بالِ جبریل، علامہ اقبال
چوتھی غزل
اثر کرے نہ کرے سن تو لے مری فریاد
نہیں ہے داد کا طالب یہ بندۂ آزاد
یہ مشت خاک یہ صرصر یہ وسعت افلاک
کرم ہے یا کہ ستم تیری لذت ایجاد
ٹھہر سکا نہ ہوائے چمن میں خیمۂ گل
یہی ہے فصل بہاری یہی ہے باد مراد
قصوروار غریب الدیار ہوں لیکن
ترا خرابہ فرشتے نہ کر سکے آباد
مری جفا طلبی کو دعائیں دیتا ہے
وہ دشت سادہ وہ تیرا جہان بے بنیاد
خطر پسند طبیعت کو سازگار نہیں
وہ گلستاں کہ جہاں گھات میں نہ ہو صیاد
مقام شوق ترے قدسیوں کے بس کا نہیں
انہیں کا کام ہے یہ جن کے حوصلے ہیں زیاد
تشریحِ غزل
اثر کرے نہ کرے سن تو لے مری فریاد
نہیں ہے داد کا طالب یہ بندۂ آزاد
تشریح
شاعر خدا سے نہایت نرم مگر پُر جوش انداز میں مخاطب ہے۔ وہ درخواست قبول ہونے یا نہ ہونے کی فکر نہیں کرتا بلکہ بس چاہتا ہے کہ اس کی فریاد سنی جائے۔ اقرارِ عاجزی اور آزاد بندے کی شان دونوں ایک ساتھ مل رہی ہیں یعنی بندہ خدا کے سامنے اپنی حاجت پیش کرتا ہے مگر کسی مادی بدلے یا انصاف مطلوب نہیں ہے۔ اس سے دو باتیں سامنے آتی ہیں ایک یہ کہ آدمی کا رب کے ساتھ رشتہ صرف مُنافع یا اجر کا سودا نہیں بلکہ محبت و اطاعت کا پاک تعلق ہے دوسری یہ کہ بندگی ایک آزادانہ انتخاب ہے غلامی نہیں۔ اقبال یہاں انسان کی وہ کھلی روح دکھاتے ہیں جو خدا کے سامنے سچ بولتی ہے پتھر جیسی صورت نہیں اور اسی سچائی میں اُس کی پاکی اور وقار ہے۔
یہ مشتِ خاک یہ صرصر یہ وسعتِ افلاک
کرم ہے یا کہ ستم تیری لذتِ ایجاد
تشریح
اس شعر میں کائنات کے تضاد کو خوبصورتی سے کھولا گیا ہے۔ “مشتِ خاک” یعنی انسان کی ناتواں، ناپائیدار طبیعت “صرصر” یعنی تیز و تلخ ہوائیں جو زندگی کو الرجی جیسا بنا دیتی ہیں اور “وسعتِ افلاک” یعنی نہ ختم ہونے والی کائناتی شان۔ شاعر حیران ہے کہ یہ سب منظر ایک مہربان خالق کا کرم ہے یا مشقت بھرا امتحان؟ اقبال کے فلسفے میں انسان ایک متضاد ہستی ہے ایک طرف مٹی، دوسری طرف وہی ذات جسے خدا نے فکر اور اقتدار دیا۔ اس مصرعے میں شاعر اسی تضاد کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ کیا یہ سب حدود انسان کے لیے نعمت ہیں یا مشکلات جو کمال کے لیے دی گئیں اس کا مقصد انسان کو یہ سوچنے پر مجبور کرنا ہے کہ دکھ اور تکلیف کا ایک معنی ہوتا ہے وہ معنی غالباً انسان کی تراش و تعمیر ہے۔
ٹھہر سکا نہ ہوائے چمن میں خیمۂ گل
یہی ہے فصلِ بہاری یہی ہے بادِ مراد
تشریح
یہاں اقبال بتاتے ہیں کہ اس دنیا کی “بہار” ایسی نہیں جس میں پھول سکون سے کھل کر رہیں۔ چمن میں خیمۂ گل قائم نہ رہ سکے کیونکہ ہوائیں اسے اکھاڑ دیتی ہیں یعنی نیکی، حسنِ باطنی اور خوبیوں کا مستقل ٹھہرانا یہاں مشکل ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ یہی بہار ہے اور یہی وہ ہوا ہے جس کی تمنا کی جاتی ہے یعنی آزمائشوں سے بھرپور، تغیر پذیر، مگر ایک ایسے عمل کا فضا جو انسان کو ہلا کر اس کے اندر تبدیلی لاتا ہے۔ اس کا عملی نتیجہ یہ ہے کہ اگر انسان چاہے کہ اس کے اچھے اعمال مستقل رہیں تو اسے حالات کے ساتھ نبردآزما ہونا ہوگا بہار کا حقیقی مزہ اسی میں ہے کہ وہ سختیوں کے باوجود اپنی جگہ پائے۔
قصوروار غریبِ الدیار ہوں لیکن
ترا خرابہ فرشتے نہ کر سکے آباد
تشریح
اس شعر میں رہائشی و شہریت کا استعارہ ہے۔ شاعر خود کو “غریبِ دیار” کہتا ہے ایک اجنبی، ایک ایسا فرد جو اس دنیا کا پرکشش نہیں مگر ساتھ ہی اقبال زور دے رہے ہیں کہ وہی انسان ہے جس نے خدا کے بنائے ہوئے “خرابہ” یعنی بے رونق ٹھکانوں، دنیا کو آباد کیا فرشتے جو پاک مخلوق ہیں وہ کبھی بھی دنیا کے مادی اور تاریخی حالات کو بس نہیں بنا سکتے۔ اقبال یہاں انسان کی تخلیقی، عمل والی اور جرات مند فطرت کو سراہتے ہیں۔ مطلب یہ کہ انسان کی کمزوری یا قصور کے باوجود اس کے اندر وہ قوت ہے جو دنیا کو معنی دیتی ہے فرشتہ نظریاتی پاکیزگی میں محفوظ رہتا ہے مگر عملی امور میں انسان ہی نفع بخش ہوتا ہے۔ یہ مصرع انسان کی عظمت اور ذمہ داری دونوں کو ایک ساتھ تسلیم کرتا ہے۔
مری جفا طلبی کو دعائیں دیتا ہے
وہ دشتِ سادہ وہ تیرا جہان بے بنیاد
تشریح
یہ مصرع کچھ شعوری برہمی اور خوگرازی کا اظہار ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اس کی شخصیت میں ایک “جفا طلبی” یعنی خطرہ قبول کرنے، مشکل راہ سنبھالنے کا رجحان ہے اور وہ اسے دعاؤں کی شکل میں مقدر مانگتا ہے۔ وہ سادہ دشت، جو دیکھنے میں سنسان ہو، وہی اس کا حقیقی میدان ہے اور خدا کا یہ جہان جو بسا اوقات سطحی لگتا ہے در حقیقت بنیاد رکھتا ہے اس جستجو کے بغیر دنیا کا کوئی معنی نہیں۔ اقبال یہاں انسان کی وہ طبیعت سراہتے ہیں جو آرام سے نہیں جدوجہد سے خوش رہتی ہے اور اس کیفیت کو وہ روحانی لحاظ سے بابرکت تصور کرتے ہیں۔ عملی بات یہ ہے کہ عظمت اکثر وہی پاتی ہے جو خطرے اور مصیبت کو گلے لگائے۔
خطر پسند طبیعت کو سازگار نہیں
وہ گلستاں کہ جہاں گھات میں نہ ہو صیاد
تشریح
یہاں اقبال بتاتے ہیں کہ ایک خطرہ پسند اور ہمت والا انسان ایسی زندگی پسند نہیں کرتا جہاں ہر چیز پرسکون اور محفوظ ہو وہ گلستاں، جس میں کوئی تھریٹ (گھات) نہ ہو، اُس کے لیے بے مزہ ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ زندگی کا حسن اُس میں ہے جہاں کسی حد تک مقابلہ، احتیاط اور آزمائش موجود ہو۔ فلسفہ یہ ہے کہ ترقی اور کمال وہیں ملتا ہے جہاں انسان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے آسانی میں انسان کی قابلیت کھل کر سامنے نہیں آتی۔ اقبال اس سے یہ سبق دیتے ہیں کہ تحفظِ صرف میں رہنے والی دنیا دل کو مطمئن نہیں کرتی انسانی روح کو تحریک اور جھنجھلاہٹ درکار ہوتی ہے تاکہ وہ اپنی اصل طاقت دکھا سکے۔
مقامِ شوق ترے قدسیوں کے بس کا نہیں
انہیں کا کام ہے یہ جن کے حوصلے ہیں زیاد
تشریح
آخری شعر میں شاعر نے عشقِ حقیقی کے مقام کی بلندی کا اعلان کیا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ جو مقام شوق ہے، جو وہ منزل ہے جس پر عشق انسان کو فنا اور بقا کے پیچیدہ تجربات سے گزارتا ہے وہ فرشتوں کے بس سے باہر ہے۔ قدسی مخلوق پاکیزہ ہے مگر وہ تجربہ، وہ خطرہ، وہ جهادِ باطنی جس سے انسان گزر کر حق کے قریب پہنچتا ہے وہ انسان کی مخصوص صفت ہے۔ “انہیں کا کام ہے یہ جن کے حوصلے ہیں زیاد” یعنی یہ کام اُن لوگوں کے بس کا ہے جو دلیر، ثابت قدم اور بلند امید رکھتے ہیں۔ اقبال کا مقصد یہاں واضح ہے عظیم روحانی تجربات حاصل کرنے کے لیے ہمت، صبر اور خطرہ مول لینے کی طاقت چاہیے اور یہ طاقت انسان ہی میں ہے نہ کہ فرشتے میں۔
مجموعی مفہوم
مجموعی طور پر اس غزل کا پیغام یہ ہے کہ انسان اپنے اندر تضادات کے ساتھ عظمت اور مقام رکھتا ہے۔ وہ کمزور ہے مگر اسی کمزوری میں اس کی آزمائش اور بالآخر اس کی ترقی کا سبب پوشیدہ ہے۔ اقبال انسان کو یاد دلاتا ہے کہ فریاد، مشکلات اور خطرات انسان کی ازلی جستجو کا حصہ ہیں اور یہی وہ وسائل ہیں جن کے ذریعے انسان اپنے اندر نِکھار لا سکتا ہے۔ فرشتے پاکیزہ ہیں مگر دنیا بدلنے، خطرہ مول لینے اور شوقِ ربانی کی منزل تک پہنچنے کا کام انسان سے ہی ممکن ہے۔
This post presents a clear and thoughtful explanation of Allama Iqbal’s ghazal “Asar Kare Na Kare Sun To Le Meri Fariyad” from Bal-e-Jibreel, highlighting its central ideas of human freedom, divine dialogue, struggle, courage, and the spiritual superiority of active, risk-taking human will over passive purity.