رجب علی بیگ سرور ایک اعلیٰ درجے کے لکھنے والے اور منفرد انداز کے مالک ہیں۔ انھوں نے پہلے لکھنے والوں کی نقل نہیں کی بلکہ داستانی ادب میں ایک نیا انداز قائم کیا۔ فسانہ عجائب کی زبان عربی، فارسی اور اردو کے ملاپ سے بنی ہے۔ یہ داستان لکھنؤ کی معیاری زبان کی اچھی مثال ہے۔ اس میں اسلوب کے مختلف رنگ ملتے ہیں۔ بنیادی طور پر دو رنگ نمایاں ہیں: پہلا سادہ اور آسان، دوسرا مشکل اور بناوٹی انداز والا۔ سرور نے فارسی ملا ہوا نثر، فارسی ترکیبیں، عربی الفاظ، جملے اور محاورے کھل کر استعمال کیے ہیں۔ انھوں نے آسان زبان اور عام انداز بیان بھی اختیار کیا ہے۔

سرور کو واقعات بیان کرنے اور کہانی سنانے میں مہارت حاصل ہے۔ ان کے انداز میں جذباتی بیان، رائے دینے کا طریقہ، اور پسند و ناپسند کا اظہار پایا جاتا ہے۔ ان کی زبان میں نرمی، الفاظ پر مضبوط گرفت، آسانی سے سمجھ آنے والی عبارت، صاف اور درست بیان، اور خوبصورت لفظی سجاوٹ موجود ہے۔ ان کا انداز نثری شاعری، بیگماتی زبان کی مٹھاس، مکالماتی انداز، ہلکے پھلکے طنز و مزاح، کرداروں کی عادتوں کی تصویر کشی، اور مزاحیہ کیفیتوں کے اظہار سے بنا ہے۔

اسلوب کا تعلق نہ صرف مصنف کی ذات سے ہوتا ہے بلکہ معاشرے سے بھی ہوتا ہے۔ اسی لیے فسانہ عجائب میں لکھنؤ کی تہذیب اور زبان کے گہرے اثرات نظر آتے ہیں۔ فسانہ عجائب کی زبان میں تخیل، لفظی خوبصورتی، شاندار الفاظ، آسائش کی جھلک، جذباتیت، جنسی لطف، عورتوں کے محاورے، لفظوں کا کھیل، شعری وزن اور قافیہ، لفظی اور معنوی خوبیاں شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ آسان زبان کی مثالیں، مشکل اور رنگین انداز بیان، ہلکے مزاحیہ جملے، محاوراتی انداز، ضرب الامثال کی مٹھاس، اور فارسی و عربی الفاظ کا استعمال بھی ملتا ہے۔

سرور نے فسانہ عجائب میں تشبیہات اور استعارات کا بہت زیادہ استعمال کیا ہے۔ اس کے زیادہ تر جملے تشبیہ اور استعارہ سے بھرے ہوئے ہیں۔ سرور کی خاص بات یہ ہے کہ انھوں نے نئی نئی تشبیہیں اور استعارے پیدا کیے۔ انھوں نے ان کے ذریعے مبالغہ یعنی بڑھا چڑھا کر بیان کرنے کا خوب استعمال کیا ہے۔ ملک ختن اور شہر فسحت آباد کی تعریف ہو، یا بادشاہ فیروز بخت کی شان و شوکت اور سخاوت بیان کرنی ہو، یا جنگ و محفل کی تصویر دکھانی ہو، سرور کا قلم خوب چلتا ہے۔ ان کی تحریر میں مینو سواد، بهشت نژاد، خوبان زمان، رشک سرو، غیرت شمشاد، دافع خفقاں، قباد شوکت، کاؤس حشم، حاتم شعار، تصور مانی، صناعی آزر، فخر لعبتان لندن وچیں، رشک لیلی، غیرت قیس، لعل بدخشاں، فخر سامری، اختر سپہر شہریاری جیسے بہت سے تشبیہی اور استعاراتی الفاظ ملتے ہیں۔

سرور کو اردوئے معلی، شاہی انداز گفتگو، محاوراتی زبان، بیگمات، مغلانیاں، خواصیں، محل دارنیاں، انائیں، مامائیں، چھو چھو، کنیزیں اور خادماؤں کی زبان پر مہارت حاصل ہے اور انھوں نے بہت خوبصورتی سے ان کے بولنے کے انداز کو پیش کیا ہے۔ سرور نے اپنے اسلوب کو زیادہ اثر دار بنانے کے لیے جگہ جگہ اردو اور فارسی اشعار، جملے، محاورے اور ضرب الامثال کا بھرپور استعمال کیا ہے۔ ذیل میں سرور کے اسلوب بیان کی چند اہم خصوصیات کو زیر بحث لایا گیا ہے۔

سرور کا اسلوب سجع اور قافیہ دار نثر سے سجا ہوا ہے۔ یہ ایسی عبارت ہوتی ہے جس میں الفاظ کے آخر میں ہم آواز الفاظ کا خیال رکھا جاتا ہے۔ اس میں عبارت کو خوبصورت بنانے پر خاص توجہ دی جاتی ہے۔ بعض اوقات قافیہ بندی اور لفظی بناوٹ کی وجہ سے انداز بیان میں مشکل اور الجھاؤ بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ اس کے باوجود سرور نے اپنے اسلوب میں قافیہ بندی اور جملوں کی خوبصورت ترتیب سے شاعرانہ حسن پیدا کر دیا ہے۔ دراصل قافیہ بندی سرور کا خاص انداز ہے۔ سرور نے جان بوجھ کر کوشش کی کہ زیادہ سے زیادہ جملے قافیہ بندی کے اصول پر ہوں۔ سرور کے اس انداز بیان سے نثر میں شاعری جیسا حسن پیدا ہو گیا ہے، لیکن بعض جگہوں پر قافیہ بندی میں صفائی اور ترتیب کی کمی بھی نظر آتی ہے، جس سے بیان میں کچھ بے لطفی محسوس ہوتی ہے۔ تاہم جہاں سرور نے مہارت اور سلیقے سے کام لیا ہے وہاں اسلوب کی خوبصورتی اور بڑھ گئی ہے۔ ذیل کے اقتباس میں قافیہ بندی اور شاعرانہ انداز کو اچھی طرح محسوس کیا جا سکتا ہے

سرور نے اپنے اسلوب میں ایک خاص انداز پیدا کیا ہے۔ یہ انداز اضافی ترکیب کے اصول پر قائم ہے۔ فسانۂ عجائب میں مرکب الفاظ کی بڑی تعداد موجود ہے۔ سرور صرف دو یا تین لفظوں کے مرکب پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ کئی کئی لفظوں کے مرکب بنانے کو پسند کرتے ہیں۔ سرور اس فن کا استعمال خاص طور پر شروع کے جملوں میں زیادہ کرتے نظر آتے ہیں۔ سرور کا یہ خاص انداز صرف ان کی اپنی پہچان نہیں بلکہ لکھنوی معاشرے کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ ذیل کے اقتباس میں مرکب الفاظ کی مثالیں دیکھی جا سکتی ہیں۔

سرور کے اسلوب میں رعایت لفظی بھی ایک خاص انداز ہے۔ فسانہ عجائب میں لفظی رعایت کا استعمال بہت زیادہ کیا گیا ہے۔ رعایت لفظی کی وجہ سے کہیں عبارت کی خوبصورتی بڑھ گئی ہے تو کہیں اسلوب بھاری اور مشکل ہو گیا ہے۔ لفظی رعایت کی زیادہ تعداد سے زبان اور بیان میں کبھی خرابی بھی پیدا ہو گئی ہے۔ چونکہ سرور کو زبان پر خاص مہارت حاصل تھی، اس لیے انھوں نے اپنی زبان دانی دکھانے کے لیے بہت سے تجربے کیے۔ نئے نئے الفاظ اور نئی نئی رعایتیں بنائیں۔ بعض اوقات ان کی لفظی رعایتیں بھدی اور سطحی بھی لگتی ہیں۔ ایسی مثالیں فسانۂ عجائب میں بہت ملتی ہیں۔ اس کے علاوہ شاہی کاموں اور جلسوں میں جس طرح لفظی رعایتوں کا استعمال ہوا ہے، وہ واقعی حیران کن اور دلکش ہے۔ ذیل کے اقتباس میں رعایت لفظی کی مثال دیکھی جا سکتی ہے اور یہ بھی محسوس کیا جا سکتا ہے کہ زبان اور بیان میں کس حد تک خرابی پیدا ہوئی ہے۔

سرور کی تحریر میں تازگی، لفظوں کے ذریعے تصویر بنانا اور کرداروں کی عادتوں کی عکاسی ملتی ہے۔ ان کی بیان کرنے کی طاقت ایسی ہے کہ شاہی جلسے جلوس، رسم و رواج، عقیدے اور توہمات، کھانے پینے کے انداز، بازار کی رونق اور قدرتی مناظر ایک جیتی جاگتی تصویر کی طرح سامنے آ جاتے ہیں۔ سرور لفظوں کے کھیل میں بے مثال تھے۔ انھیں لفظوں کے چناؤ، ترتیب اور خوبصورتی پر مکمل گرفت حاصل تھی۔ وہ لفظوں کے ذریعے منظر دکھانے میں ماہر تھے۔ ان کے پاس لفظوں کا بہت بڑا ذخیرہ تھا اور ان کے تجربات اور مشاہدات بھی گہرے تھے۔ انھوں نے فسانۂ عجائب میں مرقع نگاری کی کئی اعلیٰ مثالیں پیش کی ہیں۔ ملکہ مہر نگار کی سواری، جان عالم اور انجمن آرا کی شادی، شاہی جلوس، بازار کی رونق، کوہ مطلب برآر کے جوگی کی کٹیا اور جنگ کے مناظر اس طرح بیان کیے ہیں کہ ایک جیتی جاگتی تصویر آنکھوں کے سامنے آ جاتی ہے۔ ایسی تصویر کشی وہی کر سکتا ہے جو اس تہذیب اور معاشرے کو قریب سے جانتا ہو۔ سرور صرف دیکھنے والے نہیں تھے بلکہ لکھنوی تہذیب میں پلے بڑھے اور اس کے دلدادہ تھے، اسی لیے انھوں نے شاہی اور سماجی مناظر کو حقیقت کے رنگ میں پیش کیا ہے۔

فسانہ عجائب کی داستان عام کہانیوں سے آگے بڑھتی ہے لیکن اس کا ماحول طلسماتی سے زیادہ حقیقت پسندانہ ہے۔ داستان کی زبان صرف واقعات سنانے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک تہذیب اور معاشرے کی عکاسی بھی کرتی ہے۔ فسانۂ عجائب میں ایسا معاشرہ دکھایا گیا ہے جس میں مختلف مذاہب اور زبانیں بولنے والے لوگ شامل ہیں۔ معاشرہ خود ایک کردار کی طرح ہوتا ہے، جس کی اپنی زبان، طریقے اور محاورے ہوتے ہیں۔ معاشرے کی یہ زبان اور انداز اسلوب کے ڈھانچے کو تیار کرتا ہے۔ فسانہ عجائب بھی اسی طرح کے ڈھانچے پر بنی ہے، جس میں فارسی، عربی اور اردو کے ساتھ ہندی اور سنسکرت کے الفاظ بھی استعمال ہوئے ہیں۔ سرور نے کرداروں کے مطابق ہندی کے الفاظ بہت خوبصورتی سے استعمال کیے ہیں، جیسے کہ بھگوان کی دیا، چندر ماں، دھرم مورت، راج پر براجے، پر تھی، استری، سینچر، پنکھیر و، تریا، بچن، راج پاٹ، دیس بدیس، ڈگر، مانس، منکھ، ٹھاکر، سیوک منگنی، ٹھا کر، سیوک کلنکنی، لوبھی، کشٹ، مہا سندر، چرن پر پر ان وارے، پر پر ان وارے، پتا، گیانی، گن، ملیچھ، دکھ، کاج، اج، چیت، لاب، کلیس، ہستی، کپٹی، د چت، برناری، پریتی، دیا دھرم، گیاں، دھرتی، راج ہٹ، تر یا ہٹ، بالک ہٹ وغیرہ۔ ذیل کے اقتباس میں سرور نے بہت خوبصورتی سے داستان کا حاصل بیان کیا ہے۔

رجب علی بیگ سرور کو مکالمہ لکھنے میں مہارت حاصل ہے۔ ان کا اسلوب مکالماتی زبان اور انداز سے مزین ہے جس میں وضاحت اور دلکشی پائی جاتی ہے۔ انھوں نے مکالمے میں کردار کی جنس، مرتبہ، شخصیت اور جذبات کا پورا خیال رکھا ہے۔ انھوں نے اپنے مکالموں کے ذریعے کردار کی شخصیت اور رویے کو دکھانے میں بھی مدد لی ہے۔ انھیں کرداروں، خاص طور پر خواتین کی زبان پر مہارت حاصل ہے اور بیگمات، لونڈیاں اور کنیزوں کے خاص انداز گفتگو پر بھی ان کی گرفت مضبوط ہے۔ سرور نے ماہ طلعت اور اس کی بیگمات و کنیزوں کی زبان، ملکہ مہر نگار اور خادماؤں کی زبان یا انجمن آرا اور محل کی دیگر خواتین کی زبان کے استعمال میں مہارت دکھائی ہے۔

سرور کے مکالموں میں لکھنوی لہجہ، مخصوص لکھنوی نزاکت، قدرتی انداز بیان، ہلکی پھلکی چالاکی، حاضر جوابی، فوری گفتگو، بول چال کی زبان اور سادہ عام زبان کا کھلا استعمال ملتا ہے۔ داستانوں میں عام طور پر غیر حقیقی ماحول ہوتا ہے لیکن سرور نے اپنے مکالموں کے ذریعے فسانۂ عجائب میں طلسماتی ماحول کے بجائے معاشرتی ماحول قائم کیا ہے۔

سرور اپنے مکالموں میں کرداروں کے مرتبے، حیثیت، شخصیت، مزاج اور علمیت کا خاص خیال رکھتے ہیں۔ سرور کا کمال یہ ہے کہ وہ اپنے مکالموں میں کردار کی صرف ظاہری تصویر نہیں دکھاتے بلکہ کردار کے جذبات، احساسات اور نفسیاتی حالت کو بھی نمایاں کرتے ہیں۔ داستان میں جان عالم اور ملکہ مہر نگار کے درمیان گفتگو میں سرور نے مکالمہ نویسی کی بہترین مثال پیش کی ہے۔ اسی طرح جان عالم اور انجمن آرا کے مکالمے کو بھی زبان کی خوبصورتی اور جذبات سے بھرپور بنایا گیا ہے۔ سرور کے مکالموں میں ڈرامائی اثر بھی ملتا ہے۔ سرور کی مکالمہ نویسی کا کمال ماہ طلعت اور طوطے کی جھگڑالاپن میں اچھی طرح دیکھا جا سکتا ہے۔ سرور کے مکالمے کا ایک اعلیٰ مثال اس وقت بھی دیکھی جا سکتی ہے جب جان عالم کی ملاقات ملکہ مہر نگار سے ہوئی۔ اس دوران خواصوں نے جب ایک اجنبی کو دیکھا تو حیران ہوئیں۔ اس موقع پر مصنف نے ان کے ذہنی احساسات کو مکالمے کی شکل میں کچھ یوں پیش کیا ہے

کچھ بولیں: ان درختوں سے چاند نے کھیت کیا ہے۔

کوئی بولی: نہیں ری ! سورج چھپتا ہے۔

کسی نے کہا: غور سے دیکھ ، ماہ ہے۔

ایک جھانک کے بولی: باللہ ہے، مگر چودہویں کا چاند ہے۔

دوسری نے کہا: اس کے رو بہ رو وہ بھی ماند ہے۔

ایک نے غمزے سے کہا: چاند نہیں تو تارا ہے۔

دوسری چٹکی لے کے بولی: اچھال چھ کا! تو بڑی خام پارا ہے۔

ایک بولی: سرو ہے یا چمن حسن کا شمشاد ہے۔

دوسری نے کہا: تیری جان کی قسم پرستان کا پری زاد ہے۔

فسانہ عجائب میں فارسی، عربی اور یونانی تلمیحات کا کھلا استعمال کیا گیا ہے۔ سرور نے خسرو پرویز ( ایران کے بادشاہ، ہر منر ثالث کا بیٹا اور شیریں کا عاشق)، فرہادش بڑھیا (شیریں کو جھوٹی خبر دینے والی)، زردشت (مذہب آتش پرستی کا بانی)، خزانہ قارون (حضرت موسیٰ کے زمانے کا مالدار یہودی کا خزانہ)، منصور حلاج (انا الحق کہنے والا صوفی) اور لات، منات (عرب کے مشہور دو بت) جیسی تلمیحات تحریر میں شامل کی ہیں۔ علاوہ ازیں، انھوں نے فرماں روانِ اودھ اور شہر لکھنو کی تصویر کشی کرتے وقت یونان کے مشہور فلسفی سقراط، یونانی حکیم بقراط اور جالینوس کی تلمیحات بھی استعمال کی ہیں۔

رجب علی بیگ سرور نے نصیر الدین حیدر کی تخت نشینی کا ذکر کرتے وقت نواب کے لیے شاہ جم جاہ اور شاہ حاتم کی تاریخ پیش کی ہے۔ سرور نے اپنے اشعار میں جام جم (جمشید کا پیالہ) اور بلبل شیراز یعنی شیخ سعدی کی تلمیحات استعمال کر کے شعرائے لکھنؤ کی عظمت بڑھائی ہے۔ انھوں نے لکھنو میں کتاب چھاپنے کی تعریف میں کتاب پارینہ کے لیے معجزہ عیسی اور چھپی ہوئی کتاب کے لیے مرقع مانی کی تلمیح استعمال کی ہے۔

رجب علی بیگ نے شہنشاہ فیروز بخت کا موازنہ سکندر سے کیا ہے۔ انھوں نے سکندر کے علاوہ دارا (ایران کا مشہور بادشاہ، جسے سکندر نے شکست دی تھی)، قباد (مشہور ایرانی بادشاہ) اور کاؤس (ایران کا ایک مشہور بادشاہ) جیسی تلمیحات بھی استعمال کی ہیں۔ سرور نے جان عالم کے حسن و جمال، بہادری اور خوبصورتی کے لیے مانی (مشہور ایرانی مصور و خطاط)، بهزاد (مشہور ایرانی نقاش اور مصور)، آزر (حضرت ابراہیم کے مشرک باپ اور ماہر بت تراشی)، رستم (ایران کا مشہور پہلوان، باپ کا نام زال اور دادا کا نام سام)، اسفند یار (ایرانی بادشاہ گشتاسپ کا بیٹا)، یعقوب اور یوسف جیسی تلمیحات استعمال کی ہیں۔

سرور نے عشقیہ کہانیاں بیان کرنے کے لیے شیریں فرہاد، یوسف زلیخا، لیلی مجنوں، دمن نل اور عذرا وامق جیسے تاریخی کردار شامل کیے ہیں۔ مصنف نے جان عالم کے لیے یوسف گم گشتہ اور بادشاہ فیروز بخت کے لیے چشم دیدۂ یعقوب کی تلمیح استعمال کی ہے۔ سرور نے ملکہ مہر نگار کے لیے بلقیس وش (قدیم شہر سبا کی ملکہ، جو حضرت سلیمان کے نکاح میں آئی تھی)، رشک مہ پیر کنعاں، رشک لیلی، غیرت قیس، سحر سامری (حضرت موسیٰ کے زمانے کا بڑا جادوگر) جیسی تلمیحات استعمال کی ہیں۔ انھوں نے ملکہ مہر نگار کی محفل رقص و سرود کے ذکر میں ایرانی بادشاہ خسرو پرویز کے دربار کے مشہور مغنی بار باور نکیسا کا بھی ذکر کیا ہے۔

مختصر یہ کہ فسانہ عجائب میں فارسی تہذیبی اور تلمیحاتی زبان و روایات کا بڑا خزانہ موجود ہے۔

This post examines Dastan Fasana-e-Ajaib by Rajab Ali Beg Suroor, highlighting his distinctive narrative style, rich blend of Urdu, Persian, and Arabic, vivid imagery, dialogue, metaphors, cultural references, and Lucknow’s literary elegance.