داستانیں ہمارے ادب کا قیمتی خزانہ ہیں۔ سیاسی حالات و واقعات کو جاننے کے لیے تاریخ کی کتابیں کافی ہوتی ہیں، لیکن اگر ہم اپنی تہذیبی تاریخ کو سمجھنا چاہیں تو ہمیں داستانوں کا مطالعہ کرنا ہوگا۔ کھانے پینے، رہن سہن، رسم و رواج، عقائد و قومیں، لباس اور تقاریب، غرض یہ کہ ہند ایران کی طرزِ زندگی کی جیسی سچی اور جیتی جاگتی تصویر ہمیں اردو کی نثری اور منظوم داستانوں کے صفحات میں ملتی ہے، ویسی کسی اور صنفِ ادب میں دیکھنے کو نہیں ملتی۔

اردو داستان نگاری کی تاریخ اور ارتقا پر جب ہم نظر ڈالتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اردو شاعری کی طرح اردو داستان بھی اپنے آغاز کے لیے سرزمین دکن کی مرہونِ منت ہے۔ دکن میں 1635ء میں لکھی جانے والی ملا اسد اللہ وجہی کی تصنیف ”سب رس“ کو اردو کی پہلی نثری داستان ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ اس داستان کو نہ صرف پہلی نثری داستان ہونے کا درجہ حاصل ہے بلکہ اسے اردو کے نثری ادب کی پہلی کتاب بھی کہا جاتا ہے۔

کسی سیستان نامی ملک کا بادشاہ عقل تھا اور اس کا بیٹا دل تھا۔ عقل بادشاہ نے اپنے بیٹے دل کو علاقہ تن پر حکومت کرنے کا اختیار دے رکھا تھا۔ ایک روز شہزادہ دل کے دربار میں عیش و عشرت کی محفل سجی ہوئی تھی۔ شہزادہ دل اپنے دوستوں کے ساتھ شراب نوشی میں مشغول تھا کہ کسی نے آب حیات کا ذکر چھیڑا اور کہا کہ جو اسے پی لے گا وہ ہمیشہ زندہ رہے گا۔ یہ سنتے ہی شہزادہ دل آب حیات کا ایسا شوقین ہوا کہ کھانا پینا چھوڑ کر اسی کی چاہ میں بے چین رہنے لگا۔ شاہی فوج میں ایک جاسوس نظر تھا، جو دنیا دیکھا ہوا تھا۔ وہ شہزادے کی مدد کے لیے آگے آیا۔ اس نے شہزادہ دل کو یقین دلایا کہ وہ آب حیات تلاش کر کے ضرور لائے گا۔ پھر وہ اجازت لے کر روانہ ہوا۔

نظر آب حیات کی تلاش میں گھومتے گھومتے عافیت نامی شہر میں پہنچا جس کا بادشاہ ناموس تھا۔ نظر نے ناموس سے ملاقات کی اور اپنا مقصد بتایا۔ ناموس نے بات سن کر کہا کہ آب حیات کی کوئی حقیقت نہیں، وہ صرف ایک فرضی کہانی ہے۔ اس نے کہا: ”آب حیات کتے سو مرد کے موں (منھ) کا پانی ہے۔“ نظر ناموس کے جواب سے مطمئن نہ ہوا اور آگے بڑھ گیا۔ راستے میں ایک اونچے پہاڑ پر ایک قلعہ نظر آیا۔ پوچھنے پر لوگوں نے بتایا کہ اس ڈونگر (پہاڑ) کا ناؤں (نام) زہر ہے، جہاں ایک بوڑھا زرق رہتا ہے۔ نظر نے زرق کی خدمت میں جا کر اپنا مقصد بیان کیا۔ سن کر بوڑھے زرق نے بھی کہا کہ آب حیات کی کوئی سچائی نہیں۔ اس نے کہا کہ اگر تجھے ہوناچ (ہونا ہی ہے) ہے یو (یہ) پانی تو عاشق کے انچھواں (آنسوؤں) میں ہے۔ یعنی اسے عاشق کے آنسوؤں میں تلاش کر، کیونکہ عاشق کے آنسوؤں میں ایسی تاثیر ہوتی ہے کہ مردہ دل بھی زندہ ہو جائے۔

نظر زرق کے پاس سے روانہ ہوا۔ ایک جنگل میں اسے ایک بہت بڑا قلعہ نظر آیا۔ اس قلعے کا نام ”ہدایت“ تھا اور وہاں ہمت کی حکومت تھی۔ ہمت کے پاس پہنچ کر نظر نے آب حیات کا پتا پوچھا۔ پہلے تو ہمت نے اسے ڈرایا اور مشورہ دیا کہ اس بات کو چھوڑ دے، بلکہ دوسریاں (دوسروں) کو بھی خبر کر کہ بہت لوگاں (لوگ) اس بات میں جیواں (جانیں) گنوا چکے ہیں۔ ہمت کی باتیں سن کر نظر پہلے تو ڈرا، پھر اپنی ہمت مضبوط کی اور کہا کہ میں نے دل سے وعدہ کیا ہے کہ آب حیات لے کر ہی واپس آؤں گا۔ نظر کی یہ دلیری اور ثابت قدمی دیکھ کر ہمت بہت خوش ہوا۔ اس نے اسے گلے لگایا اور کہا کہ تو اپنے مالک کا سچا نمائندہ ہے۔ جب تو اپنے ارادے میں اتنا مضبوط ہے تو تیرا مالک بھی ضرور سچا ہوگا اور وہ آب حیات کے لائق ہے۔ تب ہمت نے نظر کو آب حیات کا پتا بتایا۔

اس نے کہا شہر دیدار کے ایک باغ کا نام رخسار ہے، جس میں ایک چشمہ دہن نام کا ہے۔ اسی چشمے میں آب حیات ملتا ہے۔ شہر دیدار دراصل بادشاہ عشق کی بیٹی حسن کی ملکیت ہے۔ وہاں حسن کی حکومت ہے۔ لیکن شہر دیدار سے پہلے ایک جگہ سنگسار آتی ہے، جس کا نگہبان رقیب ہے۔ بدفطرت رقیب شہنشاہ عشق کا غلام ہے۔ وہ اپنے مالک کے حکم پر اتنی سخت نگرانی کرتا ہے کہ کوئی بھی شہر دیدار تک نہیں پہنچ سکتا۔ لیکن رقیب کے شہر میں میرا بھائی قامت بھی رہتا ہے۔ اگر میں اس کے نام خط لکھ دوں تو وہ تمہاری مدد کرے گا۔ قامت دراصل عاشقوں کو پرکھتا ہے، پھر ان کی مدد کرتا ہے۔

ہمت نے اپنے بھائی قامت کے نام خط لکھ دیا۔ وہ خط لے کر نظر وہاں سے روانہ ہوا اور شہر سنگسار پہنچ گیا۔ لوگوں نے اس اجنبی کو چور اور جاسوس سمجھ کر پکڑ لیا اور رقیب کے سامنے پیش کیا۔ رقیب کی سخت طبیعت دیکھ کر نظر نے خود کو ایک کیمیا گر بتایا اور کہا کہ وہ مٹی کو سونا بنانے کا فن جانتا ہے۔ مگر سونا بنانے کا سارا سامان باغ رخسار اور چشمہ آب حیات میں ہے۔ سونے کے لالچ میں رقیب نظر کو لے کر باغ رخسار کی طرف چل پڑا۔

راستے میں قامت سے ملاقات ہوئی۔ نظر نے موقع پا کر ہمت کی چٹھی قامت کو دے دی۔ اسے پڑھ کر اور نظر سے مل کر قامت بہت خوش ہوا اور اس کی مدد کرنے پر تیار ہو گیا۔ اس نے اپنے ایک غلام کی مدد سے نظر کو باغ کی گھاس کے نیچے اس طرح چھپا دیا کہ وہ رقیب کے ہاتھ نہ آیا اور وہ مجبور ہو کر واپس چلا گیا۔ اس طرح نظر کو رقیب سے چھٹکارا ملا۔ بعد میں نظر باغ رخسار کے نظاروں میں مگن گھوم رہا تھا کہ شہزادی حسن کی پہلی زلف (لٹ) سے اس کی ملاقات ہوئی۔ شروع میں لٹ نظر پر ناراض ہوئی، پھر اس کی پریشانی دیکھ کر اس پر مہربان ہو گئی۔ اس نے اسے باغ رخسار کے بیچ تک پہنچایا اور اپنی زلفوں کے کچھ بال دیے اور کہا کہ جب بھی کسی مشکل میں پھنس جائے تو یہ بال جلا دینا، وہ مدد کے لیے آ جائے گی۔ باغ کے نظاروں میں مست وہ گھوم ہی رہا تھا کہ چند خوبصورت بچوں سے اس کی ملاقات ہوئی جو اس کا دل موہ لیتے تھے۔ اسی دوران بادشاہ عشق کا ایک سپاہی غمزہ وہاں سے گزرا۔ اس نے نظر کو پکڑ لیا، سزائیں دیں، اس کے کپڑے اتار لیے اور اسے مارنے ہی والا تھا کہ اچانک اس کی نظر نظر کے بازو پر بندھے لعل پر پڑی۔ ایسا ہی ایک لعل اس کے اپنے بازو پر بھی بندھا تھا۔ اسے یاد آیا کہ اس کی ماں نے بتایا تھا کہ اس کا ایک بھائی تھا جو بچپن میں اس سے جدا ہو گیا تھا۔ اس طرح دونوں بچھڑے ہوئے بھائی آپس میں مل گئے۔

غمزہ نظر کو اپنے گھر لے آیا اور اس کی خوب خدمت کی۔ یہ خبر شہزادی حسن تک پہنچی۔ حسن نے غمزہ کو بلا بھیجا اور نئے مہمان کے بارے میں پوچھا۔ اس نے بتایا کہ یہ اس کا بھائی ہے جو ایک جوہری ہے اور ہیروں کی پہچان رکھتا ہے۔ یہ سن کر حسن بہت خوش ہوئی۔ اس کے خزانے میں ایک ہیرا تھا جس پر کسی شخص کی تصویر بنی ہوئی تھی اور وہ اس تصویر کے بارے میں جاننے کے لیے بے چین تھی، حقیقت یہ تھی کہ وہ اس تصویر پر دل ہار بیٹھی تھی۔ اس نے نظر کو اپنے دربار میں بلایا اور خزانے سے وہ ہیرا نکال کر اسے دکھایا۔ تصویر دیکھ کر نظر بہت حیران ہوا، کیونکہ وہ شہزادہ دل کی تصویر تھی۔ نظر کو ایک ترکیب سوجھی اور اسے اپنا کام آسان لگنے لگا۔ اس نے دل کی اتنی تعریف کی کہ شہزادی حسن دل پر فریفتہ ہو گئی۔ ایک دن شہزادی حسن نے تنہائی میں نظر کو بلایا اور اپنے دل کی حالت بتا کر اس سے درخواست کی کہ کسی طرح اسے دل سے ملا دے، کیونکہ وہ اس کی دیوانی ہو چکی ہے۔ نظر بڑا چالاک تھا۔ اس نے شہزادی کے دل کی آگ اور تیز کر دی اور مناسب وقت دیکھ کر کہا کہ شہزادہ دل کو یہاں لانا بہت خطرناک ہے، کیونکہ اسے اس کے باپ عقل نے قید کر رکھا ہے، اس لیے کہ وہ آب حیات کی چاہ میں دیوانہ بنا ہوا ہے۔ تب شہزادی نے اپنی وہ انگوٹھی دی جس پر آب حیات کی مہر لگی تھی اور جس کی مدد سے چشمہ آب حیات تک پہنچا جا سکتا تھا۔ اس انگوٹھی کی ایک اور خوبی یہ تھی کہ اگر کوئی اسے اپنے منہ میں رکھ لے تو وہ دوسروں کو نظر نہیں آتا۔ ساتھ ہی حسن نے اپنے ایک غلام خیال کو بھی اس کے ساتھ بھیج دیا۔

خیال اور نظر دونوں ریاست تن پہنچے۔ شہزادہ دل سے ملے اور سارا حال سنا دیا۔ آب حیات کا نقش بھی اسے دکھایا۔ شہزادہ بہت خوش ہوا۔ پھر دل نے نرمی سے حسن کا ذکر چھیڑا اور بتایا کہ وہ اس پر جان دیتی ہے۔ دل کے دل میں بھی اس کے لیے محبت پیدا ہو گئی۔ جب خیال نے شہزادی حسن کی تصویر بنا کر دکھائی تو دل بھی حسن پر غائبانہ عاشق ہو گیا اور شہر دیدار جانے کے لیے تیار ہو گیا۔ لیکن یہ بات وزیر وہم کو پسند نہ آئی۔ اس نے سارا واقعہ بادشاہ عقل کو جا کر بتایا کہ نظر اور خیال شہزادہ دل کو شہزادی حسن، جو شہنشاہ عشق کی بیٹی ہے، کے شہر لے جانا چاہتے ہیں اور مملکت تن کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ شہنشاہ عشق اور بادشاہ عقل کے درمیان پہلے ہی ایک معاہدہ ہو چکا تھا کہ وہ عشق کی اطاعت کرے گا۔ مگر وہم نے اس انداز سے عقل کو بھڑکایا کہ وہ اس کی باتوں میں آ گیا۔ اس نے اپنی فوج بھیج کر نظر اور دل کو قید کر لیا۔

نظر تو خیال کی مدد سے قید سے نکل آیا۔ آزاد ہوتے ہی اس کے دل میں آیا کہ کیوں نہ شہر دیدار جا کر آب حیات پی لے۔ خیال کی مدد سے وہ شہر دیدار پہنچا اور انگوٹھی کی مدد سے چشمۂ آب حیات تک پہنچ گیا۔ جیسے ہی اس نے پانی پینے کے لیے منہ کھولا، انگوٹھی منہ سے نکل کر چشمے میں گر گئی۔ دو باتیں ایک ساتھ ہوئیں: انگوٹھی منہ سے نکلنے کی وجہ سے وہ سب کو نظر آنے لگا، اور چشمے میں انگوٹھی گرنے سے چشمہ غائب ہو گیا۔ رقیب نگرانی پر تھا، اس نے نظر کو دیکھ لیا اور گرفتار کر لیا۔ اسے سخت سزائیں دیں اور اپنی کوٹھری میں بند کر دیا۔

قید میں نظر کو زلف یاد آئی۔ اس نے زلف کا دیا ہوا بال جلایا تو زلف مدد کے لیے آ گئی اور اسے قید سے آزاد کرایا۔ نظر قید سے نکل کر حسن کے دربار میں پہنچا اور سارا حال سنا دیا۔ حسن نے دل کو چھڑانے کے لیے اپنے غلام غمزہ کو نظر کے ساتھ بھیجا اور ایک بڑی فوج بھی ساتھ دی۔ دونوں فوج کے ساتھ مملکت تن کی طرف روانہ ہوئے۔

ادھر بادشاہ عقل نے نظر کے بھاگ جانے کے بعد اپنے ملک کی سرحدوں پر سخت پہرہ لگا دیا تھا۔ تاکہ نظر پھر سے نہ آ سکے اور نہ کوئی شورش کر سکے۔ نظر اور غمزہ سفر کرتے کرتے زہد کے پہاڑ کے قریب پہنچے جہاں پر عقل نے زرق کے بیٹے تو بہ کو نگران مقرر کیا۔ نظر اور غمزہ اپنی فوج کے ساتھ آرام کر رہے تھے۔ یہ دیکھ کر تو بہ نے بادشاہ عقل کو سارا حال سنایا۔ بادشاہ عقل نے حملہ کرنے کا حکم دیا۔ تو بہ نے رات کو اچانک حملہ کیا۔ نظر و غمزہ اور ان کی فوج نیند میں تھی بے خبر تھی اس حملے سے گھبرا گئی۔ لیکن سنبھلنے کے بعد نظر و غمزہ اور ان کی فوج نے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور تو بہ کو شکست ہوئی ۔ تب غمزہ اور نظر نے شہر عافیت پر قبضہ کرنے کے لیے یہ بہتر سمجھا کہ بھیس بدل کر جایا جائے ۔ وہ دونوں تو قلندر بنے لیکن غمزے نے دعائے سیفی کی مدد سے اپنی فوج کو ہرنوں کے جھنڈ میں بدل دیا۔ غمزے کے ہاتھوں اور چالوں ناموس گرفتار ہوا اور اس کی عزت لٹی ۔ عافیت پر قبضہ حاصل کرنے کے بعد دونوں اصل سلطنت تن کی طرف بڑھے تا کہ دل کو آزاد کرایا جا سکے ۔ شکست کھایا ہوا تو بہ بچتے بچاتے چھپتے چھپاتے عقل کے دربار میں پہنچا اور ساری کہانی سنائی ۔ حسن کی بڑی فوج کا بھی ذکر کیا۔ حسن کا لشکر ہے بہت ظلم کرنے والا۔ اس کی بات کو وفائیں، اس کا کام تمام ہے بے اعتبار یہاں داد نہ فریاد تب بادشاہ عقل نے ایک ترکیب سوچی ۔ حسن کو شکست دینے کے لیے اس کے مطلوب یعنی شہزادہ دل کو اسی کے خلاف کھڑا کرنے کا فیصلہ کیا۔ دل کو قید سے نکال کر اسے سمجھا بجھا کے حسن کے خلاف لڑنے پر تیار کیا اور اپنے ایک سپہ سالار صبر کے ساتھ ایک بڑی و طاقتور فوج بھی دل کے ہمراہ کی تاکہ حسن کو شکست دی جا سکے اور حسن کے دل میں دل کے خلاف نفرت پیدا کی جا سکے۔ دل اپنی فوج اور صبر کے ساتھ حسن کی فوج کا مقابلہ کرنے شہر تن سے باہر آیا۔ لیکن میدان جنگ میں فوج کے بجائے ہرنوں کو اچھلتے کودتے دیکھا جو دراصل حسن کی فوج تھی جسے غمزے نے ہرنوں میں بدل دیا تھا، تو لالچ میں آ گیا اور ان کا شکار کرنے ہرنوں کے پیچھے اپنا گھوڑا دوڑا دیا۔ نتیجے میں اپنے مقصد سے دور ہوتا گیا ۔ بادشاہ عقل کو جب خبر ملی تو وہ اپنا بڑا لشکر لیے دل کو بھٹکنے سے روکنے کے لیے چلا آیا۔ لیکن خود بادشاہ بھی ہرنوں کے دھوکے کا شکار ہو گیا۔ غرض شہزادہ دل اور بادشاہ عقل دونوں راستہ بھٹک گئے ۔ ” یہ عشق کا ہے گھاٹ ۔ دل ایک بات عقل ایک بات ۔۔۔ عقل بھی پھندے میں پھنسا دل کے ادھر تے ۔ دل اور عقل دونوں ہوئے بیابان میں۔ دونوں کو ہوئی حیرانی اور پریشانی ۔ غرض کہ نظر اور غمزہ نے دیکھا کہ دل خود بھٹکتا چلا آ رہا ہے اور ان کی مشکل حل ہوتی جا رہی ہے۔ لیکن دونوں نے یہ طے کیا کہ چونکہ پیچھے عقل بادشاہ بھی چلا آتا ہے لہذا مصلحت اسی میں ہے کہ ہم دونوں دل کے سامنے نہ جائیں۔ اسے اسی طرح بھٹکاتے شہر دیدار تک لے آئیں۔ لہذا چال اور فریب سے شہزادہ دل اور بادشاہ عقل کو شہر دیدار تک لے آئے ۔ اور جا کر شہزادی حسن کو اپنی کامیابی کی خبر دی۔ لیکن یہ بھی بتایا کہ بادشاہ عقل بھی اپنے بڑے لشکر کے ساتھ موجود ہے۔ اس لیے دل کو چھڑا لینا آسان نہیں، بہتر ہے کہ شہنشاہ عشق سے فوجی مدد مانگی جائے ۔ تجویز کے مطابق شہزادی حسن نے اپنے باپ کو خط لکھا۔ جھوٹ سچ لکھا۔ اور باپ سے فوجی مدد مانگی۔ حسن کا خط پا کر شہنشاہ عشق نے مہر نام کے کمانڈر کی نگرانی میں ایک بڑی فوج روانہ کی۔ شہر دیدار کے باہر دونوں فوجیں آمنے سامنے ہوئیں۔ دل کو محسوس ہوا کہ جنگ جیتنا ممکن نہیں لیکن میدان چھوڑ کے بھاگنا بھی مرد کی شان نہیں ۔ لہذا اس نے جنگ قبول کی ۔ خوب سخت لڑائی ہوئی۔ اس جنگ میں شہزادی حسن کی طرف سے غمزہ قامت اور زلف نے حصہ لیا۔ چار دن تک جنگ ہوتی رہی۔ پھر شہزادی حسن کو خیال آیا کہ اچانک خون بہہ جائے کہیں اس معرکے میں دل کی جان نہ چلی جائے پھر تو وہ دل کے بغیر زندہ بھی نہ رہ سکے گی ۔ تب اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا اور سوچا کیوں نہ اس جنگ سے بچنے کی کوئی تدبیر نکالی جائے ۔ اُس نے اپنے ایک غلام خال سے مدد اور مشورہ مانگا۔ خال نے کہا کہ کوہ قاف میں ایک تیری ہمزاد رہتی ہے جو عادتوں اور چال چلن میں شکل و کردار میں بالکل تجھ جیسی ہے۔ وہ اس معاملے میں تیری مدد کر سکتی ہے۔ ہمزاد کو بلایا گیا۔ سارا حال سنایا تو اس نے اپنے ایک خونخوار ماہر جنگ ہلال کماندار کو بلایا اور سارا واقعہ سمجھا کے کہا کہ دل کو زندہ گرفتار کر کے لایا جائے ۔ ہلال کماندار نے ایک تیر ایسا مارا کہ لشکر کے لشکر گر گئے ۔ ایک تیر جب دل کے دل پر لگا تو وہ گھوڑے پر گر پڑا۔ شہزادے کو گرتا دیکھ کر اس کی فوج بکھر گئی اور بادشاہ عقل بھی اپنی فوج چھوڑ کر میدان جنگ سے بھاگ کھڑا ہوا۔
ہلال زخمی دل کو لے کر آیا جسے دیکھ کے حسن بے حد پریشان ہوئی ۔ جنگ جیتنے عقل کے بھاگ جانے اور دل کے زخمی ہو کر قیدی بنا لیے جانے کی خبر شہنشاہ عشق کو دی گئی ۔ عشق نے حکم دیا کہ دل کو چاہ ذقن میں قید کر دیا جائے اور سخت پہرہ مقرر کیا جائے ۔ حسب حکم حسن اور ناز (وائی ) نے دل کو چاہ ذقن میں اتارا۔ کچھ دن کی قید کے بعد خود حسن اس کی جدائی میں تڑپنے لگی۔ پھر اس نے سپہ سالار مہر کی بیٹی وفا کو بلایا۔ اپنا حال دل سنایا اور ایک دن شہزادہ دل نظر اور خیال کے ساتھ باغ رخسار میں گھوم رہا تھا کہ چشمہ آب حیات پر ایک سبز پوش بزرگ نظر آئے ۔ نظر نے انہیں پہچان کر شہزادے سے کہا کہ یہ خضر ہیں ان سے آب حیات کا پتا پوچھو۔ شہزادے دل نے ایسا ہی کیا۔ خضر نے دل کے دل کی بات پہچان لی اور آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک رہنمائی دی۔ دل نے اس رہنمائی پر عمل کیا۔ اور اسے کئی لڑکے ہوئے ۔ جو بڑا لڑکا ہے وہ یہی کتاب سب رس ہے جو حقیقت میں آب حیات ہے۔

This post presents a detailed summary of Dastan Sab Ras, the first prose work in Urdu, written in 1635 by Mulla Asadullah Wajhi in the Deccan. It explains the symbolic story of Aql (Reason), Dil (Heart), Ishq (Love), and Husn (Beauty), highlighting the spiritual journey for Aab-e-Hayat and the struggle between reason and love.