اردو ادب کو جن چند ادبی تحریکوں نے متاثر کیا ہے اُن میں سب سے کامیاب تحریک ترقی پسند تحریک سمجھی جاتی ہے جس نے ادب کو زندگی سے جوڑنے کی کوشش کی۔ اس تحریک نے ادیبوں کو اس بات کے لیے تیار کیا کہ وہ ادب کو صرف تفریح کا ذریعہ نہ بنائیں بلکہ اس کے ذریعے سماجی اور معاشرتی بہتری کا کام کریں۔ اس سے وابستہ شاعروں اور ادیبوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے سماج کو بیدار کرنے کا کام کیا اور جہاں جہاں ظلم، ناانصافی اور دباؤ نظر آیا اُس کے خلاف آواز اُٹھائی۔ اس تحریک نے پورے دور کو متاثر کیا اور ہندوستان میں صرف اُردو ہی نہیں بلکہ یہاں کی زیادہ تر زبانوں کے ادیب بھی اس سے متاثر ہوئے اور سبھی زبانوں میں ترقی پسند ادب لکھا گیا۔

آپ تحریک کے معنی اور مطلب سے واقف ہیں اور ترقی پسند تحریک کیا ہے یہ بھی جانتے ہیں۔ اس تحریک کے ادب پر کیا اثرات پڑے ہمیں اس پر غور کرنا ہے۔ آپ جانتے ہوں گے کہ ادب اپنے دور کا آئینہ ہوتا ہے اور شاعر و ادیب معاشرے کے سب سے زیادہ حساس لوگ ہوتے ہیں۔ ترقی پسند تحریک سے وابستہ شاعر و ادیب کے ذریعے جو ادب سامنے آیا اس پر اس دور، اس تحریک اور اس تحریک سے جڑے نظریے کے صاف اثرات تھے۔ اس تحریک سے متعلق اور اس نظریے سے اتفاق رکھنے والے ادیبوں نے اپنی اپنی زبان کے ادب میں ترقی پسند خیالات کی تشہیر اور پھیلاؤ کیا اور اس طرح اس تحریک نے پورے ہندوستان میں اور ہندوستان کی زیادہ تر زبانوں میں اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔ پریم چند نے لکھنو میں اپنے خطبے میں کہا تھا کہ

اس کی پیروی نظم و نثر دونوں میں ملتی ہے۔ ایک طرف پریم چند، منٹو، راجندر سنگھ بیدی، سعادت حسن منٹو، کرشن چندر اور عصمت چغتائی وغیرہ افسانے میں اپنا کمال دکھا رہے تھے تو دوسری طرف فیض احمد فیض، مخدوم محی الدین، علی سردار جعفری، اسرار الحق مجاز، معین احسن جذبی، ساحر لدھیانوی، جاں نثار اختر، مجروح سلطانپوری، کیفی اعظمی اور نیاز حیدر وغیرہ اپنی شاعری کے ذریعے اس تحریک کو مضبوط بنا رہے تھے۔ اختر حسین رائے پوری، خلیل الرحمن اعظمی، احتشام حسین، علی سردار جعفری، ممتاز حسین، مجنوں گورکھپوری اور پروفیسر قمر رئیس وغیرہ ایسے نقاد ہیں جن کے تنقیدی خیالات اس تحریک کے مقصد کے مطابق تھے۔ اس تحریک کے نظریے کے حامیوں نے آزادی سے پہلے اپنا کردار ادا کیا اور آزادیِ ہندوستان کے بعد اپنی ذمہ داری کو ایک الگ انداز میں پورا کیا۔ دونوں حالتوں میں اس کا مقصد انسان دوستی کو بڑھانا، سامراجی طاقتوں کے قبضے سے آزادی حاصل کرنا، ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانا اور مزدوروں، کسانوں اور محنت کش لوگوں کو ان کے حق دلانے کی کوشش کرنا تھا۔ بلا شبہ اس کوشش میں بڑی طاقت تھی اور اسی وجہ سے یہ تحریک بیسویں صدی کی سب سے زیادہ مشہور اور اثر رکھنے والی ادبی تحریک بن گئی۔

ترقی پسند تحریک کے علم بردار شاعروں میں فیض احمد فیض، مخدوم محی الدین، علی سردار جعفری، اسرار الحق مجاز، معین احسن جذبی، ساحر لدھیانوی، جاں نثار اختر، مجروح سلطانپوری، اختر الایمان، کیفی اعظمی اور احمد ندیم قاسمی وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔ فیض احمد فیض کو ترقی پسند شعرا میں اہم مقام حاصل ہے۔ فیض غزل کی کلاسیکی روایت سے بھی مستفید ہوئے اور انقلابی فکر سے بھی استفادہ کیا ۔ دونوں کو ہم آہنگ کر کے ایک نئی کیفیت پیدا کی ۔ انہوں نے

انقلابیت کی خاطر تغزل اور تغزل کی خاطر انقلابیت کو کبھی قربان نہیں کیا ۔

ن۔ م۔ راشد نے فیض کے پہلے مجموعہ کلام کے تعلق سے کہا کہ

فیض غیر منقسم ہندوستان میں 1911ء میں سیالکوٹ میں پیدا ہوئے جو تقسیم ہند کے بعد پاکستان کا حصہ بن گیا۔ فیض نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور استاد کے عہدے پر مقرر ہوئے۔ وہ کئی زبانیں جانتے تھے۔ انگریزی، فارسی، اُردو اور عربی زبان پر انہیں اچھی مہارت تھی۔ اُنہوں نے مولوی میر حسن جیسے بہترین استاد سے تعلیم حاصل کی تھی۔ یہ وہی میر حسن ہیں جو ڈاکٹر سر محمد اقبال کے بھی استاد تھے۔ وہ امرتسر کے ایم اے او کالج میں انگریزی کے لیکچرر بنے۔ 1940ء میں لاہور چلے گئے اور وہاں ہیلی کالج سے وابستہ ہو گئے۔ اُنہوں نے شاعری کی ابتدا کالج کے زمانے ہی سے کر دی تھی۔ کالج کے میگزین میں ان کی کئی نظمیں شائع ہوئیں۔ وہ نظمیں اُن کے پہلے مجموعے میں شامل ہیں۔ موضوع کے لحاظ سے ان کی ابتدائی نظمیں عشقیہ تھیں۔ ترقی پسند تحریک کے شروع ہی سے فیض اس میں دلچسپی لینے لگے اور عملی طور پر اس تحریک کی ترقی کے لیے کوششیں کیں۔ تحریک سے وابستگی کے بعد فیض کی شاعری کا موضوع عشقیہ کے بجائے سماجی اور اشتراکی ہو گیا۔ انہیں عشق و محبت کے بجائے معاشرے کے مسائل اور کمزور طبقے کے لوگوں کے خراب حالات زیادہ اہم لگنے لگے۔ اس احساس کا اظہار اُن کی نظم “مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ” میں ملتا ہے۔ نظم کا پہلا بند ملاحظہ کیجیے۔

مخدوم محی الدین کا شمار صفِ اول کے ترقی پسند شاعروں میں ہوتا ہے۔ وہ حیدر آباد کے قریب میدک میں 1908ء میں پیدا ہوئے۔ اُنہوں نے حیدر آباد میں تعلیم حاصل کی تھی۔ یہاں کے ایک کالج میں انہیں لیکچرر کی نوکری بھی ملی لیکن اُنہوں نے جلد ہی ملازمت چھوڑ دی اور تنظیمی کاموں میں لگ گئے۔

مخدوم بہت ذہین اور کھلے خیال کے انسان تھے۔ اُنہیں بچپن سے ہی پڑھنے کا شوق تھا۔ طالب علمی کے زمانے میں اُنہوں نے مارکسزم کا گہرا مطالعہ کیا اور آہستہ آہستہ اس کے حامی بنتے گئے۔ ان کی جوانی کے دور میں ترقی پسند تحریک کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ تحریک سے خیالی ہم آہنگی کی وجہ سے مخدوم اس سے جُڑ گئے۔ اُنہوں نے حیدر آباد میں ترقی پسند مصنفین کی ایک شاخ قائم کی۔

مخدوم کی ابتدائی شاعری میں خوبصورتی اور خوشگوار احساس ملتا ہے۔ اُنہوں نے عشقیہ اور رومانی نظمیں پورے جوش اور جذبے کے ساتھ لکھیں۔ محبت کی چھاؤں، نالۂ حبیب، انتظار، سجدۂ نورس وغیرہ اسی احساس کی مثالیں ہیں۔ اُن کی عشقیہ نظم “طور” کا ایک بند ملاحظہ کیجیے۔

وقت کے ساتھ ساتھ مخدوم کے ذہن اور موضوعات میں بھی تبدیلی آتی گئی۔ ان کی نظمیں رومان سے انقلاب کی طرف کوچ کرنے لگیں۔ انہوں نے اپنے نظریے کو عام کرنے اور عوام تک اپنا پیغام پہنچانے کے لیے انقلابی نظموں کا سہارا لیا جو پورے جوش وخروش کے ساتھ جلسوں اور جلوسوں میں پڑھی اور گائی جاتی تھیں۔ آتش کدہ قمر سپاہی وغیرہ ان کی ایسی ہی نظمیں ہیں

مخدوم نے عام طریقے کے مطابق شروع میں رومانی شاعری کی لیکن جلد ہی انقلابی شاعری کرنے لگے۔ مخدوم اصل میں سیاسی آدمی تھے۔ ملازمت چھوڑ کر کمیونسٹ پارٹی میں شامل ہو گئے۔ توازن اور سنجیدگی مخدوم کے کلام کی خاص بات ہے۔ ان کی نظموں کے موضوعات میں اکثر مزدور کی خراب حالت، نچلے اور دبے کچلے طبقے پر ظلم و زیادتی اور ان کا استحصال وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔ اُن کا پہلا مجموعہ سرخ سویرا اور دوسرا مجموعہ گل تر ہے۔ ان کا کلیات بساطِ رقصکے عنوان سے 1966ء میں شائع ہوا۔ 1969ء میں یہ انقلابی شاعر ہندوستان کی راجدھانی دلّی میں وفات پا گیا۔ اُن کا ایک بہت ہی مشہور شعر ہے جو آپ کو بھی یاد ہونا چاہیے۔

علی سردار جعفری بلرام پور کے زمیندار خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ گھر کا ماحول علمی اور ادبی تھا۔ وہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے علی گڑھ گئے۔ زمیندار گھرانے سے نکل کر انہیں یونیورسٹی کے ماحول کا سامنا ہوا اور وہاں کا خاص ماحول ملا۔ اُس زمانے میں علی گڑھ کا ماحول ترقی پسند تحریک سے وابستہ شاعر و ادیب کے لیے کسی نعمت سے کم نہ تھا۔ سردار جعفری پر بھی اس کا سیدھا اثر پڑا۔ انہیں علم کے ساتھ ساتھ آزادی کا احساس، شعور اور دنیا کو دیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت ملی۔ وہ مسلک کے اعتبار سے شیعہ تھے۔ انیس کے مراثی کا مطالعہ کرنا اور محرم کے مہینے میں انہیں سننا اور سنانا انہیں خاص طور پر پسند تھا۔ مرثیہ گوئی اور مرثیہ خوانی میں انہیں ہمیشہ دلچسپی رہی۔ سردار جعفری کی شاعری میں جوش اور زور ملتا ہے۔ ان کی تقریر کی طرح نظموں میں بھی بے خوف اور خطابیہ انداز ملتا ہے۔ وہ خود لکھتے ہیں کہ آنکھ کھلی تو علم اور تعزیے دیکھے۔ سردار جعفری افسانہ نگار، ڈراما نویس اور ہدایت کار بھی تھے لیکن ان سب سے زیادہ ان کی شاعری مشہور ہوئی۔

سردار جعفری ترقی پسند تحریک کے ابتدائی دنوں ہی سے اس سے جُڑ گئے تھے۔ پریم چند نے تحریک کے باقاعدہ آغاز پر جو صدارتی خطبہ دیا تھا اُس سے متاثر ہو کر سردار جعفری نے دو نظمیں “سرمایہ دار لڑکیاں” اور “دیہاتی لڑکیاں” لکھیں۔ یہ دونوں نظمیں اُن کے پہلے مجموعے “پرواز” میں شامل ہیں۔ ان نظموں سے ان کا مقصد صاف ہو جاتا ہے۔ وہ صنعت، دوہرا مطلب، پیچیدگی اور بناوٹ کے بجائے سیدھی بات کرنے کے قائل تھے۔ ان کے یہاں سختی اور حملہ آور انداز نہیں ملتا بلکہ وہ اپنی بات دلیل کے ساتھ پیش کرنے پر یقین رکھتے تھے۔ جن باتوں پر ان کا یقین ہو جاتا تھا وہ انہیں بلا جھجک اور پکے انداز میں کہتے تھے۔ وہ ایک بہترین مقرر تھے۔ ان کا خطیبانہ انداز لوگوں کو بہت پسند آتا تھا۔ جعفری کا یہی لہجہ، یہی انداز اور یہی ڈھنگ اُن کی نظموں میں بھی ملتا ہے۔ اُنہوں نے تخلیقی سفر کی ابتدا افسانہ نگاری سے کی تھی، بعد میں شاعری کی طرف آئے۔ ان کا شمار اس تحریک کے رہنماؤں میں کیا جاتا ہے۔ انہوں نے وقتی اور موضوع کے مطابق شاعری کی۔ تنقیدی مضامین بھی لکھے جنہیں ادبی دنیا میں کافی پسند کیا گیا۔ سردار جعفری جوش ملیح آبادی سے کافی متاثر تھے، اس لیے ان کی نظموں میں جوش کا رنگ نظر آتا ہے۔ “نئی دنیا کو سلام”، “ایشیا جاگ اٹھا” اور “زنداں نامہ” ان کی اہم نظمیں ہیں۔ یہاں اُن کے بعض اشعار دیے جا رہے ہیں۔

اسرار الحق مجاز ترقی پسند شاعر کی حیثیت سے بہت بلند مقام رکھتے ہیں۔ ان کا اصل نام اسرار الحق اور مجاز ان کا تخلص ہے۔ ان کا آبائی وطن اُتر پردیش کا ضلع بارہ بنکی ہے۔ اُنہوں نے ابتدائی تعلیم وہیں حاصل کی اور بی اے کی ڈگری کے لیے علی گڑھ چلے گئے۔ اس وقت تک ترقی پسند تحریک کا باقاعدہ آغاز ہو چکا تھا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں بھی اس تحریک سے خیالی ہم آہنگی رکھنے والے لوگ موجود تھے۔ اس ماحول کے اثر سے مجاز کی سوچ میں پختگی اور دل و دماغ میں وسعت پیدا ہوئی۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ مجاز نے بی اے کی تعلیم کے ساتھ ساتھ اس تحریک کی فکری تربیت بھی حاصل کی۔

مجاز نے جس زمانے میں شاعری شروع کی اُس وقت ہندوستان دو طرح کی غلامی میں مبتلا تھا۔ طبقاتی لڑائی، پرانی رسمیں اور انسانیت کی کمی جیسے مسائل معاشرے میں عام تھے۔ مجاز کو ترقی پسند تحریک میں ان سب مسائل کا حل نظر آیا۔ ان کی نظموں میں زور کے ساتھ ان خیالات کی حمایت ملتی ہے۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ “آہنگ” ہے جس نے مجاز کو بہت شہرت دی۔ اس مجموعے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کا تعارف ترقی پسند تحریک کے اہم رہنما سجاد ظہیر نے لکھا۔ اس کے دوسرے ایڈیشن پر فیض احمد فیض نے دیباچہ تحریر کیا۔ فیض لکھتے ہیں۔

مجاز انقلابی اور رومانوی شاعری کی وجہ سے ہمیشہ یاد کیے جائیں گے۔ مجاز نے جوش و جذبہ اور محبت سے بھرپور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا ترانہ بھی لکھا ہے۔ یہ ترانہ اس یونیورسٹی کی عظمت کو ظاہر کرتا ہے جسے وہاں کے طالب علم، چاہے وہ دنیا کے کسی بھی حصے میں ہوں، بڑے شوق سے گاتے اور گنگناتے ہیں۔ اور اسی طرح اپنی درسگاہ کے ساتھ ساتھ مجاز کو بھی یاد کرتے ہیں۔ 1955ء میں مجاز کا انتقال ہو گیا۔

مجاز کا شمار ترقی پسند تحریک کے ابتدائی دور کے شاعروں میں ہوتا ہے۔ وہ نظم اور غزل دونوں پر مہارت رکھتے تھے لیکن انہیں زیادہ شہرت نظم سے ملی۔ ان کی شاعری میں انقلاب کا جوش بھی ملتا ہے اور رومانوی فضا بھی موجود رہتی ہے، لیکن یہ رومانیت محبت بھری باتوں، شوخی اور بے باکی پر مبنی اور صاف ستھری نوعیت کی ہے۔ ان کی شاعری کو عزیز احمد نے انقلاب اور تغزل کا خوبصورت میل قرار دیا ہے۔ “آوارہ”، “اندھیری رات کا مسافر”، “رات اور ریل” اور “نذرِ علی گڑھ” ان کی مشہور نظمیں ہیں۔ اُن کے مختلف اشعار ملاحظہ کیجیے۔

معین احسن جذبی ترقی پسند دور کے الگ انداز کے شاعر تھے۔ وہ 1912ء میں اعظم گڑھ کے قصبہ مبارکپور میں پیدا ہوئے۔ اُنہوں نے ایم اے اُردو کی ڈگری حاصل کی اور علی گڑھ یونیورسٹی کے شعبہ اُردو میں لیکچرر بن گئے۔ پڑھانے کی وجہ سے وہ ایک لمبے عرصے تک علی گڑھ میں رہے اور ریٹائر ہونے کے بعد بھی وہیں مقیم رہے۔ ترقی پسند تحریک جب اپنے عروج پر تھی تو شاعر زیادہ تر نظم کی طرف جا رہے تھے، لیکن جذبی نے اپنے خیالات اور نظریات کو زیادہ تر غزل میں پیش کیا۔ جذبی کے نظریے کی بنیاد بالکل واضح تھی۔ وہ کارل مارکس کے نظریے سے متفق تھے۔ وہ کمزور طبقے سے ہمدردی رکھتے تھے اور ان کے حقوق کے لیے فکر مند رہتے تھے۔ جذبی یقیناً ترقی پسند تھے، لیکن اس کے لیے انہوں نے کبھی فن پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ ان کی شاعری میں موضوع اور فن دونوں میں توازن ملتا ہے اور دونوں کا حق ادا کیا گیا ہے۔ اپنے شعری مجموعے “فروزاں” کے دیباچے میں وہ لکھتے ہیں۔

جذبی ہمیشہ اپنے اس نظریے کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ انہیں جب تک جذبے کی شدت اور احساس کی تازگی کا یقین نہ ہو جاتا وہ شعر نہ کہتے تھے۔ غالبا اسی لیے ان کا ادبی سرمایہ اپنے معاصرین کے مقابلے کم ہے۔ اُن کا پہلا مجموعہ فروزاں اور دوسرا سخن مختصر ہے۔

جذبی کی بنیادی شناخت ترقی پسند غزل گو شاعر کی ہے۔ مزدوروں کی حمایت اور سرمایہ داری کے خلاف آواز بلند کرنے والوں میں جذبی کا نام قابل ذکر ہے۔ سماج کی برائیوں کو دیکھ کر تڑپ اٹھنے والے جذبی کی شاعری میں دردو غم کا عنصر نمایاں ہے لیکن یہ غم محض ذاتی نہیں بلکہ اجتماعی ہے۔ جذبی کا خیال تھا کہ سیاست میں مصلحت کا بہت کچھ دخل ہے لیکن مصلحت پر شعر کی بنیاد نہیں رکھی جاسکتی لہذا انہوں نے ہمیشہ شاعری کے تقاضے کو اہمیت دی اور اس کے ساتھ حسن سلوک کرتے رہے۔

ساحر لدھیانوی رومانی طرز پر شاعری کرنے والے نوجوان نسل کے پسندیدہ شاعر تھے۔ زبان سادہ اور سلیس تھی ۔ ابتدائی نظموں میں محبت اور جذبات واحساسات، نوجوان دلوں کی آرزوئیں، ناکامی محرومی ان کے عزائم اور ارادے کو مختلف زاویے سے پیش کیا ہے لیکن ان کے یہاں رفتہ رفتہ موضوع میں تبدیلی ہوئی اور طبقاتی شعور انقلابی آہنگ اور اہل اقتدار کو بھی اپنی نظموں کا موضوع بنایا۔ پر چھائیاں ان کی طویل نظم ہے۔

ساحر لدھیانوی تعلیم مکمل کرنے کے بعد لاہور سے شائع ہونے والے رسالے ادب لطیف اور سویرا کی ادارت کے فرائض انجام دینے لگے ۔ بعد میں پھر وہ دہلی آئے اور شاہراہ سے منسلک ہو گئے۔ لیکن یہ سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوا ۔ وہ روزگار کے لیے ممبئی گئے اور فلمی دنیا سے وابستہ ہو گئے ۔ یہ ترقی پسند تحریک کے عروج کا دور تھا۔ ممبئی میں ساحر ترقی پسند مصنفین کے جلسوں میں باقاعدگی سے شریک ہونے لگے۔ دراصل وہ مزاجاً ترقی پسند تھے۔ وہ جہاں بھی رہے اپنے اس مخصوص نظریے کے ساتھ رہے۔ اُنہوں نے رومانی اور عشقیہ نظمیں بھی کہی ہیں۔ سماجی برابری طبقاتی کشمکش اور انسانیت کو بھی موضوع بنایا ہے۔ ان کے عشقیہ اشعار بہت مشہور ہوئے مثلاً

ساحر لدھیانوی نے فلموں سے وابستگی کے بعد شاعری سے کسی حد تک کنارہ کشی اختیار کر لی تھی لیکن اُن کی تحریر کردہ فلمی نغموں میں بھی ترقی پسندی کا نظریہ واضح طور پر نظر آتا ہے۔ ان کا مشہور گانا تو آپ نے سنا ہی ہوگا

جاں نثار اختر بیسویں صدی کے ترقی پسند شعرا میں ایک معتبر نام ہے۔ جاں نثار اختر نے گرچہ رومانی نظموں سے اپنی شاعری کی ابتدا کی لیکن جلد ہی سماجی حقیقتوں کی عکاسی کرنے لگے اور ہمیشہ اس تحریک کے نظریے کے حامل رہے۔ جاں نثار اختر نے اپنے اطراف واکناف میں ہونے والے واقعات کو دیکھا محسوس کیا اور انہیں تجربات و مشاہدات کی بنا پر اسے اپنی شاعری میں جگہ دی۔ اُن کی شاعری پر جوش جذبی سردار جعفری، فیض اور اقبال کے واضح اثرات ملتے ہیں۔ خلیل الرحمن اعظمی کا خیال ہے کہ جاں نثار اختر دراصل ایک انتخابی ذہن رکھتے ہیں۔ اپنا راستہ نکالنے کے بجائے وہ دوسروں کے راستے پر فوراً چل پڑتے ہیں ۔ (اُردو میں ترقی پسند ادبی تحریک – ص 73-172)

جاں نثار اختر کی اُس شاعری میں فنی چابکدستی اور تہہ داری زیادہ ہے جو اُنہوں نے اپنی بیگم صفیہ اختر کی یاد میں کی ۔ ہے۔ صفیہ جاں نثار اختر کی پہلی بیوی تھیں اور اسرار الحق مجاز کی بہن تھیں۔ وہ بہت ہی خوش اخلاق اور مہذب خاتون تھیں۔ شاعری کا اعلیٰ ذوق رکھتی تھیں۔ جاں نثار اختر کے بعض اشعار ملاحظہ کیجیے

اختر الایمان بیسویں صدی کے مقبول ترقی پسند شاعر گزرے ہیں جو اپنی انفرادی شناخت رکھتے ہیں۔ وہ ایک غریب گھرانے کے چشم و چراغ تھے ۔ اُن کا بچپن پریشانیوں میں گزرا۔ بی اے تک تعلیم حاصل کی اور ملازمت کی تلاش میں نکل پڑے۔ چھوٹی چھوٹی کئی نوکریاں کرنے کے بعد ممبئی پہنچے۔ وہاں فلمی دنیا سے وابستہ ہو گئے اور گیت مکالمے لکھنے لگے جس کے بعد انہیں دولت اور شہرت دونوں ہی حاصل ہوئی ۔ ان کی شاعری ان کے اپنے تجربات و مشاہدات کا حاصل ہے ان کی نظموں میں فرد اور سماج کا ٹکراؤ اور انسانی رشتوں کی پامالی کی واضح مثالیں ملتی ہیں۔ اُن کے یہاں غموں کا احساس انسانی بے حسی کمزور طبقے کا درد صاف عیاں ہے۔ اُن کے مجموعہ کلام کے نام سب رنگ تاریک سیارہ اور یادیں ہیں۔ ایک لڑکا ان کی نمائندہ نظم ہے جس میں ایک لڑکا ملتی ہوئی تہدیب کی علامت بن کر سامنے آیا ہے۔ اس نظم کے آخری حصے کے چند مصرعے ملاحظہ کیجیے

ابھی آپ نے ترقی پسند شعرا اور ان کے کلام کا جائزہ لیا۔ اب ہم اس تحریک سے وابستہ ادیبوں کا بھی مختصر جائزہ لیں گے۔ ترقی پسند ادیبوں میں فکشن نگار کی حیثیت سے پریم چند کے علاوہ کرشن چندر، بیدی، منٹو اور عصمت کے نام خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ جبکہ ناقد کی حیثیت سے سجاد ظہیر، احتشام حسین، ممتاز حسین، محمد حسن اور قمر رئیس وغیرہ کے نام اہم ہیں۔

پریم چند اپنے تخلیقی سفر کے شروع ہی سے ترقی پسند تحریک کے نظریے سے متفق تھے۔ اُنہوں نے بیسویں صدی کی پہلی دہائی سے ہی نثری ادب میں قیمتی اضافہ کرنا شروع کر دیا تھا۔ اُنہوں نے انداز سے زیادہ مواد پر زور دیا اور اصلاحِ معاشرہ کے لیے ادب کو ایک ذریعہ سمجھا۔ تقریباً ایک صدی پہلے جب پریم چند نے لکھنا شروع کیا اُس وقت معاشرہ طبقاتی فرق، ذات پات، امیر اور غریب کی دوری، تعلیم کی کمی، کم عمری کی شادی اور ستی جیسے مسائل سے پریشان تھا۔ پریم چند نے اپنی کہانیوں میں انہی مسائل کو پیش کیا۔ اگر غور کریں تو ان مسائل کا حل کسی نہ کسی صورت میں ان کی کہانیوں میں مل جاتا ہے۔ افسانے “کفن”، “سوا سیر گیہوں”، “نئی بیوی”، “گھاس والی”، “بڑے گھر کی بیٹی”، “عید گاہ”، “حج اکبر”، “نجات” وغیرہ ایسے افسانے ہیں جن میں ترقی پسند خیالات صاف نظر آتے ہیں۔ “عید گاہ” کا مرکزی کردار ایک چھوٹا بچہ حامد ہے اور ایک بوڑھی عورت امینہ ہے جو اس کی دادی ہے۔ پریم چند نے حامد کے دل کے احساسات اور نفسیات کو بیان کیا ہے۔ حامد کے دوست عید گاہ میں کھلونے اور مٹھائیاں خریدتے ہیں مگر حامد لوہے کا چمٹا خریدتا ہے کیونکہ اس کی دادی کے ہاتھ روٹیاں پکاتے وقت جل جاتے ہیں۔ یہاں شوق اور تفریح پر ضرورت کو اہمیت دی گئی ہے۔ پریم چند نے حامد کے ذریعے معاشرے کے ان کمزور لوگوں کی تصویر دکھائی ہے جن کی خواہشیں پوری نہیں ہو پاتیں۔ اس کہانی سے یہ پیغام بھی ملتا ہے کہ ادب صرف تفریح نہیں بلکہ مسائل کے حل کا ذریعہ بھی ہونا چاہیے۔

کرشن چندر عملی طور پر ترقی پسند تحریک سے جڑے رہے۔ وہ ترقی پسند مصنفین کے جلسوں میں باقاعدگی سے شامل ہوتے تھے۔ اُنہوں نے بہت زیادہ لکھا۔ ناول اور افسانے دونوں لکھے لیکن پہچان افسانوں سے بنی۔ وہ مزاج کے اعتبار سے جذباتی اور رومان پسند تھے اور یہ رنگ ان کے افسانوں میں بھی ملتا ہے، لیکن یہی جذبات اور رومان سماجی حقیقت کو خوبصورتی سے پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے انسان دوستی اور بہتر سماج کی خواہش ظاہر کی اور اس میں کافی حد تک کامیاب رہے۔ اُنہوں نے ایک خوشحال اور مطمئن سماج کا خواب دیکھا۔ ان کے افسانوں میں عام لوگ مرکزی کردار کے طور پر سامنے آتے ہیں اور ان کی زندگی کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ سماج سمجھے کہ ان کی بھی عزت اور پہچان ہے۔ ان کے بھی جذبات ہیں جن کی قدر ہونی چاہیے۔ “مہالکشمی کا پل” اور “کالو بھنگی” اسی طرح کے افسانے ہیں۔ “کالو بھنگی” میں ایک اسپتال میں کام کرنے والا شخص مریضوں کی گندگی صاف کرتا ہے اور ان کے دکھ محسوس کرتا ہے، مگر اس کی چھوٹی سی خواہش بھی پوری نہیں ہوتی۔ وہ حسرتوں کے ساتھ زندگی گزار کر دنیا سے چلا جاتا ہے۔ ایک بھنگی کو مرکزی کردار بنانا ترقی پسند تحریک کا اثر ہے۔

منٹو اپنے دور کے باغی افسانہ نگار کہلاتے تھے۔ تقسیم ہند کا سانحہ، فرقہ وارانہ فسادات، جنسی اور نفسیاتی مسائل ان کے اہم موضوعات تھے۔ وہ ترقی پسند تحریک کے نظریے سے متفق تھے۔ انہوں نے ان لوگوں کے مسائل کو پیش کیا جن پر کم توجہ دی جاتی تھی۔ خاص طور پر بازاری عورتوں کے جذبات اور اندرونی احساسات کو مضبوط انداز میں پیش کیا۔ منٹو کا خیال تھا کہ ان میں سے زیادہ تر عورتیں حالات کی ماری ہوتی ہیں اور وہ بھی عام عورتوں کی طرح سکون کی زندگی چاہتی ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے فرقہ وارانہ فسادات، تقسیم ہند، انسان کی بے عزتی، کمزور طبقے کی بے چینی اور ناانصافی پر بھی افسانے لکھے۔ “کالی شلوار”، “موذیل”، “منظور”، “ٹو بہ ٹیک سنگھ”، “نیا قانون” وغیرہ ان کے مشہور افسانے ہیں۔

راجندر سنگھ بیدی بھی ترقی پسند تحریک سے جڑے اہم افسانہ نگار ہیں۔ بیدی نے سماج کی پرانی رسموں، توہمات اور ان کے برے اثرات کے خلاف لکھا۔ ان کا ماننا تھا کہ ترقی کے باوجود لوگ بے بنیاد باتوں پر یقین کرتے ہیں جو درست نہیں۔ افسانہ “گرہن” کی مرکزی کردار ہولی ہے جو کئی بچوں کی ماں ہے۔ سورج گرہن کے وقت وہ حاملہ ہے۔ اس کی ساس اسے مختلف ہدایات دیتی ہے اور ڈانٹتی بھی ہے کہ گرہن میں کیا احتیاط کرنی چاہیے۔ اس کا شوہر رسیلا بھی اسے مارتا ہے۔ ہولی ساس کے مارنے کی وجہ نہیں سمجھ پاتی، مگر شوہر کے مارنے کو وہ کسی حد تک درست سمجھتی ہے کیونکہ وہ اسے پتی پرمیشور مانتی ہے۔ بیدی نے عورتوں کی نفسیات کو بڑی مہارت سے پیش کیا ہے۔ بچوں کی نفسیات بھی انہوں نے خوب بیان کی ہے۔ انہوں نے متوسط طبقے کے مسائل کو موضوع بنایا۔ “تلادان” ان کا اہم افسانہ ہے جس میں امیر اور غریب بچے کی نفسیات دکھائی گئی ہے۔ “لا جونتی” تقسیم ہند پر مبنی ہے مگر اس میں بھی عورت کے حقوق اور نفسیات کو اہمیت دی گئی ہے۔ “گرم کوٹ”، “بھولا”، “لمبی لڑکی”، “اپنے دکھ مجھے دے دو”، “پان شاپ” وغیرہ ان کے نمایاں افسانے ہیں۔

عصمت چغتائی بھی ترقی پسند نظریے کی اہم فکشن نگار ہیں۔ وہ زیادہ تر متوسط طبقے کے مسلمان گھروں کی زندگی دکھاتی ہیں۔ خاص طور پر عورتیں ان کے افسانوں کا موضوع ہوتی ہیں۔ عصمت نئی زبان، نئے انداز اور بے خوف بیان کے لیے مشہور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لکھنے کے لیے میں نے زندگی کو پڑھا ہے اور اسے بہت دلچسپ پایا ہے۔ عصمت بدایوں، اُتر پردیش کی رہنے والی تھیں۔ ان کے والد تعلیم یافتہ اور اعلیٰ عہدے پر تھے اور انہوں نے عصمت کی تعلیم پر خاص توجہ دی۔ عصمت نے علی گڑھ میں بھی تعلیم حاصل کی اور انسپکٹر آف کالج بنیں۔ شاہد لطیف سے شادی کی اور بعد میں ممبئی میں رہنے لگیں۔ فلمی دنیا سے بھی وابستہ رہیں۔ اسی لیے ان کی تحریروں میں یوپی کے مسلم گھروں کی عورتوں کی نفسیات کے ساتھ ساتھ ممبئی کی زندگی کی جھلک بھی ملتی ہے۔ انہوں نے افسانوں کے ساتھ کئی ناول بھی لکھے جن میں “ضدی”، “معصومہ”، “ٹیڑھی لکیر”، “دل کی دنیا” اور “ایک قطرہ خون” شامل ہیں۔

سجاد ظہیر اس تحریک کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ اس تحریک کو منظم اور کامیاب بنانے میں ان کا اہم کردار تھا۔ احتشام حسین ترقی پسند ناقد تھے۔ وہ مارکسی نظریے سے متاثر تھے اور اسی کے ذریعے ادب اور زندگی کو سمجھتے تھے۔ وہ اپنی بات سادہ اور دلیل کے ساتھ پیش کرتے تھے۔ محمد حسن بھی ترقی پسند ناقد تھے۔ وہ کارل مارکس کی کتاب “سرمایہ” کے خیالات سے متفق نظر آتے ہیں۔ انہوں نے ادب کو زندگی اور سماج سے جوڑا۔ ان کے تنقیدی مضامین میں یہی خیالات ملتے ہیں۔ قمر رئیس اردو کے اہم ناقدین میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کے بغیر ترقی پسند تحریک اور انجمن ترقی پسند مصنفین کا تصور مکمل نہیں ہوتا۔ پریم چند اور سجاد ظہیر کے بعد انجمن کو منظم اور فعال رکھنے میں قمر رئیس کا بڑا کردار رہا اور انہوں نے طویل عرصے تک اس کے مقاصد کے لیے کام جاری رکھا۔

ادب میں موضوع اور فن دونوں سطحوں پر تبدیلی کو لازمی سمجھا جاتا ہے۔ اس تبدیلی کا مطلب یہ نہیں کہ پہلے جو روایت چل رہی تھی یا جو کچھ ادب میں لکھا جا رہا تھا وہ غلط یا کمزور تھا۔ تبدیلی نئے ذہن کی پیداوار کے طور پر سامنے آتی ہے۔ اس سے سوچ کے دروازے کھلتے ہیں، نئی تازگی آتی ہے اور اسے صحت مند علامت سمجھا جاتا ہے۔ ادب میں تبدیلی بہتری اور اضافے کے لیے ہوتی ہے۔ یہ تحریکوں اور نظریات کے بڑھنے اور سماجی و معاشرتی حالات میں تبدیلی کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔ اُردو ادب میں شروع سے ہی مختلف تحریکیں اور رجحانات ملتے ہیں، جیسے ایہام گوئی، اصلاحِ زبان، سرسید تحریک اور پھر بیسویں صدی میں ترقی پسند تحریک۔ ترقی پسند تحریک بیسویں صدی کی سب سے کامیاب تحریک رہی۔ اس نے ادب سے وابستہ زیادہ تر ناقدین، فکشن نگاروں، شاعروں اور ادیبوں کو متاثر کیا۔ سجاد ظہیر، اختر حسین رائے پوری، اعجاز حسین، احتشام حسین، قمر رئیس وغیرہ ایسے ناقدین تھے جنہوں نے ادب کی سمت متعین کی۔ اُنہوں نے واضح کیا کہ ادب کیسا ہونا چاہیے اور اس کے ذریعے معاشرے میں کتنی بہتری لائی جا سکتی ہے۔ اُنہوں نے ادب کو سماجی برائیوں کو ختم کرنے کا ذریعہ سمجھا اور اس کے لیے پوری کوشش کی۔

ترقی پسند تحریک کے آغاز ہی سے افسانہ نگار مرد و خواتین اس سے جُڑ گئے۔ پریم چند ایسے کہانی کار تھے جنہوں نے تحریک کے باقاعدہ بننے سے پہلے ہی ان موضوعات پر لکھنا شروع کر دیا تھا جو بعد میں اس کے اصول بنے۔ اُنہوں نے اپنی کہانیوں کے ذریعے سماجی ناانصافی کو کم کرنے کی کوشش کی۔ پریم چند کے بعد علی عباس حسینی، عصمت چغتائی، راجندر سنگھ بیدی، منٹو، کرشن چندر، خواجہ احمد عباس، غلام عباس، سریندر پرکاش وغیرہ نے اس نظریے کو اپنی کہانیوں کے ذریعے عام کیا۔ “اچھوت”، “گیندا”، “تلادان”، “بینک”، “کالو بھنگی”، “ابابیل”، “آئندی” اور “بجو کا” ایسی ہی کہانیاں ہیں۔ ناقدین اور افسانہ نگاروں کی طرح بہت سے شاعروں کی خدمات بھی یادگار ہیں۔ مجاز، سردار جعفری، فیض، مخدوم، ساحر، جاں نثار اختر، مجروح، اختر الایمان، کیفی اعظمی اور احمد ندیم قاسمی وغیرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ان کے کلام نے اپنے زمانے کو متاثر کیا اور تحریک آزادی کے جذبے کو زندہ رکھا۔ ان شاعروں نے فنی خوبصورتی کو برقرار رکھتے ہوئے موضوع کو اہمیت دی اور لوگوں میں بیداری پیدا کی۔ انہوں نے اپنے قارئین کو سمجھایا کہ ظالم کا ساتھ دینا نقصان دہ ہے اور مظلوم کا ساتھ دینا ضروری ہے۔ کسانوں، مزدوروں اور محنت کشوں کو ان کے حقوق ملنے چاہئیں، سماج سے ظلم ختم ہونا چاہیے اور برابری قائم ہونی چاہیے۔ اس طرح واضح ہوتا ہے کہ ترقی پسند تحریک نے ادب کی شاعری اور نثر دونوں پر گہرا اثر ڈالا اور اس کے تحت بہت سا قیمتی ادب سامنے آیا جو اُردو ادب کا اہم سرمایہ ہے۔

This post, Urdu Adab par Taraqqi Pasand Tahreek ke Asrat, examines the influence of the Progressive Writers’ Movement on Urdu literature. It discusses how the movement linked literature to real-life issues and encouraged writers to address injustice, class conflict, exploitation, and human suffering. The works of major figures such as Premchand, Faiz Ahmed Faiz, Makhdoom Mohiuddin, Ali Sardar Jafri, Sahir Ludhianvi, Ismat Chughtai, Saadat Hasan Manto, Krishan Chander, and Rajinder Singh Bedi are highlighted to show how progressive ideals reshaped poetry and fiction. The article demonstrates that this movement became one of the most powerful and transformative literary trends in 20th-century Urdu literature.