ سکندر کی یہ صنعت ہے خدا کی
گر آنکھ کو نرگس کہوں، بے عین حقارت
نرگس میں نہ پلکیں ہیں، نہ پتلی نہ بصارت
رخصت ۔
میدانِ جنگ میں جانے کے لیے خیمۂ حسین سے ایک کے بعد ایک جانباز سر پر کفن باندھ کر نکلتے ہیں تو خیمے میں رہنے والے رشتہ دار اور عورتیں انہیں دل جلے ہوئے، آنکھوں سے آنسو بہاتے اور ہونٹ کانپتے ہوئے، مگر پوری ایمانی طاقت کے ساتھ رخصت کرتی ہیں۔ اہلِ خیمہ کو یقین ہوتا ہے کہ یہ اب زندہ واپس نہیں آئیں گے۔ اس موقع پر رخصت کرنے والے عزیزوں اور پیاروں کے جذباتِ محبت اور ایمان کی طاقت کے جو جیتے جاگتے نقشے مرثیوں میں کھینچے گئے ہیں، وہ پڑھنے کے قابل ہیں۔
آنسو بہا کے بانوے ناشاد نے کہا
پروان آج چڑھتا ہے صاحب یہ مہ لقا
لاؤ عمامہ شب معراج مصطفى
ارمان تھا بہت تمہیں اکبر کے بیاہ کا
جاتے ہیں برچھیوں میں انہیں دیکھ بھال لو
دولھا بنا کے بیاہ کی حسرت نکال لو
آمد ۔
آمد کو مرثیے کا چوتھا حصہ مانا جاتا ہے۔ اس حصے میں مرثیہ نگار میدان میں کسی خاص کردار کے آنے کا منظر بیان کرتا ہے۔ امام حسین کے بھائی حضرت عباس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ حضرت علی نے خاص طور پر عرب کے مشہور بہادر خاندان کی خاتون ام البنین سے شادی کی۔ بارگاہِ خداوندی میں دعا کی تاکہ کربلا کی جنگ میں ان کی نمائندگی ایک بہادر بیٹے کے ذریعے ہو۔ ابتدا ہی سے حضرت عباس امام حسین کے بہت قریب رہے۔ مختلف جنگوں میں والد کے ساتھ شریک ہوئے۔ یعنی حضرت علی کے تربیت یافتہ، نہایت دلیر، طاقتور اور بڑے بہادر تھے۔ جب وہ میدانِ جنگ میں اترتے تو ان کی آمد سے دشمن گھبرا جاتے اور ان کے قدم ڈگمگا جاتے۔ میر انیس حضرت عباس کی آمد کا منظر اس طرح پیش کرتے ہیں ۔
آمد ہے کربلا کے نیستاں میں شیر کی
ڈیوڑھی سے چل چکی ہے سواری دلیر کی
جاسوس کہہ رہے ہیں نہیں راہ پھیر کی
غش آگیا ہے شہ کو یہ ہے وجہ دیر کی
خوشبو ہے دشت باد بہاراں قریب ہے
ہشیار غافلو کہ سواری قریب ہے
رجز ۔
عربوں میں رواج تھا کہ دو حریف جب میدان جنگ میں آمنے سامنے ہوتے تو جنگ شروع ہونے سے قبل ایک دوسرے کو للکارتے اپنی اور اپنے آبا و اجداد کی شجاعت، طاقت اور خاندانی عظمت دین داری وقوت ایمانی وغیرہ کا ذکر کرتے تھے جس میں جوش، غضب اور ولولہ ہوتا تھا۔ اس اظہار کو جو فصاحت و بلاغت کا مرقع ہوتا ہے اصطلاحاً رجز کہتے ہیں۔ سبھی مرثیہ نگاروں نے اس حصے میں بلاغت و فصاحت کے دریا بہا دیے ہیں۔ انیس کے ایک مریعے سے رجز کا ایک بند ملاحظہ ہو۔ یہ رجز حضرت امام حسین کی زبانی ہے۔
دنیا ہو اک طرف تو لڑائی کو سر کروں
آئے غضب خدا کا اُدھر رخ جدھر کروں
بے جبرئیل کار قضا و قدر کروں
انگلی کے اک اشارے میں شق القمر کروں
طاقت اگر دکھاؤں ، رسالت مآب کی
رکھ دوں زمین پر چیر کے ڈھال آفتاب کی
رزم ۔
یہ مرثیے کا نہایت ہی اہم حصہ ہوتا ہے جس میں شاعر میدان جنگ کی تیاری فوجوں کے ساز و سامان گھوڑوں کی تعریف، ان کا غیض و غضب، براق کی سی تیز رفتاری تلواروں کی چمک نیزوں کی کڑک سپاہیوں کی پھرتی، بے جگری سے لڑائی جاں توڑ مقابلہ وغیرہ ان تمام حالتوں اور کیفیتوں کو بڑی خوبی سے بیان کرتا ہے جس سے اُس کی بلندی خیال اور قوت اظہار کا پتہ چلتا ہے۔ یہ اشعار دیکھیے جن میں میدان جنگ کی تصویر ہو بہو سامنے آجاتی ہے۔
نیزے ہلے وہ چل گئیں چوٹیں کہ الاماں
ہر طعن قہر کی تھی ، قیامت کی ہر تکاں
چنگاریاں اڑیں جو سناں سے لڑیں سناں
دو اثردہے گتھے تھے نکالے ہوئے زباں
پھیلے شرر پرندوں کی جانیں ہوا ہوئیں
شمعوں کی تھیں لویں کہ ملیں اور جدا ہوئیں
شہادت ۔
مرثیوں میں یہ حصہ بھی بڑا جاندار ہوتا ہے کیوں کہ اس بیان پر بین کی شدت کا انحصار ہوتا ہے۔ اس حصے میں فوج حسینی کے شہید کی میدان میں جراءت، بہادری اور فن سپاہ گری کے کمالات بیان کرتے ہوئے زخموں سے چور چور نڈھال ہو کر گر جانے اور شہادت پانے کا ذکر آتا ہے۔ یہ مرثیہ کا بڑا دل دوز حصہ ہوتا ہے۔ حضرت علی اکبر کی شہادت پر امام حسین کا حال زار اور کیفیت انہیں اس طرح بیان کرتے ہیں ۔
حضرت یہ کہتے تھے کہ چلا خلق سے پسر
اتنی زباں ہلی کہ خدا حافظ اے پدر
ہچکی جو آئی ، تھام لیا ہاتھ سے جگر
انگڑائی لے کے رکھ دیا شہ کے قدم پر سر
آباد گھر لٹا شہ والا کے سامنے
بیٹے کا دم نکل گیا بابا کے سامنے
بین ۔
مرثیہ کا آخری جزو بین ہوتا ہے، جس میں مجاہد کی شہادت اور لاش کو خیمے میں لانے خواتین کے رنج والم اور بین وبکا کے جذبات کی عکاسی کی جاتی ہے۔ یہی دراصل مریچے کا مقصد و منشا ہوتا ہے۔ شاعر کا کمال یہ ہے کہ اس حصے کو اتنا پر اثر اور جاندار بنادے کہ مجلس برپا ہو جائے۔
مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ صنف ابتدا ہی سے عربی ادب میں موجود رہی ہے۔ اہلِ عرب اپنے دوست، عزیز اور رشتہ داروں کی وفات پر ان کے بارے میں اپنے جذبات اور احساسات شاعری میں بیان کیا کرتے تھے۔ آگے چل کر جب یہ صنف ایران پہنچی تو اہلِ ایران نے اسے صرف واقعۂ کربلا کے بیان کے لیے مخصوص کر دیا، کیونکہ ان کے خیال میں واقعۂ کربلا سے زیادہ دل ہلا دینے والا کوئی اور واقعہ نہیں ہو سکتا۔ یہاں کمزور ترین سے لے کر کم عمر ترین تک نے دینِ اسلام کی بقا اور اسلامی اصولوں کی حفاظت کے لیے شہادت قبول کی۔ 72 نفوس پر مشتمل اس جماعت کو ہزاروں پر مشتمل یزیدی لشکر نے شہید کر کے خیر و شر کی لڑائی کی ایسی مثال قائم کی جس میں بظاہر فتح شر کو ملی، لیکن خیر ہار کر بھی جیت گیا۔ رہتی دنیا تک کے لیے یہ مثال بن گئی کہ بھلائی ہمیشہ قائم رہتی ہے اور برائی جیت کر بھی ہار جاتی ہے۔ آج ساری دنیا میں یہ واقعہ مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور امام حسین اور ان کے ساتھیوں کے عزم، حوصلے، ہمت اور جرأت کو خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے۔
This article explains the Urdu literary genre of Marsiya, detailing its definition, historical background, and artistic features. It covers the structural elements of Marsiya, the popular Musaddas form, and its significance in the Battle of Karbala. Through selected verses of Mir Anees and Dabeer, it highlights the literary beauty, emotional impact, and purpose of mourning and lamentation in Marsiya poetry.