رانی کیتکی کی کہانی کا خلاصہ
کنور اودے بھان کسی دیس کے راجا سورج بھان کا اکلوتا بیٹا تھا۔ وہ جب سولہ برس کا ہوا تو ایک دن گھوڑے پر سوار ہو کر اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ سیر کے لیے نکلا۔ راستے میں اسے ایک ہرنی دکھائی دی۔ کنور اودے بھان نے اس ہرنی کے پیچھے اپنا گھوڑا دوڑا دیا اور اپنے ساتھیوں سے الگ ہو گیا۔ کنور اودے بھان ہرنی کا پیچھا کرتا رہا اور اسے وقت کا پتہ ہی نہیں چلا۔ آخر کار شام ہوگئی۔ کنور اودے بھان بھوکا پیاسا ٹھہرنے کی جگہ ڈھونڈنے لگا۔ اچانک اسے ایک باغ نظر آتا ہے۔ وہاں چالیس پچاس لڑکیاں جھول رہی تھیں۔ وہ رانی کیتکی اور اس کی سہیلیاں تھیں۔ کنور کو دیکھتے ہی وہ گھبرا گئیں۔ ہر طرف تو کون، تو کون کا شور مچ گیا۔ کنور اودے بھان اور رانی کیتکی کی نگاہیں ملیں اور نگاہیں ملتے ہی دونوں ایک دوسرے پر عاشق ہو گئے لیکن سہیلیوں کو دکھانے کے لیے رانی کیتکی کنور بھان پر برس پڑتی ہے، اس طرح آ جانا بھلا کیا کہتے ہیں؟ یک نہ یک جو تم یہاں آ گرے یہ نہ سوچا کہ یہاں لڑکیاں اپنی جھول رہی ہیں۔ اجی تم جو اس روپ کے ساتھ بے فکر چلے آئے ہو، ٹھنڈی ٹھنڈی چھاؤں میں چلے جاؤ۔ تب انھوں نے آہ بھر کر کہا کہ اتنی سختی نہ کیجیے۔ میں سارے دن کا تھکا ہوا ایک پیڑ کی چھاؤں میں رات گزار کر پڑ رہوں گا۔ بڑے تڑکے اندھیرے میں اٹھ کر جدھر کو راستہ ملے گا چلا جاؤں گا۔ کنور کی ایسی باتیں سن کر رانی کیتیکی اسے سناتے ہوئے اپنی سہیلیوں سے بولی ان کو کہہ دو جہاں جی چاہے اپنے پڑ رہیں اور جو کچھ کھانے پینے کو مانگیں سو انہیں پہنچا دو۔ گھر آئے کو کسی نے آج تک مار نہیں ڈالا۔ پر ہمارے اور ان کے بیچ میں کچھ اوٹ سی کپڑے لتے کی کر دو۔ اتنا سہارا پا کر کنور بھان نے باغ میں ایک پیڑ کے نیچے ٹھہر تو گیا لیکن اس کے دل میں رانی کیتکی بس چکی تھی اس لیے اسے نیند نہیں آئی۔ ادھر رانی کیتیکی بھی بے چین تھی، اسے بھی نیند نہیں آرہی تھی۔ اس نے اپنی سب سے قریبی سہیلی مدن بان کو جگا کر اپنی حالت بتائی اور اسے اپنے ساتھ لے کر کنور بھان کے پاس پہنچ جاتی ہے۔ مدن بان اپنے اور رانی کے بارے میں کنور کو بتاتی ہے اور پھر اس سے اس کے بارے میں پوچھتی ہے۔ کنور اپنے بارے میں بہت تفصیل سے انہیں بتاتا ہے۔ اس کے بعد مدن بان کے مشورے سے دونوں انگوٹھیاں بدل لیتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزارنے کا وعدہ بھی کرتے ہیں۔ صبح کو رانی کیتکی اپنی سہیلیوں کے ساتھ اپنے محل کی طرف چلی جاتی ہے اور کنور اپنے بچھڑے ہوئے ساتھیوں کے پاس چلا جاتا ہے۔
کنور بھان اپنے ساتھیوں کے پاس چلا تو جاتا ہے لیکن ہر وقت اسے رانی کیتکی کی یاد آتی رہتی ہے۔ نہ تو اسے کھانا پینا اچھا لگتا ہے اور نہ ہی اسے چین کی نیند آتی ہے۔ دھیرے دھیرے یہ بات مہاراج اور مہارانی تک پہنچ جاتی ہے۔ انہوں نے کنور بھان سے اس بے چینی کی وجہ جاننی چاہی لیکن وہ شرم کی وجہ سے کچھ نہیں بتاتا۔ آخر کار اس نے اپنے دل کی بات ایک کاغذ پر لکھ کر ساتھ میں رانی کی دی ہوئی انگوٹھی اور اقرارنامہ راجہ کے پاس بھجوا دیتا ہے۔ جب راجہ سورج بھان کو حقیقت کا علم ہوا تو اس نے رانی کیتکی کے والدین کو شادی کا پیغام بھیج دیا، لیکن رانی کے والدین شادی کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ جب یہ خبر راجہ سورج بھان کو ملتی ہے تو وہ جگت پرکاش پر حملہ کر دیتا ہے، دونوں میں سخت لڑائی ہونے لگتی ہے۔ اس دوران راجہ جگت پرکاش نے اپنے گرو جوگی مہندر گر کو، جو کیلاش پر رہتے تھے، اپنی پریشانی لکھ بھیجی۔ وہ اپنے نوے لاکھ سپاہیوں کو لے کر آندھی اور طوفان کی طرح آ پہنچا اور آتے ہی نہ صرف راجا سورج بھان، رانی لکشمی اور کنور اودے بھان کو ہرن بنا ڈالا بلکہ ان کی تمام فوج کو بھی ہرن بنا دیا۔ جاتے جاتے گرو جی کچھ بھبھوت دے جاتے ہیں۔ بھبھوت کی خوبی یہ ہے کہ اسے آنکھوں میں لگانے والا سب کو دیکھ سکتا ہے، لیکن خود کسی کو نظر نہیں آتا۔
کچھ وقت گزرنے کے بعد رانی کیتکی کسی طرح اپنی ماں سے وہ بھبھوت حاصل کر لیتی ہے۔ پھر مدن بان کو بہلا پھسلا کر اپنے ساتھ لے جانا چاہتی ہے، لیکن اس کا انداز بدلا ہوا دیکھ کر ایک دن چپکے سے بھبھوت آنکھوں میں لگا کر کنور کی تلاش میں نکل پڑتی ہے۔ ادھر اس کے ماں باپ بہت پریشان ہو جاتے ہیں۔ آخرکار مدن بان بھی بھبھوت لگا کر اپنی سہیلی کو ڈھونڈنے نکل پڑتی ہے۔ دونوں سہیلیوں کی ملاقات ایک جنگل میں ہوتی ہے۔ مدن بان رانی کیتکی کو گھر لے آتی ہے۔ راجہ جگت پرکاش بیٹی کی ضد کے آگے ہار مان جاتا ہے اور پھر اپنے گرو کو یاد کرتا ہے۔ گرو جی کے بہت تلاش کرنے کے باوجود بھی کنور بھان اور اس کے والدین انہیں نہیں ملتے۔ مہندر گر اپنے گرو راجہ اندر سے مدد مانگتے ہیں اور ان کی مدد سے کنور اودے بھان، اس کے والدین اور اس کی تمام فوج کو دوبارہ اپنی اصلی صورت میں لے آتے ہیں۔ اندر کنور کو اپنا بیٹا مان لیتا ہے۔ پھر رانی کیتکی اور کنور اودے بھان دونوں کی شادی کرا دیتا ہے۔ آخر کار کہانی اس دعا پر ختم ہوتی ہے کہ جیسے ان لوگوں کے دن پھرے اور بچھڑے ہوئے ملے، ویسے ہی ہمارے تمہارے سب کے دن بھی پھر جائیں۔
رانی کیتکی کی کہانی کی تحقیق و تدوین
رانی کیتکی کی کہانی کے زمانۂ تصنیف میں محققین کے درمیان اختلاف ہے۔ چونکہ اس داستان کو ہندی کی پہلی کہانی بھی کہا جاتا ہے، اس لیے یہاں ہندی کے محققین کی رائے جاننا بھی ضروری ہے۔ ہندی کے محققین اس کہانی کا سنۂ تصنیف الگ الگ بتاتے ہیں۔ ڈاکٹر چھوی ناتھ تر پاٹھی نے 1803 بتایا ہے، ڈاکٹر پر مانند سری واستو نے 1800-1810 کے درمیان کا زمانہ کہا ہے، اور پنڈت رام چندر شکل 1798 سے 1803 کے درمیان کا اندازہ لگاتے ہیں، لیکن کسی نے بھی آخری اور پکا فیصلہ نہیں کیا ہے۔
اردو کے محققوں نے زیادہ تر اس داستان کا سنۂ تصنیف 1803ء مانا ہے۔ مولوی عبدالحق، جو اردو میں رانی کیتکی کی کہانی کے پہلے مرتب ہیں، اپنے مقدمے میں لکھتے ہیں۔
اس داستان کا ذکر مدت سے سنتے آتے تھے لیکن ملتی نہیں تھی۔ آخر ایشیا تک سوسائٹی آف بنگال کی پرانے جلدوں میں اس کا پتہ لگا۔ مسٹر کلنٹ پرنسپل لا مارٹن کالج لکھنو کو اس کا ایک نسخہ دستیاب ہوا تھا، جسے انہوں نے سوسائٹی کے رسالے میں طبع کرا دیا۔ 1852ء میں ایک حصہ طبع ہوا اور دوسرا حصہ 1855ء میں لیکن بہت غلط چھپی تھی۔ اردو میں شائع ہونے کے بعد میرے عنایت فرما جناب پنڈت منوہر لال زتشی ایم اے نے از راہ کرم اس کا ایک نسخہ جو کبھی لکھنؤ میں ناگری حروف میں چھپا تھا عنایت فرمایا۔ اس سے مقابلہ کر کے اور جہاں تک مجھ سے ممکن ہوا اس کی تصحیح کی اور اب شاید ایک آدھ مقام کے سوا کہیں کوئی لفظ مشتبہ باقی نہیں رہا۔ (ڈاکٹر مولوی عبدالحق (مرتب)، داستان رانی کیتکی اور کنور اودے بھان کی ، ص 5)
اس داستان کے سوسائٹی کے رسالے میں شائع ہونے کے بعد مولوی عبدالحق نے اپنے مقدمے کے ساتھ رسالہ ”اردو“ بابت اپریل 1926 میں کچھ درستگی کے بعد دوبارہ شائع کیا۔ اس اشاعت کے بعد مولوی عبدالحق کے دوست منوہر لال زتشی نے انہیں ایک نسخہ دیا، جو کسی زمانے میں دیوناگری میں لکھنو سے شائع ہوا تھا۔ اس نسخے کی مدد سے مولوی عبدالحق نے اس میں مزید درستگی کر کے 1933 میں اس داستان کو کتابی صورت میں شائع کیا۔ اس کے بعد 1955 میں اس کا دوسرا ایڈیشن امتیاز علی خاں عرشی نے کراچی سے شائع کرایا۔ پھر 1975 میں اس کا تیسرا ایڈیشن اور 1986 میں چوتھا ایڈیشن سید قدرت نقوی کی مزید درستگی اور فرہنگ کے ساتھ انجمن ترقی اردو پاکستان، کراچی سے شائع ہوا۔ 1971 میں مجلس ترقی ادب، لاہور نے انتظار حسین کی ترتیب اور مقدمے کے ساتھ اسے پھر شائع کیا۔ اس کتاب کو کئی لوگوں نے مرتب کر کے شائع کیا ہے، جن میں سید سلیمان حسین، بابو شیام سندر داس، پروفیسر افغان اللہ خاں، پروفیسر عبدالستار دلوی، پروفیسر صاحب علی وغیرہ کے نام شامل ہیں۔ رانی کیتکی کی کہانی کا تازہ ترین ایڈیشن رام پور سے شائع ہوا، جسے ڈاکٹر شریف احمد قریشی نے 2017 میں مرتب کر کے اپنے مقدمے کے ساتھ شائع کیا۔
رانی کیتکی کی کہانی کا موضوعاتی مطالعہ
رانی کیتیکی کی کہانی ایک اپنی لکھی ہوئی داستان ہے۔ یہ اس وقت لکھی گئی جب فورٹ ولیم کالج میں بہت زور و شور سے مختلف زبانوں کی پرانی داستانوں کا ترجمہ کیا جا رہا تھا یا پھر ان داستانوں کو اردو کی شکل دی جا رہی تھی۔ رانی کیتکی کی کہانی کسی پرانی داستان کا ترجمہ تو نہیں ہے لیکن اس داستان میں جن موضوعات کو لکھا گیا ہے وہ بالکل نئے بھی نہیں ہیں بلکہ اس میں پرانی داستانوں کے موضوعات ہی کو لیا گیا ہے۔ اس میں پرانی داستانوں کی طرح عشق و محبت ہے، تہذیب و ثقافت ہے، سماج اور سیاست کو بھی موضوع بنایا گیا ہے، جنگ و لڑائی اور رقص و موسیقی کو بھی باقاعدہ موضوع بنایا گیا ہے۔ یہ تمام موضوعات پرانی داستانوں میں پہلے بھی بیان کیے جا چکے ہیں، جن کا پتہ ہمیں فورٹ ولیم کالج میں ترجمہ شدہ داستانوں سے چلتا ہے۔
عشق و محبت
رانی کیتکی کی کہانی ایک عشق کی داستان ہے۔ اس میں رانی کیتیکی اور اودے بھان کی محبت کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ عام طور پر اس زمانے میں ایسی کہانیاں زیادہ پسند کی جاتی تھیں، جن میں کہانی کا ہیرو اپنے محبوب کے پیار میں سب کچھ قربان کر دے یا پھر آخر میں کامیاب ہو جائے۔ اس کہانی میں بھی یہی بات نظر آتی ہے۔ اس کہانی کا ہیرو اودے بھان رانی کیتکی کے عشق میں گرفتار ہو جاتا ہے اور اسے شروع میں مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ تمام مشکلات کا بہادری کے ساتھ سامنا کرتا ہے۔ آخرکار دونوں کا ملاپ ہو جاتا ہے اور کہانی ختم ہو جاتی ہے۔ ذیل کے اقتباسات میں رانی کیتیکی اور اودے بھان کی عشقیہ داستان کے مختلف واقعات پیش کیے جا رہے ہیں۔
رانی کیتکی اپنی سہیلی مدن بان کو جگا کر یوں کہتی ھے۔ اری او، تو نے کچھ سنا بھی ، میرا جی اوس پر آگیا اور کسی ڈول سے نہیں تھم سکتا۔ تو سب میرے بھیدوں کو جانتی ھے، اب جو ھوئی ھو سوھو، سر رھتا رھے، جاتا جائے ، میں اوس کے پاس جاتی ھوں ۔ تو میرے ساتھ چل، پر تیرے پانوں پڑتی ھوں ، کوئی سننے نہ پائے ۔ اری یہ میرا جوڑا میرے اور اوس کے بنانے والے نے ملا دیا۔ میں اس لیے جیسے ان امریوں میں آئی تھی ۔ ( رانی کیتکی کی کہانی ، مرتب، پروفیسر صاحب علی ، ص 28)
اور جس کے لیے یہ سب ھے سو وہ کہاں ؟ اور ھو دے تو کیا جانے جو یہ رانی کیتیکی جی اور یہ مدن بان نگوڑی نوچی کھسوٹی اور ان کی سہیلی ھے۔ چھوٹھے اور بھاڑ میں جائے یہ چاہت جس کے لیے ما، باپ، راج پاٹ ، سکھ، نیند ، لاج کو چھوڑ کر ندیوں کے کچھاروں میں پھرنا پڑھے! سو بھی بے ڈول ، جو اپنے روپ میں ھوتے تو بھلا کچھ تھوڑا بہت آسرا تھا۔ (ایضاً ص 39)
اس دھوم دھام کے ساتھ کنور اودے بھان سہرا باندھے جب دولھن کے گھر تلک آن پہونچا اور جو ریتیں اون کے گھرانے میں ھوتی چلی آتیاں تھیں، چھونے لگیاں، مدن پان رانی کیتکی سے ٹھٹھولی کر کے بولی ” لیجیے اب سکھ سمیٹے بھر بھر جھولی۔ سر نہوڑائے کیا بیٹھی ھو؟ آؤ نہ تک ھم تم مل کے جھروکوں سے انھیں جھانکیں ۔ (ایضاً، ص 52)
تہذیب و ثقافت
رانی کیتکی کی کہانی میں ہندوستانی تہذیب و ثقافت کی اچھی جھلک دیکھنے کو ملتی ہے۔ انشا نے اس کہانی میں ہندوستانی تہذیب و ثقافت کو دکھانے کے لیے جن الفاظ کا استعمال کیا ہے وہ پوری طرح ہندوستانی الفاظ ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ انشا نے اس کہانی کو لکھنے سے پہلے ہندوستانی تہذیب و ثقافت کا اچھی طرح مطالعہ اور مشاہدہ کیا تھا اور اپنے تجربے کی روشنی میں اس کہانی کو لکھا۔ یہی وجہ ہے کہ رانی کیتکی کی کہانی میں جگہ جگہ ہندوستانی تہذیب و ثقافت صاف طور پر نظر آتی ہے۔ اس کہانی میں ہندو قوم کی تہذیب و ثقافت، ان کے رہن سہن، ان کی عورتوں، مہارانیوں اور راجکماریوں کے بات کرنے کے انداز، شادی بیاہ کا ذکر، گنگا جمنا، چند، ٹیکا، ان کی بولی اور ہنسی مذاق وغیرہ کو بہت خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر درج ذیل اقتباسات ملاحظہ ہوں۔
یہ بات سن کر وہ جو لال جوڑے والی سب کی سر دھری تھی ، اونے کہا
نہ جی بولیا ٹھولیا نہ مارو، ان کو کہہ دو جہاں جی چاہے اپنے پڑے رھیں ۔ اور جو کچھ کھانے پینے کو مانگیں سوانھیں پہونچا دو۔ گھر آئے کو کسی نے آج تک مار نہیں ڈالا ۔ (ایضاً ص 28)
اور سب راج بھر کی بیٹیاں سدا سہاگنیں بنی رھیں اور سو ھے راتے جھٹ کبھی کوئی کچھ نہ پہنا کرے اور سونے روپے کے کواڑ گنگا جمنی سب گھروں میں لگ جائیں اور سب کوٹھوں کے ماتھوں پر کیسر اور چندن کے ٹیکے لگے ھوں ۔ اور جتنے پہاڑ ھمارے دیس میں ھوں اتنے بھی روپے سونے کے پہاڑ آمنے سامنے کھڑے ھو جائیں۔ اور سب ڈانگوں کی چوٹیاں موتیوں کی مانگ سے بن مانگے تانگے بھر جائیں اور پھولوں کے گہنے اور بندن واروں سے سب جھاڑ پہاڑ لدے پھندے رھیں ۔ (ایضاً، ص 47)
سماج و سیاست
رانی کیتکی کی کہانی کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ قدیم ہندوستانی سماج میں بھی سیاست کا اثر بہت تھا۔ اس زمانے میں بھی طبقاتی فرق کو بڑی اہمیت دی جاتی تھی۔ ہندوستانی سماج اس وقت بھی ذات پات، اونچ نیچ اور بھید بھاؤ کے بندھن میں بندھا ہوا تھا۔ اس کہانی میں اعلیٰ اور ادنیٰ طبقے کے لوگوں کے رہن سہن، بول چال اور سماجی حیثیت میں صاف فرق نظر آتا ہے۔ اس سماجی فرق کو انشا اللہ انشا نے بہت اچھے طریقے سے پیش کیا ہے۔ جب راجہ سورج بھان اپنے بیٹے کنور اودے بھان کے لیے راجا جگت پرکاش کی بیٹی رانی کیتکی کا رشتہ مانگنے کے لیے ایک برہمن کو اس کے پاس بھیجتے ہیں تو راجہ جگت پرکاش بڑی بے عزتی کے ساتھ انہیں دیکھتا ہے اور راجہ سورج بھان کے بارے میں بہت سخت باتیں کہتا ہے۔ اسی طرح انشا نے دوسرے سماجی اور سیاسی مسائل کو بھی اس کہانی میں بہت خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ مثال کے طور پر ذیل کے اقتباسات ملاحظہ کیجیے۔
سنتے ہی رانی کیتکی کے باپ نے کہا
اون کے ھمارے نا تا نہیں ہونے کا۔ اون کے باپ دادے ھمارے باپ دادوں کے آگے سدا ھاتھ جوڑ کے باتیں کیا کرتے تھے اور تک جو تیوری چڑھی دیکھتے تھے، بہت ڈرتے تھے۔ کیا ھوا جواب وہ بڑھ گئے اور اونچے پر چڑھ گئے؟ جس کے ماتھے ھم بائیں پانوں کے انگوٹھے سے ٹیکا لگا ویں وہ مہاراجوں کا را جا ھو جاوے۔ کس کا مونہ جو یہ بات ھمارے مونہ پر لائے ۔
با مھن نے جل بھن کر کے کہا
اگلے بھی ایسی بھی کچھ بچارے ھوے ھیں اور بھری سبھا میں یہی کہتے تھے ھم میں ، اور میں کچھ گوت کی تو میں نہیں ہے، پر کنور کی بھٹ سے کچھ ہماری نہیں چلتی نہیں تو ایسی اوچھی بات کب ھمارے مونہ سے نکلتی ۔ (ایضاً، ص 32-31)
کہیں کنھیا جی کا جنم اشٹمی میں ھونا اور باسد یو کا گوگل کو لے جانا ، اون کاس روپ سے بڑھ چلنا اور گائیں چرانی اور مرلی بجانی اور گوپیوں سے دھومیں مچانی اور رادھکا کا رس اور کبجا کا بس کر لینا۔ وھی کریل کی کنجیں، ہنسی پٹ چیر گھاٹ ، بندر بن سیوا گنج، برسانے میں رہنا، اور اوس کنھیا سے جو کچھ ھوا تھا سب کا سب جیوں کا تیوں آنکھوں میں آنا اور دوار کا جانا اور وھاں سونے کے گھر بنانا اور پھر برج کو نہ آنا اور سولہ سو گوپیوں کا تلملا نا سامھنے آگیا ۔ (ایضاً، ص 50)
رانی کیتکی جھٹ سے دھیمی سی سسکی ، بچے کے ساتھ اوٹھی ، مدن بان بولی: میرے ھاتھ کے ٹھوکے سے وہ بھی پانوں کا چھالا دوکھ گیا ہو گا جوھرنوں کی ڈھونڈھ دھاندھ میں پڑ گیا تھا۔“ ایسی دکھتی چٹکی کی چوٹ سے مسوس کر رانی کیتیکی نے کہا کا نٹا اڑا تو اڑا اور چھالا پڑا تو پڑا، پر نگوڑی تو کیوں میری پنچھا لاھوئی ۔ (ایضاً، ص 53)
جنگ و جدل
بیشتر داستانوں میں راجا مہاراجہ ہی کو موضوع بنایا گیا ہے اور جہاں راجا مہاراجہ ہوں گے وہاں جنگ و جدل کا ہونا لازمی ہوتا ہے۔ اس داستان میں بھی ایسا ہی ہوا ہے۔ جب اودے بھان اپنے ماں باپ سے رانی کیتیکی سے شادی کرنے کے لیے کہتا ہے تو اودے بھان کا باپ سورج بھان کہتا ہے کہ اگر رانی کیتکی کے ماں باپ آسانی سے تمہاری بات مان گئے تو وہ لوگ ہمارے سمدھی اور سمدھن ہو جائیں گے اور دونوں راج بھی ایک ہو جائیں گے اور اگر نہیں مانیں گے تو چاہے تلوار یا ڈھال کے زور پر تمہاری شادی کرنی پڑے لیکن تمہاری دلہن رانی کیتکی ہی بنے گی۔
جب سورج بھان رانی کیتیکی کے گھر ایک برہمن کو اپنے بیٹے کے رشتے کے لیے بھیجتا ہے تو رانی کیتیکی کا باپ اس برہمن کو ڈانٹ کر واپس بھیج دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ان کا ہمارا کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ اس کے باپ دادا ہمیشہ ہمارے قدموں میں رہا کرتے تھے۔ برہمن واپس آجاتا ہے اور پورا حال سورج بھان کو سناتا ہے۔ برہمن کی باتیں سن کر سورج بھان کو غصہ آجاتا ہے اور وہ رانی کیتکی کے باپ سے جنگ کا اعلان کر دیتا ہے اور دونوں راجاؤں میں جنگ شروع ہو جاتی ہے۔ ذیل کے اقتباسات ملاحظہ ہوں۔
جو رانی کیتیکی کے ما، باپ تمھاری بات مانتے ھیں تو ھمارے سمدھی اور سمدھن ھیں ، دونوں راج ایک ھو جائیں گے اور کچھ ناہ ندوہ کی ٹھہرے گی تو جس ڈول سے بن آوے گا ، ڈھال تلوار کے بل تمھاری د و لحن تم سے ملاویں گے ۔ آج سے اور اس مت رھا کرو۔ (ایضاً، ص 31)
جو اس باھن پر بیتی ، سوسب کنور اودے بان کے ما، باپ نے سنتے ہی لڑنے کی ٹھان ، اپنا ٹھاٹھ باندھ کر دل با دل جیسے گھر آتے ھیں ، چڑھ آیا، جب دونوں مہاراجوں میں لڑائی ہونے لگی ، رانی کیتیکی ساون بھادوں کے روپ سے رونے لگی ، اور دونوں کے جی پر یہ آ گئی یہ کیسی چاھت ھے، جس میں لوھو برسنے لگا اور اچھی باتوں کو ترسنے لگا ؟ (ایضاً، ص 32)
This post provides a detailed summary of Rani Ketki ki Kahani, an early Urdu romantic-adventure tale. It recounts the love story of Kunwar Odey Bhan and Rani Ketki, their secret meetings, familial challenges, and ensuing political conflicts between kingdoms. Themes include love, loyalty, Indian culture, social hierarchy, and warfare, culminating in their eventual union. The post also discusses the story’s historical research, various editions, and its cultural and literary significance in early 19th-century Urdu literature.