وجہی دکنی زبان کا باصلاحیت اور اچھے اندازِ بیان کا شاعر تھا۔ اس نے شاعری کی کئی قسموں میں لکھا، جیسے مثنوی، غزل، رباعی، مرثیہ وغیرہ۔ شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ وجہی ایک خاص انداز رکھنے والا نثر نگار بھی تھا۔ دکنی زبان میں اس کی دو نثری کتابیں ’سب رس‘ اور ’تاج الحقائق‘ موجود ہیں۔ وجہی نے فارسی زبان میں بھی شاعری کی۔ وہ فارسی کا بھی بڑا شاعر تھا۔ فارسی میں اس نے ایک دیوان یادگار کے طور پر چھوڑا ہے۔ ذیل میں اس کی تصانیف کا تعارف پیش کیا گیا ہے۔

قطب مشتری دکنی کی اہم اور مشہور مثنویوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ ایک کہانی پر مبنی مثنوی ہے، جس میں وجہی نے گولکنڈے کے شہزادے قطب اور بنگالے کی ملکہ مشتری کے عشق کی کہانی بیان کی ہے۔ اس نے اپنے مربی اور سر پرست سلطان قلی قطب شاہ کو کہانی کا ہیرو بنایا ہے لیکن مشتری کا کردار خیالی ہے۔ یہ قطب شاہی دور کی پہلی اصل مثنوی ہے۔ اس کا قصہ وجہی نے کہیں سے نہیں لیا بلکہ اپنے خیال سے بنایا ہے۔ یہ مثنوی دو ہزار سے زیادہ اشعار پر مشتمل ہے۔ وجہی نے یہ مثنوی صرف بارہ دن میں لکھی۔ اس کا سنہ تصنیف 1018ھ مطابق 1609ء ہے۔ اس کی وضاحت وجہی نے مثنوی کے آخری شعر میں اس طرح کی ہے۔

یہ حض عشقیہ مثنوی نہیں بلکہ قطب شاہی دور کی تہذیب و ثقافت اور طرز معاشرت کا آئینہ بھی ہے۔ مثنوی کے ابتدائی حصے میں وجہی نے شاعری کے بارے میں اپنے تنقیدی خیالات کا اظہار بھی کیا ہے اور شعر کی خوبیوں اور خامیوں پر روشنی ڈالی ہے۔

سب رس ملا وجہی کی نثری تصنیف ہے۔ اردو ادب کی تاریخ میں اسے کئی خاص اہمیت حاصل ہے۔ یہ اردو کی پہلی تمثیلی داستان ہے۔ سب رس سے پہلے دکنی میں جو نثری رسائل لکھے گئے وہ زیادہ تر مذہبی اور صوفیانہ موضوعات پر تھے۔ سب رس اردو میں خالص ادبی نثر کی پہلی مثال ہے۔ یہ اردو کی پہلی تصنیف ہے جو سادہ اور خوبصورت عبارت پر مشتمل ہے۔ سب رس میں اردو انشائیے کی ابتدائی جھلک نظر آتی ہے۔

سب رس میں ملا وجہی نے ملک تن کے شہزادے دل اور شہر دیدار کی شہزادی حسن کے عشق کی کہانی بیان کی ہے۔ وجہی نے یہ داستان سلطان محمد قطب شاہ کی فرمائش پر لکھی۔ اس کا سنہ تصنیف 1045ھ مطابق 1636ء ہے۔

وجہی کی یہ تصنیف دکنی نثر میں ہے۔ اس کتاب کے بارے میں پہلی خبر مولوی عبدالحق نے اپنے مضمون سب رس میں دی تھی، جو رسالہ اردو اکتوبر 1924ء میں شائع ہوا تھا۔ اس میں انہوں نے بتایا تھا: میرے پاس وجہی کی دو کتابیں اور بھی ہیں، ایک تاج الحقائق، یہ بھی نثر میں ہے۔

تاج الحقائق میں وجہی نے تصوف و عرفان کے موضوعات پر بات کی ہے۔ اس نے ایک رہبر کی طرح شریعت، طریقت، حقیقت اور معرفت کے بھید سمجھائے ہیں اور حق کے طالب لوگوں کو ذکر اور نفس کی اصلاح کے طریقے بتائے ہیں۔ وجہی نے سب رس اور قطب مشتری میں سنہ تصنیف صاف طور پر لکھا ہے لیکن نہ جانے کیوں تاج الحقائق میں اس نے سنہ تصنیف نہیں بتایا۔

تاج الحقائق کے مصنف کے بارے میں محققین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض اسے وجہی کی تصنیف مانتے ہیں اور بعض اسے وجہی کی تصنیف نہیں مانتے۔ مولوی عبدالحق، ڈاکٹر زور اور کئی دوسرے محقق اسے وجہی کی تصنیف تسلیم کرتے ہیں لیکن ڈاکٹر رفیعہ سلطانہ اسے شاہ وجیہ الدین گجراتی کی تصنیف قرار دیتی ہیں۔ ڈاکٹر جمیل جالبی کا خیال ہے کہ یہ وجہی کی تصنیف نہیں ہے۔ ڈاکٹر نور السعید اختر نے تاج الحقائق کو ترتیب دے کر 1970ء میں شائع کیا۔ وہ اسے وجہی کی تصنیف مانتے ہیں۔ انہوں نے قطب مشتری، تاج الحقائق اور سب رس کے مشترک حصے یعنی الفاظ، فقرے، جملے، محاورے، عربی اقوال، احادیث وغیرہ تلاش کر کے ثابت کیا کہ ان تینوں کتابوں کا مصنف ایک ہی ہے۔ تاج الحقائق میں بھی سادہ اور منفی جملوں اور برابر انداز کے فقروں کی زیادہ تعداد ملتی ہے۔ محققین کا خیال ہے کہ وجہی نے پہلے تاج الحقائق لکھی اور پھر اسی انداز کو بہتر بنا کر سب رس میں استعمال کیا۔

مشہور فرانسیسی مستشرق گارساں دتاسی کی تحقیق کے مطابق وجہی نے پری رخ و ما سیما نام کی ایک مثنوی لکھی تھی۔ اس نے اپنے خطبات میں اس مثنوی کا ذکر کیا ہے، لیکن یہ مثنوی نا پید ہے، کسی محقق کو دستیاب نہیں ہوئی۔ سید ضامن علی (الہ آباد یونورسٹی ) نے اپنی کتاب جائزہ زبان اردو میں لکھا ہے کہ اس کا ایک نسخہ محمد حفیظ سید صاحب الہ آبادی کے کتب خانے میں محفوظ ہے۔ (بحوالہ ڈاکٹر نور السعید اختر [ مرتب ] ، تاج الحقائق [ مقدمہ] ص 37)

وجہی فارسی کا بھی اچھے انداز میں شعر کہنے والا اور بڑا شاعر تھا۔ اس کے فارسی دیوان کا ایک نسخہ کتب خانہ سالار جنگ میوزیم میں محفوظ ہے۔ اس قلمی نسخے میں تقریباً چار ہزار اشعار ہیں۔ وجہی کے اس دیوان میں غزلیں، رباعیاں اور قطعات کے علاوہ ایک ادھورا قصیدہ بھی موجود ہے۔ اس دیوان کے اشعار سے وجہی کی زندگی کے کچھ ایسے پہلو معلوم ہوتے ہیں جو پہلے معلوم نہیں تھے۔ وجہی کے فارسی کلام میں خیالات کی تازگی اور خوبصورت اندازِ بیان کے ایسے قیمتی نمونے ملتے ہیں، جنہیں یقیناً فارسی شاعری کے خزانے میں قیمتی اضافہ کہا جا سکتا ہے۔

دکنی میں وجہی کی کچھ غزلیں، مرثیے اور رباعیاں ملی ہیں لیکن اس کا دکنی دیوان نہیں مل سکا۔ وجہی کا مربی سلطان محمد قلی قطب شاہ صاحبِ دیوان شاعر تھا۔ اس کے ہم عصر غواصی نے بھی دکنی میں اپنا دیوان ترتیب دیا تھا۔ اندازہ ہے کہ وجہی نے بھی دکنی میں اپنا دیوان ترتیب دیا ہوگا لیکن اب وہ نہیں ملتا۔ اس بارے میں ڈاکٹر زور اپنی کتاب دکنی ادب کی تاریخ میں لکھتے ہیں۔

ڈاکٹر جمیل جالبی تاریخ ادب اردو جلد اول میں لکھتے ہیں

تا حال وجہی کی سولہ غزلیں دستیاب ہوئی ہیں، جن میں قطب مشتری کی آٹھ اور سب رس کی دو غزلوں کے علاوہ مختلف بیاضوں میں درج چھے غزلیں شامل ہیں۔ وجہی کی غزلیات میں جذبات و احساسات اور دل کی کیفیتوں کا سچا اور اثر دار اظہار ملتا ہے۔ اس کے انداز میں روانی اور سادگی پائی جاتی ہے۔ وجہی کی سولہ غزلوں میں چھے ریختنیاں ہیں، جن میں عورتوں کی بولی اور انداز میں عورتوں کے جذبات و احساسات، خاص طور پر جدائی کی کیفیت، کو بھر پور طریقے سے بیان کیا گیا ہے۔

وجہی کے دو مرثیے دستیاب ہوئے ہیں۔ ایک کا عنوان مراثی حضرت حسین ہے، اس میں درد اور سوز کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ دوسرے مرثیے میں ایک ماتم کرنے والی حسینہ کا سر سے پاؤں تک بیان کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے یہ بیان حسن پرستی پر مبنی ہے اور مرثیے کے انداز کے خلاف ہے۔

وجہی کی دس رباعیاں ملتی ہیں، جن میں نو مثنوی قطب مشتری میں ہیں اور ایک سب رس میں۔ ان میں زیادہ تر رباعیاں عشقیہ ہیں۔ ایک آدھ اخلاقی اور عارفانہ ہے۔

This post highlights the literary achievements of Mulla Wajhi, a leading Dakhni poet and prose writer of the Qutb Shahi dynasty. It introduces his major works, including the romantic masnavi Qutb Mushtari, the celebrated prose masterpiece Sab Ras, considered the first allegorical prose work of Urdu, and the debated mystical text Taj-ul-Haqaiq. The post also discusses his lost masnavi, Pari Rukh wa Mah Sima; his Persian Diwan preserved at the Salar Jung Museum; and his available ghazals, marsiyas, and rubaiyat. Overall, it presents Wajhi as a versatile and influential figure who made lasting contributions to early Urdu prose and poetry.