مرثیہ نگاری فن کا تنقیدی جائزہ
مرثیہ نگاری کا فن
مرثیے میں جتنا درد اور اثر ہوتا ہے، اتنا کسی اور شعری صنف میں کم ہی ملتا ہے۔ مرثیہ وہ اثر رکھنے والی آواز ہے جو کسی غم زدہ دل سے خود بخود نکلتی ہے اور سیدھی دل میں اتر جاتی ہے۔ اس سے بڑھ کر دل کو دکھ دینے والی بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ جسے ہم دل و جان سے چاہتے ہوں وہ ہمیشہ کے لیے ہم سے جدا ہو جائے۔ تجربہ بتاتا ہے کہ ایسے وقت میں انسان کے منہ سے خود ہی مناسب الفاظ نکلتے ہیں۔ کسی عورت کو اپنے کسی عزیز کی موت پر بین کرتے کس نے نہیں دیکھا ہوگا۔ اس بین میں گہرا درد بھی ہوتا ہے، دل کے صدمے کا اظہار بھی اور مرنے والے کی خوبیوں کا ذکر بھی۔ یہی بین مرثیے کی ابتدائی شکل ہے۔ جب یہ پوری طرح شاعری کی شکل اختیار کر لیتا ہے تو اسے مرثیہ کہا جاتا ہے۔ مرثیہ وہ شعری صنف ہے جو شاید دنیا کی ہر زبان میں سب سے پہلے وجود میں آئی۔
لیکن یہاں جس موت کا ذکر ہو رہا ہے وہ شخصی مرثیہ ہے، جیسے عربی زبان میں رقاشی نے جعفر کے لیے لکھا۔ یا مثلاً حضرت عمر کے زمانۂ خلافت میں ایک عورت نے اپنے بھائی کا مرثیہ لکھا تھا، جسے وہ پڑھتی اور سننے والوں کو رُلا دیتی تھی۔ فارسی زبان میں شیخ سعدی نے مستعصم باللہ کا مرثیہ لکھا تھا۔ انگریزی زبان میں گرے نے ان بدقسمت لوگوں کا مرثیہ لکھا جنہیں لوگ جانتے بھی نہیں تھے۔ ہماری زبان میں حالی نے غالب کا اور اقبال نے داغ کا مرثیہ لکھا۔ لیکن اردو کے وہ مرثیے خاص طور پر اہم ہیں جو سانحۂ کربلا پر لکھے گئے، جن میں حضرت امام حسین اور ان کے ساتھیوں کی شہادت کا بیان ہے۔ یہاں اسی مرثیے سے تعلق ہے۔ اس مرثیے کو کربلائی مرثیہ کہا جا سکتا ہے۔
مرثیے کی تعریف ۔
مرثیہ شاعری کی اس صنف کو کہتے ہیں جس میں کسی مرنے والے کی تعریف کی گئی ہو اور اس کی موت پر غم کا اظہار کیا گیا ہو۔ مرثیہ عربی زبان کا لفظ ہے اور اس کے معنی ہیں کسی کی موت پر رونا۔ جب اس لفظ کا استعمال شروع ہوا اس وقت صرف شخصی مرثیے موجود تھے۔ بعد میں کربلا سے متعلق مرثیے لکھے گئے اور ہماری زبان میں ان کا اتنا رواج ہوا کہ مرثیے کا ذکر آئے تو ذہن شخصی مرثیے کی طرف نہیں بلکہ کربلائی مرثیے کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔ شخصی مرثیے کے برخلاف اس کا دامن بہت وسیع ہے۔ اس میں صرف غم کا اظہار اور مرنے والے کی تعریف ہی نہیں ہوتی بلکہ سانحہ کربلا سے متعلق تمام واقعات ہوتے ہیں مثلاً حسینی قافلے کی مدینے سے روانگی ، جناب حر کا راستہ روکنا، میدان کربلا میں پہنچ کر خیمے لگانا ، وہاں کے مختلف مناظر، جنگ اور شہادت۔ یہی نہیں بلکہ حضرت قاسم کی شادی کا ذکر بھی کربلائی مرثیے کا ایک اہم حصہ ہے ۔
مرثیہ کا تاریخی پس منظر ۔
سرزمین کربلا پر رسول پاک کے نواسے حضرت امام حسین اور ان کے عزیزوں اور ساتھیوں نے اسلام کی سربلندی کے لیے اپنے خون سے تاریخِ اسلام کا جو دردناک واقعہ رقم کیا، اس کا پس منظر یہ ہے کہ امیر معاویہ کے بعد ان کا بیٹا تخت نشین ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت خلافت کی جگہ بادشاہت نے لے لی تھی۔ جو لوگ خوشی سے بیعت کے لیے راضی نہ ہوئے ان پر سختی کی گئی۔ حضرت امام حسین کا معاملہ ذرا مختلف تھا۔ ان کے ساتھ چالاکی سے کام لیا گیا۔ اہلِ کوفہ کی طرف سے انہیں خط بھیجے گئے کہ ہم آپ کے ہاتھ پر بیعت کر کے یزید سے جنگ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ حضرت امام حسین نے اپنے قریبی عزیزوں اور دوستوں کے ساتھ سفر کی تیاری شروع کر دی۔ ان کے ایک عزیز مسلم بن عقیل حالات کا جائزہ لینے کے لیے اپنے دو بیٹوں کے ساتھ پہلے ہی کوفہ کی طرف روانہ ہو گئے۔ حسینی قافلہ ابھی راستے میں ہی تھا کہ ان تینوں بے گناہوں کی شہادت کی خبر ملی۔
جناب امام نے سفر جاری رکھا۔ آگے چل کر ایک یزیدی لشکر کا سامنا ہوا جس کے سردار جناب حر تھے۔ اس یزیدی لشکر کا مقصد یہ تھا کہ حسینی قافلے کو نہ واپس جانے دیا جائے، نہ کسی اور طرف جانے دیا جائے بلکہ اسے گھیر کر کربلا کے میدان کی طرف لے جایا جائے۔ اتفاق سے حر کے لشکر میں پانی ختم ہو گیا۔ حضرت امام حسین نے نہ صرف حر کے سپاہیوں بلکہ ان کے جانوروں تک کو پانی پلایا۔ محرم کی دوسری تاریخ کو حسینی قافلہ کربلا کے میدان میں پہنچا۔ انہیں دریا کے کنارے خیمے لگانے کی اجازت نہ دی گئی۔ ساتویں تاریخ کو یزید کی فوجوں نے دریا کے کنارے سخت پہرہ لگا کر جناب امام اور ان کے ساتھیوں پر پانی بند کر دیا۔
اس درمیان جناب امام پر یزید کی بیعت کے لیے دباؤ ڈالا جاتا رہا مگر وہ کسی طرح راضی نہ ہوئے۔ یزیدی فوج کا سردار عمر ابن سعد تھا۔ اس کی مدد کے لیے چاروں طرف سے یزیدی فوجیں برابر آتی رہیں۔ ادھر پیاس کی شدت سے رفقا اور خود امام کا بہت برا حال تھا۔ بچوں کی حالت اور بھی زیادہ خراب تھی۔ جناب امام کی بیٹی سکینہ پیاس سے بے قرار ہوئیں تو حضرت عباس لڑتے ہوئے پانی لینے گئے اور شہید ہو گئے۔ حضرت امام حسین کے شیر خوار بیٹے علی اصغر پیاس سے بے حال ہو گئے تو جناب امام انہیں لے کر گئے کہ شاید بچے کو دیکھ کر ان ظالموں کو رحم آ جائے مگر ہوا یہ کہ ایک تیر ان کے حلق میں پیوست کر دیا گیا۔ محرم کی دس تاریخ قیامت کا دن تھا۔ جنگ کی تیاریاں مکمل تھیں مگر حضرت امام حسین نے صلح کی آخری کوشش کی اور یزیدی فوج کے روبرو ایک پُراثر خطبہ دیا۔ اور کسی پر تو کوئی اثر نہ ہوا مگر جناب حر امام کی فوج میں شامل ہو گئے۔ جنگ ہوئی اور عابد بیمار کے سوا سب مرد شہید کر دیے گئے۔ اس کے بعد اہلِ بیت کا اسباب لوٹا گیا، خیموں کو آگ لگا دی گئی، خواتین پر ظلم کیے گئے اور انہیں گرفتار کر کے یزید کے دربار میں لے جایا گیا۔ کربلائی مرثیہ اسی دردناک داستان کی یاد دلاتا ہے۔
مرثیے کے موضوعات ۔
کربلائی مرثیہ شخصی مرثیے کی طرح محدود نہیں۔ اس کے موضوعات کی فہرست اتنی طویل ہے کہ اس کا چند سطروں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ بہرحال چند اہم موضوعات کا یہاں ذکر کیا جاتا ہے۔ حضرت امام حسین اور ان کے عزیزوں کی مدینے سے روانگی اس واقعے کا پہلا موضوع ہے۔ جناب امام اپنی ایک کم سن بیمار بیٹی صفرا کو ساتھ نہیں لے جاتے۔ وہ ساتھ چلنے کے لیے ضد کرتی ہے۔ یہ روانگی کے موضوع کا ہی ایک پہلو ہے۔ اگلا موضوع طویل سفر ہے۔ اس سفر کے دوران مسلم بن عقیل اور ان کے بچوں کی شہادت کی خبر بھی ایک اہم موضوع ہے۔ حر کا راستہ روکنا، اس کے لشکر میں پانی کا ختم ہو جانا اور جناب امام کا کشادہ دلی کا ثبوت دینا، کربلا پہنچنا، وہاں خیمے لگانا، پانی کا بند ہونا، صلح کی کوششیں، جنگ کی تیاریاں اور پھر جنگ، شہادت، کسی بہادر کی شہادت پر عزیزوں کا بین کربلائی مرثیے کے اہم موضوعات ہیں۔
مرثیہ نگاروں نے جگہ جگہ مناظر کا بھی بیان کیا ہے۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ مرثیہ نگاروں کو اچھے اور برے دونوں طرح کے کردار پیش کرنے کا موقع ملا ہے۔ مرثیے کے کرداروں میں مردوں کے علاوہ عورتیں بھی ہیں، کم سن بچے اور بچیاں بھی ہیں۔ غرض ان مرثیوں میں طرح طرح کے بے شمار کردار سامنے آتے ہیں۔ جنگ مرثیے کا خاص موضوع ہے۔ اس لیے مختلف قسم کے ہتھیار اور جنگ کے مختلف طریقے بھی مرثیے میں شامل ہو گئے ہیں اور ان کے ساتھ ہی بہت سے الفاظ بھی۔ گویا اس صنف نے ہماری زبان کو الفاظ اور محاورات کا ایک بہت بڑا ذخیرہ بھی دیا ہے۔
مختلف اصناف کا سنگم ۔
جس مرثیے سے یہاں بحث ہے وہ صرف مرثیہ ہی نہیں بلکہ شاعری کی مختلف اصناف کا سنگم ہے۔ مطلب یہ کہ اس میں کئی اصناف آپس میں مل گئی ہیں۔ مرثیے کی دو بنیادی خصوصیات ہیں: کسی کی موت پر غم کا اظہار اور مرنے والے کی خوبیوں کا بیان۔ یہ دونوں باتیں کربلائی مرثیے میں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ مثنوی کی جو بنیادی صفت ہے یعنی کسی واقعے کو ترتیب اور تسلسل کے ساتھ بیان کرنا، وہ بھی کربلائی مرثیے میں پائی جاتی ہے۔ مرثیے میں نیک انسانوں کی خوبیاں بیان کی گئی ہیں، گویا ان کی تعریف کی گئی ہے۔ بد کردار لوگوں کے عیب بھی بتائے گئے ہیں، گویا ان کی مذمت کی گئی ہے۔ گھوڑے اور تلوار کی تعریف بھی قصیدے کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس طرح مرثیے میں مدحیہ قصیدے اور ہجویہ قصیدے کی خصوصیات بھی شامل ہو گئی ہیں۔ اردو مرثیوں میں سیکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں ایسے اشعار ہیں جنہیں مرثیے سے الگ کر دیا جائے تو وہ غزل کے اشعار معلوم ہوتے ہیں، یعنی وہ اپنے آپ میں مکمل اور اثر رکھنے والے ہیں۔ اس طرح مرثیہ ہونے کے ساتھ ساتھ یہ مثنوی، قصیدہ اور غزل بھی ہے۔
یہی نہیں بلکہ مرثیہ ڈراما بھی ہے کیونکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم واقعاتِ کربلا کا بیان نہیں سن رہے بلکہ سارے واقعات اپنی آنکھوں سے ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ یہ مرثیہ المیہ یعنی ٹریجڈی بھی ہے کیونکہ پورے واقعے پر شروع سے آخر تک غم کی فضا چھائی رہتی ہے۔ آخر میں جب بین و بکا کا موقع آتا ہے تو جذبات کے اظہار کی شرط بھی پوری ہو جاتی ہے۔ یہ رزمیہ کی کسوٹی پر بھی بڑی حد تک پورا اترتا ہے کیونکہ یہ ایک عظیم انسان یعنی حضرت امام حسین کی داستان ہے جنہوں نے ایک عظیم مقصد (اسلام کی سربلندی) کے لیے عظیم طریقے سے جنگ کی۔
اردو شاعری کی محدود وسعت کا شکوہ ہر زمانے میں کیا جاتا رہا ہے اور اس پر یہ الزام بھی لگایا جاتا رہا ہے، جو کسی حد تک درست بھی ہے، کہ اس میں حسن و عشق کے بناوٹی قصے، مبالغہ، جھوٹ اور خوشامد کے سوا کچھ نہیں۔ لیکن مرثیے نے اس اعتراض کو غلط ثابت کر دیا۔ اس صنفِ سخن کی بدولت اردو شاعری کا دامن اتنا وسیع ہو گیا جتنا پوری کائنات۔ اردو مرثیے کے بارے میں نور الحسن نقوی نے درست ہی کہا ہے کہ۔
شاعری کی مختلف اصناف میں جو خصوصیات الگ الگ پائی جاتی ہیں ان میں سے بیشتر مرثیے میں سما گئیں۔ اس نے المیہ سے انسانی مصائب کی پھر تاثیر پیش کش ان کا شہنر سیکھا۔ رزمیہ سے حق و باطل کی معرکہ آرائی مستعار لی۔ ڈرامے سے واقعات کی ہو بہو تصویر کشی کا فن لیا ، مثنوی کے تسلسل بیان کی پیروی کی ، قصیدے کا شان و شکوہ اپنا یا ، غزل سے حسن ادالیا اور مرثیے کو فن کاری کے نصف النہار تک پہنچا دیا۔ ہمارے مرثیہ نگاروں کے خونِ جگر سے یہ صنف اردو شاعری کے لیے سرمایہ افتخار ہو گئی اور بعض اعتبار سے غزل سے بھی کہیں زیادہ مقبول ، اس سے کہیں زیادہ پر اثر اور دل فریب
ہیت ۔ مرثیے کے لیے کسی خاص ہئیت یعنی فارم کی پا بندی لازمی نہیں غزل قطعہ رباعی مخمس ، مسدمیں ، مربع کسی بھی فارم کو مرثیے کے لیے اختیار کیا جا سکتا ہے۔ مرثیے کو دراصل اس کے فارم سے نہیں بلکہ موضوع سے پہچانا جاتا ہے۔
ابتدائی دور میں بہت سے مرثیے غزل کی شکل میں لکھے گئے اور بہت بعد تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ غالب نے عارف کا مرثیہ غزل ہی کی شکل میں لکھا ہے (لازم تھا کہ دیکھو مرا رستہ کوئی دن اور ) غزل کے بعد مثنوی کا فارم مرثیے کے لیے بہت مقبول رہا۔ اقبال نے ” والدہ مرحومہ کی یاد میں ” کے عنوان سے اپنی ماں کا مرثیہ شنوی کے فارم میں ہی لکھا ہے۔ مرثیہ نگاروں نے ترکیب بند کو بھی استعمال کیا ہے ۔ حالی نے غالب کا مرتبہ ترکیب بند کی شکل میں ہی لکھا ہے لیکن زمانہ قدیم میں مربع کی شکل بہت مقبول رہی ۔ مربع اس فارم کو کہتے ہیں جس میں متعدد بند ہوتے ہیں۔ پہلے بند کے چاروں اور اس کے بعد ہر بند کے پہلے تین مصرعے یکساں قافیہ ردیف میں اور چوتھا ٹیپ کا مصرع پہلے بند کے قافیہ و ردیف کے مطابق کہا جاتا ہے۔
آخر کار مرثیے کے لیے جو ہئیت سب سے زیادہ موزوں ٹھہری اور جس نے سب سے زیادہ رواج پا یا وہ مسدس ہے۔ مسدس کا ہر بند چھ مصرعوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ چار مصرعے ایک قافیہ وردیف میں اور باقی دو مصرعے مختلف قافیہ و ردیف ہیں۔ اس طرح
فرزند پیبر کا مدینے سے سفر ہے
سادات کی بستی کے اجڑنے کی خبر ہے
در پیش ہے وہ غم کہ جہاں زیر و زبر ہے
گل چاک گریباں ہیں صبا خاک بسر ہے
گل رو صفت غنچہ کمر بستہ کھڑے ہیں
سب ایک جگہ صورت گلدستہ کھڑے ہیں
بعض ناقدوں کا خیال ہے کہ سب سے پہلے سودا نے مسدس کی شکل میں مرثیہ کہا۔ لیکن یہ خیال غلط ہے کیونکہ زمانہ قدیم کے بعض دکنی مرثیے بھی مسدس کی شکل میں ملتے ہیں۔ البتہ یہ کہنا درست ہو گا کہ سودا کے زمانے سے مسدس کی طرف زیادہ توجہ کی جانے لگی ۔
اجزائے مرثیہ ۔
اردو مرثیہ آہستہ آہستہ ترقی کی منزلیں طے کرتا رہا اور اس کے موضوعات میں بتدریج اضافہ ہوتا گیا اور مطالعے کے لیے اسے مختلف حصوں میں تقسیم کیا گیا ۔ یہ حصے اجزاے مرثیہ کہلائے بیر ضمیر کے زمانے تک پہنچتے پہنچتے مرثیے کے یہ اجزائے ترکیبی متعین ہو چکے تھے چہرہ ، سراپا، رخصت آمد، رجز، رزم ، شہادت اور بین ۔ یہاں یہ عرض کرنا بھی ضروری ہے کہ یہ اجزا اتمام مرنیوں میں نہیں پائے جاتے۔ یہ بھی ممکن نہیں کہ یہ اجزا موجود ہوں تو ان کی یہی ترتیب بھی قائم رہے۔ طوالت سے بچنے کے لیے بھی مرثیہ نگاروں نے اکثر ان اجزا کو نظر انداز کیا۔ اب مرثیے کے اجزا سے ترکیبی کی تعریف مختصر طور پر پیش کی جاتی ہے۔
چہرہ ۔ مرثیے کے شروع کے وہ بند جو تمہید کے طور پر لکھے جاتے ہیں انھیں چہرہ کہتے ہیں۔ اس میں عام طور پر ایسے مضامین پیش کیے جاتے ہیں جن کا اس مرثیے کے بنیادی موضوع سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ بعض مرثیہ نگاروں نے حمد و ثنا ، لغت رسول ، مدرح اہل بیت ، خود اپنی تعریف دنیا کی بے ثباتی یا مختلف مناظر کو مرثیے کی تمہید کے طور پر پیش کیا ہے ۔
سراپا ۔ مرثیے میں جس مجاہد یا جن مجاہدین کے کارنامے پیش کیے جانے والے ہیں ان کے عادات و اطوار یا ان کے قدوقامت کا ذکر جس حصے میں کیا جاتا ہے وہ سراپا کہلاتا ہے ۔
رخصت ۔ حسینی فوج کا کوئی کردار جب اسلحہ جنگ سے آراستہ ہو کر میدان جنگ کی طرف روانہ ہوتا ہے تو دیگر کرداروں سے رخصتی کلام کرتا ہے۔ وہ بھی دعائیہ کلمات کے ساتھ اسے رخصت کرتے ہیں۔ یہ حصہ رخصت کہلاتا ہے۔
آمد ۔ حسینی فوج کا بہادر بڑی آن بان سے میدان جنگ میں پہنچتا ہے۔ اس کے انداز سے دشمنوں پر خوف و ہراس چھا جاتا ہے ۔ بہادر کے میدان میں پہنچنے کا جہاں ذکر ہوتا ہے وہ جزو آمد کہلاتا ہے بعض مرثیہ نگاروں نے اسی مقام پر جنگ کے لیے تشریف لانے والے کا سرا پا بھی بیان کیا ہے۔
رجز ۔ عربوں میں دستور تھا کہ جنگجو جب جنگ کے لیے مقابل ہوتے تو اپنے اور اپنے بزرگوں کے کارنامے دہرا کر دشمن کو للکارتے تھے۔ مدعا یہ کہ طبیعت جوش پر آجائے ۔ اس فخر یہ بیان کو رجز کہتے ہیں۔
رزم ۔ رجز کے بعد جنگ کا آغازہ ہوتا ہے اور مرد مجاہد کے جنگ کرنے کا پورا حال تفصیل سے لکھا جاتا ہے اور اس طرح لکھا جاتا ہے کہ جنگ کی تصویر آنکھوں میں کھنچ جاتی ہے
شہادت ۔ مجاہد کی بہادرانہ جنگ کے بعد اس کی شہادت کا درد ناک حال مرتبے کا اصل موضوع ہے جس میں مرثیہ نگار اپنی فنی مہارت کا ثبوت پیش کرتا ہے ۔
بین ۔ شہادت کے بعد اس کے لاشے کو خیمے میں یا اس کے نزدیک لے آتے ہیں ۔ اس پر سب رونے لگتے ہیں۔ طور میں بین وبکا کرتی ہیں ۔ فضا سوگوار ہو جاتی ہے۔
خلاصہ کلام ۔
مرثیہ ہماری شاعری کی وہ صنف ہے کہ اس پر جتنا بھی فخر کیا جائے کم ہے۔ اس نے اردو شاعری کو نئے نئے موضوعات دیے اور وہ شاعری جس پر محدود ہونے کا الزام تھا، موضوعات کی بے حد وسعت سے روبرو ہوئی۔ واقعۂ کربلا پر اگرچہ پہلے عربی اور پھر فارسی زبان میں مرثیے کہے گئے، لیکن وہ اردو مرثیے کے برابر بھی نہیں پہنچتے، اور دنیا کی کسی اور زبان میں اس موضوع پر اتنے بلند اور فنّی انداز کے مرثیے کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا۔ اردو شاعری اس صنف پر جتنا بھی ناز کرے، کم ہی ہے۔
This post presents a critical study of Marsiya Nigari (elegiac poetry) in Urdu. It explains the definition, historical background, themes, structure, and artistic qualities of marsiya, with special focus on Karbala-based marsiyas. The article highlights how marsiya combines multiple poetic forms, enriches the Urdu language, and stands as one of the most powerful and influential genres of Urdu poetry.