رانی کیتکی کی کہانی کا فنی مطالعہ
تمہید
رانی کیتکی کی کہانی انشا اللہ خاں انشا کے تمام ادبی کاموں میں سے سب سے اہم کام ہے۔ اس داستان کی اہمیت اس کی فنی خوبیوں کی وجہ سے ہے۔ کہانی کے لحاظ سے یہ ایک عام داستان ہے۔ جس وقت یہ داستان لکھی گئی اس وقت کی زیادہ تر داستانوں میں اسی طرح کی کہانیاں ملتی ہیں، لیکن اس داستان میں جو نیا تجربہ کیا گیا ہے وہ بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ ایسا تجربہ دوسری کسی داستان میں نظر نہیں آتا۔ انشا نے اس داستان کو لکھتے وقت عربی، فارسی اور ترکی زبان کے الفاظ استعمال کرنے سے بچا ہے اور صرف خالص ہندوستانی الفاظ استعمال کیے ہیں، جو اپنے آپ میں ایک نیا اور منفرد تجربہ ہے۔
داستان کی سب سے بڑی خوبی عام طور پر اس کی لمبائی ہوتی ہے، لیکن رانی کیتکی کی کہانی بہت مختصر ہے۔ اگر اس کی چھوٹی لمبائی کو نظر انداز کر دیا جائے تو اس میں داستان کے وہ تمام عناصر پوری طرح موجود ہیں جو اس دور کی دوسری داستانوں میں ملتے ہیں۔ اس میں عشق و محبت کی کہانی بھی ہے، حیرت انگیز اور غیر معمولی واقعات بھی ہیں، رقص و موسیقی کی محفل بھی ہے، راجہ رانی اور راجکمار راجکماری جیسے کردار بھی ہیں۔ یعنی داستان کے جو بھی ضروری عناصر ہونے چاہئیں وہ سب اس میں اچھی طرح موجود ہیں۔
رانی کیتکی کی کہانی کا فنی مطالعہ
رانی کیتکی کی کہانی کا فنی مطالعہ کرنے سے پہلے ڈاکٹر جمیل جالبی کے اس اقتباس کو پڑھنا ضروری ہے، جو انہوں نے اس داستان کی فنی خوبیوں کے بارے میں لکھا ہے۔ اقتباس ملاحظہ کیجیے۔
اس قصے میں کم و بیش وہ سب عناصر موجود ہیں، جو اس دور کی دوسری عام کہانیوں یا داستانوں میں ملتے ہیں۔ اس میں عشق کی داستان بھی ہے۔ راجا، رانی ، راج کمار اور راج کماری بھی ہیں اور فراق وصل کی تصویر میں بھی ہیں ۔ الوپ انجن بھی ہے کہ جسے آنکھ میں لگانے والا سب کو دیکھ سکتا ہے لیکن اسے کوئی نہیں دیکھ سکتا۔ شیر کی کھال بھی ہے جس کے ایک رونگٹے کو آگ پر دکھانے سے مہندر گرویسےہی آحاضر ہوتا ہے جیسے دوسری کہانیوں میں درویش دیوتا یا جادو گر آتے ہیں۔ اس کہانی میں مہندر گروہی کام کرتا ہے جو دوسری کہانیوں میں جادو گر کرتے ہیں۔ اس میں جنگ بھی ہے اور مافوق الفطرت عناصر بھی۔ مہندر گر کالی آندھی لاکر را جا سورج بھان کے لشکر کو تباہ کر دیتا ہے۔ کایا کلپ بھی ہے کہ مہندر گر اودے بھان ، راجا سورج بھان اور رانی کچھی باس کو ہرن بنا کر جنگل میں چھڑوادیتا ہے۔ راجا اندر، ان کی پریاں اور اکھاڑا بھی ہے اور رقص و موسیقی کے جشن بھی ۔ انشا نے ایک اچھے افسانہ نگار کی طرح ان تمام اجزا کو توازن کے ساتھ اس طرح جوڑا ہے کہ کہانی میں دلچسپی باقی رہتی ہے۔(ڈاکٹر جمیل جالبی، تاریخ ادب اردو ، جلد سوم ص 163)
درج بالا اقتباس میں ڈاکٹر جمیل جالبی نے رانی کیتکی کی کہانی کے تمام فنی پہلوؤں پر بہت اچھی طرح روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے ہر حصے کے لیے صرف ایک ایک جملہ لکھا ہے، لیکن ہر جملہ اس حصے کی پوری طرح وضاحت کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ یہاں اس داستان کے تمام حصوں پر الگ الگ گفتگو کی جا رہی ہے۔
پلاٹ
داستانیں عام طور پر بہت لمبی ہوتی ہیں، جن میں ایک مرکزی کہانی کے ساتھ ساتھ بہت سی دوسری چھوٹی کہانیاں بھی بیان کی جاتی ہیں۔ ایسی حالت میں پلاٹ کو جوڑے رکھنا مصنف کی مہارت کو ظاہر کرتا ہے۔ لمبی داستان میں سادہ اور جڑا ہوا پلاٹ ہونا کچھ عجیب سا لگتا ہے۔ زیادہ تر داستانوں میں پلاٹ پیچیدہ ہوتا ہے۔ داستان لکھنے والا ایک مرکزی کہانی کو ذہن میں رکھ کر داستان شروع کرتا ہے، لیکن درمیان میں بہت سی دوسری کہانیاں بھی آ جاتی ہیں، جس سے داستان ایک بڑے دائرے میں پھیل جاتی ہے۔ اس کہانی میں کبھی کبھی سینکڑوں کہانیاں شامل ہو جاتی ہیں، لیکن ہر کہانی کا تعلق داستان کی مرکزی کہانی سے ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر داستان امیر حمزہ، الف لیلہ اور بوستان خیال وغیرہ کو پیش کیا جا سکتا ہے۔ جہاں تک رانی کیتکی کی کہانی کے پلاٹ کی بات ہے تو عام داستانوں کے برعکس اس کا پلاٹ سادہ، جڑا ہوا اور سیدھا ہے۔ اس میں کسی قسم کی الجھن یا پیچیدگی نہیں ہے، اس کی وجہ اس داستان کا بہت مختصر ہونا ہے۔ اس کی کہانی بالکل سیدھے سادے انداز میں بیان کی گئی ہے۔ داستان میں آغاز، وسط، نقطۂ عروج اور انجام سب کچھ موجود ہے۔ داستان رانی کیتکی کی کہانی کا پلاٹ ملاحظہ ہو۔
کسی دیس میں سورج بھان نام کا ایک راجہ تھا اس کا ایک ہی بیٹا تھا جو کنور اودے بھان کے نام سے مشہور تھا۔ ایک دن وہ گھوڑے پر سوار ہو کر شکار کھیلنے کی غرض سے جنگل کی طرف بہت دور چلا گیا اور ایک خوبصورت ہرنی کا پیچھا کرتے ہوئے راستہ بھول گیا۔ وہیں اس نے آم کے باغ میں چند خوبصورت دوشیزاؤں کو جھولا جھولتے ہوئے دیکھا ۔ انہی لڑکیوں میں راجہ جگت پرکاش کی حسین اور خوبصورت بیٹی رانی کیتکی بھی تھی ۔ کنور اودے بھان کی ملاقات اس سے ہوتی ہے اور دونوں کا دل ایک دوسرے پر آگیا۔ کینکی کی ایک ہمر از مدن بان تھی ، اس کو ایک ترکیب سوجھی کہ دونوں اپنی اپنی انگوٹھیاں آپس میں بدل لیں ، ایسا کرنے کے بعد کنور اودے بھان نے رات بھر آرام کیا اور صبح کو گھر چلا گیا۔ گھر پہنچنے کے بعد اس کی حالت غیر ہورہی تھی کسی پل اس کو چین و سکون نہ ملتا تھا۔ جب اس کے والدین کو معلوم ہوا تو انھوں نے شادی کا پیغام رانی کیتیکی کے باپ راجہ جگت پر کاشکے پاس بھیج دیا لیکن راجہ جگت پر کاش شادی کے لیے راضی نہیں ہوئے اور دونوں میں جنگ چھڑ گئی۔ راجہ جگت پرکاش نے اپنی شکست کو دیکھتے ہوئےاپنے گرو جو گی مہندر گر جو کہ کیلاش پہاڑ پر رہتا تھا اپنی مدد کے لیے بلا لیا۔ اس نے آتے ہی جادو کے زور سے سورج بھان ، ان کی بیوی بھی باس اور کنور اودے بھان کو ہرن ہرنی بنا کر جنگل میں چھوڑ دیا۔ مہندر گرنے جاتے ہوئے راجہ کو شیر کی کھال میں سے ایک بال توڑ کر دیا کہ جب بھی میری مدد کی ضرورت ہو یہ بال آگ پر رکھو گے ہم حاضر ہو جائیں گے، ساتھ ہی بھبھوت بھی دیا، جسے آنکھ پر لگانے سے وہ سب کو دیکھ سکے گا پر اسے کوئی بھی نہیں دیکھ سکے گا۔ رانی کیتیکی کسی طرح بھبھوت حاصل کر کے آنکھوں میں لگا کر جنگل میں اپنے ہرن کنور اودے بھان کی تلاش میں نکل پڑی۔ ادھر رانی کیتکی کی گم شدگی کی وجہ سے راجہ جگت پر کاش پریشان تھے، بالآخر مدن بان رانی کیتکی کو ڈھونڈ کر لاتی ہے۔ راجہ جگت پر کاش نے اپنی مدد کے لیے مہندر گر اور راجہ اندر کو بلایا ، انہوں نے اودے بھان وغیرہ کو ڈھونڈ کر پھر سے اصل روپ میں کیا اس کے بعد کنور اودے بھان اور رانی کیتکی کی شادی بڑی دھوم دھام سے کر دی جاتی ہے۔
کردار نگاری
کردار افسانوی ادب کا ایک ضروری حصہ ہوتا ہے۔ افسانوی ادب میں کرداروں کے ذریعے ہی کہانی کو آگے بڑھایا جاتا ہے۔ داستانیں چونکہ بہت لمبی ہوتی ہیں اور ان میں بہت سے دوسری کہانیاں بھی شامل ہوتی ہیں، اس لیے داستانوں میں کرداروں کی تعداد بھی زیادہ ہوتی ہے۔ لیکن داستان رانی کیتکی کی کہانی بہت مختصر ہے، اس لیے دوسری داستانوں کے مقابلے میں اس میں کرداروں کی تعداد بہت کم ہے۔ ان میں سے اہم کرداروں کا ذکر نیچے کیا جا رہا ہے۔
رانی کیتکی
رانی کیتکی اس داستان کی ہیروئن یعنی مرکزی کردار ہے۔ رانی کیتکی کا ذکر پہلی بار اس طرح آتا ہے کہ وہ باغ میں اپنی کچھ سہیلیوں کے ساتھ جھولا جھول رہی ہوتی ہے۔ کنور اودے بھان ایک ہرن کا پیچھا کرتے کرتے راستہ بھول جاتا ہے اور اسی باغ میں پہنچ جاتا ہے جہاں رانی کیتکی اپنی سہیلیوں کے ساتھ جھولا جھول رہی ہوتی ہے۔ اودے بھان کو دیکھتے ہی رانی کیتکی اس پر فدا ہو جاتی ہے، لیکن اپنی محبت کا اظہار نہیں کرتی۔ اس کے بعد کہانی میں کچھ دیر کے لیے رانی کیتکی نظر نہیں آتی۔ دوسری بار کہانی میں رانی کیتکی اس وقت دکھائی دیتی ہے جب اودے بھان کو جادوگر ہرن بنا دیتا ہے۔ اس حالت میں رانی کیتکی بہت بے چین ہو جاتی ہے اور آنکھوں میں بھبھوت لگا کر اس کی تلاش میں نکل پڑتی ہے۔ وہ اودے بھان کا پتا لگا کر ہی سکون سے بیٹھتی ہے اور آخر میں دونوں کی دھوم دھام سے شادی ہو جاتی ہے۔
رانی کیتکی ایک شریف لڑکی ہے۔ وہ ایک ہندوستانی عورت کی طرح اپنی محبت کا کھل کر اظہار نہیں کرتی بلکہ ہندوستانی روایت کا خیال رکھتی ہے۔ وہ مہمان کی خدمت کو اپنا اہم فرض سمجھتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک اجنبی کی خراب حالت دیکھ کر اس کی باتوں پر یقین کر لیتی ہے، جو اس کی معصومیت، سادگی اور سیدھے پن کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ عورتوں کی حیا کی وجہ سے اس اجنبی سے خود بات کرنے کے بجائے اپنی سہیلی مدن بان کے ذریعے بات کرنا بہتر سمجھتی ہے۔ رانی کیتکی کے کردار کے بارے میں ڈاکٹر گیان چند جین اپنی کتاب اردو کی نثری داستانیں میں لکھتے ہیں۔
رانی کیتکی کا کردار شاہکار ہے۔ وہ پہاڑی دوشیزاؤں کی طرح اتنی صاف اور معصوم ہے کہ اپنے جی کی بات ہمیشہ بغیر کسی پیچ و خم کے ادا کر دیتی ہے۔ مثلا کنور کو دیکھنے کے بعد رات اپنی سہیلی کو جگا کر کہتی ہے: اری او! تو نے کچھ سنا۔ میرا جی اس پر آگیا ہے اور کسی ڈول سے تھم نہیں سکتا۔ تو سب میرے بھیدوں کو جانتی ہے۔ اب جو ہونی ہو سو ہو۔ سر رہتا ہے رہے جاتا ہے جائے۔ میں اس کے پاس جاتی ہوں ۔ تومیرے ساتھ چل ۔ پر تیرے پاؤں پڑتی ہوں ۔ کوئی سننے نہ پائے ۔
ان باتوں کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ رانی کیتکی کا کردار بہت اہم ہے۔ جس طرح اس داستان میں ہندوستانی رسم و رواج کا خیال رکھا گیا ہے اسی طرح رانی کیتکی کا کردار بھی ہندوستانی روایت کو ماننے والا نظر آتا ہے۔ وہ بالکل معصوم اور سیدھی سادی لڑکی ہے۔ وہ چنچل اور شوخ بھی ہے۔ وہ اودے بھان کے لیے وفادار بھی ہے اور والدین کی عزت کرنے والی بھی ہے۔ وہ بے باک اور نڈر ہے۔ وقت آنے پر وہ ہمت اور حوصلے سے کام لیتی ہے۔ اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ اس مختصر سی داستان میں انشا اللہ خاں انشا نے رانی کیتکی کے کردار میں کئی طرح کی خوبیاں جمع کر دی ہیں۔
کنور اودے بھان
کنور اودے بھان اس داستان کا اہم کردار ہے، جو سورج بھان اور رانی لکشمی باس کا اکلوتا بیٹا ہے۔ وہ خوبصورت، نوجوان اور حسین ہے اور رانی کیتکی کا عاشق ہے۔ جدائی کے لمحے اس کے لیے بہت مشکل ہوتے ہیں، مگر اپنی محبوبہ کو حاصل کرنے کے لیے وہ زیادہ کوشش نہیں کرتا۔ اس کے ماں باپ اس کی یہ حالت دیکھ کر جگت پر کاش کے پاس شادی کا پیغام بھیجتے ہیں۔ البتہ جنگ کے دوران کنور اودے بھان رانی کیتکی سے اپنے ساتھ چلنے کے لیے کہتا ہے، لیکن رانی کیتکی اس کے ساتھ جانے سے انکار کر دیتی ہے۔ اس پر بھی اس کی طرف سے کوئی خاص ردِ عمل سامنے نہیں آتا بلکہ وہ خاموش ہو جاتا ہے۔ وہ ایسا عاشق ہے جو ہر تکلیف کو خاموشی سے برداشت کر لیتا ہے۔ اسے آدمی سے ہرن اور پھر ہرن سے آدمی بنایا جاتا ہے، تب جا کر اسے اپنی محبوبہ ملتی ہے۔
اس کہانی میں کنور اودے بھان کو عملی طور پر کم ہی دکھایا گیا ہے۔ اس کے کردار میں کچھ جگہوں پر تضاد بھی نظر آتا ہے۔ ایک طرف کنور اودے بھان شکار کے وقت خطرات کا سامنا کرنے سے نہیں ڈرتا، اور دوسری طرف جنگ کے وقت لڑنے کے بجائے رانی کیتکی کے ساتھ بھاگ جانے کا ارادہ کر لیتا ہے۔ والدین اور خاندان کی بدنامی کے ڈر سے وہ اپنے عشق کا اظہار نہیں کرتا، مگر رانی کیتکی کے ساتھ بھاگنے کا ارادہ کرتے وقت وہ یہ بھول جاتا ہے کہ اس کے اس کام سے بھی والدین اور خاندان کی بدنامی ہو سکتی ہے۔ غرض کنور اودے بھان کا کردار تضاد سے بھرا ہوا ہے اور عملی طور پر بھی زیادہ فعال نہیں ہے۔
مدن بان
مدن بان، رانی کیتکی کی سہیلی ہے۔ ایک اچھی سہیلی میں جو خوبیاں ہونی چاہئیں وہ سب انشا اللہ خان نے مدن بان کے کردار میں ڈال دی ہیں۔ وہ رانی کیتکی کی رازدار بھی ہے اور مشورہ دینے والی بھی ہے۔ اس کے کردار میں شوخی اور شرارت بھی ہے اور سنجیدگی اور سنبھلاؤ بھی۔ وہ بہت ذہین اور سمجھدار بھی ہے اور موقع کے مطابق کبھی کبھی جذباتی بھی ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس داستان میں مدن بان کا کردار بہت دل کش، فعال اور جاندار نظر آتا ہے۔ پوری کہانی میں مدن بان کی وجہ سے رونق اور دلچسپی بنی رہتی ہے اور کہیں بھی بے دلی یا اکتاہٹ محسوس نہیں ہوتی۔
جگت پر کاش
جگت پرکاش رانی کیتکی کا باپ ہے۔ اس کے اندر باپ کے کردار کی تمام خوبیاں موجود ہیں اور اپنی بیٹی کیکی کی خوشی کے لیے کچھ بھی کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔
رانی کام لتا
رانی کام لیتا جگت پرکاش کی بیوی اور کیکی کی ماں ہے۔ یہ ہندوستانی رسم وراج کی پاسدار کرنے والی خاتون ہے اور اپنے شوہر کے ہر فیصلے پر ساتھ دیتی ہے۔
سورج بھان
سورج بھان کنور اودے بھان کا باپ ہے۔ یہ بھی جگت پرکاش کی طرح اپنے بیٹے کی خوشی کے لیے بہت کچھ کرتا ہے۔ پہلے جگت پر کاش کے پاس اپنے بیٹے اودے بھان کے لیے رانی کیتکی کا ہاتھ مانگتا ہے۔ سورج بھان کے انکار کرنے پر جنگ کا اعلان کر دیتا ہے۔
لکشمی باس
سورج بھان کی بیوی اور کنور اودے کی ماں ہے۔ اس کا داستان میں کوئی خاص کردار نہیں ہے۔ اس کا تذکرہ صرف سورج بھان کی بیوی اور کنور اودے کی ماں کے طور پر ہوتا ہے۔
مہندرگر
مہندر گر جگت پر کاش کا گرو ہے، جو جادو کی مدد سے کنور اودے اور اس کے لشکر کو ہیرن کی شکل میں تبدیل کر دیتا ہے۔ غرض کہ انشا نے اس داستان کے کرداروں میں تمام عمل اور وسعت بھر دی ہے۔ رانی کیتیکی کی کہانی میں کوئی ایسی دلکشی نہیں جو دل پر نقش چھوڑ جائے لیکن کیکی اور مدن بان کے کردار اتنے پرکشش اور دل کش ہیں کہ قاری انہیں آسانی سے نہیں بھلا پاتا اور یہی انشا کی کردار نگاری کی خوبی ہے جس کی وجہ سے یہ داستان آج بھی پسند کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے۔
مکالمہ نگاری
داستانوں میں مکالموں کی بھی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ مکالمہ نگاری کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ کرداروں کے مزاج، ان کی فطرت اور تہذیبی و ثقافتی ماحول کے مطابق ہوں۔ رانی کیتکی کی کہانی کے مکالمے بول چال کی سیدھی سادی اور محاورے والی زبان میں ہیں اور کرداروں کی فطرت اور ان کے تہذیبی پس منظر کے مطابق ہیں۔ انشا نے اس داستان میں اس بات کا خاص خیال رکھا ہے کہ کرداروں کے جذبات کا اظہار مکالموں کے ذریعے پوری طرح ہو سکے۔ اس کوشش میں وہ کافی حد تک کامیاب بھی ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر یہ اقتباسات ملاحظہ ہوں۔
نہ جی ! بولیاں ٹھولیاں نہ مارو۔ ان کو کہہ دو، جہاں جی چاہے اپنے پڑے رہیں۔ اور جو کچھ کھانے پینے کو مانگیں سو نہیں پہنچا دو۔ گھر آئے کو کسی نے آج تک مار نہیں ڈالا ۔
اری! اوتو نے کچھ سنا بھی ؟ میرا جی اوس پر آگیا اور کسی ڈول سے نہیں تھم سکتا۔ تو سب میرےبھیدوں کو جانتی ہے، اب جو ہونی ہو، سو ہو ۔ سر رہتا ہے رہے، جاتا ہے جائے۔ میں اوس کے پاس جاتی ہوں تو میرے ساتھ چل ! پر تیرے پانوں پڑتی ہوں ، کوئی سننے نہ پائے ۔ اری! یہ میرا جوڑا میرے اور اوس کے بنانے والے نے ملا دیا۔ میں اس لیے جیسے ان امریوں میں آئی تھی ۔
سو تو ہوا ۔ اب اپنی اپنی انگوٹھیاں ہیر پھیر کر لو اور آپس میں لکھوئیں ابھی لکھ دو۔ پھر کچھ پچر پچر دو نہ رہے۔
اب میرا کلیجہ ٹکڑے ٹکڑے ہوا چاہتا ہے۔ دونوں مہاراجوں کو آپس میں لڑنے دو ۔ کسی ڈول سے جو ہو سکے ، تو تم مجھے اپنے پاس بلا لو۔ ہم تم مل کے کسی اور دلیس کو نکل چالیں ۔
مذکورہ بالا اقتباسات میں کرداروں کے جذبات کا اچھے طریقے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ پہلے اور دوسرے اقتباسات میں رانی کیتکی کے جذبات کا اظہار صاف طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اسی طرح تیسرے اقتباس میں رانی کیتکی کی ہمزاد مدن بان اور چوتھے اقتباس میں اودے بھان کے جذبات کا اظہار بخوبی محسوس کیا جا سکتا ہے۔
منظر نگاری
داستانوی ادب (داستان، ناول، ڈراما، افسانہ وغیرہ) میں منظر نگاری کی بہت اہمیت ہوتی ہے۔ منظر نگاری کے بغیر قاری متن کے ماحول سے واقف نہیں ہو سکتا اور اس کے ثقافتی و تہذیبی پہلوؤں کو بھی سمجھ نہیں سکتا۔ داستان میں منظر نگاری کی اہمیت اور بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے کیونکہ داستانیں لمبی ہوتی ہیں، اس لیے کہانی کو زیادہ دلچسپ بنانے کے لیے منظر نگاری بہت ضروری ہوتی ہے۔
رانی کیتکی کی کہانی چونکہ مختصر داستان ہے، باجود اس کے انشا اللہ خاں انشا نے اس داستان میں منظر نگاری کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے اس داستان میں ہندوستانی تہذیب و ثقافت کے ساتھ ساتھ موسیقی کے مختلف سازوں اور پھولوں پھلوں کا ذکر اس طرح پیش کیا ہے کہ پورا منظر آنکھوں کے سامنے گھومنے لگتا ہے۔ مثال کے طور پر درج ذیل اقتباسات ملاحظہ ہوں۔
اور اون کیاریوں کے بیچ میں ہیرے مکھر آج ان بندھے موتیوں کے جھاڑ ، اور لال ٹینوں کی جھم جھماہٹ دکھائی دے اور انھیں لال ٹینوں میں سے ہتھ پھول، پھلجھڑیاں، جاہی ، وہیاں ، کرم، گیندا ، چنبیلی ، اس ڈھب سے چھٹے ، جو دیکھتوں کی چھاتیوں کے کواڑ کھل جائیں، اور پٹاک جواد چھل اور پھل کے پھوٹیں ، اون میں سے ہنستے ستارے اور بولتے پکھروٹے ڈھل ڈھل پڑیں ۔
اون کا اوس روپ سے بڑھ چلنا اور گائیں چرانی اور مرلی بجانی اور گوپیوں سے دھو میں مچانی اور رادھیکا کا رس اور کبجا کا بس کر لینا، وہی کریل کی کنجیں ، ہنسی بٹ، چیر گھاٹ، بند رابن، سیوا گنج،برسانے میں رہنا اور اوس کنھیا سے جو جو کچھ ہوا تھا، سب کا سب جیوں کا تیوں ، آنکھوں میں آنا اور سولہ سو گوپیوں کا تلملا نا سا مھنے آگیا ۔ اون گوپیوں میں سے اودھو کا ہاتھ پکڑ کے ایک گوپی کے اس کہنے نے سب کو رولا دیا۔
جزئیات نگاری
جزئیات نگاری کے معاملے میں بھی رانی کیتکی کی کہانی دوسری داستانوں کے مقابلے کم اہمیت کی حامل نہیں ہے۔ انشا اللہ خاں انشا نے کنور اودے بھان اور رانی کیتکی کی شادی کے موقع پر بھرپور منظر پیش کیا ہے۔ کیونکہ شادی کی تقریب ایک ایسا موقع ہے جس کے ذریعے کسی معاشرت کی پوری عکاسی کی جا سکتی ہے۔ اس بارے میں انتظار حسین لکھتے ہیں۔
کہانی بیان کرتے کرتے جب اودے بھان اور کینکی کی شادی کی منزل آتی ہے، تب انشا کا قلم معاشرتی جزئیات نگاری پر مائل ہوتا ہے۔ شادی کی تیاریاں ، برات ، رخصتی ، یہ پورا بیان اس کہانی میں جزئیات نگاری کی ایک مثال ہے اور اس کے واسطے سے ایک پورا معاشرہ اپنے رسم و رواج کے ساتھہماری آنکھوں میں گھوم جاتا ہے۔ یہ بات بھی کچھ نہ کچھ معنی رکھتی ہے کہ انشا نے پوری کہانی میں بس ایک شادی کی تقریب کو جزئیات نگاری کے لیے منتخب کیا ہے۔ شاید اس کا مطلب یہ ہے کہ اس تہذیب میں شادی کی تقریب ایک نمائندہ معاشرتی تقریب ہے۔ صرف اس ایک تقریب کو بیان کر کے اس پوری معاشرت کا نقشہ پیش کیا جا سکتا ہے۔ (انشا کی دو کہانیاں ،ص 31)
انتظار حسین نے جن باتوں کی طرف اشارہ کیا ہے ان کی مثال ذیل میں پیش کی جارہی ہے۔ رانی کیتکی اور اودے بھان کی شادی کے موقعے پر انشا نے رانی کیتکی کے سرایا اور اس کی طبعیت کی کیفیت کی جزئیات کو جس طرح پیش کیا ہے وہ قابل تحسین ہے۔
رانی کیتکی کا بھلا لگنا ، لکھنے پڑھنے سے باہر ہے۔ وہ دونوں بھووں کی کھچاوٹ اور پتلیوں میں لاج کی ساوٹ اور نوکیلی پلکوں کی روند اہٹ اور ہنسی کی لگاوٹ، ونتریوں میں مسی کی اور اہٹ اور اتنی بات پر روکاوٹ سے ناک اور تیوری چڑھا لینا اور سہیلیوں کو گالیاں دینا اور جل نگلنا اور ہر نیوں کے روپ سے کر چھالیں مار کر پڑے او چھلنا، کچھ کہنے میں نہیں آتا ۔
مافوق الفطری عناصر
تمام داستانوں کی طرح رانی کیتکی کی کہانی میں بھی مافوق الفطری عناصر بہت اچھی طرح موجود ہیں۔ یہ عناصر ہندو دیو مالا سے لیے گئے ہیں۔ آج ہم جسے مافوق الفطری عناصر کہتے ہیں وہ اس زمانے کے لوگوں کے نزدیک حقیقت تھی۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس زمانے میں ہوا میں اُڑنا، انسان کی شکل بدل دینا اور پھر اصل حالت پر واپس آنا، بال جلتے ہی چشم زون میں پہنچ جانا، آنکھوں میں بھبھوت لگا کر لوگوں کی نظروں سے غائب ہو جانا، کام دھین گائے (جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جو کچھ مانگو وہ اس کے نتھنوں سے نکل آئے) وغیرہ سب حقیقت سمجھے جاتے تھے۔
اس داستان میں ایک جوگی مہندر گر آدمی کو ہرن بنا دیتا ہے۔ اس کے پاس ایک ایسا بھبھوت ہے، جسے آنکھوں میں لگانے والے دوسروں کی نظر میں نہیں آتے۔ وہ اڑنے کی مافوق الفطری طاقت رکھتا ہے۔ کبھی بھی رونگا جلا کر مہندر گر کو بلا لیا جاتا ہے۔ یہ تمام عناصر اس داستان کو بہت دلچسپ بنا دیتے ہیں۔ اقتباسات ملاحظہ ہوں۔
جب یہ سب کچھ ہو ؟ چکا، تو گروجی نے اپنے اتیوں سے کہہ دیا: اودے بھان ، سورج بھان ، پچھی باس ان تینوں کو ہرن ہرنی بنا کے کسی بن میں جھوڑ دو اور جو ان کے ساتھ ہوں ، اون سمجھوں کو توڑ پھوڑدو۔ جیسا گرو جی نے کہا جھٹ پٹ وہ ہیں کیا۔ بہت کا مارا کنور اودے بھان اور اوس کا باپ وہ مہاراجا سورج بھان اور اس کی ماوہ مہارانی کچھی باس ، ہرن ہرنی بن ، بن کی ہری ہری گھاس کئی برس تک چلتے رہے۔
یہ بگھمر اور یہ بھبھوت ہم نے تمہیں دیا۔ آگے جو کچھ ایسی گا ڑھ پڑے، تو اس بگھم میں سے ایک یہ رونگٹا تو ڑ کر آگ پر دھر کے پھونک دیجو۔ وہ رونگٹا پھوکنے نہ پاوے گا جو ہم آن پہونچیں گے۔ رہا بھبھوت، سو اس لیے ہے، جو کوئی چاہے جب اسے انجن کرے وہ سب کچھ دیکھے اور او سے کوئی نہ دیکھے، جو چاہے کرلے۔
دس پندرہ دن پیچھے ایک رات رانی کیتکی بن کہے مدن بان کے وہ بھبھوت آنکھوں میں لگا کر گھر سے نکل گئی۔ کچھ کہنے میں نہیں آتا جو ما باپ پر ہوئی ۔ سب نے یہ بات شہرادی گروجی نے کچھ سمجھ کر رانی کیتیکی کو اپنے پاس بولا لیا ہوگا۔
رزم
داستان کا ایک اہم حصہ رزم بھی ہے۔ داستانوں میں شہزادہ اور شہزادی کے عشق کے قصے بیان کیے جاتے ہیں۔ عام طور پر داستانوں میں یہی ہوتا ہے کہ شہزادہ اور شہزادی ایک دوسرے سے محبت کرنے لگتے ہیں، جب یہ بات محلوں میں پہنچتی ہے تو دونوں طرف کے راجا رانی کو یہ بات پسند نہیں آتی اور وہ جنگ کا اعلان کر دیتے ہیں۔ اس داستان میں بھی یہی ہوا ہے۔
جب سورج بھان رانی کیتکی کے گھر ایک برہمن کو اپنے بیٹے کے رشتے کے لیے بھیجتا ہے تو رانی کیتکی کا باپ اس برہمن کو واپس بھیج دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اس کا ہمارے خاندان سے کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ اس کے باپ دادا ہمیشہ ہمارے قدموں میں رہتے تھے۔ برہمن واپس آ جاتا ہے اور پورا ماجرا سورج بھان کو سناتا ہے۔ برہمن کی باتیں سن کر سورج بھان کو غصہ آ جاتا ہے اور وہ رانی کیتکی کے باپ سے جنگ کا اعلان کر دیتا ہے، اور دونوں مہاراجوں کے درمیان جنگ شروع ہو جاتی ہے۔ اقتباسات ملاحظہ ہوں۔
جو رانی کیکی کے ما، باپ تمھاری بات مانتے ھیں تو ھمارے سیدھی اور سیدھن ھیں ، دونوں راج ایک ھو جائیں گے اور کچھ ناہ نوہ کی ٹھہرے گی تو جس ڈول سے بن آوے گا ، ڈھال تلوار کے بل تمھاری دو لھن تم سے ملاویں گے ۔ آج سے اور اس مت رھا کرو۔ (ایضاً، ص 31)
جو اس با مھن پر بیتی ، سوسب کنور او دے بھان کے ما، باپ نے سنتے ہی لڑنے کی ٹھان ، اپنا ٹھاٹھباندھ کر دل با دل جیسے گھر آتے ھیں، چڑھ آیا، جب دونوں مہاراجوں میں لڑائی ہونے لگی ، رانی کیتکی ساون بھادوں کے روپ سے رونے لگی ، اور دونوں کے جی پر یہ آ گئییہ کیسی چاھت ھے، جس میں لوھو بر سنے لگا اور اچھی باتوں کو ترسنے لگا ؟ (ایضاً، ص 32)
بزم
انشا نے اس داستان میں بزم نگاری پر بھی بہت خوب لکھا ہے۔ سورج بھان اور جگت پرکاش کے درمیان جنگ ختم ہونے کے بعد جب رانی کیتکی اور اودے بھان کی شادی طے ہو گئی تو اس موقع پر انشا نے بہت خوب منظر پیش کیا ہے۔ اس موقع پر راگ اور راگنیوں کو بہت دلچسپ انداز میں دکھایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ رقص، ساز، ناچ گانے، سنگیت، بھنڈ تال اور رہس وغیرہ کو بہت خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔
اقتباسات ملاحظہ ہوں
جتنے گوئے ، نچویے ، بھانڈ ، بھگتے ، اس دھاری اور سنگیت پر ملونا ناچتے ہوئے ہوں، سب کو کہہ دیا، جن جن گانووں میں جہاں جہاں ہوں ، اپنے اپنے ٹھکانوں سے نکل کر ، اچھے اچھے بچھو نے بچھا بچھا کر گاتے بجاتے ، دھومیں مچاتے ، ناچتے کودتے رہا کریں ۔
راجا اندر نے کہہ دیا۔ وہ رنڈیاں چلبلیاں جو اپنے جو بن کے مدھ میں اوڑ چلیاں ہیں، اون سے کہ دو …. او پر ہی اوپر مردنگ، بین، جلترنگ، مونھ چنگ ، گھونگھر و، تبلے ، کمال اور سینکڑوں اسی ڈھب کے انوکھے باجے بجتے آئیں۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈومینوں کے روپ میں سارنگیاں چھیڑ چھیٹر سوہلے گاؤ، دونوں ہاتھ ہلاؤ، اونگلیاں نچاؤ، جو کسی نے نہ سنے ہوں ، وہ تاؤ بھاؤ، آؤ جاؤ، راؤ چاؤ دکھاؤ، ٹھڑیاں کپکپاؤ اور ناک بھویں تان تان بھاؤ بتاؤ۔
سانگ سنگیت ، بھنڈ تال، رہس ہونے لگا جتنے راگ اور راگنیاں تھیں : بمن کلیان ، سدھ کلیان ، جھونتی کا ٹھرا، کھنباچ ، سونی پرج، بہاگ، سو ہرٹ، کالنگڑا، بھیروی ،کھٹ ، للت، بھیروں ، روپ پکڑے ہوئے سچ مچ کے جیسے گانے والے ہوئے ہیں۔ اوسی روپ سے اپنے اپنے میں پر گانے لگے اور گانے لگیاں ۔
زبان و بیان اور اسلوب
رانی کیتکی کی کہانی صرف اپنے زبان و بیان کی وجہ سے اتنی مقبول ہوئی ہے۔ انشا نے یہ داستان صرف اپنی زبان دانی دکھانے کے لیے لکھی تھی۔ انشا عربی اور فارسی کے ماہر تو تھے ہی، انہیں ہندوستانی زبان میں بھی مہارت تھی، جس کا ثبوت انہوں نے یہ داستان لکھ کر دیا ہے۔ انہوں نے کرداروں کے سماجی و ثقافتی ماحول کو دیکھ کر ایسی زبان استعمال کی ہے جس میں یہ کوشش کی گئی ہے کہ ہندی کے علاوہ کسی اور زبان کے الفاظ نہ آئیں۔ کردار وہی زبان بولتے ہیں جو انہیں فطری طور پر بولنی چاہیے۔ انشا نے اس داستان میں پوری کوشش کی ہے کہ عربی و فارسی کے الفاظ استعمال نہ ہونے کی وجہ سے بیان کی خوبصورتی خراب نہ ہو اور کہانی کی کہنے کا انداز ایسا ہو کہ قاری کی دلچسپی کہانی میں برقرار رہے۔ پروفیسر عبدالستار دلوی اس کے ہندی ہونے کے بارے میں لکھتے ہیں کہ
اس کتاب میں انشا کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے اردو کی آزادانہ حیثیت کو تسلیم کرنے پر زور دیا اور اس کی صوتی اور نحوی تراکیب کو ہندوستانیت سے قریب لانے کی پہلی شعوری اور سائنسی کوشش کی اور اسے عربی و فارسی کی اندھی تقلید سے بچانے کی بھی کوشش کی اور اس کی فطری ساخت کے پیش نظر اصول مرتب کیے اور بول چال کی زبان کی اہمیت پر زور دیا۔ یہ کتاب جدید لسانیات کی رو سےاردو کا کلاسک ہے۔ (پروفیسر عبدالستار دلوی ( مرتب ) ، رانی کیتکی کی کہانی ص 11)
در اصل کسی بھی زبان کی اہمیت اس کے الفاظ کے ذخیرے سے نہیں بلکہ اس کے قواعد سے طے کی جاتی ہے۔ اس میں طریقہ افعال اور مشتقات کو بنیادی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ تحریر میں محاورے، جملے کے ترکیب، مرکبات وغیرہ کس زبان کے اصول کے مطابق استعمال ہوئے ہیں، اس سے بھی زبان کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ رانی کیتکی کے طریقہ افعال، مشتقات، جملوں کی ترکیب، مرکبات، لفظی تکرار اور سابقہ لاحقہ وغیرہ پر نظر ڈالی جائے تو وہ اردو کے مطابق لگتی ہیں۔
المختصر یہ کہ انشا نے اس داستان میں زبان دانی دکھانے کے لیے ہندی الفاظ ضرور استعمال کیے ہیں لیکن تحریر کا اصول خالص اردو کا ہے۔ انشا نے ایک طرف ہندی الفاظ استعمال کیے ہیں اور دوسری طرف اردو کا انداز اپنایا ہے۔ چونکہ الفاظ کسی بھی زبان کے ہوں، تحریر اسی زبان کی کہلائے گی جس زبان کے اصول پر لکھی گئی ہو۔ انشا نے یہ داستان اردو کے انداز میں لکھی ہے۔ اس لیے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ رانی کیتکی کی کہانی اردو زبان میں لکھی گئی ہے اور پورے طور پر زبان و بیان پر ہی مبنی ہے۔ پروفیسر صاحب علی لکھتے ہیں۔
انشا کا مقصد زبان و بیان کا ایک انوکھا نمونہ پیش کرنا تھا نہ کہ بہترین اور عمدہ داستان لکھنا یا کردار نگاری کا نمونہ پیش کرنا۔ اس داستان میں سما را از وراسلوب اور زبان و بیان پر ہے ۔ (رانی کیتکی کی کہانی ، پروفیسر صاحب علی ، مرتب، ص 16)
This post is a detailed literary analysis of Rani Ketki Ki Kahani by Insha Allah Khan Insha, highlighting its artistic features. It examines the plot, character development, dialogues, scenes, supernatural elements, battles, and cultural settings. The analysis emphasizes the story’s simple yet complete structure, the purity of its Hindi-Urdu language, and the author’s skill in blending Indian traditions with literary style, making it a classic example of Urdu storytelling.