انار کلی امتیاز علی تاج، اردو ڈراما کا تجزیہ، کردار، پلاٹ اور زبان
اردو ڈرامے کی تاریخ میں جتنی مقبولیت اور پذیرائی ڈراما انار کلی کو ملی، اتنی کسی اور ڈرامے کو نہیں مل سکی۔ یہ ڈراما 1922ء میں لکھا گیا۔ اس وقت خاموش
فلمیں ابھی محدود سطح پر بن رہی تھیں اور ان کا معیار بھی بہت کمزور تھا۔ ریڈیو کی ابتدا بھی نہیں ہوئی تھی۔ البتہ پارسی اسٹیج ڈرامے بہت مقبول تھے۔ پارسی تھیٹر کمپنیاں شہر شہر بلکہ قصبوں تک جا کر ڈرامے پیش کرتی تھیں اور لوگ انہیں بہت پسند کرتے تھے۔
امتیاز علی تاج چاہتے تھے کہ کوئی بڑی تھیٹر کمپنی انار کلی کو اسٹیج کرے، لیکن پارسی کمپنیاں اس میں تبدیلی چاہتی تھیں جو تاج کو منظور نہیں تھیں۔ اسی لیے یہ ڈراما اسٹیج نہ ہو سکا۔ 1932ء میں جب دارالاشاعت پنجاب نے اسے شائع کیا تو تاج نے اس کے دیباچے میں لکھا
میں نے انار کلی 1922ء میں لکھا تھا۔ اس کی موجودہ صورت میں تھیٹروں نے اسے قبول نہ کیا۔ جو مشورے ترمیم کے لیے پیش کیے گئے، انہیں ماننا مجھے پسند نہ آیا۔
جب یہ ڈراما شائع ہو کر قارئین تک پہنچا تو اسے بہت زیادہ مقبولیت ملی۔ پنجاب ٹکسٹ بک بورڈ نے اس پر ایک ہزار روپے کا انعام دیا، جو اس زمانے میں بہت بڑی رقم تھی۔ اسے یونیورسٹیوں، کالجوں اور اسکولوں کے نصاب میں شامل کیا گیا۔ تاج کی زندگی میں ہی یہ ڈراما کئی بار شائع ہوا اور ان پر فلمیں بھی بنیں۔ آج تک یہ کتنی بار اور کہاں کہاں سے شائع ہوا، اس کا درست اندازہ لگانا مشکل ہے۔ اس پر تعریف اور تنقید میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔
وقت نے بہت سے ادبی شاہکار بھلا دیے، لیکن انار کلی کی تازگی اور دلکشی تقریباً ایک صدی گزرنے کے باوجود آج بھی قائم ہے۔ اس کے مصنف امتیاز علی تاج نے 13 اکتوبر 1900ء کو لاہور میں ایک ایسے گھرانے میں آنکھ کھولی جہاں علم و ادب کا خاص شوق تھا۔ گھر کے علمی ماحول اور لاہور کی ادبی و ثقافتی فضا نے ان کے ذوق کو نکھارا۔ انہوں نے لاہور کے اچھے اسکولوں اور کالجوں میں تعلیم حاصل کی اور اداکاری کی تربیت بھی پائی۔ 16- 17سال کی عمر سے ہی وہ کہانیاں، افسانے، مضامین اور ڈرامے لکھنے لگے تھے۔ 1922ء میں انہوں نے اپنا مشہور ڈراما انار کلی لکھا۔
لیکن تاریخ کی کتابوں میں اس واقعے کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ مغل تاریخ میں انار کلی نام کی کسی خاتون کا ذکر نہیں ہے۔ جہانگیر نے اپنی کتاب تزکِ جہانگیری میں اپنی کمزوریاں بھی صاف صاف بیان کیں، مگر انار کلی سے کسی تعلق کا ذکر نہیں کیا۔ اس نے لاہور میں بنوائی گئی عمارتوں اور باغات کا ذکر تو کیا، مگر انار کلی کے مقبرے یا باغ کا کہیں نام نہیں لیا۔ اسی طرح اس دور کے مشہور مؤرخین ابوالفضل، بخشی نظام الدین احمد اور عبد القادر بدایونی کے یہاں بھی اس واقعے کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ بعد کی تاریخوں میں بھی اس کا کہیں حوالہ نہیں ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ کہانی تاریخی حقیقت پر مبنی نہیں۔
پھر بھی یہ سوال باقی رہتا ہے کہ اگر مغل تاریخ میں انار کلی کا ذکر نہیں تو لاہور میں انار کلی کا مقبرہ کہلانے والی عمارت میں قبر کس کی ہے اور اسے انار کلی کا نام کیوں دیا گیا؟ اس بارے میں آج تک کوئی پکا تاریخی ثبوت نہیں ملا۔ اسی موضوع پر تحقیق کر کے پروفیسر علیم الدین سالک نے ایک مضمون لکھا جو 1929ء میں نیرنگِ خیال کے سالنامے میں شائع ہوا۔
یہ بات جانتے ہوئے بھی کہ یہ کہانی فرضی ہے، اور شہزادہ سلیم کا انار کلی کے عشق میں مبتلا ہونا تاریخ سے ثابت نہیں، اس ڈرامے کی خوبصورتی اور اثر میں کوئی کمی نہیں آتی۔ انار کلی کی کہانی پر سب سے پہلے 1899ء میں منشی محمد دین فوق نے انار کلی کے نام سے ایک ناول لکھا جو کافی مقبول ہوا۔ اس کا انداز داستانوں جیسا تھا۔ اس کے بعد ایک بنگالی ادیب نے اسی موضوع پر بنگالی زبان میں ڈراما لکھا، جس کا اردو ترجمہ میاں اختر جونا گڑھی نے کیا اور یہ عبد الحلیم شرر کے رسالے دلگداز میں شائع ہوا۔
عبدالعلیم نامی کے مطابق عباسی علی عباس دہلوی نے بھی انار کلی کے نام سے ایک ڈراما لکھا، جسے 1919ء میں آر۔ بی۔ لیلی مجنوں تھیٹریکل کمپنی نے میرٹھ میں پیش کیا۔ اس کے بعد حکیم احمد شجاع نے انگریزی میں مکالموں کی صورت میں انار کلی کی کہانی لکھی، جس پر 1930ء میں خاموش فلم بنی۔ اس کا اردو ترجمہ امتیاز علی تاج نے پردے کے اس پار یا مغل شہزادے کی داستانِ عشق کے نام سے کیا، جو دیوان آتم آنند مشر کے فلمی رسالے شبستان میں شائع ہوا۔ جب امتیاز علی تاج نے انار کلی لکھی تو انہوں نے ان ذرائع سے فائدہ ضرور اٹھایا ہوگا، خاص طور پر 1932ء کی اشاعت کے وقت۔ لیکن اس سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ ڈراما تاج کی اپنی تخلیق نہیں ہے۔ ڈراما نگاری میں مختلف ذرائع سے واقعات لے کر انہیں نئے انداز میں پیش کرنا سرقہ نہیں سمجھا جاتا۔ شیکسپیئر کے کئی ڈرامے بھی مختلف کہانیوں سے ماخوذ ہیں، مگر انہیں اس کا طبع زاد ہی مانا جاتا ہے۔ اصل بات واقعات کی نہیں بلکہ ان کی نئی ترتیب، زبان اور اندازِ بیان کی ہوتی ہے۔ انار کلی میں بھی امتیاز علی تاج نے اپنی تخلیقی زبان، سادہ اور بول چال کے مکالمے استعمال کر کے ڈرامے کو دلکش اور مؤثر بنا دیا ہے، جس سے اس کی اثر انگیزی اور خوبصورتی میں اضافہ ہوا ہے۔
سماجی پہلو
اس ڈرامے کا سماجی پہلو یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں ہمیشہ سے طبقوں کی لڑائی، اونچ نیچ کا خیال، بڑے اور چھوٹے کا فرق، اور نسلی تعصب موجود رہا ہے۔ اس ڈرامے میں انارکلی ایک خوبصورت کنیز ہے اور دلا رام بھی کنیز ہے۔ دلا رام شہزادہ سلیم، جو سلطنت کا ولی عہد ہے، کو اپنی محبت میں پھنسا کر ہندوستان کی ملکہ بننے کا خواب دیکھ رہی تھی۔ لیکن جب شہزادہ سلیم کی توجہ انارکلی کی طرف ہو گئی اور دلا رام کو لگا کہ اس کا خواب ٹوٹ رہا ہے، تو اس نے انارکلی کے خلاف سازش کی۔ اس نے ایسے حالات پیدا کیے کہ اکبر کو یقین ہو گیا کہ انارکلی شہزادہ سلیم کو اپنی محبت میں ڈال کر ہندوستان کی ملکہ بننا چاہتی ہے۔ اکبر یہ بات برداشت نہیں کر سکا کہ ایک کنیز ہندوستان کی ملکہ بنے، اس لیے سلیم سے محبت کرنے کے جرم میں انارکلی کو موت کی سزا دے دی گئی۔ حالانکہ عشق اور محبت انسان کی فطرت ہے۔ نہ اسلامی قانون میں اس کی سزا موت ہے اور نہ دنیاوی قانون میں۔ یہ سماجی ناانصافی کی واضح مثال ہے، جہاں اعلیٰ طبقہ ہمیشہ نچلے طبقے پر ظلم کرتا رہا ہے۔
سیاسی پہلو
ڈراما انار کلی ایک رومانی ڈراما ہے، لیکن محبت کے ساتھ ساتھ اس میں سیاست بھی خاموشی سے چلتی رہتی ہے۔ اکبر اعظم ایک مضبوط ارادے والا، حوصلہ مند اور اکثر حالات میں پختہ اور حقیقت پر مبنی فیصلہ کرنے والا بادشاہ ہے۔ وہ بڑی محنت اور سمجھ داری سے اپنی سلطنت کو آگے بڑھا رہا ہے اور ہر حال میں اسے مضبوط بنانا چاہتا ہے۔ اس کا اکلوتا وارث شہزادہ سلیم ہے، جسے مستقبل میں یہ سلطنت سنبھالنی ہے۔ اسی لیے اکبر یہ سوچتا ہے کہ اگر ہندوستان کی ملکہ ایک کنیز بن گئی تو سلطنت کمزور ہو جائے گی اور ملک کا نظام ٹھیک طرح سے نہیں چل سکے گا۔ یہ بات اس وقت واضح ہوتی ہے جب رانی کہتی ہے کہ انارکلی کو نہ صرف آزاد کر دیا جائے بلکہ اسے سلیم سے شادی کرنے دی جائے۔ اس پر اکبر اعظم جواب دیتا ہے کہ
“تمہارا مشورہ ہے کہ میں اپنی زندگی کے سارے خواب توڑ دوں؟ وہ خواب جن کے لیے میں نے دن رات محنت کی، اپنی نیند قربان کی، اور اپنی پوری طاقت لگا دی۔”
یعنی اگر انارکلی کو سلیم سے شادی کی اجازت دے دی گئی اور وہ ہندوستان کی ملکہ بن گئی، تو اکبر کے خیال میں یہ سلطنت کے لیے نقصان دہ ہوگا اور سلطنت برباد ہو جائے گی۔
المیاتی پہلو
ڈراما انار کلی میں المیہ عناصر بہت صاف نظر آتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ ڈراما المیہ (ٹریجڈی) کے تمام اصولوں پر پورا اترتا ہے یا نہیں، لیکن اس میں المیہ کی خاص باتیں ضرور موجود ہیں۔ المیہ کا ایک اصول یہ ہے کہ تباہی اور بربادی ایسے انسان پر آئے جو اس کا حق دار نہ ہو، جو معصوم اور بے گناہ ہو، تاکہ ناظرین کے دل میں اس کے لیے ہمدردی اور رحم پیدا ہو اور آخر میں ان کے دل کو سکون ملے۔ اسی طرح انارکلی بھی بے گناہ اور معصوم ہے، کیونکہ محبت کرنا کوئی جرم نہیں۔ اسے زندہ دیوار میں چنوا دیے جانے سے ناظرین کے دل میں ہمدردی اور رحم کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ المیے کی وجہ بننے والا واقعہ خود اس کردار کی شخصیت سے نکلنا چاہیے، یعنی اس کی اپنی کمزوری یا غلط سوچ یا عمل کا نتیجہ ہونا چاہیے، نہ کہ کوئی حادثہ یا اچانک پیش آنے والا واقعہ۔ اسی لیے کسی حادثے نے انارکلی کو المیے کا شکار نہیں بنایا، بلکہ وہ اپنی سادگی، خواب دیکھنے کی عادت، بھولے پن اور خیالی دنیا میں رہنے کی وجہ سے سازش کا شکار ہوئی۔ اس کے خلاف سازش کی گئی جسے وہ سمجھ نہ سکی۔ سلیم بھی المیے کا شکار بنا، لیکن اپنی کم سمجھ اور ہر ایک پر آسانی سے بھروسا کرنے کی عادت کی وجہ سے۔ اگر وہ عورتوں کی نفسیات کو تھوڑا بھی سمجھتا اور دلا رام کی باتوں پر یقین کر کے اسے اپنا رازدار نہ بناتا، تو دلا رام اپنی چالوں میں اتنی آسانی سے کامیاب نہ ہو پاتی۔
انار کلی کا فنی تجزیہ
پلاٹ
جب کسی کہانی میں مختلف واقعات کو قدرتی، معنی خیز اور آپس میں جڑے ہوئے انداز میں پیش کیا جائے تو اسے پلاٹ کہتے ہیں۔ اچھے پلاٹ میں واقعات ایک خاص ترتیب سے آگے بڑھتے ہیں۔ ایک واقعہ دوسرے واقعے سے جڑا ہوتا ہے، دلچسپی بڑھتی رہتی ہے اور کہانی آگے بڑھتے ہوئے اپنے عروج تک پہنچتی ہے۔ اچھے پلاٹ میں کوئی بھی واقعہ اچانک یا بے وجہ نہیں ہوتا، بلکہ ہر واقعہ پچھلے واقعے کا فطری نتیجہ ہوتا ہے۔ امتیاز علی تاج نے انار کلی کے لیے جو کہانی بنائی ہے وہ نہ صرف دلچسپ ہے بلکہ اثر چھوڑنے والی بھی ہے۔ کہانی کا آغاز دربارِ اکبری سے ہوتا ہے، جہاں کنیزوں میں دلا رام کو خاص مقام حاصل ہے۔ وہ اپنی بہن کی بیماری کی وجہ سے چند دن کے لیے گھر چلی جاتی ہے۔ اس کی غیر موجودگی میں دربار میں رقص کے لیے نادرہ نام کی کنیز آتی ہے۔ اکبر اعظم اس کے حسن، رقص اور گانے سے خوش ہو کر اسے انار کلی کا نام دیتا ہے، اور شہزادہ سلیم اس سے محبت کرنے لگتا ہے۔
جب دلا رام واپس آتی ہے تو وہ دیکھتی ہے کہ دربار کا ماحول بدل چکا ہے اور ہر طرف انار کلی کا چرچا ہے۔ پہلے سلیم کی توجہ کسی حد تک دلا رام کی طرف تھی۔ دلا رام انار کلی کی مقبولیت تو برداشت کر سکتی تھی، لیکن شہزادہ سلیم کو کھونا اسے منظور نہ تھا، کیونکہ وہ ہندوستان کی ملکہ بننے کا خواب دیکھ رہی تھی۔ جب اسے اپنا یہ خواب ٹوٹتا ہوا نظر آیا تو اس نے پوری چالاکی سے انار کلی کو راستے سے ہٹانے کی کوشش شروع کر دی۔
انار کلی کی چھوٹی بہن ثریا، سلیم اور انار کلی کی رازدار ہے۔ ایک شام انار کلی سلیم سے ملنے باغ جا رہی ہوتی ہے تو ثریا اس سے ہنسی مذاق کرتی ہے۔ دلا رام چھپ کر ان دونوں کی باتیں سن لیتی ہے۔ جب باغ کی تنہائی میں سلیم اور انار کلی ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں تو دلا رام اپنی موجودگی ظاہر کر دیتی ہے۔ بعد میں سلیم کسی بہانے سے دلا رام کو اپنے محل میں بلاتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ وہ اس راز کو چھپائے رکھنے کی قیمت بتائے۔ دلا رام اس موقع پر اپنی محبت کا اظہار کر دیتی ہے۔ پردے کے پیچھے بختیار موجود ہوتا ہے، جسے سلیم نے پہلے سے وہاں چھپا رکھا تھا۔ اس طرح دلا رام پر بھی وہی الزام آ جاتا ہے جو انار کلی پر لگ سکتا تھا۔ اس وقت دلا رام سلیم کے قدموں میں گر کر خود کو وفادار ثابت کرتی ہے۔ سلیم اس پر یقین کر لیتا ہے اور اسے اپنا رازدار بنا لیتا ہے، بلکہ انار کلی اور اپنے درمیان پیغام پہنچانے والی بھی بنا لیتا ہے۔ جشنِ نوروز کے موقع پر سلیم بے چینی میں دلا رام سے کہتا ہے کہ وہ انار کلی سے ملاقات کا بندوبست کرے۔ دلا رام وعدہ تو کرتی ہے، مگر ایسی چال چلتی ہے کہ سلیم اور انار کلی آمنے سامنے بیٹھتے ہیں اور ایک بڑا آئینہ اس طرح لگوایا جاتا ہے کہ بادشاہ دونوں کے اشارے دیکھ سکے۔
رقص کے دوران انار کلی پانی مانگتی ہے۔ دلا رام پہلے ہی شراب ملا ہوا مشروب تیار کرواتی ہے، جو مروارید انار کلی کو دے دیتا ہے۔ انار کلی اسے پی لیتی ہے اور نشے کی حالت میں کچھ بے احتیاط اشارے کرنے لگتی ہے۔ اسی وقت دلا رام اکبر کی توجہ انار کلی کی طرف دلا دیتی ہے۔ اکبر غصے میں آ جاتا ہے اور انار کلی کو قید کر لیا جاتا ہے۔ انار کلی کے لیے بہت سے لوگ رحم کی درخواست کرتے ہیں، خاص طور پر مہارانی، جو انار کلی کو آزاد کرنے اور سلیم سے اس کی شادی کی سفارش کرتی ہے۔ ممکن تھا کہ اکبر رحم کر لیتا، مگر اسے شک ہوتا ہے کہ دلا رام کچھ اور جانتی ہے۔ جب وہ دلا رام سے پوچھ گچھ کرتا ہے تو وہ انار کلی پر الزام لگاتی ہے کہ وہ سلیم کو ورغلا کر ملکہ بننا چاہتی تھی اور یہ ملاقاتیں چھپ کر ہوتی تھیں۔
ادھر سلیم رشوت دے کر داروغہ زنداں کے ذریعے انار کلی سے ملاقات کا بندوبست کرتا ہے۔ ملاقات کے دوران سلیم کہتا ہے کہ وہ انار کلی کو قید سے نکالنے آیا ہے۔ داروغہ یہ بات سن لیتا ہے اور بعد میں بادشاہ کے سامنے غلط انداز میں پورا واقعہ بیان کر دیتا ہے کہ سلیم زبردستی انار کلی کو بھگانا چاہتا تھا اور بغاوت کی کوشش ہو رہی تھی۔ دلا رام کی باتوں اور داروغہ کی رپورٹ سے اکبر کا غصہ اور بڑھ جاتا ہے۔ پہلے کی گئی تمام سفارشات رد کر دی جاتی ہیں اور انار کلی کو زندہ دیوار میں چنوا دیا جاتا ہے۔ بعد میں حقیقت سامنے آتی ہے تو اکبر اور سلیم دونوں کو دلا رام کی سازش کا اندازہ ہوتا ہے۔ اکبر کو اپنے فیصلے پر پچھتاوا ہوتا ہے اور سلیم پر ترس آتا ہے۔ انار کلی کا پلاٹ مضبوط اور مکمل ہے۔ اس میں ابتدا، درمیان اور انجام واضح ہیں۔ ہر واقعہ پچھلے واقعے سے جڑا ہوا ہے اور کہانی قدرتی انداز میں آگے بڑھتی ہے۔ کہیں کہیں مکالمے زیادہ اور لمبے ہو جاتے ہیں، جس سے رفتار کچھ سست ہو جاتی ہے، لیکن رومانوی فضا اور خوبصورت گفتگو بوریت پیدا نہیں ہونے دیتی۔
پلاٹ کا ایک اہم حصہ ٹکراؤ بھی ہے، جو کہانی میں پوری طرح موجود ہے۔ یہ ٹکراؤ کہیں کرداروں کے اندرونی جذبات کی شکل میں ہے، جیسے اکبر کے دل میں باپ اور بادشاہ کی کشمکش، مہارانی میں بیوی اور ماں کے جذبات، اور انار کلی میں کنیز اور عورت ہونے کا فرق۔ کہیں یہ ٹکراؤ کھلی صورت میں نظر آتا ہے، جیسے اکبر اور سلیم کے درمیان انار کلی کے مسئلے پر، کہیں دلا رام کی چالوں سے اور کہیں طبقاتی فرق کی وجہ سے، جو اس پلاٹ کو مضبوط اور اثر انگیز بناتا ہے۔
کردار
انار کلی میں کردار نگاری کے لحاظ سے بنیادی طور پر چار مرکزی کردار ہیں اکبر اعظم، سلیم، دلا رام اور انار کلی۔ ان کے علاوہ چند دوسرے درجے کے کردار بھی ہیں، جیسے مہارانی، بختیار، ثریا، انار کلی کی ماں اور داروغہ زنداں، جو کہانی کو آگے بڑھانے میں مدد دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ ضمنی کردار ہیں، جیسے ستارہ، زعفران، مروارید، عنبر اور خواجہ سرا کافور۔ یہ کردار ماحول بنانے اور ہلکے پھلکے مزاح کے ذریعے فضا کو خوشگوار بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ کچھ بیگمیں، کنیزیں اور خواجہ سرا ایسے بھی ہیں جن کے نام نہیں بتائے گئے، بس کہیں کہیں ان کا ذکر آ جاتا ہے۔ اکبر اعظم ایک باحوصلہ، رعب دار اور مضبوط ارادوں والا بادشاہ ہے۔ وہ ہر حال میں اپنے مقصد کو پورا کرنا چاہتا ہے اور اکثر مواقع پر سخت اور عملی رویہ اختیار کرتا ہے۔ وہ ملکی معاملات کو اچھی طرح سمجھتا ہے اور اپنی سلطنت کو مضبوط بنانے کی پوری کوشش کرتا ہے۔ اس کے اندر اعتماد اور عمل کی طاقت بھرپور ہے۔ یہ ایک ایسا کردار ہے جس میں بادشاہ کی تمام خوبیاں نمایاں نظر آتی ہیں۔
سلیم ایک ناتجربہ کار شہزادہ ہے۔ محبت کرنا اس کی عادت ہے، لیکن انار کلی سے اس کی محبت سچی ہے۔ وہ اس محبت میں اتنا آگے بڑھ جاتا ہے کہ اکبر اعظم اور تخت و تاج کی بھی پروا نہیں کرتا۔ مگر اس میں سمجھ داری اور ہوشیاری کی کمی ہے، ورنہ دلا رام اتنی آسانی سے اپنی چالوں میں کامیاب نہ ہوتی۔ اس میں کچھ حد تک سستی اور کم عملی بھی ہے۔ جیل میں انار کلی سے ملاقات کے وقت اس کے پاس موقع تھا، لیکن وہ وہاں بھی کوئی مضبوط قدم نہ اٹھا سکا۔ اس کے باوجود اسے مکمل طور پر جامد کردار نہیں کہا جا سکتا، کیونکہ اس کی شخصیت میں کچھ تبدیلی نظر آتی ہے۔ انار کلی سے پہلے اس کی محبت وقتی دل لگی تھی، مگر انار کلی سے اسے سچی محبت ہو جاتی ہے۔ آخر میں وہ بغاوت کے لیے تلوار تک اٹھا لیتا ہے۔ انار کلی کو بعض ناقدین نے اردو ڈرامے کا بہترین نسوانی کردار کہا ہے، کیونکہ اس کی محبت صرف خواہش نہیں بلکہ اس کی پوری زندگی ہے۔ وہ سلیم کو اس لیے نہیں چاہتی کہ وہ شہزادہ ہے، بلکہ اس لیے کہ وہ سلیم ہے، جو اتفاق سے شہزادہ بھی ہے۔ اسے اپنی محبت پر پورا بھروسا ہے، اسی لیے وہ خود کو مکمل طور پر سلیم کے حوالے کر دیتی ہے۔ لیکن فنی اعتبار سے دیکھا جائے تو وہ مکمل طور پر بدلنے والا کردار نہیں ہے۔ وہ صرف ایک بہادر قدم اٹھاتی ہے کہ سلیم کی محبت کا جواب محبت سے دیتی ہے، جس سے کہانی اپنے عروج کی طرف بڑھتی ہے۔ ورنہ اس کی شخصیت میں شروع سے آخر تک کوئی بڑی تبدیلی نہیں آتی۔
شروع سے وہ ڈری سہمی رہتی ہے اور آخر تک اسی حالت میں رہتی ہے۔ جشنِ نوروز کے موقع پر وہ کچھ بے باک ضرور ہو جاتی ہے، لیکن یہ نشہ آور مشروب کی وجہ سے ہوتا ہے۔ نشہ اترتے ہی وہ پھر پہلے جیسی ہو جاتی ہے۔ اس لیے اسے مکمل ارتقائی کردار نہیں کہا جا سکتا۔ دلا رام کو ناقدین نے برائی کی علامت قرار دیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ چالاک، ہوشیار اور دل میں کینہ رکھنے والی لڑکی ہے۔ اسے سلیم سے محبت نہیں بلکہ تخت و تاج کی خواہش ہے۔ اس کی فطرت میں منفی اور نقصان پہنچانے والے رویے موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ ایک سرگرم اور عمل کرنے والا کردار ہے۔ ڈرامے میں زیادہ تر حرکت، ٹکراؤ اور کشمکش اسی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ جب اسے اپنا خواب ٹوٹتا ہوا نظر آتا ہے تو وہ خاموش ہو کر قسمت کو قصوروار نہیں ٹھہراتی، بلکہ بڑی ہوشیاری سے انار کلی کو راستے سے ہٹانے کے لیے جال بچھاتی ہے۔ وہ اکبر جیسے سمجھ دار بادشاہ کو بھی اپنے فریب میں پھنسا لیتی ہے۔ اس لحاظ سے اسے بلا شک ڈرامے کا سب سے مضبوط اور متحرک نسوانی کردار کہا جا سکتا ہے۔ ثریا ایک شوخ، بے خوف اور صاف گو لڑکی ہے۔ اس کی موجودگی سے ماحول بنتا ہے، ڈرامائی عمل میں جان آتی ہے اور پلاٹ آگے بڑھتا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ بعض جگہ اس کی بے باکی حد سے زیادہ اور غیر فطری ہو جاتی ہے، خاص طور پر انار کلی کی موت کے بعد جب وہ اکبر اعظم سے سوال کرتی ہے یا سلیم سے سخت لہجے میں بات کرتی ہے۔ ایک کنیز کے لیے ایسا انداز غیر معمولی لگتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ شدید غم نے اس کے دل سے بادشاہ کا رعب، ولی عہد کا دبدبہ بلکہ اپنی جان کا خوف بھی ختم کر دیا تھا۔ اس وقت وہ بادشاہ اور شہزادے سے نہیں بلکہ اپنی بے گناہ بہن کے قاتلوں سے بات کر رہی ہوتی ہے، اس لیے اس کا لہجہ فطری ہی معلوم ہوتا ہے۔
انار کلی کے باقی کردار موقع اور حالات کے مطابق کہانی کو آگے بڑھانے اور ماحول بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ انار کلی میں کردار نگاری اعلیٰ درجے کی ہے۔ ہر کردار اپنے طبقے اور مرتبے کے مطابق سوچتا اور ویسی ہی گفتگو کرتا ہے۔ امتیاز علی تاج نے کرداروں کی چال ڈھال، بولنے کا انداز، حرکات اور تاثرات اس طرح پیش کیے ہیں کہ وہ زندہ اور حقیقی محسوس ہوتے ہیں۔
مکالمہ
اگر انار کلی کے مکالموں کی بات کی جائے تو اس کے مکالمے بہت خوبصورت، رواں اور فطری ہیں۔ ہر جملہ صاف، کھلا اور بے جھجھک ہے اور ڈرامے کے ماحول اور فضا سے پوری طرح میل کھاتا ہے۔ کہیں بھی بات بے موقع، بے معنی یا بھدی محسوس نہیں ہوتی۔ مصنف مکالموں کے ذریعے وہی ماحول اور اثر پیدا کرنے میں کامیاب ہوتا ہے جو وہ دکھانا چاہتا ہے۔ محمد حسن صاحب لکھتے ہیں کہ
مختلف کردار اپنی اپنی زبان میں اور اپنے مزاج کے مطابق بے جھجھک اور آسان انداز میں بات کرتے ہیں۔
انار کلی میں کرداروں کے منہ سے نکلا ہوا ہر لفظ نہ صرف ان پر خوب جچتا ہے بلکہ ان کی شخصیت کو بھی واضح اور مضبوط بناتا ہے۔ بادشاہ اور غلام کا فرق ان کی گفتگو سے صاف ظاہر ہو جاتا ہے۔
انار کلی کے مکالموں کا انداز کہانی کی رومانوی فضا کے عین مطابق ہے۔ اس میں گفتگو اور مخاطب ہونے کا انداز زیادہ ہے۔ البتہ مکالمے جذبات سے بھرے ہوئے ہیں اور بعض جگہ کچھ لمبے بھی ہو گئے ہیں، لیکن بات چیت کا فطری انداز انہیں قابلِ قبول بنا دیتا ہے۔ پھر بھی یہ بات ماننی پڑتی ہے کہ انار کلی میں بعض مواقع پر مکالمے واقعات کے مقابلے میں زیادہ ہو گئے ہیں۔
اسی حوالے سے محمد حسن صاحب کا یہ کہنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ
اس میں کوئی شک نہیں کہ رومانیت کے زیادہ ہونے کی وجہ سے تاج نے مکالموں کو ضرورت سے زیادہ لمبا کر دیا ہے اور ان طویل مکالموں میں جذبات بھی حد سے زیادہ آ گئے ہیں۔ لیکن اس کمزوری کے باوجود انار کلی کو اردو کا بہترین ڈراما کہنا شاید مبالغہ نہ ہو۔ (محمد حسن، مقدمہ انار کلی)
زبان
ڈراما کرداروں کے عمل اور ان کی بات چیت سے بنتا ہے، اور یہ بات چیت کسی نہ کسی زبان میں ہوتی ہے، اس لیے ڈرامے میں زبان کی اہمیت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ ڈراما دیکھنے والے ہر طبقے اور ہر طرح کی سمجھ رکھنے والے لوگ ہو سکتے ہیں، اسی وجہ سے ڈرامے میں عام بول چال کی زبان کو زیادہ اہم سمجھا جاتا ہے۔ اسی لیے انار کلی کی زبان سننے میں خوشگوار، صاف، رواں اور سلیس ہے۔ اس کی سب سے بڑی خوبی اس کی سادگی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کے اندازِ بیان، لفظوں کی ترتیب اور بولنے کے طریقے میں ادبی خوبصورتی بھی موجود ہے۔ امتیاز علی تاج کو مختلف طبقوں کی زبان پر اچھی گرفت حاصل تھی۔ وہ نہ صرف لوگوں کی بولی سمجھتے تھے بلکہ زبان کے پیچھے موجود تہذیبی اثرات سے بھی پوری طرح واقف تھے۔
پیش کش
اسٹیج ایک ایسا فریم ورک ہے جس میں ڈراما نگار اپنے خیالات کو ترتیب دے کر پیش کرتا ہے، اور اس کے خدو خال اس دور کے تھیٹر کی ضروریات کے مطابق ہوتے ہیں۔ انار کلی اس دور کے عام اسٹیج پر پیش نہیں ہوا، حالانکہ پارسی تھیٹر کمپنیاں اپنے عروج پر تھیں۔ اس ڈرامے کو اسٹیج پر پیش کرنا آسان نہیں تھا، کیونکہ کہانی میں لاہور کے قلعے کا منظر ہے، جس میں مختلف جگہیں شامل ہیں دشمن برج، پائین باغ، سنگ مرمر کا چبوترہ، ایوان، برج اور حتیٰ کہ دریائے راوی بھی۔ یہ پس منظر کسی کردار کے ذریعے بیان نہیں کیا گیا بلکہ ہدایت نامے میں شامل ہے، یعنی سیٹ لگایا جائے، جو بہت مشکل کام ہے۔
اس کے علاوہ، اسٹیج پراپرٹی بہت قیمتی ہے اور کرداروں کے لباس بہت زرق برق ہیں۔ مناظر جلدی بدلتے ہیں، اس لیے سیٹ بھی بدلنا پڑتا ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ تاج کو ان مشکلات کا اندازہ تھا، لیکن یہ کہانی اس پس منظر کے بغیر صحیح اثر نہیں دے سکتی تھی۔ دراصل، اس ڈرامے میں مقامات صرف جگہ کو بھرنے کے لیے نہیں ہیں بلکہ کہانی کا حصہ ہیں۔ ان کے بغیر قصے سے مطلوبہ تاثر پیدا نہیں ہو سکتا۔ البتہ فلم میں زرق برق لباس اور تمام مناظر آسانی سے دکھائے جا سکتے ہیں۔ شاید اسی وجہ سے اس پر کئی فلمیں بنیں اور بہت مقبول ہوئیں۔
This post provides a detailed analysis of the Urdu drama Anarkali, covering its plot, characters, dialogues, language, stage presentation, and its historical, social, political, and tragic aspects. It highlights the drama’s enduring popularity, literary significance, and the creative genius of its author, Imtiaz Ali Taj.