علی گڑھ تحریک کی ادبی خدمات
علی گڑھ تحریک کا تعارف
سرسید نے اس تحریک کا آغاز جنگِ آزادی سے کچھ پہلے ہی کر دیا تھا۔ غازی پور میں سائنٹفک سوسائٹی کا قیام اسی سلسلے کی ایک اہم کوشش تھی۔ جنگِ آزادی نے سرسید کی شخصیت پر گہرا اثر ڈالا اور انہی حالات نے علی گڑھ تحریک کو مضبوط بنانے میں مدد دی۔ یہ کام اچانک نہیں ہوا بلکہ اس کے پیچھے کئی وجوہات تھیں۔ مثال کے طور پر راجا رام موہن رائے کی تحریک نے بھی ان پر اثر ڈالا، لیکن سب سے زیادہ اثر سقوطِ دلی کے واقعے نے کیا۔ اس واقعے نے ان کی سوچ اور عملی زندگی میں بڑی تبدیلی پیدا کر دی۔ شروع میں وہ مایوس اور دل برداشتہ ہو گئے، مگر اسی واقعے نے ان کے اندر کے مصلح کو جگا دیا۔
علی گڑھ تحریک کا بیج جو پہلے خاموشی سے پروان چڑھ رہا تھا، اب کھل کر سامنے آنے لگا۔ چنانچہ اس واقعے سے متاثر ہو کر سر سید احمد خان نے قوم کی خدمت کو اپنا مقصد بنا لیا۔ ابتدا میں انہوں نے ایسے کام کیے جو مذہبی نوعیت کے نہیں تھے اور وہ قومی سطح پر سوچتے تھے۔ وہ ہندوؤں کو کسی طرح کا نقصان پہنچانے سے بچتے تھے۔ لیکن ورینکلر یونیورسٹی کی تجویز پر ہندوؤں کے سخت اور جانبدارانہ رویے نے ان کی سوچ بدل دی۔ اس کے بعد ان کے دل میں مسلمانوں کی الگ قومی حیثیت کا خیال مضبوط ہو گیا اور وہ صرف مسلمانوں کی ترقی اور بھلائی کے لیے کام کرنے لگے۔
اس مقصد کے لیے تعلیمی ادارے قائم کیے گئے اور رسالے جاری کیے گئے تاکہ مسلمانوں کو ترقی کی راہ پر لایا جا سکے۔ 1869ء میں سرسید کو انگلستان جانے کا موقع ملا۔ وہاں جا کر انہوں نے فیصلہ کیا کہ ہندوستان میں بھی کیمبرج کی طرز کا ایک تعلیمی ادارہ قائم کیا جائے۔ انگریزی اخبارات سے متاثر ہو کر انہوں نے تعلیمی ادارے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی سماجی زندگی میں بہتری لانے کے لیے ایک رسالہ جاری کرنے کا ارادہ کیا اور ”رسالہ تہذیب الاخلاق“ شروع کیا، جس نے ان کے خیالات پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا۔
1875ء میں انہوں نے ”محمڈن اینگلو اورینٹل کالج“ کی بنیاد رکھی، جسے 1920ء میں یونیورسٹی کا درجہ ملا اور آج یہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ سرسید کا کہنا تھا کہ اعلیٰ تعلیم وہ ذریعہ ہے جس کے ذریعے قوم اپنے حقوق حاصل کر سکتی ہے۔
اس تحریک کے دیگر قائدین میں محسن الملک، وقار الملک، مولانا شبلی نعمانی، مولانا الطاف حسین حالی اور مولانا چراغ علی قابلِ ذکر ہیں۔ ان سب نے اہم کام انجام دیے اور تحریک کو مضبوط بنایا۔ اسی طرح مسلمانوں کی نشاۃ الثانیہ کا آغاز ہوا۔
علی گڑھ تحریک کا ادبی پہلو
سرسید احمد خان یہ سمجھتے تھے کہ مسلمانوں کی موجودہ خراب حالت کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ انگریزی علوم سے دور ہیں۔ وہ کہتے تھے کہ مسلمانوں کو انگریزی زبان اور تہذیب سے نفرت چھوڑ کر سمجھ بوجھ اور میل ملاپ کا راستہ اپنانا چاہیے۔ دوسری طرف ہندو جدید تعلیم حاصل کر کے تعلیم کے میدان میں مسلمانوں سے آگے نکل گئے تھے اور اچھی سرکاری نوکریاں حاصل کر چکے تھے۔ سرسید احمد خان نے مسلمانوں کو اپنی تعلیمی صلاحیت بڑھانے کی نصیحت کی اور صاف الفاظ میں کہا کہ جب تک وہ سخت اور ضد والا رویہ چھوڑ کر انگریزی علوم نہیں سیکھیں گے، وہ اپنی موجودہ پسماندگی ختم نہیں کر سکیں گے۔ انہوں نے قرآن پاک کے حوالے دے کر سمجھایا کہ انگریزی علوم سیکھنا اسلام کے خلاف نہیں ہے۔ انہوں نے شدت پسند لوگوں سے بھی مسلمانوں کو خبردار کیا۔ مسلمانوں کی تعلیم بہتر بنانے کے لیے انہوں نے کئی عملی کام کیے۔
مراد آباد میں 1859ء میں ایک مدرسہ قائم کیا گیا جہاں فارسی کی تعلیم دی جاتی تھی اور ساتھ ہی انگریزی بھی پڑھائی جاتی تھی۔ 1863ء میں غازی پور میں سائنٹیفک سوسائٹی قائم کی گئی جس کا مقصد انگریزی کتابوں کا اردو اور فارسی میں ترجمہ کرنا تھا تاکہ ہندوستان کے لوگ نئے علوم سے فائدہ اٹھا سکیں۔ 1866ء میں سائنٹیفک سوسائٹی کے تحت ایک اخبار جاری کیا گیا جسے علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ کہا جاتا ہے۔ یہ اخبار اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں شائع ہوتا تھا۔ اس کے ذریعے انگریز حکومت کو مسلمانوں کے خیالات اور جذبات سے آگاہ کیا جاتا تھا۔
سر سید 1869ء میں اپنے بیٹے سید محمود کو حکومت کی طرف سے اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان بھیجا گیا۔ سرسید احمد خان بھی 1869ء میں اپنے بیٹے کے ساتھ انگلستان گئے۔ وہاں انہوں نے آکسفورڈ اور کیمبرج یونیورسٹیوں کے تعلیمی نظام کو دیکھا۔ وہ ان یونیورسٹیوں کے نظام سے بہت متاثر ہوئے اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ ہندوستان واپس جا کر اسی طرز کا ایک کالج قائم کریں گے۔
وہ 1870ء میں انگلستان سے واپس آئے اور ہندوستان میں انجمن ترقی مسلمانان ہند کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا جس کا مقصد مسلمانوں کو جدید تعلیم سے واقف کرانا تھا۔ 1870ء میں انہوں نے رسالہ تہذیب الاخلاق جاری کیا جس میں مسلمانوں کی سماجی کمزوریوں کی نشاندہی کی گئی اور انہیں مشورہ دیا گیا کہ وہ اپنی عادتیں اور حالات بہتر بنائیں۔
اردو ادب اور سرسید
اردو زبان پر سرسید کے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے مولوی عبدالحق کہتے ہیں
اس نے زبان (اردو) کو زوال سے نکالا، اندازِ بیان میں سادگی کے ساتھ مضبوطی پیدا کی، سنجیدہ موضوعات کو جگہ دی، سائنٹیفک سوسائٹی قائم کی، جدید علوم و فنون کے ترجمے انگریزی سے کروائے، خود کتابیں لکھیں اور دوسروں سے بھی لکھوائیں۔ اخبار جاری کرکے اپنے اندازِ تحریر، صاف اور بے خوف تنقید اور اچھی صحافت کو فروغ دیا۔ ”تہذیب الاخلاق“ کے ذریعے اردو ادب میں بڑی تبدیلی پیدا کی۔
سرسید کے زمانے تک اردو کا سرمایہ زیادہ تر قصے کہانیوں، داستانوں، تذکروں، سوانح عمریوں اور مکاتیب تک محدود تھا۔ سرسید تک پہنچتے پہنچتے اردو نثر کم از کم دو بڑی تبدیلیوں سے گزر چکی تھی، جس سے پرانی نثر میں کافی فرق آ چکا تھا۔ خاص طور پر غالب کے خطوط نے نثر پر گہرا اثر ڈالا اور ان کی وجہ سے قافیہ دار اور سجی ہوئی عبارت کی جگہ سادہ اور صاف انداز اپنایا گیا۔ لیکن اس سلسلے کو آگے بڑھانے اور اردو نثر کو مضبوط مقام دلانے کا کام سرسید نے کیا۔
سرسید نے برطانوی حکومت کے دور میں فارسی اور عربی کے زیادہ استعمال کو کم کرکے اردو کو عام فہم بنانے کی کوشش کی تاکہ مسلمانان ہند اپنے علمی کام کو نئی صورت میں جاری رکھ سکیں۔ اس طرح اردو کو آسان، واضح اور علمی زبان بنانے میں مدد ملی۔ ایسی پالیسیوں کی وجہ سے مسلمان سرکاری نوکریوں تک پہنچنے لگے، مگر آزادی حاصل کرنا اب بھی آسان نہ تھا۔
جدید اردو نثر کے بانی
بقول مولانا شبلی نعمانی
اردو انشاءپردازی کا جو آج انداز ہے اُس کے جد امجد اور امام سرسید تھے
سرسید احمد خان، ”اردو نثر “ کے بانی نہ سہی، البتہ ”جدید اُردو نثر“ کا بانی ضرور ہے۔ اس سے پہلے پائی جانی والی نثر میں فارسی زبان کی حد سے زیادہ آمیزش ہے۔ کسی نے فارسی تراکیب سے نثر کو مزین کرنے کی کوشش کی ہے اور کسی نے قافیہ بندی کے زور پر نثر کو شاعری سے قریب ترلانے کی جدوجہد کی ہے۔ ان کوششوں کے نتیجے میں اردو نثر تکلف اور تصنع کا شکار ہو کر رہ گئی ہے۔ سرسید احمد خان پہلے ادیب ہے جس نے اردو نثر کی خوبصورتی پر توجہ دینے کی بجائے مطلب نویسی پر زور دیا ہے۔ اس کی نثر نویسی کا مقصد اپنی علمیت کا رعب جتانا نہیں۔ بلکہ اپنے خیالات و نظریات کو عوام تک پہنچانا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے جو کچھ لکھا۔ نہایت آسان نثر میں لکھا، تاکہ اسے عوام لوگ سمجھ سکیں اور یوں غالب کی تتبع میں اس نے جدید نثر کی ابتداءکی۔
الطاف حسین حالی
حالی کا وطن پانی پت (ہریانہ) ہے۔ 1854ء میں جب ان کی عمر سترہ سال تھی تو وہ دہلی آئے اور ادبی شخصیتوں سے ملنے کا موقع ملا۔ خاص طور پر غالب سے وہ بہت متاثر ہوئے اور ان سے گہرا تعلق قائم ہو گیا۔ 1857ء کی بغاوت کے وقت وہ دہلی سے چلے گئے، پھر 1863ء میں واپس دہلی آ گئے۔ اس سفر میں نواب مصطفیٰ خاں شیفتہ سے ملاقات ہوئی۔ بغاوت کے بعد وہ دہلی میں زیادہ دن نہ رہ سکے اور لاہور چلے گئے۔ اسی زمانے میں انجمن پنجاب لاہور نے اردو شاعری کو نیا رخ دیا۔ حالی اس انجمن سے وابستہ ہو گئے اور سکریٹری بھی بنائے گئے۔ انہوں نے انجمن کے لیے چار نظمیں برکھاڑت، نشاط امید، مناظرہ رحم و انصاف اور حب وطن لکھیں، جو بہت پسند کی گئیں۔ چند سال لاہور میں رہ کر وہ پھر دہلی واپس آ گئے۔
دہلی آ کر انہوں نے اردو نثر کی طرف توجہ دی، کیونکہ اب وہ سرسید کی صحبت میں آ چکے تھے۔ ان کی نثر میں سرسید کا اثر بھی ہے اور اپنی الگ پہچان بھی۔ مثلاً سادگی، منطقی انداز اور صاف اظہار سرسید کے اثرات ہیں، جبکہ سادگی میں خوبصورتی، منطق میں شاعرانہ رنگ، مثالوں کا استعمال، فطری اور بول چال کا انداز، عربی اور فارسی الفاظ سے پرہیز مگر کہیں کہیں انگریزی الفاظ کا غیر ضروری استعمال حالی کی نثر کی خاص باتیں ہیں۔ حالی کی نثر کو سمجھنے کے لیے ان کی سوانحی کتابیں پڑھنی چاہئیں۔ اردو میں سوانح نگاری کو سرسید تحریک نے فروغ دیا۔ حالی نے تین اہم سوانح عمریاں لکھیں۔ سرسید کی سوانح حیات حیات جاوید کے نام سے لکھی۔ اس کی اہمیت یہ ہے کہ سرسید کی زندگی پر لکھی جانے والی کوئی تحریر اس سے فائدہ اٹھائے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔ اسی طرح غالب کی سوانح یادگار غالب کے نام سے لکھی، جو اتنی ہی اہم ہے جتنی حیات جاوید۔ تیسری کتاب حیات سعدی ہے، جو فارسی کے مشہور شاعر شیخ سعدی علیہ الرحمہ کی سوانح عمری ہے۔
سرسید نے حالی سے قوم کو بیدار کرنے کے لیے ایک نظم لکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ چنانچہ حالی نے مد و جزر اسلام (اسلام کا عروج و زوال) کے نام سے ایک طویل نظم لکھی، جو بعد میں مسدس حالی کے نام سے مشہور ہوئی۔ اس نظم میں حالی نے پہلے اسلام کے عروج اور زوال کا ذکر کیا، پھر مسلم قوم کی جہالت اور تعلیم کی کمی پر بات کی۔ یہ ایک سچی اور درد بھری آواز تھی جسے لوگوں نے سنا۔ سرسید اس نظم کو پڑھ کر بہت خوش ہوتے تھے۔ اس کی زبان سادہ، صاف اور دل کو چھونے والی ہے۔ روانی اس نظم کی سب سے بڑی خوبی ہے۔ 1879ء میں یہ نظم شائع ہوئی۔
ہندوستان میں عورتوں کی خراب حالت کو بھی حالی نے محسوس کیا۔ راشد الخیری کو دنیا مصور غم کے نام سے جانتی ہے۔ حالی نے بھی عورتوں کے دکھ درد، بیوگی اور بے بسی کو سمجھا اور اپنی نظموں میں ان حالات کی مؤثر تصویر پیش کی، جو کسی طرح مصور غم سے کم نہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے 1874ء میں مناجات بیوہ اور 1906ء میں چپ کی داد کے نام سے طویل نظمیں لکھیں۔ اس معاملے میں حالی سرسید سے بھی آگے تھے۔ تعلیم نسواں کے بارے میں ان کا واضح خیال تھا۔ ڈپٹی نذیر احمد کی طرح انہوں نے بھی خواتین کے لیے ناول مجالس النساء لکھا۔
اردو تنقید کی تاریخ میں الطاف حسین حالی کا بہت بڑا مقام ہے۔ بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اردو میں باقاعدہ تنقید کی ابتدا حالی کے مقدمہ شعر و شاعری سے ہوتی ہے۔ 1893ء میں انہوں نے یہ فکر انگیز مقدمہ اپنے مجموعہ کلام کے ساتھ شائع کیا۔ اس کے شائع ہوتے ہی ادبی دنیا میں بڑی ہلچل مچ گئی۔ اردو تنقید کو اس سے نئی سمت ملی۔ حالی پہلے شخص تھے جنہوں نے شاعری کو معیار پر پرکھا اور تنقیدی مسائل پر بحث کی۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو سرسید کے اہم ساتھی حالی نے اردو ادب کو بہت فائدہ پہنچایا۔
علامہ شبلی نعمانی
شبلی نعمانی (1914-1857) اتر پردیش کے ضلع اعظم گڑھ میں پیدا ہوئے۔ عربی، فارسی اور فلسفہ وغیرہ کی تعلیم اپنے وقت کے علما سے حاصل کی۔ 1872ء میں وہ علی گڑھ کالج میں فارسی کے استاد بن کر آئے۔ یہاں انہوں نے سرسید کے کتب خانے سے خوب فائدہ اٹھایا اور انہی کی توجہ سے سوانح نگاری کی طرف مائل ہوئے، حالانکہ اس سے پہلے وہ نظمیں لکھتے تھے۔ علی گڑھ میں قیام کے دوران پروفیسر آرنلڈ سے فرانسیسی زبان سیکھی۔ آرنلڈ سے ان کا بہت گہرا تعلق تھا، یہاں تک کہ ان کے ساتھ مصر، شام اور دوسرے اسلامی ممالک کا سفر کیا۔ سرسید کے آخری زمانے میں کچھ اختلافات کی وجہ سے شبلی علی گڑھ سے الگ ہو گئے۔ 1897ء میں وہ اپنے وطن اعظم گڑھ واپس آ گئے اور ایک نیشنل اسکول قائم کیا۔ کچھ عرصہ حیدرآباد میں رہے، جہاں انہیں لکھنے پڑھنے کا اچھا موقع ملا۔ لکھنو میں جب دارالعلوم ندوۃ العلما قائم ہوا تو شبلی کی خدمات لی گئیں۔ وہاں رہ کر انہوں نے مولانا عبد الماجد دریا بادی اور علامہ سید سلیمان ندوی جیسے نمایاں ادیبوں کی تربیت کی۔ آخر میں وہ دوبارہ اعظم گڑھ آ گئے اور ایک تحقیقی ادارہ دارالمصنفین کے نام سے قائم کیا، جو آج بھی کام کر رہا ہے۔
سرسید کے ساتھیوں میں علامہ شبلی بہت باصلاحیت شخصیت تھے۔ علم الکلام اور فلسفہ پر انہیں مکمل مہارت حاصل تھی۔ سوانح نگاری، تاریخ نویسی، ادب، نثر نگاری اور شاعری کے ساتھ اردو تنقید میں بھی ان کا بلند مقام ہے۔ سیرۃ النبی، المامون، الفاروق، الغزالی، سیرۃ النعمان اور سوانح مولانا روم ان کی سوانح عمریاں ہیں، جبکہ شعر العجم اور موازنہ انیس و دبیر سے ان کی تنقیدی سمجھ کا اندازہ ہوتا ہے۔ ان کا ایک مختصر کلیات بھی شائع ہوا ہے، جس میں مثنوی، مسدس، قصیدے اور اخلاقی و سیاسی نظمیں شامل ہیں۔ برطانوی سامراج کے واقعات پر انہوں نے بہت جوش والی نظمیں لکھیں، جنہیں پڑھ کر وہ خود بھی جذباتی ہو جاتے تھے اور دوسروں کو بھی متاثر کرتے تھے۔
شبلی کی تحریروں سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں طاقت اور جوش کے ساتھ ساتھ اختصار بھی پایا جاتا ہے۔ چونکہ شبلی جمالیاتی تنقید کے مکتب سے تعلق رکھتے تھے، اس لیے انہوں نے نثر میں شاعرانہ رنگ پیدا کیا۔ وہ موقع کے مطابق اشعار لا کر بات کو خوبصورت انداز میں بیان کرتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان کی نثر کی سادگی میں بھی ایک خاص فن اور خوبصورتی موجود ہے۔
ڈپٹی نذیر احمد
ڈپٹی نذیر احمد کا وطن بجنور ہے۔ بچپن میں دہلی آ گئے اور قدیم دہلی کالج سے تعلیم حاصل کی۔ انگریزی حکومت کی ملازمت کی، اس لیے اس کی حمایت کرتے رہے۔ کچھ عرصہ حیدر آباد میں گزارا، باقی زندگی دہلی میں رہ کر لکھنے پڑھنے کا کام کرتے رہے۔ شمس العلما کے خطاب سے نوازے گئے۔
سرسید سے ان کے تعلقات تھے۔ اکثر تقاریر کے لیے سرسید انہیں اپنے ساتھ رکھتے تھے کیونکہ ان کی آواز بلند اور مضبوط تھی۔ جب بڑے اجتماعات میں تقریر کرتے تو مکمل خاموشی چھا جاتی۔ ان کی تقریروں کا مجموعہ خطبات نذیر احمد کے نام سے شائع ہو چکا ہے، جسے پڑھ کر ان کے وسیع علم کا اندازہ ہوتا ہے۔ قرآن پاک کی تفسیر بھی انہوں نے لکھی۔ قانون کی کتابوں کا ترجمہ کیا، جن میں تعزیرات ہند اور قانون شہادت مشہور ہیں۔ نذیر احمد کی اصل پہچان ان کے ناولوں کی وجہ سے ہے۔
ڈپٹی نذیر احمد کو اردو کا پہلا ناول نگار کہا جاتا ہے، حالانکہ انہوں نے ناول باقاعدہ فن کے طور پر نہیں لکھے۔ ان کے سامنے پہلے سے اردو میں ناول کی کوئی مثال موجود نہیں تھی۔ ظاہر ہے کہ ان کے ناول فکری اور فنی لحاظ سے مضبوط نہیں ہیں، لیکن ناول کی بنیادی خصوصیات ہونے کی وجہ سے ان کی کتابوں کو ناول کہا جاتا ہے۔ ڈپٹی نذیر احمد نے کل سات ناول لکھے۔ پہلا ناول مرأة العروس 1869ء میں لکھا، جو اپنی بیٹی کی تعلیم و تربیت اور ذہنی اصلاح کے لیے تھا، لیکن ایک انگریز کلکٹر کی خواہش پر اسے شائع کیا گیا اور وہ بہت مقبول ہوا۔ دوسرا ناول بنات النعش بھی اسی مقصد سے لکھا۔ تیسرا ناول توبۃ النصوح سب سے زیادہ مشہور اور دلچسپ ہے۔ اسے پڑھ کر دلی کے بگڑتے ہوئے مسلم خاندانوں کی تصویر سامنے آتی ہے۔ اس ناول کا ایک یادگار کردار مرزا ظاہر دار بیگ ہے۔ ان کے دوسرے ناولوں میں ابن الوقت، فسانہ مبتلا، ایامیٰ اور رویائے صادقہ شامل ہیں۔
نذیر احمد کے بارے میں عام طور پر یہ رائے دی جاتی ہے کہ فن کے لحاظ سے ان کے ناول، ناول کم اور تقاریر زیادہ معلوم ہوتے ہیں، جن میں معاشرتی اصلاح کی بات کی گئی ہے۔ لیکن تنقید کرنے والے یہ بات بھول جاتے ہیں کہ اس زمانے میں مسلمانوں کے لیے سماجی مسائل سب سے اہم مسئلہ تھے اور سرسید تحریک کے اثر سے نذیر احمد بھی ناولوں کے ذریعے لوگوں کو نئی راہ دکھانا چاہتے تھے۔ اس لیے ان میں جدید ناولوں جیسی تمام خوبیاں تلاش کرنا مناسب نہیں۔ مگر انیسویں صدی کے ہندوستانی مسلمانوں کی معاشرت کی بہترین تصویر انہی ناولوں میں ملتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ہر ناول کے کئی ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں اور دوسری زبانوں میں بھی ان کے ترجمے ہو چکے ہیں۔ نذیر احمد زبان پر مکمل قدرت رکھتے تھے۔ دلی کی عام بول چال اور محاوروں کے ساتھ سنجیدہ علمی زبان کا استعمال بھی مہارت سے کرتے ہیں۔ کبھی کبھی عربی کے مشکل لفظ اور غیر ضروری محاورے بھی لکھ دیتے ہیں۔ دو انداز کی زبان ہونے کے باوجود ان کی تحریر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے اور بقول سید عبداللہ نذیر احمد کا خاص انداز بیان دلوں پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ یہ خاص خوبی سرسید کے ساتھیوں میں کسی اور کو حاصل نہ ہو سکی۔
نواب محسن الملک
نواب محسن الملک کا شمار سرسید کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا ہے۔ اٹاوہ (اتر پردیش) کے رہنے والے تھے۔ انگریزی حکومت میں ایک چھوٹی ملازمت سے کام شروع کیا اور ترقی کرتے کرتے ڈپٹی کلکٹر بن گئے۔ اٹاوہ میں ملازمت کے دوران سرسید سے ملاقات ہوئی، پھر تعارف بڑھا اور زندگی بھر کی گہری دوستی قائم ہو گئی۔ کچھ عرصہ حیدر آباد میں رہے۔ 1893ء میں علی گڑھ آ گئے اور سرسید کے وفادار مددگار بن کر رہے۔ سائنٹفک سوسائٹی کے رکن تھے اور سرسید کے انتقال کے بعد 1899ء میں کالج کے سیکریٹری مقرر ہوئے۔
نواب محسن الملک خیالات کے لحاظ سے اپنے ساتھیوں میں سب سے زیادہ سرسید کے قریب تھے اور ان کی کتابیں بھی انہی خیالات کی عکاسی کرتی ہیں۔ اسی لیے ان کی زیادہ تر کتابیں مذہبی اور تہذیبی موضوعات پر ہیں۔ تہذیب الاخلاق رسالے میں سرسید کے بعد سب سے زیادہ مضامین انہوں نے لکھے۔ ان تحریروں سے محسن الملک کے ادبی رجحان کو سمجھا جا سکتا ہے۔ ان کا انداز بیان سادہ اور میٹھا ہے۔ مثالوں سے بھی بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔ ان کا ایک مضمون تعلیم و تربیت ہے۔ نمونے کے طور پر اس کا ایک اقتباس دیکھیے۔
ایک روز خیال نے مجھے عالم مثال تک پہنچایا جب میں عالم مثال (وہاں) سے لوٹا اور لوگوں سے یہ قصہ کہا تو وہ سب ایک ایک لفظ کی حقیقت مجھ سے پوچھنے لگے ہیں ۔ صرف یہ کہہ کہ باغ ہرا بھرا میں نے مغرب میں دیکھا ہے وہ علوم وفنون جدیدہ کا باغ ہے۔ جس کے پھل پھول اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں۔ پر ہمارا اپنا دل بہلانے والا کوئی وہاں نہیں جس کی ویرانی اور خزاں کی کیفیت ہمارے سامنے ہے وہ پتھر جو سر چشمہ پر آ گیا ہے۔ جہالت ہے وہ ندی نالے گندے پانی کے رسم رواج کی پابندی سیلی نما تعصب علم نما نادانی ، جھوٹا ز ہر جھوٹی شیخی، جاہلا نہ تقلید عامیانہ علامی ضرر انگیز حرارت وحشیانہ تعلیم و تربیت ہے۔ جس کا نتیجہ سخ انسانیت ہے جو کہ ہم آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور جس کا علاج اب ہم سوائے دعا کے کچھ نہیں جانتے ۔
یہ پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ فکر کے ساتھ ساتھ کہنے کا انداز بھی بالکل سرسید جیسا ہے اور مقصدیت غالب ہے۔ لیکن ایسی عمدہ تصویر کشی کی ہے کہ محسن الملک کے اندر کہانی لکھنے کی پوری صلاحیت نظر آتی ہے ان کے دیگر مضامین تدبیر و امید اور عزت وغیرہ اہم ہیں جس میں ادبیت بھر پور نمایاں ہے۔ محسن الملک کا مقام اردو ادب میں گرچہ وہ نہیں ہے جو حالی اور شبلی کا ہے مگر ادب کو نئی جہت اور جدت ادا کرنے میں وہ ان کی صف میں شامل ہو جاتے ہیں۔
دیگر رفقا
سرسید کے دوسرے ساتھی بھی تھے جنہوں نے بہت کچھ لکھا، مثلاً منشی ذکاء اللہ اور مولوی چراغ علی وغیرہ، لیکن ان کے موضوعات ادب کے بجائے دوسرے شعبوں سے متعلق تھے۔ منشی ذکاء اللہ مشہور ریاضی دان اور تاریخ لکھنے والے تھے۔ یہ بھی ڈپٹی نذیر احمد کی طرح دہلی کالج کے تعلیم یافتہ تھے۔ انہوں نے ڈیڑھ سو سے زیادہ کتابیں لکھیں۔ تاریخ اور ریاضی کے علاوہ تہذیب الاخلاق میں بھی مضامین لکھتے تھے۔ اس کے ساتھ وہ سرسید کی مجوزہ ورنا کلر یونیورسٹی کے مددگار اور حمایتی تھے۔ اردو کو ذریعہ تعلیم بنانے کے حامی منشی ذکاء اللہ نے اپنی زندگی میں اندازاً پچاس ہزار صفحات لکھے۔ ان میں بعض کتابیں کئی جلدوں پر مشتمل ہیں۔ اگر وہ ادب پر بھی توجہ دیتے تو یقیناً اردو کے بڑے ادیبوں میں شمار ہوتے۔ چراغ علی نے علمی اور مذہبی کتابیں لکھیں۔ اردو کے ساتھ ساتھ انگریزی زبان پر بھی انہیں مکمل مہارت حاصل تھی اور کئی کتابیں انگریزی میں بھی لکھیں۔ وہ بھی محسن الملک کی طرح خیالات کے لحاظ سے سرسید سے پوری طرح متفق تھے اور اپنی کتابوں میں سرسید کے مذہبی خیالات کی وضاحت کی ہے۔
اردو کے ایک اور بڑے ادیب ہیں جن کا تعلق براہِ راست سرسید تحریک سے نہیں تھا، لیکن ادبی اور فکری طور پر وہ اس تحریک کی حمایت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ ہیں مولوی محمد حسین آزاد۔ انہوں نے نظم اور نثر دونوں میں کام کیا۔ انجمن پنجاب لاہور کے اہم رکن یہی تھے۔ اردو شاعری کو سادہ اور موضوع کے مطابق بنانے میں اس انجمن کا بڑا کردار ہے۔ حالی بھی اس سے وابستہ تھے۔ محمد حسین آزاد کی مشہور کتابوں میں قصص ہند، آب حیات، نیرنگ خیال، دربار اکبری، سخندان فارس اور کلام نظم آزاد شامل ہیں۔ آب حیات کو سب سے زیادہ شہرت ملی۔ اس میں پہلی بار اردو شعرا کا ذکر سماجی حالات، تاریخی ترقی اور ادبی سمجھ کو سامنے رکھ کر کیا گیا ہے۔
خلاصہ
ہندوستان کی تاریخ میں 1857ء کی بڑی اہمیت ہے، کیونکہ اس سال ہندوستان کے مختلف طبقوں اور قوموں نے مل کر انگریزوں کو ملک سے نکالنے کی آخری کوشش کی۔ یہ کوشش ناکام ہوئی، مگر اس کے بعد ہندوستان کی صدیوں پرانی روایات، سیاست، تعلیم، معاشرت، مذہب اور تہذیب و ثقافت سب متاثر ہوئیں۔ پرانے اور نئے خیالات کا ٹکراؤ کھل کر سامنے آ گیا اور یہ ٹکراؤ ہر میدان میں نظر آنے لگا۔ اسی لیے ہر جگہ عمل اور ردِعمل دکھائی دیتا ہے۔ اگر مسلمانوں کی حالت پر نظر ڈالی جائے تو وہ ہر میدان میں پیچھے جاتے نظر آتے ہیں۔ قوم کے رہنماؤں نے اصلاح کی کوششیں تیز کر دیں۔ ان میں سب سے نمایاں نام سرسید کا ہے، جنہوں نے اپنے ساتھ قابل اور باصلاحیت لوگوں کو لے کر قومی، ملی، تعلیمی اور ادبی خدمات انجام دیں۔ سرسید کا سب سے بڑا کارنامہ محمڈن اینگلو اورینٹل کالج کا قیام ہے۔ یہ کالج آج علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی صورت میں موجود ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی دور کرنے میں اس ادارے نے اہم کردار ادا کیا۔ سرسید نے دوسرا بڑا کام تہذیب الاخلاق رسالے کے ذریعے معاشرتی اصلاح کا کیا۔ اس میں مسلسل مضامین لکھ کر اور دوسرے لکھنے والوں سے لکھوا کر ذہنی جمود کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے ایک رسالے میں 29 نکات کا پروگرام بھی پیش کیا۔ تیسرا اہم کام یہ کیا کہ سرسید نے اردو ادب کو ایک نئی سوچ اور تخلیقی رنگ دیا۔ اپنے مضامین کے ذریعے موضوع، اسلوب، فکر اور فن میں بڑی تبدیلی پیدا کی۔ ادب کے لیے یہ ایک بڑی خدمت ہے۔ شاعری میں انہیں زیادہ دلچسپی نہیں تھی، لیکن نثر میں ان کی خدمات بہت اہم ہیں۔
سرسید کے ساتھیوں نے وقت کی ضرورت کو سمجھتے ہوئے اردو ادب کی مختلف اصناف میں جو کام کیا، وہ ہمیشہ اہم رہے گا۔ الطاف حسین حالی کا نام سب سے نمایاں ہے۔ انہوں نے اردو نظم کو نئی سمت دی اور مسدس حالی لکھ کر قوم کو جگانے کی کوشش کی۔ مقدمہ شعر و شاعری کے ذریعے اردو تنقید کی بنیاد رکھی۔ سرسید، غالب اور شیخ سعدی کی سوانح عمریاں بھی لکھیں۔ شبلی نعمانی علی گڑھ کالج میں استاد تھے۔ انہیں سرسید کو قریب سے دیکھنے اور ان کے کتب خانے سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملا۔ وہ بڑے عالم تھے۔ علم الکلام اور فلسفہ کے ساتھ تنقید، سوانح نگاری، مضامین، مقالات اور شاعری میں بھی مہارت رکھتے تھے۔ مختلف شخصیات کی کئی سوانح عمریاں لکھیں۔ سیرۃ النبی ایک تحقیقی اور دلیل پر مبنی کتاب ہے۔ شعر العجم میں اپنے تنقیدی خیالات پیش کیے۔ سیاسی اور اخلاقی نظمیں بھی لکھیں۔ ڈپٹی نذیر احمد اپنی ناول نگاری کی وجہ سے مشہور ہیں۔ انہیں اردو کا پہلا ناول نگار کہا جاتا ہے۔ انہوں نے کل سات ناول لکھے۔ پہلا ناول مراۃ العروس ہے۔ توبۃ النصوح اور ابن الوقت اپنے موضوع کی وجہ سے زیادہ مشہور ہیں۔ نذیر احمد اچھے مقرر بھی تھے۔ دہلی کی صاف اور محاورے والی زبان لکھتے اور بولتے تھے۔ قرآن پاک کا ترجمہ بھی کیا۔ سرسید کے دو ساتھی ایسے تھے جو فکری طور پر ان کے خیالات کی نمائندگی کرتے تھے: ایک محسن الملک اور دوسرے چراغ علی۔ ان دونوں نے ادب کے مقابلے میں مذہبی میدان میں زیادہ کام کیا۔
اس طرح اگر دیکھا جائے تو سرسید تحریک نے اردو ادب کو جتنا مالا مال کیا ہے شاید ہی کسی اور تحریک نے کیا۔ اس تحریک کی سب سے بڑی اہمیت اس لیے ہے کہ اس نے تاریخ ساز افراد ادب کو دیے۔ چنانچہ ان تاریخ ساز افراد کے تاریخی کارنامے کبھی فراموش نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
علی گڑھ تحریک نے اردو ادب کو محض لفظی آرائش تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے فکری، تعلیمی اور سماجی شعور کا مؤثر ذریعہ بنا دیا۔
This post presents a comprehensive study of the literary contributions of the Aligarh Movement led by Sir Syed Ahmad Khan. It explains the historical background of the movement after 1857, its educational and social reform agenda, and its transformative impact on Urdu prose. The article highlights the role of key figures such as Altaf Hussain Hali, Shibli Nomani, and Deputy Nazir Ahmad in shaping modern Urdu literature. It particularly emphasizes the development of realistic prose, literary criticism, biography writing, and the emergence of the Urdu novel. Overall, the post argues that the Aligarh Movement played a foundational role in modernizing Urdu literature and turning it into a vehicle for intellectual, social, and educational reform.