انشا اللہ خاں انشا کے ادبی کارنامے

انشا اللہ خاں انشا کا نام اردو اور فارسی شعر و ادب میں بہت اہم سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے نظم اور نثر دونوں میں لکھا ہے اور دونوں میں اپنی یادگار کتابیں چھوڑی ہیں۔ شاعری میں غزل، قصیدہ، مثنوی، ریختی، رباعی جیسی اصناف میں ان کی بہترین تخلیقات ملتی ہیں۔ اس کے علاوہ نثر کی مختلف اصناف جیسے داستان، قواعد اور روز نامچہ میں بھی انہوں نے اپنی اہم تصانیف لکھی ہیں۔ ان میں سے کئی کتابوں کو کسی نہ کسی لحاظ سے سب سے پہلے ہونے کا درجہ حاصل ہے۔ ذیل میں انشا کی تصانیف پر مختصر تبصرہ پیش کیا جا رہا ہے، جس سے ان کی اہمیت کو آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔

انشا کے کلام کے کئی قلمی نسخے بر عظیم ہندو پاک اور یورپ کے مختلف کتب خانوں میں موجود ہیں۔ پہلی بار انشا کے تمام دیوان کو مولوی محمد باقر نے جمع کر کے کلیات انشا کے عنوان سے 1855ء میں شائع کیا تھا۔ کلیات انشا دوسری بار 1876ء میں مطبع نول کشور لکھنو سے شائع ہوا۔ اس کے بعد اس کے بہت سے ایڈیشن شائع ہوئے۔ کلیات انشا میں دیوان اردو، دیوان ریختی، دیوان فارسی اور دیوان بے نقط شامل ہیں۔ انشا کے کلام کا بڑا حصہ غزلوں پر مشتمل ہے۔ اس کے بعد قصیدے اور مثنویاں آتی ہیں۔ اردو غزل اور قصیدہ وہ اصناف سخن ہیں جن میں انشا نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا بہترین اظہار کیا ہے۔ انشا کے دیوان اردو میں 427 غزلیں شامل ہیں۔ ذیل میں ان کی غزلوں کے چند اشعار بطور نمونہ درج کیے گئے ہیں۔

انشا نے غزل کے بعد جس صنفِ سخن پر زیادہ توجہ دی ہے وہ قصیدہ ہے۔ انشا کے کلیات میں اردو کے کل دس قصیدے ہیں۔ ایک قصیدہ محمد میں ہے۔ تین قصیدے منقبت میں ہیں، جن میں ایک بے نقط بھی ہے۔ شاہ عالم ثانی، شاہزادہ سلیمان شکوہ، بادشاہ انگلستان جارج سوم اور دولھن جان کی تعریف میں ایک ایک قصیدہ ہے۔ ان کے علاوہ دو قصیدے یمین الدولہ نواب سعادت علی خاں کی تعریف میں ہیں۔ انشا کے فارسی دیوان میں کل آٹھ قصیدے ہیں۔ ایک قصیدہ حضرت امیر اور امام علی موسی کی منقبت میں ہے۔ دو قصیدے نواب الماس علی خاں کی تعریف میں، تین قصیدے شہزادہ سلیمان شکوہ کی تعریف میں اور ایک قصیدہ نواب سعادت علی خاں کی تعریف میں ہے۔ اس طرح انشا کے اردو اور فارسی میں کل اٹھارہ قصیدے ملتے ہیں۔ ذیل میں نواب سعادت علی خاں کی تعریف میں لکھے گئے قصیدے کے یہ اشعار ملاحظہ ہوں، جو انہوں نے عرض مدعا میں کہے ہیں۔

ایک دوسرے قصیدے میں انشا نے دعا کے لیے جو اشعار کہے ہیں وہ بھی قابل غور ہیں ۔ مثال کے طور پر ان میں سے ایک شعر ملاحظہ ہو

انشا نے غزل اور قصیدے کے علاوہ مثنویاں بھی لکھی ہیں۔ ان کی جملہ گیارہ مثنویاں دستیاب ہوئی ہیں، جن کے نام حسب ذیل ہیں

جمیل جالبی کے مطابق انشا کی یہ تمام مثنویاں معمولی درجے کی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اس کام میں ان کا دل زیادہ نہیں لگتا تھا، البتہ ان کی نئی بات پسند کرنے والی طبیعت کی جھلک کہیں کہیں ضرور نظر آتی ہے۔ عشق و محبت کا موضوع ان کے مزاج کے مطابق نہیں تھا۔ اسی لیے ان کی عشقیہ مثنویاں بھی زیادہ اثر نہیں چھوڑتیں۔ لیکن تاریخی اہمیت کے لحاظ سے مرغ نامہ سعادت علی خاں، رنگین کے فرس نامہ کی طرح ایک ایسی مثنوی ہے جس میں مرغ بازی کے فن اور اس کے اصول و قواعد کو بیان کیا گیا ہے۔

انشا کے کلیات میں ایک دیوان ریختی بھی ہے۔ اس میں غزلیات، رباعیات، قطعات اور مستزاد شامل ہیں۔ ان سب میں انشا نے عورتوں کے جذبات کو عورتوں کی خاص بولی اور زبان میں بیان کیا ہے۔ انشا کی ریختی غزلوں کے موضوعات ہوس رانی، وصل، جنس اور چھیڑ خانی وغیرہ ہیں۔ ان میں جنسی اور شہوانی جذبات کو کھلے لہجے اور مزے دار زبان میں اس طرح پیش کیا گیا ہے کہ لوگ ان سے لطف حاصل کر سکیں۔ ریختی عورت کے روپ کی نقل کہلاتی ہے، اسی لیے یہ شاعری سچے جذبات سے خالی ہوتی ہے۔ ریختی میں صرف لطف لینے کے لیے شاعری کی جاتی ہے۔ اس لیے انشا کی ریختی کی شاعری میں کچھ بناوٹ کا احساس ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر انشا کے چند اشعار ملاحظہ ہوں، جو ریختی میں کہے گئے ہیں۔

انشا کے دیوان میں دیوان ریختی کے علاوہ ایک دیوان دیوان بے نقط بھی ہے۔ اس دیوان میں چند غزلیں اور کچھ رباعیات اور مخمس شامل ہیں۔ اس میں انشا نے ایسے الفاظ استعمال کیے ہیں جو بے نقط ہوں۔ جب شاعر خود پر یہ پابندی لگا لے تو یہ مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ کم الفاظ کی مدد سے ایسے شعر کہے جن میں جذبہ، احساس یا خیال اچھی طرح ظاہر ہو سکے۔ ڈاکٹر جمیل جالبی کا کہنا ہے کہ انشا کا کلام ویسے بھی جذبہ اور احساس سے خالی ہے اور غیر منقوطہ کلام میں یہ کمی اور زیادہ نظر آتی ہے۔ انشا نے اس صنعت کو نعت، غزل، مثنوی، رباعی وغیرہ میں استعمال کر کے اپنی شاعری کی مہارت ضرور دکھائی ہے، لیکن اس میں وہ لطف نہیں ملتا جو انشا کی عام غزلوں میں ملتا ہے۔

اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ کلیات انشا میں کلاسیکی شاعری کی تقریباً تمام اصناف موجود ہیں، جس سے اس بات کا اچھی طرح اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ انشا نے شاعری کی زیادہ تر اصناف میں طبع آزمائی کی اور ہر صنف میں کامیابی بھی حاصل کی۔

دریائے لطافت اردو زبان و قواعد کی پہلی کتاب ہے، جس کو انشا نے فارسی زبان میں لکھا تھا، لیکن اس کتاب کا موضوع اردو زبان و ادب اور اس کی قواعد ہے۔ اس میں نثر اور نظم کی جو مثالیں دی گئی ہیں وہ بھی اردو زبان ہی سے لی گئی ہیں۔ دریائے لطافت انشا نے نواب سعادت علی خاں کی فرمائش پر 1805 میں لکھنا شروع کیا اور مرزا قتیل کی مدد سے 1807 میں مکمل کیا۔ یہ کتاب انشا کے انتقال کے تقریباً تینتالیس سال بعد 1850 میں مطبع عالم، مرشد آباد سے شائع ہوئی، جو 476 صفحات پر مشتمل تھی۔ اس کتاب کا مقدمہ، شروع کے 309 صفحے اور آخر کے 14 صفحات انشا نے لکھے اور 163 صفحے مرزا قتیل نے لکھے ہیں۔ یہ دریائے لطافت کا پہلا مطبوعہ نسخہ ہے۔ اس کا دوسرا ایڈیشن مولوی عبدالحق نے1916 میں الناظر پریس لکھنو سے چھپوا کر انجمن ترقی اردو، اورنگ آباد سے شائع کیا۔ اس کتاب کا اردو ترجمہ اورنگ آباد ہی سے 1933 میں پنڈت برج موہن دتاتریہ کیفی نے شائع کیا۔ کیفی کا ترجمہ شدہ دوسرا ایڈیشن انجمن ترقی اردو ہند، دہلی نے 1988 میں شائع کیا۔ دریائے لطافت کل نو ابواب پر مشتمل ہے اور ہر باب میں کئی ذیلی ابواب قائم کیے گئے ہیں۔

جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے کہ اس کتاب کو دو لوگوں نے مل کر مکمل کیا تھا، اس لیے ان دونوں نے اس کے دو دو نام تجویز کیے تھے۔ انشا نے ارشاد ناظمی اور بحر السعادت اور مرزا قتیل نے دریائے لطافت اور حقیقتِ اردو نام رکھنے کا مشورہ دیا تھا۔ آخر میں یہ کتاب دریائے لطافت کے نام سے مشہور ہوئی اور اردو ادب میں اردو کی پہلی قواعد کی کتاب کے طور پر جانی اور پہچانی گئی۔

دریائے لطافت کی خاص بات یہ ہے کہ اس کتاب میں پہلی بار اردو زبان کے مزاج کو سامنے رکھ کر اس کے قواعد اور اصول بیان کیے گئے ہیں۔ اسے پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ بے شک اردو ایک الگ زبان ہے، جو عربی، فارسی، ترکی وغیرہ کے اثرات کے باوجود اپنی الگ شناخت اور اپنا الگ مزاج رکھتی ہے۔ اردو زبان کے بارے میں انہی اصول و قواعد کو اپنا کر زبان کو صحیح معنوں میں آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ مولوی عبدالحق دریائے لطافت کی اسی خوبی پر روشنی ڈالتے ہوئے اس کے مقدمے میں لکھتے ہیں۔

اردو کی نثری تصانیف میں لطائف السعادت انشا کی ایک اہم تصنیف ہے، جسے انشا نے فارسی زبان میں لکھا تھا۔ اس کتاب میں انشا نے نواب سعادت علی خاں کے لطیفے اور نواب کے دربار میں ہونے والے روزمرہ کے دلچسپ واقعات کو جمع کیا ہے۔ اس کتاب کا ایک نسخہ برٹش لائبریری، لندن میں محفوظ ہے۔ اسی نسخے کی مدد سے ڈاکٹر آمنہ خاتون نے اس کتاب کا اردو میں ترجمہ کیا اور اس میں فارسی کے اصل متن کو بھی شامل کر کے ایک تفصیلی مقدمے کے ساتھ شائع کیا۔ آمنہ خاتون کے شائع کردہ کتاب میں کل 55 لطیفے شامل ہیں۔ نواب سعادت علی خاں کے لطیفوں کی خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر جمیل جالبی لکھتے ہیں۔

انشا اللہ خاں انشا روز نامچہ بھی لکھا کرتے تھے، جس میں وہ اپنے روزمرہ کے حالات اور واقعات کو لکھتے تھے۔ یہ روز نامچہ انہوں نے ترکی زبان میں لکھا تھا، جس کا ڈاکٹر سید نعیم الدین نے اردو میں ترجمہ کر کے اپنے مقدمے کے ساتھ شائع کیا۔ انشا نے اس روز نامچے میں تقریباً ایک مہینے کی روداد لکھی ہے۔ انشا کے اس روز نامچے کا ایک نسخہ رضا لائبریری، رام پور میں محفوظ ہے، جس کا شروع اور آخر کا حصہ مکمل نہیں ہے۔ یہ مخطوطہ چوبیس اوراق یعنی اڑتالیس صفحات پر مشتمل ہے۔ امتیاز علی عرشی کے مطابق کتاب کے شروع اور آخر کے حصے مکمل نہ ہونے کی وجہ سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ انشا نے یہ روز نامچہ کب لکھنا شروع کیا اور کب تک لکھتے رہے۔ لیکن ڈاکٹر جمیل جالبی نے اس کی وضاحت اس طرح کی ہے۔ اقتباس ملاحظہ ہو۔

روز نامچہ میں چوں کہ روز کے حالات و واقعات درج کیے جاتے ہیں اس لیے روز نامچے سے اس عہد اور وقت کے حالات بہ آسانی معلوم ہو جاتے ہیں۔ انشا کے روز نامچے سے ان کے بعض ذاتی اور اس وقت کے سماجی حالات بھی یہ خوبی معلوم ہوتے ہیں۔

مثال کے طور پر انشا کے روز نامچے ہی سے پتہ چلتا ہے کہ 1223ھ میں ان کی والدہ حیات تھیں ۔ یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ انشا مر شد آباد میں پیدا ہوئے تھے۔ اسی طرح ان کے حالات زندگی کے بہت سے واقعات ان کے روز نامچے ہی سے معلوم ہوئے۔

مطر المرام، قصیدہ بے نقط طور الکلام کی شرح ہے، جسے انشا اللہ خاں انشا نے حضرت علی کی منقبت میں لکھا تھا۔ اس شرح کو انشا نے فارسی زبان میں لکھا تاکہ اس کے لطائف اور خوبیاں قارئین کے سامنے آسکیں۔ چونکہ قصیدہ بے نقط تھا، اس لیے اس کی شعری خوبیاں اور حضرت علی کی شان و عظمت اس طرح قارئین تک نہیں پہنچ پائی تھیں، جس طرح انشا پہنچانا چاہتے تھے۔ مطر المرام کا ایک مخطوطہ ریلینڈ لائبریری، مانچسٹر میں محفوظ ہے، جو 1233ھ کا ہے۔ ڈاکٹر جمیل جالبی مطر المرام کے بارے میں لکھتے ہیں۔

رانی کیتکی کی کہانی انشا اللہ خاں انشا کے تمام ادبی کاموں میں سب سے اہم کارنامہ ہے۔ اس کہانی کو لکھنے کے لیے انشا نے باہر کی زبانوں (عربی، فارسی، ترکی وغیرہ) کے الفاظ استعمال کرنے سے پرہیز کیا ہے۔ ایسا تجربہ انشا نے شاعری میں پہلے بھی کیا تھا۔ انشا نے ایک مثنوی ”مثنوی در لہجہ اردو” کے عنوان سے لکھنا شروع کی تھی، جس میں انہوں نے عربی، فارسی اور ترکی کے کسی بھی لفظ کا استعمال نہیں کیا تھا۔ یہ مثنوی 51 اشعار پر مشتمل ہے، جو نامکمل اور ادھوری ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ انشا کا یہ تجربہ شاعری میں کامیاب نہ ہو سکا اور انہوں نے نثر میں رانی کیتکی کی کہانی لکھ کر اپنے اس تجربے کو مکمل کیا اور اس میں وہ کامیاب بھی ہوئے۔ اس کہانی کو لکھنے کی وجہ بتاتے ہوئے انشا اللہ خاں انشا خود لکھتے ہیں۔

اس تجربے میں انشا بہت حد تک کامیاب نظر آتے ہیں، لیکن خالص مهند الفاظ استعمال کرنے کی وجہ سے تحریر بو جھل ہوگئی ہے، جس کی وجہ سے اسلوب بے اثر اور کمزور ہو گیا ہے۔ اس تعلق سے جمیل جالبی کا یہ اقتباس ملاحظہ ہو

مختصر یہ کہ اس کہانی کی اہمیت اپنی جگہ یقینی ہے۔ ویسے تو اس میں ایک عام قصے کو پیش کیا گیا ہے۔ اس دور میں اس طرح کی بہت سی کہانیاں مل جاتی ہیں، لیکن اس کی اہمیت اس کی کہانی کی وجہ سے نہیں بلکہ اس تجربے کی وجہ سے ہے، جسے انشا نے اس کہانی کی تخلیق میں استعمال کیا ہے۔ یہ ایک مشکل کام ضرور تھا، لیکن ناممکن نہیں۔ انشا نے جو بات دل میں ٹھانی تھی، اسے پورا کر کے دکھا دیا۔ یہاں انشا کا یہ شعر ملاحظہ کیجیے، جو انہوں نے رانی کیتکی کی کہانی کے تعلق سے کہا تھا۔

سلک گوہر انشا اللہ خاں انشا کی دوسری کہانی ہے، جس میں انہوں نے ایک نیا تجربہ کیا ہے اور اس تجربے میں وہ کامیاب بھی ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس کہانی کو لکھنے میں اردو کے ایسے حروف کا استعمال کیا ہے، جو بغیر نقطے والے ہیں۔ اردو کے حروف تہجی میں اٹھارہ (18) حروف بغیر نقطے کے ہیں۔ انشا نے ٹ، ڈ، ڑ کو بھی نقطے والے حروف میں شمار کیا ہے، کیونکہ ان کے زمانے میں ان حروف کو ط کے بجائے چار نقطوں سے لکھا جاتا تھا۔ اس طرح اردو کے حروف تہجی میں جملہ اٹھارہ حروف ہی باقی رہ جاتے ہیں۔ اردو کے حروف تہجی کا ایک بڑا حصہ چھوڑ کر ایک مکمل کہانی بنانا ایک مشکل کام تھا لیکن انشا نے یہ کام کر کے دکھایا ہے۔ انشا کہانی کو مکمل کرنے میں کامیاب ضرور ہوئے ہیں لیکن اس کہانی میں وہ روانی اور وہ مزہ نہیں ہے، جو ایک اچھی کہانی میں ہونا چاہیے۔ ڈاکٹر جمیل جالبی مسلک گوہر کے بارے میں لکھتے ہیں۔

ڈاکٹر جمیل جالبی کی یہ بات صحیح لگتی ہے۔ مسلک گوہر کا پڑھنا بہت مشکل ہے۔ اس کتاب کو پڑھتے ہوئے بوریت محسوس ہوتی ہے، اور دل ایک دم سے الجھ جاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جملے ایک دوسرے سے بالکل جڑے نہیں ہیں۔ اکثر جگہوں پر مطلب سمجھ میں ہی نہیں آتا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم کوئی عام نثر نہیں پڑھ رہے بلکہ کوئی بھاری بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ انشا اللہ خاں انشا نے الفاظ کو بغیر نقطے والے بنانے کے لیے اکثر لفظ بدل دیا ہے۔ ایک جگہ انہوں نے اپنے نام کو بغیر نقطے والے بنانے کے لیے انشا اللہ کی جگہ اراد اللہ لکھا ہے، اسی طرح اپنے والد کے نام ماشا اللہ کو مع اللہ لکھا ہے۔ اس طرح نام بدلنے سے معنی نہیں بدلتے۔

سلک گوہر کا اصل نسخہ بہت کم دستیاب ہے۔ اس کا ایک نسخہ رضا لائبریری، رام پور میں محفوظ ہے اور دوسرا نسخہ جموں یونیورسٹی کی لائبریری میں ہے۔ عابد پیشاوری نے اپنے ایک مضمون میں اندازاً سلک گوہر کو 1215ھ کے قریب کی تصنیف کہا ہے۔ ڈاکٹر جمیل جالبی کے مطابق عابد پیشاوری نے صرف اندازہ لگایا ہے اور اس کی بنیاد کسی مضبوط دلیل پر نہیں ہے۔ امتیاز علی خاں نے رام پور میں محفوظ سلک گوہر کے نسخے کو ترتیب دے کر اپنے مقدمے کے ساتھ 1948ء میں شائع

کیا۔

انشا اللہ خاں انشا نے دو داستانیں لکھی ہیں، جن کو اردو ادب کی سب سے مختصر داستانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ پہلی داستان کہانی رانی کیتکی اور اودے بھان کی ہے۔ اس داستان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں انشا نے خالص ہندی الفاظ استعمال کیے ہیں اور عربی فارسی کے الفاظ سے بچنے کی کوشش کی ہے۔ اس کے باوجود اس داستان میں کہانی کے تمام ضروری عناصر اچھی طرح موجود ہیں۔ اس میں عشق کی کہانی ہے۔ راجہ، رانی، راج کمار اور راجکماری بھی ہیں۔ بھبھوت کا بھی ذکر ہے، جسے آنکھ میں لگانے سے انسان سب کچھ دیکھ سکتا ہے لیکن اسے کوئی نہیں دیکھ سکتا۔ اس میں جنگ بھی ہے اور حیرت انگیز اور غیر معمولی واقعات بھی ہیں۔ پریاں بھی ہیں اور رقص اور موسیقی کی محفل بھی ہے۔ یہاں تک کہ ایک اچھی داستان میں جو عناصر ضروری ہوتے ہیں وہ سب اس میں پوری طرح موجود ہیں۔ مولوی عبدالحق نے داستان رانی کیتکی اور اودے بھان کی کے پیش لفظ میں اس داستان کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے درج ذیل نکات بیان کیے ہیں۔

اس داستان کا مطالعہ نہ صرف دلچسپی کا باعث ہے بلکہ ہمیں قدیم اردو لٹریچر ، طرز معاشرت اور رسومات وغیرہ سے روشناس کراتا اور اس شاندار زمانہ کی یاد تازہ کرواتا ہے جب ہندو مسلمان بھائی بھائی اور شیرو شکر تھے۔ ( ڈاکٹر مولوی عبدالحق (مرتب)، داستان رانی کیتکی اور کنور اودے بھان کی ہیں 9-6)

انشا اللہ خاں انشا کی دوسری داستان سلک گوہر ہے۔ رانی کیتکی کی کہانی کی طرح اس داستان میں بھی انشا نے ایک نیا تجربہ کیا ہے۔ اس داستان کی خاص بات یہ ہے کہ یہ داستان غیر منقوط ہے، یعنی پوری داستان میں نقطے والے حروف استعمال نہیں کیے گئے ہیں۔ اس وجہ سے یہ داستان بھاری اور کم دلچسپ ہو گئی ہے۔ امتیاز علی عرشی سلک گوہر کے مقدمے میں لکھتے ہیں۔

رواج زمانے کے مطابق عربی و فارسی کے ذخیرہ الفاظ ہی کی دریوزہ گری کی ۔ جن لفظوں اور ترکیبوں سے کان آشنا نہ ہوں ان کا مطلب اگر سمجھ بھی لیا جائے تب بھی لطف حاصل نہیں ہوتا ۔ ان حالات میں یہ اندازہ لگانا دشوار نہیں کہ داستان میں کس قدر بے لطفی و نا ہمواری پیدا ہوگئی ہوگی ۔

گیان چند جین سلگ گوہر کے مطالعے کے متعلق اردو کی نثری داستانیں میں لکھتے ہیں

سلک گوہر کے کم دلچسپ ہونے اور مشکل ترکیبوں کے استعمال کے باوجود اس داستان کی ایک تاریخی اہمیت ہے۔ یہ اردو کا پہلا غیر منقوطہ قصہ ہے۔ اس سے پہلے عربی زبان میں اس طرح کی مثالیں ملتی ہیں۔ عربی زبان کے ادیب فیضی کی دو کتابیں سواطع الالہام اور موارد الکلم نثر میں اور دیوان مارح نظم فارسی میں ملتے ہیں، جو غیر منقوطہ ہیں۔ انشا کے کلیات میں پورا اردو دیوان بے نقطہ کے علاوہ ایک فارسی مثنوی، ایک قصیدہ طور الکلام اور کچھ رباعیات بھی اس طرز میں ملتی ہیں، لیکن اردو میں سلک گوہر بے نقط نثر کی پہلی مثال ہے۔

This post discusses the Literary achievements of Insha Allah Khan Insha, an important figure in Urdu and Persian literature. It briefly outlines his major works, including Kulliyat-e-Insha, Darya-e-Latafat, Rani Ketki Ki Kahani, and Silk-e-Gohar. The article highlights his contributions to poetry, prose, linguistics, and experimental writing, showing how his works played a significant role in the development of Urdu literature.