رانی کیتکی کی کہانی کا فنی مطالعہ

رانی کیتکی کی کہانی انشا اللہ خاں انشا کے تمام ادبی کاموں میں سے سب سے اہم کام ہے۔ اس داستان کی اہمیت اس کی فنی خوبیوں کی وجہ سے ہے۔ کہانی کے لحاظ سے یہ ایک عام داستان ہے۔ جس وقت یہ داستان لکھی گئی اس وقت کی زیادہ تر داستانوں میں اسی طرح کی کہانیاں ملتی ہیں، لیکن اس داستان میں جو نیا تجربہ کیا گیا ہے وہ بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ ایسا تجربہ دوسری کسی داستان میں نظر نہیں آتا۔ انشا نے اس داستان کو لکھتے وقت عربی، فارسی اور ترکی زبان کے الفاظ استعمال کرنے سے بچا ہے اور صرف خالص ہندوستانی الفاظ استعمال کیے ہیں، جو اپنے آپ میں ایک نیا اور منفرد تجربہ ہے۔

داستان کی سب سے بڑی خوبی عام طور پر اس کی لمبائی ہوتی ہے، لیکن رانی کیتکی کی کہانی بہت مختصر ہے۔ اگر اس کی چھوٹی لمبائی کو نظر انداز کر دیا جائے تو اس میں داستان کے وہ تمام عناصر پوری طرح موجود ہیں جو اس دور کی دوسری داستانوں میں ملتے ہیں۔ اس میں عشق و محبت کی کہانی بھی ہے، حیرت انگیز اور غیر معمولی واقعات بھی ہیں، رقص و موسیقی کی محفل بھی ہے، راجہ رانی اور راجکمار راجکماری جیسے کردار بھی ہیں۔ یعنی داستان کے جو بھی ضروری عناصر ہونے چاہئیں وہ سب اس میں اچھی طرح موجود ہیں۔

رانی کیتکی کی کہانی کا فنی مطالعہ کرنے سے پہلے ڈاکٹر جمیل جالبی کے اس اقتباس کو پڑھنا ضروری ہے، جو انہوں نے اس داستان کی فنی خوبیوں کے بارے میں لکھا ہے۔ اقتباس ملاحظہ کیجیے۔

درج بالا اقتباس میں ڈاکٹر جمیل جالبی نے رانی کیتکی کی کہانی کے تمام فنی پہلوؤں پر بہت اچھی طرح روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے ہر حصے کے لیے صرف ایک ایک جملہ لکھا ہے، لیکن ہر جملہ اس حصے کی پوری طرح وضاحت کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ یہاں اس داستان کے تمام حصوں پر الگ الگ گفتگو کی جا رہی ہے۔

داستانیں عام طور پر بہت لمبی ہوتی ہیں، جن میں ایک مرکزی کہانی کے ساتھ ساتھ بہت سی دوسری چھوٹی کہانیاں بھی بیان کی جاتی ہیں۔ ایسی حالت میں پلاٹ کو جوڑے رکھنا مصنف کی مہارت کو ظاہر کرتا ہے۔ لمبی داستان میں سادہ اور جڑا ہوا پلاٹ ہونا کچھ عجیب سا لگتا ہے۔ زیادہ تر داستانوں میں پلاٹ پیچیدہ ہوتا ہے۔ داستان لکھنے والا ایک مرکزی کہانی کو ذہن میں رکھ کر داستان شروع کرتا ہے، لیکن درمیان میں بہت سی دوسری کہانیاں بھی آ جاتی ہیں، جس سے داستان ایک بڑے دائرے میں پھیل جاتی ہے۔ اس کہانی میں کبھی کبھی سینکڑوں کہانیاں شامل ہو جاتی ہیں، لیکن ہر کہانی کا تعلق داستان کی مرکزی کہانی سے ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر داستان امیر حمزہ، الف لیلہ اور بوستان خیال وغیرہ کو پیش کیا جا سکتا ہے۔ جہاں تک رانی کیتکی کی کہانی کے پلاٹ کی بات ہے تو عام داستانوں کے برعکس اس کا پلاٹ سادہ، جڑا ہوا اور سیدھا ہے۔ اس میں کسی قسم کی الجھن یا پیچیدگی نہیں ہے، اس کی وجہ اس داستان کا بہت مختصر ہونا ہے۔ اس کی کہانی بالکل سیدھے سادے انداز میں بیان کی گئی ہے۔ داستان میں آغاز، وسط، نقطۂ عروج اور انجام سب کچھ موجود ہے۔ داستان رانی کیتکی کی کہانی کا پلاٹ ملاحظہ ہو۔

کردار افسانوی ادب کا ایک ضروری حصہ ہوتا ہے۔ افسانوی ادب میں کرداروں کے ذریعے ہی کہانی کو آگے بڑھایا جاتا ہے۔ داستانیں چونکہ بہت لمبی ہوتی ہیں اور ان میں بہت سے دوسری کہانیاں بھی شامل ہوتی ہیں، اس لیے داستانوں میں کرداروں کی تعداد بھی زیادہ ہوتی ہے۔ لیکن داستان رانی کیتکی کی کہانی بہت مختصر ہے، اس لیے دوسری داستانوں کے مقابلے میں اس میں کرداروں کی تعداد بہت کم ہے۔ ان میں سے اہم کرداروں کا ذکر نیچے کیا جا رہا ہے۔

رانی کیتکی اس داستان کی ہیروئن یعنی مرکزی کردار ہے۔ رانی کیتکی کا ذکر پہلی بار اس طرح آتا ہے کہ وہ باغ میں اپنی کچھ سہیلیوں کے ساتھ جھولا جھول رہی ہوتی ہے۔ کنور اودے بھان ایک ہرن کا پیچھا کرتے کرتے راستہ بھول جاتا ہے اور اسی باغ میں پہنچ جاتا ہے جہاں رانی کیتکی اپنی سہیلیوں کے ساتھ جھولا جھول رہی ہوتی ہے۔ اودے بھان کو دیکھتے ہی رانی کیتکی اس پر فدا ہو جاتی ہے، لیکن اپنی محبت کا اظہار نہیں کرتی۔ اس کے بعد کہانی میں کچھ دیر کے لیے رانی کیتکی نظر نہیں آتی۔ دوسری بار کہانی میں رانی کیتکی اس وقت دکھائی دیتی ہے جب اودے بھان کو جادوگر ہرن بنا دیتا ہے۔ اس حالت میں رانی کیتکی بہت بے چین ہو جاتی ہے اور آنکھوں میں بھبھوت لگا کر اس کی تلاش میں نکل پڑتی ہے۔ وہ اودے بھان کا پتا لگا کر ہی سکون سے بیٹھتی ہے اور آخر میں دونوں کی دھوم دھام سے شادی ہو جاتی ہے۔

رانی کیتکی ایک شریف لڑکی ہے۔ وہ ایک ہندوستانی عورت کی طرح اپنی محبت کا کھل کر اظہار نہیں کرتی بلکہ ہندوستانی روایت کا خیال رکھتی ہے۔ وہ مہمان کی خدمت کو اپنا اہم فرض سمجھتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک اجنبی کی خراب حالت دیکھ کر اس کی باتوں پر یقین کر لیتی ہے، جو اس کی معصومیت، سادگی اور سیدھے پن کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ عورتوں کی حیا کی وجہ سے اس اجنبی سے خود بات کرنے کے بجائے اپنی سہیلی مدن بان کے ذریعے بات کرنا بہتر سمجھتی ہے۔ رانی کیتکی کے کردار کے بارے میں ڈاکٹر گیان چند جین اپنی کتاب اردو کی نثری داستانیں میں لکھتے ہیں۔

ان باتوں کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ رانی کیتکی کا کردار بہت اہم ہے۔ جس طرح اس داستان میں ہندوستانی رسم و رواج کا خیال رکھا گیا ہے اسی طرح رانی کیتکی کا کردار بھی ہندوستانی روایت کو ماننے والا نظر آتا ہے۔ وہ بالکل معصوم اور سیدھی سادی لڑکی ہے۔ وہ چنچل اور شوخ بھی ہے۔ وہ اودے بھان کے لیے وفادار بھی ہے اور والدین کی عزت کرنے والی بھی ہے۔ وہ بے باک اور نڈر ہے۔ وقت آنے پر وہ ہمت اور حوصلے سے کام لیتی ہے۔ اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ اس مختصر سی داستان میں انشا اللہ خاں انشا نے رانی کیتکی کے کردار میں کئی طرح کی خوبیاں جمع کر دی ہیں۔

کنور اودے بھان اس داستان کا اہم کردار ہے، جو سورج بھان اور رانی لکشمی باس کا اکلوتا بیٹا ہے۔ وہ خوبصورت، نوجوان اور حسین ہے اور رانی کیتکی کا عاشق ہے۔ جدائی کے لمحے اس کے لیے بہت مشکل ہوتے ہیں، مگر اپنی محبوبہ کو حاصل کرنے کے لیے وہ زیادہ کوشش نہیں کرتا۔ اس کے ماں باپ اس کی یہ حالت دیکھ کر جگت پر کاش کے پاس شادی کا پیغام بھیجتے ہیں۔ البتہ جنگ کے دوران کنور اودے بھان رانی کیتکی سے اپنے ساتھ چلنے کے لیے کہتا ہے، لیکن رانی کیتکی اس کے ساتھ جانے سے انکار کر دیتی ہے۔ اس پر بھی اس کی طرف سے کوئی خاص ردِ عمل سامنے نہیں آتا بلکہ وہ خاموش ہو جاتا ہے۔ وہ ایسا عاشق ہے جو ہر تکلیف کو خاموشی سے برداشت کر لیتا ہے۔ اسے آدمی سے ہرن اور پھر ہرن سے آدمی بنایا جاتا ہے، تب جا کر اسے اپنی محبوبہ ملتی ہے۔

اس کہانی میں کنور اودے بھان کو عملی طور پر کم ہی دکھایا گیا ہے۔ اس کے کردار میں کچھ جگہوں پر تضاد بھی نظر آتا ہے۔ ایک طرف کنور اودے بھان شکار کے وقت خطرات کا سامنا کرنے سے نہیں ڈرتا، اور دوسری طرف جنگ کے وقت لڑنے کے بجائے رانی کیتکی کے ساتھ بھاگ جانے کا ارادہ کر لیتا ہے۔ والدین اور خاندان کی بدنامی کے ڈر سے وہ اپنے عشق کا اظہار نہیں کرتا، مگر رانی کیتکی کے ساتھ بھاگنے کا ارادہ کرتے وقت وہ یہ بھول جاتا ہے کہ اس کے اس کام سے بھی والدین اور خاندان کی بدنامی ہو سکتی ہے۔ غرض کنور اودے بھان کا کردار تضاد سے بھرا ہوا ہے اور عملی طور پر بھی زیادہ فعال نہیں ہے۔

مدن بان، رانی کیتکی کی سہیلی ہے۔ ایک اچھی سہیلی میں جو خوبیاں ہونی چاہئیں وہ سب انشا اللہ خان نے مدن بان کے کردار میں ڈال دی ہیں۔ وہ رانی کیتکی کی رازدار بھی ہے اور مشورہ دینے والی بھی ہے۔ اس کے کردار میں شوخی اور شرارت بھی ہے اور سنجیدگی اور سنبھلاؤ بھی۔ وہ بہت ذہین اور سمجھدار بھی ہے اور موقع کے مطابق کبھی کبھی جذباتی بھی ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس داستان میں مدن بان کا کردار بہت دل کش، فعال اور جاندار نظر آتا ہے۔ پوری کہانی میں مدن بان کی وجہ سے رونق اور دلچسپی بنی رہتی ہے اور کہیں بھی بے دلی یا اکتاہٹ محسوس نہیں ہوتی۔

جگت پرکاش رانی کیتکی کا باپ ہے۔ اس کے اندر باپ کے کردار کی تمام خوبیاں موجود ہیں اور اپنی بیٹی کیکی کی خوشی کے لیے کچھ بھی کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔

رانی کام لیتا جگت پرکاش کی بیوی اور کیکی کی ماں ہے۔ یہ ہندوستانی رسم وراج کی پاسدار کرنے والی خاتون ہے اور اپنے شوہر کے ہر فیصلے پر ساتھ دیتی ہے۔

سورج بھان کنور اودے بھان کا باپ ہے۔ یہ بھی جگت پرکاش کی طرح اپنے بیٹے کی خوشی کے لیے بہت کچھ کرتا ہے۔ پہلے جگت پر کاش کے پاس اپنے بیٹے اودے بھان کے لیے رانی کیتکی کا ہاتھ مانگتا ہے۔ سورج بھان کے انکار کرنے پر جنگ کا اعلان کر دیتا ہے۔

سورج بھان کی بیوی اور کنور اودے کی ماں ہے۔ اس کا داستان میں کوئی خاص کردار نہیں ہے۔ اس کا تذکرہ صرف سورج بھان کی بیوی اور کنور اودے کی ماں کے طور پر ہوتا ہے۔

مہندر گر جگت پر کاش کا گرو ہے، جو جادو کی مدد سے کنور اودے اور اس کے لشکر کو ہیرن کی شکل میں تبدیل کر دیتا ہے۔ غرض کہ انشا نے اس داستان کے کرداروں میں تمام عمل اور وسعت بھر دی ہے۔ رانی کیتیکی کی کہانی میں کوئی ایسی دلکشی نہیں جو دل پر نقش چھوڑ جائے لیکن کیکی اور مدن بان کے کردار اتنے پرکشش اور دل کش ہیں کہ قاری انہیں آسانی سے نہیں بھلا پاتا اور یہی انشا کی کردار نگاری کی خوبی ہے جس کی وجہ سے یہ داستان آج بھی پسند کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے۔

داستانوں میں مکالموں کی بھی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ مکالمہ نگاری کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ کرداروں کے مزاج، ان کی فطرت اور تہذیبی و ثقافتی ماحول کے مطابق ہوں۔ رانی کیتکی کی کہانی کے مکالمے بول چال کی سیدھی سادی اور محاورے والی زبان میں ہیں اور کرداروں کی فطرت اور ان کے تہذیبی پس منظر کے مطابق ہیں۔ انشا نے اس داستان میں اس بات کا خاص خیال رکھا ہے کہ کرداروں کے جذبات کا اظہار مکالموں کے ذریعے پوری طرح ہو سکے۔ اس کوشش میں وہ کافی حد تک کامیاب بھی ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر یہ اقتباسات ملاحظہ ہوں۔

مذکورہ بالا اقتباسات میں کرداروں کے جذبات کا اچھے طریقے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ پہلے اور دوسرے اقتباسات میں رانی کیتکی کے جذبات کا اظہار صاف طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اسی طرح تیسرے اقتباس میں رانی کیتکی کی ہمزاد مدن بان اور چوتھے اقتباس میں اودے بھان کے جذبات کا اظہار بخوبی محسوس کیا جا سکتا ہے۔

داستانوی ادب (داستان، ناول، ڈراما، افسانہ وغیرہ) میں منظر نگاری کی بہت اہمیت ہوتی ہے۔ منظر نگاری کے بغیر قاری متن کے ماحول سے واقف نہیں ہو سکتا اور اس کے ثقافتی و تہذیبی پہلوؤں کو بھی سمجھ نہیں سکتا۔ داستان میں منظر نگاری کی اہمیت اور بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے کیونکہ داستانیں لمبی ہوتی ہیں، اس لیے کہانی کو زیادہ دلچسپ بنانے کے لیے منظر نگاری بہت ضروری ہوتی ہے۔

رانی کیتکی کی کہانی چونکہ مختصر داستان ہے، باجود اس کے انشا اللہ خاں انشا نے اس داستان میں منظر نگاری کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے اس داستان میں ہندوستانی تہذیب و ثقافت کے ساتھ ساتھ موسیقی کے مختلف سازوں اور پھولوں پھلوں کا ذکر اس طرح پیش کیا ہے کہ پورا منظر آنکھوں کے سامنے گھومنے لگتا ہے۔ مثال کے طور پر درج ذیل اقتباسات ملاحظہ ہوں۔

جزئیات نگاری کے معاملے میں بھی رانی کیتکی کی کہانی دوسری داستانوں کے مقابلے کم اہمیت کی حامل نہیں ہے۔ انشا اللہ خاں انشا نے کنور اودے بھان اور رانی کیتکی کی شادی کے موقع پر بھرپور منظر پیش کیا ہے۔ کیونکہ شادی کی تقریب ایک ایسا موقع ہے جس کے ذریعے کسی معاشرت کی پوری عکاسی کی جا سکتی ہے۔ اس بارے میں انتظار حسین لکھتے ہیں۔

انتظار حسین نے جن باتوں کی طرف اشارہ کیا ہے ان کی مثال ذیل میں پیش کی جارہی ہے۔ رانی کیتکی اور اودے بھان کی شادی کے موقعے پر انشا نے رانی کیتکی کے سرایا اور اس کی طبعیت کی کیفیت کی جزئیات کو جس طرح پیش کیا ہے وہ قابل تحسین ہے۔

تمام داستانوں کی طرح رانی کیتکی کی کہانی میں بھی مافوق الفطری عناصر بہت اچھی طرح موجود ہیں۔ یہ عناصر ہندو دیو مالا سے لیے گئے ہیں۔ آج ہم جسے مافوق الفطری عناصر کہتے ہیں وہ اس زمانے کے لوگوں کے نزدیک حقیقت تھی۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس زمانے میں ہوا میں اُڑنا، انسان کی شکل بدل دینا اور پھر اصل حالت پر واپس آنا، بال جلتے ہی چشم زون میں پہنچ جانا، آنکھوں میں بھبھوت لگا کر لوگوں کی نظروں سے غائب ہو جانا، کام دھین گائے (جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جو کچھ مانگو وہ اس کے نتھنوں سے نکل آئے) وغیرہ سب حقیقت سمجھے جاتے تھے۔

داستان کا ایک اہم حصہ رزم بھی ہے۔ داستانوں میں شہزادہ اور شہزادی کے عشق کے قصے بیان کیے جاتے ہیں۔ عام طور پر داستانوں میں یہی ہوتا ہے کہ شہزادہ اور شہزادی ایک دوسرے سے محبت کرنے لگتے ہیں، جب یہ بات محلوں میں پہنچتی ہے تو دونوں طرف کے راجا رانی کو یہ بات پسند نہیں آتی اور وہ جنگ کا اعلان کر دیتے ہیں۔ اس داستان میں بھی یہی ہوا ہے۔

جب سورج بھان رانی کیتکی کے گھر ایک برہمن کو اپنے بیٹے کے رشتے کے لیے بھیجتا ہے تو رانی کیتکی کا باپ اس برہمن کو واپس بھیج دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اس کا ہمارے خاندان سے کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ اس کے باپ دادا ہمیشہ ہمارے قدموں میں رہتے تھے۔ برہمن واپس آ جاتا ہے اور پورا ماجرا سورج بھان کو سناتا ہے۔ برہمن کی باتیں سن کر سورج بھان کو غصہ آ جاتا ہے اور وہ رانی کیتکی کے باپ سے جنگ کا اعلان کر دیتا ہے، اور دونوں مہاراجوں کے درمیان جنگ شروع ہو جاتی ہے۔ اقتباسات ملاحظہ ہوں۔

انشا نے اس داستان میں بزم نگاری پر بھی بہت خوب لکھا ہے۔ سورج بھان اور جگت پرکاش کے درمیان جنگ ختم ہونے کے بعد جب رانی کیتکی اور اودے بھان کی شادی طے ہو گئی تو اس موقع پر انشا نے بہت خوب منظر پیش کیا ہے۔ اس موقع پر راگ اور راگنیوں کو بہت دلچسپ انداز میں دکھایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ رقص، ساز، ناچ گانے، سنگیت، بھنڈ تال اور رہس وغیرہ کو بہت خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔

رانی کیتکی کی کہانی صرف اپنے زبان و بیان کی وجہ سے اتنی مقبول ہوئی ہے۔ انشا نے یہ داستان صرف اپنی زبان دانی دکھانے کے لیے لکھی تھی۔ انشا عربی اور فارسی کے ماہر تو تھے ہی، انہیں ہندوستانی زبان میں بھی مہارت تھی، جس کا ثبوت انہوں نے یہ داستان لکھ کر دیا ہے۔ انہوں نے کرداروں کے سماجی و ثقافتی ماحول کو دیکھ کر ایسی زبان استعمال کی ہے جس میں یہ کوشش کی گئی ہے کہ ہندی کے علاوہ کسی اور زبان کے الفاظ نہ آئیں۔ کردار وہی زبان بولتے ہیں جو انہیں فطری طور پر بولنی چاہیے۔ انشا نے اس داستان میں پوری کوشش کی ہے کہ عربی و فارسی کے الفاظ استعمال نہ ہونے کی وجہ سے بیان کی خوبصورتی خراب نہ ہو اور کہانی کی کہنے کا انداز ایسا ہو کہ قاری کی دلچسپی کہانی میں برقرار رہے۔ پروفیسر عبدالستار دلوی اس کے ہندی ہونے کے بارے میں لکھتے ہیں کہ

در اصل کسی بھی زبان کی اہمیت اس کے الفاظ کے ذخیرے سے نہیں بلکہ اس کے قواعد سے طے کی جاتی ہے۔ اس میں طریقہ افعال اور مشتقات کو بنیادی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ تحریر میں محاورے، جملے کے ترکیب، مرکبات وغیرہ کس زبان کے اصول کے مطابق استعمال ہوئے ہیں، اس سے بھی زبان کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ رانی کیتکی کے طریقہ افعال، مشتقات، جملوں کی ترکیب، مرکبات، لفظی تکرار اور سابقہ لاحقہ وغیرہ پر نظر ڈالی جائے تو وہ اردو کے مطابق لگتی ہیں۔

المختصر یہ کہ انشا نے اس داستان میں زبان دانی دکھانے کے لیے ہندی الفاظ ضرور استعمال کیے ہیں لیکن تحریر کا اصول خالص اردو کا ہے۔ انشا نے ایک طرف ہندی الفاظ استعمال کیے ہیں اور دوسری طرف اردو کا انداز اپنایا ہے۔ چونکہ الفاظ کسی بھی زبان کے ہوں، تحریر اسی زبان کی کہلائے گی جس زبان کے اصول پر لکھی گئی ہو۔ انشا نے یہ داستان اردو کے انداز میں لکھی ہے۔ اس لیے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ رانی کیتکی کی کہانی اردو زبان میں لکھی گئی ہے اور پورے طور پر زبان و بیان پر ہی مبنی ہے۔ پروفیسر صاحب علی لکھتے ہیں۔

This post is a detailed literary analysis of Rani Ketki Ki Kahani by Insha Allah Khan Insha, highlighting its artistic features. It examines the plot, character development, dialogues, scenes, supernatural elements, battles, and cultural settings. The analysis emphasizes the story’s simple yet complete structure, the purity of its Hindi-Urdu language, and the author’s skill in blending Indian traditions with literary style, making it a classic example of Urdu storytelling.