بالِ جبریل ،علامہ اقبال
دوسری غزل
اگر کج رو ہیں انجم آسماں تیرا ہے یا میرا
مجھے فکر جہاں کیوں ہو جہاں تیرا ہے یا میرا
اگر ہنگامہ ہائے شوق سے ہے لا مکاں خالی
خطا کس کی ہے یا رب لا مکاں تیرا ہے یا میرا
اسے صبح ازل انکار کی جرأت ہوئی کیوں کر
مجھے معلوم کیا وہ رازداں تیرا ہے یا میرا
محمد بھی ترا جبریل بھی قرآن بھی تیرا
مگر یہ حرف شیریں ترجماں تیرا ہے یا میرا
اسی کوکب کی تابانی سے ہے تیرا جہاں روشن
زوال آدم خاکی زیاں تیرا ہے یا میرا
تشریحِ غزل بالِ جبریل علامہ اقبال
اگر کج رو ہیں انجم آسماں تیرا ہے یا میرا
مجھے فکرِ جہاں کیوں ہو جہاں تیرا ہے یا میرا
تشریح
اس شعر میں اقبال خدا سے محبت بھرے انداز میں سوال کرتے ہیں کہ اگر کائنات میں گڑبڑ ہے، ستارے اپنی راہ سے ہٹ رہے ہیں، دنیا کا نظام بگڑ رہا ہے اور انسان مختلف مصیبتوں کا شکار ہے، تو آخر اس دنیا کی ذمہ داری کس پر ہے؟ اگر یہ دنیا تیری بنائی ہوئی ہے تو پھر مجھے اس کی فکر میں کیوں ڈالا گیا ہے؟ اور اگر یہ دنیا میری ہے تو پھر تو کس بنیاد پر خاموش ہے؟ یہاں اقبال انسان کے کاندھوں پر لادے گئے بوجھ کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ انسان کو ہر برائی کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے جبکہ دنیا تو اصل میں خدا کی تخلیق ہے۔ شاعر چاہتا ہے کہ انسان اور خدا کے درمیان اصل ذمہ داری کا سوال واضح ہو۔ اس میں ایک لطیف شکوہ بھی ہے اور روحانی قرب کی جھلک بھی۔
اگر ہنگامہ ہائے شوق سے ہے لا مکاں خالی
خطا کس کی ہے یا رب لا مکاں تیرا ہے یا میرا
تشریح
اقبال کے نزدیک “شوق” انسان کی روح کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ یہی شوق اسے خدا تک لے جاتا ہے۔ “لا مکاں” وہ اعلیٰ روحانی مقام ہے جہاں عشق کی پرواز انسان کو پہنچاتی ہے۔ اگر آج روحیں کمزور ہو گئی ہیں، لوگ عشق الٰہی اور اعلیٰ مقاصد سے دور ہو گئے ہیں، تو اس خالی پن کا ذمہ دار کون ہے؟ انسان کی کمزوری؟ یا پھر وہ حالات جو خدا نے انسان کے لیے پیدا کیے؟ اس شعر میں روحانی زوال کا ذکر ہے۔ اقبال کہہ رہے ہیں کہ اگر انسان خدا تک پہنچنے کے شوق سے محروم ہو گیا ہے تو خدا کیوں تماشائی ہے؟ یہاں انسان کی بلندی بھی دکھائی گئی ہے کہ اس کے بغیر روحانی دنیا بھی ادھوری ہے۔
اُسے صبحِ ازل انکار کی جرأت ہوئی کیوں کر
مجھے معلوم کیا وہ رازداں تیرا ہے یا میرا
تشریح
یہاں ابلیس کے انکارِ سجدہ کی طرف اشارہ ہے۔ اقبال پوچھتے ہیں کہ صبحِ ازل، یعنی کائنات کی تخلیق کے ابتدائی لمحے میں ابلیس کو نافرمانی کی جرأت کیسے ہوئی؟ یہ کیسا راز تھا؟ کیا اس نافرمانی کا علم انسان کو تھا؟ یا وہ راز صرف خدا اور ابلیس کے درمیان تھا؟ انسان تو بعد میں دنیا میں بھیجا گیا۔ اقبال دراصل نظامِ تقدیر پر سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر سب کچھ پہلے سے طے تھا تو پھر انسان کو موردِ الزام ٹھہرانا کیسا؟ شاعر کہتا ہے کہ اصل حقائق انسان پر ظاہر نہیں کیے گئے پھر خطا اور سزا کا بوجھ انسان پر کیوں ڈالا گیا؟
محمد بھی ترا جبریل بھی قرآن بھی تیرا
مگر یہ حرفِ شیریں ترجماں تیرا ہے یا میرا
تشریح
اقبال بڑے ادب کے ساتھ کہتے ہیں کہ دین اسلام کی ہر نعمت خدا کی عطا ہے رسولِ کریم ﷺ بھی اس کے، جبریل بھی اس کے اور قرآن بھی اسی کا کلام۔ لیکن قرآن کی تفسیر اور دین کا احساس انسانوں تک پہنچانے کی سعادت شاعر کو ملی ہے۔ پھر سوال یہ ہے کہ یہ شیریں بیان اور الفاظ کی یہ قوت آخر کس نے عطا کی؟ اگر یہ بھی خدا کی بخشش ہے تو شاعر کی تو کوئی اہمیت نہیں رہتی اور اگر یہ انسان کا کمال ہے تو پھر انسان کی عظمت ثابت ہوتی ہے۔ اس شعر میں خودی کا احساس، خدا کی عطا کا اعتراف اور اپنی روحانی حیثیت کی پہچان سب شامل ہیں۔
اسی کوکب کی تابانی سے ہے تیرا جہاں روشن
زوالِ آدمِ خاکی زیاں تیرا ہے یا میرا
تشریح
یہاں “کوکب” یعنی ستارہ، انسان کی روح اور اس کی خودی کی علامت ہے۔ دنیا کی رونق انسان کے وجود سے ہے اس کی عقل، علم، محبت اور عمل سے ہے۔ اگر انسان اپنی عظمت کھو دے، غلامی، خوف، جہالت اور گناہوں میں ڈوب جائے تو اس کا نقصان صرف انسان کا نہیں بلکہ خدا کی اسکیمِ تخلیق کا بھی ہے۔ اقبال کہتے ہیں جب تو نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے تو انسان کا زوال تیرے منصوبے کا بھی زوال ہے۔ لہٰذا انسان کو خود بیدار ہونا ہوگا اپنی حقیقت پہچاننی ہوگی کیونکہ انسان کی شکست دراصل خدا کی دریائے رحمت کے اصولوں کی شکست ہے۔
مجموعی پیغام
یہ پوری غزل انسان کی قدروقیمت، اس کی ذمہ داری، اس کے کمال اور اس کی خدا سے قربت کا بیان ہے۔ اقبال انسان کو یاد دلاتے ہیں کہ انسان محض خاک نہیں بلکہ پوری کائنات کی روشنی اس سے ہے۔ اگر انسان بیدار ہو جائے تو دنیا سنور جائے گی اور اگر انسان گرجائے تو کائنات اندھیرے میں ڈوب جائے گی لیکن خدا کی ذات، اسکی عظمت اور اسکے شان میں ذرا برابر بھی کمی نہیں آئے گی ۔
This post explains Allama Iqbal’s Bal-e-Jibreel ghazal Agar Kaj Ro Hain Anjum Aasman Tera Hai Ya Mera, highlighting the philosophical exploration of human responsibility, divine order, spiritual awakening, and the balance between God’s creation and human potential in shaping the world.